Explained with ayahs 6–10
وراثت کے مسائل
مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة النِّسَآء 13
خطاب میت کے وارثوں سے ہے اور انہیں ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دور نزدیک کے رشتہ دار اور کنبہ کے غریب و مسکین لوگ اور یتیم بچے آجائیں ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو۔ میراث میں ازروئے شرع ان کا حصہ نہیں ہے تو نہ سہی، وسعت قلب سے کام لے کر ترکہ میں سے ان کو بھی کچھ نہ کچھ دے دو ، اور ان کے ساتھ وہ دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے مواقع پر بالعموم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ سے ڈرتے ہوئے میراث تقسیم کریں
تیسری آیت میں عام مسلمانوں کو خطاب عام ہے کہ اس کا پورا اہتمام کریں کہ مرنے والے کا ترکہ اس کی اولاد کو پورا پورا پہنچ جائے اور ہر ایسے طریقہ سے پرہیز کریں جس میں اولاد کے حصہ پر کوئی ناگوارا اثر پڑتا ہو، اس کے عموم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی مسلمان کو کوئی ایسی وصیت یا تصرف کرتے ہوئے دیکھیں جس سے اس کی اولاد اور دوسرے وارثوں کو نقصان پہنچ جانے کا خطرہ ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کو ایسی وصیت یا ایسے تصرف سے روکیں، جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو اپنا پورا مال یا آدھا مال صدقہ کرنے سے روک دیا اور صرف ایک تہائی مال کو صدقہ کرنے کی اجازت دیدی،…
Read the full tafseer →فرمایا کہ یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ جس طرح دوسروں کے بچے یتیم ہوئے ہیں اسی طرح ان کے بچے بھی یتیم ہو سکتے تھے۔
پھر سوچیں کہ اگر یہ اپنے پیچھے یتیم چھوڑتے تو ان کے دل میں ان سے متعلق کیا کچھ انیدشے ہوتے اس وجہ سے اللہ سے ڈرنا چاہئے اور سیدھی بات کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 بعض کے نزدیک اس کے مخطب اوصیاء ہیں (جن کو وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں انکے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرسکے نہ حقوق بنی آدم میں، اور وصیت میں وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھے۔ اگر وہ خوب صاحب حیثیت ہے تو ایک تہائی مال کی وصیت ایسے لوگوں کے حق میں ضرور کرے جو اس کے قریبی رشتہ داروں میں غریب اور مستحق امداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9: یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو اور یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے ڈرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01)
یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم…
Read the full tafseer →6 یہ ارشاد اصل میں تو یتیم کے ولی اور وصی کے لئے ہے درجہ بدرجہ اوروں کو بھی اس کا خیال رہے مطلب یہ ہے کہ اپنے مرنے کے بعد جیسا ہر کوئی اس بات سے ڈرتا ہے کہ میری اولاد کے ساتھ سختی اور برائی سے معاملہ کیا جائے ایسا ہی تم کو بھی چاہیے کہ یتیم کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو اپنے بعد اپنی اولاد کے ساتھ پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو اور یتیموں سے سیدھی اور اچھی بات کہو، یعنی جس سے ان کا دل نہ ٹوٹے اور ان کا نقصان نہ ہو بلکہ ان کی اصلاح ہو۔
Read the full tafseer →آیت 9 وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ
انہیں یہ خیال کرنا چاہیے کہ یہ یتیم جو اس وقت آگئے ہیں یہ بھی کسی کے بچے ہیں ‘ جن کے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہا۔ لہٰذا وہ ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔
Read the full tafseer →15 یعنی اگر تم اس حال میں مرجاؤ کہ پیچھے چھوٹی چھوٹی اولاد چھوڑ جاؤ تو تمہیں یہ ضرور خیال آئے گا کہ میرے بعد ان بچوں سے بہتر سلوک ہو۔ ایسے ہی جو یتیم اس وقت تمہارے زیر کفالت ہیں، اللہ سے ڈرتے ہوئے ان سے بھی ایسا ہی سلوک کرو۔ اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے یتیموں کا دل شکستہ ہو۔ جو بات کرو ان کے حق میں بھلائی کی ہونی چاہیے۔ اس دور میں یتیموں اور بیواؤں سے جس طرح کا سلوک کیا جاتا تھا مندرجہ ذیل حدیث سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے :
میراث میں بیوی بچوں کا حصہ :۔ سیدنا جابر ؓ کہتے ہیں سعد ؓ بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی۔ یہ سعد بن ربیع ؓ کی…
Read the full tafseer →25 ۔ (اور ان یتیموں کے حسب مصلحت) یعنی ان کی تعلیم، تادیب، تسلی، دلجوئی ہر پہلو کا لحاظ رہے، ذکروا بالنظر فی مصلحتھم (ابن عربی) القول السدید من الاوصیاء ان لایؤذوا الیتامی ویکلموھم کما یکلمون اولادھم بالادب الحسن والترحیب (کشاف) مفسرین کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ یہ خطاب اولیاء کو نہیں بلکہ قریب الموت شخص کے عزیزوں قریبوں کو ہے کہ وہ اسے سمجھائیں کہ اسے حق صرف ایک ثلث میں صدقہ کا ہے اور باقی مال مقررہ وارثوں کے لیے چھوڑ جائے، (آیت) ” فلیتقوا اللہ “۔ اللہ سے ڈرتے رہیں کہ کہیں خود ان کے چھوٹے یتیم بچوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آکر نہ رہے۔ (آیت) ” ذریۃ ضعفا “۔ ضعیف سے مراد بوڑھی نہیں، کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً (الآیۃ) بعض مفسرین کے نزدیک اس کے مخاطب اوصیاء ہیں (یعنی جن کی وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں ان کے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں قطع نظر اس سے کہ وہ ان کی زیر کفالت ہیں یا نہیں، بعض کے نزدیک اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قریب المرگ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرے…
Read the full tafseer →و لیخش الزین لوترکوا من خلفھم ذریۃ ضعافا خافوا علیھم اور ڈریں وہ لوگ جنکو اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے چھوٹے بچوں کے تباہ ہوجانے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ بظاہر ڈرنے کا یہ حکم طاقت والے والے وارثوں کو ہے اور اس آیت کا ربط آیت : لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ اور اذا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ ۔۔ سے ہے مطلب یہ ہے کہ طاقتور وارث، عورتوں اور کمزور وارثوں کا مقررہ میراثی حصہ دیدیں اور جو قرابتدار وارث نہیں ہیں ان کو اور فقراء و مساکین کو بھی (اگر وہ تقسیم ترکہ کے وقت آکھڑے ہو، ) کچھ نہ کچھ دیدیں کہیں یہ کمزور طقبہ برباد نہ ہوجائے جیسے ان کو اپنے بعد باقی رہنے والی بیوی اور کمسن بچوں کے تباہ ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) اور ان لوگوں کو جو قریب المرض مریض کے پاس ہوتے ہیں اور تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنے کا حکم دیتے ہیں، ان کو ان یتیم بچوں کے بارے میں ڈرنا چاہیے کیوں کہ اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر مرجائیں تو ان کو اپنی اولاد کی فکر ہو، اسی طرح ان لوگوں کو مرنے والے کی اولاد کی فکر ہونی چاہیے۔
اور یہ لوگ مریض کے پاس آتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اپنا مال فلاں کو دے دو اور فلاں کو دے دو اس طریقہ سے اس کا سارا مال خوامخواہ تقسیم کرا دیتے تھے اور اس کے چھوٹے بچوں کے لیے کچھ نہیں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی لہٰذا یہ لوگ جو تہائی مال سے زیادہ مرنے والے کو وصیت کا حکم کرتے ہیں، ان…
Read the full tafseer →وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ۔۔ : یہ حکم میت کی وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کے مفاد کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھوٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے، لہٰذا انھیں یتیموں سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ یتیموں کے اولیاء سے اس آیت کا تعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بعد میں یتامیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کے متعلق جو وعید آرہی ہے اولیاء کی اس کے ساتھ زیادہ مناسبت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 9۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والیخش “۔ لیخش سے الف حذف کیا گیا ہے لام امر کی وجہ سے جزم ہونے کی وجہ سے اور سیبویہ کے نزدیک لام امر کا اضمار حروف جر پر قیاس کرتے ہوئے جائز نہیں مگر ضرورت شعری کے لیے جائز ہے۔ اور کو فیوں نے جزم کے ساتھ لام کے حذف کو جائز قرار دیا ہے اور تمام نے یہ شعر پڑھا ہے :
محمد تفد نفسک کل نفس اذا ما خفت من شئی تبالا،
اے پیارے محمد ! ہر نفس کو تیری ذات پر فدا ہونا چاہیے جب آپ کسی چیز سے اندیشہ محسوس کریں۔
اس شعر میں تفد سے مراد لتفد لیا ہے، اور یخش کا معفول، دلالت کلام کی وجہ سے محذوف ہے اور خافوا لو کا جواب ہے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولیخش الذین لو ترکوا “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جو ایک آدمی کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوا تو اس نے مریض کو ایسی وصیت کرتے ہوئے سنا جو اس کے وارثوں کو نقصان دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو حکم فرمایا جس نے اس کو سنا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور وصیت کرنے والے کی صحیح بات کی طرف رہنمائی کرے اور چاہیے کہ وہ دیکھے اپنے وارثوں کو اور جب اسے اپنے وارثوں کے ضائع ہونے کا ڈر ہو تو جو وہ اپنے وارثوں کے لیے پسند کرتا ہے تو ان کے لیے بھی وہی پسند کرے۔
(2) ابن جریر…
Read the full tafseer →(وَلْـیَخْشَ : اور چاہیے کہ ڈریں) (الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ) (لَــوْ : اگر ) (تَرَکُوْا : چھوڑیں) (مِنْ خَلْفِہِمْ : اپنے پیچھے ) (ذُرِّیَّۃً ضِعٰـفًا : کچھ کمزور اولادیں) (خَافُوْا : تو وہ خوف کریں ) (عَلَیْہِمْ : ان کے بارے میں ) (فَلْیَتَّـقُوا : پس چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں) (اللّٰہَ : اللہ کا ) (وَلْـیَـقُوْلُوْا : اور چاہیے کہ کہیں ) (قَوْلاً سَدِیْدًا : ٹھیک بات )
س د د
سَدَّ یَسُدُّ (ن) سَدًّا : کوئی رخنہ یا دراز بند کرنا ‘ درست کرنا ‘ دیوار یا آڑ کھڑی کرنا۔
سَدٌّ (اسم ذات) : دیوار ‘ آڑ۔ { وَجَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا } (یٰسٓ:9) ” اور ہم نے بنایا ان کے سامنے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
یتیموں کا مال کھانے پر سخت و عید اور ان کے مالوں کی نگرانی کا حکم
بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میراث کا کام تقسیم ہونے لگے تو عزیز رشتہ دار اور یتیم مسکین بھی حاضر ہوجاتے ہیں جن کو میراث میں شرعاً حصہ نہیں پہنچتا اگر یہ لوگ ایسے موقعہ پر حاضر ہوجائیں تو بالغ ورثا اپنے حصوں میں سے کچھ دے دیں تاکہ ان کی دلداری ہوجائے اور ان کو مناسب طریقہ پر نرمی کے ساتھ اچھے الفاظ میں سمجھا دیں کہ شرعاً تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے تم کو میراث میں سے نہ دینا کوئی ظلم زیادتی کی بات نہیں ہے اور یہ ہم اپنے پاس سے پیش کر رہے ہیں، آپ حضرات قبول کرلیں اور دلگیر نہ ہوں اللہ کی قضا و قدر اور اس کی شریعت پر راضی رہیں، پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
حکم ہفتم مراعاۃ غیر مستحقین میراث بوقت تقسیم ترکہ۔
قال تعالیٰ واذا حضرالقسمۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ سدیدا۔
ربط) گزشتہ آیت میں حق داران میراث اور مستحقین ترکہ کا بیان تھا اب اس آیت میں غیر مستحقین میراث کے ساتھ ایک قسم کے سلوک اور احسان کا حکم ہے اور جب تقسیم میراث کے وقت ایسے غریب رشتہ دار بھی حاضر ہوجائیں جن کا میراث میں کوئی حق نہیں اور یتیم اور فقیر بھی اس وقت اس پر امید جمع ہوجائیں کہ شاید اس موقع پر اہل خیر ہمیں کچھ خیرات دے دیں تو تم ان کو تبرعا بالغوں کے حصہ میں سے کچھ دے دیا کرو اگر ورثہ یتیم اور نابالغ ہوں تو ان غرباء اور مساکین سے معقول اور نرم بات کہہ کر ان کو رخصت کردو یعنی نرمی سے یہ عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10 یہ ان لوگوں کو زجر ہے جو یتامی اور مساکین کی حق تلفی کریں اور میراث سے ان کو ان کا مقررہ حصہ نہ دیں۔ لِیَخْشَ کا مفعول (اللہ) محذوف ہے۔ یعنی اولاء میت خدا سے ڈریں اور سوچیں کہ اگر وہ مرجائیں اور ان کے پیچھے ان کے یتیم بچے رہ جائیں تو وہ ان کے حق میں کس قسم کے سلوک کی تمنا کریں گے۔ اس لیے اب ان کو دوسرے یتیموں اور مسکینوں سے ویسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے جیسے برتاؤ کی وہ اپنی یتیم اور مسکین اولاد سے تمنا اور خواہش رکھتے ہیں۔ ای افعلوا بالیتامی ما تحبون ان یفعل باولادکم من بعدکم (قرطبی ج 5 ص 51) ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیتٰمٰی ظُلْماً اِنَّمَا یَاکُلُوْنَ فِی بُطُوْنِہِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات
سورة النساء کے پہلے رکو ع میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر یتیموں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، ان کی رہائش کا بندوبست ، ان کے مال کی حفاظت وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف کرنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے زمانہ جاہلیت کے اس دستور کا رد فرمایا جس کے ذریعے وہ لوگ عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ اور اسلام کے قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ ہر مرد وزن ، چھوٹے بڑے ، جوان اور بوڑھے کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کردیا گیا ہے کسی شخص کی موت کے وقت اس کے جو قربت دار موجود…
Read the full tafseer →وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّيَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْھِمْ 0 ۠ فَلْيَتَّقُوا اللہَ وَلْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا 9
خشی
الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28]
( خ ش ی ) الخشیۃ
۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔
إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ترکیب : مماقل الخ جملہ بدل ہے ماترک سے اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر محذوف سے ‘ ای مما ترکہ قلیلا او کثیرا۔ نصیباً یہ موقع میں مفعول مطلق کے ای عطاء و استحقاقا واذا حضر شرط۔ فارزقوھم الخ جواب لو ترکوا شرط خافوا علیہم جواب ظلماً مفعول لہ ہے یا مصدر موقع حال میں۔
تفسیر : یہ ان احکام کی چوتھی قسم ہے جو توریت سے متعلق ہے۔ اس کے سبب نزول میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اوس بن ثابت انصاری ؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیوی پیچھے رہی اور اس کے چچا کے دو بیٹے سوید اور عرفجہ جو وصی تھے کل مال کو دبا بیٹھے۔ اس کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے فریاد کی۔ آپ نے فرمایا اس امر میں خدا تعالیٰ جو حکم دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰـفًا خَافُوْا عَلَیْھِمْ ص فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا
(ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اپنے پیچھے اگر کمزور بچے چھوڑتے ہیں تو ان کے معاملے میں بہت اندیشہ ناک ہوتے ہیں، پس انھیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کہیں) (النسآء : 9)
گزشتہ آیات میں یتیموں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ادائیگی کے سلسلے میں احکام بھی دیئے گئے اور نصیحتیں بھی فرمائی گئی ہیں۔ یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تک نصیحت فرمائی گئی کہ اگر وہ وارثوں میں شامل نہ بھی ہوں لیکن وراثت کی تقسیم کے وقت کسی طرح پہنچ جائیں تو اپنی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فہم القرآن
ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔
قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔
1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔
2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔
3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔
4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔
اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت ‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اوراقرباء چھوڑ جائیں اس میں…
Read the full tafseer →آیت 9 :
وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا ( اور ڈریں وہ لوگ اگر وہ چھوڑ جائیں اپنے پیچھے چھوٹے بچے جن کے بارے میں ڈر ہو (تباہ ہوجانے کا) پس ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اور کہیں ٹھیک بات) مراد اس سے وصی ہیں۔
اوصیاء کو نصیحت :
ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان یتیموں کے متعلق خوف کریں اسی طرح کا جیسا وہ اپنی اولاد کے متعلق رکھتے ہیں کہ اگر ان کو چھوٹی عمر میں چھوڑ جائیں۔ وہ اپنے نفوس میں اس حسرت کا اندازہ کریں اور اس کا تصور کریں تاکہ خلاف شفقت و مہربانی کسی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 9۔:
(آیت)” ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریۃ ضعافا “۔ ضعافا سے مراد چھوٹی اولاد ہے، ” خافوا علیھم “ فقر کے خوف سے، جب کسی شخص کو موت کا وقت قریب آجاتا ہے اس کے پاس جو ورثاء حاضر ہوتے ہیں اور اس کو وصیت کی جاتی ہے کہ میری اولاد اور میرے ورثاء میرے مال سے کوئی مستغنی نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مقدم کرے کہ فلاں کو آزاد کر دو اور فلاں فلاں کو عطا کرو۔ (یعنی عین تقسیم میراث کے وقت بعض ورثاء کو محروم کردیا جاتا ہے) اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ تہائی وصیت سے زائد قبول نہ کی جائے ، اسی طرح اگر کوئی وصیت کرنے والا چپکے سے اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے تاکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9 ۔ 10) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو طرح بیان کی ہے بعض کہتے ہیں کہ قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ بیمار کو ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام نمود کے لئے وصیت کرے ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور اس طرح کے صلاح کاروں کو ڈرایا ہے کہ صلاح نیک دو آج دوسروں کی اولاد کا حق مارا جانے کی صلاح دو گے تو کل تمہاری اولاد کے لئے بھی یہی دن پیش آنے والا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یتیموں کے بڑے بوڑھے یتیموں کو اور یتیموں کے مال کو بےاحتیاطی سے رکھتے تھے ان کے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 9-10
کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لئے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (ولیقولوا قولاً سدیدا) یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بےسمجھ یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست…
Read the full tafseer →معاشرتی معاملات کی بنیاد وسیع ترقومی مفاد کے اصولوں پر ہونی چاہیئے
قول باری ہے (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافاخافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولواقولا سدیدا، لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر خوداپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تومرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں) اس آیت کی تاویل میں سلف کے اندراختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت کی بناپرنیز سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت قریب آجائے، اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اس سے…
Read the full tafseer →21 یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کیلئے ایک موثر انداز تعلیم و تبلیغ : پس جو بھلائی اور خیر خواہی تم لوگ اپنے ان بےسہارا یتیم بچوں کیلئے چاہو، اسی کا معاملہ تم دوسروں کے ان یتیم بچوں کے ساتھ بھی کرو، جو تمہاری کفالت اور پرورش میں ہوں، جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے پیچھے رہ جانے والے بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ ہو، اس طرح تم ان کے بارے میں بھی ایسا ہی چاہو کہ جس طرح آج یہ بچے یتیم اور بےسہارا ہیں اسی طرح کل تمہارے بچے بھی ہوسکتے ہیں، سو جو لوگ یہ بات اپنے پیش نظر رکھیں گے وہ دوسروں کے یتیم بچوں کا کبھی کوئی حق نہیں مار سکتے، اور ان کے ساتھ کبھی کسی زیادتی کا ارتکاب نہیں کرسکتے، بہرکیف اس ارشاد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یتیم کو اپنی اولاد پر قیاس کرو
تشریح : یتیم کس قدر بےبس اور قابل رحم ہوتا ہے ؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو خیال کرو اگر خود تمہارے اپنے بچے یتیم ہوجائیں تو تم پر کیا گزرے گی ؟ اس بات کو سوچ کر یہ ذہن میں بٹھا لو کہ کبھی کسی یتیم پر کسی صورت سے بھی ظلم و زیادتی نہ کرو گے ان کا مال ظلم و زیادتی سے کھا لینا تو انتہائی بری اور قابل سزا بات ہے یہ ایسے ہی ہے کہ جیسا آگ سے اپنے پیٹ بھرلیے جائیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ انکو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اللہ رب العزت کا ہے جو نہ تو جھوٹ ہوسکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 9 تا 10 ۔
قرآنی انداز تربیت : دین اسلام کو یاد دلاتا ہے کہ اسے بھی مرنا ہے اور ممکن ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرجائے تو یہ کیا چاہے گا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ویسا ہی سلوک ان بچوں سے کرے جو آج اس کے سامنے یتیم ہو کر بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ اور اللہ سے ڈرتا رہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے ایسا ہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرسکتا ہے سو چاہئے کہ نہایت ہی موزوں بات کرے۔
اور یہ یاد رکھو کہ مال یتیم جو شخص بھی ناروا طور پر کھائے گا وہ یقیناً اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہے اور عنقریب اسے بھڑکتی آگ یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
بعض علما نے لکھا کہ یہ خبر بطور استعارہ کے ہے مگر ایسا نہیں…
Read the full tafseer →ف 1 یہ حکم میت کے وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کو مفاد کا سی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھو ٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے۔ لہذا انہیں یتیموں سے بہتر سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنا چایئے یتیموں کے اولیا سے اس آیت کا تعلق انسب معلوم ہو تو ہے کیونکہ بعد میں یت امیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کو متعلق جو وعید آرہی ہے اس کے ساتھ زیادہ منا سبت پائی جاتی ہے، ( ابن کثیر۔ قرطبی)
Read the full tafseer →(4:9) ولیخش۔ واحد مذکر گا ئب امر خشیۃ مصدر باب سمع۔ اس کو ڈرنا چاہیے۔ وہ ڈرتا رہے۔
ذریۃ۔ چھوٹے چھوٹے بچے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
ضعافا۔ ضعف سے کمزور۔ ناتواں۔ ضعیف کی جمع ہے۔
(4:9) خافوا علیہم۔ وہ فکر مند ہوئے ان کے متعلق۔
ولیخش ۔۔ خافوا علیہم۔ پس جو لوگ یتیموں کے سرپرست ہیں وہ ڈریں یتیموں کے ساتھ سلوک کرنے میں اور سوچیں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور ناتواں بچے چھوڑ کر اس جہاں سے رخصت ہوں تو اپنے ان بچوں کے متعلق وہ کتنے فکر مند ہوتے ۔ پس جیسے وہ اپنے پسماندگان سے اپنے بچوں کے متعلق سلوک کی تمنا رکھتے ہیں ویسا ہی سلوک وہ اب اپنے زیر سرپرستی سے کریں۔
سدیدا۔ سدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آیت نمبر 7 – 10
لغات القرآن : نصیب، حصہ۔ ترک، چھوڑا۔ قل، تھوڑا ہو۔ کثیر، زیادہ۔ نصیب مفروض، حصہ مقرر ہے۔ القسمۃ، تقسیم۔ ولیخش، اور ڈرنا چاہیے۔ ضعف، کمزور، ناتواں۔ سیصلون، جلد ہی وہ ڈالے جائیں گے۔ سعیر، بھڑکتی آگ۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے عرب میں ایسے ظالمانہ طریقوں کا رواج تھا جس سے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ہوا کرتے تھے ان ہی میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ عورتوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا قرآن کریم نے اس ظالمانہ رواج کو توڑا اور عورتوں کو بھی اسی طرح حصہ دلایا جس طرح مردوں کو۔ عرب میں کم مال تقسیم نہیں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال و دولت، جائیداد وغیرہ کم ہو یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ ایسی ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ وہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام ونمود کے لئے وصیت کرے۔ ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ قیامت کے دن ایک گروہ خلقت کا قبروں سے اٹھے گا تو ان کے ک منہ، آنکھ، ناک اور کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا :” یتیموں کا مال کھانے والے “ اور وصیت میں بےاحتیاطی کی ممانعت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
[8] اسلام سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور جو بیٹے نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مرد میراث کے حق دار سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ ماں باپ وغیرہ کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا خواہ میراث تھوڑی ہو یا بہت، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نیز اس آیت کی رو سے میت کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو مریض کے پاس بیٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ وصیت لکھوا لیں اور اصل ورثا کو محروم رکھیں ، فرمایا یہ حرکت نہایت مذموم ہے ، ان کو سوچنا چاہئے کہ اگر یہی پوزیشن انکی ہو تو وہ کیا کریں ، یعنی یعنی اگر ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو کیا یہ گوارا کریں گے کہ ان کے لئے کچھ نہ چھوڑ جائیں ۔
Read the full tafseer →ف 4 اور یتامیٰ کے بارے میں لوگوں کو یہ خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود مرتے وقت اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور و ناتواں بچے چھوڑیں تو ان کو ان بچوں کی کس طرح فکر ہو اور وہ ان کے بارے میں کیسے کیسے اندیشے کریں کہ دیکھئے ہمارے بعدان چھوٹے بچوں کا کیا حال ہوگا اور کون ان کی دیکھ بھال کرے گا۔ بس اسی طرح دوسروں کے بچوں کا بھی خیال کریں اس بات کو سوچ کر یعنی اگر ہم چھوٹے بچے چھوڑ کر مرتے تو ان کے متعلق کیا چاہتے یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت کرنے سے جو یتیموں کے بارے میں اس نے دیا ہے اجتناب کریں۔ اور یتیموں سے سیدھی سچی اور موقع کی بات کہا کریں۔ (تیسیر)
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 2۔ یہ حکم واجب نہیں مستحب ہے اور اگر ابتداء میں واجب ہواہو تو وجوب منسوخ ہے۔
Read the full tafseer →متوفی کے ورثاء کے لئے ایک مزید تنبیہہ کہ جو آج بیجو گے کل وہی کاٹو گے :
25: فرمایا کسی حق دار کے حق میں ناانصافی کرنے والے لوگوں کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح ہم ہی میں سے ایک آدمی کے ترکہ کا معاملہ درپیش ہے اس طرح کل ہمارا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیا اس قانون کے تحت بھی کبھی انہوں نے سوچنے کی کوشش کی۔ اگر وہ یہ بات ذہن نشین رکھیں تو کبھی کسی کے حق میں زیادتی کا سوچ بھی نہ سکیں۔ ہاں ! ہاں ! لوگوں کو اس بات سے ڈرنا ہی چاہئے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائے تو انہیں ان کی طرف سے کیا کچھ اندیشہ لاحق ہوتا ؟ ایسا ہی دوسروں کے لئے سمجھیں اور چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور ایسی بات…
Read the full tafseer →Fear Allah while distributing inheritance
The third verse (9) addresses Muslims in general exhorting them to make it certain that the inheritance of the deceased reaches his children fully and fairly. They must abstain from any mode of action which may affect the share of the children adversely. The general sense of the verse covers the eventuality when one sees a Muslim making a will or disposing property off in a manner which could cause damage or loss to his children and other inheritors. If so, one must stop him from such bequeathal or such disposal, very much like what the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
13. This directive is addressed to the heirs of the deceased. They are told not to be niggardly towards their relatives whether they be close or distant. Nor should they be niggardly towards either poor and needy members of the family or towards orphans who are present when the inheritance is distributed. Although they are not legally entitled to any share it is seemly for people to act magnanimously and give them something out of their inheritance, and especially to desist from making hurtful remarks.
Read the full tafseer →