Explained with ayahs 97–100
بےمعنی عذر مسترد ہوں گے ہجرت اور نیت
محمد بن عبدالرحمن ابو الا سود فرماتے ہیں اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے لئے جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں حضرت ابن عباس کے مولیٰ حضرت عکرمہ سے ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے اس میں شمولیت کرنے سے بہت سختی سے روکا۔ اور کہا سنو حضرت ابن عباس سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو حضور ﷺ کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کردیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کردیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
سورة النِّسَآء 129
مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ابھی تک بلا کسی مجبوری و معذوری کے اپنی کافر قوم ہی کے درمیان مقیم تھے اور نیم مسلمانہ اور نیم کافرانہ زندگی بسر کرنے پر راضی تھے، درآنحالیکہ ایک دارالاسلام مہیا ہوچکا تھا جس کی طرف ہجرت کر کے اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرنا ان کے لیے ممکن ہوگیا تھا۔ یہی ان کا اپنے نفس پر ظلم تھا کیونکہ ان کو پوری اسلامی زندگی کے مقابلہ میں اس نیم کفر و نیم اسلام پر جس چیز نے قانع و مطمئن کر رکھا تھا وہ کوئی واقعی مجبوری نہ تھی، بلکہ محض اپنے نفس کے عیش اور اپنے خاندان، اپنی جائیداد و املاک اور اپنے دنیوی مفاد کی محبت تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
خلاصہ تفسیر
بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے (باوجود قدرت ہجرت کے پھر ہجرت کے تارک ہو کر) اپنے کو گناہ گار کر رکھا تھا تو (اس وقت) وہ (فرشتے) ان سے کہتے ہیں کہ تم (دین کے) کس (کس) کام میں تھے (یعنی دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے) وہ (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (اپنی بود و باش کی) سر زمین میں محض مغلوب تھے (اسلئے بہت سی ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے، یعنی ان فرائض کے ترک میں معذور تھے) وہ (فرشتے) کہتے ہیں (اگر اس جگہ نہ کرسکتے تھے تو) کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کر کے اس (سے کسی دوسرے حصہ) میں چلا جانا چاہئے تھا (اور وہاں جا کر فرائض کو ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
97 تا 100:۔
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔
تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ میں لفظ مَلٰىِٕكَةُ اسی طرح جمع آیا ہے جس طرح آل عمران کی آیات 39، 42 اور 45 میں آیا ہے۔ وہاں فنادتہ الملئکۃ کے تحت ہم اس کے جمع لانے کی وجہ بیان کرچکے ہیں۔ بعض مرتبہ جمع سے مقصود صرف جنس کا اظہار ہوتا ہے۔ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حال ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم سے مقصود یہاں ہجرت کی…
Read the full tafseer →97۔ 1 یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ اور اس کے قرب و جوار میں مسلمان تو ہوچکے تھے لیکن انہوں نے اپنے آبائی علاقے اور خاندان چھوڑ کر ہجرت کرنے سے گریز کیا۔ جب کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک جگہ مجتمع کرنے کے لئے ہجرت کا نہایت تاکیدی حکم مسلمانوں کو دیا جا چکا تھا اس لئے جن لوگوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ ان کو یہاں ظالم قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم بتلایا گیا جس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حالات و ظروف کے اعتبار سے اسلام کے بعض احکام کفر یا اسلام کے مترادف بن جاتے ہیں جیسے اس موقع پر ہجرت اسلام اور اس سے گریز کفر کے مترادف قرار پایا۔ دوسرے یہ معلوم ہوا کہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
62: اپنی جان پر ظلم کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کرکے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، آیت نمبر : 97 میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، جب مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے ؛ بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا، اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔
یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
3 بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کرسکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کرسکتے ہیں۔ سو ان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں۔ اس رکوع میں اسی کا ذکر ہے آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی کافروں کے ساتھ مل رہے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے تو فرشتے ان سے مرنے کے وقت پوچھتے ہیں کہ تم کس دین پر تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان تھے مگر بوجہ ضعف و کمزوری کے دین کی باتیں نہ کرسکتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین تو بہت وسیع تھی تم یہ تو کرسکتے تھے کہ وہاں سے ہجرت کر جاتے۔ سو…
Read the full tafseer →آیت 97 اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰٹہُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ
یعنی انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی ‘ اس سلسلے میں رسول ﷺ کے حکم کی اطاعت نہیں کی تھی۔ آخر موت تو آنی ہے ‘ لہٰذا فرشتے جب ان کی روحیں قبض کریں گے تو ان کے ساتھ اس طرح مکالمہ کریں گے :
قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ط
تم نے ایمان کا دعویٰ تو کیا تھا ‘ لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کا حکم دیا تو ہجرت کیوں نہیں کی ؟ تمہیں کیا ہوگیا تھا ؟
Read the full tafseer →134 جنت میں داخلہ کے لئے جہاد شرط نہیں : یہ آیت ایسے مسلمانوں سے متعلق ہے جنہوں نے ہجرت پر قادر ہونے کے باوجود ہجرت نہیں کی اور اپنا گھر بار چھوڑ کر دارالہجرت (مدینہ) جانے میں پس و پیش کرتے رہے۔ اور یہی ان کا اپنی جانوں پر ظلم تھا۔ اور مسلمانوں پر ظلم یہ تھا کہ جنگ کے موقعہ پر انہیں مشرکوں کا ساتھ دینا پڑتا تھا اور مشرک یہ چال چلتے تھے کہ ایسے مسلمانوں کو اپنی صفوں کے آگے کردیتے تھے کہ وہ ان کے لیے ڈھال اور دفاع کا کام دیں۔ اب یہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے بڑی الجھن بن جاتی تھی کہ اگر لڑائی لڑیں، تیر برسائیں، تلوار چلائیں تو ان کے مسلمان بھائی ہی مرتے تھے اور اگر ہاتھ روکے رکھیں تو خود انہیں…
Read the full tafseer →278 ۔ یعنی دارالکفر دارالحرب میں رہ کر دین کے کن کن کاموں میں لگے ہوئے تھے کہ ہجرت کو نہ نکلے ؟ یہ تعریض ہے ان کے ہجرت نہ کرنے پر اور دارالحرب میں رہنے پر قانع وراضی ہوجانے پر۔ التوبیخ بانھم لم یکونوا فی شیء من الدین حیث قدروا علی المھاجرۃ ولم یھاجروا (کبیر) یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اقرار کرچکے تھے لیکن جب ہجرت فرض ہوئی تو یہ مسلمان کے ساتھ نہ آئے، مکہ ہی میں رہ گئے۔ یہاں تک کہ پھر مشرکین کا ساتھ دینے لگے۔ المراد بالجماعۃ من اھل مکۃ کانوا قد اسلموا واظھروا للنبی ﷺ الایمان بہ فلما ھاجر النبی ﷺ اقاموا مع قومھم وفتن منھم جماعۃ فافتتنوا (قرطبی) نزلت فی اقوام من اھل مکۃ کانوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 97 تا 100
ترجمہ : (آئندہ آیت) ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اسلام قبول کیا مگر ہجرت نہیں کی، اور کفار کے ساتھ بدر میں قتل کردیئے گئے، بیشک ان لوگوں کی روح جنہوں نے کفار کے ساتھ قیام کرکے اور ترک ہجرت کرکے اپنے اوپر ظلم کیا فرشتہ جب (روح) قبض کرتا ہے تو ان سے تو بیخاً پوچھتا ہے تم اپنے دین کے معاملہ میں کس حال میں تھے ؟ تو وہ عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم دین کے قائم کرنے کے معاملہ میں مکہ کی سر زمین میں ہم کمزور تھے تو (فرشتے) ان سے تو بیخاً کہیں گے کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی ؟ کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے یعنی کافروں کی سر زمین سے دوسرے شہر کی طرف ہجرت کر جاتے جیسا کہ…
Read the full tafseer →ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کو گنہگار کر رکھا تھا۔ توفٰی : رُوح قبض کرنا۔ توفیماضی کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مضارع کا بھی۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ ملائکہ سے مراد ہے تنہا موت کا فرشتہ۔ اللہ نے فرمایا ہے : قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وَکِّلَ بِکُمْعرب کبھی واحد کو صیغۂ جمع سے خطاب کرلیتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ موت کا فرشتہ اور اس کے مددگار کارندے مراد ہیں۔
امام احمد اور نسائی نے حضرت ابوہریر ؓ کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس کے اندر یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مؤمن کے مرنے کے وقت ملائکہ رحمت…
Read the full tafseer →(97) پچاس آدمی مکہ مکرمہ میں اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے، وہ غزوہ بدر میں کفار کے ساتھ ان کے حلیف بن کر آئے اور سب کے سب مارے گئے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی بدر کے دن جب فرشتے جان قبض کرتے ہیں، تو فرشتے اس قبض کے وقت ان سے کہتے ہیں کہ تم مکہ مکرمہ کیا کرتے تھے وہ جوابا کہتے ہیں کہ ہم مکہ مکرمہ میں کفار کے ہاتھوں ذلیل اور پریشان تھے فرشتے ان سے کہتے ہیں تو کیا مدینہ منورہ کی سرزمین امن والی نہیں تھی کہ تم اس سرزمین میں ہجرت کرکے چلے جاتے، ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ان الذین توفہم“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ اور اس کے قرب و جوار میں مسلمان تو ہوچکے تھے لیکن انھوں نے اپنے آبائی علاقے اور خاندان کو چھوڑ کر ہجرت کرنے سے گریز کیا، (حالانکہ انھیں ہجرت میں کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی) جب کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک جگہ مجتمع کرنے کے لیے ہجرت کا نہایت تاکیدی حکم دیا جا چکا تھا، اس لیے جن لوگوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا ان کو یہاں ظالم قرار دیا گیا ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم بتلایا گیا ہے، جس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حالات اور موقع کے لحاظ سے اسلام کے بعض احکام کفر یا اسلام کے مترادف بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
آیت نمبر : 97 تا 99۔
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل مکہ سے تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور نبی مکرم ﷺ پر ایمان لانا ظاہر کیا تھا، جب نبی مکرم ﷺ نے ہجرت کی تو وہ اپنی قوم کے ساتھ ٹھہرے رہے اور ان میں سے ایک جماعت فتنہ میں مبتلا کی گئی تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے جب جنگ بدر کا موقع آیا تو ان میں کچھ لوگ کفار کے ساتھ نکلے تو یہ آیت نازل ہوئی، بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے جب مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے، مسلمانوں کی تعداد کو حقیر سمجھا تو ان کے دین میں شک داخل ہوا پس وہ مرتد ہوگئے اور ردت پر ہی قتل کیے گئے مسلمانوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
(1) بخاری و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکین کے ساتھ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف مشرکوں کی جماعت میں اضافہ کرتے کوئی تیر پھینکا ہوا ان میں سے کسی کو لگ جاتا تو وہ قتل ہوجاتا یا اس پر تلوار کا وار کیا جاتا تو وہ مارا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت ” ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم “ نازل فرمائی۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم مکہ والوں میں سے مسلمان ہوگئی تھی اور وہ اسلام کو چھپاتے تھے تو ان کو…
Read the full tafseer →[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ ] [ تَوَفّٰٹہُمُ : پورا پورا لیتے ہیں جن کو (یعنی روح قبض کرتے ہیں ) ] [ الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتے ] [ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : خود پر ظلم کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ قَالُوْا : وہ کہتے ہیں ] [ فِیْمَ : کس چیز میں ] [ کُنْتُمْ : تم تھے ] [ قَالُوْا : وہ کہتے ہیں ] [ کُنَّا : ہم ] [ مُسْتَضْعَفِیْنَ : کمزور تھے ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ قَالُوْآ : وہ (فرشتے) کہتے ہیں ] [ اَ : کیا ] [ لَمْ تَـکُنْ : نہیں تھی ] [ اَرْضُ اللّٰہِ : اللہ کی زمین ] [ وَاسِعَۃً : کشادہ ] [ فَتُہَاجِرُوْا : تو تم ہجرت کرتے ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ فَاُولٰٓئِکَ : پس وہ لوگ ہیں ] […
Read the full tafseer →کافروں کے درمیان رہنے والوں کو تنبیہ
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا (انہوں نے ہجرت نہ کی تھی) وہ مشرکین ہی کے ساتھ رہتے تھے مشرکین کی جماعت کی تکثیر کرتے تھے۔ (مشرکین کہیں جنگ کرنے جاتے تو یہ بھی ساتھ چلے جاتے تھے جس سے مشرکین کی جماعت میں اضافہ ہوجاتا تھا) نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ان کو بعض مرتبہ تیر لگ جاتا تھا جس سے قتل ہوجاتے تھے یا تلوار وغیرہ سے مقتول ہوجاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔
لباب النقول صفحہ 79 میں نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ مکہ میں مسلمان ہوگئے تھے جب آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی تو ان لوگوں کو ہجرت کرنا گوارا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
حکم بست وششم وجوب ہجرت۔
قال تعالیٰ ان الذین تو فھم الملائکۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ غفورا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب اور بےعذر جہاد ترک کرنے والوں کا بیان تھا اب اس آیت میں ہجرت کی ترغیب دیتے ہیں اس لیے یہ ہجرت جہاد کا مقدمہ ہے اور بےعذر ہجرت ترک کرنے والوں کا حال بیان فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر کیا گزری ہے اس لیے کہ ایمان کے بعد پہلے ہجرت کا حکم ہوا اور پھر ہجرت کے بعد جہاد کا حکم ہوا پس گویا کہ جو لوگ باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے گویا کہ وہ لوگ عمدا تارک جہاد ہیں اس لیے ان آیات میں ہجرت کا بیان ہے کہ ہجرت سعادت دارین کا سبب ہے اور ترک ہجرت محرومی کا سبب ہے اس لیے کافروں میں رہ کر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
73 ساتواں حکم سلطانی۔ (اے مکہ میں محصور مسلمانو ! تمہاری مدد کے لیے مجاہدین کو بھیج تو رہا ہوں لیکن تم خود بھی مکہ سے ہجرت کرکے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ) پہلے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو جہاد میں شریک ہونے سے جی چراتے تھے اب یہاں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہیں کرتے تھے۔ بیان لحال القاعدین عن الھجرۃ اثر بیان القاعدین عن الجھاد (روح ج 5 ص 125) اور ان لوگوں کو ظالم اس لیے فرمایا کہ انہوں نے ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے یہ ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ میں محصور تھے فرمایا تمہاری مدد اور نصرت کے لیے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ہجرت کی فرضیت
گزشتہ درس میں مجاہدین اور قاعدین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور مجاہدین کی فضیلت اور اجر عظیم کا ذکر تھا۔ اب جہاد کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ضرورت اور اس کی فرضیت کا تذکرہ ہے۔ اور بوقت ضرورت ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے جس طرح بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ سیفرض عین بن جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات ہجرت بھی فرض عین کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے جب کسی مقام میں کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہوجائے کہ مومن اپنے دین کے شعار پر عمل نہ کرسکے ، تو مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر بار ، کاروبار ، وطن ، عزیز و اقارب وغیرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے جہاں وہ دین کے احکام…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ 0ۭ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ 0ۭ قَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا 0ۭ فَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ 0ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا 97ۙ
وفی ( موت)
وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] ، وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] ، وقدقیل : تَوَفِّيَ رفعةٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ترکیب : ظالمی مضاف انفسہم مضاف الیہ یہ حال ہے ضمیرھم سے جو تو فیہم میں ہے۔ فتہاجروا منصوب ہے جواب بن کر استفہام کا کیونکہ نفی بسبب استفہام کے اثبات ہوگی۔ الا المستضعفین استناء ہے اولئک ماوھم جہنم سے ‘ من الرجال والنساء والولدان مستضعفین کا بیان ہے۔ لا یستطیعون اس سے حال مبینہ ہے خبران قالوا وقیل فاولئک وقیل محذوف وھو ھلکوا۔
تفسیر : مدینہ میں چونکہ لوگ ہجرت کرکے مجتمع ہوگئے تھے جو جہاد قائم ہونے کا باعث ہوا اور جہاد کی رغبت پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تھی اور بعض لوگ جو کہ مکہ میں یا اور شہروں میں ایمان تو لے آئے تھے مگر بسبب حبِّ وطن کے ہجرت کرکے اس جماعت میں شریک ہونے سے پہلو تہی کرتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ط قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ط قَالُوْٓا اَلمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیہَا ط فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا لا اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَایَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا لا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَعَنْہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا
” بیشک جن لوگوں کی فرشتے جان قبض کریں گے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ‘ وہ ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
فہم القرآن
ربط کلام : دارالکفر میں رہنے کی بجائے صاحب ہمت لوگوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہیے
یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس آویزش میں ہمیں بیشمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام ‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین…
Read the full tafseer →آیت 97 :
یہ آیت ان لوگوں کے متعلق اتری جو اسلام لائے مگر ہجرت نہ کی۔ جبکہ ہجرت فرض تھی۔ اور مشرکین کے ساتھ بدر میں آئے مرتد ہو کر اور قتل کیے گئے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ۔ تَوَفّٰی۔ ماضی کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مضارع بھی تتوفاہم ایک تا کو حذف کردیا گیا۔ التوفی۔ قبض روح کو کہتے ہیں۔ ملائکہ سے مراد ملک الموت اور اسکے معاون۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰپکَۃُ (بیشک وہ لوگ جن کی ملائکہ روح قبض کرتے ہیں) ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ (اس حال میں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں) یہ تو فاہم کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ یعنی اس حالت میں کہ وہ اپنے نفسوں پر کفر والا،…
Read the full tafseer →(ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی کا شان نزول)
97۔ (آیت)” ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم “۔ یہ اہل مکہ کے کچھ لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کیا لیکن ہجرت نہیں کی ، ان میں قیس بن ولید بن مغیرہ اور ان کے مشابہ ہم عصر ہیں ، جب مشرکین بدر کی طرف نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ نکلے تو کافروں کے ساتھ مارے گئے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ان الذین توفھم الملائکۃ “۔ ملائکہ سے مراد ملک الموت اور ان کے ساتھی ہیں یا اکیلے ہی ملک الموت ہیں ، جیسا کہ ارشاد باری ہے (آیت)” قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم “۔ عرب کے ہاں یہ مشہور ہے کہ واحد کو جمع کے ساتھ پکارتے ہیں ۔ (آیت)” ظالمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
(97 ۔ 99) ۔ بخاری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور ابن جریر نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ ظاہر میں تو جس وقت آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اس وقت اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر مشرکوں کا ساتھ انہوں نے نہیں چھوڑا تھا۔ مشرکوں کے ڈر سے مکہ سے مدینہ منورہ کو انہوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ اور بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے وہ لڑنے کو آئے اور مارے گئے ان کی شان میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4 کہ ایسے لوگوں کے باب میں ایک طرح کا اختلاف مسلمانوں میں پڑ رہا تھا۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگرچہ اس طرح کے لوگ مشرکوں کی فوج میں شمار ہو کر مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
آیت 94
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کرلیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے ؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
اپنے اوپر ظلم کرنے والے
قول باری ہے (ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوافیم کنتم، جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے) تاآخر آیت۔
ایک قول کے مطابق مفہوم ہے ، ہم موت کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیں گے ، حسن کا قول ہے ہم انہیں جہنم کی طرف اٹھائیں گے ایک قول اس آیت کا نزول منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا جو ڈر کی بنا پر مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اور جب اپنی قوم میں پہنچ جاتا تو کفر کا اظہار کرتا، یہ گروہ مدینہ ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمادیا کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
252 مجاہدین کی فضیلت وشان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ ایک عظیم الشان درجے کے اعتبار سے جو اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کی حقیقت اور کنہہ کو پوری طرح جاننا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ بلکہ اللہ وحدہ لا شریک ہی اس کی کنہہ اور حقیقت کو جان سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ پس یہ تنوین تعظیم کیلئے ہے اور اسی عظیم الشان درجہ میں وہ عزت و اکرام، سچی ناموری، فتح و ظفر، اور مال غنیمت وغیرہ بھی شامل ہے جو مجاہدین کو اس دنیا میں نصیب ہوتا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ہجرت کا بیان
تشریح : ان آیات میں اللہ کے دین کے لیے ہجرت کرنے کو بےحد اچھا کام کہا گیا ہے۔ یہ اس وقت کا حکم ہے جب مدینہ دارالاسلام کے طور پر مسلمانوں کے لیے آزادی سے رہنے کا مقام بن چکا تھا۔ تو اس وقت پوری طرح اعلان کردیا گیا تھا کہ آس پاس اور جہاں کہیں بھی مسلمان کفار کی بستیوں میں رہ رہے ہیں تو وہ فوراً مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور سکون سے اسلامی فرائض ادا کریں۔ مگر کچھ لوگ ہجرت کرسکنے کے باوجود کفار کے ساتھ ہی آدھے مسلم آدھے کافر کی زندگی گزارتے رہے یہ اس لیے کہ ہجرت کرنے سے ان کے مال مویشی، زمین اور گھروں کا نقصان ہوجاتا تو ایسے دنیا پرست آدھے مسلمان اور آدھے کافر اللہ کو ہرگز ناپسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 97 تا 100 ۔
ان الذین۔۔۔ غفورا رحیما۔
اور جو لوگ ہجرت نہیں کرپاتے فتح مکہ تک تو مکہ مکرمہ سے دین کی خاطر نکل جانا ہجرت تھا۔ لوگ حبشہ بھی گئے اور مدینہ منورہ بھی اور مدینہ منورہ سے اسلامی ریاست کی بنیاد شروع ہوئی۔ اور یہ دار الہجرۃ قرار پایا پھر فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے فرما دیا اب کوئی ہجرت نہیں مگر یہ ارشاد مکہ مکرمہ کے بارے تھا۔ ورنہ اسلام تو ہمیشہ کے لیے ہے اور ساری دنیا کے لیے ہے۔ جب بھی جہاں بھی کوئی دین پر عمل کرنے سے مانع ہو اس معاشرے کو یا اس شہر کو اس غرض سے چھوڑ دینا کہ کسی اسی جگہ چل کر رہا جائے جہاں دین پر عمل کیا جاسکے ہجرت ہوگی۔ اور بدکار معاشرہ کسی کو زبردستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 4 ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ معظمہ اور دوسرے مقامات پر اسلام لا چکے تھے لیکن مجبوری کے بغیر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کر رہے تھے اور دارالا سلام کی زندگی چھوڑ کر دارالکفر میں رہنے پر قانع تھے۔ روایات میں ہے کہ اہل مکہ کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی اور ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے اظہار ایمان بھی کیا مگر جب آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی تو انہوں نے مکہ میں اپنی قوم کے پاس رہنا پسند کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی)5 یعنی فرشتے تقریع اور توبیخ کے انداز میں ان سے پو چھتے ہیں کہ تم مسلمان تھے یا کافر دارالکفر میں پڑے کیا کرتے رہے اور مدینہ کی طرف ہجرت کیوں نہیں کی ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ…
Read the full tafseer →(4:97) ان الذین توفھم الملئکۃ۔ بیشک وہ لوگ جن کی روحوں کو فرشتوں نے قبض کیا۔
یہ آیت ان مسلمان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو بلا کسی معذوری یا مجبوری کے اپنے عزیزو اقارب اور مال و جائداد کی وجہ سے مکہ میں ہی رہ گئے جب کہ ہجرت اس وقت فرض تھی۔ فرشتوں اور ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوا۔ جب فرشتے ان کی روحیں قبض کر رہے تھے
توفھم۔ ان (فرشتوں کی جماعت) نے ان (کی روحوں) کو قبض کیا۔ اس نے ان کو اٹھایا وہ ان کو قبض کرتی ہے۔ توفی فعل ماضی بھی ہوسکتا ہے اور فعل مضارع بھی۔ توفی سے قبض کرنا۔ مضارع کی صورت میں اصل میں تتوفی تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ باب تفعیل ۔ لفیف مفروق ۔ ھم ضمیر مفعول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
آیت نمبر 97-100
لغات القرآن : فیم، تم کہاں تھے، (کس دین میں تھے) ۔ واسعۃ، وسیع۔ تھا جروا، تم ہجرت کروگے۔ حیلۃ، بہانہ۔ مراغم، کشادہ جگہ۔ وقع، طے پا گیا۔
تشریح : ان ملکوں میں جہاں نظام حکومت اور نظام معاشرت کا فرانہ ہے مسلمانوں کا رہنا غلط ہے۔ اگر رہیں گے تو خواہ انفرادی سطح پر وہ نیک اور شریف رہیں ، انہیں اجتماعی مشینری کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کا دل چاہتا ہے اسلام کے راستے پر چلنے کو مگر وہ کفر کے راستہ پر چلنے پر مجبور ہیں۔ یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ مجبوری ہو تو دوسری بات ہے موت کے وقت فرشتے ان سے سوال و جواب کریں گے
قرآن و سنت کے مطابق ایسی صورت میں ہجرت فرض ہے۔ جو مسلمان کفر کی اجتماعی مشین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی، اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے نکلے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ اور ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتلایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
[63] یعنی دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا۔
[64] یعنی احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔
[65] جاننا چاہئے کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہو، چھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة عنکبوت
حواشی 27-26۔
[66] جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے…
Read the full tafseer →غلامی عذاب ہے :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ غلامی وبے بسی اللہ کا عذاب ہے اور وہ لوگ سخت ظالم ہیں جو حریت وآزادی جیسی نعمت سے محروم ہیں ، یہ وہ بخشش ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عطا کر رکھی ہے ، فرشتے موت کا پیغام لاتے وقت ایسے لوگوں سے پوچھیں گے بتاؤ تم نے اس ضعف وبے بسی کے خلاف جہاد کیوں نہ کیا ؟ اور تم کیوں آزاد مطلق العنان ہو کر نہ رہے ؟ وہ کہیں گے ، ہمارے پاس جرات وجسارت نہ تھی ہم ایسے ملک میں رہتے تھے جہاں رہ کر مقابلہ ناممکن تھا ، فرشتوں کا یہ جواب ہوگا کیا خدا کی ساری زمین تمہارے ارادوں کی تکمیل کے لئے ناکافی تھی ؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ تم اس ملک وقوم کو چھوڑ دیتے جو تمہیں غلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 2 مسلمانوں میں سے اصحاب عذر کے علاوہ وہ لوگ جو گھروں میں بیٹھے رہیں وہ ان مجاہدین کے برابر نہیں ہوسکتے جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں یعنی جو لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے گھروں میں بیٹھے رہیں وہ ثواب میں اور فضیلت میں ان لوگوں کے برابر نہیں جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں لڑا کر جہاد کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کا جو اپنے مال اور اپنی جانیں اللہ کی راہ میں لڑاتے ہیں ان بیٹھ رہنے والوں سے درجہ زیادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین باموالہم و انفسہم کو قاعدین پر درجہ کے اعتبار سے فضیلت و بزرگی عطا فرمائی ہے۔ ہاں ! جنت کا وعدہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 1۔ یعنی بوجہ اعمال متعددہ کے جو مجاہد سے صادر ہوتے ہیں ثواب کے بہت سے درجے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں گے اور گناہوں کی مغفرت اور رحمت بھی۔ یہ سب اجرعظیم کی تفصیل ہوئی وہ اعمال متعددہ سورة برات کے آخر میں مذکور ہیں۔
2۔ اوپر وجوب جہاد کا ذکر تھا آگے وجوب ہجرت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
زیاں کاروں کی موت کا منظر
168 ۔ دشمنان حق کے ظلم و ستم سے عاجز ہو کر پیغمبر اسلام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قدرتی طور پر ملک عرب دو حصوں میں تقسیم ہوگیا دار ال ہجرت اور دار الحرب۔ دار ال ہجرت مدینہ تھا جہاں مسلمان ہجرت کرکے جمع ہوگئے تھے دار الحرب ملک کا وہ حصہ تھا جو دشمنوں کے قبضہ میں تھا اور اس کا صدر مقام مکہ تھا۔ دار الحرب میں جو مسلمان باقی رہ گئے تھے وہ اعتقاد و عمل کی آزادی سے محروم تھے انہیں ہمیشہ دشمنوں کا ظلم و ستم سہنا پڑتا تھا اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ مکہ سے ہجرت کرجائیں اگر باوجود استطاعت کے ہجرت نہیں کرے گے تو اپنی کوتاہی عمل کے جواب دہ ہوں گے۔ اس جگہ اسی معاملہ کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
The third verse (96) too recounts the same degrees of precedence that the Mujahidin have over others.
Ruling
Jihad is not obligatory on the lame, the crippled, the blind, the sick and on others who are excusable under the Islamic law.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
129. The reference here is to those who stay behind along with the unbelievers, despite no genuine disability. They are satisfied with a life made up of a blend of Islamic and un-Islamic elements, even though they have had the chance to migrate to the Dar al-Islam and thus enjoy a full Islamic life. This is the wrong that they committed against themselves. What kept them satisfied with the mixture of Islamic and un-Islamic elements in their life was not any genuine disability but their love of ease and comfort, their excessive attachment to their kith and kin and to their properties and…
Read the full tafseer →