Explained with ayahs 88–91
منافقوں سے ہوشیار رہو
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کردینا چاہیے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم) ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
سورة النِّسَآء 119
یہ استثناء اس حکم سے نہیں ہے کہ ”انہیں دوست اور مددگار نہ بنایا جائے“ ، بلکہ اس حکم سے ہے کہ ”انہیں پکڑا اور مارا جائے“۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ واجب القتل منافق کسی ایسی کافر قوم کے حدود میں جا پناہ لیں جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہوچکا ہو، تو اس کے علاقے میں ان کا تعاقب نہیں کیا جائے گا اور نہ یہی جائز ہوگا کہ دارالاسلام کا کوئی مسلمان غیر جانبدار ملک میں کسی واجب القتل منافق کو پائے اور اسے مار ڈالے۔ احترام دراصل منافق کے خون کا نہیں بلکہ معاہدے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
ہجرت کی مختلف صورتیں اور احکام
قولہ تعالیٰ حتی یھاجروا فی سبیل اللہ الخ۔ ابتداء اسلام میں ہجرت دارالکفر سے تمام مسلمانوں پر فرض تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا سابرتاؤ کرنے سے منع کیا ہے جو اس فرض کے تارک ہوں، پھر جب مکہ فتح ہوا تو سرور عالم ﷺ نے فرمایالاھجرة بعد الفتح (رواہ البخاری) ”یعنی جب مکہ فتح ہو کر دارالاسلام بن گیا تو اب وہاں سے ہجرت فرض نہ رہی۔“ یہ اس زمانہ کا حکم ہے جبکہ ہجرت شرط ایمان تھی اس آدمی کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تھا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے، لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اب یہ صورت باقی نہیں رہی۔
ہجرت کی دوسری صورت یہ ہے جو قیامت تک باقی…
Read the full tafseer →سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ ۭكُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓااَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۔
" فنتۃ : کے لفظ پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں مفصل بحث کرچکے ہیں، یہاں اس سے مراد کفار کے وہ جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات ہیں جو وہ مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے اور بزعم خویش اسلام کو مٹانے کے لیے کر رہے تھے۔ " سلطان " کا لفظ قرآن میں دلیل، حجت کے…
Read the full tafseer →91۔ 1 یہ ایک تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو منافقین کا تھا یہ مسلمانوں کے پاس آتے تو اسلام کا اظہار کرتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں، اپنی قوم میں جاتے شرک بت پرستی کرتے تاکہ وہ انہیں اپنا ہی مذہب سمجھیں اور یوں دونوں سے مفادات حاصل کرتے۔
91۔ 2 الفِتْنۃ سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اسی شرک میں لوٹا دیئے جاتے۔ یا الفتنۃُ سے مراد قتال ہے کہ جب انہیں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی طرف بلایا یعنی لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں،
91۔ 3 اس بات پر کہ واقعی ان کے دلوں میں نفاق اور ان کے سینوں میں تمہارے خلاف بغض وعناد ہے، تب ہی وہ یہ ادنیٰ کوشش دوبارہ فتنے (شرک) یا تمہارے خلاف آمادہ قتال ہونے میں مبتلا…
Read the full tafseer →55: اوپر کی آیت میں تیسری قسم کے لوگوں کا ذکر تھا جو واقعۃ جنگ سے بیزار تھے اور مسلمانوں سے لڑنا نہیں چاہتے تھے، اس آیت میں منافقین کی چوتھی قسم کا ذکر ہے جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملہ میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے، ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے ؛ لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس لئے تھا تاکہ مسلمان انہیں قتل کرنے سے بازر ہیں ؛ چنانچہ جب دوسرے کفار انہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کی دعوت دیتے تو یہ اس سازش میں بےدھڑک شریک ہوجاتے تھے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 91۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی…
Read the full tafseer →2 یعنی بعضے لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم سے عہد کر جاتے ہیں کہ نہ تم سے لڑیں گے نہ اپنی قوم سے تاکہ تم سے اور اپنی قوم دونوں سے امن میں رہیں لیکن اس عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ جب اپنی قوم کا غلبہ دیکھتے ہیں تو ان کے مددگار ہوجاتے ہیں تو ایسے لوگوں سے تم بھی درگزر مت کرو تمہارے ہاتھ تو صریح حجت آگئی کہ انہوں نے اپنا عہد خود توڑ ڈالا۔
Read the full tafseer →آیت 58 سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْآ اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَاج
جب بھی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اس میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اپنی قوم کا پلڑا بھاری ہے تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں کہ اب تو ہماری فتح ہونے والی ہے اور ہمیں مال غنیمت میں سے حصہ مل جائے گا۔
فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَیُلْقُوْآ اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْآ اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَاُولٰٓءِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ۔
ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →126 بدترین منافق :۔ ایسے منافق بدترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے…
Read the full tafseer →256 ۔ اور ان کا یہ چاہنا مکرو خداع کی راہ سے ہے نہ اس سے کہ ان کا دل واقعی لڑائی سے بھر گیا اور وہ اخلاص کے ساتھ صلح وامن چاہتے ہیں۔ یہ وہ منافقین تھے جو اپنے عقیدۂ اسلامی کی طرح اس صلح جوئی اور مصالحت پسندی میں بھی منافقت برت رہے تھے (آیت) ” ستجدون “۔ میں س زمانہ مستقبل کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور استمرار کے معنی میں بھی۔ قیل السین للاستمرار لا للاستقبال (جمل)
257 ۔ (اور موقع پانے پر مسلمانوں سے لڑنے پر بلاتامل آمادہ ہوجاتے ہیں) (آیت) ” الفتنۃ۔ سے مراد کفروشرک یا فساد عقائد میں تو وہ پہلے ہی سے مبتلا تھے۔ اب موقع پاجانے پر مسلمانوں پر بھی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ای کلما دعاھم قومھم الی قتال…
Read the full tafseer →تیسری روایت : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آیت، سَتَجِدُوْنَ الخ میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے مدینہ میں آکر اسلام کا اظہار کیا، مگر اپنی قوم سے کہتے تھے کہ ہم توبندر اور بچھو پر ایمان لائے ہیں اور ضحاک نے ابن عباس سے یہی حالت بنی عبدالدار کی نقل کی ہے، پہلی اور دوسری روایت روح المعانی اور تیسری معالم میں ہے۔ (معارف)
خلاصہ کلام : مطلب یہ ہے کہ ان کے ظاہری میل ملاپ سے دھوکا کھا کر ان کو اپنا مخلص دوست نہ سمجھو اور نہ اس بناء پر ان کے قیدوقتل سے دست کش ہو، البتہ دو صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں ان کو قتل کیا جائیگا، (1) ایک تو یہ کہ جن لوگوں سے…
Read the full tafseer →ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم بعض ایسے بھی تم کو ملیں گے جو تم سے بےخطر ہو کر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر۔
کلبی نے ابوصالح کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے اشخاص تھے مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے۔ دکھاوٹ کے لئے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر واقعی میں مسلمان نہ تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں (یعنی بندر اور بچھو سے امن پانے کے لئے ایمان لایا ہوں) لیکن جب صحابہ ؓ سے اس کی ملاقات ہوتی تو کہتا میں آپ لوگوں کے دین پر ہوں۔ اس دوغلے…
Read the full tafseer →(91) اور قوم ہلال، غطفان اور اسد کے علاوہ ایسے بھی لوگ ہیں کہ وہ تم سے بھی تمہارے حامی بن کر جان ومال کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی کفر کا اظہار کرتے ہیں مگر جب ان لوگوں کو شرک اور کسی شرارت کی طرف بلایا جاتا ہے تو فورا اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔
سو اگر یہ لوگ فتح مکہ کے دن تم سے نہ کنارہ کش ہوں اور نہ صلح کو باقی رکھیں اور نہ تمہارے قتال سے اپنے ہاتھوں کو روکیں، تو ان کو حل وحرم ہر جگہ قید کرو اور قتل کر دو اور ایسے لوگوں کے قتل کے لیے ہم نے تمہیں واضح حجت دی ہے۔ (حدود حرم کے اندر کی جگہ کو بھی حرم کہتے ہیں، یہاں بہت سے جائز و حلال امور بھی حرام ہوجاتے ہیں جو باہر حلال ہیں، سو…
Read the full tafseer →سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ۔۔۔۔۔ اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ جنگ بدر میں عباس ؓ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 91۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومھم “۔ اس کا معنی پہلی آیت کے معنی کی طرح ہے، قتادہ نے کہا : یہ تہامہ سے ایک قوم کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی مکرم ﷺ سے امان طلب کی تھی تاکہ وہ آپ کے پاس اور اپنی قوم کے پاس امن پائیں، مجاہد (رح) نے کہا : یہ اہل مکہ سے ایک قوم تھی، سدی (رح) نے کہا : یہ نعیم بن مسعود (رح) کے بارے نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکوں کو امن دیتا تھا، حسن نے کہا : یہ منافقین کی ایک قوم تھی، بعض نے فرمایا : یہ اسد اور غطفان کے بارے میں نازل ہوئی جو مدینہ طیبہ میں آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا پھر اپنے گھروں کو لوٹ کر گئے…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” ستجدون اخرین “ کے بارے میں روایت کیا کہ کہ والوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور وہ دکھاوے کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے پھر قریش کی طرف لوٹ جاتے تھے اور بتوں کی عبادت شروع کردیتے اس سے وہ یہ ارادہ کرتے تھے کہ یہاں بھی امن سے رہیں اور وہ ان بھی امن سے رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا اگر وہ (بتوں کو) نہ چھوڑیں اور وہ (مسلمانوں سے) صلح نہ کریں تو ان سے جنگ کرو۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم کلما ردوا الی…
Read the full tafseer →[ سَتَجِدُوْنَ : عنقریب تم پائو گے ] [ اٰخَرِیْنَ : دوسروں کو ] [ یُرِیْدُوْنَ : وہ چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّــاْمَنُوْکُمْ : امن میں ہوں تم سے ] [ وَیَاْمَنُوْا : اور امن میں ہوں ] [ قَوْمَہُمْ : اپنی قوم سے ] [ کُلَّمَا : جب کبھی ] [ رُدُّوْآ : وہ لوٹائے جاتے ہیں ] [ اِلَی الْفِتْـنَۃِ : آزمائش کی طرف ] [ اُرْکِسُوْا : تو وہ اوندھے کیے جاتے ہیں ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ لَّـمْ یَعْتَزِلُــوْکُمْ : وہ کنارہ کش نہ ہوں تم سے ] [ وَیُلْقُوْآ : اور نہ ڈالیں ] [ اِلَـیْـکُمُ : تمہاری طرف ] [ السَّلَمَ : صلح ] [ وَیَکُفُّوْآ : اور نہ روکیں ] [ اَیْدِیَہُمْ : اپنے ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُکُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ) اس میں ان لوگوں کو قتل سے مستثنیٰ فرما دیا جو ان لوگوں سے مل جائیں جن سے مسلمانوں کا عہد ہے یعنی صلح ہے اور ان لوگوں کو بھی مستثنیٰ فرمایا جو مسلمانوں کے پاس اس حالت میں آجائیں کہ ان کا دل جنگ کرنے سے منقبض ہو وہ نہ مسلمانوں سے لڑنا گوارہ کریں اور نہ اپنی قوم سے جنگ کریں۔ (یعنی دونوں جماعتوں سے صلح رکھیں ایسے لوگ بھی پکڑنے اور قتل کرنے سے مستثنیٰ ہیں۔ )
پھر اللہ تعالیٰ نے بطور امتنان ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
حکم بست وسوم متعلق بہ معاملہ منافقین۔
قال تعالی، فمالکم فی المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔ مبینا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے احوال کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کو منافقین کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے حاصل حکم یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ اس وقت تک کیا جائے گا کہ جب تک ان کا نفاق چھپا رہے اور جب ان کا کفر اور نفاق واضح اور ظاہر ہوجائے تو پھر ان کی ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے جب دلائل کفر کے واضح ہوجائیں تو پھر تردد کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رکوع کی تفسیر سمجھنا چند روایات کے نقل پر موقوف ہے اس لیے ہم ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔
پہلی…
Read the full tafseer →65 مذکورہ بالا دو گروہوں کے علاوہ کچھ ایسے منافقوں سے بھی تم کو واسطہ پڑے گا جو ایک طرف تو تم سے امن اور سلامتی چاہیں گے اور ظاہری طور پر صلح کا معاہدہ کرلیں گے اور دوسری طرف اپنی قوم سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے دین پر ہی ہیں اور تمہارے ساتھی ہیں اور اس طرح اپنے گھروں میں رہ کر دونوں طرف سے محفوظ و مامون رہنے کی کوشش کریں گے۔ نبہ علی طائفۃ اخری مخادعۃ یریدون الاقامۃ فی مواضعھم مع اھلیھم یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم و یقولون لھم نحن معکم و علی دینکم ویقولون للمسلمین کذلک اذا وجدوا (بحر ج 3 ص 318) ۔ کُلَّمَا رُدُّوْا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْھَا۔ اور جب کبھی ان کو مسلمانوں سے جنگ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا ، کہ وہ منافقین کے بارے میں دو رائیں نہ رکھیں بلکہ ان کے خلاف واحد مشترکہ پالیسی اختیار کریں۔ اعتقادی منافقین کو یہ رعایت حاصل ہے کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ زبانی طور پر ان سے سختی برتنی چاہیے ، البتہ انہیں قتل کرنے کا حکم نہیں ہے ان کا اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت المسلمین میں پورے خلوص کے ساتھ داخل ہوجائیں اور پھر ان کے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوں۔ محض زبانی کلمہ پڑھ لینے سے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، گزشتہ درس میں جن منافقین کا ذکر تھا ، وہ دراصل کافر ہیں ، جو مسلمانوں سے مل کر محبت کا اظہار کرتے ہیں…
Read the full tafseer →سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ 0ۭ كُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَۃِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا 0ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓا اَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ 0ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا 91ۧ
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
ترکیب : لو تکفرون بتاویل مصدر مفعول ہے وَدُّوا کا کما کفروا۔ ک لغت ہے مصدر محذوف کی ما مصدر یہ ہے اے کفروا ککفرھم۔ الا الذین استثناء ہے فاقتلوھم سے۔ بینکم وبینہم میثاق جملہ خبر یہ صفت ہے قوم کی اوجاء و عطف ہے یصلون پر حصرت صدورہم جملہ بتقدیر قد حال ہے فاعل جاؤکم سے ان یقاتلوکم ای ان یقاتلوکم۔ عن متعلق حصرت سے ہے او یقاتلوا قومہم معطوف ہے ان یقاتلو کم پر فان اعتزلوکم شرط فلم یقاتلوکم الخ اس کی تفسیر۔ فما جعل جملہ جواب فان لم یعتزلوکم شرط فخذوھم جواب شرط۔
تفسیر : کفار سے معاہدہ کی بابت : ابھی فرمایا تھا کہ جس کو خدا گمراہ کرے کیا تم اس کو ہدایت کرسکتے ہو۔ اب یہاں یہ فرماتا ہے کہ تم تو ان کی…
Read the full tafseer →سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَََ اَنْ یَّاْمَنُوْ کُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَا ج فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَ یُلْقُوْٓا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوْٓا اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَ اُولٰٓئِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ع
” اور دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی محفوظ رہیں۔ لیکن جب جب فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں اس میں گرپڑتے ہیں۔ پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تم سے صلح جویانہ رویہ نہ رکھیں اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پہلے امن پسند کفار سے لڑنے کی ممانعت فرمائی تھی اب شر پسندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
البتہ تم ایسے منافق اور دغا باز لوگ ضرور پاؤ گے جو تم سے اور تمہارے دشمنوں سے امن میں رہنے کے نام نہاد دعوے دار ہیں۔ لیکن جونہی کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں اگر یہ لوگ تمہاری طرف صلح کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور تم سے جنگ کرنے سے اجتناب نہ کریں تو انہیں جنگ کے دوران جہاں پکڑو مارو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت اور غداری کی وجہ سے تمہارے لیے ان کو قتل کرنے کی واضح حجت بنا دی ہے۔
مسائل
1۔ عہد شکنی کرنے والے کے ساتھ لڑنا جائز ہے۔ 2۔ نہ لڑنے والوں سے لڑنا…
Read the full tafseer →آیت 91 :
سَتَجِدُوْنَ ٰاخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْکُمْ (تم ان کو بھی پائو گے جو تم سے بےخوف ہو کر رہنا چاہتے ہیں) منافقت کے ساتھ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ (اور اپنی قوم سے بےخطر رہنا چاہتے ہیں) موافقت کے ساتھ۔ یہ قبائل اسد و غطفان ہیں۔ جب یہ مدینہ آتے تو اسلام لاتے اور معاہدہ کرلیتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں۔ اور جب اپنی کافر قوم کی طرف لوٹ کر جاتے تو تمہارے معاہدے توڑ دیتے۔
کُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَی الْفِتْنَۃِ (جب ان کو فتنہ کی طرف لوٹایا جائے) فتنہ سے مراد ان کی قوم کا ان کو مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لئے دعوت دینا ہے۔ اُرْکِسُوْا فِیْہَا (وہ بدترین صورت سے اس میں پلٹ جاتے ہیں)…
Read the full tafseer →(تفسیر) 91۔:
(آیت)” ستجدون اخرین “ کلبی (رح) نے ابی صالح کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے تھے ، مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے ، دکھاوے کے لیے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر وہ حقیقت میں مسلمان نہیں تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا کہ میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں لیکن جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ان کی ملاقات ہوتی تو کہتے ہم آپ کے دین پر ہیں ، اس دوغلے پن سے ان کا یہ مقصد ہوتا تھا تاکہ دونوں طرف سے بےخطر ہوجائیں ۔ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
(88 ۔ 91) ۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے سو آدمی جب عبد اللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جا بیٹھے اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے اور دوسرافرقہ یہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے اور نہ ان کو قتل کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
آیت 92
آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لئے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنواقومھم، ایک اور قسم کے لوگ تمہیں ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔
مجاہد کا قول ہے یہ آیت مکہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ حضور ﷺ کے پاس آتے تو مسلمان ہوجاتے اور پھر قریش کے پاس واپس جاکربتوں کے سامنے جھک جاتے ، اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہاں بھی امن میں رہیں اور وہاں بھی ، مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اگر یہ اس رویے سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اپنی اصلاح نہ کرلیں۔
اسباط نے سدی سے ذکر کیا کہ یہ آیت نعیم بن مسعود اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکین دونوں کے…
Read the full tafseer →228 ذوالوجہین منافقوں کے ایک گروہ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کچھ اور ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہین اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ اس لئے ایسے لوگ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اپنے ایمان کا دعوی کرتے ہیں، اور اہل کفر سے ملتے ہیں تو ان کے سامنے اپنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، جیسا کہ بنو اسد اور بنو غطفان کا طریقہ تھا کہ وہ مدینہ منورہ جاتے تو مسلمان بن کر وہاں کے مسلمانوں سے معاہدے کرلیتے، تاکہ ان سے ا من میں رہیں، اور واپس مکہ مکرمہ آتے تو وہاں کے مشرکین سے مل جاتے۔ اور وہ سب عہود و مواثیق توڑ ڈالتے جو انہوں نے اہل مدینہ سے کئے تھے۔ (ابن کثیر، صفوہ التفاسیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
منافقوں سے جنگ
تشریح : یہاں ان منافقین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو واجب القتل منافق ہیں لیکن اگر وہ کسی ایسی قوم یا ملک میں پناہ لے لیں کہ جس سے مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس علاقے میں جاکر ان کو قتل کریں اور نہ ہی ان کا تعاقب کریں یہ احترام منافق کا نہیں، بلکہ اس معاہدے کا احترام ہے جو اسلامی حکومت نے اس دوسری حکومت سے کر رکھا ہے۔ یہاں معاہدے کی پاسداری کا قانون بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا ہے۔ ایک تیسری قسم کے منافقین کے لیے اس طرح حکم دیا گیا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تمہارے ساتھ امن وامان سے رہنے کا معاہدہ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے امن وامان سے رہو، لیکن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
اسرار و معارف
آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔
مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ایسے منافقین جو دل سے مشرکوں کے ساتھ ہیں لیکن محض مطلب براری ارموقع شناسی خاطر تمہیں اپنے مسلمان ہونے یا غیر جانبدار رہنے کا یقین دلاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف سازش کرتے اور تمہیں مصیبت میں مبتلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جا نے دیتے اس سے اسد وغطفان بعض قبائل مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس مدینہ آتے اور ریاکاری سے مسلمان ہوجاتے پھر مکہ واپس جاتے تو بت پرستی شروع کردیتے تو فرمایا کہ ایسے لوگ اگر کنارہ کش نہ رہیں تو ان سے لڑو۔ ( شوکانی۔ کبیر )
یہاں سلط نا مبینا سے یا تو مراد یہ ہے کہ ان سے لڑنے اور ان کو قتل کرنے کے تمہارے پاس دلیل موجود ہے وہ یہ کہ بد عہد ہیں کھلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(4:91) ردوا۔ وہ لوٹائے گئے۔ وہ پھیرے گئے۔ رد سے باب نصر۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ کلام ردوا الی الفتنۃ۔ جب کبھی حالات نے ان کو فتنہ کی طرف پھیرا تو ارکسوا فیہا ۔ وہ سر کے بل اس میں جاگرے۔ ارکسوا۔ وہ الٹ دئیے گئے۔ ازک اس سے ۔ سرکے بل اوپر سے نیچے الٹ دینا۔ ملاحظہ ہو 4:74 ۔
اس جملہ میں ارکسوا۔ فعل مجہول استعمال ہوا ہے۔ بعض دفعہ فاعل کو اس تیزی و تندی سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی طاقت مجبور کر رہی ہے ورنہ وہ اپنے طور پر شاید اتنی جلد بازی نہ کرتا۔ اس سے اس کی بےتابی اور شدت خواہش ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت لوط کے قصہ میں سورة ہود میں آیا ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:79) جب فرشتوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 91
لغات القرآن : اخرین، دوسرے۔ یا منوکم، تم سے امن میں رہیں۔ لم یعتزلوا، الگ نہ ہوں۔ سلطان مبین، کھلا اختیار ہے۔
تشریح : منافقین کی تین قسموں کا بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ چوتھی قسم کی نشان دہی فرما رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر امن چاہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف شرارت اور فتنہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ چھپ کر بھی وار کرتے ہیں اور کھلم کھلا بھی جیسا موقع ہو۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئیں اور صلح نہ کریں تو پھر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اس فتنے کا سر کچلنے کے لئے جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں ان کو پکڑا جائے یا قتل کردیا جائے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
جنگ احد سے واپس جانے والوں کا ذکر
شان نزول : جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی جب عبداللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو باقی سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جابیٹھے۔ اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے، اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے نہ قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے آپس کے اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
[57] اولوالامر کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 48 صفحہ 230 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں سے جنگ کی اجازت دی ہے جو بظاہر امن پسند ہیں مگر موقع پیدا ہونے پر ہمیشہ کفر کا ساتھ دیتے ہیں اور جانب داری سے باز نہیں آتے ایسے لوگ قطعی سزا کے مستحق ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 2 ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ تم کچھ ایسے لوگوں کو ضرور پائو گے اور تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخوف و خطر رہیں اور اپنی قوم سے بھی مامون و محفوظ رہیں مگر اسی کے ساتھ ان کی حالت اور ان کی صفت یہ ہے کہ جب کبھی ان کو مسلمانوں کے مخالفوں اور دشمنوں کی طرف سے کسی شرارت اور فتنہ انگیزی کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا اور متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً بلاتامل اس میں جاگرتے ہیں اور اس شرارت و فتنہ انگیزی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں سے جنگ کرنے کو آمادہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس قسم کے عہد شکن لوگ اگر تم سے کی سو نہ ہوں اور تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
ف 10۔ یعنی ہم عہد ہوجاتے ہیں۔
11۔ نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہوکرتم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو کہ اپنی قوم سے لڑیں بلکہ ان سے بھی صلح رکھیں اور تم سے بھی۔
12۔ ان سب الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صلح سے رہیں۔
13۔ یعنی اجازت نہیں دی۔
Read the full tafseer →کچھ لوگ ہیں جو اسلام کے قریب تو نہیں آئے لیکن مسلمانوں سے امن کے طالب ہیں :
156: حالات وقت کی نزاکتیں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں۔ یہاں ایک ایسی ہی نزاکت کا دراصل بیان ہے یہ وہ وقت تھا کہ کفار جس پر ان کو مسلمان ہونے یا مسلمانوں کا ہمدرد ہونے کا شبہ ہوتا وہ اس کو پکڑ لیتے اور وہ مار دیتے کہ بڑوں بڑوں کے دل دہل جاتے۔ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جو صرف اس بات سے خائف ہیں کہ ہم پر کہیں اسلام دوستی کا الزام نہ آجائے اور اس طرح ناکردہ گناہ میں ہماری کھلڑی ادھیڑ دی جائے۔ یعنی بالکل وہی پوزیشن جو کچھ لوگوں کی آج ہے کہ کہیں امریکہ سرکار کو یہ نہ پتہ چل جائے کہ فلاں ملک بھی اسلحہ کے معاملہ میں خود کلیہ ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
Different forms of Emigration and their Rules
Hijrah (Emigration) mentioned in verse 89 has been taken up in detail under the commentary on verse 100 of Surah al-Nis-a' which appears a little later. At this point, it is sufficient to know that Emigration from the homeland of Disbelief (Darul-kufr) was enjoined on all Muslims during the early period of Islam. It is for this reason that Allah Almighty has prohibited treating those who fail to carry out this obligation as Muslims. Consequently, when Makkah was conquered, the Holy Prophet declared: ھِجرَۃَ بَعدَ الفَتح لَا (There is no Hijrah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
119. The exception here does not relate to the injunction that they should not be taken as friends and supporters, but to the injunction that the believers should seize and slay them. What is meant is that if a hypocrite takes shelter among an unbelieving people with whom the Muslims have an agreement he should not be pursued into that territory. It is not permissible for Muslims of the Islamic state to kill a hypocrite in some neutral territory even if he merits execution. This is because of the sanctity of the agreement concluded by the Muslims rather than the sanctity of the hypocrite's…
Read the full tafseer →