An-Nisaa 4:106

An-Nisaa · from ayah 106

4:106

وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰهَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟ۚوَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‌

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And seek forgiveness of Allah. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 16 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:106

اور اللہ سے در گزر کی درخواست کرو، وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو! بے شک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ سے معافی چاہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ اللہ سے بخشش طلب کریں، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ سے بخشش مانگ، یقینا اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ اللہ تعالیٰ یقینا بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بخشش مانگو تم اللہ سے، بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ اللہ سے مغفرت چاہیے بیشک اللہ بڑا ہی مغفرت والا ہے بڑا ہی رحیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ سے استغفار کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ سے بخشش کی درخواست کریں، وہ بڑا درگزر فرمانے والا، رحیم ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and seek forgiveness from Allah. Surely Allah is All-Forgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Seek forgiveness from Allah. Surely, Allah is All-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Seek forgiveness from Allah. Surely, Allah is All-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And seek the forgiveness of Allah, certainly, Allah is Ever Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And seek forgiveness of Allah. Lo! Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And seek forgiveness of Allah. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Seek forgiveness from God. He is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And ask forgiveness of Allah; surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And beg thou forgiveness of verily Allah is ever Forgiving.

— Abdul Majid Daryabadi

But seek the forgiveness of Allah; for Allah is Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–109

حقیقت چھپ نہیں سکتی اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 105–106

سورة النِّسَآء 140 اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں ایک اہم معاملہ سے بحث کی گئی ہے جو اسی زمانہ میں پیش آیا تھا۔ قصہ یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طَعْمہ یا بشیر بن اُبَیرِق تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرا لی۔ اور جب اس کا تجسس شروع ہوا تو مال مسروقہ ایک یہودی کے ہاں رکھ دیا۔ زرہ کے مالک نے آنحضرت ﷺ سے استغاثہ کی اور طعمہ پر اپنا شبہہ ظاہر کیا۔ مگر طعمہ اور اس کے بھائی بندوں اور بنی ظفر کے بہت سے لوگوں نے آپس میں اتفاق کر کے اس یہودی پر الزام تھوپ دیا۔ یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے اپنی برأت ظاہر کی۔ لیکن یہ لوگ طعمہ کی حمایت میں زور شور سے وکالت کرتے رہے اور کہا کہ یہ یہودی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس لئے دوسری آیت میں آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مقام بہت بلند ہے، ان سے اتنی بات بھی پسند نہیں۔ توبہ کی حقیقت۔ اور آیت نمبر 011 یعنی ومن یعمل سوء اویظلم نفسہ الخ سے یہ معلوم ہوا کہ گناہ خواہ متعدی ہو یا لازمی یعنی حقوق العباد سے متعلق ہو یا حقوق اللہ سے، ہر قسم کا گناہ توبہ و استغفار سے معاف ہوسکتا ہے، البتہ توبہ و استغفار کی حقیقت جاننا ضروری ہے، محض زبان سے استغفر اللہ واتوب الیہ کہنے کا نام توبہ و استغفار نہیں ہے، اسی لئے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہے اس پر اس کو ندامت بھی نہیں اور اس کو چھوڑا بھی نہیں یا آئندہ کے لئے چھوڑنے کا عزم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 105–108

آگے کا مضمون۔ آیات 105۔ 115: آگے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے یہ ہدایت فرمائی کہ اللہ نے تمہیں جو کتاب عطا فرمائی ہے اب یہی حق و باطل کی کسوٹی ہے، تم اسی کسوٹی پر پرکھ کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرو جو اس پر پورے اتریں وہ مومن و مخلص ہیں، جو اس پر کھوٹے ثابت ہوں وہ عہد شکن اور غدار ہیں، تم خدا کے حضور میں ان کے سفارشی اور وکیل نہ بنو۔ خدا ایسے بدعہدوں اور گناہگاروں کو پسند نہیں کرتا۔ آیت 88 فمالکم فی المنافقین الایۃ میں جس بات کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا تھا اب یہ اس کی تفصیل آگئی۔ وہاں یہ بات گزر چکی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے دل میں منافقین کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ وہ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 106–108

16۔ 1 یعنی بغیر تحقیق کہ آپ ﷺ نے خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی کی بابت پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔ علاوہ ازیں اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور اپنی چرب زبانی سے عدالت یا حاکم مجاز سے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گا درآں حالیکہ وہ صاحب حق نہ ہو تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی اہمیت نہیں۔ اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمایا خبردار ! میں ایک انسان ہی ہوں اور جس طرح میں سنتا ہوں اسی کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہوں ممکن ہے ایک شخص اپنی دلیل و حجت پیش کرنے میں تیز طرار…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 105–112

66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–109

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی قبل تحقیق صرف ظاہر حال کو دیکھ کر چور کو بری اور یہودی مذکور کو چور خیال کرلینا تمہاری عصمت اور عظمت شان کے مناسب نہیں اس سے استغفار چاہئے۔ اس میں کامل تنبیہ ہوگئی ان مخلصین صحابہ کو جو بوجہ تعلق اسلامی یا قومی وغیرہ چور پر حسن ظن کر کے یہودی کے چور بنانے میں ساعی ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 106 وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا یعنی اس منافق کے حق میں آپ ﷺ کی طبیعت میں جو نرمی پیدا ہوگئی تھی اس پرا للہ سے استغفار کیجئے ‘ مغفرت طلب کیجیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

145 قاضی ظاہری شہادات کی بنا پر فیصلہ کرنے کا پابند ہے اس لحاظ سے اگر آپ انصاری کے حق میں فیصلہ دے بھی دیتے تو آپ کا کچھ قصور نہ تھا۔ تاہم آپ کی عظمت شان کی وجہ سے آپ کو بخشش طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ ایک غلط سوچ آپ کے ذہن میں راہ پانے لگی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

299 ۔ یہ استغفار کا حکم رسول ﷺ کو کس کے لئے مل رہا ہے ؟ اپنے حق میں یا امت کے حق میں۔ بہ ظاہر یہ حکم استغفار ان لوگوں کے حق میں معلوم ہوتا ہے، جو برادری کے خیال سے اس مجرم منافق کے حق میں ساعی اور سفارشی تھے اور قرآن مجید میں اس اسلوب بیان کی مثالیں اور جگہوں پر بھی ملتی ہیں۔ مثلا (آیت) ” یایھا النبی اتق اللہ “۔ یا و، ان کنت فی شک “۔ وغیرھا۔ چناچہ اہل تفسیر کا ایک گروہ اسی طرف گیا ہے۔ قیل الخطاب للنبی ﷺ المراد بنو ابیرق (قرطبی) والمعنی استغفر اللہ للمذنبین من امتک والمتخاصمین بالباطل (قرطبی) یحتمل ان یکون المراد واستغفروا اللہ لاولئک الذین یذبون عن طعمۃ ویریدون ان یظھروا براء تۃ عن السرقۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 106–112

وَاسْتغفِرِ اللہ ان اللہ کان غفورارحیما، یعنی اس بات پر کہ بغیر تحقیق کے آپ نے جو خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مومنین اس منافق کے ساتھ اس کی حمایت کرنے کی وجہ سے خیانت یعنی معصیت میں مبتیلا ہوگئے آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں مذکورہ واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی پر پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور چرب زبانی سے عدالت یا حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی حیثیت نہیں، اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اسطرح بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واستغفروا اللہ . اور (جو کچھ تم نے قتادہ بن نعمان سے کہا اس کی) اللہ سے معافی طلب کرو۔ ترمذی اور حکم نے قتادہ کا یہی تفیسری قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے یہ مطلب لکھا ہے کہ یہودی کو سزا دینے کا جو تم نے ارادہ کیا تھا اس کی معافی اللہ سے مانگو۔ مقاتل نے کہا کہ طعمہ کی طرفداری میں جو کچھ تم نے کہا اس کی معافی اللہ سے مانگو۔ ان اللہ کان غفورا رحیما بلاشبہ (جو اللہ سے استغفار کرتا ہے اس کو) اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(106) اور آپ نے یہودی کو سزا دینے کا جو ارادہ کیا ہے اس سے استغفار کیجیے جو آپ کے دل میں خیال آیا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰهَ : یعنی جو حمایت آپ نے کی اس کی مغفرت طلب کریں۔ ایک معنی مفسرین نے یہ بھی کیا ہے کہ ان گناہ گاروں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات قاضی ایک فریق کی چرب زبانی کی وجہ سے اس کے حق میں فیصلہ دے دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صحیح نہیں ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”خبر دار ! میں ایک انسان ہی ہوں اور جس طرح سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کردیتا ہوں، ممکن ہے ایک شخص اپنی دلیل و حجت پیش کرنے میں تیز طرار اور ہوشیار ہو اور میں اس کی گفتگو سے متاثر ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، حالانکہ وہ حق پر نہ ہو اور اس طرح میں دوسرے مسلمان کا حق اسے دے دوں،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 106۔ اس آیت میں ایک مسئلہ ہے ؛ طبری اس معنی کی طرف گئے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے اپنے اس خیال سے استغفار کریں جو آپ نے بددیانت لوگوں کے لیے جھگڑنے کا کیا تھا۔ (1) (تفسیر طبری جلد 5، صفحہ 309) آپ ﷺ کو استغفار کا حکم دیا، کیونکہ آپ نے ان کا دفاع کرنے اور یہودی کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا تھا، یہ ان کا مذہب ہے جو انبیاء پر صغائر کو جائز قرار دیتے ہیں، ابن عطیہ نے کہا : یہ گناہ نہیں ہے، کیونکہ ظاہر پر دفاع کرنے والے تھے اور آپ ان کی برات کا نظریہ رکھتے تھے اور معنی یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے گنہگاروں کے لیے اور باطل کے لیے جھگڑنے والوں کے لیے استغفار کریں اس کا مقام لوگوں میں اس طرح ہے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–113

(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَّاسْتَغْفِرِ : اور آپ ﷺ مغفرت چاہیں ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 105–109

ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام ﷺ کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–115

حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔ قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔ شان نزول۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 106–109

79 آنحضرت ﷺ نے منافقین کی چرب زبانی اور طاقت لسانی سے زید بن یاسمین کو چور سمجھ کر اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرما لیا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ اگر یہ سزا نافذ ہوجاتی تو نفس الامر کے خلاف اور واقع میں خطا ہوتی اس لیے اس میں اگرچہ آپ معذور تھے لیکن پھر بھی اس لغزش پر استغفار کا حکم فرمایا۔ فھم النبی ﷺ ان یقطع ید زید الیھودی (معالم ج 1 ص 494) فلما اطلعہ اللہ علی کذب قوم طعمۃ عرف انہ لو وقع ذلک الامر لکان خطا فی نفس الامر فامرہ بالاستغفار منہ و ان کان معذورا (خازن ج 1 ص 492) ۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضیٰ مِنَ الْقَوْل ْ :…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–109

ربط آیات گزشتہ دروس میں سفر اور خوف کی حالتوں میں نماز کا بیان تھا۔ اس کے بعد امن کی حالت میں دستور کے مطابق نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر جہاد کے ضمن میں دشمن کا تعاقب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس معاملہ میں سستی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اہلِ ایمان کو یاد دلایا کہ کافر باطل پروگرام رکھنے کے باوجود بڑے مستعد ہیں جب کہ مسلمانوں کے پاس تو اللہ اور اسکے رسول کا دین برحق ہے لہٰذا انہیں دشمن کے مقابلہ میں زیادہ مستعد ہونا چاہئے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ امید ہے جو کفار کو نہیں ہو سکتی۔ اُس سے پہلے منافقین کا تذکرہ تھا کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس میں شمولیت کے خلاف حیلے بہانے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاسْتَغْفِرِ اللہَ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ 106ۚ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–106

ترکیب : اراک کا مفعول اور ک اور مفعول ثانی محذوف ہے ای ارا کہ یرم بہ کی ضمیر اثما کی طرف راجع ہے اور خطیئۃ حکم اثم میں ہے اور بعض کہتے ہیں یکسب سے جو کسب سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔ تفسیر : پچھلی آیتوں میں جہاد کے اندر نماز کا حال اور پھر جہاد کی ترغیب بیان ہوئی تھی جس سے مخالفوں پر حق و ناحق وقت بےوقت زیادتی کرنے کا خیال عام طبائع میں پیدا ہونے کا احتمال تھا کس لئے کہ عام طبائع میں یہ جبلی بات ہے کہ جب ان کو جنگ کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے تو اپنی طرف سے اور بھی شدت و سختی کرنے کی خواہش کیا کرتے ہیں کیونکہ افراط وتفریط انسان کی طبیعت میں خمیر کی گئی ہے اس لئے اس کے بعد ان آیتوں میں اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 105–108

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَََآ اَرَاکَ اللّٰہُ ط وَلَا تَـکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا لا وَّاسْتَغْفِرِاللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ج وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا ج لا یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا ” اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 105–106

فہم القرآن ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 106 : وَاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں) اس ارادے کا جو آپ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (بیشک اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والے مہربان ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

106۔ (آیت) ” واستغفر اللہ “۔ جو آپ یہودی کو سزا دینے کا ارادہ کرچکے تھے اس کے بارے میں اللہ سے استغفار کیجئے ، مقاتل (رح) کا بیان ہے اللہ سے بخشش طلب کیجئے جو آپ نے طعمہ کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ (آیت)” ان اللہ کان غفورا رحیما ‘ ؓ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–109

(105 ۔ 109) ۔ ترمذی، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور قتادہ بن نعمان ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی قتادہ بن نعمان ؓ کی زرہ چوری جاتی رہی اور دریافت سے معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے وہ ذرہ چرائی ہے طعمہ نے یہ چالاکی کی کہ وہ ذرہ ایک شخص یہودی زید بن سمین کے پاس رکھوا دی۔ اور طعمہ کی خانہ تلاشی کے وقت جب وہ ذرہ طعمہ کے گھر سے برآمد نہیں ہوئی تو طعمہ نے اسی یہودی کو چور ٹھہرا کر ذرہ کا پتہ اسی یہودی کے گھر میں ہونے کا دے دیا اور ادھر طعمہ کی قوم نے رات کو یہ مشور کیا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جا کر طعمہ کی برأت کی گواہی ادا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–113

آیت 105 اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “ اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 106–113

قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔ کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

282 پیغمبر کا استغفار ان کے مقام رفیع کے مطابق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بخشش مانگو اللہ سے۔ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ یعنی آپ اے پیغمبر اس قسم کی باتوں سے استغفار کریں جو اگرچہ گناہ نہیں صرف خلاف اولیٰ قسم کی ہیں، مگر آپ ﷺ کی شان رفیع کے اعتبار سے یہ بھی بڑی چیز قرار پا جاتی ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ اس پر استغفار کریں۔ امام ابن جریر طبری (رح) اس کی تفسیر میں کہتے ہیں " اِنَّ الْمَعْنی اِسْتَغفِر اللّٰہَ مِنْ ذَنْبِکَ فِیْ خِصَامِکَ لِلْخَائِنِیْنَ " سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختار کل۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو آپ ﷺ ایسے خلاف اولیٰ قسم کے کاموں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–108

فیصلہ عدل سے کرو تشریح : ان آیات کا شان نزول ایک جھگڑا ہے جو طعمہ مسلمان اور زید یہودی کے درمیان ہوگیا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ طعمہ نے کچھ مال چوری کیا اور اس مال کو پکڑے جانے کے خطرہ سے یہودی کے گھر رکھوا دیا جب کھوج لگانے والوں نے مال یہودی کے گھر سے پکڑ لیا تو یہودی کو چوری کے الزام میں پکڑ لیا۔ یہودی کیونکہ بےقصور تھا وہ بہت پریشان ہوا لیکن مال کا ملنا بہت بڑا ثبوت تھا اس کے علاوہ طعمہ کے خاندان والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ یہودی غلط کہتا ہے۔ یہ قضیہ فیصلہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا تو طعمہ اور اس کے ساتھیوں نے قسمیں کھا کر اور بڑا زور دے کر نبی کریم ﷺ کو یقین دلا یا کہ زید جھوٹ بول رہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–112

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف : انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔ ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی آپ ﷺ نے جو طعمہ کو بری اور یہودی کو مجرم قرار دینے کا ارادہ کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجئے۔ (قرطبی۔ ) انبیا ( علیہ السلام) کو باوجود معصوم ہونے استغفار کا حکم رفع درجات کے لیے دیا جاتا ہے اور علما تفسیر نے یہ بھی کئے ہیں کہ ان گنہگا روں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 105–106

ولا ۔۔ خصیما۔ ای ولا تکن خصیما للخائنین۔ اور خیانت کرنے والوں کے لئے جھگڑا کرنے والا۔ یا طرفداری کرنے والا نہ بن۔ لاتکن۔ فعل ناقصہ۔ لاتکن کی ضمیر واحد مذکر حاضر۔ اسم لاتکن۔ خصیما خبر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–112

آیت نمبر 105-112 لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔ تشریح : حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔ واقعات کی صورت کچھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–109

شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری ہوئی تھی جو گم ہوگئی۔ صبح کو تلاش کی تو آٹے کا نشان ایک شخص کے گھر تک تھا جس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا، وہاں جھاڑا لیا (تلاشی لی) تو نہ پائی۔ وہ نشان آگے دیکھا تو ایک یہودی کے گھر تک جس کا نام زید تھا پایا گیا۔ وہاں زرہ ملی۔ اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی۔ طعمہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے جس کے ہاں برآمد ہوئی۔ طعمہ کی قوم میں رات کو مشورہ ہوا کہ ہم سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے اور آنحضرت ﷺ ہماری حمایت کریں گے اور وہ یہودی چور ٹھہرے گا۔ صبح کو سب نے مل کر یہی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[71] ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مسلمان نے جو دل میں منافق تھا اور جس کا نام اطمعہ یا بشیر تھا چوری کر کے مال مسروقہ ایک یہودی کے ہاں رکھ دیا تھا۔ یہودی اپنے آپ کو بےقصور بتلا رہا تھا۔ اطمعہ کے گھرانے کے لوگ اطمعہ کی حمایت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہودی کافر ہے اور اس کی بات نہیں ماننی چاہئے۔ قریب تھا کہ نبی ﷺ مقدمے کی ظاہری روداد سے متاثر ہو کر اس یہودی کے خلاف فیصلہ فرما دیتے کہ یہ آیات نازل ہوئیں اور معاملے کی ساری حقیقت کھول دی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 105–109

قرآن حقائق محسوسہ کا نام ہے : (ف 2) (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ افق اعلی سے حضور ﷺ کے قلب اقدس پر نازل ہوا ہے وہ حق یعنی قطعی صلت وصفا سے حالات وظروف کے بالکل مطابق ہے ، علوم ومحسوسات کے موافق ہے اور کوئی چیز اس میں غیر موزوں اور غیر متناسب نہیں ۔ (آیت) ” بما ارک اللہ “ ۔ سے مراد یہ ہے ‘ یہ قرآن حتما وسعت ومشاہدہ کے ہم پلہ ہے ، اس کی قطعیت میں کوئی احتمال شک وشبہ نہیں ، یہ محسوس حقیقت ہے جس کی تجلیات قلب اطہر پر جلوہ کناں ہیں ۔ (آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور اس قبیل کی تمام آیات جو اس کے بعد مذکور ہیں ، منصب نبوت کی توضیح کے لئے ہیں یعنی بتانا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 104–107

ف 3 اور اے مسلمانو ! تم اپنی دشمن اور مخالف قوم کا تعاقب اور پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو اور بزدلی نہ دکھائو اگر جنگ کی وجہ سے اور زخم خوردہ ہونے کے باعث تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو تو وہ تمہارے دشمن بھی اسی طرح بےآرام اور دکھی ہوتے ہیں جس طرح تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو یعنی جہاں تک جنگ اور مجروح ہونے کی وجہ سے تم کو درد اور تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انکو بھی ہوتی ہے تو گویا اس معاملہ میں تم اور وہ مشترک ہو مگر تم اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو امیدیں ان کو ہیں اور وہ اجر وثواب کی توقع سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہ وہ تمہارے حال سے خوب واقف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 105–111

ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم حق و باطل میں فرق کرکے الگ الگ کردینے والا ہے 179 قرآن کریم کی نصیحتوں میں سے ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ وہ کسی کو چڑ نہیں چڑھاتا بلکہ ہر اس معاملہ میں جس میں کسی کو چڑ کھانے کا امکان ہوتا ہے اس کا رخ اپنے رسول ﷺ کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ وہ صاحب وحی ہے اس کو مخاطب کرکے بات کرتا ہے تاکہ رسول جب ان لوگوں کے سامنے بیان کرے گا جو اس کے مخاطبین ہیں تو اللہ کا حکم بیان کرے گا جس کا بظاہر مخاطب تو وہی ہوگا اگرچہ اس سے سمجھانا مقصود امت کے لوگوں ہی کو ہے۔ اس کی مثال اس طرح سمجھ لو کہ جب حاکم اعلی حکم کرتا ہے تو وہ اپنے نائبین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ فلاں کام اس طرح ہونا چاہئے اگر اس میں تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The background of these verses The nine verses (105-113) cited above refer to a particular episode. But, very much in accordance with the characteristic style of the Qur'an, the instructions given in this connection are not peculiar to this episode. They are, rather, a set of basic principles and rules commonly beneficial for all Muslims whether of a given time or of future generations. Let us go to the event first, then consider the wisdom of related instructions which provide solutions to corresponding problems. The episode centres around the clan of Banu Ubayriq in Madinah. A man from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

140. These and certain other verses which occur a little later on (see verses 113 ff.) deal with an important matter, related to an incident that took place around the time they were revealed. The incident involved a person called Tu'mah or Bashir ibn Ubayriq of the Banu Zafar tribe of the Ansar. This man stole an Ansari's coat of mail. While the investigation was in progress, he put the coat of mail in the house of a Jew. Its owner approached the Prophet (peace be on him) and expressed his suspicion about Tu'mah. But Tu'mah, his kinsmen and many of the Banu Zafar colluded to ascribe the…

Read the full tafseer →