An-Nisaa 4:12

An-Nisaa · from ayah 12

4:12

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ— فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ— وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ— فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ— وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ— فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰی بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ ۙ— غَیْرَ مُضَآرٍّ ۚ— وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ ۟ؕوَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ‌ ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِى الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصٰى بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ ۙ غَيۡرَ مُضَآرٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَلِيۡمٌ ؕ‏

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And for you is half of what your wives leave if they have no child. But if they have a child, for you is one fourth of what they leave, after any bequest they [may have] made or debt. And for the wives is one fourth if you leave no child. But if you leave a child, then for them is an eighth of what you leave, after any bequest you [may have] made or debt. And if a man or woman leaves neither ascendants nor descendants but has a brother or a sister, then for each one of them is a sixth. But if they are more than two, they share a third, after any bequest which was made or debt, as long as there is no detriment [caused]. [This is] an ordinance from Allah, and Allah is Knowing and Forbearing.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 2 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:12

اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں ں نے کی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں اُن کا حصہ آٹھواں ہوگا، بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشر طیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اوﻻد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اوﻻد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں، اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے، بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو، اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ملے گا۔ اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد ان کو تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہونی ہے، ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں، نہ اولاد، اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہر ایک چھٹے حصے کا حق دار ہے۔ اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے، (مگر) جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمے جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت یا قرض کے اقرار کرنے سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب کچھ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو جس کے نہ ماں باپ ہوں نہ کوئی اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) ایک بھائی یا ایک بہن ہو (یعنی اخیافی بھائی یا بہن) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ تقسیم بھی) اس وصیت کے بعد (ہو گی) جو (وارثوں کو) نقصان پہنچائے بغیر کی گئی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد، یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے، اور اللہ خوب علم و حلم والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہارے لیے اس کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو انھوں نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں، یا قرض (کے بعد)۔ اور ان کے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے جو تم چھوڑ جاؤ، اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا، اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ، یا قرض (کے بعد)۔ اور اگر کوئی مرد، جس کا ورثہ لیا جا رہا ہے، ایسا ہے جس کا نہ ماں باپ ہو نہ اولاد، یا ایسی عورت ہے اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں حصے دار ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے، یا قرض (کے بعد) ، اس طرح کہ کسی کا نقصان نہ کیا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہاری بیویوں کی اگر اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ سے تمہارا نصف حصہ ہے اور اگر اولاد ہو تو پھر چوتھا حصہ ہے۔ اور یہ تقسیم ترکہ ان کی وصیت کی تعمیل اور ان کا قرضہ ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اور اگر اولاد ہو تو پھر آٹھواں حصہ ہے اور یہ تقسیم تمہاری وصیت کی تعمیل اور تمہارے قرضے کی ادائیگی کے بعد ہوگی۔ اگر میت کلالہ ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو اور اس کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی حصہ میں شریک ہوں گے اور یہ تقسیم میت کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضہ کی ادائیگی کے بعد ہوگی۔ بشرطیکہ اس کے قرضہ کی ادائیگی یا وصیت کی تعمیل میں کسی کو نقصان نہ پہنچ رہا ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے لیے اس ترکے کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں، اگر ان کے اولاد نہیں اور اگر ان کے اولاد تو ان کے ترکے میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے۔ بعد اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کرجائیں۔ اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے کا، اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے بعد جو تم کر جاؤ۔ اور اکگر کسی مرد یا عورت کی واراثت اس حال میں تقسیم ہو کہ نہ اس کے اصول میں کوئی ہو، نہ فروع میں، اور ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹٓ حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد، بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔ یہ اللہ کی طرف سے وصیت ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہیں اس مال کا آدھا ملے گا جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو پھر تمہیں اس مال کا ایک چوتھائی حصہ ملے گا، جو انہوں نے چھوڑا ہو، اس وصیت کے بعد جو انہوں نے کی ہو، یا قرض کے بعد (جو انہوں نے دینا ہو) اور ان کو ایک چوتھائی حصہ ملے گا اس ترکے میں سے جو تم چھوڑ جاؤ جب کہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، لیکن اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو پھر انکو تمہارے کل ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ، یا قرض کے بعد (جو تم نے دینا ہو) اور اگر میراث کسی ایسے مرد یا عورت کی ہو جس کا نہ باپ موجود ہو، نہ کوئی اولاد، مگر اس کا کوئی (اخیافی) بھائی یا بہن موجود ہو، تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، پھر اگر وہ بھائی بہن اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب (میراث کے) تیسرے حصے میں شریک ہوں گے، اس وصیت کے بعد جو کی گئی ہو، یا ایسے قرضے کے بعد جو اداء کرنا ہو، بغیر کسی کو نقصان پہنچانے کے، اور اللہ بڑا ہی علم والا، نہایت ہی حلیم ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لیے بیویوں کے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ وصیت (نکالنے) کے بعد جس کی وہ وصیت کرجائیں یا ادائے قرض کے بعد۔ اور ان (بیویوں) کے لئے تمہارے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو لیکن اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان (بیویوں) کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصے ملے گا۔ بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی تم وصیت کرجاؤ یا ادائے قرض کے بعد اور اگر کوئی مورث مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے اور اگر یہ لوگ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی وصیت کردی جائے یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کے نقصان پہنچائے۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا بردبار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہارا حصہ تمہاری بیویوں کے ترکے میں سے آدھا ہے اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس میں سے جو انہوں نے چھوڑا بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائیں یا بعد ادائے قرض کے اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے میں سے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کوئی شخص جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے کلالہ ہو یا عورت ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کو ضرر پہنچائے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا کمال حلم والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہاری بیویوں نے جو چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بےاولاد ہوں ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکے کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے، جب کہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو انہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بےاولاد ہو ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا، وصیت پوری کرنے کے بعد اور قرض جو تم نے چھوڑا ہو ادا کرنے کے بعد۔ اگر میت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے (شرط یہ ہے کہ) وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور برد بار ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And to you belongs half of whatever has been left behind by your wives if they die childless; but if they have any children then to you belongs a fourth of what they have left behind, after payment of the bequest they might have made or any debts outstanding against them. And to them belongs a fourth of what you leave behind, if you die childless; and if you have any child then to them belongs one-eighth of what you have left behind, after the payment of the bequest you might have made or any debts outstanding against you. And if the man or woman has no heir in the direct line, but has a brother or sister, then each of these shall inherit one-sixth; but if they are more than two, then they shall inherit one-third of the inheritance, after the payment of the bequest that might have been made or any debts outstanding against the deceased, providing that the bequest causes no injury. This is a commandment from Allah; Allah is All-Knowing, All-Forbearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For you there is one-half of what your wives leave behind, in case they have no child. But, if they have a child, you get one-fourth of what they leave, after (settling) the will they might have made, or a debt. For them (the wives) there is one-fourth of what you leave behind, in case you have no child. But, if you have a child, they get one eighth of what you leave, after (settling) the will you might have made, or a debt. And if a man or a woman is Kalalah (i.e. has neither parents alive, nor children) and has a brother or a sister, then each one of them will get one-sixth. However, if they are more than that, they will be sharers in one-third, after (settling) the will that might have been made, or a debt, provided that the will must not be intended to harm anyone. This is a direction from Allah. Allah is All-Knowing, Forbearing.

— Muhammad Taqi Usmani

For you there is one-half of what your wives leave behind, in case they have no child. But, if they have a child, you get one-fourth of what they leave, after (settling) the will they might have made, or a debt. For them (the wives) there is one-fourth of what you leave behind, in case you have no child. But, if you have a child, they get one eighth of what you leave, after (settling) the will you might have made, or a debt. And if a man or a woman is Kalalah (i.e. has neither parents alive, nor children) and has a brother or a sister, then each one of them will get one-sixth. However, if they are more than that, they will be sharers in one-third, after (settling) the will that might have been made, or a debt, provided that the will must not be intended to harm anyone. This is a direction from Allah. Allah is All-Knowing, Forbearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In that which your wives leave, your share is half if they have no child; but if they leave a child, you get a fourth of that which they leave after payment of legacies that they may have bequeathed or debts. In that which you leave, their (your wives) share is a fourth if you leave no child; but if you leave a child, they get an eighth of that which you leave after payment of legacies that you may have bequeathed or debts. If the man or woman whose inheritance is in Kalalah has left neither ascendants nor descendants, but has left a brother or a sister, each one of the two gets a sixth; but if more than two, they share in a third; after payment of legacies he (or she) may have bequeathed or debts, so that no loss is caused (to anyone). This is a Commandment from Allah; and Allah is Ever All-Knowing, Most Forbearing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto you belongeth a half of that which your wives leave, if they have no child; but if they have a child then unto you the fourth of that which they leave, after any legacy they may have bequeathed, or debt (they may have contracted, hath been paid). And unto them belongeth the fourth of that which ye leave if ye have no child, but if ye have a child then the eighth of that which ye leave, after any legacy ye may have bequeathed, or debt (ye may have contracted, hath been paid). And if a man or a woman have a distant heir (having left neither parent nor child), and he (or she) have a brother or a sister (only on the mother's side) then to each of them twain (the brother and the sister) the sixth, and if they be more than two, then they shall be sharers in the third, after any legacy that may have been bequeathed or debt (contracted) not injuring (the heirs by willing away more than a third of the heritage) hath been paid. A commandment from Allah. Allah is Knower, Indulgent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And for you is half of what your wives leave if they have no child. But if they have a child, for you is one fourth of what they leave, after any bequest they [may have] made or debt. And for the wives is one fourth if you leave no child. But if you leave a child, then for them is an eighth of what you leave, after any bequest you [may have] made or debt. And if a man or woman leaves neither ascendants nor descendants but has a brother or a sister, then for each one of them is a sixth. But if they are more than two, they share a third, after any bequest which was made or debt, as long as there is no detriment [caused]. [This is] an ordinance from Allah, and Allah is Knowing and Forbearing.

— Saheeh International

If your wives die without any surviving children, you will inherit half of their legacy. If they have children, you will inherit one-fourth of their legacy after the debts and things bequeathed have been excluded from the legacy. After the payment of debts and things bequeathed have been excluded from the legacy, your wives will inherit one-fourth of your legacy if you have no surviving children. If you leave a child, they will inherit one eighth of your legacy. If the deceased, either male or female, has no surviving heirs such as parents or children but has a brother or a sister, the brother or sister will each inherit one-sixth of the legacy. If there are more than just a brother or a sister, they will share one-third of the legacy. This is after the payment of any debts and things bequeathed have been excluded from the legacy, so that no one will be caused to suffer any loss. It is a guide from God, the All-knowing and Forbearing.

— Muhammad Sarwar

And you shall have half of what your wives leave if they have no child, but if they have a child, then you shall have a fourth of what they leave after (payment of) any bequest they may have bequeathed or a debt; and they shall have the fourth of what you leave if you have no child, but if you have a child then they shall have the eighth of what you leave after (payment of) a bequest you may have bequeathed or a debt; and if a man or a woman leaves property to be inherited by neither parents nor offspring, and he (or she) has a brother or a sister, then each of them two shall have the sixth, but if they are more than that, they shall be sharers in the third after (payment of) any bequest that may have been bequeathed or a debt that does not harm (others); this is an ordinance from Allah: and Allah is Knowing, Forbearing.

— Muhammad Habib Shakir

And ye will have half of that which your wives may leave, if they have no Child, but if they have a child then ye shall have one- fourth of that which they may leave, after paying a bequest they may have bequeathed or a debt. And they shall have one-fourth of that which ye may leaves if ye have no child; but if ye have a child then they will have one-eighth of that which ye may leave, after paying a bequest ye may have bequeathed or a debt. And if a man or a woman who leaveth the heritage hath no direct heirs but hath a brother or a sister, each of the twain will have a sixth; and if more than one, then they will have equal shares in one third after paying a bequest they may have bequeathed or a debt without prejudice: an ordinance this from Allah; and Allah Is Knowing, Forbearing.

— Abdul Majid Daryabadi

In what your wives leave, your share is a half, if they leave no child; but if they leave a child, ye get a fourth; after payment of legacies and debts. In what ye leave, their share is a fourth, if ye leave no child; but if ye leave a child, they get an eighth; after payment of legacies and debts. If the man or woman whose inheritance is in question, has left neither ascendants nor descendants, but has left a brother or a sister, each one of the two gets a sixth; but if more than two, they share in a third; after payment of legacies and debts; so that no loss is caused (to any one). Thus is it ordained by Allah; and Allah is All-knowing, Most Forbearing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

وراثت کی مزید تفصیلات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے اور اگر ان کے بال بچے ہوں تو تمہیں چوتھائی ملے گا، وصیت اور قرض کے بعد۔ ترتیب اس طرح ہے پہلے قرض ادا کیا جائے پھر وصیت پوری کی جائے پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹیوں کی ہی طرح ہیں بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے گا۔ پھر عورتوں کو حصہ بتایا کہ انہیں یا چوتھائی ملے گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے والے خاوند کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–13

سورة النِّسَآء 22 یعنی خواہ ایک بیوی ہو یا کئی بیویاں ہوں، اولاد ہونے کی صورت میں وہ 1/8 کی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں 1/4 کی حصہ دار ہوں گی اور یہ 1/4 یا 1/8 سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ سورة النِّسَآء 23 باقی 5/6 یا 2/3 جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی اور وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا، ورنہ اس پوری باقی ماندہ ملکیت کے متعلق اس شخص کو وصیت کرنے کا حق ہوگا۔ اس آیت کے متعلق مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں بھائی اور بہنوں سے مراد اخیافی بھائی اور بہن ہیں یعنی جو میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں اور باپ ان کا دوسرا ہو۔ رہے سگے بھائی بہن، اور وہ سوتیلے بھائی بہن جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ربط آیات یہاں تک ان مستحقین میراث کے حصص کا بیان تھا جن کا میت کے ساتھ نسب اور ولادت کا رشتہ تھا، مذکورہ آیت میں بعض دوسرے مستحقین کا ذکر ہے اور میت سے ان کا رشتہ نسب کا نہیں، بلکہ ازدواج کا ہے، جس کا بیان یہ ہے اور تم کو آدھا ملے گا اس ترکہ کا جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جاویں، اگر ان کے کچھ اولاد نہ ہو، (نہ مذکر نہ مونث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو (خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے) تو (اس صورت میں) تم کو ان کے ترکہ سے ایک چوتھائی ملے گا (یہ کل دو صورتیں ہوئیں اور دونوں صورتوں میں بقیہ دوسرے ورثاء کو ملے گا، لیکن ہر صورت میں یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–14

تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔ وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–14

12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔ 12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر) 12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

13: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کردے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹ اقرار کرلے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہوسکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔ ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔ نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 اب زوجین کی میراث کو بیان فرمایا جاتا ہے کہ مرد کو اس کی عورت کے مال میں سے آدھا مال ملے گا اگر عورت کے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر عورت کے اولاد ہے خواہ ایک ہی بیٹا یا بیٹی ہو اور اسی مرد سے ہو یا دوسرے مرد سے تو مرد کو عورت کے مال میں سے ایک چوتھائی مال ملے گا قرض اور وصیت کے بعد۔ 1 اور اسی طرح عورت کو اس کے خاوند کے مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اگر مرد کی اولاد کچھ نہ ہو اور اگر مرد کے اولاد ہے خواہ اسی عورت سے یا دوسری عورت سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا خاوند کے اس مال میں سے جو وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بچے گا مال کی ہر قسم میں سے نقد ہو یا جنس، سلاح ہو یا زیور حویلی ہو یا باغ، باقی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–14

آیت 12 وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ ج۔ بیوی فوت ہوگئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہوجائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ ِ فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

23 میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔ بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو 4/1 ملے گا۔ اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو 4/1 ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو 4/1 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیوی یا بیویوں کو 8/1 ملے گا۔ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔ (یہ زوجین کے حصے ہوئے) 24 کلالہ کی میراث :۔ کَلالۃ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں۔ خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت وہ کلالہ ہے البتہ اس کے بہن بھائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39 ۔ (نہ تم سے نہ کسی اور شوہر سے) ظاہر ہے کہ اتنے جزء میں خطاب شوہروں سے ہے۔ 40 ۔ (اور بقیہ 43 دوسرے وارثوں کا حصہ ہے) بیوی کے ترکہ میں 4 1 حصہ شوہر کا ہر صورت میں ہے، خواہ بیوی کوئی اولاد چھوڑے یا نہ چھوڑے، (آیت) ” ان کان لھن ولد “۔ یہ اولاد خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے۔ 41 ۔ حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ میراث کی تقسیم ہر حال میں اجرائے وصیت اور ادائے قرض کے بعد ہی ہوگی اور ان دونوں میں بھی ادائے قرض مقدم ہے۔ 42 ۔ اور بیویاں اگر کئی ہوں تو شوہر کے ترکہ کی وہی چوتھائی سب میں برابر تقسیم ہوجائے گی۔ 43 ۔ (اور شوہر کے ترکہ کا بقیہ 87 دوسرے وارثوں کی طرف جائے گا) بیویوں کو 8 1 بہر صورت ملے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

وَلَکُمْ نِصْفُ مَ اتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (الآیۃ) سابقہ آیت میں نسبی رشتہ داروں کے حصوں کا بیان تھا۔ اس آیت میں دیگر مستحقین کا ذکر ہے جن کا میت سے نسبی تعلق نہیں ہے بلکہ زوجیت کا رشتہ ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہوتے ہیں اس پر امت کا اجماع ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کو بعد ادائے دین اور انفاذ و صیت مرحومہ کے کل مال کا نصف ملے گا، اور باقی نصف میں دوسرے ورثاء مثلاً مرحومہ کے والدین، بھائی، بہن حسب قاعدہ حصہ پائیں گے، اور اگر مرحومہ نے اولاد چھوڑی ہو اس شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے ہو تو موجودہ شوہر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولکم نصف ما ترک ازواجکم ازواج سے مراد ہیں بیویاں۔ ان لکم یکن لھن ولدہ تمہارا موروثی حصہ اپنی بیویوں کے ترکہ میں سے (کل ترکہ کا) نصف ہے بشرطیکہ ان کی (بطنی) اولاد (صاحب فرض اور عصبہ موجود) نہ ہو (یعنی اولاد یا اولاد کی اولاد غرض نسل میں سے کوئی موجود نہ ہو) فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن اور اگر ان کی (نسلی ذوی الفرضی یا عصبہ) اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارا چہارم ہے۔ من بعد وصیۃ یوصین بھا او دین ان کی وصیت (تہائی مال سے) پوری کرنے اور (کل مال سے) قرض ادا کرنے کے بعد۔ و لھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولدہ اور (بیویاں چند ہوں یا ایک ان سب کیلئے تمہارے ترکہ کا چہارم ہے اگر تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) اور اگر تمہاری بیبیوں کے کسی قسم کی کوئی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ میں سے تم کو آدھا ملے گا۔ اور اگر ان کے کچھ اولاد ہو خواہ تم میں سے ہو یا کسی اور سے لڑکا ہو یا لڑکی تو پھر ترکہ میں سے تم کو چوتھائی ملے گا اور یہ تقسیم بھی میت کے قرض ادائیگی اور تہائی مال وصیت کے نافذ کردینے کے بعد ہوگی۔ اور ان کو واثت میں سے چوتھائی ملے گا اگر تمہارے کوئی اولاد نہیں ہوگی اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو خواہ ان ہی سے ہو یا کسی اور سے لڑکے ہوں یا لڑکی تو ان کو ترکہ میں سے تمہارے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نافذ کرنے کے بعد آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر کوئی میت خواہ وہ مرد ہو یا عورت ایسی ہو کہ جس کے نہ اصول…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمہیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمہیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمہارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمہاری اولاد یا اولاد کی اولاد ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–14

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (النساء : 135) اور ” اولی بھما “۔ جائز ہے، یہ فراء وغیرہ سے مروی ہے۔ اور امرأۃ کے لیے مراۃ بھی کہا جاتا ہے یہ اس کی اصل ہے اخ کی اصل اخو ہے اس پر دلیل اخوان ہے، اخ سے واؤ کو حذف کیا گیا اور بغیر قیاس کے اس میں یہ تبدیلی کی گئی، فراء نے کہا : اخت کے ہمزہ کو ضمہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے واؤ کو حذف کیا گیا ہے اور بنت کے پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یاء حذف کی گئی ہے اور یہ حذف اور تعلیل غیر قیاسی ہے۔ مسئلہ نمبر : (30) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کانوا اکثر من ذلک فھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولکم نصف ما ترک ازواجکم “ یعنی مرد کے لیے آدھا ہے جو اس کی بیوی نے ترکہ چھوڑا ہو مرنے کے بعد اگر اس کی اولاد نہ ہو اسی خاوند سے اور نہ کسی اور خاوند سے اور اگر اس عورت کا لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو خاوند کے لئے چوتھائی ہے جو وہ چھوڑ جائے مگر وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد اور قرضہ وصیت سے پہلے ادا کیا جائے گا ” ولہن الربع “ اور خاوند کی اولاد نہ ہو اس عورت سے نہ ہی کسی اور عورت سے اور اگر خاوند کی اولاد ہے لڑکا ہے یا لڑکی ہے تو اس عورت کے لیے آٹھواں حصہ ہے اس مال میں جو خاوند چھوڑ گیا اور اگر مرد یا عورت کلالہ ہو اور کلالہ وہ میت ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(وَلَــکُمْ : اور تمہارے لیے ) (نِصْفُ مَا : اس کا آدھا ہے جو ) (تَرَکَ : چھوڑا) (اَزْوَاجُکُمْ : تمہاری بیویوں نے) (اِنْ : اگر) (لَّــمْ یَکُنْ : نہ ہو ) (لَّـہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (کَانَ : ہو ) (لَہُنَّ : ان کا ) (وَلَــدٌ : کوئی بچہ ) (فَـلَـکُمُ : تو تمہارے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو ) (تَرَکْنَ : انہوں نے چھوڑا) (مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ : اس وصیت کے بعد) (یُّوْصِیْنَ : انہوں نے وصیت کی ) (بِہَـآ : جس کی ) (اَوْ دَیْنٍ : یا کسی قرضے کے بعد ) (وَلَہُنَّ : اور ان کے لیے ) (الرُّبُعُ مِمَّا : اس میں سے چوتھائی حصہ ہے جو)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میراث میں شوہر اور بیوی کا حصہ اس آیت میں شوہر اور بیوی کا حصہ میراث بیان فرمایا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے : (1) اگر بیوی فوت ہوجائے تو اس کے کل متروکہ اموال و املاک سے شوہر کو آدھا مال ملے گا، بشرطیکہ اس نے کوئی اولادنہ چھوڑی ہو نہ کوئی لڑکا ہو اور نہ کوئی لڑکی نہ ایک اور نہ ایک سے زیادہ، نہ اس شوہر سے اور نہ کسی پہلے شوہر سے۔ (2) اگر عورت فوت ہوجائے اور اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہو خواہ ایک لڑکا یا لڑکی ہی ہو موجودہ شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے تو جس شوہر کی زوجیت میں ہوتے ہوئے فوت ہوئی ہے اس شوہر کو اس عورت کے متروکہ مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اور دونوں صورتوں میں یہ حصہ ادائے دین اور نفاذ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14 پہلی چھ صورتیں ذوی الفروض نسبیہ کی تھیں اب آگے ذوی الفروض سببیہ یعنی خاوند بیوی کے حصوں کا بیان ہے۔ ساتویں صورت۔ اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کے ترکہ سے خاوند کو نصف ملیگا۔ باقی دوسرے ورثاء ہیں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ آٹھویں صورت فَاِن ْکَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ الخ یعنی اگر بیوی فوت ہوجائے اور اس کے اولاد ہو خواہ موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں بیوی کے ترکہ سے چوتھا حصہ خاوند کا ہوگا۔ اور باقی دیگر ورثاء کا ہوگا۔ نویں صورت۔ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ۔ اور اگر خاوند…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

زوجین کا حصہ نسب کے اعتبار سے وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے دوسرے سبب نکاح کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس اعتبار سے بیوی اور خاوند کے حصے مقررفرمائے ہیں۔ زوجین میں تقسیم وراثت کے لیے دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت یا تو مرنے والے کے زوج کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی یا اولاد بھی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے حصے کی مقدار مختلف ہوگی ارشاد ہے ولکم نصف ماترک ازوجکم ان لم یکن لھن ولد اگر تمہاری بیوی کی وفات کے وقت اس کی اولاد نہیں ہے تو اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے تمہارا نصف حصہ ہے۔ فان کان لھن ولد اور اگر بیوی اولاد بھی چھوڑ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ۝ 0 ۚ فَاِنْ كَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّۃٍ يُّوْصِيْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ۝ 0 ۭ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ۝ 0 ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ۝ 0 ۭ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ وَّلَہٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ۝ 0 ۚ فَاِنْ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَھُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–14

3 ؎ کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے نہ فروع ہوں یعنی کوئی اولاد نہ ہو نہ اصول ہوں ماں باپ دادا وغیرہ 12 منہ : کلالتہ کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل سے مشتق ہے جس کے معنی بار کے ہیں۔ ایسی قرابت بعیدہ جو نہ اصول سے تعلق رکھے نہ فروع سے ایک طرح کی بار ہوتی ہے۔ پھر کلالہ کون ہے ؟ بعض کہتے ہیں وہ میت ہے کہ جس کے بعد اس کے وارثوں میں سے نہ اس کے اصول ماں باپ موجود ہوں نہ فروع اولاد ہو بلکہ اور لوگ ہوں بھائی اور ان کی اولاد وغیرہ ان کی نسبت یہ بلحاظ پرورش کے ایک بار سمجھا جاتا ہے۔ ابوبکر عمر علی اور جمہور صحابہ ؓ اور اہل لغت و اہل حرمین کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں میت کے ایسے وارث جو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَکُمْ نِصْفُ مَاتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَـکُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ ج فَاِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَـکُمُ الرُّبُعُ مِمَّاتَرَکْنَ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِھَـآ اَوْدَیْنٍ ط وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّـکُمْ وَلَـدٌ ج فَاِنْ کَانَ لَـکُمْ وَلَـدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَـآ اَوْدَیْنِ ط (اور تمہارے لیے اس ترکہ کا نصف ہے، جو تمہاری بیویاں چھوڑیں اگر ان کے اولاد نہیں ہے اور اگر ان کے اولاد ہے تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے، بعد اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کر جائیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–12

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ اس آیت کا شان نزول حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی محترم ﷺ کے ساتھ ہمارا گزر ایک بازار میں ہوا۔ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ثابت بن قیس ؓ کی بچیاں ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا چچا ان کی میراث پر قبضہ کرچکا ہے اب ان کے لیے کچھ باقی نہیں بچا۔ اس معاملہ میں آپ کیا حکم صادر فرماتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اگر وراثت واپس نہ ہوئی تو ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی شخص نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نازل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 12 : وَلَـکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (تمہارے لئے نصف ہے جو چھوڑا تمہاری بیویوں نے) اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان کی اولاد مذکر یا مؤنث نہ ہو) فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو تو) اگر ان کی تم میں سے اولاد ہو یا اور کسی خاوند سے ہو۔ میاں بیوی کی وراثت : فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْدَیْنٍ ۔ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ( اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(ازواج کی میراث) (تفسیر) 12۔: (آیت)” ولکم نصف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا اودین “۔ یہ ازواج (بیویاں) کی میراث کا بیان ہے ” ولھن الربع “۔ ان کو ربع ملے گا (آیت)” مما ترکتم ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ اودین “۔ یہ بیویوں کی میرث کا بیان ہے اگر ایک شخص کی ایک بیوی ہو یا اس سے زائد چار تک تو ان کو ربع یا ثمن ملے گا ، (آیت)” وان کان رجل یورث کلالۃ اوامراۃ “۔ جو شخص اکیلا ہو اس کی صرف بیوی ہو ، کوئی اولاد وغیرہ نہ ہو تو اس صورت میں یہ شخص کلالہ کہلائے گا ، ” کلالۃ “ منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ ہے بعض نے کہا کہ فاعل ” مالم یسم “۔ فاعلہ ہے، تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” ان کان رجل یورث مالہ کا لۃ “۔ (کلالہ کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھے مال کا حصہ ہے جب کہ بی بی کے اولاد نہ ہو اور اگر اس شوہر یا شوہر کے کوئی اولاد نہ ہو تو اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اب میاں بی بی کے میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کے میراث کا جو ذکر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی بہن کو کچھ نہیں ملتا جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہو یا فقظ باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کو دوہرا اور اکہرا ہے۔ لیکن ان کے حصہ کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے بلکہ اس آیت میں فقظ ان بھائی بہن کے حصہ کا ذکر ہے جو ماں میں شریک ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

آیت 11-12 وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت :۔ یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے ” میراث کے مقرر حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے “ ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہوگا، سوائے نانی کی ورثات کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ولھن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولدفان کان لکم ولدفلھن الثمن مماترکتم، اگر تم صاحب اولاد نہیں ہوتوتمھاری بیویوں کو تمھارے ترکے کا چوتھائی ملے گا۔ اور اگر تم صاحب اولاد ہوتوا نہیں تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ ) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ایک شخص کی چارہویاں ہوگی تو وہ آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی۔ اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر ماں باپ ہوں توشوہر اور بیوی کے ہوتے ہوئے انہیں کتنا حصہ ملے گا۔ حضرت علی ؓ حضرت عمر ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان ؓ اور حضرت زیدبن ثابت ؓ کا قول ہے کہ بیوی کو چوتھائی حصہ ماں کو باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

23 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو تمہاری اولادوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اولاد جو کہ انسان کو سب سے زیادہ محبوب اور پیاری ہوتی ہے، اور جس کے لئے وہ سب پاپڑ بیلتا، اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتا ہے، اس کے لئے بھی رب تعالیٰ اس کو اس طرح تاکیدی حکم دیتا ہے، تاکہ کہیں ان کی کوئی حق تلفی نہ ہوجائے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ہماری اولادوں پر ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے، جل جلالہ پس کتنے ظالم اور کس قدر ناشکرے ہیں وہ لوگ، جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

میاں بیوی کا حصہ، وصیت اور قرض تشریح : اس آیت میں میاں بیوی کی میراث کو بیان کیا گیا ہے حکم ہے کہ خاوند کو بیوی کے ترکہ میں سے آدھا ملے گا اس صورت میں کہ بیوی کی کوئی بھی اولاد نہ ہو۔ لیکن اگر بیوی کی کوئی بھی اولاد ہو موجودہ خاوند سے یا پہلے خاوند سے تو اس صورت میں مرد کو ترکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا۔ یہ ضروری ہے کہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے میت کا قرض ادا کردیا جائے اور وصیت پوری کردی جائے۔ اسی طرح عورت کو خاوند کے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ملے گا جب کہ مرد کی کوئی اولاد نہ ہو۔ لیکن اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ ملے گا۔ یہاں بھی ضروری ہے کہ پہلے قرض اور وصیت پوری کردی جائے۔ عورت کا مہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–12

رکوع نمبر 2 اسرار و معارف آیات 11 تا 12: میراث کی تقسیم : اللہ کریم نے مرنے والے کے مال میں سب حقداروں کا حصہ مقرر فرما دیا جس کا قاعدہ یہ ہے کہ پہلے اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا جائے جو نہ کنجوسی سے ہو نہ اس میں فضول خرچی کی جائے اور پھر اس کے قرض کو ادا کیا جائے جو سب سے ضروری ہے اگر مال نہ بچے تو کوئی وراثت نہیں اگر بچ جائے تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی اگرچہ مرنے والے نے سب مال میں کردی ہو۔ جیسے یورپ میں مرنے والے انسانوں کو تو محروم رکھتے ہیں اور کتوں بلیوں وغیرہ کے لیے سب مال کی وصیت چھوڑ کر مرتے ہیں اسلام ایسی کسی وصیت کو سرے سے قبول نہیں فرماتا نیز ورثا کو محروم کرنے کے ارادے سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یہ بیوی کی ایک حالت ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں پوتوں کا بھی یہی حکم ہے اس پر علما کا اجماع ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 1 ی دوسری حالت ہے پھر بیوی ایک ہو یا ایک سے زیادہ سب چوتھائی یا آٹھوین حصہ میں شریک ہوں گی، اس پر علما کا اجماع ہے۔ قرطبی۔ ابن کثیر)2 کوئی مرد یا عورت مرجائے اور اس کا باپ اور اولاد نہ ہو تو اس کے ورثہ کو کلا لہ کہا جاتا ہے۔ کلالہ کی یہی تشریح حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے اور اسی کو جمہور اہل علم نے قبول کیا ہے بعض ایسی میت کو بھی کلالہ کہتے ہیں۔ (قرطبی، شوکانی) بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں۔ عینی یعنی یک ماں باپ سے علاتی یعنی باپ کی طرف اخیافی یعنی صرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

غیر مضار۔ جو نقصان دہ نہ ہو۔ یعنی ایسی وصیت۔ یا قرض نہ ہو جو محض وارثوں کو نقصان پہنچانے کی خاطر عائد کیا گیا ہو۔ مضار۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں مضارر (ضرر سے بروزن مفاعل) سے ہے۔ وصیۃ من اللہ۔ (وراثت کے متعلق) یہ ہے حکم اللہ کا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 12 لغات القرآن : الربع، چوتھائی۔ الثمن، آٹھواں حصہ۔ اخت، بہن۔ غیر مضآر، نقصان نہ پہنچائے۔ تشریح : (1) ” اولاد چھوڑنے میں “ سوتیلی اولاد شامل ہے۔ خواہ بیوی کے پہلے شوہر یا شوہروں سے یا میاں کی پہلے بیوی یا بیویوں سے ہو۔ (2) اگر شوہر چند بیویاں چھوڑ کر ماجائے تو ایک چوتھائی ترکہ ساری بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ اس صورت میں ہے اگر اولاد نہ چھوڑے۔ (3) اگر شوہر اولاد بھی چھوڑتا ہے اور چند بیویاں بھی (خواہ وہ اولاد یا اولادیں کسی ایک بیوی یا مختلف بیویوں سے ہوں) تو بیویوں کے درمیان کل ترکہ میں سے صرف آٹھواں حصہ 8/1 برابر تقسیم ہوگا۔ (4) یہاں آیت کریمہ میں اگرچہ ایک خاص حکمت کے تحت وصیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھا حصہ ہے جبکہ بی بی کی اولاد نہ ہو، اور اگر اس شوہر یا اور شوہر سے اولاد ہو تو شوہر کا چوتھائی حصہ مال کا ہے۔ اس طرح شوہر کے مال میں بی بی کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ عورت کا مہر قرض میں داخل ہے۔ اب میاں بی بی کی میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کی میراث کا جو ذکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی اور بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہوں یا فقط باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–13

[41] ایک بیوی ہو یا اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو چوتھائی یا آٹھواں حصہ ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ [15] کلالہ اس کو کہتے ہیں جو بےاولاد اور جس کے والدین بھی نہ ہوں۔ [16] وارثان کلالہ کی تین صورتیں ہیں : (1) عینی یعنی سگے بھائی بہن، (2) اخیافی یعنی جو بھائی بہن میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں، (3) علاّتی یعنی سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ رکھتے ہوں۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت میں حکم صرف اخیافی بھائی بہنوں کے لئے ہے۔ رہی دوسری صورتیں تو ان کا حکم سورت کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے۔ [17] نہ عملاً نہ ارادۃً ۔ عملاً کی مثال یہ کہ وصیت ایک تہائی سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

تقسیم حصص : (ف 3) حضرت سعد ؓ شہید ہوئے تو ان کی دو بچیاں ‘ ایک بیوہ اور ایک بھائی زندہ تھے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا ، سعد ؓ کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آئیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انتظار کر ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ تقسیم جائیداد بھی ایک اہم ضرورت دینی ہے اور وہ لوگ جو اس میں تساہل وتغافل برتتے ہیں ‘ یقینا اللہ کے ہاں مجرم ہیں ، (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثینین “ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ لڑکیاں تقسیم میراث کے سلسلہ میں اصل ومعیار کی حیثیت رکھتی ہیں ، زمانہ جاہلیت میں جس طرح عورتیں زندگی کے تمام لوازم سے محروم تھیں ، اسی طرح حق وراثت سے بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 12–13

ف 1 اور تمہارے لئے اس مال میں سے جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں آدھا حصہ مقرر ہے۔ اگر ان بیویوں کی کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو خواہ تم سے یا کسی دوسرے شوہر سے تو پھر تم کو ان کے مال متروکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا لیکن انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنے کے بعد دیا جائے گا اور ان بیویوں کے لئے تمہارے اس مال میں سے جو تم چھوڑ مرو ایک چوتھائی حصہ مقرر ہے بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کوئی اولاد ہو خواہ ان موجودہ بیویوں سے یا کسی اور عورت سے تو پھر ان کو بجائے چوتھائی کے آٹھوں حصہ ملے گا لیکن اس وصیت کو پورا کرنے کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

ف 1۔ احکام کو بیان کرکے آگے ان کے اعتقاد و عملا ماننے کی تاکید اور نہ ماننے پر وعید ارشاد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مرنے والی اگر بیوی ہو تو اس کے ترکہ میں میاں کا حصہ مقرر ہے : 33: اس حکم میں شوہر یعنی خاوند کی دو حالتوں کا بیان ہے۔ پہلی حالت یہ ہے کہ اگر زوجہ کا انتقال ہوا اور اس نے کوئی بیٹا ، بیٹی ، پوتا ، پوتی ، پڑپوتا ، پڑپوتی نیچے تک نہیں چھوڑا خواہ اس خاوند سے جس کے نکاح میں اس نے وفات پائی اور خواہ دوسرے خاوند سے جو موجود خاوند سے پہلے اگر ہو پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد دوسری جگہ اس نے نکاح کیا ہو اور اس پہلے خاوند سے بھی اس کی اولاد ہو تو اس کے اس موجودہ خاوند کو اس کے ترکہ میں سے 1/2 حصہ ملے گا۔ دوسری حالت یہ ہے کہ زوجہ کا انتقال ہو اور اس نے کوئی بیٹا ، پوتا ، پڑپوتا ، پڑپوتی نیچے تک میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Upto this point, the text has described the shares of those competent to inherit, those who had the affinity of lineage and birth with the deceased. The present verse talks about some others who do have the competence but are not related by lineage. Instead, they are related by marriage. Details appear in the Commentary. Commentary The share of the husband and the wife In this part of verse 12, the shares of the husband and the wife have been determined. The share of the husband has been mentioned first, perhaps to show its importance because after the death of the wife, the husband becomes…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

22. Whether a man has one wife or several wives the share of the wife/wives is one-eighth of the inheritance when the deceased has issue, and one-fourth when he has no issue. The share of the wives, whether one-fourth or one-eighth, will be distributed equally among them. 23. The remaining five-sixths or two-thirds of the inheritance goes to the legal heirs, if any. Where there are no legal heirs, the person concerned is entitled to make a bequest with regard to the remaining part of the inheritance. Commentators are agreed that the sisters and brothers mentioned here mean half-brothers and…

Read the full tafseer →