An-Nisaa 4:98

An-Nisaa · from ayah 98

4:98

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّلَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۟ۙاِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ حِيۡلَةً وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except for the oppressed among men, women and children who cannot devise a plan nor are they directed to a way -

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 14 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:98

ہاں جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارہٴ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ وہ بےبس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنی ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کرسکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر وہ جو دبالیے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سوائے ان واقعی مجبور و بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کے، جو نہ کسی تدبیر پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ (وہاں سے نکلنے کا) کوئی راستہ جانتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر وہ نہایت کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ کسی تدبیر کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ کوئی راستہ پاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جو مرد، عورتیں اور بچے فی الواقع کمزور اور بےبس ہیں اور وہاں سے نکلنے کی کوئی تدبیر اور راہ نہیں پاتے، امید ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو معاف فرما دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

البتہ وہ بےبس مرد، عورتیں اور بچے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکتے اور نہ کوئی راہ پا رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بچوں کے، جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکتے ہیں، اور نہ کوئی راہ پاسکتے ہیں (کہ وہ اس سے مستثنیٰ ہیں)

— مولانا اسحاق مدنی

بجز ان لوگوں کے جو مردوں اور عورتوں بچوں میں سے کمزور ہوں (کہ) نہ کوئی تدبیر ہی کرسکتے ہوں اور نہ کوئی راہ پاتے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے ان مردوں عورتیں اور بچوں کے جن کو واقعتا دبا لیا گیا ہو نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ وہ راستہ جانتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں، جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی ذریعہ اور راستہ نہیں پاتے

— محترمہ رفعت اعجاز

except the men, women, and children who were indeed too feeble to be able to seek the means of escape and did not know where to go.-

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except the oppressed men and women and children, who cannot have means (to emigrate), nor can find a way.

— Muhammad Taqi Usmani

except the oppressed men and women and children, who cannot have means (to emigrate), nor can find a way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except the weak ones among men, women and children who cannot devise a plan, nor are they able to direct their way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Except the feeble among men, and the women, and the children, who are unable to devise a plan and are not shown a way.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except for the oppressed among men, women and children who cannot devise a plan nor are they directed to a way -

— Saheeh International

As for the really weak and oppressed men, women, and children who were not able to find any means of obtaining their freedom or of having the right guidance,

— Muhammad Sarwar

Except the weak from among the men and the children who have not in their power the means nor can they find a way (to escape);

— Muhammad Habib Shakir

Excepting the weak ones among men, women and children, unable to find a stratagem and not guided to a way.

— Abdul Majid Daryabadi

Except those who are (really) weak and oppressed - men, women, and children - who have no means in their power, nor (a guide-post) to their way.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 97–100

بےمعنی عذر مسترد ہوں گے ہجرت اور نیت محمد بن عبدالرحمن ابو الا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لئے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں حضرت ابن عباس کے مولیٰ حضرت عکرمہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔ اور کہا سنو حضرت ابن عباس سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو حضور ﷺ کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کردیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کردیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 97–99

سورة النِّسَآء 129 مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ابھی تک بلا کسی مجبوری و معذوری کے اپنی کافر قوم ہی کے درمیان مقیم تھے اور نیم مسلمانہ اور نیم کافرانہ زندگی بسر کرنے پر راضی تھے، درآنحالیکہ ایک دارالاسلام مہیا ہوچکا تھا جس کی طرف ہجرت کر کے اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرنا ان کے لیے ممکن ہوگیا تھا۔ یہی ان کا اپنے نفس پر ظلم تھا کیونکہ ان کو پوری اسلامی زندگی کے مقابلہ میں اس نیم کفر و نیم اسلام پر جس چیز نے قانع و مطمئن کر رکھا تھا وہ کوئی واقعی مجبوری نہ تھی، بلکہ محض اپنے نفس کے عیش اور اپنے خاندان، اپنی جائیداد و املاک اور اپنے دنیوی مفاد کی محبت تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

خلاصہ تفسیر بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے (باوجود قدرت ہجرت کے پھر ہجرت کے تارک ہو کر) اپنے کو گناہ گار کر رکھا تھا تو (اس وقت) وہ (فرشتے) ان سے کہتے ہیں کہ تم (دین کے) کس (کس) کام میں تھے (یعنی دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے) وہ (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (اپنی بود و باش کی) سر زمین میں محض مغلوب تھے (اسلئے بہت سی ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے، یعنی ان فرائض کے ترک میں معذور تھے) وہ (فرشتے) کہتے ہیں (اگر اس جگہ نہ کرسکتے تھے تو) کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کر کے اس (سے کسی دوسرے حصہ) میں چلا جانا چاہئے تھا (اور وہاں جا کر فرائض کو ادا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

97 تا 100:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ میں لفظ مَلٰىِٕكَةُ اسی طرح جمع آیا ہے جس طرح آل عمران کی آیات 39، 42 اور 45 میں آیا ہے۔ وہاں فنادتہ الملئکۃ کے تحت ہم اس کے جمع لانے کی وجہ بیان کرچکے ہیں۔ بعض مرتبہ جمع سے مقصود صرف جنس کا اظہار ہوتا ہے۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حال ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم سے مقصود یہاں ہجرت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 98–99

98۔ 1 یہ ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہجرت سے مستثنیٰ کرنے کا حکم ہے جو اس کے وسائل سے محروم اور راست سے بھی بیخبر تھے۔ بچے اگرچہ شرعی حکام کے مکلف نہیں ہوتے لیکن یہاں ان کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے بچے تک بھی ہجرت کریں یا پھر یہاں بچوں سے مراد قریب البلوغت بچے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 97–100

62: اپنی جان پر ظلم کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کرکے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، آیت نمبر : 97 میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، جب مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے ؛ بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا، اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 97–99

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 97–99

3 بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کرسکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کرسکتے ہیں۔ سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں۔ اس رکوع میں اسی کا ذکر ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی کافروں کے ساتھ مل رہے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے تو فرشتے ان سے مرنے کے وقت پوچھتے ہیں کہ تم کس دین پر تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان تھے مگر بوجہ ضعف و کمزوری کے دین کی باتیں نہ کرسکتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین تو بہت وسیع تھی تم یہ تو کرسکتے تھے کہ وہاں سے ہجرت کر جاتے۔ سو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 98 اِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآء والْوِلْدَانِِ جن لوگوں کو کمزور سمجھ کر دبالیا گیا ہو ‘ واقعتا زنجیروں میں جکڑ کر گھروں میں بند کردیا گیا ہو ‘ ان کا معاملہ اور ہے۔ یا پھر کوئی عورت ہے جس کے لیے تنہا سفر کرنا ممکن نہیں۔ ویسے تو ایسی عورتیں بھی تھیں جنہوں نے تنہا ہجرتیں کیں ‘ لیکن ہر ایک کے لیے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 98–99

135 ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ جو مسلمان فی الواقع کمزور تھے اور ہجرت کرنے کی کوئی راہ انہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ مستضعفین یا کمزور سے مراد وہ لوگ ہیں جو فی الحقیقت معذور ہوں جیسے بیمار، بچے، بوڑھے، عورتیں اور کافروں کی قید میں پڑے ہوئے مسلمان۔ اور وسائل محدود ہونے سے یہ مراد ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سواری کا بندوبست ہو اور نہ وہ پیدل سفر کی مشقت اٹھانے کے قابل ہوں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا، اور ان کے ہجرت نہ کرنے کے قصور کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔ (بخاری،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

281 ۔ یعنی ایسے لوگ جو فی الواقع اپنے ضعف جسمانی کی بنا پر نہ سفر ہجرت پر قادر ہوں، اور نہ کسی دارالاسلام کا پتہ نشان انہیں مل رہا ہو۔ ای لایجدون اسباب الھجرۃ ومبادیھا ولا یعرفون طریق الموضع المھاجر الیہ (روح) (آیت) ” حیلۃ “۔ عر بی میں تدبیر کے لیے عام ہے۔ اردو کے ” بہانہ “ کے مرادف نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 98–99

اِلاّ المستضفین (الآیة) ہجرت سے یہ ان مردوں عورتوں اور بچوں کو مستثنی کرنے کا حکم ہے جو ہجرت کے وسائل سے محروم ہوں وسائل خواہ مالی ہوں یا جسمانی چناچہ انتہائی بوڑھا بیمار ایسا کمزور کہ جو نہ پیدل چل سکے اور نہ سواری پر سوار ہوسکے، اور ایسا بال بچوں والا کہ جو نہ انھیں ساتھ لے جاسکتا ہو اور نہ تنہا چھوڑسکتا ہو، ہجرت سے مستثنی ہیں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں اور میری والدہ ماجدہ ان ہی لوگوں میں تھے، والدہ معذور تھیں اور میں بچہ۔ بچے اگرچہ شرعی احکام کے مکلّف نہیں ہوتے لیکن یہاں بچوں کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا المستضعفین من الرجال والنسآء والولدان لیکن جو مرد اور عورتیں اور بچے قادر نہ ہوں۔ یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ ہجرت پر قدرت نہ رکھنے والے مرد اور عورتیں اور بچے الذین یا اس کی ضمیر کے تحت داخل ہی نہیں ہیں (وہ غیر معذور ہیں قادر ہیں اور یہ معذور اور عاجز ہیں) یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہی نہیں ہیں ‘ حکم کا وجوب بغیر تعمیل کی قدرت کے کسی پر نہیں ہوتا لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا۔ عاجز مردوں کی مثال ایسی ہے جیسے بہت زیادہ بوڑھا فرتوت بہت بیمار بہت کمزور اپاہج کہ پیدل سفر کر نہیں سکتا اور سواری کی استطاعت نہ ہو یا کوئی عیالدار ہو کہ سب کو لے کر جانے کی استطاعت نہ ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 98–99

(98۔ 99) البتہ کمزور بچے، بوڑھے اور عورتیں جو کہ ہجرت کرنے پر قادر نہ ہوں کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستہ ہی سے واقف ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان سے غلطی ہوئی اور اس پر انہوں نے توبہ کی تو اپنے کرم سے اس کو معاف فرما دیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”میں اور میری والدہ ان لوگوں میں سے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا۔“ [ بخاری، التفسیر : 4588 ] ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام وغیرہ بھی شامل ہیں جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ کفار کے پنجے سے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر : 4598 ] 2 ابن عباس ؓ کی والدہ ام الفضل بنت الحارث ؓ ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے، جو ام المومنین میمونہ بنت الحارث کی بہن تھیں۔ ”بنات حارث“ نو بہنیں تھیں، ان میں ایک اسماء بنت عمیس، خثعمیہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–99

آیت نمبر : 97 تا 99۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل مکہ سے تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور نبی مکرم ﷺ پر ایمان لانا ظاہر کیا تھا، جب نبی مکرم ﷺ نے ہجرت کی تو وہ اپنی قوم کے ساتھ ٹھہرے رہے اور ان میں سے ایک جماعت فتنہ میں مبتلا کی گئی تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے جب جنگ بدر کا موقع آیا تو ان میں کچھ لوگ کفار کے ساتھ نکلے تو یہ آیت نازل ہوئی، بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے جب مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے، مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے مسلمانوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–99

(1) بخاری و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف مشرکوں کی جماعت میں اضافہ کرتے کوئی تیر پھینکا ہوا ان میں سے کسی کو لگ جاتا تو وہ قتل ہوجاتا یا اس پر تلوار کا وار کیا جاتا تو وہ مارا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ نازل فرمائی۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم مکہ والوں میں سے مسلمان ہوگئی تھی اور وہ اسلام کو چھپاتے تھے تو ان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ : کمزور ہوں ] [ مِنَ الرِّجَالِ : مردوں میں سے ] [ وَالنِّسَآئِ : اور عورتوں میں سے ] [ وَالْوِلْدَانِ : اور بچوں میں سے ] [ لاَیَسْتَطِیْعُوْنَ : وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں ] [ حِیْلَۃً : کسی تدبیر کی ] [ وَّلاَ یَہْتَدُوْنَ : اور وہ نہ پاتے ہوں ] [ سَبِیْلاً : کوئی راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اِلاَّالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ ) اس میں یہ بتایا کہ جو مرد اور عورتیں اور بچے کافروں میں پھنس جائیں وہاں مغلوب ہوں ہجرت سے عاجز ہوں کوئی تدبیر سامنے نہ ہو اور رستہ بھی معلوم نہ ہو کہ کہاں جائیں اور کیا کریں تو ایسے لوگ مواخذے سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے معذورقرار دیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 660) ان کے علاوہ اور متعدد صحابہ تھے جو مکہ مکرمہ میں پھنسے ہوئے تھے اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی اور کافروں کے ماحول میں مصیبت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے لیے آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

حکم بست وششم وجوب ہجرت۔ قال تعالیٰ ان الذین تو فھم الملائکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ غفورا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب اور بےعذر جہاد ترک کرنے والوں کا بیان تھا اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب دیتے ہیں اس لیے یہ ہجرت جہاد کا مقدمہ ہے اور بےعذر ہجرت ترک کرنے والوں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر کیا گزری ہے اس لیے کہ ایمان کے بعد پہلے ہجرت کا حکم ہوا اور پھر ہجرت کے بعد جہاد کا حکم ہوا پس گویا کہ جو لوگ باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے گویا کہ وہ لوگ عمدا تارک جہاد ہیں اس لیے ان آیات میں ہجرت کا بیان ہے کہ ہجرت سعادت دارین کا سبب ہے اور ترک ہجرت محرومی کا سبب ہے اس لیے کافروں میں رہ کر نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–100

73 ساتواں حکم سلطانی۔ (اے مکہ میں محصور مسلمانو ! تمہاری مدد کے لیے مجاہدین کو بھیج تو رہا ہوں لیکن تم خود بھی مکہ سے ہجرت کرکے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ) پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو جہاد میں شریک ہونے سے جی چراتے تھے اب یہاں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے تھے۔ بیان لحال القاعدین عن الھجرۃ اثر بیان القاعدین عن الجھاد (روح ج 5 ص 125) اور ان لوگوں کو ظالم اس لیے فرمایا کہ انہوں نے ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے یہ ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ میں محصور تھے فرمایا تمہاری مدد اور نصرت کے لیے تو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 97–100

ہجرت کی فرضیت گزشتہ درس میں مجاہدین اور قاعدین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور مجاہدین کی فضیلت اور اجر عظیم کا ذکر تھا۔ اب جہاد کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ضرورت اور اس کی فرضیت کا تذکرہ ہے۔ اور بوقت ضرورت ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے جس طرح بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ سیفرض عین بن جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات ہجرت بھی فرض عین کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے جب کسی مقام میں کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہوجائے کہ مومن اپنے دین کے شعار پر عمل نہ کرسکے ، تو مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر بار ، کاروبار ، وطن ، عزیز و اقارب وغیرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے جہاں وہ دین کے احکام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَۃً وَّلَا يَہْتَدُوْنَ سَبِيْلًا۝ 98ۙ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 97–100

ترکیب : ظالمی مضاف انفسہم مضاف الیہ یہ حال ہے ضمیرھم سے جو تو فیہم میں ہے۔ فتہاجروا منصوب ہے جواب بن کر استفہام کا کیونکہ نفی بسبب استفہام کے اثبات ہوگی۔ الا المستضعفین استناء ہے اولئک ماوھم جہنم سے ‘ من الرجال والنساء والولدان مستضعفین کا بیان ہے۔ لا یستطیعون اس سے حال مبینہ ہے خبران قالوا وقیل فاولئک وقیل محذوف وھو ھلکوا۔ تفسیر : مدینہ میں چونکہ لوگ ہجرت کرکے مجتمع ہوگئے تھے جو جہاد قائم ہونے کا باعث ہوا اور جہاد کی رغبت پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تھی اور بعض لوگ جو کہ مکہ میں یا اور شہروں میں ایمان تو لے آئے تھے مگر بسبب حبِّ وطن کے ہجرت کرکے اس جماعت میں شریک ہونے سے پہلو تہی کرتے تھے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ط قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ط قَالُوْٓا اَلمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیہَا ط فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا لا اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَایَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا لا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَعَنْہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ” بیشک جن لوگوں کی فرشتے جان قبض کریں گے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ‘ وہ ان سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–99

فہم القرآن ربط کلام : دارالکفر میں رہنے کی بجائے صاحب ہمت لوگوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہیے یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس آویزش میں ہمیں بیشمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام ‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 98 : اِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ (مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے مغلوب کردیئے گئے) ۔ اس میں مغلوب لوگوں کو اہل وعید سے مستثنیٰ کیا گیا۔ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا (نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ راستہ سے واقف ہیں) یعنی محتاجی اور عاجزی کی وجہ سے نکلنے کی تدبیر نہیں رکھتے اور نہ ان کو راستوں کی پہچان ہے۔ نحو : لایستطیعون یہ مستضعفین کی صفت ہے۔ یا الرجال و النساء والولدان کی صفت ہے اور یہ بات درست ہے۔ جملہ حکماً نکرہ ہے۔ موصوف میں حرف تعریف کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کی نظیر یہ ہے۔ ولقد امرّ علی اللئیم یسبنی۔ شعر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

98۔ (آیت)” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ “۔ نہ ہو کسی حیلہ پر قادر ہیں اور نہ ہی وہ نفقہ پر قادر ہیں اور نہ ان کو وہاں سے نکلنے کی قدرت حاصل ہے ۔ (آیت)” ولا یھتدون سبیلا “۔ اور نہ ہی وہ راستے سے واقف ہیں کہ مدینہ کو کون سا راستہ جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 97–99

(97 ۔ 99) ۔ بخاری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور ابن جریر نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ ظاہر میں تو جس وقت آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اس وقت اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر مشرکوں کا ساتھ انہوں نے نہیں چھوڑا تھا۔ مشرکوں کے ڈر سے مکہ سے مدینہ منورہ کو انہوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ اور بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے وہ لڑنے کو آئے اور مارے گئے ان کی شان میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4 کہ ایسے لوگوں کے باب میں ایک طرح کا اختلاف مسلمانوں میں پڑ رہا تھا۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگرچہ اس طرح کے لوگ مشرکوں کی فوج میں شمار ہو کر مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 94–98

آیت 94 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کرلیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے ؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 97–99

اپنے اوپر ظلم کرنے والے قول باری ہے (ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوافیم کنتم، جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق مفہوم ہے ، ہم موت کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیں گے ، حسن کا قول ہے ہم انہیں جہنم کی طرف اٹھائیں گے ایک قول اس آیت کا نزول منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا جو ڈر کی بنا پر مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اور جب اپنی قوم میں پہنچ جاتا تو کفر کا اظہار کرتا، یہ گروہ مدینہ ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمادیا کہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

260 ضعیفوں اور کمزوروں کی رعایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی جو کوئی تدبیر نہیں کرسکتے۔ یعنی ایسے جو کمزور اور بےبس تھے کہ وہ کوئی تدبیر نہیں کرسکتے تھے کفار اور دارالکفر سے نکل بھاگنے کی، اپنی بیماری یا معذوری کی وجہ سے۔ یا اسباب و وسائل کے فقدان کے باعث۔ سو ایسے کمزوروں اور ضعیفوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اس لیے ان کا انجام وہ نہیں ہوگا جو دوسروں کا ہوگا۔ سو جن لوگوں کے پاس کوئی مجبوری بھی نہ ہو اور دار الاسلام کی طرف جانے کا راستہ بھی کھلا ہو، پھر بھی وہ دارالکفر سے ہجرت نہ کریں تو ان کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں جیسا کہ ابھی اوپر ایک ہی حاشیہ قبل تفسیر محاسن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 97–100

ہجرت کا بیان تشریح : ان آیات میں اللہ کے دین کے لیے ہجرت کرنے کو بےحد اچھا کام کہا گیا ہے۔ یہ اس وقت کا حکم ہے جب مدینہ دارالاسلام کے طور پر مسلمانوں کے لیے آزادی سے رہنے کا مقام بن چکا تھا۔ تو اس وقت پوری طرح اعلان کردیا گیا تھا کہ آس پاس اور جہاں کہیں بھی مسلمان کفار کی بستیوں میں رہ رہے ہیں تو وہ فوراً مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور سکون سے اسلامی فرائض ادا کریں۔ مگر کچھ لوگ ہجرت کرسکنے کے باوجود کفار کے ساتھ ہی آدھے مسلم آدھے کافر کی زندگی گزارتے رہے یہ اس لیے کہ ہجرت کرنے سے ان کے مال مویشی، زمین اور گھروں کا نقصان ہوجاتا تو ایسے دنیا پرست آدھے مسلمان اور آدھے کافر اللہ کو ہرگز ناپسند…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 97–100

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 97 تا 100 ۔ ان الذین۔۔۔ غفورا رحیما۔ اور جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے فتح مکہ تک تو مکہ مکرمہ سے دین کی خاطر نکل جانا ہجرت تھا۔ لوگ حبشہ بھی گئے اور مدینہ منورہ بھی اور مدینہ منورہ سے اسلامی ریاست کی بنیاد شروع ہوئی۔ اور یہ دار الہجرۃ قرار پایا پھر فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فرما دیا اب کوئی ہجرت نہیں مگر یہ ارشاد مکہ مکرمہ کے بارے تھا۔ ورنہ اسلام تو ہمیشہ کے لیے ہے اور ساری دنیا کے لیے ہے۔ جب بھی جہاں بھی کوئی دین پر عمل کرنے سے مانع ہو اس معاشرے کو یا اس شہر کو اس غرض سے چھوڑ دینا کہ کسی اسی جگہ چل کر رہا جائے جہاں دین پر عمل کیا جاسکے ہجرت ہوگی۔ اور بدکار معاشرہ کسی کو زبردستی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنی ٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں اور میر والدہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ ابن ہشام وغیر ہم بھی شامل ہیں جن کے حق میں آنحضرت ﷺ کفار کے پنجے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر) فائدہ حضرت ابن عباس ؓ کی والدہ ام الفضل بنت حارث ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے جو میمود ؓ بنت حارث ام المومنین کی بہن تھیں حارث نو بہنیں تھیں جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے الا خوات المو منات فرمایا تھا، ان میں اک اسما بنت عمیس خثمیہ تھیں جو ماں کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 98–99

(4:98) المستضعفین۔ جو در حقیقت مجبور و معذور تھے۔ مستضعفین۔ کمزور۔ ناتواں ضعیف لوگ۔ لا یستطیعون حیلۃ۔ کسی حیلہ و چارہ کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ولا یھتدون سبیلا۔ اور نہ (باہر نکلنے کی) کوئی راہ تلاش کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

آیت نمبر 97-100 لغات القرآن : فیم، تم کہاں تھے، (کس دین میں تھے) ۔ واسعۃ، وسیع۔ تھا جروا، تم ہجرت کروگے۔ حیلۃ، بہانہ۔ مراغم، کشادہ جگہ۔ وقع، طے پا گیا۔ تشریح : ان ملکوں میں جہاں نظام حکومت اور نظام معاشرت کا فرانہ ہے مسلمانوں کا رہنا غلط ہے۔ اگر رہیں گے تو خواہ انفرادی سطح پر وہ نیک اور شریف رہیں ، انہیں اجتماعی مشینری کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا دل چاہتا ہے اسلام کے راستے پر چلنے کو مگر وہ کفر کے راستہ پر چلنے پر مجبور ہیں۔ یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ مجبوری ہو تو دوسری بات ہے موت کے وقت فرشتے ان سے سوال و جواب کریں گے قرآن و سنت کے مطابق ایسی صورت میں ہجرت فرض ہے۔ جو مسلمان کفر کی اجتماعی مشین میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 97–100

شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی، اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے نکلے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ اور ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتلایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 97–100

[63] یعنی دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا۔ [64] یعنی احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ [65] جاننا چاہئے کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة عنکبوت حواشی 27-26۔ [66] جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–99

غیر مستطیع کون ہیں ؟ (ف 2) ہجرت سے وہ لوگ معذور سمجھے جاسکتے ہیں جو غیر مستطیع ہوں یعنی ہجرت کے لئے کوئی حیلہ وامکان ان کے بس میں نہ ہو اور کاملا انکی باغ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں ہو یا وہ جسمانی طور اس قابل نہ ہوں کہ ہجرت کرسکیں ، مگر جسمانی ضعف واضمحلال کا معیار کیا ہے ، اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے کیجئے : حضور ﷺ نے مکہ میں بچے کھچے لوگوں کو پیغام ہجرت بھیجا اور کہا تم مکہ چھوڑ دو ، یہ آیات ہجرت ان تک پہنچیں ، جندب بن حمزہ ؓ جو شیخ فانی تھے شوق ہجرت میں بےتاب ہوگئے ، کہنے لگو ، بچو ، مجھے چارپائی پر لاد کر مدینے لے چلو ، میں غیر مستطیع ہوں ۔ بوڑھے صحابی کا یہ ولولہ ایمان کیا ہمارے نوجوانوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 یقینا جب فرشتے ایسے لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جو باوجود استطاعت کے ہجرت نہ کر کے اپنے حق میں برا کر رہے ہیں تو اس وقت وہ فرشتے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ تم لوگ کس حالت میں تھے اور کیا کام کیا کرتے تھے وہ جواب دیتے ہیں ہم اس سر زمین میں محض عاجز و بےبس تھے وہ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع اور کشادہ نہ تھی کہ تم اس زمین میں ترک وطن کر کے چلے جائو اور یہاں سے نکل جائو لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت اور پھر جانی کی بری جگہ ہے ۔ مگر ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے واقعی ایسے بےبس ہوں کہ نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستے سے واقف ہوں۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 96–98

ف 1۔ یعنی بوجہ اعمال متعددہ کے جو مجاہد سے صادر ہوتے ہیں ثواب کے بہت سے درجے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں گے اور گناہوں کی مغفرت اور رحمت بھی۔ یہ سب اجرعظیم کی تفصیل ہوئی وہ اعمال متعددہ سورة برات کے آخر میں مذکور ہیں۔ 2۔ اوپر وجوب جہاد کا ذکر تھا آگے وجوب ہجرت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 97–98

زیاں کاروں کی موت کا منظر 168 ۔ دشمنان حق کے ظلم و ستم سے عاجز ہو کر پیغمبر اسلام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قدرتی طور پر ملک عرب دو حصوں میں تقسیم ہوگیا دار ال ہجرت اور دار الحرب۔ دار ال ہجرت مدینہ تھا جہاں مسلمان ہجرت کرکے جمع ہوگئے تھے دار الحرب ملک کا وہ حصہ تھا جو دشمنوں کے قبضہ میں تھا اور اس کا صدر مقام مکہ تھا۔ دار الحرب میں جو مسلمان باقی رہ گئے تھے وہ اعتقاد و عمل کی آزادی سے محروم تھے انہیں ہمیشہ دشمنوں کا ظلم و ستم سہنا پڑتا تھا اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ مکہ سے ہجرت کرجائیں اگر باوجود استطاعت کے ہجرت نہیں کرے گے تو اپنی کوتاہی عمل کے جواب دہ ہوں گے۔ اس جگہ اسی معاملہ کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–99

The third verse (96) too recounts the same degrees of precedence that the Mujahidin have over others. Ruling Jihad is not obligatory on the lame, the crippled, the blind, the sick and on others who are excusable under the Islamic law.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 97–99

129. The reference here is to those who stay behind along with the unbelievers, despite no genuine disability. They are satisfied with a life made up of a blend of Islamic and un-Islamic elements, even though they have had the chance to migrate to the Dar al-Islam and thus enjoy a full Islamic life. This is the wrong that they committed against themselves. What kept them satisfied with the mixture of Islamic and un-Islamic elements in their life was not any genuine disability but their love of ease and comfort, their excessive attachment to their kith and kin and to their properties and…

Read the full tafseer →