An-Nisaa 4:91

An-Nisaa · from ayah 91

4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ ؕ— كُلَّ مَا رُدُّوْۤا اِلَی الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا ۚ— فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَیُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَیَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَاقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ ؕ— وَاُولٰٓىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۟۠سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡكُمۡ وَيَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا‌‌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡكُمۡ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ‌ ؕ وَاُولٰٓئِكُمۡ جَعَلۡنَا لَـكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

You will find others who wish to obtain security from you and [to] obtain security from their people. Every time they are returned to [the influence of] disbelief, they fall back into it. So if they do not withdraw from you or offer you peace or restrain their hands, then seize them and kill them wherever you overtake them. And those - We have made for you against them a clear authorization.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 12 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:91

ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے جن کی (بظاہر) چاہت ہے کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔ اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منھ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں، پس اگر یہ لوگ تم سے کناره کشی نہ کریں اور تم سے صلح کا سلسلہ جنبانی نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں، تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پالو! یہی وه ہیں جن پر ہم نے تمہیں ﻇاہر حجت عنایت فرمائی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جاگرتے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں جب کبھی انکی قوم انہیں فساد کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے ہیں پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور صلح کی گردن نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ سے نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اب تم کچھ دوسرے لوگوں کو بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ (منافقانہ طریقے سے ایمان ظاہر کرکے) تم سے (بھی) امن میں رہیں اور (پوشیدہ طریقے سے کفر کی موافقت کرکے) اپنی قوم سے (بھی) امن میں رہیں، (مگر ان کی حالت یہ ہے کہ) جب بھی (مسلمانوں کے خلاف) فتنہ انگیزی کی طرف پھیرے جاتے ہیں تو وہ اس میں (اوندھے) کود پڑتے ہیں، سو اگر یہ (لوگ) تم سے (لڑنے سے) کنارہ کش نہ ہوں اور (نہ ہی) تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں اور (نہ ہی) اپنے ہاتھ (فتنہ انگیزی سے) روکیں تو تم انہیں پکڑ (کر قید کر) لو اور انہیں قتل کر ڈالو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ، اور یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے تمہیں کھلا اختیار دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

عنقریب تم کچھ اور لوگ پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں، وہ جب بھی فتنے کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس میں الٹا دیے جاتے ہیں، تو اگر وہ نہ تم سے الگ رہیں اور نہ صلح کا پیغام بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور یہی لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہارے لیے واضح دلیل بنادی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر آپ کو ایک اور قسم کے منافق بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ مگر جب بھی انہیں فتنہ کا موقع ملتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں۔ ایسے منافق اگر تم سے کنارہ کش نہ رہیں نہ ہی صلح کی پیش کش کریں اور نہ آپ نے ہاتھ روکیں تو ایسے لوگوں کو جہاں بھی پاؤ انہیں گرفتار کرو اور قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے تمہیں کھلی چھٹی دے رکھی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی محفوظ رہیں لیکن جب جب فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں اس میں گر پڑتے ہیں۔ پس یہ اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں، تم سے صلح جویانہ رویہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تم ان کو گرفتار کرو اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ۔ یہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلا اختیار دیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم کچھ اور ایسے لوگ بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ (دھوکہ دہی کے ذریعے) وہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب کبھی وہ فتنہ انگیزی کی شہ پاتے ہیں، تو اس میں اوندھے جاگرتے ہیں، (اور فتنہ انگیزی میں کود پڑتے ہیں) پس ایسے لوگ اگر تم سے باز نہ رہیں، اور تمہارے آگے صلح (کی گردن) نہ ڈالیں، اور (تم سے) اپنے ہاتھ نہ روکیں، تو تم انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی انہیں پاؤ، کہ ایسے لوگوں کے خلاف (کاروائی کے لیے) ہم نے تمہیں کھلی سند دے دی ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

عنقریب کچھ لوگ اور بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ انہیں جب کبھی فساد کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو اس میں پلٹ پڑتے ہیں۔ تو اگر یہ تمہیں چھوڑے نہ رہیں اور نہ تمہارے ساتھ سلامت روی رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو (تم سے) روکیں تو تم بھی انہیں پکڑو اور انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ یہی لوگ تو ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو صاف گرفت دین رکھی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم پاؤ گے ایک اور قسم کے لوگوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب بھی فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں تو اس کے اندر اوندھے ہوجاتے ہیں پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تمہارے سامنے صلح و سلامتی پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں سند (اور قوت) عطا کردی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقعہ پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

You will also find others who wish to be secure from you, and secure from their people, but who, whenever they have any opportunity to cause mischief, plunge into it headlong. If such people neither leave you alone nor offer you peace nor restrain their hands from hurting you, then seize them and slay them wherever you come upon them. It is against these that We have granted you a clear sanction.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You will find others who want to be secure from you, and secure from their own people. (But) whenever they are called back to the mischief, they are plunged into it. So, if they do not stay away from you, and do not offer peace to you, and do not restrain their hands, then seize them, and kill them wherever you find them, and, We have given you an open authority against them.

— Muhammad Taqi Usmani

You will find others who want to be secure from you, and secure from their own people. (But) whenever they are called back to the mischief, they are plunged into it. So, if they do not stay away from you, and do not offer peace to you, and do not restrain their hands, then seize them, and kill them wherever you find them, and, We have given you an open authority against them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

You will find others that wish to have security from you and security from their people. Every time they are sent back to Fitnah, they yield thereto. If they withdraw not from you, nor offer you peace, nor restrain their hands, take (hold of) them and kill them wherever you Thaqiftumuhum. In their case, We have provided you with a clear warrant against them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ye will find others who desire that they should have security from you, and security from their own folk. So often as they are returned to hostility they are plunged therein. If they keep not aloof from you nor offer you peace nor hold their hands, then take them and kill them wherever ye find them. Against such We have given you clear warrant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You will find others who wish to obtain security from you and [to] obtain security from their people. Every time they are returned to [the influence of] disbelief, they fall back into it. So if they do not withdraw from you or offer you peace or restrain their hands, then seize them and kill them wherever you overtake them. And those - We have made for you against them a clear authorization.

— Saheeh International

You will soon find others who seek security from you as well as from their own people, but when they are invited to return to idol worship, they do so enthusiastically. Thus, if they do not keep away from you nor come forward with a peace proposal nor desist from harming you, apprehend and slay them wherever you find them, for We have given you full control over them.

— Muhammad Sarwar

You will find others who desire that they should be safe from you and secure from their own people; as often as they are sent back to the mischief they get thrown into it headlong; therefore if they do not withdraw from you, and (do not) offer you peace and restrain their hands, then seize them and kill them wherever you find them; and against these We have given you a clear authority.

— Muhammad Habib Shakir

Surely ye will find others desiring, that they may be secure from you and may be secure from their people; and yet so oft as they are brought back into the temptation, they revert thereto. Wherefore if they withdraw not from you, nor offer you peace, nor restrain their hands, lay hold of them and slay them wheresoever ye find them. These: against them We have given you a clear warranty.

— Abdul Majid Daryabadi

Others you will find that wish to gain your confidence as well as that of their people: Every time they are sent back to temptation, they succumb thereto: if they withdraw not from you nor give you (guarantees) of peace besides restraining their hands, seize them and slay them wherever ye get them: In their case We have provided you with a clear argument against them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–91

منافقوں سے ہوشیار رہو اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کردینا چاہیے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم) ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–91

سورة النِّسَآء 119 یہ استثناء اس حکم سے نہیں ہے کہ ”انہیں دوست اور مددگار نہ بنایا جائے“ ، بلکہ اس حکم سے ہے کہ ”انہیں پکڑا اور مارا جائے“۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ واجب القتل منافق کسی ایسی کافر قوم کے حدود میں جا پناہ لیں جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہوچکا ہو، تو اس کے علاقے میں ان کا تعاقب نہیں کیا جائے گا اور نہ یہی جائز ہوگا کہ دارالاسلام کا کوئی مسلمان غیر جانبدار ملک میں کسی واجب القتل منافق کو پائے اور اسے مار ڈالے۔ احترام دراصل منافق کے خون کا نہیں بلکہ معاہدے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

ہجرت کی مختلف صورتیں اور احکام قولہ تعالیٰ حتی یھاجروا فی سبیل اللہ الخ۔ ابتداء اسلام میں ہجرت دارالکفر سے تمام مسلمانوں پر فرض تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا سابرتاؤ کرنے سے منع کیا ہے جو اس فرض کے تارک ہوں، پھر جب مکہ فتح ہوا تو سرور عالم ﷺ نے فرمایالاھجرة بعد الفتح (رواہ البخاری) ”یعنی جب مکہ فتح ہو کر دارالاسلام بن گیا تو اب وہاں سے ہجرت فرض نہ رہی۔“ یہ اس زمانہ کا حکم ہے جبکہ ہجرت شرط ایمان تھی اس آدمی کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تھا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے، لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اب یہ صورت باقی نہیں رہی۔ ہجرت کی دوسری صورت یہ ہے جو قیامت تک باقی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ ۭكُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓااَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۔ " فنتۃ : کے لفظ پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں مفصل بحث کرچکے ہیں، یہاں اس سے مراد کفار کے وہ جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات ہیں جو وہ مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے اور بزعم خویش اسلام کو مٹانے کے لیے کر رہے تھے۔ " سلطان " کا لفظ قرآن میں دلیل، حجت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 یہ ایک تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو منافقین کا تھا یہ مسلمانوں کے پاس آتے تو اسلام کا اظہار کرتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں، اپنی قوم میں جاتے شرک بت پرستی کرتے تاکہ وہ انہیں اپنا ہی مذہب سمجھیں اور یوں دونوں سے مفادات حاصل کرتے۔ 91۔ 2 الفِتْنۃ سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اسی شرک میں لوٹا دیئے جاتے۔ یا الفتنۃُ سے مراد قتال ہے کہ جب انہیں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی طرف بلایا یعنی لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں، 91۔ 3 اس بات پر کہ واقعی ان کے دلوں میں نفاق اور ان کے سینوں میں تمہارے خلاف بغض وعناد ہے، تب ہی وہ یہ ادنیٰ کوشش دوبارہ فتنے (شرک) یا تمہارے خلاف آمادہ قتال ہونے میں مبتلا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

55: اوپر کی آیت میں تیسری قسم کے لوگوں کا ذکر تھا جو واقعۃ جنگ سے بیزار تھے اور مسلمانوں سے لڑنا نہیں چاہتے تھے، اس آیت میں منافقین کی چوتھی قسم کا ذکر ہے جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملہ میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے، ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے ؛ لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس لئے تھا تاکہ مسلمان انہیں قتل کرنے سے بازر ہیں ؛ چنانچہ جب دوسرے کفار انہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کی دعوت دیتے تو یہ اس سازش میں بےدھڑک شریک ہوجاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 91۔ ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی بعضے لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم سے عہد کر جاتے ہیں کہ نہ تم سے لڑیں گے نہ اپنی قوم سے تاکہ تم سے اور اپنی قوم دونوں سے امن میں رہیں لیکن اس عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ جب اپنی قوم کا غلبہ دیکھتے ہیں تو ان کے مددگار ہوجاتے ہیں تو ایسے لوگوں سے تم بھی درگزر مت کرو تمہارے ہاتھ تو صریح حجت آگئی کہ انہوں نے اپنا عہد خود توڑ ڈالا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْآ اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَاج جب بھی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اس میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اپنی قوم کا پلڑا بھاری ہے تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں کہ اب تو ہماری فتح ہونے والی ہے اور ہمیں مال غنیمت میں سے حصہ مل جائے گا۔ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَیُلْقُوْآ اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْآ اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَاُولٰٓءِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۔ ایسے لوگوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

126 بدترین منافق :۔ ایسے منافق بدترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

256 ۔ اور ان کا یہ چاہنا مکرو خداع کی راہ سے ہے نہ اس سے کہ ان کا دل واقعی لڑائی سے بھر گیا اور وہ اخلاص کے ساتھ صلح وامن چاہتے ہیں۔ یہ وہ منافقین تھے جو اپنے عقیدۂ اسلامی کی طرح اس صلح جوئی اور مصالحت پسندی میں بھی منافقت برت رہے تھے (آیت) ” ستجدون “۔ میں س زمانہ مستقبل کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور استمرار کے معنی میں بھی۔ قیل السین للاستمرار لا للاستقبال (جمل) 257 ۔ (اور موقع پانے پر مسلمانوں سے لڑنے پر بلاتامل آمادہ ہوجاتے ہیں) (آیت) ” الفتنۃ۔ سے مراد کفروشرک یا فساد عقائد میں تو وہ پہلے ہی سے مبتلا تھے۔ اب موقع پاجانے پر مسلمانوں پر بھی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ای کلما دعاھم قومھم الی قتال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

تیسری روایت : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آیت، سَتَجِدُوْنَ الخ میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے مدینہ میں آکر اسلام کا اظہار کیا، مگر اپنی قوم سے کہتے تھے کہ ہم توبندر اور بچھو پر ایمان لائے ہیں اور ضحاک نے ابن عباس سے یہی حالت بنی عبدالدار کی نقل کی ہے، پہلی اور دوسری روایت روح المعانی اور تیسری معالم میں ہے۔ (معارف) خلاصہ کلام : مطلب یہ ہے کہ ان کے ظاہری میل ملاپ سے دھوکا کھا کر ان کو اپنا مخلص دوست نہ سمجھو اور نہ اس بناء پر ان کے قیدوقتل سے دست کش ہو، البتہ دو صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں ان کو قتل کیا جائیگا، (1) ایک تو یہ کہ جن لوگوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم بعض ایسے بھی تم کو ملیں گے جو تم سے بےخطر ہو کر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر۔ کلبی نے ابوصالح کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے اشخاص تھے مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے۔ دکھاوٹ کے لئے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر واقعی میں مسلمان نہ تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں (یعنی بندر اور بچھو سے امن پانے کے لئے ایمان لایا ہوں) لیکن جب صحابہ ؓ سے اس کی ملاقات ہوتی تو کہتا میں آپ لوگوں کے دین پر ہوں۔ اس دوغلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) اور قوم ہلال، غطفان اور اسد کے علاوہ ایسے بھی لوگ ہیں کہ وہ تم سے بھی تمہارے حامی بن کر جان ومال کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی کفر کا اظہار کرتے ہیں مگر جب ان لوگوں کو شرک اور کسی شرارت کی طرف بلایا جاتا ہے تو فورا اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ فتح مکہ کے دن تم سے نہ کنارہ کش ہوں اور نہ صلح کو باقی رکھیں اور نہ تمہارے قتال سے اپنے ہاتھوں کو روکیں، تو ان کو حل وحرم ہر جگہ قید کرو اور قتل کر دو اور ایسے لوگوں کے قتل کے لیے ہم نے تمہیں واضح حجت دی ہے۔ (حدود حرم کے اندر کی جگہ کو بھی حرم کہتے ہیں، یہاں بہت سے جائز و حلال امور بھی حرام ہوجاتے ہیں جو باہر حلال ہیں، سو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ۔۔۔۔۔ اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ جنگ بدر میں عباس ؓ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 91۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومھم “۔ اس کا معنی پہلی آیت کے معنی کی طرح ہے، قتادہ نے کہا : یہ تہامہ سے ایک قوم کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی مکرم ﷺ سے امان طلب کی تھی تاکہ وہ آپ کے پاس اور اپنی قوم کے پاس امن پائیں، مجاہد (رح) نے کہا : یہ اہل مکہ سے ایک قوم تھی، سدی (رح) نے کہا : یہ نعیم بن مسعود (رح) کے بارے نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکوں کو امن دیتا تھا، حسن نے کہا : یہ منافقین کی ایک قوم تھی، بعض نے فرمایا : یہ اسد اور غطفان کے بارے میں نازل ہوئی جو مدینہ طیبہ میں آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا پھر اپنے گھروں کو لوٹ کر گئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ستجدون اخرین “ کے بارے میں روایت کیا کہ کہ والوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور وہ دکھاوے کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے پھر قریش کی طرف لوٹ جاتے تھے اور بتوں کی عبادت شروع کردیتے اس سے وہ یہ ارادہ کرتے تھے کہ یہاں بھی امن سے رہیں اور وہ ان بھی امن سے رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا اگر وہ (بتوں کو) نہ چھوڑیں اور وہ (مسلمانوں سے) صلح نہ کریں تو ان سے جنگ کرو۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم کلما ردوا الی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ سَتَجِدُوْنَ : عنقریب تم پائو گے ] [ اٰخَرِیْنَ : دوسروں کو ] [ یُرِیْدُوْنَ : وہ چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّــاْمَنُوْکُمْ : امن میں ہوں تم سے ] [ وَیَاْمَنُوْا : اور امن میں ہوں ] [ قَوْمَہُمْ : اپنی قوم سے ] [ کُلَّمَا : جب کبھی ] [ رُدُّوْآ : وہ لوٹائے جاتے ہیں ] [ اِلَی الْفِتْـنَۃِ : آزمائش کی طرف ] [ اُرْکِسُوْا : تو وہ اوندھے کیے جاتے ہیں ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ لَّـمْ یَعْتَزِلُــوْکُمْ : وہ کنارہ کش نہ ہوں تم سے ] [ وَیُلْقُوْآ : اور نہ ڈالیں ] [ اِلَـیْـکُمُ : تمہاری طرف ] [ السَّلَمَ : صلح ] [ وَیَکُفُّوْآ : اور نہ روکیں ] [ اَیْدِیَہُمْ : اپنے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 90–91

پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُکُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ) اس میں ان لوگوں کو قتل سے مستثنیٰ فرما دیا جو ان لوگوں سے مل جائیں جن سے مسلمانوں کا عہد ہے یعنی صلح ہے اور ان لوگوں کو بھی مستثنیٰ فرمایا جو مسلمانوں کے پاس اس حالت میں آجائیں کہ ان کا دل جنگ کرنے سے منقبض ہو وہ نہ مسلمانوں سے لڑنا گوارہ کریں اور نہ اپنی قوم سے جنگ کریں۔ (یعنی دونوں جماعتوں سے صلح رکھیں ایسے لوگ بھی پکڑنے اور قتل کرنے سے مستثنیٰ ہیں۔ ) پھر اللہ تعالیٰ نے بطور امتنان ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–91

حکم بست وسوم متعلق بہ معاملہ منافقین۔ قال تعالی، فمالکم فی المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔ مبینا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے احوال کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کو منافقین کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے حاصل حکم یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ اس وقت تک کیا جائے گا کہ جب تک ان کا نفاق چھپا رہے اور جب ان کا کفر اور نفاق واضح اور ظاہر ہوجائے تو پھر ان کی ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے جب دلائل کفر کے واضح ہوجائیں تو پھر تردد کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رکوع کی تفسیر سمجھنا چند روایات کے نقل پر موقوف ہے اس لیے ہم ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔ پہلی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65 مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ کچھ ایسے منافقوں سے بھی تم کو واسطہ پڑے گا جو ایک طرف تو تم سے امن اور سلامتی چاہیں گے اور ظاہری طور پر صلح کا معاہدہ کرلیں گے اور دوسری طرف اپنی قوم سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے دین پر ہی ہیں اور تمہارے ساتھی ہیں اور اس طرح اپنے گھروں میں رہ کر دونوں طرف سے محفوظ و مامون رہنے کی کوشش کریں گے۔ نبہ علی طائفۃ اخری مخادعۃ یریدون الاقامۃ فی مواضعھم مع اھلیھم یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم و یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم ویقولون للمسلمین کذلک اذا وجدوا (بحر ج 3 ص 318) ۔ کُلَّمَا رُدُّوْا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْھَا۔ اور جب کبھی ان کو مسلمانوں سے جنگ کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–91

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا ، کہ وہ منافقین کے بارے میں دو رائیں نہ رکھیں بلکہ ان کے خلاف واحد مشترکہ پالیسی اختیار کریں۔ اعتقادی منافقین کو یہ رعایت حاصل ہے کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ زبانی طور پر ان سے سختی برتنی چاہیے ، البتہ انہیں قتل کرنے کا حکم نہیں ہے ان کا اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت المسلمین میں پورے خلوص کے ساتھ داخل ہوجائیں اور پھر ان کے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوں۔ محض زبانی کلمہ پڑھ لینے سے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، گزشتہ درس میں جن منافقین کا ذکر تھا ، وہ دراصل کافر ہیں ، جو مسلمانوں سے مل کر محبت کا اظہار کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ۝ 0ۭ كُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَۃِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا۝ 0ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓا اَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ۝ 0ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۝ 91ۧ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–91

ترکیب : لو تکفرون بتاویل مصدر مفعول ہے وَدُّوا کا کما کفروا۔ ک لغت ہے مصدر محذوف کی ما مصدر یہ ہے اے کفروا ککفرھم۔ الا الذین استثناء ہے فاقتلوھم سے۔ بینکم وبینہم میثاق جملہ خبر یہ صفت ہے قوم کی اوجاء و عطف ہے یصلون پر حصرت صدورہم جملہ بتقدیر قد حال ہے فاعل جاؤکم سے ان یقاتلوکم ای ان یقاتلوکم۔ عن متعلق حصرت سے ہے او یقاتلوا قومہم معطوف ہے ان یقاتلو کم پر فان اعتزلوکم شرط فلم یقاتلوکم الخ اس کی تفسیر۔ فما جعل جملہ جواب فان لم یعتزلوکم شرط فخذوھم جواب شرط۔ تفسیر : کفار سے معاہدہ کی بابت : ابھی فرمایا تھا کہ جس کو خدا گمراہ کرے کیا تم اس کو ہدایت کرسکتے ہو۔ اب یہاں یہ فرماتا ہے کہ تم تو ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَََ اَنْ یَّاْمَنُوْ کُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَا ج فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَ یُلْقُوْٓا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوْٓا اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَ اُولٰٓئِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ع ” اور دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی محفوظ رہیں۔ لیکن جب جب فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں اس میں گرپڑتے ہیں۔ پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تم سے صلح جویانہ رویہ نہ رکھیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پہلے امن پسند کفار سے لڑنے کی ممانعت فرمائی تھی اب شر پسندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ تم ایسے منافق اور دغا باز لوگ ضرور پاؤ گے جو تم سے اور تمہارے دشمنوں سے امن میں رہنے کے نام نہاد دعوے دار ہیں۔ لیکن جونہی کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تمہاری طرف صلح کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور تم سے جنگ کرنے سے اجتناب نہ کریں تو انہیں جنگ کے دوران جہاں پکڑو مارو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت اور غداری کی وجہ سے تمہارے لیے ان کو قتل کرنے کی واضح حجت بنا دی ہے۔ مسائل 1۔ عہد شکنی کرنے والے کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ 2۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 91 : سَتَجِدُوْنَ ٰاخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ (تم ان کو بھی پائو گے جو تم سے بےخوف ہو کر رہنا چاہتے ہیں) منافقت کے ساتھ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ (اور اپنی قوم سے بےخطر رہنا چاہتے ہیں) موافقت کے ساتھ۔ یہ قبائل اسد و غطفان ہیں۔ جب یہ مدینہ آتے تو اسلام لاتے اور معاہدہ کرلیتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں۔ اور جب اپنی کافر قوم کی طرف لوٹ کر جاتے تو تمہارے معاہدے توڑ دیتے۔ کُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَی الْفِتْنَۃِ (جب ان کو فتنہ کی طرف لوٹایا جائے) فتنہ سے مراد ان کی قوم کا ان کو مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لئے دعوت دینا ہے۔ اُرْکِسُوْا فِیْہَا (وہ بدترین صورت سے اس میں پلٹ جاتے ہیں)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 91۔: (آیت)” ستجدون اخرین “ کلبی (رح) نے ابی صالح کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے تھے ، مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے ، دکھاوے کے لیے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر وہ حقیقت میں مسلمان نہیں تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا کہ میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں لیکن جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ان کی ملاقات ہوتی تو کہتے ہم آپ کے دین پر ہیں ، اس دوغلے پن سے ان کا یہ مقصد ہوتا تھا تاکہ دونوں طرف سے بےخطر ہوجائیں ۔ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 88–91

(88 ۔ 91) ۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے سو آدمی جب عبد اللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جا بیٹھے اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے اور دوسرافرقہ یہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے اور نہ ان کو قتل کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–92

آیت 92 آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لئے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنواقومھم، ایک اور قسم کے لوگ تمہیں ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ مجاہد کا قول ہے یہ آیت مکہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ حضور ﷺ کے پاس آتے تو مسلمان ہوجاتے اور پھر قریش کے پاس واپس جاکربتوں کے سامنے جھک جاتے ، اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہاں بھی امن میں رہیں اور وہاں بھی ، مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اگر یہ اس رویے سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اپنی اصلاح نہ کرلیں۔ اسباط نے سدی سے ذکر کیا کہ یہ آیت نعیم بن مسعود اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکین دونوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

228 ذوالوجہین منافقوں کے ایک گروہ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کچھ اور ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہین اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ اس لئے ایسے لوگ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اپنے ایمان کا دعوی کرتے ہیں، اور اہل کفر سے ملتے ہیں تو ان کے سامنے اپنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، جیسا کہ بنو اسد اور بنو غطفان کا طریقہ تھا کہ وہ مدینہ منورہ جاتے تو مسلمان بن کر وہاں کے مسلمانوں سے معاہدے کرلیتے، تاکہ ان سے ا من میں رہیں، اور واپس مکہ مکرمہ آتے تو وہاں کے مشرکین سے مل جاتے۔ اور وہ سب عہود و مواثیق توڑ ڈالتے جو انہوں نے اہل مدینہ سے کئے تھے۔ (ابن کثیر، صفوہ التفاسیر،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–91

منافقوں سے جنگ تشریح : یہاں ان منافقین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو واجب القتل منافق ہیں لیکن اگر وہ کسی ایسی قوم یا ملک میں پناہ لے لیں کہ جس سے مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس علاقے میں جاکر ان کو قتل کریں اور نہ ہی ان کا تعاقب کریں یہ احترام منافق کا نہیں، بلکہ اس معاہدے کا احترام ہے جو اسلامی حکومت نے اس دوسری حکومت سے کر رکھا ہے۔ یہاں معاہدے کی پاسداری کا قانون بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا ہے۔ ایک تیسری قسم کے منافقین کے لیے اس طرح حکم دیا گیا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تمہارے ساتھ امن وامان سے رہنے کا معاہدہ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے امن وامان سے رہو، لیکن جب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 88–91

اسرار و معارف آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ایسے منافقین جو دل سے مشرکوں کے ساتھ ہیں لیکن محض مطلب براری ارموقع شناسی خاطر تمہیں اپنے مسلمان ہونے یا غیر جانبدار رہنے کا یقین دلاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف سازش کرتے اور تمہیں مصیبت میں مبتلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جا نے دیتے اس سے اسد وغطفان بعض قبائل مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس مدینہ آتے اور ریاکاری سے مسلمان ہوجاتے پھر مکہ واپس جاتے تو بت پرستی شروع کردیتے تو فرمایا کہ ایسے لوگ اگر کنارہ کش نہ رہیں تو ان سے لڑو۔ ( شوکانی۔ کبیر ) یہاں سلط نا مبینا سے یا تو مراد یہ ہے کہ ان سے لڑنے اور ان کو قتل کرنے کے تمہارے پاس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ بد عہد ہیں کھلے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 91–92

(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔ اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 91 لغات القرآن : اخرین، دوسرے۔ یا منوکم، تم سے امن میں رہیں۔ لم یعتزلوا، الگ نہ ہوں۔ سلطان مبین، کھلا اختیار ہے۔ تشریح : منافقین کی تین قسموں کا بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ چوتھی قسم کی نشان دہی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر امن چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف شرارت اور فتنہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ چھپ کر بھی وار کرتے ہیں اور کھلم کھلا بھی جیسا موقع ہو۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئیں اور صلح نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لئے جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں ان کو پکڑا جائے یا قتل کردیا جائے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 88–91

جنگ احد سے واپس جانے والوں کا ذکر شان نزول : جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی جب عبداللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو باقی سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جابیٹھے۔ اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے، اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے نہ قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے آپس کے اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں سے جنگ کی اجازت دی ہے جو بظاہر امن پسند ہیں مگر موقع پیدا ہونے پر ہمیشہ کفر کا ساتھ دیتے ہیں اور جانب داری سے باز نہیں آتے ایسے لوگ قطعی سزا کے مستحق ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ تم کچھ ایسے لوگوں کو ضرور پائو گے اور تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخوف و خطر رہیں اور اپنی قوم سے بھی مامون و محفوظ رہیں مگر اسی کے ساتھ ان کی حالت اور ان کی صفت یہ ہے کہ جب کبھی ان کو مسلمانوں کے مخالفوں اور دشمنوں کی طرف سے کسی شرارت اور فتنہ انگیزی کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا اور متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً بلاتامل اس میں جاگرتے ہیں اور اس شرارت و فتنہ انگیزی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں سے جنگ کرنے کو آمادہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس قسم کے عہد شکن لوگ اگر تم سے کی سو نہ ہوں اور تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 90–91

ف 10۔ یعنی ہم عہد ہوجاتے ہیں۔ 11۔ نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہوکرتم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو کہ اپنی قوم سے لڑیں بلکہ ان سے بھی صلح رکھیں اور تم سے بھی۔ 12۔ ان سب الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صلح سے رہیں۔ 13۔ یعنی اجازت نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کچھ لوگ ہیں جو اسلام کے قریب تو نہیں آئے لیکن مسلمانوں سے امن کے طالب ہیں : 156: حالات وقت کی نزاکتیں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں۔ یہاں ایک ایسی ہی نزاکت کا دراصل بیان ہے یہ وہ وقت تھا کہ کفار جس پر ان کو مسلمان ہونے یا مسلمانوں کا ہمدرد ہونے کا شبہ ہوتا وہ اس کو پکڑ لیتے اور وہ مار دیتے کہ بڑوں بڑوں کے دل دہل جاتے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جو صرف اس بات سے خائف ہیں کہ ہم پر کہیں اسلام دوستی کا الزام نہ آجائے اور اس طرح ناکردہ گناہ میں ہماری کھلڑی ادھیڑ دی جائے۔ یعنی بالکل وہی پوزیشن جو کچھ لوگوں کی آج ہے کہ کہیں امریکہ سرکار کو یہ نہ پتہ چل جائے کہ فلاں ملک بھی اسلحہ کے معاملہ میں خود کلیہ ہے یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–91

Different forms of Emigration and their Rules Hijrah (Emigration) mentioned in verse 89 has been taken up in detail under the commentary on verse 100 of Surah al-Nis-a' which appears a little later. At this point, it is sufficient to know that Emigration from the homeland of Disbelief (Darul-kufr) was enjoined on all Muslims during the early period of Islam. It is for this reason that Allah Almighty has prohibited treating those who fail to carry out this obligation as Muslims. Consequently, when Makkah was conquered, the Holy Prophet declared: ھِجرَۃَ بَعدَ الفَتح لَا (There is no Hijrah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–91

119. The exception here does not relate to the injunction that they should not be taken as friends and supporters, but to the injunction that the believers should seize and slay them. What is meant is that if a hypocrite takes shelter among an unbelieving people with whom the Muslims have an agreement he should not be pursued into that territory. It is not permissible for Muslims of the Islamic state to kill a hypocrite in some neutral territory even if he merits execution. This is because of the sanctity of the agreement concluded by the Muslims rather than the sanctity of the hypocrite's…

Read the full tafseer →