وراثت کی مزید تفصیلات
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے اور اگر ان کے بال بچے ہوں تو تمہیں چوتھائی ملے گا، وصیت اور قرض کے بعد۔ ترتیب اس طرح ہے پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت پوری کی جائے پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹیوں کی ہی طرح ہیں بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے گا۔ پھر عورتوں کو حصہ بتایا کہ انہیں یا چوتھائی ملے گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے والے خاوند کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة النِّسَآء 22
یعنی خواہ ایک بیوی ہو یا کئی بیویاں ہوں، اولاد ہونے کی صورت میں وہ 1/8 کی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں 1/4 کی حصہ دار ہوں گی اور یہ 1/4 یا 1/8 سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔
سورة النِّسَآء 23
باقی 5/6 یا 2/3 جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی اور وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا، ورنہ اس پوری باقی ماندہ ملکیت کے متعلق اس شخص کو وصیت کرنے کا حق ہوگا۔
اس آیت کے متعلق مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں بھائی اور بہنوں سے مراد اخیافی بھائی اور بہن ہیں یعنی جو میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں اور باپ ان کا دوسرا ہو۔ رہے سگے بھائی بہن، اور وہ سوتیلے بھائی بہن جو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط آیات
یہاں تک ان مستحقین میراث کے حصص کا بیان تھا جن کا میت کے ساتھ نسب اور ولادت کا رشتہ تھا، مذکورہ آیت میں بعض دوسرے مستحقین کا ذکر ہے اور میت سے ان کا رشتہ نسب کا نہیں، بلکہ ازدواج کا ہے، جس کا بیان یہ ہے
اور تم کو آدھا ملے گا اس ترکہ کا جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جاویں، اگر ان کے کچھ اولاد نہ ہو، (نہ مذکر نہ مونث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو (خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے) تو (اس صورت میں) تم کو ان کے ترکہ سے ایک چوتھائی ملے گا (یہ کل دو صورتیں ہوئیں اور دونوں صورتوں میں بقیہ دوسرے ورثاء کو ملے گا، لیکن ہر صورت میں یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔
وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔
12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر)
12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
13: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کردے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹ اقرار کرلے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہوسکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے…
Read the full tafseer →اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔
ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔
نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں…
Read the full tafseer →8 اب زوجین کی میراث کو بیان فرمایا جاتا ہے کہ مرد کو اس کی عورت کے مال میں سے آدھا مال ملے گا اگر عورت کے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر عورت کے اولاد ہے خواہ ایک ہی بیٹا یا بیٹی ہو اور اسی مرد سے ہو یا دوسرے مرد سے تو مرد کو عورت کے مال میں سے ایک چوتھائی مال ملے گا قرض اور وصیت کے بعد۔
1 اور اسی طرح عورت کو اس کے خاوند کے مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اگر مرد کی اولاد کچھ نہ ہو اور اگر مرد کے اولاد ہے خواہ اسی عورت سے یا دوسری عورت سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا خاوند کے اس مال میں سے جو وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بچے گا مال کی ہر قسم میں سے نقد ہو یا جنس، سلاح ہو یا زیور حویلی ہو یا باغ، باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت 12 وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ ج۔
بیوی فوت ہوگئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہوجائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ ِ
فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط
اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
23 میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔ بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو 4/1 ملے گا۔ اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو 4/1 ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو 4/1 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیوی یا بیویوں کو 8/1 ملے گا۔ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔ (یہ زوجین کے حصے ہوئے)
24 کلالہ کی میراث :۔ کَلالۃ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں۔ خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت وہ کلالہ ہے البتہ اس کے بہن بھائی…
Read the full tafseer →39 ۔ (نہ تم سے نہ کسی اور شوہر سے) ظاہر ہے کہ اتنے جزء میں خطاب شوہروں سے ہے۔
40 ۔ (اور بقیہ 43 دوسرے وارثوں کا حصہ ہے) بیوی کے ترکہ میں 4 1 حصہ شوہر کا ہر صورت میں ہے، خواہ بیوی کوئی اولاد چھوڑے یا نہ چھوڑے، (آیت) ” ان کان لھن ولد “۔ یہ اولاد خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے۔
41 ۔ حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ میراث کی تقسیم ہر حال میں اجرائے وصیت اور ادائے قرض کے بعد ہی ہوگی اور ان دونوں میں بھی ادائے قرض مقدم ہے۔
42 ۔ اور بیویاں اگر کئی ہوں تو شوہر کے ترکہ کی وہی چوتھائی سب میں برابر تقسیم ہوجائے گی۔
43 ۔ (اور شوہر کے ترکہ کا بقیہ 87 دوسرے وارثوں کی طرف جائے گا) بیویوں کو 8 1 بہر صورت ملے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وَلَکُمْ نِصْفُ مَ اتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (الآیۃ) سابقہ آیت میں نسبی رشتہ داروں کے حصوں کا بیان تھا۔ اس آیت میں دیگر مستحقین کا ذکر ہے جن کا میت سے نسبی تعلق نہیں ہے بلکہ زوجیت کا رشتہ ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہوتے ہیں اس پر امت کا اجماع ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کو بعد ادائے دین اور انفاذ و صیت مرحومہ کے کل مال کا نصف ملے گا، اور باقی نصف میں دوسرے ورثاء مثلاً مرحومہ کے والدین، بھائی، بہن حسب قاعدہ حصہ پائیں گے، اور اگر مرحومہ نے اولاد چھوڑی ہو اس شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے ہو تو موجودہ شوہر کو…
Read the full tafseer →ولکم نصف ما ترک ازواجکم ازواج سے مراد ہیں بیویاں۔
ان لکم یکن لھن ولدہ تمہارا موروثی حصہ اپنی بیویوں کے ترکہ میں سے (کل ترکہ کا) نصف ہے بشرطیکہ ان کی (بطنی) اولاد (صاحب فرض اور عصبہ موجود) نہ ہو (یعنی اولاد یا اولاد کی اولاد غرض نسل میں سے کوئی موجود نہ ہو)
فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن اور اگر ان کی (نسلی ذوی الفرضی یا عصبہ) اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارا چہارم ہے۔
من بعد وصیۃ یوصین بھا او دین ان کی وصیت (تہائی مال سے) پوری کرنے اور (کل مال سے) قرض ادا کرنے کے بعد۔
و لھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولدہ اور (بیویاں چند ہوں یا ایک ان سب کیلئے تمہارے ترکہ کا چہارم ہے اگر تمہاری…
Read the full tafseer →(12) اور اگر تمہاری بیبیوں کے کسی قسم کی کوئی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ میں سے تم کو آدھا ملے گا۔
اور اگر ان کے کچھ اولاد ہو خواہ تم میں سے ہو یا کسی اور سے لڑکا ہو یا لڑکی تو پھر ترکہ میں سے تم کو چوتھائی ملے گا اور یہ تقسیم بھی میت کے قرض ادائیگی اور تہائی مال وصیت کے نافذ کردینے کے بعد ہوگی۔
اور ان کو واثت میں سے چوتھائی ملے گا اگر تمہارے کوئی اولاد نہیں ہوگی اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو خواہ ان ہی سے ہو یا کسی اور سے لڑکے ہوں یا لڑکی تو ان کو ترکہ میں سے تمہارے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نافذ کرنے کے بعد آٹھواں حصہ ملے گا۔
اور اگر کوئی میت خواہ وہ مرد ہو یا عورت ایسی ہو کہ جس کے نہ اصول…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمہیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمہیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمہارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمہاری اولاد یا اولاد کی اولاد ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (النساء : 135)
اور ” اولی بھما “۔ جائز ہے، یہ فراء وغیرہ سے مروی ہے۔ اور امرأۃ کے لیے مراۃ بھی کہا جاتا ہے یہ اس کی اصل ہے اخ کی اصل اخو ہے اس پر دلیل اخوان ہے، اخ سے واؤ کو حذف کیا گیا اور بغیر قیاس کے اس میں یہ تبدیلی کی گئی، فراء نے کہا : اخت کے ہمزہ کو ضمہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے واؤ کو حذف کیا گیا ہے اور بنت کے پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یاء حذف کی گئی ہے اور یہ حذف اور تعلیل غیر قیاسی ہے۔
مسئلہ نمبر : (30) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کانوا اکثر من ذلک فھم…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولکم نصف ما ترک ازواجکم “ یعنی مرد کے لیے آدھا ہے جو اس کی بیوی نے ترکہ چھوڑا ہو مرنے کے بعد اگر اس کی اولاد نہ ہو اسی خاوند سے اور نہ کسی اور خاوند سے اور اگر اس عورت کا لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو خاوند کے لئے چوتھائی ہے جو وہ چھوڑ جائے مگر وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد اور قرضہ وصیت سے پہلے ادا کیا جائے گا ” ولہن الربع “ اور خاوند کی اولاد نہ ہو اس عورت سے نہ ہی کسی اور عورت سے اور اگر خاوند کی اولاد ہے لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو اس عورت کے لیے آٹھواں حصہ ہے اس مال میں جو خاوند چھوڑ گیا اور اگر مرد یا عورت کلالہ ہو اور کلالہ وہ میت ہے…
Read the full tafseer →(وَلَــکُمْ : اور تمہارے لیے ) (نِصْفُ مَا : اس کا آدھا ہے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا) (اَزْوَاجُکُمْ : تمہاری بیویوں نے) (اِنْ : اگر) (لَّــمْ یَکُنْ : نہ ہو ) (لَّـہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (کَانَ : ہو ) (لَہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَـلَـکُمُ : تو تمہارے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو ) (تَرَکْنَ : انہوں نے چھوڑا) (مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد) (یُّوْصِیْنَ : انہوں نے وصیت کی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے کے بعد ) (وَلَہُنَّ : اور ان کے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو)…
Read the full tafseer →میراث میں شوہر اور بیوی کا حصہ
اس آیت میں شوہر اور بیوی کا حصہ میراث بیان فرمایا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
(1) اگر بیوی فوت ہوجائے تو اس کے کل متروکہ اموال و املاک سے شوہر کو آدھا مال ملے گا، بشرطیکہ اس نے کوئی اولادنہ چھوڑی ہو نہ کوئی لڑکا ہو اور نہ کوئی لڑکی نہ ایک اور نہ ایک سے زیادہ، نہ اس شوہر سے اور نہ کسی پہلے شوہر سے۔
(2) اگر عورت فوت ہوجائے اور اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہو خواہ ایک لڑکا یا لڑکی ہی ہو موجودہ شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے تو جس شوہر کی زوجیت میں ہوتے ہوئے فوت ہوئی ہے اس شوہر کو اس عورت کے متروکہ مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اور دونوں صورتوں میں یہ حصہ ادائے دین اور نفاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔
ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے…
Read the full tafseer →14 پہلی چھ صورتیں ذوی الفروض نسبیہ کی تھیں اب آگے ذوی الفروض سببیہ یعنی خاوند بیوی کے حصوں کا بیان ہے۔ ساتویں صورت۔ اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کے ترکہ سے خاوند کو نصف ملیگا۔ باقی دوسرے ورثاء ہیں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ آٹھویں صورت فَاِن ْکَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ الخ یعنی اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے اولاد ہو خواہ موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں بیوی کے ترکہ سے چوتھا حصہ خاوند کا ہوگا۔ اور باقی دیگر ورثاء کا ہوگا۔ نویں صورت۔ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ۔ اور اگر خاوند…
Read the full tafseer →زوجین کا حصہ
نسب کے اعتبار سے وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے دوسرے سبب نکاح کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس اعتبار سے بیوی اور خاوند کے حصے مقررفرمائے ہیں۔ زوجین میں تقسیم وراثت کے لیے دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت یا تو مرنے والے کے زوج کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی یا اولاد بھی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے حصے کی مقدار مختلف ہوگی ارشاد ہے ولکم نصف ماترک ازوجکم ان لم یکن لھن ولد اگر تمہاری بیوی کی وفات کے وقت اس کی اولاد نہیں ہے تو اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے تمہارا نصف حصہ ہے۔ فان کان لھن ولد اور اگر بیوی اولاد بھی چھوڑ…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ 0 ۚ فَاِنْ كَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّۃٍ يُّوْصِيْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ 0 ۭ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ 0 ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ 0 ۭ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ وَّلَہٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ 0 ۚ فَاِنْ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَھُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
3 ؎ کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے نہ فروع ہوں یعنی کوئی اولاد نہ ہو نہ اصول ہوں ماں باپ دادا وغیرہ 12 منہ
: کلالتہ کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل سے مشتق ہے جس کے معنی بار کے ہیں۔ ایسی قرابت بعیدہ جو نہ اصول سے تعلق رکھے نہ فروع سے ایک طرح کی بار ہوتی ہے۔ پھر کلالہ کون ہے ؟ بعض کہتے ہیں وہ میت ہے کہ جس کے بعد اس کے وارثوں میں سے نہ اس کے اصول ماں باپ موجود ہوں نہ فروع اولاد ہو بلکہ اور لوگ ہوں بھائی اور ان کی اولاد وغیرہ ان کی نسبت یہ بلحاظ پرورش کے ایک بار سمجھا جاتا ہے۔ ابوبکر عمر علی اور جمہور صحابہ ؓ اور اہل لغت و اہل حرمین کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں میت کے ایسے وارث جو اس…
Read the full tafseer →وَلَکُمْ نِصْفُ مَاتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَـکُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ ج فَاِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَـکُمُ الرُّبُعُ مِمَّاتَرَکْنَ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِھَـآ اَوْدَیْنٍ ط وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّـکُمْ وَلَـدٌ ج فَاِنْ کَانَ لَـکُمْ وَلَـدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَـآ اَوْدَیْنِ ط
(اور تمہارے لیے اس ترکہ کا نصف ہے، جو تمہاری بیویاں چھوڑیں اگر ان کے اولاد نہیں ہے اور اگر ان کے اولاد ہے تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے، بعد اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کر جائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔
اس آیت کا شان نزول حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی محترم ﷺ کے ساتھ ہمارا گزر ایک بازار میں ہوا۔ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ثابت بن قیس ؓ کی بچیاں ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا چچا ان کی میراث پر قبضہ کرچکا ہے اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس معاملہ میں آپ کیا حکم صادر فرماتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اگر وراثت واپس نہ ہوئی تو ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی شخص نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نازل…
Read the full tafseer →آیت 12 :
وَلَـکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (تمہارے لئے نصف ہے جو چھوڑا تمہاری بیویوں نے) اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان کی اولاد مذکر یا مؤنث نہ ہو) فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو تو) اگر ان کی تم میں سے اولاد ہو یا اور کسی خاوند سے ہو۔
میاں بیوی کی وراثت :
فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْدَیْنٍ ۔ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ( اور ان کے…
Read the full tafseer →(ازواج کی میراث)
(تفسیر) 12۔:
(آیت)” ولکم نصف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا اودین “۔ یہ ازواج (بیویاں) کی میراث کا بیان ہے ” ولھن الربع “۔ ان کو ربع ملے گا (آیت)” مما ترکتم ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ اودین “۔ یہ بیویوں کی میرث کا بیان ہے اگر ایک شخص کی ایک بیوی ہو یا اس سے زائد چار تک تو ان کو ربع یا ثمن ملے گا ، (آیت)” وان کان رجل یورث کلالۃ اوامراۃ “۔ جو شخص اکیلا ہو اس کی صرف بیوی ہو ، کوئی اولاد وغیرہ نہ ہو تو اس صورت میں یہ شخص کلالہ کہلائے گا ، ” کلالۃ “ منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ ہے بعض نے کہا کہ فاعل ” مالم یسم “۔ فاعلہ ہے، تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” ان کان رجل یورث مالہ کا لۃ “۔
(کلالہ کی تفسیر…
Read the full tafseer →حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھے مال کا حصہ ہے جب کہ بی بی کے اولاد نہ ہو اور اگر اس شوہر یا شوہر کے کوئی اولاد نہ ہو تو اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اب میاں بی بی کے میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کے میراث کا جو ذکر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی بہن کو کچھ نہیں ملتا جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہو یا فقظ باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کو دوہرا اور اکہرا ہے۔ لیکن ان کے حصہ کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے بلکہ اس آیت میں فقظ ان بھائی بہن کے حصہ کا ذکر ہے جو ماں میں شریک ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11-12
وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت :۔
یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے ” میراث کے مقرر حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے “ ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہوگا، سوائے نانی کی ورثات کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ولھن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولدفان کان لکم ولدفلھن الثمن مماترکتم، اگر تم صاحب اولاد نہیں ہوتوتمھاری بیویوں کو تمھارے ترکے کا چوتھائی ملے گا۔ اور اگر تم صاحب اولاد ہوتوا نہیں تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ ) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ایک شخص کی چارہویاں ہوگی تو وہ آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی۔ اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر ماں باپ ہوں توشوہر اور بیوی کے ہوتے ہوئے انہیں کتنا حصہ ملے گا۔
حضرت علی ؓ حضرت عمر ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان ؓ اور حضرت زیدبن ثابت ؓ کا قول ہے کہ بیوی کو چوتھائی حصہ ماں کو باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
23 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو تمہاری اولادوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اولاد جو کہ انسان کو سب سے زیادہ محبوب اور پیاری ہوتی ہے، اور جس کے لئے وہ سب پاپڑ بیلتا، اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتا ہے، اس کے لئے بھی رب تعالیٰ اس کو اس طرح تاکیدی حکم دیتا ہے، تاکہ کہیں ان کی کوئی حق تلفی نہ ہوجائے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ہماری اولادوں پر ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے، جل جلالہ پس کتنے ظالم اور کس قدر ناشکرے ہیں وہ لوگ، جو…
Read the full tafseer →میاں بیوی کا حصہ، وصیت اور قرض
تشریح : اس آیت میں میاں بیوی کی میراث کو بیان کیا گیا ہے حکم ہے کہ خاوند کو بیوی کے ترکہ میں سے آدھا ملے گا اس صورت میں کہ بیوی کی کوئی بھی اولاد نہ ہو۔ لیکن اگر بیوی کی کوئی بھی اولاد ہو موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں مرد کو ترکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا۔ یہ ضروری ہے کہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے میت کا قرض ادا کردیا جائے اور وصیت پوری کردی جائے۔ اسی طرح عورت کو خاوند کے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ملے گا جب کہ مرد کی کوئی اولاد نہ ہو۔ لیکن اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ملے گا۔ یہاں بھی ضروری ہے کہ پہلے قرض اور وصیت پوری کردی جائے۔ عورت کا مہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
رکوع نمبر 2
اسرار و معارف
آیات 11 تا 12:
میراث کی تقسیم : اللہ کریم نے مرنے والے کے مال میں سب حقداروں کا حصہ مقرر فرما دیا جس کا قاعدہ یہ ہے کہ پہلے اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا جائے جو نہ کنجوسی سے ہو نہ اس میں فضول خرچی کی جائے اور پھر اس کے قرض کو ادا کیا جائے جو سب سے ضروری ہے اگر مال نہ بچے تو کوئی وراثت نہیں اگر بچ جائے تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی اگرچہ مرنے والے نے سب مال میں کردی ہو۔ جیسے یورپ میں مرنے والے انسانوں کو تو محروم رکھتے ہیں اور کتوں بلیوں وغیرہ کے لیے سب مال کی وصیت چھوڑ کر مرتے ہیں اسلام ایسی کسی وصیت کو سرے سے قبول نہیں فرماتا نیز ورثا کو محروم کرنے کے ارادے سے…
Read the full tafseer →ف 11 یہ بیوی کی ایک حالت ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں پوتوں کا بھی یہی حکم ہے اس پر علما کا اجماع ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی)
1 ی دوسری حالت ہے پھر بیوی ایک ہو یا ایک سے زیادہ سب چوتھائی یا آٹھوین حصہ میں شریک ہوں گی، اس پر علما کا اجماع ہے۔ قرطبی۔ ابن کثیر)2 کوئی مرد یا عورت مرجائے اور اس کا باپ اور اولاد نہ ہو تو اس کے ورثہ کو کلا لہ کہا جاتا ہے۔ کلالہ کی یہی تشریح حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے اور اسی کو جمہور اہل علم نے قبول کیا ہے بعض ایسی میت کو بھی کلالہ کہتے ہیں۔ (قرطبی، شوکانی) بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں۔ عینی یعنی یک ماں باپ سے علاتی یعنی باپ کی طرف اخیافی یعنی صرف…
Read the full tafseer →غیر مضار۔ جو نقصان دہ نہ ہو۔ یعنی ایسی وصیت۔ یا قرض نہ ہو جو محض وارثوں کو نقصان پہنچانے کی خاطر عائد کیا گیا ہو۔
مضار۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں مضارر (ضرر سے بروزن مفاعل) سے ہے۔
وصیۃ من اللہ۔ (وراثت کے متعلق) یہ ہے حکم اللہ کا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
لغات القرآن : الربع، چوتھائی۔ الثمن، آٹھواں حصہ۔ اخت، بہن۔ غیر مضآر، نقصان نہ پہنچائے۔
تشریح : (1) ” اولاد چھوڑنے میں “ سوتیلی اولاد شامل ہے۔ خواہ بیوی کے پہلے شوہر یا شوہروں سے یا میاں کی پہلے بیوی یا بیویوں سے ہو۔
(2) اگر شوہر چند بیویاں چھوڑ کر ماجائے تو ایک چوتھائی ترکہ ساری بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ اس صورت میں ہے اگر اولاد نہ چھوڑے۔
(3) اگر شوہر اولاد بھی چھوڑتا ہے اور چند بیویاں بھی (خواہ وہ اولاد یا اولادیں کسی ایک بیوی یا مختلف بیویوں سے ہوں) تو بیویوں کے درمیان کل ترکہ میں سے صرف آٹھواں حصہ 8/1 برابر تقسیم ہوگا۔
(4) یہاں آیت کریمہ میں اگرچہ ایک خاص حکمت کے تحت وصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھا حصہ ہے جبکہ بی بی کی اولاد نہ ہو، اور اگر اس شوہر یا اور شوہر سے اولاد ہو تو شوہر کا چوتھائی حصہ مال کا ہے۔ اس طرح شوہر کے مال میں بی بی کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ عورت کا مہر قرض میں داخل ہے۔ اب میاں بی بی کی میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کی میراث کا جو ذکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی اور بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہوں یا فقط باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[41] ایک بیوی ہو یا اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو چوتھائی یا آٹھواں حصہ ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔
[15] کلالہ اس کو کہتے ہیں جو بےاولاد اور جس کے والدین بھی نہ ہوں۔
[16] وارثان کلالہ کی تین صورتیں ہیں : (1) عینی یعنی سگے بھائی بہن، (2) اخیافی یعنی جو بھائی بہن میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں، (3) علاّتی یعنی سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ رکھتے ہوں۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت میں حکم صرف اخیافی بھائی بہنوں کے لئے ہے۔ رہی دوسری صورتیں تو ان کا حکم سورت کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے۔
[17] نہ عملاً نہ ارادۃً ۔ عملاً کی مثال یہ کہ وصیت ایک تہائی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
تقسیم حصص :
(ف 3) حضرت سعد ؓ شہید ہوئے تو ان کی دو بچیاں ‘ ایک بیوہ اور ایک بھائی زندہ تھے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا ، سعد ؓ کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آئیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انتظار کر ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” یوصیکم اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ تقسیم جائیداد بھی ایک اہم ضرورت دینی ہے اور وہ لوگ جو اس میں تساہل وتغافل برتتے ہیں ‘ یقینا اللہ کے ہاں مجرم ہیں ،
(آیت) ” للذکر مثل حظ الانثینین “ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ لڑکیاں تقسیم میراث کے سلسلہ میں اصل ومعیار کی حیثیت رکھتی ہیں ، زمانہ جاہلیت میں جس طرح عورتیں زندگی کے تمام لوازم سے محروم تھیں ، اسی طرح حق وراثت سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 1 اور تمہارے لئے اس مال میں سے جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں آدھا حصہ مقرر ہے۔ اگر ان بیویوں کی کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو خواہ تم سے یا کسی دوسرے شوہر سے تو پھر تم کو ان کے مال متروکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا لیکن انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنے کے بعد دیا جائے گا اور ان بیویوں کے لئے تمہارے اس مال میں سے جو تم چھوڑ مرو ایک چوتھائی حصہ مقرر ہے بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کوئی اولاد ہو خواہ ان موجودہ بیویوں سے یا کسی اور عورت سے تو پھر ان کو بجائے چوتھائی کے آٹھوں حصہ ملے گا لیکن اس وصیت کو پورا کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 1۔ احکام کو بیان کرکے آگے ان کے اعتقاد و عملا ماننے کی تاکید اور نہ ماننے پر وعید ارشاد فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →مرنے والی اگر بیوی ہو تو اس کے ترکہ میں میاں کا حصہ مقرر ہے :
33: اس حکم میں شوہر یعنی خاوند کی دو حالتوں کا بیان ہے۔ پہلی حالت یہ ہے کہ اگر زوجہ کا انتقال ہوا اور اس نے کوئی بیٹا ، بیٹی ، پوتا ، پوتی ، پڑپوتا ، پڑپوتی نیچے تک نہیں چھوڑا خواہ اس خاوند سے جس کے نکاح میں اس نے وفات پائی اور خواہ دوسرے خاوند سے جو موجود خاوند سے پہلے اگر ہو پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد دوسری جگہ اس نے نکاح کیا ہو اور اس پہلے خاوند سے بھی اس کی اولاد ہو تو اس کے اس موجودہ خاوند کو اس کے ترکہ میں سے 1/2 حصہ ملے گا۔
دوسری حالت یہ ہے کہ زوجہ کا انتقال ہو اور اس نے کوئی بیٹا ، پوتا ، پڑپوتا ، پڑپوتی نیچے تک میں…
Read the full tafseer →Upto this point, the text has described the shares of those competent to inherit, those who had the affinity of lineage and birth with the deceased. The present verse talks about some others who do have the competence but are not related by lineage. Instead, they are related by marriage. Details appear in the Commentary.
Commentary
The share of the husband and the wife
In this part of verse 12, the shares of the husband and the wife have been determined. The share of the husband has been mentioned first, perhaps to show its importance because after the death of the wife, the husband becomes…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
22. Whether a man has one wife or several wives the share of the wife/wives is one-eighth of the inheritance when the deceased has issue, and one-fourth when he has no issue. The share of the wives, whether one-fourth or one-eighth, will be distributed equally among them.
23. The remaining five-sixths or two-thirds of the inheritance goes to the legal heirs, if any. Where there are no legal heirs, the person concerned is entitled to make a bequest with regard to the remaining part of the inheritance. Commentators are agreed that the sisters and brothers mentioned here mean half-brothers and…
Read the full tafseer →