An-Nisaa 4:11

An-Nisaa · from ayah 11

4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ ۗ— لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ۚ— فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۚ— وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ؕ— وَلِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ— فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ— فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ— اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ؕ— فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا ۟يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ ۚ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌ ۚ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ‌ ؕ وَلِاَ بَوَيۡهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنۡ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ‌ ؕ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِىۡ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ‌ ؕ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ ۚ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَـكُمۡ نَفۡعًا‌ ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah instructs you concerning your children: for the male, what is equal to the share of two females. But if there are [only] daughters, two or more, for them is two thirds of one's estate. And if there is only one, for her is half. And for one's parents, to each one of them is a sixth of his estate if he left children. But if he had no children and the parents [alone] inherit from him, then for his mother is one third. And if he had brothers [or sisters], for his mother is a sixth, after any bequest he [may have] made or debt. Your parents or your children - you know not which of them are nearest to you in benefit. [These shares are] an obligation [imposed] by Allah. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 2 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:11

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اوﻻد ہو، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے واﻻ کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ : مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اور اگر (صرف) عورتیں ہی ہوں، دو یا دو سے زیادہ، تو مرنے والے نے جو کچھ چھوڑا ہو، انہیں اس کا دو تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک عورت ہو تو اسے (ترکے کا) آدھا حصہ ملے گا۔ اور مرنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، بشرطیکہ مرنے والے کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔ ہاں اگر اس کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ دیا جائے گا (اور یہ ساری تقسیم) اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہو، یا اگر اس کے ذمے کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد تمہیں اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ بیٹوں میں سے کون فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے ؟ یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں، یقین رکھو کہ اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے، پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا اور اگر ایک عورت ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔ اور اس کے ماں باپ کے لیے، ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے، جو اس نے چھوڑا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو۔ پھر اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے، پھر اگر اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائے، یا قرض (کے بعد)۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں سے کون فائدہ پہنچانے میں تم سے زیادہ قریب ہے، یہ اللہ کی طرف سے مقرر شدہ حصے ہیں، بیشک اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں اور وہ دو سے زائد ہوں تو ان کا ترکہ سے دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی ہو تو اس کا ترکہ کا نصف حصہ ہے۔ اگر میت کی اولاد بھی ہو اور والدین بھی تو والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف والدین ہوں تو ماں کا تہائی حصہ ہے اور اگر اس کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے اور یہ تقسیم میت کا قرضہ اور اس کی وصیت ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ تمہیں فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے قریب تر ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ تمہاری اولاد کے باب میں تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے جو مورچ نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اسکے اولاد نہ وہ اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اس کے بھائی بہنیں ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کرجاتا ہے تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمہارے لیے سب سے زیادہ نافع کو ہوگا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بیشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، کہ ایک مرد کا حصہ برابر ہے دو عورتوں کے حصے کے، پھر اگر (اولاد میں) صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ، تو ان کو میت کے کل ترکے کا دو تہائی ملے گا، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو اس کا آدھا ملے گا، اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو اس کے کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی بھی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں، تو اس کی ماں کو ایک تہائی ملے گا، پھر اگر اس کے (بہن) بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (یہ سب حصے تقسیم ہوں گے) اس وصیت کے بعد جو میت نے کی ہو، یا قرض کے بعد، (جو اس نے دینا ہو، اور وراثت کی یہ تقسیم تمہاری مرضی پر نہیں رکھی کہ) تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون فائدے کے لحاظ سے تمہارے زیادہ قریب ہے، (پس) اللہ کی طرف سے حصہ مقرر کردیا گیا، بلاشبہ اللہ سب کچھ جانتا، بڑا ہی حکمتوں والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ اور اگر دو سے زائد عورتیں (ہی) ہوں۔ تو ان کے لیے دو تہائی (حصہ) اس (مال) کا ہے جو مورث چھوڑ گیا ہے۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف (حصہ) ہے۔ اور مورث کے والدین یعنی ان دونوں میں ہر ایک کے لیے اس (مال) کا چھٹا حصہ ہے جو وہ چھوڑ گیا ہے۔ بشرطیکہ مورث کے کوئی اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے۔ لیکن اگر مورث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے۔ وصیت کے نکالنے کے بعد کہ مورث اس کی وصیت کرجائے یا ادائے قرض کے بعد۔ تمہارے باپ ہوں کے تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے ہو کہ ان میں سے نفع پہنچانے میں تم سے قریب تر کون ہے۔ یہ سب اللہ کی طرف سے مقرر ہے بیشک اللہ ہی علم والا ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ لڑکے کے لیے حصہ ہے دو لڑکیوں کے برابر پھر اگر لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے جو اس نے چھوڑا اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے پھر اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائے یا بعد ادائے قرض کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نافع ہے یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے یقیناً اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکہ کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ (چھوڑا ہوا مال) اس کا ہے۔ اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو تو والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔ یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے، جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کردیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور حکمت والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah thus commands you concerning your children: the share of the male is like that of two females. If (the heirs of the deceased are) more than two daughters, they shall have two-thirds of the inheritance; and if there is only one daughter, then she shall have half the inheritance. If the deceased has any offspring, each of his parents shall have a sixth of the inheritance; and if the deceased has no child and his parents alone inherit him, then one-third shall go to his mother; and if the deceased has brothers and sisters, then one-sixth shall go to his mother. All these shares are to be given after payment of the bequest he might have made or any debts outstanding against him. You do not know which of them, your parents or your children, are more beneficial to you. But these portions have been determined by Allah, for He indeed knows all, is cognizant of all beneficent considerations.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah directs you concerning your children: for a male there is a share equal to that of two females. But, if they are (only) women, more than two, then they get two-thirds of what one leaves behind. If she is one, she gets one-half. As for his parents, for each of them, there is one-sixth of what he leaves in case he has a child. But, if he has no child and his parents have inherited him, then his mother gets one-third. If he has some brothers (or sisters), his mother gets one-sixth, all after (settling) the will he might have made, or a debt. You do not know who, out of your fathers and your sons, is closer to you in benefiting (you). All this is determined by Allah. Surely, Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah directs you concerning your children: for a male there is a share equal to that of two females. But, if they are (only) women, more than two, then they get two-thirds of what one leaves behind. If she is one, she gets one-half. As for his parents, for each of them, there is one-sixth of what he leaves in case he has a child. But, if he has no child and his parents have inherited him, then his mother gets one-third. If he has some brothers (or sisters), his mother gets one-sixth, all after (settling) the will he might have made, or a debt. You do not know who, out of your fathers and your sons, is closer to you in benefiting (you). All this is determined by Allah. Surely, Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah commands you for your children's (inheritance): to the male, a portion equal to that of two - females; if only daughters, two or more, their share is two thirds of the inheritance; if only one, her share is half. For parents, a sixth share of inheritance to each if the deceased left children; if no children, and the parents are the (only) heirs, the mother has a third; if the deceased left brothers or (sisters), the mother has a sixth. (The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts. You know not which of them, whether your parents or your children, are nearest to you in benefit, (these fixed shares) are ordained by Allah. And Allah is Ever All-Knower, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah chargeth you concerning (the provision for) your children: to the male the equivalent of the portion of two females, and if there be women more than two, then theirs is two-thirds of the inheritance, and if there be one (only) then the half. And to each of his parents a sixth of the inheritance, if he have a son; and if he have no son and his parents are his heirs, then to his mother appertaineth the third; and if he have brethren, then to his mother appertaineth the sixth, after any legacy he may have bequeathed, or debt (hath been paid). Your parents and your children: Ye know not which of them is nearer unto you in usefulness. It is an injunction from Allah. Lo! Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah instructs you concerning your children: for the male, what is equal to the share of two females. But if there are [only] daughters, two or more, for them is two thirds of one's estate. And if there is only one, for her is half. And for one's parents, to each one of them is a sixth of his estate if he left children. But if he had no children and the parents [alone] inherit from him, then for his mother is one third. And if he had brothers [or sisters], for his mother is a sixth, after any bequest he [may have] made or debt. Your parents or your children - you know not which of them are nearest to you in benefit. [These shares are] an obligation [imposed] by Allah. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.

— Saheeh International

This is a commandment from your Lord: After the payment of debts or anything bequeathed, let the male inherit twice as much as the female. If there are more than two girls, they will have two-thirds of the legacy. If there is only one girl, she will inherit half of the legacy. Parents of the deceased will each inherit one-sixth of the legacy, if the deceased has a surviving child, however, if no children survive the deceased, and the heirs are the parents, the mother will receive one-third of the legacy. The mother will receive one-sixth of the legacy if the deceased has more than one surviving brother. These are the decreed shares according to the laws of God. Regardless of how you feel about your parents or children, you do not know which of them is more beneficial to you. God is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Allah enjoins you concerning your children: The male shall have the equal of the portion of two females; then if they are more than two females, they shall have two-thirds of what the deceased has left, and if there is one, she shall have the half; and as for his parents, each of them shall have the sixth of what he has left if he has a child, but if he has no child and (only) his two parents inherit him, then his mother shall have the third; but if he has brothers, then his mother shall have the sixth after (the payment of) a bequest he may have bequeathed or a debt; your parents and your children, you know not which of them is the nearer to you in usefulness; this is an ordinance from Allah: Surely Allah is Knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Allah enjoineth you in the matter of your children; the male will have as much as the portion of two females, but if they be females more than two, then they will have two-thirds of that which he hath left, and if only one, she will have a half; and as far as his parents, each of the twain shall have a sixth of that which he hath left if he have a child, but if he hath no child and his parents be his heirs, then his mother shall have a third; but if he have brothers, then his mother shall have a sixth: all after paying a bequest he may have bequeathed or a debt. Your fathers and your sons - ye know not which of them is higher unto you in benefit: an ordinance this from Allah, verily Allah is Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah (thus) directs you as regards your Children's (Inheritance): to the male, a portion equal to that of two females: if only daughters, two or more, their share is two-thirds of the inheritance; if only one, her share is a half. For parents, a sixth share of the inheritance to each, if the deceased left children; if no children, and the parents are the (only) heirs, the mother has a third; if the deceased Left brothers (or sisters) the mother has a sixth. (The distribution in all cases ('s) after the payment of legacies and debts. Ye know not whether your parents or your children are nearest to you in benefit. These are settled portions ordained by Allah; and Allah is All-knowing, Al-wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مزید مسائل میراث جن کا ہر مسلمان کو جاننا فرض ہے یہ آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیت اور اس سورت کے خاتمہ کی آیت علم فرائض کی آیتیں ہیں، یہ پورا علم ان آیتوں اور میراث کی احادیث سے استنباط کیا گیا ہے، جو حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر اور توضیح ہیں، یہاں ہم اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں باقی جو میراث کے مسائل کی پوری تقریر ہے اور اس میں جن دلائل کی سمجھ میں جو کچھ اختلاف ہوا ہے اس کے بیان کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے، علم فرائض سیکھنے کی رغبت میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، ان آیتوں میں جن فرائض کا بیان ہے یہ سب سے زیادہ اہم ہیں، ابو داؤد اور ابن ماجہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 15 میراث کے معاملہ میں یہ اولین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔ چونکہ شریعت نے خاندانی زندگی میں مرد پر زیادہ معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا ہے اور عورت کو بہت سی معاشی ذمہ داریوں کے بار سے سبکدوش رکھا ہے، لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد کی بہ نسبت کم رکھا جاتا۔ سورة النِّسَآء 16 یہی حکم دو لڑکیوں کا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی لڑکا نہ چھوڑا ہو اور اس کی اولاد میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں تو خواہ دو لڑکیاں ہوں یا دو سے زائد، بہرحال اس کے کل ترکہ 2/3 حصہ ان لڑکیوں میں تقسیم ہوگا، باقی 1/3 دوسرے وارثوں میں۔ لیکن اگر میت کا صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات پچھلے رکوع میں للرجال نصیب مماترک الوالدن الخ میں میراث کا استحقاق رکھنے والے لوگوں کا اجمالاً ذکر تھا، اس رکوع میں انہی مستحقین میراث کی بعض اقسام کی تفصیل مذکور ہے اور ان کے مختلف حالات کے اعتبار سے ان کے حصص بیان کئے گئے ہیں، اس سلسلہ کی کچھ تفصیل سورت کے آخر میں آ رہی ہے اور باقی ماندہ حصوں کو احادیث کے اندر بیان کیا گیا ہے، فقہاء نے نصوص شرعیہ سے اس کی تمام تفصیلات اخذ کر کے مستقل فن ”فرائض“ کی شکل میں مدون کردیئے ہیں۔ مندرجہ آیت میں اولاد اور والدین کے حصص بیان کئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ میراث کے کچھ اور مسائل بھی مذکور ہیں۔ خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–14

تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔ وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 ورثا میں لڑکی اور لڑکے دونوں ہوں تو پھر اس اصول کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لڑکے چھوٹے ہوں یا بڑے اسی طرح لڑکیاں چھوٹی ہوں یا بڑی سب وارث ہونگی۔ حتٰی کہ (ماں کے پیٹ میں زیر پرورش بچہ) بھی وارث ہوگا۔ البتہ کافر کی اولاد وارث نہ ہوگی۔ 11۔ 2 یعنی بیٹا کوئی نہ ہو تو مال کا دو تہائی دو سے زائد لڑکیوں کو دیئے جائیں گے اور اگر صرف دو ہی لڑکیاں ہوں، تب بھی انہیں دو تہائی حصہ ہی دیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ کہ سعد بن ربیع ؓ احد میں شہید ہوگئے اور ان کی 2 لڑکیاں تھیں۔ مگر سعد کے سارے مال پر ان کے بھائی نے قبضہ کرلیا تو نبی ﷺ نے ان دونوں لڑکیوں کو ان کے چچا سے دو تہائی مال دلوایا (ترمذی، ابو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: آیات 11، 12 میں مختلف رشتہ داروں کے لیے میراث کے حصے بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن رشتہ داروں کے حصے ان آیات میں مقرر فرما دئیے گئے ہیں ان کو ”ذوی الفروض“ کہا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان حصوں کی تقسیم کے بعد جو مال بچ جائے، وہ مرنے والے کے ان قریب ترین مذکر افراد میں تقسیم ہوگا جن کے حصے ان آیتوں میں متعین نہیں کیے گئے، جن کو ”عصبات“ کہا جاتا ہے۔ مثلا بیٹے اور اگرچہ بیٹیاں براہ راستہ عصبات میں شامل نہیں ہیں، لیکن بیٹوں کے ساتھ مل کر بیٹیاں بھی عصبات میں شامل ہوجاتی ہیں۔ اس صورت میں یہ قاعدہ اس آیت نے مقرر فرمایا ہے کہ ایک بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے گا۔ یہی حکم اس صورت میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ اور اس فقرے کے بعد پھر تمام وارثوں کے حصص کا بیان ہوتا ہے ۔ اور یہ تقسیم اور تقرری اس عمومی اصول کے تحت ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور وصیت ہے ۔ اس کی تفصیلات دو طویل آیات میں دی گئی ہیں ۔ پہلی آیت میں اصول اور فروع کے درمیان تقسیم میراث ہے ۔ یعنی آیا اور اولاد کے درمیان ‘ اور دوسری آیت میں ازدواجی رشتہ اور کلالہ کے حصص میراث کا بیان ہے ۔ اور پھر بعض تتمہ احکام اس سورت کے آخر میں کلالہ کے بارے میں آتے ہیں (تفصیلات آرہی ہیں ۔ ) (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اوپر اقارب میت کے وارث ہونے کا ذکر ہوا تھا اور ان کے حصوں کے تقرر اور تعین کی طرف اجمالی اشارہ فرما دیا تھا اب اقارب اور ان کے حصوں کی تفصیل بتلائی جاتی ہے اور اس سے پہلے یتیموں کے حق میں تشدد اور تاکیدات کا ذکر چلا آرہا تھا جس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اقارب میت میں اگر کوئی یتیم ہو تو اس کا حصہ دینے میں بہت ہی احتیاط اور اہتمام کرنا چاہئیے۔ اہل عرب کی قدیم رسم کے موافق ان کو میراث سے محروم کردینا سخت ظلم اور بڑا گناہ ہے اب اقارب میں سب سے پہلے اولاد کے حصہ کو بیان فرمایا کہ اگر کسی میت کی اولاد بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو ان کی میراث دینے کا یہ قاعدہ ہے کہ ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر حصہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

سورة النساء کا دوسرا رکوع بڑا مختصر ہے اور اس میں صرف چار آیات ہیں ‘ لیکن معنوی طور پر ان میں ایک قیامت مضمر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ چار آیتوں کے اندر اسلام کا پورا قانون وراثت بیان کردیا گیا ہے جس پر پوری پوری جلدیں لکھی گئی ہیں۔ گویا جامعیت کی انتہا ہے۔ آیت 11 یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ ق لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِج فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ج وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ ط۔ ظاہر ہے اگر ایک ہی بیٹا ہے تو وہ پورے ترکے کا وارث ہوجائے گا۔ لہٰذا جب بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا ہے تو اگر ایک ہی بیٹی ہے تو اسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 اس سورة کی آیت نمبر 11، اور 12 میں میراث، وصیت اور قرضہ کے جو احکام بیان ہوئے ہیں۔ انہیں ہم سہولت کی خاطر نئی ترتیب سے پیش کرتے ہیں اور احادیث کے حوالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ خ علم میراث یا علم الفرائض کی اہمیت 1۔ آپ نے فرمایا (علم) الفرائض اور قرآن خود سیکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں (ترمذی : ابو اب الفرائض، باب فی تعلیم الفرائض) 2۔ وصیت اور وراثت کے احکام :۔ آپ نے فرمایا علم تین ہیں اور ان کے سوا جو کچھ ہے وہ فضل ہے۔ آیات محکمات کا علم، سنت قائمہ اور انصاف کے ساتھ ورثہ کی تقسیم۔ (دار قطنی، ابن ماجہ، حاشیہ حدیث ترمذی مذکورہ بالا) قرضہ کی ادائیگی : قرضہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27 ۔ ترکہ کی تقسیم اجتماعی ومعاشرتی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے اور اس کی عادلانہ تقسیم پر معاشرہ کی فلاح و بہبود کا بہت کچھ مدار ہے۔ اور وہ نام نہاد آسمانی کتابیں دنیا کے ہدایت نامہ کی حیثیت سے کامل نہیں ناقص ہیں۔ جو ایسے اہم مسئلہ کی تفصیلات سے خالی ہوں۔ (آیت) ’ یوصیکم اللہ “۔ اب تصریح سے یہ یاد دلا دیا کہ یہ احکام کسی بندہ کے تجویز کیے ہوئے نہیں۔ حکیم مطلق اور عالم الغیب حاکم برحق کے ارشاد کیے ہوئے ہیں۔ 28 ۔ یہ ایک عام اصل بیان کردی کہ ہر لڑکے کو دہرا اور ہر لڑکی کو اکہرا حصہ ملے گا، خواہ لڑکا اور لڑکی ایک ایک ہوں یا کئی۔ (آیت) ” حظ الانثیین “۔ دنیا کی بہت سی مذہبی اور غیر مذہبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 11 تا 14 ترجمہ : اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں (آئندہ) مذکور کا حکم دیتا ہے اولاد میں سے ایک لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے جبکہ دو لڑکیاں ایک لڑکے کے ساتھ ہوں، لڑکے کیلئے مال (متروکہ) کا نصف ہے اور دونوں لڑکیوں کے لئے نصف (اور) اگر ایک لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی ہو تو لڑکی کیلئے ایک ثلث اور لڑکے کیلئے دو ثلث اور اگر لڑکا تنہا ہو تو پورا مال لے لیگا۔ اور اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں، دو سے زیادہ تو ان کیلئے میت کے متروکہ مال کا دو ثلث ہے اور اسی طرح جبکہ لڑکیاں صرف دو ہوں اسلئے کہ دو تہائی دو بہنوں کیلئے ہے اللہ تعالیٰ کے قول : فَلَھُمَا الثُّلُثَانِ مِمّا تَرَکَ ، کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوصیکم اللہ فی اولادکم اللہ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کی میراث کے بارے میں فی اولادکم میں فی بمعنی لام بھی ہوسکتا ہے یعنی تمہاری اولاد کے لیے اللہ تم کو حکم دیتا ہے جیسے حدیث مبارک میں آیا ہے : دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ النَّارَ فِیْ ھِرَّۃٍ ایک بلّی کی وجہ سے ایک عورت دوزخ میں گئی۔ یہاں تک مجمل حکم ہے آگے اس کی تفصیل ہے۔ للذکر مثل حظ الانثیین ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے 1 ؂۔ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں قسمیں موجود ہوں مطلب یہ ہے کہ اگر دو یا زیادہ لڑکیاں ہوں اور ایک لڑکا ہو یا ایک سے زیادہ لڑکے اور ایک لڑکی ہو تو ہر لڑکی سے ہر لڑکے کا حصہ دوگنا ہوگا۔ خصوصیت کے ساتھ لڑکے کے حصہ کا ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) میراث میں مرد و عورت کے کیا کیا حصے ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں کہ تمہارے مرنے کے بعد تمہاری اولاد میں میراث کی اس طرح تقسیم ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اور اگر دو یا دو سے زیادہ اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو ان کو مال کا دو تہائی ملے گا اور اگر ایک ہی لڑکی چھوڑی تو ترکہ کا آدھا ملے گا اور اگر میت کے لڑکا ہو یا لڑکی کوئی اولاد ہو تو ترکہ میں والدین کا چھٹا حصہ مقرر ہے اور اگر کوئی اولاد ہی نہ ہو تو ایک تہائی ماں کا اور بقیہ ترکہ باپ کا ہے۔ اور اگر میت کے ایک سے زائد بھائی یا بہن ہوں عینی کی طرف سے شریک ہوں یا علاتی، تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ اور باقی باپ کو ملے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ۔ : اب یہاں سے وارثوں کے تفصیلی حصوں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ لکھتے ہیں کہ ”یہ دونوں آیات اور اس سورت کی آخری آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تفصیلی حصے ان تین آیات سے مستنبط ہیں اور وراثت کے حصوں سے متعلقہ احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ (ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ جب جابر بن عبداللہ ؓ بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جابر ؓ نے آپ ﷺ سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (یوصیکم اللہ فی اولادکم) [ بخاری، التفسیر، باب : (یوصیکم اللہ فی أولادکم) : 4577 ] ایک حدیث میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 11 تا 13۔ ان آیات میں پینتیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “۔ اس لیے پہلے (آیت) ” للرجال نصیب “۔ اور وللنسآء نصیب “۔ میں جو اجمال تھا اس میں اس کا بیان ہے، پس یہ سوال کے وقت سے بیان کے تاخیر کے جواز کی دلیل ہے اور یہ آیت دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور احکام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے، امھات الایات “ ، میں سے ایک ہے، کیونکہ فرائض عظیم القدر ہیں حتی کہ علم کا یہ تیسرا حصہ ہے، (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1 صفحہ 328) اور علم الفرائض کا نصف علم ہونا بھی مروی ہے، یہ پہلا علم ہے جو لوگوں سے چھین لیا جائے گا اور بھلا دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

بھائیوں کا حصہ میراث بہنوں سے دوگنا ہے (1) عبدبن حمید، بخاری ومسلم و ابوداؤد اور ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ نے پیدل چل کر میری عیادت کی بنو سلمہ قبیلہ میں نبی ﷺ نے مجھے اس حال میں پایا کہ میں کوئی عقل نہیں رکھتا تھا آپ ﷺ نے پانی منگوایا پھر اس سے وضو فرمایا پھر مجھ پر چھڑک دیا تو مجھے افاقہ ہوگیا میں نے عرض کیا مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں اپنے مال میں کیا کروں۔ اے اللہ کے رسول تو (اس پر یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ (2) عبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(یُوْصِیْکُمُ : تاکید کرتا ہے تم کو ) (اللّٰہُ : اللہ ) (فِیْ اَوْلاَدِکُمْ : تمہاری اولاد (کے بارے) میں) (لِلذَّکَرِ : مذکر کے لیے) (مِثْلُ حَظِّ الْاُنْـثَـیَیْنِ : دو مؤنث کے حصے کی مانند) (فَاِنْ کُنَّ : پھر اگر ہوں ) (نِسَآئً : کچھ عورتیں) (فَوْقَ اثْـنَـتَـیْنِ : دو سے اوپر ) (فَلَہُنَّ : تو ان کے لیے ہے ) (ثُـلُـثَا : اس کا دو تہائی ) (مَا : جو) (تَرَکَ : اس نے چھوڑا) (وَاِنْ کَانَتْ : اور اگر ہو ) (وَاحِدَۃً : ایک (مؤنث) ) (فَلَہَا : تو اس کے لیے ہے ) (النِّصْفُ : آدھا) (وَلِاَبَوَیْہِ : اور اس کے ماں باپ کے لیے) (لِکُلِّ وَاحِدٍ : ہر ایک کے لیے ) (مِّنْہُمَا : ان دونوں میں سے )…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میراث پانے والوں کے حصوں کی تفصیل اس رکوع میں تفصیلی طور پر اللہ جل شانہٗ نے میراث کے احکام بتائے ہیں اور میراث کے بعض احکام سورة نساء کے آخری رکوع میں بھی مذکور ہیں۔ مندرجہ بالا آیت میں ماں باپ اور اولاد کے حصے بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تم کو اولاد کی میراث کے بارے میں حکم دیتا ہے اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال میں جو حصے دئیے جا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ خود مرنے والے کو یا کسی بھی حکومت کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان میں ردو بدل کرے، قرآن کے بیان فرمودہ قانون کے خلاف جو کوئی قانون بنا دیا جائے وہ قانون باطل ہوگا، اس کے بعد فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11 چھٹا حکم رعیت (ورثاء کے مقررہ حصے یہ ہیں ان کے مطابق تقسیم کرو) پہلے فرمایا تھا کہ ترکہ میت میں بلا امتیاز مرد و زن اور بلا تفریق صغیر وکبیر ہر وارث کا مقررہ حصہ اب یہاں وارثوں کے مقررہ حصے بیان کردئیے ہیں کہ وارثوں کے مقررہ حصے یہ ہیں ان کو ان کا پورا پورا حق دو اور اس میں کمی بیشی نہ کرو۔ اس رکوع میں تقسیم ترکہ کی کل بارہ صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صورت۔ اگر میت کی اولاد میں لڑکے بھی ہوں اور لڑکیاں بھی تو ان کے مابین ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملے۔ یہ صورت لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنَ میں مذکور ہے۔ دوسری صورت اگر میت کی اولاد میں لڑکا کوئی نہ ہو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون اجمالی طور پر بیان فرمایا تھا۔ اس کی تشریح میں عرض کیا گیا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں وراثت کے معاملہ میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کو محروم رکھا جاتا تھا اور وراثت کا حق دار صرف ان جوان مردوں کو سمجھا جاتا تھا جو دشمن کا مقابلہ کرسکیں یعنی ہر وقت لڑائی بھڑائی کے لیے تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط تقسیم کی تردید فرمائی اور یہ واضح فرمادیا کہ مرنے والا جو کچھ چھوڑ جائے ، اس میں سے ہر چھوٹی بڑی منقولہ وغیر منقولہ چیز تقسیم ہونی چاہیے اور وراثت میں مردوں اور عورتوں ، بچوں جوانوں اور بوڑھوں سب کا حصہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُوْصِيْكُمُ اللہُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ۝ 0 ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝ 0 ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۝ 0 ۚ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ۝ 0 ۭ وَلِاَبَوَيْہِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَہٗ وَلَدٌ۝ 0 ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗٓ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ۝ 0 ۚ فَاِنْ كَانَ لَہٗٓ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّۃٍ يُوْصِيْ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ۝ 0 ۭ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّھُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا۝ 0 ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : للذکر الخ جملہ موضع نصب میں ہے بسبب یوصی کے فان کن ای المتروکات نساء موصوف ‘ فوق اثنتین صفت سب خبر فلہن جواب شرط من بعد وصیتہ الخ جملہ موضع حال میں ہے السدس سے تقدیرہ مستحقامن بعد وصیتہ والعامل الظرف۔ اباء کم وابناء کم مبتداء لا تدرون جملہ خبر پھر ایہم مبتداء اقرب لکم ممیز نفعا تمیز مجموعہ خبر۔ فریضۃ مصدر ہے فعل محذوف کا اے فرض ذلک فریضۃ وان کان تامہ رجل فاعل وامرائۃ اس پر معطوف ہے۔ یورث صفت ہے رجل کی اور کلالۃ حال ہے ضمیر یورث سے اور اگر کان ناقصہ مانا جاوے تو رجل موصوف یورث صفت معطوف علیہ او امراۃ معطوف سب اسم کان کلالۃ خبر بعض کہتے ہیں کلالۃ اسم ہے مال موروث 1 ؎ میت کی کوئی اولاد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلاَدِکُمْ ق لِلذَّکَرِِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ج فَاِنْ کُنَّ نِسَآئً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَاتَرَکَ ج وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ ط وَلِاَبَوَیْہِ لِـکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَـہٗ وَلَـدٌ ج فَاِنْ لَّمْ یَـکُنْ لَّـہٗ وَلَـدٌ وَّوَرِثَـہٗٓ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّـلُثُ ج فَاِنْ کَانَ لَـہٗٓ اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْدَیْنِ ط اٰبَـآؤُکُمْ وَاَبْنَـآؤُ کُمْ ج لاَ تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَـکُمْ نَفْعًا ط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–12

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ اس آیت کا شان نزول حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی محترم ﷺ کے ساتھ ہمارا گزر ایک بازار میں ہوا۔ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ثابت بن قیس ؓ کی بچیاں ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا چچا ان کی میراث پر قبضہ کرچکا ہے اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس معاملہ میں آپ کیا حکم صادر فرماتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اگر وراثت واپس نہ ہوئی تو ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی شخص نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نازل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 11 : یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے) اور تاکید کرتا ہے۔ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ (تمہاری اولاد کے متعلق) ان کی میراث کے سلسلہ میں۔ یہ تو اجمالاً فرمایا تفصیل آگے ہے۔ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ (ان میں سے مذکر کے لئے حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا) یعنی تمہاری اولاد میں سے ضمیر راجع کو حذف کردیا کیونکہ وہ خود سمجھ آرہا ہے۔ یہ اس طرح ہے : السمن منوان بدرہم۔ لڑکے لڑکی کا حصہ : مذکر کے حصہ سے شروع فرمایا مگر اس طرح نہیں فرمایا۔ للانثیین مثل حظ الذکر یا للانثٰی نصف حظ الذکر۔ کیونکہ مرد کو فضیلت حاصل ہے۔ جیسا کہ فضیلت کی وجہ سے اس کا حصہ دوگنا کردیا گیا۔ اور یہ وجہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 11۔: (آیت)” یوصیکم اللہ ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حظ الانثیین “۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تو اس کی وارثت بڑے مردوں میں تقسیم کی جاتی ، عورتوں میں اور چھوٹے بچوں کو محروم کردیا جاتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی رسم بد کو اس آیت میں منسوخ کردیا (آیت)” للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون “۔ زمانہ جاہلیت کی طرح ابتداء اسلام میں کچھ لوگ اس طرح کرتے تھے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ پھر وارثت کو ہجرۃ کے ساتھ مقید کردیا اور ارشاد فرمایا (آیت)” والذین امنوا ولم یھاجروا مالک من والایتھم من شیء حتی یھاجروا “۔ پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی ، پھر وارثت کا حق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

صحاح ستہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت جابر ؓ سے ان آیات کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خود حضرت جابر ؓ بیمار تھے آنحضرت ان کی خیر و عافیت کی خبر کو تشریف لائے اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ بھی آنحضرت کے ساتھ تھے اتنے میں حضرت جابر ؓ کو غش آگیا۔ آنحضرت نے ان کا یہ حال دیکھ کر پانی منگواکر وضو کیا اور وضو کا بچا ہوا پانی حضرت جابر ؓ پر چھڑکا۔ جس سے حضرت جابر ؓ کو ہوش آیا۔ اور حضرت جابر ؓ نے اپنے مال کی تقسیم کی بابت آنحضرت سے مسئلہ پوچھا 2۔ اسی طرح سعد بن ربیع ؓ کی بی بی نے بھی آنحضرت سے فریاد کی تھی کہ سعد بن ربیع ؓ کے بھائی نے سب مال سعد ؓ کا لے لیا ہے۔ سعدبن ربیع ؓ کی دنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

آیت 11-12 وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت :۔ یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے ” میراث کے مقرر حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے “ ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہوگا، سوائے نانی کی ورثات کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اسلام میں کسی حقیقی وارث کو نظرانداز نہیں کیا جاتا قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں اس مقررومتعین حصے کا بیان ہے جو قول باری (للرجال نصیب) تاقول باری (نصیبامفروضا) میں مذکور ہے۔ نصیب مفروض، وہ حصہ ہے جس کی مقدارقول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں بیان ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے آیت (کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت ان ترک خیرن الوصیۃ للوالدین والاقربین، تم پر والدین اوراقرباء کے لیے وصیت کرنا فرض کردیا گیا جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے اگر وہ مال چھوڑکرجارہاہو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس حکم کو قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون) مجاہد کا قول ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

23 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو تمہاری اولادوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اولاد جو کہ انسان کو سب سے زیادہ محبوب اور پیاری ہوتی ہے، اور جس کے لئے وہ سب پاپڑ بیلتا، اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتا ہے، اس کے لئے بھی رب تعالیٰ اس کو اس طرح تاکیدی حکم دیتا ہے، تاکہ کہیں ان کی کوئی حق تلفی نہ ہوجائے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ہماری اولادوں پر ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے، جل جلالہ پس کتنے ظالم اور کس قدر ناشکرے ہیں وہ لوگ، جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

مرد و عورت اور والدین کا حصہ تشریح : یہ آیت بڑی اہم ہے اس کو بڑے غور سے سمجھ لینا چاہیے کیونکہ اس سے زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ وابستہ ہے، لہٰذا سب سے پہلے مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال میں سے کفن دفن کا خرچہ بڑے مناسب طریقہ سے کیا جائے۔ اس کے بعد اگر مرنے والے نے قرض دینا ہو تو اس کے مال میں سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا۔ اگر پورا مال ہی قرضہ میں چلا گیا تو ٹھیک ہے وارثوں کو کچھ نہ ملے گا اور اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد مال بچ جائے تو اس میں سے ایک تہائی میت کی وصیت کے مطابق دیا جاسکتا ہے۔ باقی جو بچ جائے اس کو قرآن کے اصول کے مطابق وارثوں میں تقسیم کردیا جائے تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ پہلا اصول تو یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–12

رکوع نمبر 2 اسرار و معارف آیات 11 تا 12: میراث کی تقسیم : اللہ کریم نے مرنے والے کے مال میں سب حقداروں کا حصہ مقرر فرما دیا جس کا قاعدہ یہ ہے کہ پہلے اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا جائے جو نہ کنجوسی سے ہو نہ اس میں فضول خرچی کی جائے اور پھر اس کے قرض کو ادا کیا جائے جو سب سے ضروری ہے اگر مال نہ بچے تو کوئی وراثت نہیں اگر بچ جائے تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی اگرچہ مرنے والے نے سب مال میں کردی ہو۔ جیسے یورپ میں مرنے والے انسانوں کو تو محروم رکھتے ہیں اور کتوں بلیوں وغیرہ کے لیے سب مال کی وصیت چھوڑ کر مرتے ہیں اسلام ایسی کسی وصیت کو سرے سے قبول نہیں فرماتا نیز ورثا کو محروم کرنے کے ارادے سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اب اس رکوع میں روثہ کے تفصیل حصص کا بیان ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ دونوں آیتیں اور اس سورة کے خاتمہ والی آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تمام مسائل ان تین آیات سے منتنبط ہیں اور وراثت سے متعلق احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ ( ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت جابر ؓ بن عبد اللہ بیمار ہوئے تو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ ان کی عیات کے لیے تشریف لے گئے جابر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بعض روایت میں ہے سعد بن ربیع وفات پاگئے اور ان کے چچا نے ان کا سارا ورثہ سنبھال لیا۔ سعد ؓ کی دو لڑکیاں تھیں ان کی بیوی نے آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:11) یوصیکم اللہ۔ یوصی مضارع واحدمذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ایصاء (افعال) مصدر۔ وصی مادہ۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ طور پر ہدایت کرنے کو کہتے ہیں۔ الوصیۃ الابصار کا اسم ہے۔ ھذا وصیتہ یہ اس کی وصیت ہے۔ جمع وصایا ۔ وصایا اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام جو بندوں پر فرض ہوئے۔ اللہ کی طرف سے وصیت بمعنی حکم کے ہے (آیۃ ہذا) تواصی (تفاعل) ایک دوسرے کو وصیت کرنا۔ وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (103:3) اور آپس میں حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے ہیں۔ یوصیکم اللہ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے ولقد وصینا الانسان (29:8) اور ہم نے انسان کو حکم دیا۔ حظ۔ حصہ۔ نصیب۔ مقررہ حصہ۔ جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 11 لغات القرآن : یوصی، وہ حکم دیتا ہے۔ نصیحت کرتا ہے۔ ذکر، لڑکا، مرد۔ حظ، حصہ۔ الانثیین، دو لڑکیاں، دو عورتیں۔ ثلثا، دو ثلث (دو تہائی) ۔ النصف، آدھا۔ ابویہ، اس کے ماں باپ (ا بوین۔ ہ) ۔ السدس، چھٹا حصہ۔ اخوۃ، بھائی (اخ) ۔ دین، قرض۔ لاتدرون، تم نہیں جانتے۔ ایھم، ان میں سے کون۔ اقرب، زیادہ قریب ہے۔ تشریح : سورة النساء کی آیت 11 میں اللہ نے وراثت کے سلسلے میں چند اہم اصول ارشاد فرمائے ہیں ! (1) ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ (2) اگر میت نے بیٹا نہ چھوڑا۔ صرف بیٹیاں چھوڑی ہوں دو یا زیادہ۔ تو دوتہائی (3/2) مال ان سب بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔ (برابر، برابر) ۔ (3) اگر ایک ہی بیٹی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں دو میراثیں بیان فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی۔ اولاد میں اگر لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو لڑکوں کا دوہرا حصہ ہے اور لڑکیوں کا اکہرا۔ اور اگر میت کا کوئی لڑکا نہ ہو بلکہ فقط ایک لڑکی اولاد میں ہو تو آدھا مال لیوے، اور کئی لڑکیاں ہوں تو دہ تہائی مال برابر بانٹ لیویں۔ اگر میت نے کچھ وصیت کی ہو یا اس کے ذمہ کچھ قرض ہو تو اجرائے وصیت اور ادائے قرض کے بعد یہ حصے ہوں گے۔ آخر آیت کا مطلب یہ ہے کہ میت کا نفع ماں باپ و اولاد دونوں سے متعلق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] عورت کی جسمانی ساخت اور عضویاتی فرائض نے اسے اس قابل ہی نہیں رکھا کہ تربیت اولاد کے ساتھ اس پر فکر معاش کی ذمہ داریاں بھی ڈال دی جائیں۔ اس لئے شریعت نے اس کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرایا ہے اور گھر اور خاندان کا خرچ چلانا اس کے سر پر رکھا ہے اس لئے انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ ترکے میں اسے حصہ بھی بڑا ملے۔ پھر شادی شدہ عورت دہرے حصے کی حق دار ہے، ایک باپ کے ترکے میں سے اور دوسرا شوہر کے ترکے میں سے۔ [10] یہی حکم دو لڑکیوں کا بھی ہے۔ [11] باقی باپ کا۔ [12] باقی سب باپ کا۔ یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کا ترکے میں کوئی حصہ نہیں پہنچتا۔ [13] یعنی جس قدر وارثوں کے حصے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

تقسیم حصص : (ف 3) حضرت سعد ؓ شہید ہوئے تو ان کی دو بچیاں ‘ ایک بیوہ اور ایک بھائی زندہ تھے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا ، سعد ؓ کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آئیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انتظار کر ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ تقسیم جائیداد بھی ایک اہم ضرورت دینی ہے اور وہ لوگ جو اس میں تساہل وتغافل برتتے ہیں ‘ یقینا اللہ کے ہاں مجرم ہیں ، (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثینین “ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ لڑکیاں تقسیم میراث کے سلسلہ میں اصل ومعیار کی حیثیت رکھتی ہیں ، زمانہ جاہلیت میں جس طرح عورتیں زندگی کے تمام لوازم سے محروم تھیں ، اسی طرح حق وراثت سے بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری اولاد کی میراث کے بارے میں حکم دیتا ہے اور تم کو ہدایت کرتا ہے وہ یہ کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر ہوگا پھر اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں۔ یعنی بیٹیوں کے ساتھ کوئی بیٹا نہ ہو اور وہ لڑکیاں بھی دو ہوں یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو مورث کے مال متروکہ کا دو ثلث ملے گا یعنی ان کا مورث جو مال چھوڑ کر مرا ہے اس مال کا دو تہائی ان سب لڑکیوں پر برابر تقسیم کردیا جائے گا اور اگر صرف ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو مورث کے مال متروکہ کا نصف حصہ ملے گا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس قاعدے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ جب کسی کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو لڑکے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ حدیث اور اجماع اہل حق سے اس آیت کا حکم انبیاء علہیم السلام کے لیے نہیں اسی واسطے حضرت صدیق اکبر نے فدک وغیرہ کو میراث میں تقسیم نہیں فرمایا۔ 5۔ دونوں (یعنی وصیت اور دین) سے پہلے تجہیز وتکفین ضروری ہے اور وصیت سے مراد وہ ہے جو شرع کے موافق ہو مثلا وارث کو وصیت میں کچھ نہ دے اور بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون کے جو مال بچے اس کے ایک ثلث سے زائد کی وصیت نہ کرے ورنہ وہ وصیت میراث سے مقدم نہ ہوگی اور جاننا چاہیے کہ دین اور وصیت میں دین مقدم ہے۔ 6۔ میراث کا مسئلہ میت کی رائے پر نہیں رکھا گیا بلکہ خود حق تعالیٰ نے سب قواعد مقرر فرمادیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میت کے جب کوئی لڑکا نہ ہو اور لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں یا صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حکم : 28: پھر اگر ایسا ہو کہ مرنے والے کے ہاں کوئی لڑکا موجود نہ ہو اور لڑکیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان سب لڑکیوں کو 2/3 حصہ ملے گا اور باقی 1/3 دوسرے وارثوں میں تقسیم ہوجائے گا اور اگر لڑکی صرف ایک ہے اور کوئی اولاد نہیں ہے تو اس لڑکی کو 1/2 دوسرے وارثوں میں تقسیم ہوجائے گا اور اس بات پر بھی پوری امت کا اجماع ہے کہ اگر لڑکا ایک ہوا تو وہ پوری جائیداد کا وارث ہوجائے گا بشرطیکہ کوئی دوسرا وارث موجود نہ ہو اگر دوسرے وارث بھی ہوں گے تو ان کا حصہ ادا کر کے باقی سارا مال لڑکا لے جائے گا۔ بلاشبہ قرآن کریم میں ” فوق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

People entitled to inheritance were briefly mentioned in verse 7 of the previous section which also carries details about some kinds of those so entitled. Also given there are their shares under different circumstances. More details in this connection shall be appearing later towards the end of this Surah. Remaining shares have been identified in ahadith. Muslim jurists have collected and codified all details of the rules of inheritance from the Qur'an and Hadith, giving it the status of a permanent science which, in Islamic terminology, is known as عِلمُ الفرایض ` Ilmul-Fara'id (the Science…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15. This is the first general rule in connection with inheritance, viz., that the share of the male should be double that of the female. Since Islamic law imposes greater financial obligations on men in respect of family life and relieves women of a number of such obligations, justice demands that a woman's share in inheritance should be less than that of a man. 16. The same applies in the case where there are two daughters. If the deceased leaves only daughters, and if there are two or more daughters then they will receive two-thirds of the inheritance and the remaining one-third will go to…

Read the full tafseer →