An-Nisaa 4:7

An-Nisaa · from ayah 7

4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۪— وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ ؕ— نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ۟لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ‌ؕ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

For men is a share of what the parents and close relatives leave, and for women is a share of what the parents and close relatives leave, be it little or much - an obligatory share.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:7

مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، اس میں سے جو اس (مال) سے تھوڑا ہو یا بہت، اس حال میں کہ مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مردوں کے لیے اس مال سے حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں (اسی طرح) عورتوں کے لیے بھی اس مال سے حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ خواہ یہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔ ہر ایک کا طے شدہ حصہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک مقررہ حصہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مردوں کے لئے حصہ ہے اس مال میں سے جس کو چھوڑ مریں ان کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار، اور عورتوں کے لئے بھی حصہ ہے اس مال میں سے جس کو چھوڑ مریں، ان کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، مقرر کردہ حصے کے طور پر

— مولانا اسحاق مدنی

مردوں کے لیے بھی اس چیز میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لئے بھی اس چیز میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اس (متروکہ) میں سے تھوڑا ہو یا زیادہ (بہرحا ل) ایک حصہ قطعی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ چھوڑا ہو والدین نے اور رشتہ داروں نے اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ ہے والدین اور رشتہ داروں کا چاہے وہ وراثت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو یہ حصہ ہے (اللہ کی طرف سے) فرض کیا گیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو، خواہ بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Just as there is a share for men in what their parents and kinsfolk leave behind, so there is a share for women in what their parents and kinsfolk leave behind - be it little or much - a share ordained (by Allah).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For men there is a share in what the parents and the nearest of kin have left. And for women there is a share in what the parents and the nearest of kin have left, be it small or large__a determined share.

— Muhammad Taqi Usmani

For men there is a share in what the parents and the nearest of kin have left. And for women there is a share in what the parents and the nearest of kin have left, be it small or large__a determined share.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is a share for men and a share for women from what is left by parents and those nearest in relation, whether the property be small or large -- a legal share.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto the men (of a family) belongeth a share of that which parents and near kindred leave, and unto the women a share of that which parents and near kindred leave, whether it be little or much - a legal share.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For men is a share of what the parents and close relatives leave, and for women is a share of what the parents and close relatives leave, be it little or much - an obligatory share.

— Saheeh International

Male and female are entitled to their legal share in the legacy of their parents and relatives, whether it be small or large.

— Muhammad Sarwar

Men shall have a portion of what the parents and the near relatives leave, and women shall have a portion of what the parents and the near relatives leave, whether there is little or much of it; a stated portion.

— Muhammad Habib Shakir

Unto males shall be a portion of that which their parents and others near of kin may leave; and unto females shall be a portion of that which their parents and other near of kin may leave, whether it be small or large, a portion allotted.

— Abdul Majid Daryabadi

From what is left by parents and those nearest related there is a share for men and a share for women, whether the property be small or large,-a determinate share.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–10

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 12 اس آیت میں واضح طور پر پانچ قانونی حکم دیے گئے ہیں ایک یہ کہ میراث صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس کی حق دار ہیں۔ دوسرے یہ کہ میراث بہرحال تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو، حتٰی کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسرے وارثوں سے ان کا حصہ خرید لے۔ تیسرے اس آیت سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ وارث کا قانون ہر قسم کے اموال و املاک پر جاری ہوگا۔ خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ، زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور صنف مال میں شمار ہوتے ہوں۔ چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات سورة نساء میں اول ہی عام انسانی حقوق خصوصاً عائلی زندگی سے متعلق حقوق کا بیان چل رہا ہے، اس سے پہلی آیت میں یتمیوں کے حقوق کا بیان تھا، مذکورہ چار آیتوں میں بھی عورتوں اور یتیموں کے خاص حقوق متعلقہ وراثت کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں جاہلیت کی اس رسم کو باطل کیا گیا ہے کہ اس زمانہ میں عورتوں کو میراث کا مستحق ہی نہیں مانا جاتا تھا، اس آیت نے ان کو اپنے شرعی حصہ کا مستحق قرار دے کر ان کے حق میں کمی کرنے اور نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت کی، پھر چونکہ مستحقین میراث کا ذکر آیا تھا اور ایسے موقع پر تقسیم کے وقت غیر مستحقین فقراء اور یتیم بچے بھی حاضر ہوجایا کرتے ہیں تو دوسری آیت میں ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یتامیٰ کے حقوق کے تحفظ نے دوسروں کے حقوق کی راہ کھول دی : یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے بعد اب یہ تمہید ہے اس قانون وراثت کی جس میں مردوں اور عصبات اور وارثوں کے لیے مورث کی تمام املاک و جائداد سمیٹ کر اس پر قابض ہوجانے کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے۔ اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ ساری دنیا میں یہ حال رہا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا کیا ذکر، تمام کمزور ورثہ زور آور وارثوں کے رحم و کرم پر تھے۔ قرآن نے اس صورت حال کی طرف دوسرے مقام وتاکلون التراث اکلا لما کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اس صورت حال کو ختم کردینے کے لیے قرآن نے تمام وارثوں کے حقوق معین کردیے، مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی، اوپر کی آیات کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 اسلام سے قبل ایک یہ ظلم بھی روا رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور صرف بڑے لڑکے جو لڑنے کے قابل ہوتے، سارے مال کے وارث قرار پاتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کی طرح عورتوں اور بچے بچیاں اپنے والدین اوراقارب کے مال میں حصہ دار ہونگے انہیں محروم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصے سے نصف ہے (جیسا کہ 3 آیات کے بعد مذکور ہے) یہ عورت پر ظلم نہیں ہے، نہ اس کا استخفاف ہے بلکہ اسلام کا یہ قانون میراث عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ عورت کو اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے فارغ رکھا ہے اور مرد کو اس کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، آنحضرت ﷺ کے سامنے ایسے واقعات پیش آئے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ بیوی اور نابالغ بچے چھوڑ کرگیا اور اس کے سارے ترکے پر اس کے بھائیوں نے قبضہ کرلیا، بیوی کو تو عورت ہونے کی وجہ سے میراث سے محروم رکھا گیا اور بچوں کو نابالغ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ دیا گیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کردیا گیا کہ عورتوں کو میراث سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، اللہ تعالیٰ نے آگے (آیت 11) سے شروع ہونے والے رکوع میں تمام رشتہ دار مردوں اور عورتوں کے حصے مقرر فرمادئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ”۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون وللنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثر نصیبا مفروضا “۔ (7) یہ وہ عام اصول ہے جس کی رو سے اسلام نے آج سے پورے چودہ سو سال قبل عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو اس وقت مردوں کو حاصل تھے ۔ یہ فیصلہ اصولی فیصلہ تھا ۔ جس طرح یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا ‘ جبکہ اس وقت کے معاشرے میں عموما چھوٹوں اور یتیموں کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اور یہ حقوق اس لئے مارے جاتے تھے کہ ایام جاہلیت میں انسانوں کی قدروقیمت کا تعین انسانی لحاظ سے نہیں بلکہ اس کا تعین اس لحاظ سے کیا جاتا تھا کہ پیداواری عمل میں وہ کس قدر کام آتے ہیں اور پھر جنگ میں وہ کس قدر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 حضرت پیغمبر ﷺ کے زمانہ سے پہلے یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو چھوٹی ہوں یا بڑی میراث نہیں دیتے تھے اور بیٹے جو نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مردوں کو جو بڑے اور دشمنوں سے مقاتلہ کے کام کے ہوتے تھے وہ وارث سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو بھی بالغ ہوں یا نابالغ ماں باپ وغیرہ اقارب کے ترکہ میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا اور یہ حصے مقرر کئے ہوئے ہیں جن کا دینا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ یہاں اب پہلی مرتبہ عورتوں کو وراثت کا حق دیا جا رہا ہے ‘ ورنہ قبل از اسلام عرب معاشرے میں عورت کا کوئی حق وراثت نہیں تھا۔ َ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ ط اللہ تعالیٰ کا قانون اس پر ہر صورت میں پوری طرح نافذ ہونا چاہیے۔ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا آگے آپ دیکھیں گے کہ اس قانون وراثت کی کس طرح بار بار تاکید آرہی ہے۔ ساتھ ہی آپ یہ بھی دیکھتے رہیں کہ ہمارے معاشرے کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی کس طرح دھجیاں بکھرتی ہیں۔ خاص طور پر ہمارے شمالی علاقے میں ویسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 عورتوں اور بچوں کا میراث میں حصہ :۔ عرب میں عورتوں کو میراث میں شامل کرنے کا دستور نہ تھا بلکہ عورت خود ورثہ شمار ہوتی تھی۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس ذلت کے مقام سے نکال کر وراثت میں حصہ دار بنادیا۔ نیز اس آیت سے مندرجہ ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں ( : 1) میراث میں عورتوں کا حصہ (2) ورثہ خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ جائیداد خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ بہرحال وہ تقسیم ہوگا۔ (3) قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار محروم ہوں گے (4) ان قریبی رشتہ داروں کا حصہ بھی مقرر ہے جس کی تفصیل اسی سورة کی آیت نمبر 11 اور نمبر 12 میں آرہی ہے (5) عورتوں کے علاوہ چھوٹے لڑکوں کو بھی وراثت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23 ۔ یعنی یہ مورث کی رائے اور اختیار پر موقوف نہیں، حصوں کی ہر تقسیم اور ترکہ کا ہر استحقاق شریعت الہی کا مقرر کیا ہوا قانون ہے۔ یہ نہیں کہ جو روشن خیال جب جب چاہیں اٹھیں اور اس قانون میں قطع وبرید کرکے رکھ دیں۔ (آیت) ” للرجال نصیب۔۔۔ ولنسآء نصیب “۔ یعنی حق میراث مردوں عورتوں دونوں کو یکساں پہنچتا ہے۔ اس میں رد آگیا ان مذہبوں کا جنہوں نے عورت کو محض اس کے عورت ہونے کی بنا پر حق وراثت سے محروم رکھا ہے۔ ہندوؤں کی طرح جاہلیت عرب میں بھی عورتوں کا کوئی حصہ ہی نہ تھا۔ (آیت) ” مما قل منہ اوکثر “۔ منہ میں ضمیر غائب ترکہ یا مال کی طرف ہے۔ والضمیر یعود الی ما ترک (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ (الآیۃ) اسلام سے قبل ایک یہ ظلم بھی رواہ رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا، صرف بڑے لڑکے جو لڑنے کے قابل ہوتے تھے تمام مال کے وارث قرار پاتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کی طرح عورتیں اور بچے، بچیاں اپنے والدین اور اقارب کے مال میں حصہ دار ہوں گے، انہیں محروم نہیں کیا جائے گا یہ الگ بات ہے کہ لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ سے نصف ہے، یہ عورت پر ظلم نہیں ہے نہ اس کا استخفاف ہے، بلکہ اسلام کا یہ قانون میراث، عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے کیونکہ عورت کو اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے فارغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

للرجال نصیب مما ترک الولدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون یعنی والدین اور (باہم وارث ہونے والے) نزدیک ترین رشتہ داروں کے ترکہ میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ عورتوں کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے مستقلاً ان کے لیے والدین اوراقارب کے ترکہ کا ذکر کیا۔ مما قل منہ اوکثر ترکہ کم ہو یا زیادہ یہ فقرہ مما ترک سے بدل ہے قلیل مقدار کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے تھے اس فقرہ میں ان کو تنبیہ کردی گئی (کہ ترکہ کم ہو یا زیادہ میراث سب میں جاری ہوگی) نصیباً مفروضا حصہ قطعی یہ مفعول مطلق تاکیدی ہے (فعل محذوف ہے) یا فاعل ظرف (للرجال) سے حال ہے حال در حقیقت مفروضاً ہے نصیباً اس کی تمہید۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) زمانہ جاہلیت میں لوگ لڑکیوں اور عورتوں کو میراث میں سے کچھ نہیں دیتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کے اصول (حصوں) کو بیان فرماتے ہیں کہ میراث خواہ کم ہو یا زیادہ ان کے لیے ایک متعین حصہ میراث میں مقرر ہے اور ان کی لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان کا چچا تھا جس نے انہیں میراث میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور تقسیم میراث کے وقت جب میت کے ایسے رشتہ دار جن کا میراث میں کوئی حصہ نہ ہو اور اگر کوئی مسلمان یتیم اور مسلمان فقرا بھی اس وقت آجائیں تو ان کو بھی تقسیم سے قبل بطور استجاب (نیکی) کچھ دے دیا کرو اور اگر نابالغوں کا مال ہو تو ان لوگوں کو تسلی دے کر نرمی کے ساتھ ٹال دیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ۔ : اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتے داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں، چاہے وہ کسی نوعیت کی ہو، جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھوٹے بچوں، حتیٰ کہ جنین کا بھی حق ہے۔ اس سے عرب کے جاہلی دستور کی تردید مقصود ہے۔ جس کے مطابق عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کردیا جاتا اور صرف بالغ لڑکے ہی جائداد پر قبضہ کرلیتے تھے۔ اس آیت کی شان نزول اور مردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعیین بعد کی آیات میں آرہی ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 7۔ اس آیت میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے یتامی کے امر کا ذکر کیا تو ساتھ ہی مواریث کا ذکر فرمایا۔ اور یہ آیت اوس بن ثابت انصاری کے بارے میں نازل ہوئی وہ فوت ہوا اور ایک بیوی چھوڑی جس کو ام کجۃ کہا جاتا ہے اور اس عورت نے تین بیٹیاں چھوڑی دو آدمی کھڑے ہوئے، وہ دونوں میت کے چچا کے بیٹے تھے، اور اس کے وصی تھے ان کو سوید اور عرفجہ کہا جاتا ہے ان دونوں نے مال لے لیا اور اس کی بیوی اور اس کی بیٹیوں کو کچھ نہ دیا اور وہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو وارث نہیں بناتے تھے اور نہ چھوٹے کو وارث بناتے تھے اگرچہ وہ مذکر بھی ہوتا وہ کہتے : میراث صرف اسے ملے گی جو گھوڑوں کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

میراث تقسیم کرنے کی تاکید (1) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں لڑکیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور نہ چھوٹے لڑکوں کو یہاں تک وہ لڑکے بالغ ہوجاتے تھے۔ انصار میں سے ایک آدمی مرگیا جس کو اوس بن ثابت ؓ کہا جاتا تھا اس نے دو بیٹیاں اور دو چھوٹے لڑکے چھوڑے اس کے چچا کے بیٹے آئے اور دونوں باپ کی طرف سے رشتہ دار تھے انہوں نے ساری میراث لے لی اس عورت نے ان دونوں سے کہا میری ان دونوں بیٹیوں سے شادی کرلو اور وہ دونوں لڑکیاں خوبصورت نہ تھیں تو انہوں نے انکار کردیا وہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ ! اوس فوت ہوگئے۔ اور اس نے دو چھوٹے بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(لِلرِّجَالِ : مردوں کے لیے ہے ) (نَصِیْبٌ : ایک حصہ ) (مِّمَّا : اس میں سے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا ) (الْوَالِدٰنِ : ماں باپ نے ) (وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور زیادہ قریبی رشتہ داروں نے ) (وَلِلنِّسَآئِ : اور عورتوں کے لیے ہے ) (نَصِیْبٌ : ایک حصہ ) (مِّمَّا : اس میں سے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا) (الْوَالِدٰنِ : ماں باپ نے ) (وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور زیادہ قریبی رشتہ داروں نے ) (مِمَّا : اس میں سے جو ) (قَلَّ : کم ہو ) (مِنْہُ : اس سے ) (اَوْ : یا ) (کَثُرَ : زیادہ ہو ) (نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا : فرض کیا ہوا حصہ ہوتے ہوئے) ترکیب : ” تَرَکَ “ کا فاعل ” اَلْوَالِدَانِ “ اور ” اَلْاَقْرَبُوْنَ “ ہیں اور ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میراث میں مردوں اور عورتوں کے حصے مقرر ہیں اس آیت شریفہ میں میراث جاری کرنے کی اہمیت بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مردوں اور عورتوں کے جو حصے مقرر ہیں ان کا دے دینا فرض ہے، مردوں کا بھی اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے متروکہ مالوں میں حصہ مقرر ہے، اور عورتوں کے لیے بھی اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے اموال و املاک میں حصہ مقرر ہے، زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو مرنے والے کی میراث سے حصہ نہیں دیا کرتے تھے اور اب بھی بہت سی قوموں میں یہی رواج ہے، اول تو لوگ میراث تقسیم کرتے ہی نہیں جس کے قبضہ میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر قبضہ جمائے بیٹھا رہتا ہے، اور اگر حصہ دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم ششم دربارہ حقوق ورثہ درترکہ قال تعالیٰ للرجال نصیب مماترک الولدان۔۔۔ الی۔۔۔۔ مفروضا۔ گزشتہ آیت میں یتیموں کے ناحق مال کھانے کا حکم تھا اب اس آیت میں وارثوں کی حق تلفی کا ذکر ہے جاہلیت کے زمانہ میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو اگرچہ وہ بالغ ہوں اور نابالغ بچوں کو میت کے مال سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا صرف مردوں کو جو بڑے ہوں اور دشمنوں سے مقابلہ اور مقاتلہ کرسکتے ہوں ان کو میراث میں سے حصہ ملتا تھا اس پر یہ آیت اتری مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس میں سے کہ جو ماں باپ اور رشتہ دارچھوڑ مرے ہیں خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا بہت ہو یہ حصہ اللہ کا مقرر کردہ ہے جس کا حق داروں کو دینا واجب ہے اس میں اس میں کمی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8 پانچواں حکم رعیت (ترکہ میں تمام ورثاء کے حصے مقرر ہیں کسی کا حصہ کم نہ کرو) جاہلیت کی ایک رسم تھی کہ وہ میت کے ترکہ سے عورتوں اور بچوں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے وراثت سے حصہ کا حقدار صرف وہی ہوسکتا ہے جو جنگ کرے اور اپنے علاقہ اور اپنی قوم کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میت کا ترکہ خواہ کم ہو یا زیادہ اس میں تمام وارثوں کا حق ہے۔ مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی۔ بڑوں کا بھی اور بچوں کا بھی۔ البتہ تمام وارثوں کے حصے جدا گانہ ہیں اور ان کی مقداریں مقرر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیت میں یتیم لڑکوں کے بالغ ہونے پر ان کے مال ان کو واپس لوٹانے کا مسئلہ بیان ہوا۔ گزشتہ سے پیوستہ میں مال کی حفاظت کا قانون تھا اور اس سے پہلے عورتوں کے ساتھ انصاف کا برتائو کرنے اور ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرنے کی تلقین تھی ، اس سے پہلے یہ مسئلہ بیان ہوا تھا کہ یتیموں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھاجانا سخت گناہ ہے۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے وراثت کے قوانین کا آغاز فرمایا ہے۔ آج کی آیت میں تو قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ ہے اور زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ وراثت کے معاملہ میں جو زیادتی ہوتی تھی اس کا رد کیا گیا ہے تاہم وراثت کے مفصل قوانین آگے آرہے ہیں۔ زمانہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ۝ 0 ۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ كَثُرَ۝ 0 ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۝ 7 رِّجْلُ : العضو المخصوص بأكثر الحیوان، قال تعالی: وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ [ المائدة/ 6] ، واشتقّ من الرِّجْلِ رَجِلٌ ورَاجِلٌ للماشي بالرِّجْل، ورَاجِلٌ بيّن الرُّجْلَةِ «1» ، فجمع الرَّاجِلُ رَجَّالَةٌ ورَجْلٌ ، نحو : ركب، ورِجَالٌ نحو : رکاب لجمع الرّاكب . ويقال : رَجُلٌ رَاجِلٌ ، أي : قويّ علی المشي، جمعه رِجَالٌ ، نحو قوله تعالی: فَرِجالًا أَوْ رُكْباناً [ البقرة/ 239] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

ترکیب : مماقل الخ جملہ بدل ہے ماترک سے اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر محذوف سے ‘ ای مما ترکہ قلیلا او کثیرا۔ نصیباً یہ موقع میں مفعول مطلق کے ای عطاء و استحقاقا واذا حضر شرط۔ فارزقوھم الخ جواب لو ترکوا شرط خافوا علیہم جواب ظلماً مفعول لہ ہے یا مصدر موقع حال میں۔ تفسیر : یہ ان احکام کی چوتھی قسم ہے جو توریت سے متعلق ہے۔ اس کے سبب نزول میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اوس بن ثابت انصاری ؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیوی پیچھے رہی اور اس کے چچا کے دو بیٹے سوید اور عرفجہ جو وصی تھے کل مال کو دبا بیٹھے۔ اس کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے فریاد کی۔ آپ نے فرمایا اس امر میں خدا تعالیٰ جو حکم دے گا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ص وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ ط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، حصہ مقرر کیا ہوا ہے) (النسآء : 7) یتیموں کے تحفظ کی برکت گزشتہ آیات میں یتیموں کے حقوق کے بارے میں ہدایات پڑھتا ہوا جب آدمی یہاں پہنچتا ہے تو اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ جس دنیا میں یتیموں کو حقوق میسر نہیں تھے، جب اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو جہاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–10

فہم القرآن ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔ 1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔ 2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔ 3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔ 4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔ اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت ‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اوراقرباء چھوڑ جائیں اس میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (مردوں کا حصہ ہے اس میں جو انکے والدین اور اقرباء چھوڑ جائیں اور عورتوں کا حصہ ہے ‘ اس مال میں جو انکے والدین اور اقرباء چھوڑ جائیں) ۔ اقربون سے مراد ذوی القربیٰ میں وراثت کے حصہ والے مراد ہیں۔ دوسرے نہیں۔ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ (خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ) یہ مماترک کا بدل ہے۔ اور اس پر عامل کو بھی دوبارہ لایا گیا ہے۔ اور منہ کی ضمیر ماترک کی طرف راجع ہے۔ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (طے شدہ حصہ) : اعنی کی وجہ سے نصیبًا منصوب ہے۔ مفروضًا کا معنی طے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(للرجال نصیب مما ترک الوالدان کا شان نزول) 7۔ یہ آیت اوس بن ثابت انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ شخص جب وفات پا گیا تو اس نے ایک عورت ام کجہ اور اس سے تین بیٹیاں چھوڑیں ، اس کے دو چچا زاد بھائی خالد (سدید) اور عرفجہ تھے ، دونوں نے آکر ساری میراث پر قبضہ کرلیا (اس کی بیوی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا عرض کردیا) زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کو میراث سے حصہ نہیں دیتے تھے، اگرچہ وہ بچہ ہو یا بچی اور وہ کہتے کہ ہم وارثت کا حصہ نہیں دیتے مگر جس کا گھر والا جہاد میں شریک ہو اور شہید ہوجائے۔ وہ عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ اوس بن ثابت تین بیٹیاں چھوڑ کر وفات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن حبان نے کتاب الفرائض صحیح ابن حبان اور ابو شیخ نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ لڑکوں کے قرابت دار مردے کے مال میں لڑکیوں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ اور لڑکوں کو بھی حد بلوغ تک پہنچے سے پہلے حضہ سے محروم رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ مردے کے مال میں سے حصہ پانے کا وہی حق دار ہے جو لڑائی بھڑائی کے کام کا ہوا اسلام کے بعد ایک شخص اوس بن ثابت ؓ انصاری نے وفات پائی تین لڑکیاں اور ایک بی بی ام کجہ اوس بن ثابت ؓ کے وارث اگرچہ موجود تھے لیکن اوس بن ثابت ؓ کے چچا زاد بھائی سوید اور عرنطہ نے سب مال اوس بن ثابت کا لے لیا اور اوس بن ثابت ؓ کی بی بی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 7 زمانہ جاہلیت میں عرب، اپنی جابریت اور قساوت قلبی کی وجہ سے کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے۔ وہ صرف طاقوتر مردوں کو میراث دیا کرتے تھے ان کے زعم کے مطابق یہ لوگ جنگ وجدل اور لوٹ مار میں حصہ لنیے کے قابل تھے۔ پس حکمت والے رب رحیم نے ارادہ فرمایا کہ اپنے بندوں کے لئے وراثت کا ایسا قانون بنا دے جس میں ان کے مرد اور عورتیں، طاقوتر اور کمزور سب مساوی ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قانون کو بیان کرنے سے پہلے ایک مجمل حکم بیان کیا تاکہ نفوس اس قانون میراث کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ جب نفوس اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور وہ وحشت زائل ہوگئی جس کا سبب بری…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حقوق قول باری ہے (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مماترک الوالدان والاقربون مماقل منہ اوکثرنصیبا مفروضا۔ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو اورعورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو، خواہ تھوڑاہویابہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ جملہ عموم اور اجمال دونوں پر مشتمل ہے۔ عموم اس لیے کہ اس میں مردوں اور عورتوں دونوں کا ذک رہے۔ نیز قول باری ہے (مماترک الوالدان والاقربون) والدین اور رشتہ داروں سے مردوں اور عورتوں کی میراث کے ایجاب پر یہ عموم ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 استحقاق میراث کی اساس و بنیاد قرابت و رشتہ داری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ میراث کی بنیاد اور اس کا استحقاق قرابت و رشتہ داری پر ہے، نہ کہ کسی اور امرپر، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ وہ عورتوں اور بچوں کو میراث میں حصہ نہیں دیتے تھے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ میراث وہی پاسکتا ہے، جو دشمن کے مقابلے میں تیر چلا سکے، جان و مال کا دفاع کرسکے، اور غنیمت لاسکے، نیز رشتہ داری میں بھی مدار الاَقْرَبْ فَالْاَ قْرَبْ کے اصول پر ہے، کہ جو سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوگا اس کی موجودگی میں اس کے بعد والا محروم ہوگا، سبحان اللہ ! کیسا عمدہ اور جامع اصول اور ضابطہ ہے جو کہ عقل و فطرت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–8

مرنیوالے کے مال کی تقسیم تشریح : ان آیات میں پانچ حکم دیئے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جاہلیت کے زمانے کی رسم ختم کرکے مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وراثت کا حصہ دار بنایا گیا۔ دوسرا میراث چاہے کم ہو یا زیادہ تقسیم کرنا ضروری ہے۔ تیسرا چھوڑا ہوا مال چاہے رقم ہو، جائیداد ہو، زرعی زمین ہو، باغات ہوں، مل یا فیکٹری ہو غرض کسی بھی صورت میں مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال تقسیم ضرور کیا جائے۔ چوتھا میراث کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب مرنے والاکچھ چھوڑ جائے۔ پانچواں اور آخری حکم یہ ہے کہ جب مرنے والے کے قریبی رشتہ دار موجود ہوں تو پھر دور کے رشتہ دار حصہ لینے کے حق دار نہ ہوں گے۔ لیکن اگلی ہی آیت میں انسانی جذبات،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–8

آیت 7 تا 8 ۔ للرجال نصیب تا وسیصلون سعیرا۔ قانون وراثت : مال اگرچہ بےوقعت ہرگز نہیں مگر اس قدر قیمتی بھی نہیں کہ آدمی صرف مال کے حصول پہ نگاہ رکھے اور اس میں دوسروں کے حقوق تک کی پرواہ نہ کرے جیسا کہ قبل اسلام ہوتا تھا کہ عورت سرے سے وارث ہی نہ تھی اور نابالغ بچے بھی وارث نہ تھے سو اگر بالغ اور مذکر اولاد ہوتی تو کچھ پا لیتی ورنہ مرنے والے کے ورثا سب مال لے اڑتے تھے پھر اس میں بھی بعض چیزیں مثلا گھوڑا تلوار زرہ یا اس قسم کی دوسری اشیاء مستثنی قرار دی گئی تھیں اسلام نے اس سارے معاملے کو نہایت حسن و خوبی سے سلجھا دیا۔ فرمایا والدین یا قرابت دار جو ترکہ چھوڑ کر مریں اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتہ داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں چاہے وہ کسی نو عیت کی ہو جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھو ٹے بچوں کا بھی حق ہے اس عرب کے جاہلی دوستو کا رد کرنا مقصود ہے۔ وہ عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کردیتے اور صرف بالغ لڑ کے ہی جائدا پر قبض کرلیتے۔ آیت کی شان نزول ارمردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعین بعد کی آیات میں آرہی ہے (ابن کثیر۔ شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 7–8

(4:7) قل۔ ماضی معروف واحد مذکر غائب۔ وہ کم ہوا۔ قلۃ۔ مصدر سے۔ کثرۃ کی ضد ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ قلیل ہو یا کثیر۔ مفروضا۔ اسم مفعول ۔ فرض مصدر ۔ فرض کیا گیا۔ مقرر کردہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 – 10 لغات القرآن : نصیب، حصہ۔ ترک، چھوڑا۔ قل، تھوڑا ہو۔ کثیر، زیادہ۔ نصیب مفروض، حصہ مقرر ہے۔ القسمۃ، تقسیم۔ ولیخش، اور ڈرنا چاہیے۔ ضعف، کمزور، ناتواں۔ سیصلون، جلد ہی وہ ڈالے جائیں گے۔ سعیر، بھڑکتی آگ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے عرب میں ایسے ظالمانہ طریقوں کا رواج تھا جس سے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ہوا کرتے تھے ان ہی میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ عورتوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا قرآن کریم نے اس ظالمانہ رواج کو توڑا اور عورتوں کو بھی اسی طرح حصہ دلایا جس طرح مردوں کو۔ عرب میں کم مال تقسیم نہیں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال و دولت، جائیداد وغیرہ کم ہو یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

میراث کا بیان اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو ورثہ نہ دیتے تھے۔ اس آیت میں اس رسم کو باطل کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–10

[8] اسلام سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور جو بیٹے نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مرد میراث کے حق دار سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ ماں باپ وغیرہ کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا خواہ میراث تھوڑی ہو یا بہت، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نیز اس آیت کی رو سے میت کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اسلام اور تقسیم میراث : (ف 1) نوع انسانی کے لئے اجتماعی زندگی میں ایسے روابط کی سخت ضرورت ہے جو باہمی تعاون وتوافق کے زیادہ سے زیادہ ترغیب کا باعث ہو سکیں اور جو یہ بتا سکیں کہ انسانی عائلہ کس طریق پر ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور ان کے آپس کے تعلقات کس درجہ فطری اور طبعی ہیں ، اسلام جو اجتماعی فلاح وسعادت کا سب سے بڑا حامی ہے کیونکر ایسے اہم رشتے کو فراموش کرسکتا تھا ۔ اس نے سب سے پہلے باہمی انس و تعاون کی بنیاد ڈالی اور ہر مسلمان کو ” وصیت “ پر آمادہ کیا چناچہ اول اول لوگ اپنے مال سے کچھ حصہ بطور ” وصیت “ کے بلا تخصیص قرابت وضع کر جاتی تھی ، مقصد یہ تھا کہ مسلمان اس جذبہ تعاون وتوافق کی اہمیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 ماں باپ اور قریبی رشتہ دار مرتے وقت جو کچھ بھی چھوڑ جائیں خواہ قلیل ہو یا کثیر اس میں سے مردوں کا بھی حصہ مقرر ہے خواہ وہ مرد بڑے ہوں یا چھوٹے اور ماں باپ اور قریبی رشتہ دار مرتے وقت جو کچھ چھوڑ جائیں خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت اس میں سے عورتوں کا بھی حصہ مقرر ہے خواہ وہ عورتیں چھوٹی ہوں یا بڑی ہر ایک مرد عورت کا یہ حصہ قطعی طور پر مقرر ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کفر کی رسم میں عورت کو وارث نہ گنتے اب عورت کو بھی میراث ٹھہری۔ (موضح القرآن) ابن کثیر کہتے ہیں کہ مشرک لوگ مرنے والے کا مال متروکہ عورتوں اور چھوٹے لڑکوں کو نہیں دیا کرتے تھے صرف بڑے لوگوں کو دے دیا کرتے تھے اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یہاں صرف استحقاق حصہ میراث کو اجمالا بتلایا ہے تھوڑی دور آگے حصص ورثہ کی تفصیل آتی ہے اور نزدیک کے رشتہ سے مطلب یہ ہے کہ شرع میں جو ترتیب وارثوں مقرر اور ثابت ہے اس ترتیب میں نزدیک ہو اور ظاہر ہے کہ نزدیکی دونوں جانب سے ہوتی ہے پس اس سے لازم آگیا جو کہ رشتہ دار اقرب ہوگا وہ میراث پائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بات یتیموں اور بےسہارا بچوں کی ہو رہی تھی کہ وراثت کی تقسیم کا حکم عام آگیا : 22: عرب میں عورتوں اور بچوں کی تو میراث سے ویسے ہی محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ اس بات میں یہ تھا کہ میراث کا حق صرف اس مردوں کو پہنچنا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے وارثوں میں جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا تھا وہ بلا تامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ مار کھاتا تھا جو اپنا حصہ حاصل کرنے کا بل بوتا نہ رکھتے ہوں۔ حق اور فرض کی کوئی اہمیت ان کی نگاہ میں نہ تھی کہ دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر حق دار کو اس کا حق دیں خواہ وہ اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Right from the opening of Surah Al-Nis-a', the theme of universal human rights, particularly those relating to family life, has been appearing regularly. Verses before those dealt with the rights of orphans. The four verses here also take up particular rights of women and orphans which relate to inheritance. The first verse (7) refutes the custom of Jahiliyyah under which women were just not allowed to inherit. The verse declares their entitlement to their share as fixed by Islamic law and strictly forbids any attempt to decrease their due right. Since the subject concerned those who had a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12. This verse embodies five legal injunctions. First, that women as well as men are entitled to inheritance. Second, that inheritance, however meagre it might be, should be distributed; even if the deceased has left a small piece of cloth and he has ten heirs, that piece of cloth should be distributed among them all. This does not exclude, however, the permissibility of one heir purchasing the shares of other heirs with their consent. Third, this verse indicates that the law of inheritance is applicable to all kinds of property - movable and immovable, agricultural, industrial and so on.…

Read the full tafseer →