An-Nisaa 4:93

An-Nisaa · from ayah 93

4:93

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۟وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ خَالِدًا فِيۡهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيۡمًا

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But whoever kills a believer intentionally - his recompense is Hell, wherein he will abide eternally, and Allah has become angry with him and has cursed him and has prepared for him a great punishment.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 13 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:93

رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مومن کو جان بوجھ کر تو اس کی اصل سزا جہنم ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہوگا اس پر اللہ کا غضب ہوا اور اس کی لعنت (وپھٹکار) بھی، اور اللہ نے اس کے لئے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی ہولناک عذاب

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی کسی مومن کو قصدا قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار رکھے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر تو اس کا بدلہ جہنّم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اللہ نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اللہ کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And he who slays a believer wilfully his reward is Hell, where he will abide. Allah's wrath is against him and He has cast His curse upon him, and has prepared for him a great chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever kills a believer deliberately, his reward is Jahannam (Hell) where he shall remain forever, and Allah shall be angry with him and shall cast curse upon him, and He has prepared for him a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever kills a believer deliberately, his reward is Jahannam (Hell) where he shall remain forever, and Allah shall be angry with him and shall cast curse upon him, and He has prepared for him a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell to abide therein; and the wrath and the curse of Allah are upon him, and a great punishment is prepared for him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso slayeth a believer of set purpose, his reward is hell for ever. Allah is wroth against him and He hath cursed him and prepared for him an awful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But whoever kills a believer intentionally - his recompense is Hell, wherein he will abide eternally, and Allah has become angry with him and has cursed him and has prepared for him a great punishment.

— Saheeh International

The punishment for one who purposely slays a believer will be to live in hell fire forever. God is angry with him and has condemned him. He has prepared for him a great torment.

— Muhammad Sarwar

And whoever kills a believer intentionally, his punishment is hell; he shall abide in it, and Allah will send His wrath on him and curse him and prepare for him a painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever slayeth a believer intentionally, His meed is Hell, as an abider therein; and Allah shall be wroth with him and shall curse him, and shall get ready for him a torment terrible.

— Abdul Majid Daryabadi

If a man kills a believer intentionally, his recompense is Hell, to abide therein (For ever): And the wrath and the curse of Allah are upon him, and a dreadful penalty is prepared for him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 92–93

قتل مسلم، قصاص و دیت کے مسائل اور قتل خطا ارشاد ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ کسی حال میں اپنے مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے صحیح میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے کسی کو قتل کردیا ہو، دوسرے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے دین اسلام کو چھوڑ دینے والا جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہوجائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضا کا حق ہے، اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–93

سورة النِّسَآء 120 یہاں ان منافق مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے جن کے قتل کی اوپر اجازت دی گئی ہے، بلکہ ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو یا تو دارالاسلام کے باشندے ہوں، یا اگر دارالحرب یا دارالکفر میں بھی ہوں تو دشمنان اسلام کی کارروائیوں میں ان کی شرکت کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس وقت بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی حقیقی مجبوریوں کی بنا پر دشمن اسلام قبیلوں کے درمیان ٹھیرے ہوئے تھے۔ اور اکثر ایسے اتفاقات پیش آجاتے تھے کہ مسلمان کسی دشمن قبیلہ پر حملہ کرتے اور وہاں نادانستگی میں کوئی مسلمان ان کے ہاتھ سے مارا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس صورت کا حکم بیان فرمایا ہے جبکہ غلطی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–93

خلاصہ تفسیر اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو (ابتداء) قتل کرے لیکن غلطی سے (ہو جائے تو اور بات ہے) اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس پر (شرعاً) ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا (واجب) ہے اور خوں بہا (بھی واجب) ہے جو اس (مقتول) کے خاندان والوں کو (یعنی ان میں جو وارث ہیں بقدر حصص میراث) حوالہ کردی جائے (اور جس کے کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال قائم مقام ورثہ کے ہے) مگر یہ کہ وہ لوگ (اس خوں بہا کو) معاف کردیں (خواہ کل یا بعض اتنی ہی معاف ہوجاوے گی) اور اگر وہ (مقتول خطاً) ایسی قوم سے ہو جو تمہارے مخالف ہیں (یعنی حرب یہیں اور انہی میں کسی وجہ سے رہتا تھا) اور وہ شخص خود…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

92۔ 93۔ دار الحرب کے مخلص مسلمانوں کی جان کا تحفظ : اوپر جو احکام بیان ہوئے ہیں اگرچہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان التباس رفع کردینے کے لیے کافی تھے لیکن کفار کے علاقوں میں بہت سے مخلص مسلمان بھی تھے جو خود تو ہجرت کے دل سے آرزو مند تھے لیکن مجبوریوں نے ان کی راہ روک رکھی تھی۔ جنگ پیش آجانے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ مبادا ان کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کوئی گزند پہنچ جائے۔ اس وجہ سے قرآن نے قتل مومن کے جرم کی سنگینی بھی واضح فرما دی اور اس سلسلے میں ایسے واضح احکام بھی دے دیے جن کے بعد کسی خدا ترس مسلمان کے لیے اس معاملے میں کسی بےاحتیاطی و سہل انگاری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پہلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

93۔ 1 یہ قتل عمد کی سزا ہے۔ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ (1) قتل خطا (جس کا ذکر ماقبل کی آیت میں ہے) (2) قتل شبہ عمد جو حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل عمد جس کا مطلب ہے ارادہ اور نیت سے کسی کو قتل کرنا اور اس کے لیے وہ آلہ استعمال کرنا جس سے فی الواقع عادتاً قتل کیا جا رہا ہے جیسے تلوار، خنجر وغیرہ۔ آیت میں مومن کے قتل پر نہایت سخت وعید بیان کی گئی ہے مثلا اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا۔ اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئیں۔ جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے ہاں کتنا بڑا جرم ہے احادیث میں بھی اس کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 92–93

56: غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یا تو بےخیالی میں گولی چل گئی یا مارنا تو کسی جانور کو تھا مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مرگیا، اس کو اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں، اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک توقاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور ایک دیت، کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں، اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔ 57: اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو، اگر اسے غلطی سے قتل کردیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔ 58:…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 92–93

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔ ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر ایک مسلمان دوسرے کو غلطی سے نہیں بلکہ قصداً اور مسلمان معلوم کرنے کے بعد قتل کرے گا تو اس کے لئے آخرت میں جہنم اور لعنت اور عذاب عظیم ہے کفار سے اس کی رہائی نہیں ہوگی۔ باقی رہی دنیاوی سزا وہ سورة بقرہ میں گزر چکی۔ فائدہ : جمہور علماء کے نزدیک خلود اس کے لئے ہے جو مسلمان کے قتل کو حلال سمجھے کیونکہ اس کے کفر میں شک نہیں یا خلود سے مراد یہ ہے کہ مدت دراز تک جہنم میں رہے گا یا وہ شخص مستحق تو اسی سزا کا ہے آگے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب آگے قتل عمد کے قانون کے متعلق تفصیلات کا ذکر ہے۔ آیت 93 وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا۔ جیساکہ آغاز سورة میں ذکر ہوا تھا کہ حرمت جان اور حرمت مال کے تصور پر معاشرے کی بنیاد قائم ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کا قتل کردینا اللہ کے ہاں ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة المائدہ آیت 32 میں قتل ناحق کو پوری نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قاتل نے حرمت جان کو پامال کر کے شجر تمدّن کی گویا جڑ کاٹ دی ‘ اور اس کا یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

128 قتل خطا کے کفارے کی مختلف صورتیں اور توبہ کا طریقہ تو بیان کردیا گیا مگر کسی مومن کا قتل عمدً انتہائی شدید جرم ہے جس کا اس دنیا میں کفارہ ممکن ہی نہیں۔ قتل ناحق کسی غیر مسلم کا ہو تو وہ بھی شدید جرم ہے پھر اگر مومن کا ہو تو مزید شدید جرم بن جاتا ہے۔ نیز جرم بیان کرنے کے بعد اللہ کا غضب اور اس کی لعنت کے الفاظ سے اس جرم کی شدت واضح ہوجاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہے یا نہیں ؟ تو اگرچہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے تاہم سیدنا ابن عباس ؓ اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

266 ۔ اکٹھی اتنی سخت وعیدیں بجز کفر، شرک کے اور کسی جرم کی قرآن مجید میں وارد نہیں اور اسی لئے قتل مومن، اشاعرہ ومعتزلہ سب کے نزدیک بالاتفاق اکبر الکبائر ہے اور یہ ڈرنے اور لرز جانے کی چیز ہے۔ (آیت) ” من یقتل مومنا متعمدا “ قتل عمد کی جو معروف اور براہ راست صورتیں ہیں وہ تو ہیں ہی۔ لیکن عجب نہیں کہ اس وعید کے تحت میں قتل مسلم کی وہ ساری صورتیں بھی آجائیں جو کسی غیر شرعی قانون کے مطابق اور کسی کافرانہ آئین ونظام کے ماتحت کی جاتی ہیں مثلا کسی کافر حکومت کی فوج یا پولیس میں داخل ہو کر اس حکومت کے باغی اور مجرم مسلمان پر گولی چلا دینا یا کسی غیر اسلامی عدالت کی کرسی پر مجسڑیٹ یا جج کی حیثیت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَمَنْ یقتل مؤ مناً متعمدًافجزائہ جھنم خالدًافیھا (الآیة) اس آیت میں مومن کے قتل عمد کی سزا بیان فرمائی گئی ہے جو فی الواقع بڑی سخت سزا ہے مثلاً اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا، نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا، اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہے، احادیث میں اس کی سخت مذمت اور وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ مؤمن کے قاتل کی توبہ : مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں، بعض علماء مذکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبول توبہ کے قائل نہیں، لیکن قرآن و حدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یقتل مؤمنا متعمدا . اور جو مسلمان کو قصداً مار ڈالے۔ یعنی مؤمن کو مؤمن ہونے کی وجہ سے قتل کر دے یا اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کر دے۔ جیسے مقیس نے فہری کے ساتھ کیا تھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کسی بھاری پتھر سے قتل کرنا شبہ عمد ہے۔ بغوی کے بیان کردہ قصہ سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ فہری کا پتھر سے قتل عمداً تھا کیونکہ اسی کے سلسلہ میں وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًانازل ہوا اس لئے امام ابوحنیفہ (رح) کا قول غلط ہے۔ اس کا جواب حسب روایت جرجانی اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ گناہ میں شبہ عمد بھی قتل عمد کی طرح ہے اسی لئے شبہ عمد کا کفارہ نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قتل عمد کا قصاص…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(93) یہ آیت مقیس بن صبابہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے اپنے بھائی ہشام بن صبابہ کی دیت وصول کرنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کے قاصد فہری شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے بعد دین اسلام سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلا گیا، اس پر دیت وصول کرنے کے بعد اپنے بھائی کے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور لعنت ہے اور اس دلیری اور شرک پر اللہ کی جانب سے زبردست عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومن یقتل مومن ا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے بواسطہ ابن جریج عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری شخص نے مقیس بن صبابہ کے بھائی کو قتل کردیا، نبی اکرم ﷺ نے اس کو دیت دے دی، اس کے بعد اس نے اپنے بھائی کے قاتل (کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا) قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمد (قصداً قتل کرنے) کا حکم بیان فرمایا ہے، اس کا ایک حکم تو بیان ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے، یا مقتول کے وارث کچھ معاف کردیں۔ (دیکھیے البقرۃ : 178) یہاں صرف اس کے گناہ اور وعید کا ذکر ہے۔ متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس جرم کو اشراک باللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے، یہاں فرمایا کہ اس کی جزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے اور اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوگیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار کیا ہے۔ اتنی سخت سزائیں یکجا ذکر کرنے سے اس گناہ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور بظاہر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مومن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 94۔ اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یقتل “ من شرطیہ ہے اور اس کا جواب (آیت) ” فجرآؤہ “ ہے، جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی صفت کے بارے میں اختلاف ہے، عطا اور نخعی وغیرہما نے کہا : جس نے لوہے کے ساتھ قتل کیا جیسے تلوار، خنجر، نیزے کی انی اور اس قسم کی دوسری کوئی تیز چیز جو کاٹنے کے لیے تیار کی گئی ہو یا ایسی چیز جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس کے استعمال میں موت ہے جیسے بھاری پتھر وغیرہ۔ ایک جماعت نے کہا : جان بوجھ کر قتل کرنے والا وہ ہے جس نے لوہے کے ساتھ قتل یا پتھر کے قتل کیا یا ڈنڈے کے ساتھ قتل کیا یا اس کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ قتل کیا، یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریج وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی نے مقیس بن ضبابہ کے بھائی کو قتل کردیا نبی ﷺ نے اس کو دیت دی تو اس نے قبول کرلی پھر وہ اپنے بھائی کے قاتل پر کود پڑا اور اس کو قتل کردیا ابن جریج نے کہا اور دوسرے علماء نے کہا کہ نبی ﷺ نے اس کی دیت بنو نجار پر رکھ دی پھر حضور ﷺ نے مقیس اور بنو مہر کے ایک آدمی کو کسی کام کے لئے بھیجا مقیس نے فہری کو اٹھایا کیونکہ وہ سخت آدمی تھا اس کو زمین پر گرا کر اس کے سر کو دو پتھروں کے درمیان کچل دیا یہ اشعار پڑھنے لگا۔ قتلت بہ فھر او حملت عقلہ سراۃ بنی النجار ارباب قارع ترجمہ : میں نے فہر نامی شخص کو قتل کیا اور اس کی دیت کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـقْتُلْ : قتل کرتا ہے ] [ مُؤْمِنًا : کسی مومن کو ] [ مُّتَعَمِّدًا : قصداً ] [ فَجَزَآؤُہٗ : تو اس کی سزا ] [ جَہَنَّمُ : جہنم ہے ] [ خَالِدًا : ہمیشہ رہنے والا ہوتے ہوئے ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ وَغَضِبَ : اور غضب کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ وَلَـعَنَہٗ : اور اس نے لعنت کی اس پر ] [ وَاَعَدَّ : اور اس نے تیار کیا ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ عَذَابًا عَظِیْمًا : ایک بڑا عذاب ] ع م د عَمَدَ یَعْمِدُ (ض) عَمْدًا : (1) قصد کرنا ‘ ارادہ کرنا (2) سہارا دینا ‘ ستون لگانا۔ عِمَادٌ (اسم جنس ‘ واحد عِمَادَۃٌ اور جمع عَمَدٌ) : جس کا سہارا لیا جائے ‘…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کسی مومن کو قصداً قتل کرنے کا گناہ عظیم قتل خطا کے احکام بتانے کے بعد اس آیت میں قصداً قتل کرنے والے کی اخروی سزا کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اس کو غضب ہوگا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار فرمایا ہے۔ کسی مومن کا قتل درحقیقت بہت ہی بڑا گناہ ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان آدمی کے قتل کے مقابلے میں معمولی چیز ہے۔ (رواہ الترمذی و النسائی و وقفہ بعضہم و ہواصح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تتمہ حکم سابق۔ تہدید شدید ووعید اکید برقتل عمد مومن را۔ قال تعالیٰ ومن یقتل مومنا متعمدا۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں قتل خطا کے احکام مذکور ہوئے اب اس آیت میں کسی مومن کو عمدا قتل کرنے کی وعید مذکور ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرڈالے تو دنیاوی حکم تو اس کا قصاص ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گذرا اور حکم اخروی اس کا یہ ہے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور اللہ اس پر لعنت کرے گا یعنی اس کو اپنی خاص رحمت سے دور کردے گا اور اس نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا ہے جو دوسرے کبائر کے عذاب سے بہت بڑھ کر ہے اور اس آیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 92–93

ٖف 67 پانچواں حکم سلطانی (راستہ میں خیال رکھنا کہیں غلطی سے تمہارے ہاتھوں کوئی مسلمان قتل نہ ہوجائے اور اگر خطاءً ایسا ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے) فرمایا یہ تو مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو عمداً اور جان بوجھ کر قتل کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ہاتھوں غلطی اور خطا سے مومن قتل ہوجائے۔ قتل خطا کی بڑی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ قصد و ارادہ میں غلطی سے قتل مسلم واقع ہو یا عمل کی غلطی سے پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ دور سے کسی آدمی کو دیکھا اور سمجھا کہ وہ حربی کافر ہے اور اس پر فائر کردیا لیکن در اصل وہ مومن تھا دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ کافر کو نشانہ بنا کر تیر پھینکا یا شکار پر فائر کیا مگر وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ سختی کرنے اور ان کے ساتھ قتال کا حکم دیا ہے اور اس کے بالمقابل اہل ایمان کی جانوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے فرمایا کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے۔ اور اگر نیت اور ارادے کے بغیر محض غلطی سے قتل ہوجائے۔ تو قاتل کے لیے ضروری ہوگا ، کہ وہ کفارہ کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اس کے علاوہ مقتول کے ورثاء کو خون بہا بھی دینا ہوگا جو کہ سو اونٹوں یا سونے چاندی کی شکل میں ہوگا یا ان کی مساوی القیمت کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے۔ قتل خطاء میں خون بہا کی ادائیگی کی ذمہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَيْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِيْمًا۝ 93 عمد العَمْدُ : قصد الشیء والاستناد إليه، والعِمَادُ : ما يُعْتَمَدُ. قال تعالی: إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ [ الفجر/ 7] ، أي : الذي کانوا يَعْتَمِدُونَهُ ، يقال : عَمَّدْتُ الشیء : إذا أسندته، وعَمَّدْتُ الحائِطَ مثلُهُ. والعَمُودُ : خشب تَعْتَمِدُ عليه الخیمة، وجمعه : عُمُدٌ وعَمَدٌ. قال : فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ [ الهمزة/ 9] وقرئ : فِي عَمَدٍ ، وقال : بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ، وکذلک ما يأخذه الإنسان بيده مُعْتَمِداً عليه من حدید أو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 92–93

ترکیب : ان یقتل اسم کان لمومن خبر اے ما شان المومن قتل المومن فی ای حال الاخطاء الا فی حال الخطاء اور ممکن ہے کہ الا بمعنی لکن ہو ومن قتل شرط فتحریر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالواجب وقیل خبرہ محذوف ای فعلیہ۔ تحریر مضاف رقبۃ مومنۃ مضاف الیہ ودیۃ معطوف ہے تحریر پر جملہ جواب شرط الا ان یصدقوا استثناء منقطع ہے وقیل متصل والمعنی فالواجب دیۃ فی کل حال الا فی حال التصدق فان شرطیہ کان اس کا اسم المقتول من قوم خبر عدولکم اس کی صفت وھو مومن جملہ حال ہے المقتول سے یہ سب شرط فتحریر الخ جواب۔ تفسیر : پہلی آیت میں ان لوگوں کے قتل کی اجازت تھی کہ جو مسلمانوں میں آکر مسلمان اور کافروں میں جا کر ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزاء جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ (النسآء : 93) قتلِ عمد کی سزا اور اس جرم کی سنگینی قتل خطا کے احکام بیان کرنے کے بعد قتل عمد کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر بیت اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ کے گھر ! تیرا احترام و اکرام اور جلالت و منزلت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی عزت تجھ سے بڑھ کر ہے۔ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ ] ایک مرتبہ آپ ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ فرمایا۔ کچھ صحابہ کرام ” وَنْ “ کے درختوں پر چڑھ کر پیلو توڑ رہے تھے جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ کے ساتھ کھڑا ایک صحابی عبداللہ بن مسعود ؓ کی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صورت حال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 93 : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا (جس شخص نے قتل کیا کسی مسلمان کو قصداً ) متعمدًا۔ یہ قاتل کی ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہوگا وہ مومن کو مومن ہونے کی وجہ سے قتل کرے یا اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کر دے۔ یہ دونوں کفر ہیں۔ خلود سے طول قیام مراد : فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا (پس اس کی سزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کے قول کے مطابق اگر وہ اس کو سزادے تو اس کی سزا ہمیشہ کی جہنم ہے بعض اوقات خلود سے طول قیام مراد لیا جاتا ہے۔ اور معتزلہ کا یہ کہنا کہ وہ ایمان سے نکل جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے : یٰٓاَیُّہَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 93۔: (آیت)” ومن یقتل مؤمنا متعمدا “۔ (من یقتل مؤمنا متعمدا کا شان نزول) یہ آیت مقیس بن حبابہ کندی کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ اور اس کا بھائی ہشام اسلام لے آئے تھے ایک روز مقیس کو محلہ بنی نجار میں ہشام کی لاش ملی اور وہ خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا ، حضور اقدس ﷺ نے اس کے ساتھ ایک فہری شخص کو بھیج دیا اور بنو نجار کو کہلا بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ اگر تم ہشام کے قاتل سے واقف ہو تو اس کو مقیس کے حوالے کرو تاکہ وہ اپنے بھائی کا قصاص لے لے اور نہیں جانتے ہو تو ہشام کی دیت ادا کرو ، فہری نے رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا دیا ، بنی نجار نے جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کا حکم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر قتل خطاکا ذکر تھا اس آیت میں قتل عمد کا ذکر ہے قتل عمد وہ ہے جس میں ایسی چیز سے قصدًا کسی کو ہلاک کیا جائے جس چیز سے بطور عادت کے آدمی مرسکتا ہو قتل عمد میں قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور اگر مقتول کے وارث قصاص معاف کردیں تو خون بہا لیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل مسئلہ کی بڑی کتابوں میں ہے 1۔ ابن جریر وغیرہ نے عکرمہ کی روایت سے شان نزول یہاں بیان کی ہے کہ مقیس بن مہابہ کنانی اور اس کا بھائی ہشام یہ دونوں شخص مسلمان ہوگئے تھے۔ ایک روز مقیس نے اپنے بھائی ہشام کو بنی نجار قبیلہ کی سرحد میں مقتول پایا اور حضرت سے اس کا قصہ کا تذکرہ کیا آپ نے بنی نجار سے سو اونٹ اس کے بھائی کے خون بہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 93 گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ مومن سے مومن کا قتل صادر نہیں ہوسکتا نیز یہ کہ قتل کفر عمل ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لئے وعید کا ذکر فرمایا ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں، کلیجے پھٹ جاتے ہیں اور عقلمند لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں میں سے کسی اور گناہ کے لئے اس سے بڑی بلکہ اس جیسی وعید بھی وارد نہیں ہوئی۔ آگاہ رہو ! کہ یہ اس امر کی خبر دینا ہے کہ مومن کے قتل کے مرتکب کے لئے جہنم ہے۔ یعنی یہ گناہ عظیم اکیلا ہی کافی ہے کہ اپنے مرتکب کو جہنم، عذاب عظیم، رسوائی، اللہ جبار کی ناراضی، فوز و فلاح سے محرومی و ناکامی اور خسارے جیسی سزا کا مستحق بنائے۔ ہم ہر اس سبب سے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اونٹوں کے سوادیت کی ادائیگی امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ دیت اونٹوں دراہم، ودینار کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے درہموں کی مقدار دس ہزار اوردینار کی ایک ہزرا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک دیت صرف اونٹوں اور سونے یا چاندی کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے ۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ سونے کی مقدار ایک ہزار دینار ہے اور چاندی کی مقدار بارہ ہزار درہم ہے امام مالک کا قول ہے کہ اہل شام اور اہل مصر سونے والے اور اہل عراق چاندی والے ہیں اور صحراؤں میں رہنے والے اونٹوں والے ہیں۔ امام مالک کا یہی بھی قول ہے کہ دیت میں اونٹوں والوں سے صرف اونٹ ، چاندی والوں سے صرف چاندی اور سونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

245 قاتل متعمد کی سزا ہمیشہ کا جہنم ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے جس میں اس کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا۔ سو یہ اس کے اس فعل شنیع اور سنگین جرم کی اصل سزا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ یہ اس جرم کی اصل سزا ہے۔ اگر اللہ اس کو یہ سزا دے " ھٰذَا جَزَائُ ہ اِنْ جاَزَاہُ- (ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہ سزا ضرور دے گا (المراغی وغیرہ) ۔ بلکہ سچی توبہ پر بغیر سزا بھگتنے کے، دوسرے کبیرہ گناہوں کی طرح وہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اس گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ دوسری بہت سی نصوص کریمہ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 92–93

غلطی سے یا جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنے کی سزا تشریح : مومن کو قتل کرنا بڑا سخت گناہ ہے، لیکن اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا کی رقم ادا کرنا ہوگی اگر وارث خون بہا معاف کردیں تو ٹھیک ہے۔ اگر مسلمان مقتول کسی ایسی قوم کا فرد ہو جس سے تمہاری دشمنی ہو تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام مومن آزاد کرنا ہوگا اور اگر ایسی قوم کا فرد تھا کہ جس کے ساتھ امن کا معاہدہ ہو تو پھر ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا اور خون بہا اس کے وارثوں کو دینا ہوگا اگر غلام کی توفیق نہ ہو تو پھر توبہ کے طور پر دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہ تو اللہ رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–96

رکوع نمبر 13 آیات 92 تا 96: وما کان لمومن۔۔۔ غفورا رحیما۔ اب رہی آپس کی لڑائی تو غلطی ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ورنہ مومن کو زیب ہی نہی دیتا کہ وہ مومن کو قتل کرے۔ ذاتی انا کے مسئلہ پر یا دنیاوی وراثت کے لالچ میں یا حکومت و اقتدار چیننے کے لیے یا ایک دوسرے سے ملک یا علاقہ ہتھیانے کے لیے یعنی فرد سے لے کر حکومت تک مومن کا قتل مومن کو زیب نہیں دیتا اور مسلمان مسلمان سے نہ لڑ سکتا ہے نہ لڑایا جاسکتا ہے ہاں ذاتی طور پر غلطی سے کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا تو اس کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک تو کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے کہ یہاں رقبۃ مومنہ ہے۔ یعنی ایماندار کی گردن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمہد قصد قتل کرنے کا حکم بیان کیا ہے اس کا ایک حکم تو بیانب ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے۔ (یکھئے سورت بقرہ آت 17) یہاں صرف اس کے گناہ ارر وعید کا ذکر ہے متعدد آیات میں قرآن نے اس جرم کو شرباللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہاں فرمایا کہ ایسے شخص اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے جس میں سہ ہمیشہ رہے گا۔ اس بنا پر بعض علما نے سلف سے منقول ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی مگر اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ توبہ تو مشرک کی بھی قبول ہوجاتی ہے لیکن یہ توبہ اس وقت ہے جب اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:93) متعمدا۔ تعمد (تفعل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ عمدا جان بوجھ کر ۔ خالدا۔ ہمیشہ رہے گا اس میں ۔ اعد۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد (افعال) تیار کرنا۔ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ شمار کی جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت نمبر 92-93 لغات القرآن : خطاء، غلطی۔ تحریر، آزاد کرنا۔ رقبۃ، گردن۔ دیۃ، خون بہا، خون کے بدلے میں مقرر شدہ معاوضہ مسلمۃ، سپرد کی جائے گی۔ ان یصدقوا، یہ کہ وہ معاف کردیں۔ متتابعین، مسلسل، پے در پے۔ متعمد، جان بوجھ کر، بالقصد۔ تشریح : اسلام وہ دین ہے جس میں تعزیری قوانین بڑے مرتب طریقے سے بتائے گئے ہیں۔ ان دو آیات میں قتل کی سزا سے بحث ہے۔ اسلام نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا ہے۔ بلکہ قتل قتل میں اور اس کی سزا سزا میں فرق کیا ہے۔ قتل کی دو ہی قسمیں ہیں۔ قتل عمد یعنی قتل بالقصد۔ دوسرے قتل بالخطاء یعنی قتل بلاقصد۔ اور مقتول کی بھی چار ہی قسمیں ہیں۔ مومن ہ ویا ذمی کافر ہو یا مصالح (اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو عمدا قتل کرنا سخت گناہ ہے۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ مقیس نے اپنے بھائی ہشام کو بنی نجار قبیلہ کی سرحد میں مقتول پایا، اور حضرت سے قصہ کا تذکرہ کیا۔ آپ نے بنی نجار سے سو اونٹ اس کے بھائی کے خون بہا کے مقیس کو دلادیئے۔ اس نے یہ اونٹ بھی لئے اور موقع پاکر ایک آدمی نجار کا قتل کرکے مرتد ہوکر مکہ چلا گیا، اور مشرکوں میں جا ملا۔ فتح مکہ پر آنحضرت ﷺ نے عام امن میں سے اس کو واجب القتل قرار دے کر قتل کرایا۔ اسی مقیس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس صورت میں قاتل کا ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا ذکر ہے کو کہ درجہ کفر کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 92–93

[58] دیت کی مقدار سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دو ہزار بکریاں سنت سے ثابت ہے۔ اگر قاتل دوسری شکل میں خوں بہا ادا کرنا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے متعین کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خون مسلم کی گرانمائیگی : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ خون مسلم اس قدر گرانمایہ ہے کہ اس کا ضیاع وسفک موجب علو ونار ہے یعنی بلاوجہ مشروح مسلمان کا قتل اتنا بڑا گناہ ہے کہ قابل عفو نہیں ، یہ اس لئے کہ مومن ومسلم دنیا میں حق کا علمبردار ہے ، خدا کی خلافت ونیابت اس سے وابستہ ہے ، وہ اس لئے زندہ ہے کہ خدا کے نام کو بلند کرے اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین فطرت کی خدمت واعلاء کے لئے خریدا جا چکا ہے ، اس کا ہر سانس خدائے ذوجلال کی صداقت وحقانیت کا اعلان ہے اور وہ بچپن سے لیکر بڑھاپے کے آخری وقت تک وقف ہے ، اس کا قتل خدا سے بغاوت ہے حق وصداقت میں جنگ ہے انسانیت عظمی کی توہین ہے اور حقوق الہیہ میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور جو شخص کسی مسلمان کو قصد اً جان بوجھ کر مار ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے اور یہ سزا بھی اس طور پر کہ وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اپنی خاص رحمت سے اس کو دور کردیا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ اگر مسلمان قصد کر کے مسلمان کو مار ڈالے وہ دوزخی ہوچکا اس کی توبہ قبول نہیں باقی اور علماء نے کہا کہ سزا اس کی یہی ہے جو یہاں مذکور ہوئی آگے اللہ مالک ہے لیکن اگر قصاص میں مارا گیا تو سب کے قول میں پاک ہوا۔ (موضح القرآن) غالباً یاد ہوگا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ یہ اصلی سزا جاری نہ ہوگی بلکہ ایمان کی برکت سے آخر کو نجات ہوجائے گی تمام اہل حق متفق ہیں کہ بجز کفر و شرک کے کوئی امروجب خلود فی النار نہیں۔ 3۔ اور قتل مومن پر سخت وعید فرمائی ہے آگے یہ فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے جاری ہونے میں مومن کے مومن ہونے کے لیے صرف ظاہری اسلام کافی ہے جو شخص اسلام کا اظہار کرے اس کے قتل سے دستکش ہوجانا واجب ہے قرائن سے باطن کی تفتیش کرنا اور احکام اسلامیہ کے جاری کرنے میں اس کے ثبوت کا منتظر رہنا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے قتل خطا اور اس کی صورتوں کا ذکر تھا پھر اس کی سزا کا اور اب قتل عمد کا ذکر ہے : 163: قتل عمد میں اسل تو قصاص ہے اگرچہ ورچا کو قصاص معاف کرنے کا بھی حق ہے لیکن قتل عمد اتنا بڑا جرم ہے کہ سزا اخروی اس دنیوی سزا سے الگ کر کے بیان کردی گئی ۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ اس جرم کے عظیم ترین ہونے پر شاہد ہیں۔ قرآن کریم کی یہی آیت انسان غور سے پڑھے اور اس میں قاتل کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگرچہ وہ خالصۃ اخروی سزا ہے اس پر نگاہ ڈالے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں بشرطیکہ اس میں ایمان نام کی شے بھی کوئی موجود ہو۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ قتل ال مومن اعطم عنداللہ من زوال الدنیا۔ کہ دنیا کے فنا ہونے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

Commentary Sequence of Verses Linked with earlier verses dealing with fighting and killing, all forms of killing, in the first instance, are eight in number because the person killed is covered by one of the four conditions which follow. Either, he is a Muslim; or, he is a Dhimmi (a free, protected, non-Muslim resident of a Muslim state); or, he is beneficiary of a peace pact and has been assured of the protection of his life, property, honour and religion; or, he is a belligerent disbeliever. Then, killing is of two types: intentional, or accidental. Thus, we see that there are only eight…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

120. The hypocritical confessors of Islam mentioned here are distinct from those whom the Muslims may kill. The reference here is to Muslims who are either residents of the Domain of Islam (Dar al-Islam) or to those who live in the Domain of War or of Unbelief (Dar al-Harb or Dar al-Kufr) but against whom there is no proof of actual participation in the hostile activities with the enemies of Islam. In the time of the Prophet (peace be on him) there were many people who had embraced Islam and yet, because of genuine difficulties, were living among tribes hostile to Islam. It occasionally…

Read the full tafseer →