An-Nisaa 4:8

An-Nisaa · from ayah 8

4:8

وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ۟وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ اُولُوا الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّنۡهُ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when [other] relatives and orphans and the needy are present at the [time of] division, then provide for them [something] out of the estate and speak to them words of appropriate kindness.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:8

اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بولو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں، تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو ، اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تقسیمِ (وراثت) کے موقع پر (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج موجود ہوں تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور ان سے نیک بات کہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تقسیم کے وقت قرابت والے اور یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انھیں اس میں سے کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تقسیم ترکہ کے موقع پر اگر قرابت والے (غیر وارث) یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو اور ان سے اچھے طریقہ سے بات کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تقسیم کے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آموجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے دستور کے مطابق بات کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب تقسیم کے وقت آ جایا کریں رشتہ دار، اور یتیم، اور مسکین (و محتاج) تو تم انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو (انکی دلجوئی کیلئے) ان سے بھلی بات بھی کہہ دیا کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب تقسیم کے وقت اعزہ اور یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس میں سے (کچھ) دے دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور محتاج تو انہیں بھی کچھ دے دلا دو اس میں سے اور ان سے معقول انداز میں بات کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تقسیم کے موقعہ پر کنبہ کے لوگ یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بات کرو

— محترمہ رفعت اعجاز

If other near of kin orphans and needy are pre sent at the time of division of inheritance give them some thing of it and speak to them kindly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If the relatives (who are not heirs) and the orphans and the needy are present at the time of distribution, give them some of it, and speak to them in fair words.

— Muhammad Taqi Usmani

If the relatives (who are not heirs) and the orphans and the needy are present at the time of distribution, give them some of it, and speak to them in fair words.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the relatives, and the orphans, and the poor are present at the time of division, give them from the property, and speak to them words of kindness and justice.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when kinsfolk and orphans and the needy are present at the division (of the heritage), bestow on them therefrom and speak kindly unto them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when [other] relatives and orphans and the needy are present at the [time of] division, then provide for them [something] out of the estate and speak to them words of appropriate kindness.

— Saheeh International

If relatives, orphans or destitute people, are present at the distribution of the legacy, give them something and speak kindly to them.

— Muhammad Sarwar

And when there are present at the division the relatives and the orphans and the needy, give them (something) out of it and speak to them kind words.

— Muhammad Habib Shakir

And when those of kin are Present at the division and the orphans and the needy, provide for them thereout, and say unto them a reputable saying.

— Abdul Majid Daryabadi

But if at the time of division other relatives, or orphans or poor, are present, feed them out of the (property), and speak to them words of kindness and justice.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–10

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة النِّسَآء 13 خطاب میت کے وارثوں سے ہے اور انہیں ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دور نزدیک کے رشتہ دار اور کنبہ کے غریب و مسکین لوگ اور یتیم بچے آجائیں ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو۔ میراث میں ازروئے شرع ان کا حصہ نہیں ہے تو نہ سہی، وسعت قلب سے کام لے کر ترکہ میں سے ان کو بھی کچھ نہ کچھ دے دو ، اور ان کے ساتھ وہ دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے مواقع پر بالعموم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اب قرآنی نظام کی خوبی و خوش اسلوبی کو دیکھئے کہ ایک طرف تو خود قرآن ہی کا بتایا ہوا عادلانہ ضابطہ یہ ہے کہ اقرب کے مقابل ہمیں ابعد کو محروم کیا جائے۔ دوسری طرف محروم ہونے والے ابعد کی حسرت اور دل شکنی بھی گوارا نہیں کی جاتی، اس کے لئے ایک مستقل آیت میں یہ ہدایت کی گئی واذا حضرالقسمة الوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ و قولوالھم قولاً معروفاً ”یعنی جو دور کے رشتہ دار اور یتیم مسکین میراث میں حصہ پانے سے محرم ہو رہے ہوں، اگر وہ تقسیم میراث کے وقت آموجود ہوں تو میراث پانے والوں کا اخلاقی فرض ہے کہ اس مال میں سے با اختیار خود کچھ حصہ ان کو بھی دیدیں جو ان کے لئے ایک قسم کا صدقہ اور موجب ثواب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حصے معین ہوجانے کے بعد قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروائے شریعت وارث قرار پائے ہیں لیکن صلہ رحم اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ چناچہ وارثوں کو خطاب کرکے ہدایت ہوئی کہ اگر کسی کی وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آموجود ہوں تو ہرچند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ ہو تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے نہ جائیں بلکہ ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلا کر ان کی دلداری کی کوشش کی جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اسے بعض علماء نے آیت میراث سے منسوخ قرار دیا ہے لیکن صیح تر بات یہ ہے یہ منسوخ نہیں، بلکہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے۔ کہ امداد کے مستحق رشتے داروں میں سے جو لوگ وراثت میں حصے دار نہ ہوں، انہیں بھی تقسیم کے وقت کچھ دے دو۔ نیز ان سے بات بھی پیار اور محبت سے کرو۔ دولت کو آتے ہوئے دیکھ کر قارون اور فرعون نہ بنو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: جب میراث تقسیم ہورہی ہو تو بعض ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کو بھی کچھ دے دینا بہتر ہے، مگر ایک تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس ہدایت پر عمل کرنا مستحب ہے، یعنی پسندیدہ ہے واجب نہیں ہے، دوسرے اس پر عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ورثاء ایسے لوگوں کو اپنے حصہ میں سے دیں، نابالغ ورثاء کے حصے میں سے کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ”۔ واذا حضر القسمة اولوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ وقولولھم قولا معروفا “۔ (8) اس آیت کے بارے میں علماء سے بہت سے اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا ہے جس میں تمام لوگوں کے حصص مقرر ہوچکے ہیں ۔ بعض نے اسے منسوخ اور قائم کہا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم اور مدلول پر عمل کرنا فرض اور واجب ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے ۔ یہ وارثوں کی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں ، میرے خیال میں اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آیات محکمات میں سے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ ایک تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی تقسیم میراث کے وقت برادری اور کنبہ کے لوگ جمع ہوں تو جو رشتہ دار ایسے ہوں جن کو میراث میں حصہ نہیں پہنچتا یا جو یتیم اور محتاج ہوں ان کو کچھ کھلا کر رخصت کرو یا کوئی چیز ترکہ میں سے حسب موقع ان کو بھی دے دو کہ یہ سلوک کرنا مستحب ہے۔ اگر مال میراث میں سے کھلانے یا کچھ دینے کا موقع نہ ہو مثلاً وہ یتیموں کا مال ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی تو ان لوگوں سے معقول بات کہہ کر رخصت کردو یعنی نرمی سے عذر کردو کہ یہ مال یتیموں کا ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی اس لئے ہم مجبور ہیں۔ ابتدائے سورت میں بیان ہوچکا ہے کہ تمام قرابت والے درجہ بدرجہ سلوک اور مراعات کے مستحق ہیں اور یتامی اور مساکین بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ جب وراثت کی تقسیم ہو رہی ہو تو اب اگر وہاں کچھ قرابت دار ‘ کچھ یتیم اور کچھ محتاج بھی آجائیں۔ فَارْزُقُوْہُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت وراثت تقسیم ہو رہی ہے اور وہ بالکل محتاج ہیں ‘ تو ان کے احساس محرومیت کا جو بھی مداوا ہوسکتا ہے کرو ‘ اور ان سے بڑے اچھے انداز میں بات کرو۔ انہیں جھڑکو نہیں کہ ہماری وراثت تقسیم ہو رہی ہے اور یہاں تم کون آگئے ہو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 ترکہ کی تقسیم کے وقت اگر کچھ محتاج، یتیم اور فقیر قسم کے لوگ یا دور کے رشتہ دار آجائیں تو ازراہ احسان انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دیا کرو۔ تنگ دلی یا تنگ ظرفی سے کام نہ لو اور اگر ایسا نہ کرسکو تو کم از کم انہیں نرمی سے جواب دے دو ۔ مثلاً یہ کہہ دو کہ یہ مال یتیموں کا ہے۔ یا یہ کہ میت نے ایسی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ وغیرہ، وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24 ۔ یعنی نرمی اور خوش اسلوبی سے معذوری کردو۔ خشونت سے کام نہ لو۔ (آیت) ” اذا حضر القسمۃ “۔ یعنی جس وقت وارثوں کے درمیان تقسیم ترکہ ہورہی ہو، ای قسمۃ الترکۃ (مدارک) (آیت) ” اولوالقربی “۔ ایسے عزیز مراد ہیں جن کا میراث میں کوئی حق نہیں۔ فی من لایرث (مدارک) (آیت) ” منہ “۔ ضمیر ترکہ کی طرف ہے۔ ای مما ترک الوالدان والاقربون “ (مدارک) یہ تقسیم صرف بالغوں کے حصہ میں سے ہوگی۔ نابالغوں کے حصہ میں سے خیر و خیرات یا کسی کی مراعات جائز نہیں۔ فارزقوھم اس میں بڑی بحث وگفتگو ہوئی ہے کہ یہ حاضر الوقت غیر وارثوں کو ترکہ میں سے دینے کا حکم وجوبی ہے یا محض استحبابی، تحقیق یہ ہے کہ یہ درجہ استحباب کی چیز ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاِذَا حَضَرَ الْقَسْمَۃَ (الآیۃ) اس آیت کو بعض علماء نے آیت میراث سے منسوخ قرار دیا ہے لیکن صحیح تر بات یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے کہ امداد کے مستحق رشتہ داروں میں سے جو لوگ وراثت میں حصہ دار نہ ہوں انہیں بھی تقسیم کے وقت کچھ دے دو ، نیز ان سے بات بھی پیار و محبت کے انداز میں کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و اذا حضرالقسمۃ اولوا القربیٰ والیتمیٰ والمساکین اور اگر تقسیم میراث کے وقت (دور کے غیر مستحق) قرابتدار اور یتیم اور مسکین آجائیں۔ اولوا القربٰی سے وہ قرابتدار مراد ہیں جن کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں۔ فارزقوھم منہ تو ترکہ سے یا تقسیم سے ان کو بھی بطور خیرات کچھ دیدو۔ حسن نے بیان کیا کہ لوگ تابوت، برتن، پرانے کپڑے اور وہ سامان جس کو آپس میں تقسیم کرنے سے شرم آتی تھی دیدیا کرتے تھے سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا کہ آیت : یوصیکم اللہ سے یہ آیت منسوخ ہے حضرت ابن عباس شعبی، نخعی، زہری، مجاہد اور علماء کی ایک جماعت نے اس آیت کو محکم قرار دیاقتادہ نے یحییٰ بن یعمر کا قول نقل کیا ہے کہ تین مدنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) زمانہ جاہلیت میں لوگ لڑکیوں اور عورتوں کو میراث میں سے کچھ نہیں دیتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کے اصول (حصوں) کو بیان فرماتے ہیں کہ میراث خواہ کم ہو یا زیادہ ان کے لیے ایک متعین حصہ میراث میں مقرر ہے اور ان کی لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان کا چچا تھا جس نے انہیں میراث میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور تقسیم میراث کے وقت جب میت کے ایسے رشتہ دار جن کا میراث میں کوئی حصہ نہ ہو اور اگر کوئی مسلمان یتیم اور مسلمان فقرا بھی اس وقت آجائیں تو ان کو بھی تقسیم سے قبل بطور استجاب (نیکی) کچھ دے دیا کرو اور اگر نابالغوں کا مال ہو تو ان لوگوں کو تسلی دے کر نرمی کے ساتھ ٹال دیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی وارثوں کو چاہیے کہ متروکہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدقہ و خیرات ان رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں اور تقسیم کے وقت موقع پر پہنچ جائیں اور اگر وہ لوگ زیادہ حرص کریں تو ”ان سے اچھی بات کہو۔“ یعنی معذرت کرو کہ یہ وارثوں کا مال ہے، تمہارا حق نہیں ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ حکم ”فرائض“ یعنی وارثوں کے حصے مقرر ہونے سے پہلے تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لیے اب یہ بخشش نہیں ہے، اب صدقہ و خیرات میت کی وصیت ہی سے ہوسکتا ہے، لیکن بخاری میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں اور وارثوں کو حکم ہے کہ تقسیم ترکہ کے وقت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 8۔ مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو میراث میں کسی چیز کا مستحق نہیں ہے اور ورثہ کی تقسیم کے وقت حاضر ہوا اور وہ قریبی رشتہ داروں سے ہو یا یتامی اور فقراء سے جو وارث نہیں ہیں تو ان کو احترام دو اور انہیں محروم نہ کرو اگر مال زیادہ ہو اور اگر مال زمین ہو یا اتنا تھوڑا ہو کہ تھوڑی سی بخشش کو بھی قبول نہ کرتا ہو تو ان سے معذرت کرنی چاہیے، اگر تھوڑا مال دے دیا جائے تو اس میں بہت بڑا اجر ہے، ایک درہم، ایک لاکھ سے بھی سبقت لے جاتا ہے، اس قول کے مطابق یہ آیت محکم ہے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ تابعین کی ایک جماعت نے اس کی پیروی کی ہے مثلا عروہ بن زبیر وغیرہ، حضرت ابو موسیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی شیبہ و بخاری وابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (یہ آیت) ” واذا حضر القسمۃ اولوا القربی والیتمی والمسکین “ محکم ہے اور منسوخ نہیں ہے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر نے مقسم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا حضر القسمۃ “ (یہ آیت) محکم ہے اور اس پر عمل کیا جائے گا۔ (3) ابن ابی شیبہ نے وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حطان بن عبدا اللہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابو موسیٰ ؓ نے اس آیت کے مطابق فیصلہ کیا۔ (4) سعید بن جبیر وابن جریر وابن المنذر نے یحییٰ بن یعمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(وَاِذَا : اور جب ) (حَضَرَ : حاضر ہوں ) (الْقِسْمَۃَ : تقسیم کے وقت ) (اُولُوا الْقُرْبٰی : قرابت والے ) (وَالْیَتٰمٰی : اور یتیم ) (وَالْمَسٰکِیْنُ : اور ضرورت مند لوگ ) (فَارْزُقُوْہُمْ : تو تم دو ان کو ) (مِّنْہُ : اس میں سے ) (وَقُوْلُوْا : اور کہو تم) (لَـہُمْ : ان سے ) (قَوْلاً مَّعْرُوْفًا : بھلی بات ) ق س م قَسَمَ یَقْسِمُ (ض) قَسْمًا : کسی چیز کے حصے کرنا اور بانٹ دینا ‘ تقسیم کرنا۔ { اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَط } (الزخرف :32) ” کیا یہ لوگ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو۔ “ مَقْسُوْمٌ (اسم المفعول) : تقسیم کیا ہوا ‘ بٹا ہوا۔ { لِکُلِّ بَابٍ مِّنْھُمْ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ ۔ }…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

یتیموں کا مال کھانے پر سخت و عید اور ان کے مالوں کی نگرانی کا حکم بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میراث کا کام تقسیم ہونے لگے تو عزیز رشتہ دار اور یتیم مسکین بھی حاضر ہوجاتے ہیں جن کو میراث میں شرعاً حصہ نہیں پہنچتا اگر یہ لوگ ایسے موقعہ پر حاضر ہوجائیں تو بالغ ورثا اپنے حصوں میں سے کچھ دے دیں تاکہ ان کی دلداری ہوجائے اور ان کو مناسب طریقہ پر نرمی کے ساتھ اچھے الفاظ میں سمجھا دیں کہ شرعاً تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے تم کو میراث میں سے نہ دینا کوئی ظلم زیادتی کی بات نہیں ہے اور یہ ہم اپنے پاس سے پیش کر رہے ہیں، آپ حضرات قبول کرلیں اور دلگیر نہ ہوں اللہ کی قضا و قدر اور اس کی شریعت پر راضی رہیں، پھر یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

حکم ہفتم مراعاۃ غیر مستحقین میراث بوقت تقسیم ترکہ۔ قال تعالیٰ واذا حضرالقسمۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ سدیدا۔ ربط) گزشتہ آیت میں حق داران میراث اور مستحقین ترکہ کا بیان تھا اب اس آیت میں غیر مستحقین میراث کے ساتھ ایک قسم کے سلوک اور احسان کا حکم ہے اور جب تقسیم میراث کے وقت ایسے غریب رشتہ دار بھی حاضر ہوجائیں جن کا میراث میں کوئی حق نہیں اور یتیم اور فقیر بھی اس وقت اس پر امید جمع ہوجائیں کہ شاید اس موقع پر اہل خیر ہمیں کچھ خیرات دے دیں تو تم ان کو تبرعا بالغوں کے حصہ میں سے کچھ دے دیا کرو اگر ورثہ یتیم اور نابالغ ہوں تو ان غرباء اور مساکین سے معقول اور نرم بات کہہ کر ان کو رخصت کردو یعنی نرمی سے یہ عذر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9 یعنی اگر ورثاء میں یتامی اور مساکین بھی ہوں تو ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے کھانے کے لیے انہیں کچھ دے دیا کرو۔ اور ان سے کہہ دیا کرو اب ترکہ تقسیم نہیں کر رہے جب تقسیم ہوگا تم کو بھی بلا لیا جائے گا۔ کیونکہ ترکہ میں غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم بیک وقت ممکن نہیں۔ اس آیت میں اُوْلُوْا القُرْبیٰ سے ورثاء مراد ہیں اور وَالْیَتیٰمیٰ وَالْمَسٰکِیْن کا عطف تفسیری ہے اور فَارْزُقُوْھُم بمعنی فَاَطْعِمُوْھُم ہے اور اُوْلُوْ القُربیٰ کے بعد یتامی اور مساکین کی تخصیص ان کے حقوق کی نگہداشت کے پیش نظر ہے تاکہ ان کے حقوق ضائع نہ کیے جائیں۔ اس طرح یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ اس کے بعد وَلْیَخَشَ الَّذِیْنَ لَوْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربط آیات سورة النساء کے پہلے رکو ع میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر یتیموں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، ان کی رہائش کا بندوبست ، ان کے مال کی حفاظت وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف کرنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے زمانہ جاہلیت کے اس دستور کا رد فرمایا جس کے ذریعے وہ لوگ عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ اور اسلام کے قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ ہر مرد وزن ، چھوٹے بڑے ، جوان اور بوڑھے کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کردیا گیا ہے کسی شخص کی موت کے وقت اس کے جو قربت دار موجود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۝ 8 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

ترکیب : مماقل الخ جملہ بدل ہے ماترک سے اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر محذوف سے ‘ ای مما ترکہ قلیلا او کثیرا۔ نصیباً یہ موقع میں مفعول مطلق کے ای عطاء و استحقاقا واذا حضر شرط۔ فارزقوھم الخ جواب لو ترکوا شرط خافوا علیہم جواب ظلماً مفعول لہ ہے یا مصدر موقع حال میں۔ تفسیر : یہ ان احکام کی چوتھی قسم ہے جو توریت سے متعلق ہے۔ اس کے سبب نزول میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اوس بن ثابت انصاری ؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیوی پیچھے رہی اور اس کے چچا کے دو بیٹے سوید اور عرفجہ جو وصی تھے کل مال کو دبا بیٹھے۔ اس کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے فریاد کی۔ آپ نے فرمایا اس امر میں خدا تعالیٰ جو حکم دے گا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَاحَضَرَالْقِسْمَۃَ اُولُوالْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا اور جب تقسیم کے موقعہ پر قرابت دار اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو) (النسآء : 8) گزشتہ آیات سے یہ تو واضح ہوگیا اور اس کی تفصیل اگلے رکوع میں آرہی ہے کہ وراثت میں ہر حصہ دار کا حصہ مقرر کردیا گیا ہے اور وارث بھی اللہ کی جانب سے طے فرمادئیے گئے ہیں۔ اب نہ کوئی نیا وارث بن سکتا ہے اور نہ کسی کے حصے میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ بات بہرحال ممکن ہے کہ جب مال وراثت تقسیم کیا جانے لگے تو جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–10

فہم القرآن ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔ 1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔ 2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔ 3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔ 4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔ اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت ‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اوراقرباء چھوڑ جائیں اس میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 8 : وَاِذَاحَضَرَ الْقِسْمَۃَ (جب تقسیم میراث کے وقت آموجود ہوں) اُولُوا الْقُرْبٰی (قرابتدار) جو غیر وارث ہیں۔ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ (یتیم و مساکین) اجنبی۔ فَارْزُقُوْہُمْ (پس ان کو بطور خیرات دے دو ) مِّنْہُ (اس میں سے) جو قرابتداروں اور اقارب نے چھوڑا ہے۔ یہ امر استحباب کے لئے ہے۔ یہ حکم باقی ہے۔ منسوخ نہیں ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ابتداء میں یہ لازم تھا پھر آیت میراث سے منسوخ ہوا۔ دستور کی بات : وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (اور ان کو تم دستور کی بات کہو) یعنی مناسب انداز سے معذرت اور مناسب وعدہ کرو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قول معروف یہ ہے خذوا بارک اللہ لکم یہ لے لو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 8۔: (آیت)” واذا حضر القسمۃ “۔ تقسیم میراث کے وقت ” اولوالقربی “۔ وہ قرابت دار جن کا حصہ میراث میں مقرر نہیں (آیت)” والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ “۔ ترکہ یا تقسیم سے ان کو کچھ مال دے دو (آیت)” وقولوالھم قولا معروفا “۔ (اذا حضر القسمۃ “۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ کی تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال) اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے ، سعید بن جبیر ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت میراث کی آیت سے پہلے کی ہے ان سب کو میراث کا اہل بنایا ہے اور اس آیت کو منسوخ کردیا گیا ہے ، دوسرے حضرات کے نزدیک یہ آیت محکم ہے یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، شعبی (رح) ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ اور تابعین کا بڑا اختلاف ہے یہاں تک کہ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اس باب میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یوصیکم اللہ سے منسوخ ہے اور دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ منسوخ نہیں ہے۔ اور رفع اس اختلاف کا یہی ہے کہ منسوخ نہ ہونے کی روایت بہ نسبت منسوخ ہونے کی روایت کے زیادہ قوی ہے چناچہ اسی وجہ سے امام بخاری نے صحیح بخاری 2 میں بوجہ ثقاہت راویوں کے منسوخ نہ ہونے کی روایت کو لیا ہے دوسری روایت کو نہیں لیا۔ اور اس صورت میں معنی اس آیت کے آیت یوصیکم اللہ کے ساتھ ملا کر یہ ہوں گے کہ آیت یوصیکم اللہ سے جن قرابت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 8 یہ اللہ تعالیٰ کے بہترین اور جلیل ترین احکام میں سے ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (واذا حضر القسمۃ) یعنی میراث کی تقسیم کے وقت (اولوا القربی) یعنی وہ رشتہ دار جو میت کے واثر نہیں ہیں اور اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (القسمۃ) ہے کیونکہ ورثاء تو وہ لوگ ہیں جن میں وراثت تقسیم ہوگی (والیتمی والمسکین) ” یتیم اور مساکین “ یعنی فقراء میں سے مستحق لوگ (فارزقوھم منہ) یعنی اس مال میں سے جو تمہیں بغیر کسی کدو کاوش اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہوا۔ ان کو بھی جتنا ہوسکے عطا کردو۔ کیونکہ ان کا نفس بھی اس کا اشتیاق رکھتا ہے اور ان کے دل بھی منتظر ہیں۔ پس تم ان کے دل جوئی کی خاطر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

تقسیم میراث کے موقع پر رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جائے۔ قول باری ہے (واذاحضرالقسمۃ اولوالقربی والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ، اور جب ترکہ کی تقسیم کی موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مساکین بھی آجائیں توا نہیں بھی اس میں سے کوئی حصہ دو ) سعیدبن المسیب، ابومالک اور ابوصالح کا قول ہے کہ یہ حکم آیت میراث کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، عطاء حسن، شعبی، ابراہیم ، مجاہد، اور زھری کا قول ہے کہ یہ محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت، یہ بات آیت میراث کے نزول سے پہلے کی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے آیت میراث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 میراث کا استحقاق نہ رکھنے والوں کے لئے بھلی بات کی تلقین : یعنی جن کا ترکے میں حصہ نہ ہو ان کو کچھ دے دیا کرو اور بھلی بات کہہ دیا کرو، تاکہ ان کی دلجوئی ہوجایا کرے ‘ اہل بدعت کے بعض بڑوں کی بدعت پرستی ملاحظہ ہو کہ اس آیت کریمہ سے انہوں نے بعض مروجہ بدعات یعنی تیجہ وغیرہ کے لئے دلیل کشید کرنے کی سعیٔ مذموم کی ہے، ِوَالْعِیَاذ باللّٰہ حالانکہ اس کا یہاں کوئی تعلق و ذکر ہی نہیں، نہ تیسرے دن کا کوئی سوال ہے، نہ تین کے ہند سے ہی کا کوئی ذکر ہے، یہاں تو ذکر صرف میراث کی تقسیم کا ہے، وہ جب اور جیسے ہو، اور جہاں ہو، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب راہ حق و صواب کی پٹڑی سے اتر جاتا ہے تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–8

مرنیوالے کے مال کی تقسیم تشریح : ان آیات میں پانچ حکم دیئے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جاہلیت کے زمانے کی رسم ختم کرکے مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وراثت کا حصہ دار بنایا گیا۔ دوسرا میراث چاہے کم ہو یا زیادہ تقسیم کرنا ضروری ہے۔ تیسرا چھوڑا ہوا مال چاہے رقم ہو، جائیداد ہو، زرعی زمین ہو، باغات ہوں، مل یا فیکٹری ہو غرض کسی بھی صورت میں مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال تقسیم ضرور کیا جائے۔ چوتھا میراث کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب مرنے والاکچھ چھوڑ جائے۔ پانچواں اور آخری حکم یہ ہے کہ جب مرنے والے کے قریبی رشتہ دار موجود ہوں تو پھر دور کے رشتہ دار حصہ لینے کے حق دار نہ ہوں گے۔ لیکن اگلی ہی آیت میں انسانی جذبات،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–8

آیت 7 تا 8 ۔ للرجال نصیب تا وسیصلون سعیرا۔ قانون وراثت : مال اگرچہ بےوقعت ہرگز نہیں مگر اس قدر قیمتی بھی نہیں کہ آدمی صرف مال کے حصول پہ نگاہ رکھے اور اس میں دوسروں کے حقوق تک کی پرواہ نہ کرے جیسا کہ قبل اسلام ہوتا تھا کہ عورت سرے سے وارث ہی نہ تھی اور نابالغ بچے بھی وارث نہ تھے سو اگر بالغ اور مذکر اولاد ہوتی تو کچھ پا لیتی ورنہ مرنے والے کے ورثا سب مال لے اڑتے تھے پھر اس میں بھی بعض چیزیں مثلا گھوڑا تلوار زرہ یا اس قسم کی دوسری اشیاء مستثنی قرار دی گئی تھیں اسلام نے اس سارے معاملے کو نہایت حسن و خوبی سے سلجھا دیا۔ فرمایا والدین یا قرابت دار جو ترکہ چھوڑ کر مریں اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی ورثہ کو چاہیے کو متر کہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدق و خیرات ان رشتہ داروں یتیموں اور مسکینون کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں تقسیم کے وقت موقع پر پہنچجائیں ار اگر یہ لوگ زیادہ کی حرص کریں تو نرمی سے ان سے بات کرو۔ یعنی معذرت کردو یہ وارث ﷺ کا مال ہے تمہار حق نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں فرائض یعنی روثہ کے مقررہ حصے نازل ہونے سے پہلے یہ حکم تھا۔ فرائض نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے اب یہ بخشش نہیں ہے اور صدقہ و خیرات میت کی وصیت سے ہی ہوسکتا ہے یہی مذہب جمہور فقہا ائمہ اور ابعہ اور ان کے متبعین کا ہے لیکن بعض اب بھی کچھ صدقہ و خیرات کے قائل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 7–8

(4:7) قل۔ ماضی معروف واحد مذکر غائب۔ وہ کم ہوا۔ قلۃ۔ مصدر سے۔ کثرۃ کی ضد ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ قلیل ہو یا کثیر۔ مفروضا۔ اسم مفعول ۔ فرض مصدر ۔ فرض کیا گیا۔ مقرر کردہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 – 10 لغات القرآن : نصیب، حصہ۔ ترک، چھوڑا۔ قل، تھوڑا ہو۔ کثیر، زیادہ۔ نصیب مفروض، حصہ مقرر ہے۔ القسمۃ، تقسیم۔ ولیخش، اور ڈرنا چاہیے۔ ضعف، کمزور، ناتواں۔ سیصلون، جلد ہی وہ ڈالے جائیں گے۔ سعیر، بھڑکتی آگ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے عرب میں ایسے ظالمانہ طریقوں کا رواج تھا جس سے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ہوا کرتے تھے ان ہی میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ عورتوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا قرآن کریم نے اس ظالمانہ رواج کو توڑا اور عورتوں کو بھی اسی طرح حصہ دلایا جس طرح مردوں کو۔ عرب میں کم مال تقسیم نہیں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال و دولت، جائیداد وغیرہ کم ہو یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت سے ظاہر ہے کہ میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطور صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا۔ زمانہ صحابہ میں اس پر عمل تھا۔ مسلمانوں میں یہ معمول ہے کہ وہ بھی اس آیت کا اتباع کرتے ہیں جس کو سوئم کہتے ہیں لیکن اسراف بےجا نہیں کرنا چاہیے اور عذر نرم لفظوں میں کردیا جاوے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–10

[8] اسلام سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور جو بیٹے نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مرد میراث کے حق دار سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ ماں باپ وغیرہ کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا خواہ میراث تھوڑی ہو یا بہت، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نیز اس آیت کی رو سے میت کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ بانٹتے وقت اگر کچھ لوگ اپنے عزیز یا دوسرے محتاج ومستحق جمع ہوجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو ‘ تاکہ وہ دل شکستہ نہ ہوجائیں اور ان سے اس طرح پیش آؤ جس سے کہ ان کے وقار اور ناموس کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ حل لغات : نصیب : حصہ ۔ فروضا : مقرر و متعین ۔ غیر مشکوک ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور جب وارثوں میں ترکہ کی تقسیم کے وقت کچھ دور پرے کے رشتہ دار جو اس ترکہ کے مستحق نہ ہوں اور یتیم و مساکین آجائیں اور یہ رشتہ دار اور یتیم و مساکین آموجود ہوں تو ان کو بھی اس ترکہ میں سے استحباباً کچھ دیدیا کرو اور ان رشتہ داروں اور یتامیٰ و مساکین سے خوبی، نرمی اور شیریں کلامی کے ساتھ بات کیا کرو۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس وقت میراث تقسیم ہو اور برادری کے لوگ جمع ہوں تو جن کو حصہ نہیں پہنچتا اور قرابتی ہیں یا یتیم یا محتاج ہیں تو کچھ کھلا کر رخصت کرو اور بات معقول کہو یعنی جواب سخت نہ دو اور اگر توقع زیادہ کریں تو عذر کرو۔ (موضح القرآن) آیت زیر بحث کا خلاصہ یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 2۔ یہ حکم واجب نہیں مستحب ہے اور اگر ابتداء میں واجب ہواہو تو وجوب منسوخ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

متوفی کا ترکہ تقسیم ہونے لگے تو ورثا کو کیا کرنا چاہئے ؟ 23: قانون میں جب حصے مقرر ہوگئے تو اب متوفی کے ورثا وہی قرار پائیں گے جو قرآن کریم نے بیان کردیئے اور وہی حصہ ان کو ملے گا جو قرآن کریم نے ان کے لئے مقرر کیا بلاشبہ اب قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروئے قرآن کریم وارث قرار پاتے ہیں لیکن متولی کے ذوی الارحام اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ اس لئے متوفی تو دار فانی سے رخصت ہوگیا اب اس کے صحیح وارثوں کو خطاب کر کے ہدایت دی جا رہی ہے کہ اگر وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند یتیم اور مسکین یعنی فقیر قسم کے لوگ آموجود ہوں تو ہر چند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Now look at the beauty and delicacy of the Qur'anic arrangement of things. On the one hand, there is the just rule offered by the Qur'an itself - that the nearer in kinship shall exclude the farther. On the other hand, there is that wonderful concern for the disappointment of the excluded farther'. Therefore, a regular verse (8) has been devoted to carry the necessary instruction as to how this situation will be handled: وَإِذَا حَضَرَ‌ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْ‌زُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُ‌وفًا ﴿8﴾ It means that distant…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

13. This directive is addressed to the heirs of the deceased. They are told not to be niggardly towards their relatives whether they be close or distant. Nor should they be niggardly towards either poor and needy members of the family or towards orphans who are present when the inheritance is distributed. Although they are not legally entitled to any share it is seemly for people to act magnanimously and give them something out of their inheritance, and especially to desist from making hurtful remarks.

Read the full tafseer →