An-Nisaa 4:10

An-Nisaa · from ayah 10

4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا ؕ— وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ۟۠اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ ؕ وَسَيَـصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who devour the property of orphans unjustly are only consuming into their bellies fire. And they will be burned in a Blaze.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:10

جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ ناحق ﻇلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، اور انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نری آگ بھرتے ہیں، اور وہ جلد ہی دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جو لوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ عنقریب وہ جہنم میں داخل ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ ظلم و ناانصافی سے یتیموں کے مال ہڑپ کر رہے ہیں وہ تو بس اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں ظلم (اور زیادتی) کے ساتھ، اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں، اور عنقریب ہی انہیں داخل ہونا ہوگا ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھالیتے ہیں وہ بس اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں۔ اور عنقریب وہ دہکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیں ناحق) وہ تو اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہی ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں۔ درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, those who wrongfully devour the properties of orphans only fill their bellies with fire. Soon they will burn in the Blazing Flame.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who unjustly devour the property of the orphans do nothing but devour fire into their bellies, and soon they shall enter a blazing Hell.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who unjustly devour the property of the orphans do nothing but devour fire into their bellies, and soon they shall enter a blazing Hell.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who unjustly eat up the property of orphans, they eat up only a fire into their bellies, and they will be burnt in the blazing Fire!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Those who devour the wealth of orphans wrongfully, they do but swallow fire into their bellies, and they will be exposed to burning flame.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who devour the property of orphans unjustly are only consuming into their bellies fire. And they will be burned in a Blaze.

— Saheeh International

Those who wrongfully consume the property of orphans are, in fact, consuming fire in their bellies and they will suffer the blazing fire.

— Muhammad Sarwar

(As for) those who swallow the property of the orphans unjustly, surely they only swallow fire into their bellies and they shall enter burning fire.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who devour the substance of the orphans wrongously, only devour the fire into their bellies, and anon they shall roast in the Blaze.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who unjustly eat up the property of orphans, eat up a Fire into their own bodies: They will soon be enduring a Blazing Fire!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–10

وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے گا گو کم و بیش ہو، " ام کجہ " رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں کہ حضور میرے دو لڑکے ہیں ان کے والد فوت ہوگئے ہیں ان کے پاس اب کچھ نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے الفاظ سے میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے گی واللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 14 حدیث میں آیا ہے کہ جنگ احد کے بعد حضرت سعد بن ربیع ؓ کی بیوی اپنی دو بچیوں کو لیے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا کہ ”یا رسول اللہ ! یہ سعد ؓ کی بچیاں ہیں جو آپ ﷺ کے ساتھ احد میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے چچا نے پوری جائداد پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے لیے ایک حبہ تک نہیں چھوڑا ہے۔ اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا“۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

یتیم کا مال ظلماً کھانا پیٹ میں انگارے بھرتا ہے چوتھی آیت میں یتمیوں کے مال میں ناجائز تصرف کرنے والوں کے لئے وعید شدید کا بیان ہے، کہ جو شخص ناجائز طور پر یتیم کا مال کھاتا ہے وہ اپنے پٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ اس آیت نے یتیم کے مال کو جہنم کی آگ قرار دیا ہے، بہت سے مفسرین نے اس کو تشبیہ اور کنایہ پر محمول کیا ہے، یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا ایسا ہے جیسے کوئی پیٹ میں آگ بھرے، کیونکہ اس کا انجام بالآخر قیامت میں ایسا ہی ہونے والا ہے، مگر اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ آیت میں کوئی مجاز اور کتابہ نہیں ہے، بلکہ جو مال یتیم کا ناجائز طریقہ سے کھایا جائے وہ حقیقت میں آگ ہی ہے، اگرچہ اس وقت اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آخر میں آخری تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ ظلم و حق تلفی کی راہ سے اپنے پیٹوں میں یتیموں کے مال بھر رہے ہیں وہ انجام کار کے اعتبار سے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور آخرت میں وہ اس آگ کو لیے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔ اگلی آیات 11 تا 14 کا مضمون :۔ آگے تقوی عدل اور رحم کے انہی تقاضوں کے مطابق جن پر اسلامی معاشرے کی بنیاد قائم ہے اس شرعی تقسیم وراثت کی وضاحت فرما دی جس کی طرف ساتویں آیت میں اشارہ ہوا تھا تاکہ ظلم وحق تلفی اور نزاع و اختلاف کے ایک بہت بڑے سبب کا خاتمہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

9۔ 1 بعض کے نزدیک اس کے مخطب اوصیاء ہیں (جن کو وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں انکے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرسکے نہ حقوق بنی آدم میں، اور وصیت میں وہ ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھے۔ اگر وہ خوب صاحب حیثیت ہے تو ایک تہائی مال کی وصیت ایسے لوگوں کے حق میں ضرور کرے جو اس کے قریبی رشتہ داروں میں غریب اور مستحق امداد…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

9: یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو اور یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے ڈرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01) یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 آیات متعددہ سابقہ میں یتیموں کے مال کے متعلق مختلف طرح سے احتیاط کرنے کا حکم تھا اور ان کے مال میں خیانت کو بڑا گناہ بتایا گیا ہے، اب اخیر میں مال یتیم میں خیانت کرنے پر وعید شدید بیان فرما کر اس حکم کو خوب مؤکد کردیا کہ جو کوئی یتیم کا مال بلا استحقاق کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ یعنی اس کھانے کا یہ انجام ہوگا اور جملہء اخیر میں اس کو ظاہر کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ۔ اندرکی آگ تو وہ خود اپنے پیٹوں میں ڈال رہے ہیں اور وہ خود بھی سموچے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ گویا ایک آگ ان کے اندر ہوگی اور ایک وسیع و عریض آگ ان کے باہر ہوگی۔ یہ دس آیتیں بڑی جامع ہیں ‘ جن میں اس معاشرے کے پسماندہ طبقات میں سے ایک ایک کا خیال کر کے نہایت باریک بینی اور حکمت کے ساتھ احکام دیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 یتیم کا مال کھانا کبیرہ گناہ ہے :۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ جادو۔ جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل کرنا۔ سود کھانا۔ یتیم کا مال کھانا۔ لڑائی میں پیٹھ پھیر جانا۔ اور پاکدامن بھولی بھالی مومن عورت پر تہمت لگانا۔ (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا 10؀ ) 4 ۔ النسآء :10) مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر وأکبرھا) نیز آپ نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26 ۔ خیانت، غصب، بددیانتی ہر صورت میں بری ہیں، یتیموں کے مال میں ان کا وقوع قبیح تر ہے۔ (آیت) ” یاکلون اموال الیتمی “۔ یاکلون سے مراد یتیم کا مال کسی طریقہ سے بھی بےجا صرف میں لے آنا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ صرف کھانے ہی کے کام میں آئے، اردو محاورہ میں بھی روپیہ ” کھاجانا “۔ ایسے موقع پر بڑے وسیع معنی میں آتا ہے۔ خص الاکل بالذکرلانہ اعظم ما یبتغی لہ الاموال (جصاص) (آیت) ” ” انما۔۔ نارا “ یعنی اس حرام خوری کا انجام یہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–10

وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً (الآیۃ) بعض مفسرین کے نزدیک اس کے مخاطب اوصیاء ہیں (یعنی جن کی وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں ان کے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں قطع نظر اس سے کہ وہ ان کی زیر کفالت ہیں یا نہیں، بعض کے نزدیک اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قریب المرگ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یا کلون اموال الیتمیٰ ظلما مقاتل بن حبان کا بیان ہے کہ مرثد بن زید غلطفانی نے جب اپنے یتیم بھتیجے کا مال کھالیا تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو لوگ یتیموں کا مال بےجا طور پر کھاتے ہیں۔ ظلماً مفعول مطلق ہے اور اس وقت موصوف محذوف ہوگا یعنی اکلاً ظلماً یا حال ہوگا اس وقت مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا۔ انمایاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا بس وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے یعنی ایسی چیز پیٹ میں بھرتے ہیں جو ان کو کھینچ کر دوزخ میں لے جائے گی حدیث میں آیا ہے رسول اللہ نے فرمایا : شب معراج میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ اونٹ کے لبوں کی طرح تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور ان لوگوں کو جو قریب المرض مریض کے پاس ہوتے ہیں اور تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنے کا حکم دیتے ہیں، ان کو ان یتیم بچوں کے بارے میں ڈرنا چاہیے کیوں کہ اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر مرجائیں تو ان کو اپنی اولاد کی فکر ہو، اسی طرح ان لوگوں کو مرنے والے کی اولاد کی فکر ہونی چاہیے۔ اور یہ لوگ مریض کے پاس آتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اپنا مال فلاں کو دے دو اور فلاں کو دے دو اس طریقہ سے اس کا سارا مال خوامخواہ تقسیم کرا دیتے تھے اور اس کے چھوٹے بچوں کے لیے کچھ نہیں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی لہٰذا یہ لوگ جو تہائی مال سے زیادہ مرنے والے کو وصیت کا حکم کرتے ہیں، ان…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس سے اجتناب کی مزید تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سات تباہ کن چیزوں سے اجتناب کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟“ فرمایا : ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اس جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن، بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [ بخاری، الحدود، باب رمی المحصنات : 6857، عن أبی ہریرہ ]

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 10۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ روایت میں ہے کہ یہ آیت غطفان کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کو مرثد بن زید کہا جاتا تھا اور وہ اپنے بھتیجے کے مال کا والی تھا جو یتیم تھا اور چھوٹا۔ اس نے اپنے بھیجتے کا مال کھایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے یہ آیت نازل فرمائی، یہ مقاتل بن حیان نے کہا ہے اسی وجہ سے جمہور علماء نے کہا : اس سے مراد اوصیاء ہیں جو یتیم کے مال سے وہ کہتے ہیں جو ان کے لیے مباح نہیں ہے، ابن زید ؓ نے کہا : یہ ان کفار کے بارے میں نازل ہوئی جو عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے، ہر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں، ابو یعلی و طبرانی وابن حبان نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک قوم اپنی قبروں سے اٹھائی جائے گی کہ ان کے مونہوں میں آگ بھڑکتی ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! یہ کون ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی اثما یاکلون فی بطونہم نارا “ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم نبی ﷺ نے معراج کی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا میں نے دیکھا اچانک ایک ایسی قوم تھی جن کے بڑے بڑے ہونٹ اونت کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ) (یَاْکُلُوْنَ : کھاتے ہیں ) (اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی : یتیموں کے مال ) (ظُلْمًا : ظلم کرتے ہوئے ) (اِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ) (یَاْکُلُوْنَ : وہ کھاتے (یعنی بھرتے) ہیں ) (فِیْ بُطُونِہِمْ : اپنے پیٹوں میں ) (نَارًا : ایک آگ ) (وَسَیَصْلَوْنَ : اور وہ گریں گے ) (سَعِیْرًا : شعلوں والی آگ میں ) ص ل ی صَلَی یَصْلِی (ض) صَلْیًا : کسی چیز کو آگ پر بھوننا ‘ آگ میں ڈالنا۔ صَلِیَ یَصْلَی (س) صِلِیًّا : آگ کی تپش جھیلنا ‘ آگ میں گرنا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ اِصْلَ (فعل امر) : تو جل ۔ { اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ } (یٰسٓ) ” تم لوگ جلو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

یتیموں کا مال کھانے پر سخت و عید اور ان کے مالوں کی نگرانی کا حکم بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میراث کا کام تقسیم ہونے لگے تو عزیز رشتہ دار اور یتیم مسکین بھی حاضر ہوجاتے ہیں جن کو میراث میں شرعاً حصہ نہیں پہنچتا اگر یہ لوگ ایسے موقعہ پر حاضر ہوجائیں تو بالغ ورثا اپنے حصوں میں سے کچھ دے دیں تاکہ ان کی دلداری ہوجائے اور ان کو مناسب طریقہ پر نرمی کے ساتھ اچھے الفاظ میں سمجھا دیں کہ شرعاً تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے تم کو میراث میں سے نہ دینا کوئی ظلم زیادتی کی بات نہیں ہے اور یہ ہم اپنے پاس سے پیش کر رہے ہیں، آپ حضرات قبول کرلیں اور دلگیر نہ ہوں اللہ کی قضا و قدر اور اس کی شریعت پر راضی رہیں، پھر یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تتمہ حکم سابق۔ تحقیق جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں جزایں نیست وہ یہ مال کھا کر اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور البتہ ضرور داخل ہوں گے دھکتی ہوئی آگ میں یعنی اللہ تعالیٰ ان کو یتیموں کا ناحق مال کھانے کی سزا میں آگ کھلائے گا اور یہ شخص قیامت کے دن قبر سے اس طرح اٹھے گا کہ اس کے منہ اور کانوں اور آنکھوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے جو شخص بھی اس کو دیکھے گا وہ اس علامت سے پہچان لے گا کہ یہ ناحق یتیم کا مال کھانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

10 یہ ان لوگوں کو زجر ہے جو یتامی اور مساکین کی حق تلفی کریں اور میراث سے ان کو ان کا مقررہ حصہ نہ دیں۔ لِیَخْشَ کا مفعول (اللہ) محذوف ہے۔ یعنی اولاء میت خدا سے ڈریں اور سوچیں کہ اگر وہ مرجائیں اور ان کے پیچھے ان کے یتیم بچے رہ جائیں تو وہ ان کے حق میں کس قسم کے سلوک کی تمنا کریں گے۔ اس لیے اب ان کو دوسرے یتیموں اور مسکینوں سے ویسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے جیسے برتاؤ کی وہ اپنی یتیم اور مسکین اولاد سے تمنا اور خواہش رکھتے ہیں۔ ای افعلوا بالیتامی ما تحبون ان یفعل باولادکم من بعدکم (قرطبی ج 5 ص 51) ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیتٰمٰی ظُلْماً اِنَّمَا یَاکُلُوْنَ فِی بُطُوْنِہِمْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربط آیات سورة النساء کے پہلے رکو ع میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر یتیموں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، ان کی رہائش کا بندوبست ، ان کے مال کی حفاظت وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف کرنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے زمانہ جاہلیت کے اس دستور کا رد فرمایا جس کے ذریعے وہ لوگ عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ اور اسلام کے قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ ہر مرد وزن ، چھوٹے بڑے ، جوان اور بوڑھے کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کردیا گیا ہے کسی شخص کی موت کے وقت اس کے جو قربت دار موجود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۝ 0 ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا۝ 10 ۧ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–10

ترکیب : مماقل الخ جملہ بدل ہے ماترک سے اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر محذوف سے ‘ ای مما ترکہ قلیلا او کثیرا۔ نصیباً یہ موقع میں مفعول مطلق کے ای عطاء و استحقاقا واذا حضر شرط۔ فارزقوھم الخ جواب لو ترکوا شرط خافوا علیہم جواب ظلماً مفعول لہ ہے یا مصدر موقع حال میں۔ تفسیر : یہ ان احکام کی چوتھی قسم ہے جو توریت سے متعلق ہے۔ اس کے سبب نزول میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اوس بن ثابت انصاری ؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیوی پیچھے رہی اور اس کے چچا کے دو بیٹے سوید اور عرفجہ جو وصی تھے کل مال کو دبا بیٹھے۔ اس کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے فریاد کی۔ آپ نے فرمایا اس امر میں خدا تعالیٰ جو حکم دے گا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰـفًا خَافُوْا عَلَیْھِمْ ص فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا (ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اپنے پیچھے اگر کمزور بچے چھوڑتے ہیں تو ان کے معاملے میں بہت اندیشہ ناک ہوتے ہیں، پس انھیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کہیں) (النسآء : 9) گزشتہ آیات میں یتیموں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ادائیگی کے سلسلے میں احکام بھی دیئے گئے اور نصیحتیں بھی فرمائی گئی ہیں۔ یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تک نصیحت فرمائی گئی کہ اگر وہ وارثوں میں شامل نہ بھی ہوں لیکن وراثت کی تقسیم کے وقت کسی طرح پہنچ جائیں تو اپنی طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–10

فہم القرآن ربط کلام : پہلے عورتوں اور یتیموں کے مالی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا۔ اب قانون وراثت کے ذریعے سب کے مالی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قبل از اسلام اور آج بھی دنیا میں تقسیم وراثت کے بارے میں چار قانون نافذ العمل ہیں۔ 1۔ عورتوں کو مالی حقوق سے یکسر محروم رکھنا۔ 2۔ خاوند فوت ہونے کے بعد بیوہ اور بیٹیوں کو متروکہ جائیداد سے خارج کردینا۔ 3۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حقدار ٹھہرانا۔ 4۔ باپ کی وراثت میں صرف بیٹوں کا ہی حق دار قرار پانا۔ اسلام نے اس استحاصل کو یکسر ختم کر کے حکم دیا کہ مرد ہو یا عورت ‘ چھوٹا ہو یا بڑا جو اس کے والدین اوراقرباء چھوڑ جائیں اس میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْماً ( بیشک جو یتیموں کا مال ظلماً کھاتے ہیں) نمبر 1۔ ظلماً مصدر ہے موضع حال میں واقع ہے۔ نمبر 2۔ اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے ہیں۔ اِنَّمَا یَاْ کُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا (بیشک وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں) آگ کھانے کا مطلب : یعنی وہ ایسا مال کھا رہے ہیں جو قبر سے دوزخ میں کھینچ کرلے جائے گا۔ پس گویا وہ آگ ہے۔ روایات میں ہے کہ یتیموں کا مال کھانے والا قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ دھواں اس کی قبر سے، اور اس کے منہ ٗ ناک اور دونوں کانوں سے بھی اٹھ رہا ہوگا اس سے لوگ پہچان جائیں گے کہ یہ دنیا میں یتیم کا مال کھاتا رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ (آیت)” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ مقاتل بن حیان ؓ ، کا بیان ہے کہ یہ آیت بنی غطفان کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی جس کا نام مرثد بن زید تھا ، اس نے اپنے یتیم بچے کا مال کھالیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ظلم سے مراد حرام مال ہے جو ناحق کسی سے کھایا جائے ، (آیت)” انما یاکلون فی بطونھم نارا “۔ ان کے مالوں کو ان کی خبر دی گئی کہ اس کا انجام یہی ہوگا ۔ (آیت)” وسیصلون سعیرا “۔ عام قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کا معنی ہے کہ ان کو داخل کردیا جائے گا دہکتی ہوئی آگ میں جیسا کہ کہا جاتا ہے ” صلی النار یصلوھا “ کہ اس نے آگ کو بھڑکایا ، اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–10

(9 ۔ 10) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو طرح بیان کی ہے بعض کہتے ہیں کہ قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ بیمار کو ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام نمود کے لئے وصیت کرے ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور اس طرح کے صلاح کاروں کو ڈرایا ہے کہ صلاح نیک دو آج دوسروں کی اولاد کا حق مارا جانے کی صلاح دو گے تو کل تمہاری اولاد کے لئے بھی یہی دن پیش آنے والا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یتیموں کے بڑے بوڑھے یتیموں کو اور یتیموں کے مال کو بےاحتیاطی سے رکھتے تھے ان کے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–10

آیت 9-10 کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لئے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (ولیقولوا قولاً سدیدا) یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بےسمجھ یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اسلام یتیم کی اصلاح اور خیرکاطالب ہے قول باری ہے (ان الذین یاکلون اموالیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونھم ناراوسیصلون سعیرا، جو لوگ ازراہ ظلم یتیموں کا مال ہضم کرجاتے ہیں۔ وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔ ایسے لوگ جلدہی دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے) حضرت ابن عباس ؓ سعیدبن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جن لوگوں کے زیرسایہ یتیم پرورش پا رہے تھے، انہوں نے ان یتیموں کا کھاناپینا الگ کردیاجس کے نتیجے میں کھانا خراب ہوجاتا لیکن وہ اسے ہاتھ نہیں لگاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (وان تخالطوھمفاخوانکم واللہ یعلم المفسدمن المصلح، اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملالوتویہ تمہارے بھائی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

22 یتیموں کا مال کھانے والوں کے ہولناک انجام کا بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ظلم و زیادتی کے ساتھ یتیموں کا مال کھانے والے اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ ڈال رہے ہیں، والعیاذ باللہ، اور ایسی آگ جو ابتلاء و آزمائش کے تقاضوں کی بنیاد پر آج اس جہاں میں نظر نہیں آتی، کہ مجاہدہ اور امتحان کے اس عالم کا تقاضا یہی ہے، لیکن کل قیامت کے اس جہان میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا، اس میں وہ سامنے آجائے گی، اور سب کو نظر آئے گی، کہ وہ عالم عالم مشاہدہ ہوگا، جہاں حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے ‘ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ حشر کے روز ایسے لوگوں کے مونہوں اور نتھنوں وغیرہ ہر منفذ اور سوراخ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–10

یتیم کو اپنی اولاد پر قیاس کرو تشریح : یتیم کس قدر بےبس اور قابل رحم ہوتا ہے ؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو خیال کرو اگر خود تمہارے اپنے بچے یتیم ہوجائیں تو تم پر کیا گزرے گی ؟ اس بات کو سوچ کر یہ ذہن میں بٹھا لو کہ کبھی کسی یتیم پر کسی صورت سے بھی ظلم و زیادتی نہ کرو گے ان کا مال ظلم و زیادتی سے کھا لینا تو انتہائی بری اور قابل سزا بات ہے یہ ایسے ہی ہے کہ جیسا آگ سے اپنے پیٹ بھرلیے جائیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ انکو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اللہ رب العزت کا ہے جو نہ تو جھوٹ ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–10

آیت 9 تا 10 ۔ قرآنی انداز تربیت : دین اسلام کو یاد دلاتا ہے کہ اسے بھی مرنا ہے اور ممکن ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرجائے تو یہ کیا چاہے گا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ویسا ہی سلوک ان بچوں سے کرے جو آج اس کے سامنے یتیم ہو کر بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ اور اللہ سے ڈرتا رہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے ایسا ہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرسکتا ہے سو چاہئے کہ نہایت ہی موزوں بات کرے۔ اور یہ یاد رکھو کہ مال یتیم جو شخص بھی ناروا طور پر کھائے گا وہ یقیناً اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہے اور عنقریب اسے بھڑکتی آگ یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ بعض علما نے لکھا کہ یہ خبر بطور استعارہ کے ہے مگر ایسا نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 علاوہ ازیں احادیث میں بھی ایسے لوگوں کے حق میں سخت وعید آئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اخبتنو السبع الموبقات کہ سات مہلک گناہوں سے بچوں ان میں سے ایک گناہ یتیم کا مال کھانا ہے۔ (بخاری مسلم بروایت ابوہریرہ ؓ ایک دسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا معراج کے موقع پر مجھے ایسے آدمیوں کے پاس لے جایا گیا جن میں سے اک کا ہو نٹ اونٹ جیسا تھا ان پر کچھ لوگ مقر تھے جو ان کے جبڑے اکھاڑتے اور آگ کا یاک بتھر ان کے منہ میں ڈالتے تھے وہ پھتر ان کے نیچے سے نکل جاتا اور وہ انتہائی زور سے چیختے چلاتے۔ میں نے جبرئیل سے دریافت کیا کہ کہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا ظلم سے یتیموں کا مال کھا نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:10) سیصلون۔ س۔ مستقبل قریب کے لئے ہے۔ یصلون مضارع جمع مذکر غائب صلی مصدر۔ باب ضرب۔ صلی یصلی صلیا۔ گوشت بھوننا۔ صلی فلان النار وفیہا وعلیہا۔ آگ میں ڈالنا۔ سلی (سمع) آگ کی گرمی برداشت کرنا۔ آگ میں جلنا۔ آگ میں داخل ہونا۔ یصلی النار الکبری (87:12) بڑی تیز آگ میں داخل ہوگا۔ (باب افعال) اصلاء متعدی۔ آگ میں داخل کرنا۔ آگ میں پھینکنا۔ فسوف نصیلیہ نارا (4:30) ہم اسے عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ سعیرا۔ السعر کے معنی آگ کے بھڑکنے کے ہیں۔ سعرت النار میں نے آگ بھڑکائی۔ سعیر۔ دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سیصلون سعیراً ۔ عنقریب میں دہکتی ہوئی آگ (جہنم ) میں جلیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 – 10 لغات القرآن : نصیب، حصہ۔ ترک، چھوڑا۔ قل، تھوڑا ہو۔ کثیر، زیادہ۔ نصیب مفروض، حصہ مقرر ہے۔ القسمۃ، تقسیم۔ ولیخش، اور ڈرنا چاہیے۔ ضعف، کمزور، ناتواں۔ سیصلون، جلد ہی وہ ڈالے جائیں گے۔ سعیر، بھڑکتی آگ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے عرب میں ایسے ظالمانہ طریقوں کا رواج تھا جس سے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ہوا کرتے تھے ان ہی میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ عورتوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا قرآن کریم نے اس ظالمانہ رواج کو توڑا اور عورتوں کو بھی اسی طرح حصہ دلایا جس طرح مردوں کو۔ عرب میں کم مال تقسیم نہیں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال و دولت، جائیداد وغیرہ کم ہو یا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–10

قریب المرگ بیمار کے پاس اوپر والے لوگ ایسی ایسی صلاحیں دیا کرتے تھے کہ وہ حق دار وارثوں کا حق مار کر غیروں کے نام پر تیسرے حصہ سے زیادہ نام ونمود کے لئے وصیت کرے۔ ان کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ قیامت کے دن ایک گروہ خلقت کا قبروں سے اٹھے گا تو ان کے ک منہ، آنکھ، ناک اور کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ حضرت وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا :” یتیموں کا مال کھانے والے “ اور وصیت میں بےاحتیاطی کی ممانعت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–10

[8] اسلام سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور جو بیٹے نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مرد میراث کے حق دار سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ ماں باپ وغیرہ کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا خواہ میراث تھوڑی ہو یا بہت، منقولہ ہو یا غیر منقولہ، نیز اس آیت کی رو سے میت کی زندگی میں کوئی حق میراث پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ یتیموں سے ناجائز وسائل کی بنا پر مال حاصل نہ کیا جائے ، عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ یتامی کو وراثت سے محروم رکھنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلی جاتی ہیں ، فرمایا جو یتیموں کے مال کو کھائے گا ، اسے یقین رکھنا چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ نگل رہا ہے یعنی اس سے بڑا گناہ اور کیا ہوگا کہ تم ان لوگوں کو نقصان پہنچاؤ جو سچے سرپرستوں کو ضائع کرچکے ہیں ، ان کے ماں باپ زندہ نہیں اور تم بجائے اس کے کہ ان کا خیال رکھو ان کو لوٹتے ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 5 یقین جانو ! جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے یعنی ناروا طور پر بلا استحقاق شرعی کھا جاتے ہیں تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے انگارے بھرتے ہیں اور وہ بہت جلد جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ بلا استحقاق شرعی ایسا کرتے ہیں اور یہی ظلم ہے اگر شرعی حق کے ساتھ ایسا کریں یعنی فقیر ہوں اور اجرت کے طور پر کچھ کھالیں تو اس کا حکم اوپر گزر چکا ہے کہ وہ ناجائز ہے اور جس طرح یتیم کا مال خود کھانا حرام ہے اسی طرح دوسروں کو کھلانا بھی حرام ہے بلکہ اس کے مال سے خیرات کرنا بھی حرام ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمارے ہاں عام طور سے لوگ اس بلا میں مبتلا ہیں کہ نابالغوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ جس طرح مال یتیم کا خود کھانا حرام ہے اسی طرح کسی کو کھلانا یا دینا گوبطور خیر خیرات ہی کے کیوں نہ ہو نیز حرام ہے اور ہر نابالغ کا حکم یہی ہے گویتیم نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بےسہاروں اور بےباپوں کا مال کھانے والے اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں : 26: محتاج محتاج ہی ہے خواہ کوئی ہو۔ لیکن جن کا دنیا میں کوئی سہارا ہی نہ ہو جیسے بچے کے لئے والدین قانون فطرت میں ایک بہت بڑا سہارا ہیں اور جو بےباپ ہوں آخر ان کا سہارا کون ہوگا ؟ اور ایسے بےسہاروں کا مال کھا جانے والے انسانوں کو فہرست میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں ؟ انسان کے تو معنی ہی انس و محبت ہیں پھر جس میں انس و محبت نہ رہا وہ انسان کا ہے کا ہوا ؟ ہاں ! ایسے بھی بہت ہیں جن کے ڈھانچے تو انسانوں کے سے ہیں لیکن انسانیت نام کی شے فی الواقع ان میں نہیں ہے اور وہ وہی ہیں جو مال جمع کرنے کی ہوس میں نہ محتاج دیکھتے ہیں نہ مسکین کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Misappropriation of the property of the orphans The fourth verse (10) carries a severe warning for those who pilfer or dispose off the property of orphans unlawfully. It declares: 'Surely, those who eat up the property of the orphans unjustly, they only eat fire into their bellies, and soon they shall enter a blazing Hell.' This verse equates the property of the orphan with the fire of Hell. Many commentators have interpreted this metaphorically, that is, eating the property of the orphans unjustly is like stuffing one's stomach with fire - because this is what is going to happen to him…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14. It is reported in a tradition that after the Battle of Uhud the wife of Sa'd b. Rabi' brought her two daughters to the Prophet (peace be on him) and said: 'O Messenger of God! These are daughters of Sa'd who was with you in the Battle of Uhud, where he was martyred. The girls' uncles have seized the whole property and left nothing for them. Who will now marry these girls?' It was after this incident that these verses were revealed. (See Muhammad 'Ali al-Sabuni's comments on this verse in his Safwat al-Tafasir and the sources quoted therein - Ed.)

Read the full tafseer →