Explained with ayahs 92–93
قتل مسلم، قصاص و دیت کے مسائل اور قتل خطا
ارشاد ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ کسی حال میں اپنے مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے صحیح میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے کسی کو قتل کردیا ہو، دوسرے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے دین اسلام کو چھوڑ دینے والا جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہوجائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضا کا حق ہے، اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
سورة النِّسَآء 120
یہاں ان منافق مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے جن کے قتل کی اوپر اجازت دی گئی ہے، بلکہ ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو یا تو دارالاسلام کے باشندے ہوں، یا اگر دارالحرب یا دارالکفر میں بھی ہوں تو دشمنان اسلام کی کارروائیوں میں ان کی شرکت کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس وقت بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی حقیقی مجبوریوں کی بنا پر دشمن اسلام قبیلوں کے درمیان ٹھیرے ہوئے تھے۔ اور اکثر ایسے اتفاقات پیش آجاتے تھے کہ مسلمان کسی دشمن قبیلہ پر حملہ کرتے اور وہاں نادانستگی میں کوئی مسلمان ان کے ہاتھ سے مارا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس صورت کا حکم بیان فرمایا ہے جبکہ غلطی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
خلاصہ تفسیر
اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو (ابتداء) قتل کرے لیکن غلطی سے (ہو جائے تو اور بات ہے) اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس پر (شرعاً) ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا (واجب) ہے اور خوں بہا (بھی واجب) ہے جو اس (مقتول) کے خاندان والوں کو (یعنی ان میں جو وارث ہیں بقدر حصص میراث) حوالہ کردی جائے (اور جس کے کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال قائم مقام ورثہ کے ہے) مگر یہ کہ وہ لوگ (اس خوں بہا کو) معاف کردیں (خواہ کل یا بعض اتنی ہی معاف ہوجاوے گی) اور اگر وہ (مقتول خطاً) ایسی قوم سے ہو جو تمہارے مخالف ہیں (یعنی حرب یہیں اور انہی میں کسی وجہ سے رہتا تھا) اور وہ شخص خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
92۔ 93۔ دار الحرب کے مخلص مسلمانوں کی جان کا تحفظ : اوپر جو احکام بیان ہوئے ہیں اگرچہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان التباس رفع کردینے کے لیے کافی تھے لیکن کفار کے علاقوں میں بہت سے مخلص مسلمان بھی تھے جو خود تو ہجرت کے دل سے آرزو مند تھے لیکن مجبوریوں نے ان کی راہ روک رکھی تھی۔ جنگ پیش آجانے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ مبادا ان کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کوئی گزند پہنچ جائے۔ اس وجہ سے قرآن نے قتل مومن کے جرم کی سنگینی بھی واضح فرما دی اور اس سلسلے میں ایسے واضح احکام بھی دے دیے جن کے بعد کسی خدا ترس مسلمان کے لیے اس معاملے میں کسی بےاحتیاطی و سہل انگاری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پہلے…
Read the full tafseer →92۔ 1 یہ نفی۔ نہی کے معنی میں ہے جو حرمت کی متقاضی ہے یعنی ایک مومن کو قتل کرنا ممنوع اور حرام ہے تمہارے یہ لائق نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذاء پہنچاؤ ' یعنی حرام ہے۔
92۔ 2 غلطی کے اسباب و وجوہ متعدد ہوسکتے ہیں مقصد ہے کہ نیت اور ارادہ قتل کا نہ ہو۔ مگر بوجوہ قتل ہوجائے۔
92۔ 3 یہ قتل خطا کا جرمانہ بیان کیا جا رہا ہے جو دو چزیں ہیں۔ ایک بطور کفارہ و استغفار ہے یعنی مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور دوسری چیز بطور حق العباد کے ہے اور وہ ہے مقتول کے خون کے بدلے میں جو چیز مقتول کے وارثوں کو دی جائے، وہ دیت کی مقدار حدیث کی روح سے سو اونٹ یا اسکے مساوی قیمت سونے چاندی یا کرنسی کی شکل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
56: غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یا تو بےخیالی میں گولی چل گئی یا مارنا تو کسی جانور کو تھا مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مرگیا، اس کو اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں، اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک توقاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور ایک دیت، کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں، اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔
57: اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو، اگر اسے غلطی سے قتل کردیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔
58:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔
ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے…
Read the full tafseer →3 اس موقع پر قتل خطا کے احکام بیان فرمائے جاتے ہیں اور یہ کہ کلمہ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اگر غلطی سے مارا گیا تو مجبوری کی بات ہے اور اس کے احکام یہ ہیں اور اسی کے ذیل میں مجاہدین کی فضیلت اور دارکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت بیان فرمائی جاتی ہے۔ فائدہ : قتل خطا یعنی مسلمان کو غلطی سے قتل کردینے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً غلطی سے مسلمان کو شکار سمجھ کر مار ڈالا یا تیر اور گولی شکار پر چلائی چوک کر کسی مسلمان کے جا لگی۔ ایک صورت قتل خطا کی یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کافروں میں ہو اور اس کو کوئی مسلمان کافر سمجھ کر بوجہ لا علمی قتل…
Read the full tafseer →اب ایک اور معاشرتی مسئلہ آ رہا ہے۔ اس وقت در اصل پورے عرب کے اندر ایک بھٹی دہک رہی تھی ‘ جگہ جگہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں ‘ میدان لگ رہے تھے ‘ معرکے ہو رہے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں تو صرف بڑے بڑے معرکوں اور غزوات کا ذکر ہوا ہے مگر حقیقت میں اس وقت پورا معاشرہ حالت جنگ میں تھا۔ ایک چومکھی جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔ ان آیات سے اس وقت کے عرب معاشرے کی اصل صورت حال اور اس قبائلی معاشرے کے مسائل کی بہت کچھ عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں فرض کریں ‘ ایک شخص نے کسی دوسرے کو قتل کردیا۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ قاتل کہتا ہے کہ میں نے عمداً ایسا نہیں کیا ‘ میں نے تو شکار کی غرض سے تیر…
Read the full tafseer →127 قتل خطا کی صورتیں اور کفارہ :۔ اس آیت میں قتل خطا کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ قتل خطا کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً تیر یا پتھر مارا تو شکار کو تھا لیکن وہ کسی مسلمان کو لگ گیا اور وہ مرگیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماری تو کوئی چیز عمداً ہی تھی مگر مارنے والے کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ اس ہلکی سی ضرب سے مر ہی جائے گا۔ تیسری یہ کہ لڑائی وغیرہ کسی ہنگامے میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالے۔ جیسا کہ جنگ احد میں شکست کے بعد مسلمانوں نے بدحواسی کے عالم میں سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ کے والد سیدنا یمان ؓ کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا۔ حالانکہ سیدنا حذیفہ ؓ یہ کہتے ہی رہے کہ یہ تو میرے والد ہیں مگر اس…
Read the full tafseer →259 ۔ (خواہ وہ غلطی غصہ میں ہوئی ہو یا نفس عمل میں) شرک، کفر وغیرہ اعتقادی معصیتوں سے قطع نظر، عملی گناہوں میں انسان کے لئے اکبر الکبائر قتل مومن ہے۔ اتنے بڑے گناہ کی جسارت کسی مومن سے بہ ثبات ہوش وسلامتی عقل بہت مستبعد ہے۔ ہاں غلطی اور دھوکے ہی سے ہوجائے تو اور بات ہے۔ (آیت) ” ان یقتل مومن ا “۔ جرم قتل کی فقہاء نے دو قسمیں کی ہیں ایک قتل عمد جس میں آلہ قتل سے کام لیا گیا ہو دوسرے قتل شبہ عمد جس میں کام آلہ قتل سے نہ لیا گیا ہو۔ جو قتل کسی حجت شرعی کی بنا پر، مثلاقصاص میں کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر جرم قتل کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ (آیت) ” الاخطئا “۔ فقہاء نے قتل خطا کی دو بڑی قسمیں کی ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →آیت نمبر 92 تا 96
ترجمہ : کسی مومن کے لئے یہ روا نہیں کہ کسی مومن کو قتل کرے یعنی مومن کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس سے مومن کا قتل سرزد ہو، سوائے غلطی کے یعنی بلا ارادہ غلطی سے قتل ہوجائے (تو اور بات) اور جو کوئی مومن غلطی سے قتل کردے بایں طور کہ نشانہ غیر مومن مثلاً شکار یا درخت کو لگایا مگر مومن کو لگ گیا یا کسی ایسے آلہ سے قتل کردیا کہ جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا تو اس پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہے اور خون بہا بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائیگا، یعنی مقتول کے ورثاء کو، سوا اس کے کہ اسکے (عزیز) دیت معاف کردیں، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ دیت سو (100) اونٹ ہیں بیس (20) بنت مخاض،…
Read the full tafseer →وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا . اور کسی مؤمن کو زیبا نہیں کہ کسی ایماندار کو (ناحق) قتل کر دے۔ مجاہد اور سدی کی روایت سے بھی مذکورۂ بالا واقعہ مروی ہے۔ ابن اسحاق اور ابویعلیٰ اور حارث بن ابی اسامہ اور ابو مسلم کحی نے قاسم بن محمد کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ مؤمن کے ایمان کی شان یہ نہیں یعنی نہ اس سے یہ فعل سرزد ہوا نہ سرزد ہوتا ہے نہ اس کے ہاتھوں سے کسی مؤمن کا قصداً ) ناحق قتل ہوتا ہے۔ قتل مؤمن دینی ممنوعات میں سرفہرست ہے اور ایمان کا تقاضا ایسی حرکت سے روکتا ہے۔ کلام ظاہری…
Read the full tafseer →(92) عیاش بن ربیعہ مومن کو حارث بن زید مومن کا قتل کرنا جائز نہیں اور اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو قاتل پر ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے اور مقتول کے وارثوں کو پورا خون بہا دینا بھی واجب ہے مگر یہ کہ اولیاء مقتول (مقتول کے وارث) معاف کردیں۔
اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو تو قاتل پر صرف غلام کا آزاد کرنا واجب اور حارث بن یزید ؓ کی قوم رسول اللہ ﷺ کی دشمن تھی اور اگر مقتول کی قوم معاہدہ وصلح والی ہو تو مقتول کے وارثوں کو پوری دیت دینا بھی اور ایک مومنہ باندی یا غلام کا آزاد کرنا بھی واجب ہے اور جسے آزاد کرنے کو نہ ملے تو وہ لگاتار دو ماہ کے روزے اسطرح رکھے کہ ایک دن کا روزہ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــــًٔـا ۚ۔۔۔ کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی (جس سے جنگ ہو) سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا، اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے قتل خطا کے احکام بیان فرما دیے۔ (رازی) آیت میں ”الا“ بمعنی ”لٰکِنْ“ ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے، یعنی کسی بھی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے، جس کا بعد میں ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کسی آدمی کا خون، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 92۔
اس آیت میں بیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطا “۔ یہ اہم احکامات کے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مومن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر خطا سے، (آیت) ” وما کان “۔ یہ نفی کے معنی پر نہیں بلکہ یہ تحریم اور نہی کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) اگر یہ نفی کی بنا پر ہوتا تو کبھی کوئی مومن نہ پایا جاتا جو کسی مومن کو قتل کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کی نفی کردے اس کو وجود جائز نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ماکان لکم ان…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطئا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو عہد لیا ہے مومنوں سے کسی کے یہ لائق نہیں (کہ اس عہد کی خلاف ورزی کرے) ۔
(2) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطئا “ سے مراد ہے کہ کوئی مومن کسی مومن کو قتل نہ کرے۔
(3) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حرث بن یزید بن نبی ثہ جو بنو عامر بن لوئی میں سے تھے عیاش بن ابی ربیعہ کو اذیتیں دیا کرتا تھا ابو جہل کے ساتھ مل کر پھر یہ ہجرت کرتے ہوئے نبی ﷺ کی طرف نکلے حرۃ میں ان کی عیاش سے ملاقات ہوگئی…
Read the full tafseer →[ وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے (روا) ] [ لِمُؤْمِنٍ : کسی مومن کے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـقْتُلَ : وہ قتل کرے ] [ مُؤْمِنًا : کسی مومن کو ] [ اِلاَّ : مگر ] [ خَطَئًا : غلطی سے ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [ قَتَلَ : قتل کیا ] [ مُؤْمِنًا : کسی مومن کو ] [ خَطَئًا : غلطی سے ] [ فَتَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ : تو کسی مومن گردن کا آزاد کرنا ہے ] [ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ: اور سپرد کیا ہوا خون بہا ہے ] [ اِلٰٓی اَہْلِہٖٓ : اس کے گھر والوں کی طرف ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّصَّدَّقُوْا : وہ اپنا حق چھوڑ دیں ] [ فَاِنْ کَانَ : پھر اگر وہ تھا ] [ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّــکُمْ :…
Read the full tafseer →قتل خطا کے مسائل
گزشتہ آیات میں قتل و قتال کا ذکر تھا یہاں قتل کے کچھ دنیوی اور اخروی احکام بیان فرمائے ہیں، قتل عمد میں تو قصاص ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کے رکوع 21 میں گزر چکا ہے اور قتل خطا میں دیت اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے، مومن غلام نہ ملے تو دو ماہ کے لگا تار روزے رکھنا فرض ہے، اولاً تو یہ فرمایا کہ کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے، قتل کرنا ہر اس جان کا گناہ کبیرہ ہے جس کی حفاظت شرعاً واجب ہو اس میں ذمی اور معاہد کا قتل بھی داخل ہے۔ جب ذمی اور معاہد کا قتل بھی حرام ہے تو مومن کا قتل کرنا بطور اولیٰ حرام ہوا۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَلاَ تَقْتُلُوا…
Read the full tafseer →حکم بست وچہارم بہ قتل خطا۔
قال تعالی، ومان کان لمومن ان یقتل۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔
ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کے قتل کی اجازت دی تھی اب ان آیات میں مومنین کے قتل کی ممانعت فرماتے ہیں اور چونکہ بعض اوقات لڑائی میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو غلطی اور خطاء سے کافر سمجھ کر مار ڈالتا ہے اس لیے ان آیات میں کچھ احکام قتل خطاء کے متعلق بیان فرماتے ہیں اور اسی ذیل میں دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت کو بھی بیان فرماتے ہیں۔
شان نزول۔ اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے تین روایتیں نقل کی ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
پہلی روایت۔ یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
ٖف 67 پانچواں حکم سلطانی (راستہ میں خیال رکھنا کہیں غلطی سے تمہارے ہاتھوں کوئی مسلمان قتل نہ ہوجائے اور اگر خطاءً ایسا ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے) فرمایا یہ تو مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو عمداً اور جان بوجھ کر قتل کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ہاتھوں غلطی اور خطا سے مومن قتل ہوجائے۔ قتل خطا کی بڑی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ قصد و ارادہ میں غلطی سے قتل مسلم واقع ہو یا عمل کی غلطی سے پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ دور سے کسی آدمی کو دیکھا اور سمجھا کہ وہ حربی کافر ہے اور اس پر فائر کردیا لیکن در اصل وہ مومن تھا دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ کافر کو نشانہ بنا کر تیر پھینکا یا شکار پر فائر کیا مگر وہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
پہلی آیات میں جہاد کی ترغیب اور مجاہدین کی فضیلت کا ذکر تھا۔ اور کوتاہی کرنے والوں کو منافقین کے زمرہ میں شمار کیا گیا تھا۔ اور انکی مذمت بیان کی گئی تھی اس کے علاوہ چاپلوسی کرنے ولاے مفاد پرست کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان کے بارے میں دورائیں نہ رکھیں بلکہ ان کو دشمن ہی سمجھیں جب تک کہ یہ ایمان قبول کر کے ہجرت نہ کرلیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے منافقین کے ساتھ کھلے کافروں جیسا سلوک کیا جائے۔
یہ تو کفار کے ساتھ سختی کرنے کا حکم تھا کہ انہیں جہاں بھی پاؤ ، پکڑ لو اور مارو۔ اب اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جان کی…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــًٔـا 0ۚ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــــًٔا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِيَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓى اَھْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّصَّدَّقُوْا 0ۭ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَھُوَمُؤْمِنٌ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ 0ۭ وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓى اَھْلِہٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ 0ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ 0ۡتَوْبَۃً مِّنَ اللہِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا 92
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
ترکیب : ان یقتل اسم کان لمومن خبر اے ما شان المومن قتل المومن فی ای حال الاخطاء الا فی حال الخطاء اور ممکن ہے کہ الا بمعنی لکن ہو ومن قتل شرط فتحریر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالواجب وقیل خبرہ محذوف ای فعلیہ۔ تحریر مضاف رقبۃ مومنۃ مضاف الیہ ودیۃ معطوف ہے تحریر پر جملہ جواب شرط الا ان یصدقوا استثناء منقطع ہے وقیل متصل والمعنی فالواجب دیۃ فی کل حال الا فی حال التصدق فان شرطیہ کان اس کا اسم المقتول من قوم خبر عدولکم اس کی صفت وھو مومن جملہ حال ہے المقتول سے یہ سب شرط فتحریر الخ جواب۔
تفسیر : پہلی آیت میں ان لوگوں کے قتل کی اجازت تھی کہ جو مسلمانوں میں آکر مسلمان اور کافروں میں جا کر ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا ج وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ط فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ط وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ز تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
” اور کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کافروں اور منافقوں کو قتل کرنے کا حکم ہے لیکن مومن کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اگر جنگ یا کسی ہنگامی کیفیت میں مومن ‘ مومن کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو اس کی سزا کا ذکر۔ یہاں منافق اور مومن کی شخصیت کا بھی موازنہ کیا گیا ہے۔
اسلام میں انسانی شرف اور اس کی جان کی حرمت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ اس کی تفصیل ” المائدہ آیت 32“ میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں پہلی آیات میں منافقوں اور کفار کو حالت جنگ میں قتل کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر غلط فہمی کی بنیاد پر مومن کو قتل…
Read the full tafseer →کافر کا خون مباح ‘ مومن کا حرام :
آیت 92: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ (کسی مسلمان کو زیبا اور مناسب نہیں) یعنی اس کے لئے صحیح و درست نہیں اور نہ اس کے حال کے لائق ہے۔ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا (کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے) یعنی ابتدائی طور پر بلا کسی قصاص کے۔ اس میں بتلا دیا کہ مومن اور کافر برابر نہیں۔ کافر کا خون تو مباح ہے۔ نہ کہ مومن کا۔ اِلاَّ خَطَأً (مگر غلطی سے) یعنی غلطی کی وجہ سے۔
نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ اور لکن کے معنی میں ہے عبارت اس طرح ہوگی۔ لکن ان وقع خطأً ۔ لیکن اگر غلطی سے مار ڈالے۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ مصدر کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی الا قتلاً خطأً ، مگر وہ قتل جو غلط…
Read the full tafseer →(وما کان لمؤمن کی آیت کا شان نزول)
(تفسیر) 92۔:
(آیت)” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا “۔ یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لے آیا پھر اس کو اندیشہ ہوا کہ گھر والوں سے میرا مسلمان ہونا مخفی نہیں رہے گا اس لیے بھاگ کر مدینہ چلا گیا اور وہاں پہنچ کر ایک گڑھی میں قلعہ بند ہوگیا ، عیاش کے جانے کے بعد اس کی ماں کو بڑی بےتابی ہوئی اور اس نے اپنے دونوں بیٹوں ابوجہل اور حارث سے (جو ہشام کے نطفے سے تھے) کہا اللہ کی قسم جب تک تم عیاش کو نہ لاؤ گے میں کسی چھت کے سایہ میں نہ جاؤں گی نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی ، ماں کی قسم سن کر…
Read the full tafseer →ابن جریر ابی حاتم اور ابن اسحاق وغیرہ نے جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ مجاہد اور سعید بن جبیر سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل کا سوتیلا بھائی عیاش ابن ابی ربیعہ ؓ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا۔ لیکن مشرکین کے خوف سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے۔ تو عیاش بن ابی ربیعہ ؓ بھی مدینہ میں آن کر ایک جگہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے چھپ کر رہنے لگا۔ عیاش ؓ کی ماں نے عیاش ؓ کے غم میں گھر کا رہنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں کا یہ حال دیکھ کر حارث بن ہشام حارث بن یزید عامری اور ابو جہل عیاش ؓ کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
آیت 92
آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لئے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور…
Read the full tafseer →قتل خطا کا بیان
قول باری ہے (وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا، کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے الایہ کہ اس سے چوک ہوجائے) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مقام میں لفظ کان کے معنی میں اختلاہے ، قتادہ کا قول ہے کہ فقرے کا مفہوم یہ ہے اللہ کے حکم اور اس کے امر میں یہ نہیں تھا، دوسرے حضرات کا قول ہے اس کے لیے قتل کے جواز کا سبب نہیں تھا۔
کچھ اور حضرات کا قول ہے ، ماضی میں بھی اس کے لیے یہ نہیں تھا جیسا کہ اب نہیں ہے ، اسی طرح لفظ، الا، کے معنی کے بارے میں بھی اختلاف ہے کچھ لوگوں کا قول ہے کہ استثنا ، منقطع ہے اور لکن کے معنوں میں ہے مفہوم یہ ہے لیکن ایک مومن دوسرے مومن کو کبھی…
Read the full tafseer →233 قتل مومن کسی مومن کا کام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کسی مومن کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے کہ ایمان کے باعث اس کا جان و مال محفوظ ہوگیا۔ اور اس قدر محفوظ کہ اس پر دست درازی کرنا ایک نہایت سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ بہت سی صحیح احادیث میں وارد ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کا خون جائز نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک وجہ سے۔ کہ یا اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو مارا جائے۔ یا اس نے احصان کے بعد زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ یا وہ اسلام سے پھر گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
غلطی سے یا جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنے کی سزا
تشریح : مومن کو قتل کرنا بڑا سخت گناہ ہے، لیکن اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا کی رقم ادا کرنا ہوگی اگر وارث خون بہا معاف کردیں تو ٹھیک ہے۔
اگر مسلمان مقتول کسی ایسی قوم کا فرد ہو جس سے تمہاری دشمنی ہو تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام مومن آزاد کرنا ہوگا اور اگر ایسی قوم کا فرد تھا کہ جس کے ساتھ امن کا معاہدہ ہو تو پھر ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا اور خون بہا اس کے وارثوں کو دینا ہوگا اگر غلام کی توفیق نہ ہو تو پھر توبہ کے طور پر دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہ تو اللہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
رکوع نمبر 13 آیات 92 تا 96: وما کان لمومن۔۔۔ غفورا رحیما۔
اب رہی آپس کی لڑائی تو غلطی ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ورنہ مومن کو زیب ہی نہی دیتا کہ وہ مومن کو قتل کرے۔ ذاتی انا کے مسئلہ پر یا دنیاوی وراثت کے لالچ میں یا حکومت و اقتدار چیننے کے لیے یا ایک دوسرے سے ملک یا علاقہ ہتھیانے کے لیے یعنی فرد سے لے کر حکومت تک مومن کا قتل مومن کو زیب نہیں دیتا اور مسلمان مسلمان سے نہ لڑ سکتا ہے نہ لڑایا جاسکتا ہے ہاں ذاتی طور پر غلطی سے کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا تو اس کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک تو کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے کہ یہاں رقبۃ مومنہ ہے۔ یعنی ایماندار کی گردن…
Read the full tafseer →ف 2 کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو قتل خطا کے احکام بیان فرمادیئے (کبیر) ّآیت میں الا بمعنی لکن ہے اور مستثنی منقطع ہے یعنی کسی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے جس کا بعد میں مذکور ہے آیت کے سبب نزول میں مختلف روایات مذکور ہیں مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربعیہ مسلمان ہونے کے بعد ہجرت کر مدینہ چلا آیا اور یہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہل کا واقعہ ہے چناچہ ابو جہل اور حارث بن زید بن ابی اینسہ مدینہ آکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔
اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت نمبر 92-93
لغات القرآن : خطاء، غلطی۔ تحریر، آزاد کرنا۔ رقبۃ، گردن۔ دیۃ، خون بہا، خون کے بدلے میں مقرر شدہ معاوضہ مسلمۃ، سپرد کی جائے گی۔ ان یصدقوا، یہ کہ وہ معاف کردیں۔ متتابعین، مسلسل، پے در پے۔ متعمد، جان بوجھ کر، بالقصد۔
تشریح : اسلام وہ دین ہے جس میں تعزیری قوانین بڑے مرتب طریقے سے بتائے گئے ہیں۔ ان دو آیات میں قتل کی سزا سے بحث ہے۔ اسلام نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا ہے۔ بلکہ قتل قتل میں اور اس کی سزا سزا میں فرق کیا ہے۔ قتل کی دو ہی قسمیں ہیں۔ قتل عمد یعنی قتل بالقصد۔ دوسرے قتل بالخطاء یعنی قتل بلاقصد۔ اور مقتول کی بھی چار ہی قسمیں ہیں۔ مومن ہ ویا ذمی کافر ہو یا مصالح (اور…
Read the full tafseer →قتل خطا کا ذکر اور مسلمان کے قاتل کو ہمیشہ کی دوزخ کی سزا
شان نزول : اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل کا سوتیلا بھائی عیاش بن ابی ربیعہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا لیکن مشرکین کے خوف سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو عیاش بھی مدینہ میں آکر ایک جگہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے چھپ کر رہنے لگا۔ عیاش کی ماں نے عیاش کے غم میں گھر کا رہنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں کا یہ حال دیکھ کر حارث بن ہشام، حارث بن زید عامری اور ابوجہل، عیاش کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگا کر پھر اس کو مکہ میں لے گئے، اور اس کو بہت مارا اور طرح طرح کی اذیت دی، اور حارث بن یزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
[58] دیت کی مقدار سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دو ہزار بکریاں سنت سے ثابت ہے۔ اگر قاتل دوسری شکل میں خوں بہا ادا کرنا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے متعین کی جائے گی۔
Read the full tafseer →خون بہا :
(ف 2) (آیت) ” وماکان لمؤمن “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی شان کے شایان نہیں کہ اس کا ہاتھ کسی مسلمان پر اٹھے بھول چوک ہوجائے تو دوسری بات ہے ورنہ مسلمان ہرگز مسلمان پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔ جہاں وہ کفر کے لئے صاعقہ جان سوز ہوتا ہے مسلمان کے لئے نسیم جاں فزا (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔
اس کی ساری عداوتیں اور دشمنیاں کافروں اور منکروں کے لئے ہیں اور مسلمان کے لئے اس کا وجود رافت ورحمت ہے حتی الوسع وہ کوشش کرتا ہے کہ مسلمان کے ساتھ کوئی اختلاف پیدا نہ ہو ۔
قتل کی تین صورتیں ہیں (1) عمد (2) شبہ عمد (3) خطائ۔ عمد سے مراد یہ ہے کہ قصدا آلات قتل سے مارا جائے ۔
شبہ عمد سے مقصد یہ…
Read the full tafseer →ف 1 اور کسی مومن کو یہ زیبا نہیں اور کسی مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق بغیر کسی حق شرعی کے مار ڈالے مگر یہ کہ غلطی میں ایسا ہوجائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے مار ڈالے تو اس قاتل کے ذمہ شرعاً ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور نیز مقتول کے اہل یعنی اس کے وارثوں کو خون بہا پہنچانا اور ادا کرنا ہے الایہ کہ وہ ورثائے مقتول اس خوں بہا کو خیرات یعنی معاف کردیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا مگر خطا کی حالت میں ایسا ہوجائے تو معذوری ہے پھر اگر خطاء کسی سے ایسا ہوجائے۔ جیسا کہ عیاش ابن ربیعہ نے ایک مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا تو…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس آیت میں خطاء سے مراد غیر عمد ہے۔
Read the full tafseer →کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں اور اتفاقا قتل ہوجائے تو اس کی سزا ؟
158: کسی مومن کے لیے یہ درست اور جائز نہیں یعنی مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ اس فعل شنیع کا بسلامتی ہوش و حواس ارتکاب کرے کیونکہ کسی مومن کا عمدا قتل کرنا سارے گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ ہاں ! یہ الگ بات ہے کہ بےارادہ اور نادانستہ اس سے یہ جرم سرزد ہوجائے اس اسلوب بیان سے واضح ہوگیا کہ یہ جرم معمولی قسم کا نہیں بلکہ نہایت سنگین قسم کا جرم ہے۔ کسی مومن سے اس کا صدور حد درجہ قبیح ہے اور قتل عمد کا ذکر آگے آرہا ہے۔
خطا کیا ہے ؟ اگر قصور و ارادہ کے بغیر کوئی کام ہوجائے تو اسے خطا کہتے ہیں اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ جنگ جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
Commentary
Sequence of Verses
Linked with earlier verses dealing with fighting and killing, all forms of killing, in the first instance, are eight in number because the person killed is covered by one of the four conditions which follow. Either, he is a Muslim; or, he is a Dhimmi (a free, protected, non-Muslim resident of a Muslim state); or, he is beneficiary of a peace pact and has been assured of the protection of his life, property, honour and religion; or, he is a belligerent disbeliever. Then, killing is of two types: intentional, or accidental. Thus, we see that there are only eight…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
120. The hypocritical confessors of Islam mentioned here are distinct from those whom the Muslims may kill. The reference here is to Muslims who are either residents of the Domain of Islam (Dar al-Islam) or to those who live in the Domain of War or of Unbelief (Dar al-Harb or Dar al-Kufr) but against whom there is no proof of actual participation in the hostile activities with the enemies of Islam. In the time of the Prophet (peace be on him) there were many people who had embraced Islam and yet, because of genuine difficulties, were living among tribes hostile to Islam. It occasionally…
Read the full tafseer →