An-Nisaa 4:92

An-Nisaa · from ayah 92

4:92

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَأً ۚ— وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤی اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ؕ— فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ؕ— وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤی اَهْلِهٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۚ— فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ؗ— تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا ۟وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ يَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَــئًا‌ ۚ وَمَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَــئًا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ وَّدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَهۡلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّصَّدَّقُوۡا‌ ؕ فَاِنۡ كَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّـكُمۡ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ مِنۡ قَوۡمٍۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّيۡثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ وَ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ‌ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ تَوۡبَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And never is it for a believer to kill a believer except by mistake. And whoever kills a believer by mistake - then the freeing of a believing slave and a compensation payment presented to the deceased's family [is required] unless they give [up their right as] charity. But if the deceased was from a people at war with you and he was a believer - then [only] the freeing of a believing slave; and if he was from a people with whom you have a treaty - then a compensation payment presented to his family and the freeing of a believing slave. And whoever does not find [one or cannot afford to buy one] - then [instead], a fast for two months consecutively, [seeking] acceptance of repentance from Allah. And Allah is ever Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 13 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:92

کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے چوک ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خونبہا دے، الا یہ کہ وہ خونبہا معاف کر دیں لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیرمسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا پھر جو غلام نہ پائے وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے یہ اِس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی ﻻزمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا ﻻزم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دسرے مسلمان کو قتل کرے، الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں) ۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا کر مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر (بغیر قصد) غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام / باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کسی مومن کا کبھی یہ کام نہیں کہ کسی مومن کو قتل کرے مگر غلطی سے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کرنا اور دیت دینا ہے، جو اس کے گھر والوں کے حوالے کی گئی ہو، مگر یہ کہ وہ صدقہ (کرتے ہوئے معاف) کردیں۔ پھر اگر وہ اس قوم میں سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور وہ مومن ہو تو ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، اور اگر اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی عہدو پیمان ہو تو اس کے گھر والوں کے حوالے کی گئی دیت ادا کرنا اور ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، پھر جو نہ پائے تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھنا ہے۔ یہ بطور توبہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور اگر کوئی غلطی سے کسی مومن کو قتل کردے تو وہ ایک مومن غلام آزاد کرے اور اس کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر وہ مقتول مومن تو تھا مگر تمہاری دشمن قوم سے تھا تو (اس کا کفارہ) صرف ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر ایسی قوم سے ہو جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے تو پھر وارثوں کو خون بہا بھی دینا ہوگا اور مومن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا، پھر اگر قاتل کو مومن غلام آزاد کرنے کا مقدور نہ ہو یا مل ہی نہ رہا ہو تو متواتر دو ماہ کے روزے رکھے۔ (اس گناہ پر) اللہ سے توبہ کرنے کا یہی طریقہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کسی مومن کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کے ذمہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور خوں بہا ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ پس اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد ہو لیکن وہ بذات خود مسلمان ہو تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد ہے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو خوں بہا بھی ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی۔ جس کو یہ استطاعت نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے۔ اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کسی مومن کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ قتل کرے کسی مومن کو، مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے، اور جس نے قتل کردیا کسی مومن کو غلطی سے تو اس کے ذمے ہے آزاد کرنا ایک ایمان دار گردن کا، اور خون بہا بھی، جو کہ حوالے کرنا ہوگا اس (مقتول) کے وارثوں کو، الا یہ کہ وہ اس کو معاف کردیں اپنی خوشی سے لیکن اگر وہ (مسلمان مقتول) کسی ایسی قوم سے ہو جو کہ تمہاری دشمن (اور تم سے برسر پیکار) ہو، اور وہ شخص خود مسلمان ہو تو صرف ایک مسلمان گردن (غلام یا لونڈی) کو آزاد کرنا ہوگا ، اور اگر وہ کسی ایسی قوم سے ہو جس سے تمہارا معاہدہ ہے، تو پھر خون بہا بھی ہوگا جو کہ حوالے کرنا ہوگا اس کے وارثوں کو، اور ایک ایماندار گردن (غلام یا لونڈی کا) آزاد کرنا بھی، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو اس کے ذمے روزے ہیں دو ماہ کے لگاتار، اللہ کے یہاں توبہ کے لیے، اور اللہ (تعالیٰ) بڑا علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کسی مومن کے شایان نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کردے بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کرڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا (اس پر واجب ہے) اور خون بہا بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ سو اس کے کہ وہ لوگ (خود ہی) اسے معاف کردیں۔ تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآنحالیکہ (وہ بذات خود) مومن ہے تو ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا (واجب ہے) ۔ اور اگر ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے۔ تو خون بہا واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائے گا اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا (بھی) ۔ پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگا تار روزے رکھنا (واجب ہے) یہ توبہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا اِلاّ یہ کہ وہ معاف کردیں اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کو اور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا پھر جو یہ (غلام آزاد) نہ کرسکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ (قبول کرنے کا ذریعہ) ہے اور یقیناً اللہ تو علیم و حکیم ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کسی مومن کے یہ لائق نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے اس کے کہ غلطی سے ایسا ہوجائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خو ن بہا دے مگر یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا، پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینوں کے روزے رکھے یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

It is not for a believer to slay another believer unless by mistake. And he who has slain a believer by mistake, his atonement is to set free from bondage a believing person and to pay blood-money to his heirs, unless they forgo it by way of charity. And if the slain belonged to a hostile people, but was a believer, then the atonement is to set free from bondage a believing person. And if the slain belonged to a (non-Muslim) people with whom you have a covenant, then the atonement is to pay the blood-money to his heirs, and to set free from bondage a believing person. But he who cannot (free a slave) should fast for two consecutive months. This is the penance ordained by Allah. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is not for a believer (Muslim) to kill any believer, except by mistake. Whoever kills a believer by mistake, then, a believing slave has to be freed, and the blood money must be paid to his family, unless they forgo it. If he (the victim) belongs to a people hostile to you and is a believer, then, a believing slave has to be freed. If he (the victim) belongs to a people between whom and you there is treaty, then, blood money is to be paid to his family, and a believing slave to be freed. Whoever does not find one has to fast for two consecutive months. This is repentance prescribed from Allah‘s side. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

It is not for a believer (Muslim) to kill any believer, except by mistake. Whoever kills a believer by mistake, then, a believing slave has to be freed, and the blood money must be paid to his family, unless they forgo it. If he (the victim) belongs to a people hostile to you and is a believer, then, a believing slave has to be freed. If he (the victim) belongs to a people between whom and you there is treaty, then, blood money is to be paid to his family, and a believing slave to be freed. Whoever does not find one has to fast for two consecutive months. This is repentance prescribed from Allah‘s side. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is not for a believer to kill a believer except by mistake; and whosoever kills a believer by mistake, he must set free a believing slave and submit compensation (blood money) to the deceased's family unless they remit it. If the deceased belonged to a people at war with you and he was a believer, the freeing of a believing slave (is prescribed); and if he belonged to a people with whom you have a treaty of mutual alliance, then compensation (blood money) must be paid to his family, and a believing slave must be freed. And whoso finds this beyond his means, he must fast for two consecutive months in order to seek repentance from Allah. And Allah is Ever All-Knowing, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not for a believer to kill a believer unless (it be) by mistake. He who hath killed a believer by mistake must set free a believing slave, and pay the blood-money to the family of the slain, unless they remit it as a charity. If he (the victim) be of a people hostile unto you, and he is a believer, then (the penance is) to set free a believing slave. And if he cometh of a folk between whom and you there is a covenant, then the blood-money must be paid unto his folk and (also) a believing slave must be set free. And whoso hath not the wherewithal must fast two consecutive months. A penance from Allah. Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And never is it for a believer to kill a believer except by mistake. And whoever kills a believer by mistake - then the freeing of a believing slave and a compensation payment presented to the deceased's family [is required] unless they give [up their right as] charity. But if the deceased was from a people at war with you and he was a believer - then [only] the freeing of a believing slave; and if he was from a people with whom you have a treaty - then a compensation payment presented to his family and the freeing of a believing slave. And whoever does not find [one or cannot afford to buy one] - then [instead], a fast for two months consecutively, [seeking] acceptance of repentance from Allah. And Allah is ever Knowing and Wise.

— Saheeh International

A believer cannot slay another believer except by mistake for which the retaliation is to set free a believing slave and pay the appointed blood money to the relatives of the deceased unless the relatives wave aside the payment. If the person slain is from your enemies but himself is a believer, the penalty is to set free a believing slave. If the person slain is one of those with whom you have a peace treaty, the penalty is the same as that for a slain believer. If this is not possible, the defendant has to fast for two consecutive months, asking God to accept his repentance. He is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

And it does not behoove a believer to kill a believer except by mistake, and whoever kills a believer by mistake, he should free a believing slave, and blood-money should be paid to his people unless they remit it as alms; but if he be from a tribe hostile to you and he is a believer, the freeing of a believing slave (suffices), and if he is from a tribe between whom and you there is a convenant, the blood-money should be paid to his people along with the freeing of a believing slave; but he who cannot find (a slave) should fast for two months successively: a penance from Allah, and Allah is Knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

It is not for a believer to slay a believer except by a mischance; and whosoever slayeth a believer by mischance on him is the setting free of a believing bondman and blood-wit to be delivered to his family except that they forego. Then if he be of a people hostile unto you and is himself a believer, then the setting free of a believing bondman; and if he be of a people between man whom and you is a bond, then the bloodwit to be delivered to his family and the setting free of a believing bondman. Then whosoever findeth not the wherewithal, on him is the fasting for two months in succession: a penance from Allah. And Allah is ever Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Never should a believer kill a believer; but (If it so happens) by mistake, (Compensation is due): If one (so) kills a believer, it is ordained that he should free a believing slave, and pay compensation to the deceased's family, unless they remit it freely. If the deceased belonged to a people at war with you, and he was a believer, the freeing of a believing slave (Is enough). If he belonged to a people with whom ye have treaty of Mutual alliance, compensation should be paid to his family, and a believing slave be freed. For those who find this beyond their means, (is prescribed) a fast for two months running: by way of repentance to Allah: for Allah hath all knowledge and all wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 92–93

قتل مسلم، قصاص و دیت کے مسائل اور قتل خطا ارشاد ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ کسی حال میں اپنے مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے صحیح میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے کسی کو قتل کردیا ہو، دوسرے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے دین اسلام کو چھوڑ دینے والا جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہوجائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضا کا حق ہے، اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–93

سورة النِّسَآء 120 یہاں ان منافق مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے جن کے قتل کی اوپر اجازت دی گئی ہے، بلکہ ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو یا تو دارالاسلام کے باشندے ہوں، یا اگر دارالحرب یا دارالکفر میں بھی ہوں تو دشمنان اسلام کی کارروائیوں میں ان کی شرکت کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس وقت بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی حقیقی مجبوریوں کی بنا پر دشمن اسلام قبیلوں کے درمیان ٹھیرے ہوئے تھے۔ اور اکثر ایسے اتفاقات پیش آجاتے تھے کہ مسلمان کسی دشمن قبیلہ پر حملہ کرتے اور وہاں نادانستگی میں کوئی مسلمان ان کے ہاتھ سے مارا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں اس صورت کا حکم بیان فرمایا ہے جبکہ غلطی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–93

خلاصہ تفسیر اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو (ابتداء) قتل کرے لیکن غلطی سے (ہو جائے تو اور بات ہے) اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس پر (شرعاً) ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا (واجب) ہے اور خوں بہا (بھی واجب) ہے جو اس (مقتول) کے خاندان والوں کو (یعنی ان میں جو وارث ہیں بقدر حصص میراث) حوالہ کردی جائے (اور جس کے کوئی وارث نہ ہو تو بیت المال قائم مقام ورثہ کے ہے) مگر یہ کہ وہ لوگ (اس خوں بہا کو) معاف کردیں (خواہ کل یا بعض اتنی ہی معاف ہوجاوے گی) اور اگر وہ (مقتول خطاً) ایسی قوم سے ہو جو تمہارے مخالف ہیں (یعنی حرب یہیں اور انہی میں کسی وجہ سے رہتا تھا) اور وہ شخص خود…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

92۔ 93۔ دار الحرب کے مخلص مسلمانوں کی جان کا تحفظ : اوپر جو احکام بیان ہوئے ہیں اگرچہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان التباس رفع کردینے کے لیے کافی تھے لیکن کفار کے علاقوں میں بہت سے مخلص مسلمان بھی تھے جو خود تو ہجرت کے دل سے آرزو مند تھے لیکن مجبوریوں نے ان کی راہ روک رکھی تھی۔ جنگ پیش آجانے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ مبادا ان کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں کوئی گزند پہنچ جائے۔ اس وجہ سے قرآن نے قتل مومن کے جرم کی سنگینی بھی واضح فرما دی اور اس سلسلے میں ایسے واضح احکام بھی دے دیے جن کے بعد کسی خدا ترس مسلمان کے لیے اس معاملے میں کسی بےاحتیاطی و سہل انگاری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پہلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92۔ 1 یہ نفی۔ نہی کے معنی میں ہے جو حرمت کی متقاضی ہے یعنی ایک مومن کو قتل کرنا ممنوع اور حرام ہے تمہارے یہ لائق نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذاء پہنچاؤ ' یعنی حرام ہے۔ 92۔ 2 غلطی کے اسباب و وجوہ متعدد ہوسکتے ہیں مقصد ہے کہ نیت اور ارادہ قتل کا نہ ہو۔ مگر بوجوہ قتل ہوجائے۔ 92۔ 3 یہ قتل خطا کا جرمانہ بیان کیا جا رہا ہے جو دو چزیں ہیں۔ ایک بطور کفارہ و استغفار ہے یعنی مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور دوسری چیز بطور حق العباد کے ہے اور وہ ہے مقتول کے خون کے بدلے میں جو چیز مقتول کے وارثوں کو دی جائے، وہ دیت کی مقدار حدیث کی روح سے سو اونٹ یا اسکے مساوی قیمت سونے چاندی یا کرنسی کی شکل میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 92–93

56: غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یا تو بےخیالی میں گولی چل گئی یا مارنا تو کسی جانور کو تھا مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مرگیا، اس کو اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں، اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک توقاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور ایک دیت، کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں، اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔ 57: اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو، اگر اسے غلطی سے قتل کردیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔ 58:…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 92–93

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔ ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 اس موقع پر قتل خطا کے احکام بیان فرمائے جاتے ہیں اور یہ کہ کلمہ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اگر غلطی سے مارا گیا تو مجبوری کی بات ہے اور اس کے احکام یہ ہیں اور اسی کے ذیل میں مجاہدین کی فضیلت اور دارکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت بیان فرمائی جاتی ہے۔ فائدہ : قتل خطا یعنی مسلمان کو غلطی سے قتل کردینے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً غلطی سے مسلمان کو شکار سمجھ کر مار ڈالا یا تیر اور گولی شکار پر چلائی چوک کر کسی مسلمان کے جا لگی۔ ایک صورت قتل خطا کی یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان کافروں میں ہو اور اس کو کوئی مسلمان کافر سمجھ کر بوجہ لا علمی قتل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب ایک اور معاشرتی مسئلہ آ رہا ہے۔ اس وقت در اصل پورے عرب کے اندر ایک بھٹی دہک رہی تھی ‘ جگہ جگہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں ‘ میدان لگ رہے تھے ‘ معرکے ہو رہے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں تو صرف بڑے بڑے معرکوں اور غزوات کا ذکر ہوا ہے مگر حقیقت میں اس وقت پورا معاشرہ حالت جنگ میں تھا۔ ایک چومکھی جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔ ان آیات سے اس وقت کے عرب معاشرے کی اصل صورت حال اور اس قبائلی معاشرے کے مسائل کی بہت کچھ عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں فرض کریں ‘ ایک شخص نے کسی دوسرے کو قتل کردیا۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ قاتل کہتا ہے کہ میں نے عمداً ایسا نہیں کیا ‘ میں نے تو شکار کی غرض سے تیر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

127 قتل خطا کی صورتیں اور کفارہ :۔ اس آیت میں قتل خطا کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ قتل خطا کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً تیر یا پتھر مارا تو شکار کو تھا لیکن وہ کسی مسلمان کو لگ گیا اور وہ مرگیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماری تو کوئی چیز عمداً ہی تھی مگر مارنے والے کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ اس ہلکی سی ضرب سے مر ہی جائے گا۔ تیسری یہ کہ لڑائی وغیرہ کسی ہنگامے میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالے۔ جیسا کہ جنگ احد میں شکست کے بعد مسلمانوں نے بدحواسی کے عالم میں سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ کے والد سیدنا یمان ؓ کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا۔ حالانکہ سیدنا حذیفہ ؓ یہ کہتے ہی رہے کہ یہ تو میرے والد ہیں مگر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

259 ۔ (خواہ وہ غلطی غصہ میں ہوئی ہو یا نفس عمل میں) شرک، کفر وغیرہ اعتقادی معصیتوں سے قطع نظر، عملی گناہوں میں انسان کے لئے اکبر الکبائر قتل مومن ہے۔ اتنے بڑے گناہ کی جسارت کسی مومن سے بہ ثبات ہوش وسلامتی عقل بہت مستبعد ہے۔ ہاں غلطی اور دھوکے ہی سے ہوجائے تو اور بات ہے۔ (آیت) ” ان یقتل مومن ا “۔ جرم قتل کی فقہاء نے دو قسمیں کی ہیں ایک قتل عمد جس میں آلہ قتل سے کام لیا گیا ہو دوسرے قتل شبہ عمد جس میں کام آلہ قتل سے نہ لیا گیا ہو۔ جو قتل کسی حجت شرعی کی بنا پر، مثلاقصاص میں کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر جرم قتل کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ (آیت) ” الاخطئا “۔ فقہاء نے قتل خطا کی دو بڑی قسمیں کی ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 92 تا 96 ترجمہ : کسی مومن کے لئے یہ روا نہیں کہ کسی مومن کو قتل کرے یعنی مومن کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس سے مومن کا قتل سرزد ہو، سوائے غلطی کے یعنی بلا ارادہ غلطی سے قتل ہوجائے (تو اور بات) اور جو کوئی مومن غلطی سے قتل کردے بایں طور کہ نشانہ غیر مومن مثلاً شکار یا درخت کو لگایا مگر مومن کو لگ گیا یا کسی ایسے آلہ سے قتل کردیا کہ جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا تو اس پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہے اور خون بہا بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائیگا، یعنی مقتول کے ورثاء کو، سوا اس کے کہ اسکے (عزیز) دیت معاف کردیں، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ دیت سو (100) اونٹ ہیں بیس (20) بنت مخاض،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا . اور کسی مؤمن کو زیبا نہیں کہ کسی ایماندار کو (ناحق) قتل کر دے۔ مجاہد اور سدی کی روایت سے بھی مذکورۂ بالا واقعہ مروی ہے۔ ابن اسحاق اور ابویعلیٰ اور حارث بن ابی اسامہ اور ابو مسلم کحی نے قاسم بن محمد کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ مؤمن کے ایمان کی شان یہ نہیں یعنی نہ اس سے یہ فعل سرزد ہوا نہ سرزد ہوتا ہے نہ اس کے ہاتھوں سے کسی مؤمن کا قصداً ) ناحق قتل ہوتا ہے۔ قتل مؤمن دینی ممنوعات میں سرفہرست ہے اور ایمان کا تقاضا ایسی حرکت سے روکتا ہے۔ کلام ظاہری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) عیاش بن ربیعہ مومن کو حارث بن زید مومن کا قتل کرنا جائز نہیں اور اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو قاتل پر ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے اور مقتول کے وارثوں کو پورا خون بہا دینا بھی واجب ہے مگر یہ کہ اولیاء مقتول (مقتول کے وارث) معاف کردیں۔ اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو تو قاتل پر صرف غلام کا آزاد کرنا واجب اور حارث بن یزید ؓ کی قوم رسول اللہ ﷺ کی دشمن تھی اور اگر مقتول کی قوم معاہدہ وصلح والی ہو تو مقتول کے وارثوں کو پوری دیت دینا بھی اور ایک مومنہ باندی یا غلام کا آزاد کرنا بھی واجب ہے اور جسے آزاد کرنے کو نہ ملے تو وہ لگاتار دو ماہ کے روزے اسطرح رکھے کہ ایک دن کا روزہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــــًٔـا ۚ۔۔۔ کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی (جس سے جنگ ہو) سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا، اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے قتل خطا کے احکام بیان فرما دیے۔ (رازی) آیت میں ”الا“ بمعنی ”لٰکِنْ“ ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے، یعنی کسی بھی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے، جس کا بعد میں ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کسی آدمی کا خون، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 92۔ اس آیت میں بیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطا “۔ یہ اہم احکامات کے متعلق ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مومن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر خطا سے، (آیت) ” وما کان “۔ یہ نفی کے معنی پر نہیں بلکہ یہ تحریم اور نہی کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) اگر یہ نفی کی بنا پر ہوتا تو کبھی کوئی مومن نہ پایا جاتا جو کسی مومن کو قتل کرتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کی نفی کردے اس کو وجود جائز نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ماکان لکم ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطئا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو عہد لیا ہے مومنوں سے کسی کے یہ لائق نہیں (کہ اس عہد کی خلاف ورزی کرے) ۔ (2) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطئا “ سے مراد ہے کہ کوئی مومن کسی مومن کو قتل نہ کرے۔ (3) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ حرث بن یزید بن نبی ثہ جو بنو عامر بن لوئی میں سے تھے عیاش بن ابی ربیعہ کو اذیتیں دیا کرتا تھا ابو جہل کے ساتھ مل کر پھر یہ ہجرت کرتے ہوئے نبی ﷺ کی طرف نکلے حرۃ میں ان کی عیاش سے ملاقات ہوگئی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے (روا) ] [ لِمُؤْمِنٍ : کسی مومن کے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـقْتُلَ : وہ قتل کرے ] [ مُؤْمِنًا : کسی مومن کو ] [ اِلاَّ : مگر ] [ خَطَئًا : غلطی سے ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [ قَتَلَ : قتل کیا ] [ مُؤْمِنًا : کسی مومن کو ] [ خَطَئًا : غلطی سے ] [ فَتَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ : تو کسی مومن گردن کا آزاد کرنا ہے ] [ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ: اور سپرد کیا ہوا خون بہا ہے ] [ اِلٰٓی اَہْلِہٖٓ : اس کے گھر والوں کی طرف ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّصَّدَّقُوْا : وہ اپنا حق چھوڑ دیں ] [ فَاِنْ کَانَ : پھر اگر وہ تھا ] [ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّــکُمْ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قتل خطا کے مسائل گزشتہ آیات میں قتل و قتال کا ذکر تھا یہاں قتل کے کچھ دنیوی اور اخروی احکام بیان فرمائے ہیں، قتل عمد میں تو قصاص ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کے رکوع 21 میں گزر چکا ہے اور قتل خطا میں دیت اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے، مومن غلام نہ ملے تو دو ماہ کے لگا تار روزے رکھنا فرض ہے، اولاً تو یہ فرمایا کہ کسی مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے، قتل کرنا ہر اس جان کا گناہ کبیرہ ہے جس کی حفاظت شرعاً واجب ہو اس میں ذمی اور معاہد کا قتل بھی داخل ہے۔ جب ذمی اور معاہد کا قتل بھی حرام ہے تو مومن کا قتل کرنا بطور اولیٰ حرام ہوا۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَلاَ تَقْتُلُوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم بست وچہارم بہ قتل خطا۔ قال تعالی، ومان کان لمومن ان یقتل۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور منافقوں کے قتل کی اجازت دی تھی اب ان آیات میں مومنین کے قتل کی ممانعت فرماتے ہیں اور چونکہ بعض اوقات لڑائی میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو غلطی اور خطاء سے کافر سمجھ کر مار ڈالتا ہے اس لیے ان آیات میں کچھ احکام قتل خطاء کے متعلق بیان فرماتے ہیں اور اسی ذیل میں دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کی ضرورت اور سفر اور خوف کی نماز کی کیفیت کو بھی بیان فرماتے ہیں۔ شان نزول۔ اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے تین روایتیں نقل کی ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ پہلی روایت۔ یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے بارے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 92–93

ٖف 67 پانچواں حکم سلطانی (راستہ میں خیال رکھنا کہیں غلطی سے تمہارے ہاتھوں کوئی مسلمان قتل نہ ہوجائے اور اگر خطاءً ایسا ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے) فرمایا یہ تو مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو عمداً اور جان بوجھ کر قتل کرے البتہ یہ ممکن ہے کہ اس کے ہاتھوں غلطی اور خطا سے مومن قتل ہوجائے۔ قتل خطا کی بڑی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ قصد و ارادہ میں غلطی سے قتل مسلم واقع ہو یا عمل کی غلطی سے پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ دور سے کسی آدمی کو دیکھا اور سمجھا کہ وہ حربی کافر ہے اور اس پر فائر کردیا لیکن در اصل وہ مومن تھا دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ کافر کو نشانہ بنا کر تیر پھینکا یا شکار پر فائر کیا مگر وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات پہلی آیات میں جہاد کی ترغیب اور مجاہدین کی فضیلت کا ذکر تھا۔ اور کوتاہی کرنے والوں کو منافقین کے زمرہ میں شمار کیا گیا تھا۔ اور انکی مذمت بیان کی گئی تھی اس کے علاوہ چاپلوسی کرنے ولاے مفاد پرست کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان کے بارے میں دورائیں نہ رکھیں بلکہ ان کو دشمن ہی سمجھیں جب تک کہ یہ ایمان قبول کر کے ہجرت نہ کرلیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے منافقین کے ساتھ کھلے کافروں جیسا سلوک کیا جائے۔ یہ تو کفار کے ساتھ سختی کرنے کا حکم تھا کہ انہیں جہاں بھی پاؤ ، پکڑ لو اور مارو۔ اب اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــًٔـا۝ 0ۚ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــــًٔا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِيَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓى اَھْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّصَّدَّقُوْا۝ 0ۭ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَھُوَمُؤْمِنٌ فَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ۝ 0ۭ وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓى اَھْلِہٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ۝ 0ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ۝ 0ۡتَوْبَۃً مِّنَ اللہِ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۝ 92 ما مَا في کلامهم عشرةٌ:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 92–93

ترکیب : ان یقتل اسم کان لمومن خبر اے ما شان المومن قتل المومن فی ای حال الاخطاء الا فی حال الخطاء اور ممکن ہے کہ الا بمعنی لکن ہو ومن قتل شرط فتحریر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالواجب وقیل خبرہ محذوف ای فعلیہ۔ تحریر مضاف رقبۃ مومنۃ مضاف الیہ ودیۃ معطوف ہے تحریر پر جملہ جواب شرط الا ان یصدقوا استثناء منقطع ہے وقیل متصل والمعنی فالواجب دیۃ فی کل حال الا فی حال التصدق فان شرطیہ کان اس کا اسم المقتول من قوم خبر عدولکم اس کی صفت وھو مومن جملہ حال ہے المقتول سے یہ سب شرط فتحریر الخ جواب۔ تفسیر : پہلی آیت میں ان لوگوں کے قتل کی اجازت تھی کہ جو مسلمانوں میں آکر مسلمان اور کافروں میں جا کر ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا ج وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ط فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ط وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ز تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ” اور کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کافروں اور منافقوں کو قتل کرنے کا حکم ہے لیکن مومن کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اگر جنگ یا کسی ہنگامی کیفیت میں مومن ‘ مومن کے ہاتھوں قتل ہوجائے تو اس کی سزا کا ذکر۔ یہاں منافق اور مومن کی شخصیت کا بھی موازنہ کیا گیا ہے۔ اسلام میں انسانی شرف اور اس کی جان کی حرمت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ اس کی تفصیل ” المائدہ آیت 32“ میں بیان کی گئی ہے۔ یہاں پہلی آیات میں منافقوں اور کفار کو حالت جنگ میں قتل کرنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر غلط فہمی کی بنیاد پر مومن کو قتل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافر کا خون مباح ‘ مومن کا حرام : آیت 92: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ (کسی مسلمان کو زیبا اور مناسب نہیں) یعنی اس کے لئے صحیح و درست نہیں اور نہ اس کے حال کے لائق ہے۔ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا (کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے) یعنی ابتدائی طور پر بلا کسی قصاص کے۔ اس میں بتلا دیا کہ مومن اور کافر برابر نہیں۔ کافر کا خون تو مباح ہے۔ نہ کہ مومن کا۔ اِلاَّ خَطَأً (مگر غلطی سے) یعنی غلطی کی وجہ سے۔ نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ اور لکن کے معنی میں ہے عبارت اس طرح ہوگی۔ لکن ان وقع خطأً ۔ لیکن اگر غلطی سے مار ڈالے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ مصدر کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی الا قتلاً خطأً ، مگر وہ قتل جو غلط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(وما کان لمؤمن کی آیت کا شان نزول) (تفسیر) 92۔: (آیت)” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا “۔ یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لے آیا پھر اس کو اندیشہ ہوا کہ گھر والوں سے میرا مسلمان ہونا مخفی نہیں رہے گا اس لیے بھاگ کر مدینہ چلا گیا اور وہاں پہنچ کر ایک گڑھی میں قلعہ بند ہوگیا ، عیاش کے جانے کے بعد اس کی ماں کو بڑی بےتابی ہوئی اور اس نے اپنے دونوں بیٹوں ابوجہل اور حارث سے (جو ہشام کے نطفے سے تھے) کہا اللہ کی قسم جب تک تم عیاش کو نہ لاؤ گے میں کسی چھت کے سایہ میں نہ جاؤں گی نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی ، ماں کی قسم سن کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن جریر ابی حاتم اور ابن اسحاق وغیرہ نے جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ مجاہد اور سعید بن جبیر سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل کا سوتیلا بھائی عیاش ابن ابی ربیعہ ؓ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا۔ لیکن مشرکین کے خوف سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے۔ تو عیاش بن ابی ربیعہ ؓ بھی مدینہ میں آن کر ایک جگہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے چھپ کر رہنے لگا۔ عیاش ؓ کی ماں نے عیاش ؓ کے غم میں گھر کا رہنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں کا یہ حال دیکھ کر حارث بن ہشام حارث بن یزید عامری اور ابو جہل عیاش ؓ کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–92

آیت 92 آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لئے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قتل خطا کا بیان قول باری ہے (وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا، کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے الایہ کہ اس سے چوک ہوجائے) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مقام میں لفظ کان کے معنی میں اختلاہے ، قتادہ کا قول ہے کہ فقرے کا مفہوم یہ ہے اللہ کے حکم اور اس کے امر میں یہ نہیں تھا، دوسرے حضرات کا قول ہے اس کے لیے قتل کے جواز کا سبب نہیں تھا۔ کچھ اور حضرات کا قول ہے ، ماضی میں بھی اس کے لیے یہ نہیں تھا جیسا کہ اب نہیں ہے ، اسی طرح لفظ، الا، کے معنی کے بارے میں بھی اختلاف ہے کچھ لوگوں کا قول ہے کہ استثنا ، منقطع ہے اور لکن کے معنوں میں ہے مفہوم یہ ہے لیکن ایک مومن دوسرے مومن کو کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

233 قتل مومن کسی مومن کا کام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کسی مومن کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے کہ ایمان کے باعث اس کا جان و مال محفوظ ہوگیا۔ اور اس قدر محفوظ کہ اس پر دست درازی کرنا ایک نہایت سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ بہت سی صحیح احادیث میں وارد ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کا خون جائز نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک وجہ سے۔ کہ یا اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو مارا جائے۔ یا اس نے احصان کے بعد زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ یا وہ اسلام سے پھر گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ زمین و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 92–93

غلطی سے یا جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کرنے کی سزا تشریح : مومن کو قتل کرنا بڑا سخت گناہ ہے، لیکن اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا کی رقم ادا کرنا ہوگی اگر وارث خون بہا معاف کردیں تو ٹھیک ہے۔ اگر مسلمان مقتول کسی ایسی قوم کا فرد ہو جس سے تمہاری دشمنی ہو تو پھر اس کا کفارہ ایک غلام مومن آزاد کرنا ہوگا اور اگر ایسی قوم کا فرد تھا کہ جس کے ساتھ امن کا معاہدہ ہو تو پھر ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا اور خون بہا اس کے وارثوں کو دینا ہوگا اگر غلام کی توفیق نہ ہو تو پھر توبہ کے طور پر دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہ تو اللہ رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–96

رکوع نمبر 13 آیات 92 تا 96: وما کان لمومن۔۔۔ غفورا رحیما۔ اب رہی آپس کی لڑائی تو غلطی ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ورنہ مومن کو زیب ہی نہی دیتا کہ وہ مومن کو قتل کرے۔ ذاتی انا کے مسئلہ پر یا دنیاوی وراثت کے لالچ میں یا حکومت و اقتدار چیننے کے لیے یا ایک دوسرے سے ملک یا علاقہ ہتھیانے کے لیے یعنی فرد سے لے کر حکومت تک مومن کا قتل مومن کو زیب نہیں دیتا اور مسلمان مسلمان سے نہ لڑ سکتا ہے نہ لڑایا جاسکتا ہے ہاں ذاتی طور پر غلطی سے کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا تو اس کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک تو کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے کہ یہاں رقبۃ مومنہ ہے۔ یعنی ایماندار کی گردن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو قتل خطا کے احکام بیان فرمادیئے (کبیر) ّآیت میں الا بمعنی لکن ہے اور مستثنی منقطع ہے یعنی کسی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے جس کا بعد میں مذکور ہے آیت کے سبب نزول میں مختلف روایات مذکور ہیں مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربعیہ مسلمان ہونے کے بعد ہجرت کر مدینہ چلا آیا اور یہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہل کا واقعہ ہے چناچہ ابو جہل اور حارث بن زید بن ابی اینسہ مدینہ آکر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 91–92

(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔ اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت نمبر 92-93 لغات القرآن : خطاء، غلطی۔ تحریر، آزاد کرنا۔ رقبۃ، گردن۔ دیۃ، خون بہا، خون کے بدلے میں مقرر شدہ معاوضہ مسلمۃ، سپرد کی جائے گی۔ ان یصدقوا، یہ کہ وہ معاف کردیں۔ متتابعین، مسلسل، پے در پے۔ متعمد، جان بوجھ کر، بالقصد۔ تشریح : اسلام وہ دین ہے جس میں تعزیری قوانین بڑے مرتب طریقے سے بتائے گئے ہیں۔ ان دو آیات میں قتل کی سزا سے بحث ہے۔ اسلام نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا ہے۔ بلکہ قتل قتل میں اور اس کی سزا سزا میں فرق کیا ہے۔ قتل کی دو ہی قسمیں ہیں۔ قتل عمد یعنی قتل بالقصد۔ دوسرے قتل بالخطاء یعنی قتل بلاقصد۔ اور مقتول کی بھی چار ہی قسمیں ہیں۔ مومن ہ ویا ذمی کافر ہو یا مصالح (اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قتل خطا کا ذکر اور مسلمان کے قاتل کو ہمیشہ کی دوزخ کی سزا شان نزول : اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل کا سوتیلا بھائی عیاش بن ابی ربیعہ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا لیکن مشرکین کے خوف سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو عیاش بھی مدینہ میں آکر ایک جگہ اپنے بھائیوں کے ڈر سے چھپ کر رہنے لگا۔ عیاش کی ماں نے عیاش کے غم میں گھر کا رہنا اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سوتیلی ماں کا یہ حال دیکھ کر حارث بن ہشام، حارث بن زید عامری اور ابوجہل، عیاش کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگا کر پھر اس کو مکہ میں لے گئے، اور اس کو بہت مارا اور طرح طرح کی اذیت دی، اور حارث بن یزید…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 92–93

[58] دیت کی مقدار سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دو ہزار بکریاں سنت سے ثابت ہے۔ اگر قاتل دوسری شکل میں خوں بہا ادا کرنا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے متعین کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خون بہا : (ف 2) (آیت) ” وماکان لمؤمن “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کی شان کے شایان نہیں کہ اس کا ہاتھ کسی مسلمان پر اٹھے بھول چوک ہوجائے تو دوسری بات ہے ورنہ مسلمان ہرگز مسلمان پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔ جہاں وہ کفر کے لئے صاعقہ جان سوز ہوتا ہے مسلمان کے لئے نسیم جاں فزا (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔ اس کی ساری عداوتیں اور دشمنیاں کافروں اور منکروں کے لئے ہیں اور مسلمان کے لئے اس کا وجود رافت ورحمت ہے حتی الوسع وہ کوشش کرتا ہے کہ مسلمان کے ساتھ کوئی اختلاف پیدا نہ ہو ۔ قتل کی تین صورتیں ہیں (1) عمد (2) شبہ عمد (3) خطائ۔ عمد سے مراد یہ ہے کہ قصدا آلات قتل سے مارا جائے ۔ شبہ عمد سے مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور کسی مومن کو یہ زیبا نہیں اور کسی مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق بغیر کسی حق شرعی کے مار ڈالے مگر یہ کہ غلطی میں ایسا ہوجائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے مار ڈالے تو اس قاتل کے ذمہ شرعاً ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور نیز مقتول کے اہل یعنی اس کے وارثوں کو خون بہا پہنچانا اور ادا کرنا ہے الایہ کہ وہ ورثائے مقتول اس خوں بہا کو خیرات یعنی معاف کردیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا مگر خطا کی حالت میں ایسا ہوجائے تو معذوری ہے پھر اگر خطاء کسی سے ایسا ہوجائے۔ جیسا کہ عیاش ابن ربیعہ نے ایک مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا تو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں اور اتفاقا قتل ہوجائے تو اس کی سزا ؟ 158: کسی مومن کے لیے یہ درست اور جائز نہیں یعنی مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ اس فعل شنیع کا بسلامتی ہوش و حواس ارتکاب کرے کیونکہ کسی مومن کا عمدا قتل کرنا سارے گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ ہاں ! یہ الگ بات ہے کہ بےارادہ اور نادانستہ اس سے یہ جرم سرزد ہوجائے اس اسلوب بیان سے واضح ہوگیا کہ یہ جرم معمولی قسم کا نہیں بلکہ نہایت سنگین قسم کا جرم ہے۔ کسی مومن سے اس کا صدور حد درجہ قبیح ہے اور قتل عمد کا ذکر آگے آرہا ہے۔ خطا کیا ہے ؟ اگر قصور و ارادہ کے بغیر کوئی کام ہوجائے تو اسے خطا کہتے ہیں اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ جنگ جاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

Commentary Sequence of Verses Linked with earlier verses dealing with fighting and killing, all forms of killing, in the first instance, are eight in number because the person killed is covered by one of the four conditions which follow. Either, he is a Muslim; or, he is a Dhimmi (a free, protected, non-Muslim resident of a Muslim state); or, he is beneficiary of a peace pact and has been assured of the protection of his life, property, honour and religion; or, he is a belligerent disbeliever. Then, killing is of two types: intentional, or accidental. Thus, we see that there are only eight…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

120. The hypocritical confessors of Islam mentioned here are distinct from those whom the Muslims may kill. The reference here is to Muslims who are either residents of the Domain of Islam (Dar al-Islam) or to those who live in the Domain of War or of Unbelief (Dar al-Harb or Dar al-Kufr) but against whom there is no proof of actual participation in the hostile activities with the enemies of Islam. In the time of the Prophet (peace be on him) there were many people who had embraced Islam and yet, because of genuine difficulties, were living among tribes hostile to Islam. It occasionally…

Read the full tafseer →