Explained with ayahs 105–109
حقیقت چھپ نہیں سکتی
اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
سورة النِّسَآء 140
اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں ایک اہم معاملہ سے بحث کی گئی ہے جو اسی زمانہ میں پیش آیا تھا۔ قصہ یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طَعْمہ یا بشیر بن اُبَیرِق تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرا لی۔ اور جب اس کا تجسس شروع ہوا تو مال مسروقہ ایک یہودی کے ہاں رکھ دیا۔ زرہ کے مالک نے آنحضرت ﷺ سے استغاثہ کی اور طعمہ پر اپنا شبہہ ظاہر کیا۔ مگر طعمہ اور اس کے بھائی بندوں اور بنی ظفر کے بہت سے لوگوں نے آپس میں اتفاق کر کے اس یہودی پر الزام تھوپ دیا۔ یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے اپنی برأت ظاہر کی۔ لیکن یہ لوگ طعمہ کی حمایت میں زور شور سے وکالت کرتے رہے اور کہا کہ یہ یہودی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب بھیجی (جس سے) واقع کے موافق (حال معلوم ہوگا) تاکہ آپ (اس واقعہ میں) ان لوگوں کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو کہ اللہ تعالیٰ نے (وحی کے ذریعہ سے) آپ کو (اصل حال) بتلا دیا ہے (وہ وحی یہ ہے کہ واقع میں بشیر چور ہے اور قبیلہ بنو ابیرق جو اس کے حامی ہیں کاذب ہیں) اور (جب اصل حال معلوم ہوگیا تو) آپ ان خائنوں کی طرف داری کی بات نہ کیجئے (جیسا بنو ابیرق کی اصل خواہش یہی تھی چناچہ دوسرے رکوع میں آتا ہےلھمت طآئفة منھم ان یضلوک مگر آپ نے ایسا کیا نہ تھا، خود اسی جملہ سے آپ کا اس پر عمل نہ کرنا بھی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ فضل الہی نے غلطی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آگے کا مضمون۔ آیات 105۔ 115: آگے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے یہ ہدایت فرمائی کہ اللہ نے تمہیں جو کتاب عطا فرمائی ہے اب یہی حق و باطل کی کسوٹی ہے، تم اسی کسوٹی پر پرکھ کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرو جو اس پر پورے اتریں وہ مومن و مخلص ہیں، جو اس پر کھوٹے ثابت ہوں وہ عہد شکن اور غدار ہیں، تم خدا کے حضور میں ان کے سفارشی اور وکیل نہ بنو۔ خدا ایسے بدعہدوں اور گناہگاروں کو پسند نہیں کرتا۔ آیت 88 فمالکم فی المنافقین الایۃ میں جس بات کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا تھا اب یہ اس کی تفصیل آگئی۔ وہاں یہ بات گزر چکی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے دل میں منافقین کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ وہ ان…
Read the full tafseer →15۔ 1 ان آیات (14 سے 113 تک) کے شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشیر بن ابیرق نے ایک انصاری کی زرہ چرالی، جب اس کا چرچہ ہوا اور اسے بےنقاب ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی اور بنی ظفر کے کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے، ان سب نے کہا زرہ چوری کرنے والا فلاں یہودی ہے، یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا بنی ابیرق نے زرہ چوری کرکے میرے گھر پھینک دی ہے۔ بنی ظفر اور بنی ایبرق (طمعہ بشیر وغیرہ) ہوشیار تھے اور نبی ﷺ کو باور کراتے رہے کہ چور یہودی ہے اور طعمہ پر الزام لگانے میں جھوٹا ہے۔ نبی ﷺ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
درس نمبر 39 ایک نظر میں :
ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →3 منافق اور ضعیف الاسلام لوگوں میں جب کوئی کسی گناہ اور خرابی کا مرتکب ہوتا تو سزا اور بدنامی سے بچنے کے لئے حیلہ گھڑتے اور آپ کی خدمت میں ایسے انداز سے اس کا اظہار کرتے کہ آپ ان کو بری سمجھ جائیں بلکہ کسی بری الذمہ کے ذمہ تہمت لگا کر اس کے مجرم بنانے میں سعی کرتے اور رل مل کر باہم مشورہ کرتے۔ چناچہ ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک ایسے ہی مسلمان نے دوسرے مسلمان کے گھر میں نقب دیا ایک تھیلا آٹے کا اور اس کے ساتھ کچھ ہتھیار چرا کرلے گیا۔ اس تھیلے میں اتفاقاً سوراخ تھا چور کے گھر تک راستہ میں آٹا گرتا گیا۔ چور نے یہ تدبیر کی کہ مال اپنے گھر میں نہ رکھا بلکہ رات ہی میں وہ مال لے جا کر ایک یہودی کے پاس…
Read the full tafseer →آیت 105 اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰٹک اللّٰہُ ط
یعنی ایک تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو کتاب دی ہے ‘ قانون دیا ہے ‘ اس کے ساتھ آپ ﷺ کو بصیرت خاص دی ہے۔ مثلاً عدالت میں ایک جج بیٹھا ہے ‘ اس کے سامنے قانون کی کتاب ہے ‘ مقدمے سے متعلق متعلقہ ریکارڈ ہے ‘ شہادتیں ہیں ‘ اب ایک اس کی اپنی عقل چھٹی حِس اور قوت فیصلہ بھی ہوتی ہے ‘ جس کو بروئے کار لا کر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسا ہم آپ ﷺ کو دکھاتے ہیں اس کے مطابق آپ ﷺ فیصلہ کریں۔
وَلاَ تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا
یعنی آپ ﷺ ان کی طرف سے وکالت نہ…
Read the full tafseer →143 گمشدہ سامان سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی :۔ اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔ تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہوا تھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہوگئی۔ اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرا دی جہاں سے کچھ برآمد نہ ہوسکا۔ اب مالک پیچھا کرتا ہوا اس یہودی…
Read the full tafseer →297 ۔ (اسی قرآن کے ذریعہ سے) (آیت) ” ارک اللہ “۔ یہاں بتادیا، سمجھادیا، سکھا دیا کے مفہوم میں ہے۔ بما اراک اللہ ای بما علمک (راغب) بما علمک اللہ فی القرآن (ابن عباس ؓ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی قانون عدل کے مطابق آیت اس باب میں صریح ہے کہ فیصلہ جو کچھ بھی کئے جائیں قرآن ہی کے مطابق وماتحت کئے جائیں نہ کہ اپنے ہوائے نفس کے موافق یا کسی انسانی دماغ کے گڑھے ہوئے آئین ودستور کے ماتحت آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنوابیرق کے ایک گھرانے میں تین بھائی بشیر، بشر اور مبشر مسلمان تھے اور ان کا ایک بھائی بشیر منافق تھا۔ ایک مرتبہ چور حضرت رفاعہ بن زید انصاری ؓ کے گھر میں نقب لگا کر ان کے ہتھیار اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 105 تا 112
ترجمہ : طعمہ بن اُبَْرق نے ایک زرہ چرالی تھی اور ایک یہودی کے یہاں اسے چھپا دیا تھا، وہ زرہ یہودی کے یہاں سے برآمد ہوگئی طعمہ نے زرہ کا الزام یہودی پر ڈال دیا اور قسم کھا گیا کہ میں نے زرہ نہیں چرائی ہے، طعمہ کے خاندان والوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ طعمہ کا دفاع فرمائیں اور اس کو بری قراردیدیں تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی، یقینا ہم نے آپ پر کتاب قرآن حق کے ساتھ نازل کی ہے، بالحق، اَنزلنا کے متعلق ہے کہ اس معاملہ میں اللہ نے جو آپ کو بتادیا ہے اس کے مطابق لوگوں کا فیصلہ کریں، اور خائنوں مثلاً طعمہ کا دفاع نہ کریں اور آپ نے جو قصد کیا اس سے استغفار کریں، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی…
Read the full tafseer →انا انزلنا الیک۔۔ بیشک ہم نے تمہارے پاس یہ کتاب بھیجی ہے واقع کے مطابق تاکہ لوگوں کا فیصلہ تم اس کے موافق کرو جو اللہ نے تم کو بتادیا ہے۔
ترمذی اور حاکم وغیرہ نے حضرت قتادہ بن نعمان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک کنبہ والے تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر ‘ بشیر ‘ مبشر ‘ بشیر منافق شخص تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کی ہجاء میں شعر خود کہتا تھا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا یہ قول فلاں شخص کا ہے۔ یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں محتاج فاقہ زدہ تھے (اس زمانہ میں) اہل مدینہ کی (عمومی) غذا چھوارے اور جَو تھی۔ میرے چچا رفاعہ ؓ بن زید نے بھی…
Read the full tafseer →(105) اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین ؑ حق اور باطل کو واضح کردینے کے لیے قرآن کریم نازل کیا ہے تاکہ آپ ﷺ طعمہ اور زید بن سمین کے درمیان اس چیز کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم میں بتلایا ہے فیصلہ کردیں اور آپ طعمہ کی طرفداری نہ کیجیے۔
شان نزول : (آیت) ”انا انزلنا الیک“۔ (الخ)
امام ترمذی ؒ اور حاکم ؒ وغیرہ نے قتادہ بن نعمان سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں میں سے ایک گھرانے کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا، یعنی بشر، بشیر، مبشر، مگر بشیر منافق آدمی تھا، رسول اکرم ﷺ کی ہجو میں خود اشعار کہتا اور پھر اہل عرب میں سے کسی اور کی طرف منسوب کردیتا تھا اور پھر کہتا کہ فلاں نے ایسا کہا…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ۔۔ : جمہور مفسرین نے ان آیات (104 سے 113 تک) کی شان نزول چوری کا ایک واقعہ بتایا ہے، جو ترمذی میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور شیخ ناصر الدین البانی ؓ نے اسے حسن کہا ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ بشر، بشیر اور مبشر تین بھائی تھے، جو ابیرق یا طعمہ بن ابیرق کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا کہ ان میں سے بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی، یہ لوگ مدینہ کے قبیلہ بنو ظفر سے تھے۔ ان میں بشیر سب سے بدتر تھا، یہ شخص منافق تھا اور مسلمانوں کی ہجو کر کے وہ شعر دوسروں کے نام لگا دیتا تھا۔ یہ غریب فاقہ زدہ لوگ تھے اور رفاعہ بن زید کے ہمسائے تھے۔ ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ میدہ لے کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر ؛ 105۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اس آیت میں نبی مکرم ﷺ کا شرف تکریم اور تعظیم کا ذکر ہے اور آپ کو احکام شریعت کے تفویض ہونے کا ذکر ہے اور حکم میں سیدھے راستہ پر چلنے کا حکم ہے اور بنی ابیرق کا معاملہ جو آپ کے پاس لایا گیا تھا اس پر تنبیہ کا ذکر ہے۔ بنی ابیرق یہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر اور اسیر بن عروہ ان کے چچا کا بیٹا تھا، انہوں نے رات کے وقت حضرت رفاعہ بن زید کے مکان کو نقب لگائی تھی اور اس کی زرہیں اور کھانے کا سامان چرا لیا تھا، پس اس پر آگاہی ہوگئی تھی، بعض علماء نے کہا : چور صرف بشیر تھا اس کی کنیت ابو طعمہ تھی اس نے زرہ چوری کی تھی، بعض علماء نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…
Read the full tafseer →[ اِنَّــآ اَنْزَلْـنَــآ : یقینا ہم نے اتارا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ الْـکِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِتَحْکُمَ : تاکہ آپ ﷺ فیصلہ کریں ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَرٰٹکَ : سمجھایا آپ ﷺ کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَلاَ تَـکُنْ : اور آپ ﷺ مت ہوں ] [ لِّلْخَآئِنِیْنَ : خیانت کرنے والوں کے لیے ] [ خَصِیْمًا : جھگڑا کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات
آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام ﷺ کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔
قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔
شان نزول۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…
Read the full tafseer →78 نواں حکم سلطانی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی احکام شرعیہ کی تعلیم فرما دی ہے۔ جب آپ سفر جہاد پر نکلیں تو فیصلے ظن وتخمین سے نہ کریں بلکہ قواعد شرعیہ کے مطابق کریں تاکہ آپ دھوکہ نہ کھا سکیں جیسا کہ طعمہ کے قصہ میں آپ کو دھوکہ دیا گیا) ۔ یہاں سے لیکر وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْماً تک ایک واقعہ سے متعلق ہے واقعہ یہ ہے کہ طعمہ بن ابیرق نامی ایک منافق نے ایک صحابی حضرت رفاعہ بن زید کے مکان میں نقب لگا کر چوری کی۔ مال مسروقہ میں کچھ ہتھیار اور آٹے کا ایک تھیلا تھا۔ اتفاق سے تھیلے میں سوراخ تھا جس سے آٹا چور کے گھر تک راستہ میں گرتا گیا۔ جب چور کو اس بات کا احساس ہوا تو بدنامی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات
گزشتہ دروس میں سفر اور خوف کی حالتوں میں نماز کا بیان تھا۔ اس کے بعد امن کی حالت میں دستور کے مطابق نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر جہاد کے ضمن میں دشمن کا تعاقب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس معاملہ میں سستی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اہلِ ایمان کو یاد دلایا کہ کافر باطل پروگرام رکھنے کے باوجود بڑے مستعد ہیں جب کہ مسلمانوں کے پاس تو اللہ اور اسکے رسول کا دین برحق ہے لہٰذا انہیں دشمن کے مقابلہ میں زیادہ مستعد ہونا چاہئے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ امید ہے جو کفار کو نہیں ہو سکتی۔
اُس سے پہلے منافقین کا تذکرہ تھا کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس میں شمولیت کے خلاف حیلے بہانے…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ 0ۭ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا 105ۙ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ترکیب : اراک کا مفعول اور ک اور مفعول ثانی محذوف ہے ای ارا کہ یرم بہ کی ضمیر اثما کی طرف راجع ہے اور خطیئۃ حکم اثم میں ہے اور بعض کہتے ہیں یکسب سے جو کسب سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں جہاد کے اندر نماز کا حال اور پھر جہاد کی ترغیب بیان ہوئی تھی جس سے مخالفوں پر حق و ناحق وقت بےوقت زیادتی کرنے کا خیال عام طبائع میں پیدا ہونے کا احتمال تھا کس لئے کہ عام طبائع میں یہ جبلی بات ہے کہ جب ان کو جنگ کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے تو اپنی طرف سے اور بھی شدت و سختی کرنے کی خواہش کیا کرتے ہیں کیونکہ افراط وتفریط انسان کی طبیعت میں خمیر کی گئی ہے اس لئے اس کے بعد ان آیتوں میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَََآ اَرَاکَ اللّٰہُ ط وَلَا تَـکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا لا وَّاسْتَغْفِرِاللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ج وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا ج لا یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا
” اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
فہم القرآن
ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان…
Read the full tafseer →طعمہ بن ابیرق اور حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کا واقعہ :
آیت 105 : روایت میں ہے کہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے اپنے پڑوسی قتادہ بن نعمان کی زرہ چرائی۔ وہ زرہ ایک آٹے کی بوری میں تھی۔ بوری میں سوراخ تھا ‘ آٹا بوری کے سوراخ سے گرتا گیا اور نشان پڑتا گیا۔ چور نے یہ بوری زید بن السمین یہودی کے پاس چھپا دی۔ تلاش کرنے پر زرہ طعمہ کے پاس نہ ملی۔ اس نے اس کے متعلق قسم اٹھائی کہ اس نے نہیں لی۔ اور نہ اسے اس کا علم ہے۔ انہوں نے اسے چھوڑا اور آٹے کے نشان پر چلتے چلتے یہودی کے مکان پر پہنچے اور اس کو جا پکڑا۔ یہودی نے کہا۔ یہ تو طعمہ رکھ کر گیا ہے۔ اور اس سلسلے میں بعض یہود نے گواہی دی۔ بنو ظفر نے کہا…
Read the full tafseer →(انا انزلنا الیک الکتاب کا شان نزول)
(تفسیر) 105۔:
کلبی (رح) نے ابو صالح (رح) کی روایت ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول ایک انصاری شخص کے متعلق ہوا ، اس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا اور خاندان بنی ظفر بن حارث میں سے تھا ۔ اس نے اپنے ہمسائے قتادہ بن نعمان کی زرہ چرائی تھی ، زرہ ایک تھیلے میں تھی جس کے اندر آٹا بھرا ہوا تھا ، تھیلے میں شگاف تھا ، شگاف سے آٹا بکھرتا ہوا چلا گیا اور چور کے مکان تک یونہی چلا گیا ، طعمہ نے زرہ لیجا کر ایک یہودی کے پاس جس کا نام زید السمین تھا چھپا دی ، زرہ کی تلاش طعمہ کے پاس ہوئی ، طعمہ نے قسم کھائی کہ نہ میں نے زرہ لی ہے اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
(105 ۔ 109) ۔ ترمذی، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور قتادہ بن نعمان ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی قتادہ بن نعمان ؓ کی زرہ چوری جاتی رہی اور دریافت سے معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے وہ ذرہ چرائی ہے طعمہ نے یہ چالاکی کی کہ وہ ذرہ ایک شخص یہودی زید بن سمین کے پاس رکھوا دی۔ اور طعمہ کی خانہ تلاشی کے وقت جب وہ ذرہ طعمہ کے گھر سے برآمد نہیں ہوئی تو طعمہ نے اسی یہودی کو چور ٹھہرا کر ذرہ کا پتہ اسی یہودی کے گھر میں ہونے کا دے دیا اور ادھر طعمہ کی قوم نے رات کو یہ مشور کیا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جا کر طعمہ کی برأت کی گواہی ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
آیت 105
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…
Read the full tafseer →قول باری ہے ( انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ۔ اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ اس کی طرف سے حضور ﷺ کو جن احکامات و عبادات سے آگاہ کیا جائے آپ ان کی روشنی میں لوگوں کے درمیان فیصلے کریں۔ قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو) روایت ہے کہ آیت ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے ایک زدہ چرالی تھی۔ جب اسے چوری ظاہر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اس نے یہ…
Read the full tafseer →280 اللہ کی دکھلائے کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فیصل اللہ کے دکھلائے کے مطابق ہی کرو : سو آپ فیصلہ اسی کے مطابق کرو جو اللہ آپ کو دکھلائے صراحتا یا اشارہ و کنایہ کے انداز میں۔ بہرکیف وہ جس طرح بھی آپ کو دکھائے اسی کے مطابق آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ سو اس کتاب حکیم کے اتارنے کی اصل غرض وغایت یہی ہے کہ آپ اس کے مطابق اور اس رائے کی روشنی میں جو اللہ آپ کو دکھائے لوگوں کے درمیان بغیر کسی رو رعایت کے فیصلہ فرمائیں۔ روایات میں ہے کہ طعمہ بن ابیرق نامی ایک منافق نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنے ایک پڑوسی کا کچھ سامان چرا کر بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
فیصلہ عدل سے کرو
تشریح : ان آیات کا شان نزول ایک جھگڑا ہے جو طعمہ مسلمان اور زید یہودی کے درمیان ہوگیا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ طعمہ نے کچھ مال چوری کیا اور اس مال کو پکڑے جانے کے خطرہ سے یہودی کے گھر رکھوا دیا جب کھوج لگانے والوں نے مال یہودی کے گھر سے پکڑ لیا تو یہودی کو چوری کے الزام میں پکڑ لیا۔ یہودی کیونکہ بےقصور تھا وہ بہت پریشان ہوا لیکن مال کا ملنا بہت بڑا ثبوت تھا اس کے علاوہ طعمہ کے خاندان والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ یہودی غلط کہتا ہے۔ یہ قضیہ فیصلہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا تو طعمہ اور اس کے ساتھیوں نے قسمیں کھا کر اور بڑا زور دے کر نبی کریم ﷺ کو یقین دلا یا کہ زید جھوٹ بول رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف :
انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔
ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ف 6 یعنی شریعت کے قواعد کے مطابق فیصلہ کرو جیسے اللہ نے تجھ کو دکھلا یا یعنی وحی بھیج کر یا کسی اور طریقے سے آپ ﷺ کو سمجھایا حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں یہ ادراک اللہ کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ٰ خاص تھا کہ آپ ﷺ کی رائے اللہ تعالیٰ کے سمجھانے سے ٹھیک ہوتی تھی اس لیے آپ ﷺ کا فیصلہ واجب الا تباع ہے، آنحضرت ﷺ کے بعد یہ ممصب کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اور امام یا مجتہد کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی لہذا اس پر عمل کرنا بھی ضروری نہیں ہے (کذافی اللوحیدی)
7 ان آیات کی شان نزول کے تحت عطا نے لکھا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشر بن ابیر تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرالی اور اسے ایک یہودی کے گھر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ولا ۔۔ خصیما۔ ای ولا تکن خصیما للخائنین۔ اور خیانت کرنے والوں کے لئے جھگڑا کرنے والا۔ یا طرفداری کرنے والا نہ بن۔ لاتکن۔ فعل ناقصہ۔ لاتکن کی ضمیر واحد مذکر حاضر۔ اسم لاتکن۔ خصیما خبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
آیت نمبر 105-112
لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔
تشریح : حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔
واقعات کی صورت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری ہوئی تھی جو گم ہوگئی۔ صبح کو تلاش کی تو آٹے کا نشان ایک شخص کے گھر تک تھا جس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا، وہاں جھاڑا لیا (تلاشی لی) تو نہ پائی۔ وہ نشان آگے دیکھا تو ایک یہودی کے گھر تک جس کا نام زید تھا پایا گیا۔ وہاں زرہ ملی۔ اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی۔ طعمہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے جس کے ہاں برآمد ہوئی۔ طعمہ کی قوم میں رات کو مشورہ ہوا کہ ہم سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے اور آنحضرت ﷺ ہماری حمایت کریں گے اور وہ یہودی چور ٹھہرے گا۔ صبح کو سب نے مل کر یہی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[70] یعنی دشمنوں کا گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قرآن حقائق محسوسہ کا نام ہے :
(ف 2) (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ افق اعلی سے حضور ﷺ کے قلب اقدس پر نازل ہوا ہے وہ حق یعنی قطعی صلت وصفا سے حالات وظروف کے بالکل مطابق ہے ، علوم ومحسوسات کے موافق ہے اور کوئی چیز اس میں غیر موزوں اور غیر متناسب نہیں ۔
(آیت) ” بما ارک اللہ “ ۔ سے مراد یہ ہے ‘ یہ قرآن حتما وسعت ومشاہدہ کے ہم پلہ ہے ، اس کی قطعیت میں کوئی احتمال شک وشبہ نہیں ، یہ محسوس حقیقت ہے جس کی تجلیات قلب اطہر پر جلوہ کناں ہیں ۔
(آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور اس قبیل کی تمام آیات جو اس کے بعد مذکور ہیں ، منصب نبوت کی توضیح کے لئے ہیں یعنی بتانا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ف 3 اور اے مسلمانو ! تم اپنی دشمن اور مخالف قوم کا تعاقب اور پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو اور بزدلی نہ دکھائو اگر جنگ کی وجہ سے اور زخم خوردہ ہونے کے باعث تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو تو وہ تمہارے دشمن بھی اسی طرح بےآرام اور دکھی ہوتے ہیں جس طرح تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو یعنی جہاں تک جنگ اور مجروح ہونے کی وجہ سے تم کو درد اور تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انکو بھی ہوتی ہے تو گویا اس معاملہ میں تم اور وہ مشترک ہو مگر تم اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو امیدیں ان کو ہیں اور وہ اجر وثواب کی توقع سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہ وہ تمہارے حال سے خوب واقف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
منکرین سے تم کو جو دکھ پہنچا ہے اس سے زیادہ تم ان کو دکھ پہنچا چکے ہو
178: اشارہ اس طرف ہے کہ میدان احد میں اگر تم کو کفار سے تکلیف پہنچی ہے جو در اصل تمہاری ہی کوتاہی کا نتیجہ تھی تو تم کو یہ تو نہ بھول جانا چاہئے کہ تم اس سے پہلے میدان بدر میں ان کو اس سے دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ پھر جب وہ اتنی تکلیف و مصیبت برداشت کرکے دوسرے ہی سال احد میں آدھمکے ہیں تو تم اتنے بد دل کیوں ہو رہے ہو حالانکہ تم اللہ سے وہ امید بھی رکھتے ہو جو ان کو نہیں ہے۔ کیونکہ تم کو جو کچھ پیش آیا ہے وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے پیش آیا ہے اور یقیناً اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اگر کچھ لوگ تمہارے جنگ احد میں کام آئے…
Read the full tafseer →Sequence
While discussing the matters relating to the open disbelievers, the Holy Qur'an has, in some places in the previous verses, referred to the hypocrites and has pointed out that Kufr or disbelief was the common denominator between them. Further on, a particular episode relating to some hypocrites finds mention in the present verses, details of which are being given below.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
140. These and certain other verses which occur a little later on (see verses 113 ff.) deal with an important matter, related to an incident that took place around the time they were revealed. The incident involved a person called Tu'mah or Bashir ibn Ubayriq of the Banu Zafar tribe of the Ansar. This man stole an Ansari's coat of mail. While the investigation was in progress, he put the coat of mail in the house of a Jew. Its owner approached the Prophet (peace be on him) and expressed his suspicion about Tu'mah. But Tu'mah, his kinsmen and many of the Banu Zafar colluded to ascribe the…
Read the full tafseer →