تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے
— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
— مولانا فتح محمد جالندہری
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اوﻻد ہو، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے واﻻ کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے
— مولانا محمد جوناگڑہی
اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ : مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اور اگر (صرف) عورتیں ہی ہوں، دو یا دو سے زیادہ، تو مرنے والے نے جو کچھ چھوڑا ہو، انہیں اس کا دو تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک عورت ہو تو اسے (ترکے کا) آدھا حصہ ملے گا۔ اور مرنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، بشرطیکہ مرنے والے کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔ ہاں اگر اس کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ دیا جائے گا (اور یہ ساری تقسیم) اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہو، یا اگر اس کے ذمے کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد تمہیں اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ بیٹوں میں سے کون فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے ؟ یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں، یقین رکھو کہ اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
— امام احمد رضا خان · کنز الایمان
اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے، اور مُورِث کے ماں باپ کے لئے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ (ملے گا) بشرطیکہ مُورِث کی کوئی اولاد ہو، پھر اگر اس میت (مُورِث) کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف اس کے ماں باپ ہوں تو اس کی ماں کے لئے تہائی ہے (اور باقی سب باپ کا حصہ ہے)، پھر اگر مُورِث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے (یہ تقسیم) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہو گی)، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تمہیں معلوم نہیں کہ فائدہ پہنچانے میں ان میں سے کون تمہارے قریب تر ہے، یہ (تقسیم) اللہ کی طرف سے فریضہ (یعنی مقرر) ہے، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،
— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن
اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے، پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا اور اگر ایک عورت ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔ اور اس کے ماں باپ کے لیے، ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے، جو اس نے چھوڑا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو۔ پھر اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے، پھر اگر اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائے، یا قرض (کے بعد)۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں سے کون فائدہ پہنچانے میں تم سے زیادہ قریب ہے، یہ اللہ کی طرف سے مقرر شدہ حصے ہیں، بیشک اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
— مولانا عبد السلام بھٹوی
اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں اور وہ دو سے زائد ہوں تو ان کا ترکہ سے دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی ہو تو اس کا ترکہ کا نصف حصہ ہے۔ اگر میت کی اولاد بھی ہو اور والدین بھی تو والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف والدین ہوں تو ماں کا تہائی حصہ ہے اور اگر اس کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے اور یہ تقسیم میت کا قرضہ اور اس کی وصیت ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ تمہیں فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے قریب تر ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن
اللہ تمہاری اولاد کے باب میں تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے جو مورچ نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اسکے اولاد نہ وہ اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اس کے بھائی بہنیں ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کرجاتا ہے تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمہارے لیے سب سے زیادہ نافع کو ہوگا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بیشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے
— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن
اللہ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، کہ ایک مرد کا حصہ برابر ہے دو عورتوں کے حصے کے، پھر اگر (اولاد میں) صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ، تو ان کو میت کے کل ترکے کا دو تہائی ملے گا، اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو اس کا آدھا ملے گا، اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو اس کے کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی بھی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں، تو اس کی ماں کو ایک تہائی ملے گا، پھر اگر اس کے (بہن) بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (یہ سب حصے تقسیم ہوں گے) اس وصیت کے بعد جو میت نے کی ہو، یا قرض کے بعد، (جو اس نے دینا ہو، اور وراثت کی یہ تقسیم تمہاری مرضی پر نہیں رکھی کہ) تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون فائدے کے لحاظ سے تمہارے زیادہ قریب ہے، (پس) اللہ کی طرف سے حصہ مقرر کردیا گیا، بلاشبہ اللہ سب کچھ جانتا، بڑا ہی حکمتوں والا ہے
— مولانا اسحاق مدنی
اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ اور اگر دو سے زائد عورتیں (ہی) ہوں۔ تو ان کے لیے دو تہائی (حصہ) اس (مال) کا ہے جو مورث چھوڑ گیا ہے۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف (حصہ) ہے۔ اور مورث کے والدین یعنی ان دونوں میں ہر ایک کے لیے اس (مال) کا چھٹا حصہ ہے جو وہ چھوڑ گیا ہے۔ بشرطیکہ مورث کے کوئی اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے۔ لیکن اگر مورث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے۔ وصیت کے نکالنے کے بعد کہ مورث اس کی وصیت کرجائے یا ادائے قرض کے بعد۔ تمہارے باپ ہوں کے تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے ہو کہ ان میں سے نفع پہنچانے میں تم سے قریب تر کون ہے۔ یہ سب اللہ کی طرف سے مقرر ہے بیشک اللہ ہی علم والا ہے حکمت والا ہے۔
— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی
اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ لڑکے کے لیے حصہ ہے دو لڑکیوں کے برابر پھر اگر لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے جو اس نے چھوڑا اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے پھر اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائے یا بعد ادائے قرض کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نافع ہے یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے یقیناً اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے
— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن
تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکہ کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ (چھوڑا ہوا مال) اس کا ہے۔ اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو تو والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔ یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے، جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کردیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور حکمت والا ہے
— محترمہ رفعت اعجاز
Allah thus commands you concerning your children: the share of the male is like that of two females. If (the heirs of the deceased are) more than two daughters, they shall have two-thirds of the inheritance; and if there is only one daughter, then she shall have half the inheritance. If the deceased has any offspring, each of his parents shall have a sixth of the inheritance; and if the deceased has no child and his parents alone inherit him, then one-third shall go to his mother; and if the deceased has brothers and sisters, then one-sixth shall go to his mother. All these shares are to be given after payment of the bequest he might have made or any debts outstanding against him. You do not know which of them, your parents or your children, are more beneficial to you. But these portions have been determined by Allah, for He indeed knows all, is cognizant of all beneficent considerations.
— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran
Allah directs you concerning your children: for a male there is a share equal to that of two females. But, if they are (only) women, more than two, then they get two-thirds of what one leaves behind. If she is one, she gets one-half. As for his parents, for each of them, there is one-sixth of what he leaves in case he has a child. But, if he has no child and his parents have inherited him, then his mother gets one-third. If he has some brothers (or sisters), his mother gets one-sixth, all after (settling) the will he might have made, or a debt. You do not know who, out of your fathers and your sons, is closer to you in benefiting (you). All this is determined by Allah. Surely, Allah is All-Knowing, All-Wise.
— Muhammad Taqi Usmani
Allah directs you concerning your children: for a male there is a share equal to that of two females. But, if they are (only) women, more than two, then they get two-thirds of what one leaves behind. If she is one, she gets one-half. As for his parents, for each of them, there is one-sixth of what he leaves in case he has a child. But, if he has no child and his parents have inherited him, then his mother gets one-third. If he has some brothers (or sisters), his mother gets one-sixth, all after (settling) the will he might have made, or a debt. You do not know who, out of your fathers and your sons, is closer to you in benefiting (you). All this is determined by Allah. Surely, Allah is All-Knowing, All-Wise.
— Muhammad Taqi Usmani (variant)
Allah commands you for your children's (inheritance): to the male, a portion equal to that of two - females; if only daughters, two or more, their share is two thirds of the inheritance; if only one, her share is half. For parents, a sixth share of inheritance to each if the deceased left children; if no children, and the parents are the (only) heirs, the mother has a third; if the deceased left brothers or (sisters), the mother has a sixth. (The distribution in all cases is) after the payment of legacies he may have bequeathed or debts. You know not which of them, whether your parents or your children, are nearest to you in benefit, (these fixed shares) are ordained by Allah. And Allah is Ever All-Knower, All-Wise.
— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri
Allah chargeth you concerning (the provision for) your children: to the male the equivalent of the portion of two females, and if there be women more than two, then theirs is two-thirds of the inheritance, and if there be one (only) then the half. And to each of his parents a sixth of the inheritance, if he have a son; and if he have no son and his parents are his heirs, then to his mother appertaineth the third; and if he have brethren, then to his mother appertaineth the sixth, after any legacy he may have bequeathed, or debt (hath been paid). Your parents and your children: Ye know not which of them is nearer unto you in usefulness. It is an injunction from Allah. Lo! Allah is Knower, Wise.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Allah instructs you concerning your children: for the male, what is equal to the share of two females. But if there are [only] daughters, two or more, for them is two thirds of one's estate. And if there is only one, for her is half. And for one's parents, to each one of them is a sixth of his estate if he left children. But if he had no children and the parents [alone] inherit from him, then for his mother is one third. And if he had brothers [or sisters], for his mother is a sixth, after any bequest he [may have] made or debt. Your parents or your children - you know not which of them are nearest to you in benefit. [These shares are] an obligation [imposed] by Allah. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.
— Saheeh International
This is a commandment from your Lord: After the payment of debts or anything bequeathed, let the male inherit twice as much as the female. If there are more than two girls, they will have two-thirds of the legacy. If there is only one girl, she will inherit half of the legacy. Parents of the deceased will each inherit one-sixth of the legacy, if the deceased has a surviving child, however, if no children survive the deceased, and the heirs are the parents, the mother will receive one-third of the legacy. The mother will receive one-sixth of the legacy if the deceased has more than one surviving brother. These are the decreed shares according to the laws of God. Regardless of how you feel about your parents or children, you do not know which of them is more beneficial to you. God is All-knowing and All-wise.
— Muhammad Sarwar
Allah enjoins you concerning your children: The male shall have the equal of the portion of two females; then if they are more than two females, they shall have two-thirds of what the deceased has left, and if there is one, she shall have the half; and as for his parents, each of them shall have the sixth of what he has left if he has a child, but if he has no child and (only) his two parents inherit him, then his mother shall have the third; but if he has brothers, then his mother shall have the sixth after (the payment of) a bequest he may have bequeathed or a debt; your parents and your children, you know not which of them is the nearer to you in usefulness; this is an ordinance from Allah: Surely Allah is Knowing, Wise.
— Muhammad Habib Shakir
Allah enjoineth you in the matter of your children; the male will have as much as the portion of two females, but if they be females more than two, then they will have two-thirds of that which he hath left, and if only one, she will have a half; and as far as his parents, each of the twain shall have a sixth of that which he hath left if he have a child, but if he hath no child and his parents be his heirs, then his mother shall have a third; but if he have brothers, then his mother shall have a sixth: all after paying a bequest he may have bequeathed or a debt. Your fathers and your sons - ye know not which of them is higher unto you in benefit: an ordinance this from Allah, verily Allah is Knowing, Wise.
— Abdul Majid Daryabadi
Allah (thus) directs you as regards your Children's (Inheritance): to the male, a portion equal to that of two females: if only daughters, two or more, their share is two-thirds of the inheritance; if only one, her share is a half. For parents, a sixth share of the inheritance to each, if the deceased left children; if no children, and the parents are the (only) heirs, the mother has a third; if the deceased Left brothers (or sisters) the mother has a sixth. (The distribution in all cases ('s) after the payment of legacies and debts. Ye know not whether your parents or your children are nearest to you in benefit. These are settled portions ordained by Allah; and Allah is All-knowing, Al-wise.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary