مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے
ترمذوی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جمات کے پاس سے گذرا اور سلام کیا تو صحابہ آپس میں کہنے لگے یہ مسلمان تو ہے نہیں صرف اپنی جان بچانے کے لئے سلام کرتا ہے چناچہ اسے قتل کردیا اور بکریاں لے کر چلے آئے، اس پر یہ آیت اتری، یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن بعض نے اس میں علتیں نکالی ہیں کہ سماک راوی کے سوائے اس طریقے کا اور کوئی مخرج ہی اس کا نہیں، اور یہ کہ عکرمہ سے اس کے روایت کرنے کے بھی قائل ہے، اور یہ کہ اس آیت کے شان نزول میں اور واقعات بھی مروی ہیں، بعض کہتے ہیں محکم بن جثامہ کے بارے میں اتری ہے بعض…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 126
ابتدائے اسلام میں ”السلام علیکم“ کا لفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور علامت کی حیثیت رکھتا تھا اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھ کر یہ لفظ اس معنی میں استعمال کرتا تھا کہ میں تمہارے ہی گروہ کا آدمی ہوں، دوست اور خیر خواہ ہوں، میرے پاس تمہارے لیے سلامتی و عافیت کے سوا کچھ نہیں ہے، لہٰذا نہ تم مجھ سے دشمنی کرو اور نہ میری طرف سے عداوت اور ضرر کا اندیشہ رکھو۔ جس طرح فوج میں ایک لفظ شعار (Password) کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے اور رات کے وقت ایک فوج کے آدمی ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ فوج مخالف کے آدمیوں سے ممیز ہوں، اسی طرح سلام کا لفظ بھی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو جب تم اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کے لئے) سفر کیا کرو تو ہر کام کو (قتل یا اور کچھ ہو) تحقیق کر کے کیا کرو اور ایسے شخص کو جو کہ تمہارے سامنے (علامات) اطاعت (کی) ظاہر کرے (جیسا کلمہ پڑھنا یا مسلمانوں کے طرز پر سلام کرنا) یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو (دل سے) مسلمان نہیں (محض اپنی جان بچانے کو جھوٹ موٹ اظہار اسلام کرتا ہے) اس طور پر کہ تم دنیوی زندگی کے سامان کی خواہش کرتے ہو، کیونکہ خدا کے پاس (یعنی ان کے علم وقدرت میں تمہارے لئے) بہت غنیمت کے مال ہیں (جو تم کو جائز طریقوں سے ملیں گے اور یاد تو کرو کہ) پہلے (ایک زمانہ میں) تم بھی ایسے ہی تھے (کہ تمہارے اسلام کے قبول کا…
Read the full tafseer →دارالحرب کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے مزید اہتمام : دارالحرب میں پھسنے ہوئے مسلمانوں کے تحفظ ہی کے پہلو سے مزید ہدایت یہ ہوئی کہ : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيْرَةٌ ۭكَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا، کہ جب کسی علاقے پر حملہ کے لیے نکلو تو اس علاقے کے اندر جو مسلمان ہوں ان کے متعلق پوری تحقیق کرلو کہ…
Read the full tafseer →94۔ 1 احادیث میں آتا ہے کہ بعض صحابہ کسی علاقے سے گزر رہے تھے جہاں ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا، مسلمان کو دیکھ کر چروا ہے نے سلام کیا۔ بعض صحابہ نے سمجھا کہ شاید وہ جان بچانے کے لئے اپنے کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ چناچہ انہوں نے بغیر تحقیق کئے اسے قتل کر ڈالا اور بکریاں (بطور مال غنیمت) لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی، بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے یہ فرمایا کہ مکہ میں پہلے تم بھی چرواہے کی طرح ایمان چھپانے پر مجبور تھے، مطلب یہ تھا کہ قتل کا کوئی جواز نہیں تھا۔
94۔ 2 یعنی تمہیں چند بکریاں اس مقتول سے حاصل ہوگیئں، یہ کچھ بھی نہیں، اللہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ…
Read the full tafseer →59: اللہ کے راستے میں سفر کرنے سے مراد جہاد کے لئے سفر کرنا ہے، ایک واقعہ ایسا پیش آیا تھا کہ ایک جہاد کے دوران کچھ غیر مسلموں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے لئے صحابہ کرام کو سلام کیا، وہ صحابہ یہ سمجھے کہ ان لوگوں نے صرف اپنی جان بچانے کے لئے سلام کیا ہے اور حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایسے لوگوں کو قتل کردیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ اصول بیان کردیا گیا کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے اسلام لائے اور اسلام کے تمام ضروری عقائد کا اقرار کرلے تو ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے اور اس کے دل کا حال اللہ پر چھوڑیں گے، لیکن یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 94۔
اس آیت کے نزول کے بارے میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے گشتی دستے کو ایک شخص ملا جس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں ۔ اس شخص نے اس فوجی دستے کو السلام علیکم کہا ۔ مقصد یہ تھا کہ میں مسلمان ہوں ۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے السلام علیکم محض اپنے آپ کو بچانے کے لئے کہا ہے ۔ اس لئے انہوں نے اسے قتل کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس طرح نہ کریں ۔ یوں ان کے دلوں سے تمام مفادات کا تصور ہی نکال دیا ۔ ان کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی فیصلے میں جلد بازی نہ کریں ۔ اسلام ان دونوں باتوں کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →2 حضرت محمد ﷺ نے ایک فوج کو ایک قوم پر جہاد کے لئے بھیجا اس قوم میں ایک شخص مسلمان تھا جو اپنا مال و اسباب اور مویشی ان میں سے نکال کر علیحدہ کھڑا ہوگیا تھا اس نے مسلمانوں کو دیکھ کر السلام علیکم کہا مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ یہ بھی کافر ہے اپنی جان اور مال بچانے کی غرض سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اس لئے اس کو مار ڈالا اور اس کے مویشی اور اسباب سب لے لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو تنبیہ اور تاکید فرمائی گئی کہ جب تم جہاد کے لئے سفر کرو تو تحقیق سے کام لو۔ بےسوچے سمجھے کام مت کرو جو تمہارے سامنے اسلام ظاہر کرے اس کے مسلمان ہونے کا ہرگز انکار مت کرو۔ اللہ کے پاس بہت کچھ غنیمتیں…
Read the full tafseer →آیت 94 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقآی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج
تم اس کی باطنی کیفیت معلوم نہیں کرسکتے۔ ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جان سکتا ‘ لہٰذا دنیا میں تمام معاملات کا اعتبار زبانی اسلام اقرارٌ باللّسان پر ہی ہوگا۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ رہا ہے اور اپنے اسلام کا اظہار کر رہا ہے تو آپ کو اس کے الفاظ کا اعتبار کرنا ہوگا۔ اس آیت کے پس منظر کے طور پر روایات میں ایک واقعے کا ذکر ملتا ہے جو حضرت اسامہ رض کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کسی سریہّ میں حضرت اسامہ…
Read the full tafseer →129 جنگ کے دوران قتل خطا : ابتدائے اسلام میں السلام علیکم کا لفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور فریقین کے مسلمان ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس دور میں عرب کے نو مسلموں اور کافروں کے درمیان لباس، زبان یا کسی دوسری چیز میں نمایاں امتیاز نہ تھا جس کی بنا پر ایک مسلمان سرسری طور پر دوسرے مسلمان کو پہچان سکتا ہو لیکن کافروں سے لڑائی کے دوران یہ پیچیدگی پیش آجاتی کہ جس قوم پر مسلمان حملہ آور ہوتے ان میں سے کوئی شخص السلام علیکم یا لا الہ الا اللہ کہنے لگتا جس سے مسلمانوں کو یہ مغالطہ ہوتا کہ وہ حقیقتاً مسلمان نہیں بلکہ محض اپنی جان بچانے کے لیے یہ کلمہ زبان سے ادا کر رہا ہے تو وہ اپنے اسی گمان…
Read the full tafseer →267 ۔ (ہر امر کی اور خصوصا قتل کے باب میں) یہ مسلمانوں کی ہدایت ہورہی ہے کہ جب تم وطن سے باہر سفر جہاد میں ہو تو بلاخوب چھان بین کیے محض شک وشبہ کی بنا پر قتل میں جلد بازی نہ کردیا کرو (آیت) ” فتبینوا “۔ خوب سوچ بچار لو۔ ایسا نہ ہو کہ کافر کے خیال میں کسی کلمہ گو کو قتل کرڈالو۔ تحققوا حتی یتبین لکم المومن من الکافر (ابن عباس ؓ المقصود من ھذہ الایۃ المبالغۃ فی تحریم قتل المومنین (کبیر) یہ تحقیق و احتیاط، سفر وحضر ہر حال میں واجب ہے۔ سفر جہاد کی قید آیت میں صرف اس لئے ہے کہ نزول آیت سے قبل ایسا واقعہ اتفاق سے سفر جہاد ہی میں پیش آیا تھا۔ والتبیین ای التثبت فی القتل واجب حضرا وسفرا لاخلاف فیہ…
Read the full tafseer →شان نزول : یایّھا الذین آمنوا اِذَاضَرَبْتم فی سبِیْل اللہ فَتَبَیَّنُوْا (الآیة) اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہ دو کہ وہ تو ایمان والا نہیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت کسی علاقہ سے گذری جہاں ایک چرواہا بکریاں چرارہا تھا مسلمانوں کو دیکھ کر چرواہے نے سلام کیا بعض صحابہ نے سمجھا شاید یہ جان بچانے کیلئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے سلام کررہا ہے، چناچہ انہوں نے اسے بغیر تحقیق کے قتل کر ڈالا، اور بکریاں لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، ترمذی)
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا . اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) سفر کیا کرو تو (دوران سفر میں) تحقیقات کرلیا کرو۔
نَبَیَّنْتُ الْاَمْرَمیں نے اس امر پر غور کرلیا۔ اس کی تحقیق کرلی۔ مطلب یہ ہے کہ معاملہ کے انکشاف کامل سے پہلے عجلت سے کام نہ لیا کرو۔ بغوی نے کلبی کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ مقتول مسلمان تھا۔ فدک کا باشندہ تھا اور اس کا نام مرداس بن نہیک تھا مگر اس کی قوم والے مسلمان نہیں ہوئے تھے جب قوم والوں نے اسلامی کمپنی کی آمد کی خبر سنی تو سب بھاگ گئے مگر مرداس چونکہ مسلمان تھا اس لئے وہیں مقیم رہا۔ جب سواروں کو دیکھا تو اسے…
Read the full tafseer →(94) یہ آیت اسامہ بن زید ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ انہوں نے لڑائی میں مرد ان بن نھیک فراری کو (غلط فہمی کی بنا پر) کافر سمجھ کر مار دیا تھا اور یہ مومن تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاد میں کسی کے اس طرح مل جانے پر تحقیق کرلیا کرو تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون مومن ہے اور کون کافر اور جو تمہارے سامنے کلمہ طیبہ پڑھ لیا کرے یا جہاد میں مسلمانوں کے طریقہ پر سلام کرلیا کرے تو اسے مال غنیمت کی امید میں کافر سمجھ کر قتل مت کرو۔
اللہ کی ہاں اسے شخص کے لیے جو کسی مسلمان کے قتل سے کنارہ کش ہو، بہت بڑا ثواب ہے۔
ہجرت سے پہلے تم بھی ایک زمانہ میں اپنی قوم میں مسلمانوں اور رسول اکرم ﷺ سے کلمہ طیبہ…
Read the full tafseer →فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی اپنی تھوڑی سے بکریوں کے پاس تھا، کچھ مسلمان وہاں سے گزرے، اس نے ”السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ“ کہا لیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی بکریاں لے لیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جس میں ہے : (تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ) ”تم دنیا کا سامان چاہتے ہو ؟“ اس سے مراد وہ تھوڑی سی بکریاں ہیں۔ [ بخاری، التفسیر، سورة النساء : 4591 ]
فَتَبَيَّنُوْا : یہاں تبین یعنی تحقیق کرلینے کا حکم سفر کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر یہاں سفر کی قید بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی یہ حادثہ، جس سے متعلق آیت نازل ہوئی ہے، سفر میں پیش آیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 94۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ یہ جہاد اور قتل کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، الضرب کا معنی زمین پر چلنا ہے، عرب کہتے ہیں : ضربت فی الارض جب کوئی تجارت یا جنگ یا کسی اور غرض سے سفر کرے، یہ ” فی “ کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اور بغیر ” فی “ کے بھی۔ مثلا ضربت الارض جب آدمی قضاء حاجت : (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 96 دارالکتب العلمیہ)
کا قصد کرے اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے : لا یخرج الرجلان یضربان الغائط یتحدثان کاشغین عن فرجیھما فان اللہ یمقت علی ذالک “۔ (2) (مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق و سعید بن منصور، عبد بن حمید و بخاری و نسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک آدمی سے ملے جس کے پاس اپنی بکریاں تھیں اس نے کہا السلام علیکم انہوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریوں کو لے لیا۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “ سے لے کر ” عرض الحیوۃ الدنیا “ تک فرمایا اس سے مراد مال غنیمت ہے ابن عباس نے السلام پڑھا ہے۔
(2) ابن ابی شیبہ واحمد و طبرانی اور ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وعبد بن حمید (نے اس کو صحیح کہا) وابن جریر وابن المنذر وحاکم نے (اس کو صحیح کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [ اِذَا : جب بھی ] [ ضَرَبْتُمْ : تم نکلو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ فَتَـبَـیَّنُوْا : تو تحقیق کرلیا کرو ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم مت کہو ] [ لِمَنْ : اس کے لیے جس نے ] [ اَلْقٰٓی : ڈالا ] [ اِلَیْکُمُ : تمہاری طرف ] [ السَّلٰمَ : سلام ] [ لَسْتَ : کہ تو نہیں ہے ] [ مُؤْمِنًا : مؤمن ] [ تَـبْتَغُوْنَ : تم جستجو کرتے ہو ] [ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : دنیوی زندگی کے عارضی سامان کی ] [ فَعِنْدَ اللّٰہِ : تو اللہ کے پاس ہی ] [ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ : کثیر مال غنیمت ہیں ] [ کَذٰلِکَ : اس کی…
Read the full tafseer →جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے اسے یوں نہ کہو کہ تو مومن نہیں
تفسیر در منثور صفحہ 199: ج 2 میں بحوالہ بخاری و نسائی وغیر ہما حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ جا رہے تھے ان سے کسی ایسے شخص کی ملاقات ہوگئی جو اپنا مال لیے ہوئے جا رہا تھا۔ اس نے کہا السلام علیکم ان لوگوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی، (راجع صحیح البخاری صفحہ 606 : ج 2) پھر حضرت ابن عباس ؓ ہی سے بحوالہ ترمذی وغیرہ نقل کیا ہے کہ بنی سلیم میں کا ایک شخص اپنی بکریاں چراتے ہوئے چند صحابہ پر گزرا اس نے انہیں سلام کیا۔ آپس میں کہنے لگے کہ اس نے ہمیں جان بچانے کے لیے سلام کیا (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
حکم بست وپنجم وجوب احتیاط در قتل مسلم۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو اذا ضربتم۔۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط) یہ بھی حکم سابق کا تتمہ ہے کہ مسلمان کا قتل قطعا حرام ہے مجاہدین کو چاہیے کہ جہاد میں غایت درجہ احتیاط کریں اثناء سفر میں اگر کوئی شخص تم کو ملے اور تم کو مسلمانوں کے طریقہ سے سلام کرے یا زبان سے شہادت کا کلمہ پڑھے تو تم یہ گمان کرکے کہ اس کا یہ فعل محض جان بچانے کے لیے ہے اس کے قتل پر جرات نہ کرو جیسا کہ بعض غزوات میں بعض لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ کسی چرواہے نے ان کو السلام علیکم کہا وہ سمجھے کہ یہ شخص محض جان بچانے کے لیے سلام کررہا ہے اس لیے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
72 چھٹا حکم سلطانی (راستے میں اگر کوئی شخص تم سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے دعوے کی تحقیق کرلو۔ بلا تحقیق یہ سمجھ کر کہ وہ جان کے خوف سے اسلام کا اظہار کر رہا ہے اسے محض اس کے مال کی خاطر قتل مت کرو۔ اس کے تھوڑے سے مال کی پروا نہ کرو اللہ کے یہاں تمہارے لیے بہت کچھ ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ تم بھی پہلے کافر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے تم کو اسلام لانے کی توفیق دی اس لیے اگر راستے میں کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو اس کی ضرور تحقیق کرلیا کرو۔ اس کے بعد لَایَسْتَوِیْ الْقَاعِدُوْنَ سے وَکَانَ اللہُ غَفُوْراً رَّحِیْماً تک جہاد کی ترغیب اور مجاہدین کے لیے اخروی بشارت ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے جہاد کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے ، اس ضمن میں ہجرت کا ذکر بھی ہوا ، اللہ تعالیٰ نے جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور ان پر اعتماد نہ کرنے کا حکم دیا۔ دشمنوں کے متعلق فرمایا کہ جہاں بھی ملیں انہیں مار ڈالو ، نہ ان سے دوستانہ رکھو اور نہ ان سے کوئی مدد حاصل کرو۔ اس کے برخلاف مومن کی حفاظتِ جان کے متعلق احکام نازل فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ کسی مومن کے لیے یہ بات روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی جان کے درپے ہو۔ اور اگر غلطی سے کوئی مسلمان کی جان کے درپے ہو۔ اور اگر غلطی سے کوئی مسلمان مارا جائے ، تو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے کفارے اور دیت کا قانون…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓي اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا 0ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0ۡفَعِنْدَ اللہِ مَغَانِمُ كَثِيْرَۃٌ 0ۭ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللہُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوْا 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا 94
ضَّرْبُ ( چلنا)
والضَّرْبُ في الأَرْضِ : الذّهاب فيها وضَرْبُهَا بالأرجلِ. قال تعالی: وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] ، وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] ، وقال : لا…
Read the full tafseer →؎ بنت مخاص اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے برس میں ہو۔ بنت لبون وہ جو تیسرے سال کا ہو۔ حقہ یعنی بوجھ لادنے کے قابل جو چوتھے برس میں ہو۔ جذعہ جو پانچویں میں ہو۔ 12
ترکیب : اذاضربتم ای سافر تم للجہاد شرط فتبینوا جواب۔ السلام اور سلم دونوں طرح سے آیا ہے اول کے معنی تحیہ دوسرے کے معنی انقیاد
بکلمہ شہادۃ۔ تبتغون حال ہے فاعل لا تقولوا سے۔ کذلک خبر کنتم ضمیر انتم اس کا فاعل ان اللَّہ کو بالکسر جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے اور بالفتح بھی معمول تبتغون کا بنا کر۔
تفسیر : جہاد میں جو اسلام ظاہر کرے قتل نہ کیا جاوے : قتل خطاء کے بارے میں ابھی تہدید ہوچکی تھی اور یہ قتل ابتداء ِاسلام میں مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم خدا کی راہ میں نکلا کرو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرے اسے فوراً نہ کہہ دیا کرو کہ تم مومن نہیں ہو۔ تم دنیوی زندگی کا سامان چاہتے ہو اللہ کے پاس بہت سے اموالِ غنیمت ہیں۔ تم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ میں احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے تاکہ کسی پر ظلم یا غلطی سے مسلمان نشانہ نہ بن جائیں۔
اسلام میں جہاد و قتال کا یہ معنٰی نہیں کہ کفار کی دشمنی میں مجاہد اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اس کی تلوار کے سامنے جو آئے اسے تہ تیغ کرتا چلا جائے۔ اسلامی جہاد اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس علاقہ پر حملہ کرنا مقصود ہو۔ وہاں کے بارے میں پہلے اچھی طرح معلومات حاصل کی جائیں۔ اگر وہاں مسلمان موجود ہوں تو اندھا دھند حملہ کرنے کے بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے مسلمان محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا نقصان ملت کا نقصان اور مجاہدین کے لیے…
Read the full tafseer →معاملہ کی تحقیق کرو :
آیت 94 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا 1ِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اے ایمان والو جب تم سفر کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی غزوہ میں جائو) فَتَبَیَّنُوْا (تو ہر کام کو تحقیق کر کے کیا کرو) فتثبتوا حمزہ وعلی رحمہما اللہ نے پڑھا۔ یہ دونوں تفعل سے ہیں اور استفعال کے معنی میں ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ معاملہ کی مکمل تحقیق کرلو اور جانچ لو اور اس میں عجلت سے کام نہ لو۔ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (اور جو شخص تمہیں السلام علیکم کہے تو اس کو مت کہو کہ تو مومن نہیں) ۔
قراءت : السَّلٰمَ کو السَّلَمَ مدنی ٗ شامی ٗ حمزہ نے پڑھا…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا اذا ضربتم، کا شان نزول)
(تفسیر) 94۔:
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول بنی مرہ بن عوف کے بارے میں ہوا ۔ اس کا نام مرداس بن نھیک تھا اور وہ اہل فدک میں سے ہے یہ مسلمان ہوا تھا لیکن اس کی قوم والے اسلام نہیں لائے تھے ۔ جب قوم والوں کو مسلمانوں کے آنے کی خبر ملی تو سب بھاگ گئے مگر مرداس چونکہ مسلمان تھا یہ وہیں مقیم رہا ، جب سواروں کو دیکھا تو اسے ڈر ہوا کہ یہ کہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے علاوہ کہیں اور کوئی نہ ہوں اس لیے اس نے اپنی بکریاں پہاڑ کے کسی…
Read the full tafseer →اس آیت میں بھی قتل خطا کا بیان ہے بخاری ترمذی حاکم امام احمد بن حنبل اور طبرانی وغیرہ نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکوں کے ایک قبیلہ بنی سلیم پر جب مسلمان لوگ چڑھ کر گئے اور مشرکوں کو شکست ہوئی تو ایک شخص مرداس بن نہیک جو پہلے سے درپردہ مسلمان تھا۔ سلام علیک کہہ کر مسلمانوں کی طرف آنے لگا۔ مگر مسلمانوں نے مرداس کے سلام علیک کو خالص نہ خیال کیا بلکہ یہ خیال کیا کہ جان کے خوف سے یہ فریبی سلام علیک کرتا ہے چناچہ آخرکار اسامہ بن زید نے اس کو قتل کر ڈالا۔ اور جو کچھ اس کے پاس مال تھا وہ لے لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
آیت 94
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کرلیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے ؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →قول باری ہے (یا ایھالذین آمنوا اذاضربتم فی سبیل اللہ ۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مغانم کثیرہ۔ اے ایمان لانے والو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تودوست دشمن میں تمیز کرو اورجوتمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فورا نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے ، اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں تاآخر آیت۔
روایت کے مطابق اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضور کی طرف سے اک مہم پر بھیجے ہوئے فوجی دستے نے ایک شخص کو دیکھا جس کے ساتھ کچھ بھیڑ بکریاں تھیں، اس شخص نے سلام کرنے سے کے بعد کلمہ طیبہ ، لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ، پڑھا لیکن ایک مسلمان نے اس کا سرتن سے جدا کردیا، جب یہ دستہ…
Read the full tafseer →246 تحقیق حال کی ضرورت اور اس کا حکم : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اللہ کی راہ میں کسی سفر پر نکلو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ تاکہ مسلمان اور غیر مسلم کے بارے میں حقیقت حال تمہارے سامنے واضح اور ظاہر ہوجایا کرے۔ اور تم کسی امرمحظور میں پڑنے سے محفوظ رہا کرو۔ سو جب تک تحقیق حال سے اصل صورتحال پوری طرح واضح نہ ہوجایا کرے، اس وقت تک تم لوگ کوئی اقدام مت کرو۔ بہرکیف اس ارشاد سے مسلمانوں کے تحفظ کے پہلو سے یہ خصوصی ہدایت فرمائی گئی کہ جب تم لوگ کسی علاقے پر حملہ کرنے کے لئے نکلا کرو تو اس علاقے کے اندر رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں پوری تحقیق کرلیا کرو کہ مسلمان…
Read the full tafseer →جہاد میں قتل سے احتیاط
تشریح : اس آیت میں بڑی سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے فیصلہ کرنا جائز نہیں۔ اصل میں شروع کا زمانہ تھا۔ کیونکہ رہن، سہن، رسم و رواج، بات چیت اور زبان سب ایک ہی طرح تھا تو مسلمان اور کافر کا فرق معلوم کرنا انتہائی مشکل تھا۔ یہ غلطی خاص طور سے جہاد میں ضرور ہوجاتی، اس لیے حکم ہوا کہ جب کوئی اپنے مسلمان ہونے کے ثبوت میں السلام علیکم کہے یا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے تو پھر کسی شک و شبہ میں مت پڑو بس اس کو مسلمان سمجھ کر اس سے بہتری کا اور بھائی چارے کا سلوک کرو۔ یہ سمجھ کر اس کو قتل مت کرو کہ یہ اصل میں مسلمان نہیں۔ بلکہ اس وقت اپنی جان اور مال بچانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
رکوع نمبر 13 آیات 92 تا 96: وما کان لمومن۔۔۔ غفورا رحیما۔
اب رہی آپس کی لڑائی تو غلطی ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ورنہ مومن کو زیب ہی نہی دیتا کہ وہ مومن کو قتل کرے۔ ذاتی انا کے مسئلہ پر یا دنیاوی وراثت کے لالچ میں یا حکومت و اقتدار چیننے کے لیے یا ایک دوسرے سے ملک یا علاقہ ہتھیانے کے لیے یعنی فرد سے لے کر حکومت تک مومن کا قتل مومن کو زیب نہیں دیتا اور مسلمان مسلمان سے نہ لڑ سکتا ہے نہ لڑایا جاسکتا ہے ہاں ذاتی طور پر غلطی سے کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا تو اس کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک تو کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے کہ یہاں رقبۃ مومنہ ہے۔ یعنی ایماندار کی گردن…
Read the full tafseer →ف 1 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص بکریاں چرارہا تھا کہ مسلمانوں کا ایک سریہ (دستہ) اس کے پاس سے گزرا۔ اس نے اسلام علیکم کہ الیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر ڈالا اور اور اس کا مال لے لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری وغٖیرہ) چناچہ آنحضرت ﷺ نے مقتول کے وارثو کے پاس اس کی دیت بھیج دی اور اس کی بکریاں بھی واپس کردیں۔ (بخاری وغیرہ) اس قاتل اور مقتول کے بارے میں اختلاف ہے یا حافظ ابن عبدالبر (رح) نے الا ستصاب میں نقل کیا ہے کہ قاتل محلم بن جثامہ اور مقتول عامر بن اضبط ہے۔ آنحضرت نے محلم کے حق میں بد دعا کی اور وہ اضبط ہے۔ آنحضرت ﷺ نے محلم کے حق میں بد دعا کی اور وہ ساتویں دن مرگیا اسے تین…
Read the full tafseer →(4:94) فتبینوا۔ تم تحقیق کرلو۔ تم کھول لو۔ تبین (تفعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔
تبتغون۔ تم چاہتے ہو۔ تم ڈھونڈھتے ہو۔ ابتغاء مصدر بغی مادہ۔ البغی کے معنی ہیں۔ کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا۔
عرض۔ مال و متاع۔ سامان۔ اسباب ۔ دنیاوی مال العرض ہر وہ چیز جسے ثبات نہ ہو۔ دنیا کے لئے بولتے ہیں۔ الدنیا عرض حاضر۔ دنیا تو پیش افتادہ سازو سامان کا نام ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ (8:67) تم لوگ پیش افتادہ سازو سامان کے طالب ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔ اور یاخذون عرض ھذا الادنی (7:169) وہ اس دنیا کے مال و متاع لیتے ہیں۔ عرض کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 94
لغات القرآن : ضربتم، تم چلے۔ تبینوا، تحقیق کرو۔ القی، ڈال دیا۔ عرض، سامان۔ مغانم، مال غنیمت۔
تشریح : چونکہ چند صحابہ کرام ؓ نے سفر جہاد میں کچھ ایسے لوگوں کو قتل کردیا تھا جو السلام علیکم کہہ کہ سامنے آئے تھے اس شبہ پر کہ انہوں نے اپنی جان بچانے کیلئے السلام علیکم کہا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
السلام علیکم بلکہ کلمہ طیبہ پڑھنے والا سچا مسلم بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹا مسلم بھی۔
مسیلمہ کذاب السلام علیکم بھی کہتا تھا ، نماز روزہ کی پابندی بھی کرتا تھا اور اپنی جماعت سے پوری اذان دلواتا تھا پھر بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی وجہ سے تمام صحابہ…
Read the full tafseer →جہاد کا ذکر
شان نزول : ایک شخص مرداس بن نہیک جو پہلے سے درپردہ مسلمان تھا السلام علیک کہہ کر مسلمانوں کی طرف آنے لگا مگر مسلمانوں نے مرداس کے السلام علیک کو خالص نہ خیال کیا۔ بلکہ یہ خیال کیا کہ جان کے خوف سے یہ فریبی (مکروفریب کا) سلام علیک کرتا ہے۔ چناچہ آخر کار حضرت اسامہ بن زید ؓ نے اس کو قتل کرڈالا اور جو کچھ اس کے پاس تھا وہ لے لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ بلادریافت حال کے فقط خیال پر کسی کو مشرک سمجھ کر قتل کرنا اور اس کا مال ومتاع لے لینا اللہ کی مرضی کے سراسر خلاف ہے۔
Read the full tafseer →[59] یعنی محض جان بچانے کے لئے اظہار اسلام کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا قتل صرف اس کے اظہار اسلام سے حرام ہوجاتا ہے، اس کے باطن کی تفتیش تمہارے ذمے نہیں۔
[60] یعنی اگر مال غنیمت کی طمع تمہیں ایک مدعی اسلام کے قتل میں جلد بازی اور بےاحتیاطی کی طرف لا رہی ہے تو یاد رکھو کہ مال غنیمت کا سرچشمہ بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور وہ اس پر قادر ہے کہ وہ تمہیں اس کی بڑی سے بڑی مقدار قانون شریعت کے اتباع ہی سے عنایت فرمائے۔
[61] یعنی تمہارے اوپر بھی تو یہ دور گزر چکا ہے کہ تمہارے پاس اسلام کا ثبوت بجز زبانی دعوے کے اور کیا تھا۔
تمہارے اخلاص قلب اور حسن اعمال کی شہادت تو بہت بعد کو پیش ہوئی۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ جہاد کے سلسلہ میں بعض دفعہ ایسے لوگ مل جاتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے اور وہ السلام علیکم کہتے ہیں اور تم مال غنیمت کی ہوس میں انہیں کافر سمجھ کر قتل کردیتے ہو یہ درست نہیں ، مسلمان کے متعلق پوری احتیاط چاہئے خوب دیکھ بھال لو کہ کوئی شخص تمہاری بدظنی کا شکار نہ ہوجائے تھوڑی سی غفلت میں ایک مسلمان کا خون نہ بہہ جائے ۔
(آیت) ” فتبینوا “ میں ایک باریک نکتہ بھی مضمر ہے کہ بدظنی بری چیز ہے مگر حسن ظن کے معنی کا مل اطمینان کے نہیں باوجود مشرک آدمی کو مسلمان سمجھنے کے تحقیقات وتجسس جاری رکھو ۔
حل لغات :
توبۃ من اللہ : یہاں توبہ سے مراد تخفیف ہے ۔ عرض : سامان ۔ مغانم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 1 اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سفر کیا کرو تو ہر کام کو کرنے سے پہلے تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص تم کو سلام علیک کرے اور اپنے انقیاد و اطاعت کا تمہارے سامنے اظہار کرے تم اس کو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے یعنی تو اپنی جان بچانے کو اپنے اسلام کا اظہار کر رہا ہے ورنہ تو دل سے مسلمان نہیں ہے دراں حالیکہ تم دنیوی زندگی کا ساز و سامان چاہتے ہو اور تمہاری خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا کا ساز و سامان حاصل کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے پاس بکثرت غنیمت کے مال موجود ہیں اور آخر یہ بھی تو سوچو کہ تم خود بھی تو اس زمانے سے پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا لہٰذا…
Read the full tafseer →ف 4۔ جیسے کلمہ پڑھنا یا مسلمانوں کے طرز پر سلام کرنا۔
5۔ یہ حکم سفر کے ساتھ خاص نہیں۔
Read the full tafseer →سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ہدایت کہ جتنا معاملہ اہم ہوگا اتنی ہی سوچ بھی گہری ہوگی
164: آیت کا حکم عام ہے اور قرآن کریم سب مسلمانوں کو مخاطب کرکے ہدایات دیتا ہے۔ تاہم اس باب میں کسی خاص واقعہ کی طرف نسبت اس لیے بیان کی جاتی ہے کہ اس سے بات مزید واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے انسانوں سے بھی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں اور ان سے معصود صرف انبیاء کرام ہی کی ذات ہوسکتی ہے جن کا تعلق براہ راست اللہ سے ہوتا ہے۔ اس کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت اسامہ بن زید ؓ کی قیادت میں نبی کریم ﷺ نے ایک سریہ روانہ فرمایا۔ کفار کو جب لشکر اسلام کی آمد کی خبر ملی تو وہ بھاگ گئے لیکن…
Read the full tafseer →CommentarySequence of Verses
Stern warning has been given against the killing of a Muslim in previous verses. Now it is being said that the apparent profession of Islam is all that is needed for a Muslim to be regarded as a Muslim obligated to observe the laws of the Shari’ ah. So, it is necessary to abstain from the killing of a person who professes Islam. Furthermore, it is also not permissible to dig deep into his inward state of belief just because of some suspicion and to keep waiting for a definite proof of his certitude in faith in order that Islamic laws can be applied in his case.…
Read the full tafseer →126.In the early days of Islam the greeting as-salam 'alaykum ('peace be on you') was a distinguishing symbol of the Muslims. When a Muslim greeted another Muslim with this expression it signified that he was a member of the same community, that he was a friend and well-wisher, one who wished peace and security, from whom he need entertain no fear of hostility and towards whom, in return, he should not behave with hostility. The Islamic greeting occupied virtually the same position among Muslims as the passwords used by sentries to distinguish friend from foe. This was particularly important…
Read the full tafseer →