An-Nisaa 4:13

An-Nisaa · from ayah 13

4:13

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ؕ— وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ— وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۟تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

These are the limits [set by] Allah, and whoever obeys Allah and His Messenger will be admitted by Him to gardens [in Paradise] under which rivers flow, abiding eternally therein; and that is the great attainment.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 2 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:13

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی ہے بڑی کامیابی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے اسے وہ بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اللہ کی حدود ہیں۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور جو کوئی (صدق دل سے) فرمانبرداری کرے گا اللہ کی، اور اس کے رسول کی، تو اللہ اس کو داخل فرمائے گا (اپنے کرم سے) ایسی عظیم الشان جنتوں میں، جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، اور یہی ہے (حقیقی اور) بڑی کامیابی

— مولانا اسحاق مدنی

یہ سب خداوندی ضابطے ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی (پوری) اطاعت کرے گا اللہ اسے (بہشت کے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ داخل کرے گا اسے ان باغات میں جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ (تمام احکام) اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا جس میں نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

These are the bounds set by Allah. Allah will make the man who obeys Allah and His Messenger enter the Gardens beneath which rivers flow. He will abide there for ever. That is the mighty triumph.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are the limits set by Allah. Whoever obeys Allah and His Messenger, He will admit him to gardens beneath which rivers flow, where he will live forever. That is a great success.

— Muhammad Taqi Usmani

These are the limits set by Allah. Whoever obeys Allah and His Messenger, He will admit him to gardens beneath which rivers flow, where he will live forever. That is a great success.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are the limits (set by) Allah, and whosoever obeys Allah and His Messenger, will be admitted to Gardens under which rivers flow (in Paradise), to abide therein, and is the great success.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These are the limits (imposed by) Allah. Whoso obeyeth Allah and His messenger, He will make him enter Gardens underneath which rivers flow, where such will dwell for ever. That will be the great success.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These are the limits [set by] Allah, and whoever obeys Allah and His Messenger will be admitted by Him to gardens [in Paradise] under which rivers flow, abiding eternally therein; and that is the great attainment.

— Saheeh International

These are the laws of God. Whoever obeys God and His Messenger will be admitted to the gardens wherein streams flow and wherein they will live forever. This is the greatest triumph.

— Muhammad Sarwar

These are Allah's limits, and whoever obeys Allah and His Apostle, He will cause him to enter gardens beneath which rivers flow, to abide in them; and this is the great achievement.

— Muhammad Habib Shakir

These are the statutes of Allah, and whosoever obeyeth Allah and His apostle, him He shall cause to enter the Gardens whereunder rivers flow, as abiders therein; and that is an achievement mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Those are limits set by Allah: those who obey Allah and His Messenger will be admitted to Gardens with rivers flowing beneath, to abide therein (for ever) and that will be the supreme achievement.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–14

نافرمانوں کا حشر اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لئے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیگی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہ اور فریضہ الہ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–13

سورة النِّسَآء 22 یعنی خواہ ایک بیوی ہو یا کئی بیویاں ہوں، اولاد ہونے کی صورت میں وہ 1/8 کی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں 1/4 کی حصہ دار ہوں گی اور یہ 1/4 یا 1/8 سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ سورة النِّسَآء 23 باقی 5/6 یا 2/3 جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی اور وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا، ورنہ اس پوری باقی ماندہ ملکیت کے متعلق اس شخص کو وصیت کرنے کا حق ہوگا۔ اس آیت کے متعلق مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں بھائی اور بہنوں سے مراد اخیافی بھائی اور بہن ہیں یعنی جو میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں اور باپ ان کا دوسرا ہو۔ رہے سگے بھائی بہن، اور وہ سوتیلے بھائی بہن جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

خلاصہ تفسیر ربط آیات میراث کے مذکورہ احکام بیان کرنے کے بعد ان دو آیتوں میں ان احکام کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی فضیلت اور نافرمانی کرنے کی بری عاقبت کا بیان ہے، جس سے احکام مذکورہ کی اہمیت مقصود ہے۔ یہ سب احکام مذکورہ (متعلقہ میراث یا مع احکام یتامی کے) خداوندی ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ اور رسول کی پوری اطاعت کرے گا (یعنی ان ضابطوں کی پابندی کرے گا) اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بہشتوں میں (فوراً) داخل کردیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 11–14

تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔ وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–14

12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔ 12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر) 12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

13: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کردے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹ اقرار کرلے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہوسکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔ جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

5 یعنی تمام احکام مذکورہ سابقہ متعلق حقوق یتامی اور وصیت اور میراث اللہ کے مقرر فرمودہ ضابطے اور قاعدے ہیں۔ اور جو کوئی اطاعت کرے گا احکام الٰہی کی جن میں حکم وصیت و میراث بھی داخل ہے اس کے لئے ہمیشہ کو جنت ہے اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اور حدود خداوندی سے بالکل خارج ہوجائے گا۔ وہ ہمیشہ کو ذلت کے ساتھ عذاب جہنم میں گرفتار رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–14

آیت 12 وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ ج۔ بیوی فوت ہوگئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہوجائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ ِ فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

23 میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔ بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو 4/1 ملے گا۔ اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو 4/1 ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو 4/1 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیوی یا بیویوں کو 8/1 ملے گا۔ ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔ (یہ زوجین کے حصے ہوئے) 24 کلالہ کی میراث :۔ کَلالۃ وہ شخص ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں۔ خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت وہ کلالہ ہے البتہ اس کے بہن بھائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48 ۔ (جنہیں ہلکا سمجھنا خود اپنے کو خدائی عدالت میں مجرم بنانا ہے) (آیت) ” تلک “ کا اشارہ ان تمام احکام کی جانب ہے جو یتیموں اور وصیتوں اور ترکہ کے باب میں ابھی گزر چکے ہیں۔ اشارۃ الی الاحکام التی ذکرت فی باب الیتامی والوصایا والمواریث (مدارک) 49 ۔ اور یہ فوز عظیم جس اطاعت کا مل پر مشروط ہے اس کے اندر اس قانون میراث کی پابندی بھی آگئی۔ (آیت) ” یطع اللہ ورسولہ “۔ اللہ اور رسوک کی اطاعت سے مراد اس قانون کی پابندی ہے جو اللہ کا اتارا ہوا اور رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–13

وَلَکُمْ نِصْفُ مَ اتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (الآیۃ) سابقہ آیت میں نسبی رشتہ داروں کے حصوں کا بیان تھا۔ اس آیت میں دیگر مستحقین کا ذکر ہے جن کا میت سے نسبی تعلق نہیں ہے بلکہ زوجیت کا رشتہ ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہوتے ہیں اس پر امت کا اجماع ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کو بعد ادائے دین اور انفاذ و صیت مرحومہ کے کل مال کا نصف ملے گا، اور باقی نصف میں دوسرے ورثاء مثلاً مرحومہ کے والدین، بھائی، بہن حسب قاعدہ حصہ پائیں گے، اور اگر مرحومہ نے اولاد چھوڑی ہو اس شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے ہو تو موجودہ شوہر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تلک یہ یتیموں اور وصیتوں اور میراثوں کے تمام احکام۔ حدود اللہ اللہ کے قائم کئے ہوئے ضوابط ہیں ان کی حدود سے تجاوز کرنا جائز نہیں۔ و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا وذالک الفوز العٖظیم اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پوری کرے گا اللہ اس کو ایسی جنتوں میں لے جائے گا جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ہی بڑی کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) یہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرائض ہیں اب جو شخص ان ضابطوں کی پابندی کرے گا اس کے لیے اللہ کے ہاں جنت میں ایسے باغات ہیں، جہاں درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب طہور کی نہریں ہوں گی وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کردیں اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–14

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (النساء : 135) اور ” اولی بھما “۔ جائز ہے، یہ فراء وغیرہ سے مروی ہے۔ اور امرأۃ کے لیے مراۃ بھی کہا جاتا ہے یہ اس کی اصل ہے اخ کی اصل اخو ہے اس پر دلیل اخوان ہے، اخ سے واؤ کو حذف کیا گیا اور بغیر قیاس کے اس میں یہ تبدیلی کی گئی، فراء نے کہا : اخت کے ہمزہ کو ضمہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے واؤ کو حذف کیا گیا ہے اور بنت کے پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یاء حذف کی گئی ہے اور یہ حذف اور تعلیل غیر قیاسی ہے۔ مسئلہ نمبر : (30) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کانوا اکثر من ذلک فھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تلک حدود اللہ “ یعنی اللہ کی اطاعت یعنی میراث کے حصہ جو مقرر کئے گئے یہ اللہ کی حدود ہیں (اور) ” ویتعد حدود اللہ “ یعنی جو شخص اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں اور (اللہ تعالیٰ کے حکم کی) زیادتی کی جو اس کے لیے یہ سزا ہے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” تلک حدود اللہ “ یعنی سنۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کا حکم ہے میراث کی تقسیم میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن یطع اللہ ورسولہ “ یعنی میراث کو تقسیم کرے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (پھر فرمایا) ” ومن یعص اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ تِلْکَ : یہ ] [ حُدُوْدُ اللّٰہِ : اللہ کی حدیں ہیں ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّطِعِ : اطاعت کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَــہٗ : اور اس کے رسول کی ] [ یُدْخِلْہُ : تو وہ داخل کرے گا ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : نیچے سے جن کے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَا : جن میں ] [ وَذٰلِکَ : اور یہ ] [ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ : شاندار کامیابی ہے ] ترکیب :” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ شرط ہونے کی وجہ سے ” یُطِیْعُ “ کے بجائے مضارع مجزوم ” یُطِعْ “ آیا ہے۔ پھر اسے اگلے لفظ یعنی اللہ سے ملانے کے لیے قاعدے کے مطابق…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–14

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم اور نافرمانی پر و عید میراث کے حصے بیان فرمانے کے بعد احکام خداوند یہ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید فرماتے ہو ارشاد فرمایا کہ جو کچھ اوپر بیان ہوا یہ اللہ کی حدبندیاں ہیں خدائے پاک کے قانون کو توڑنا اور حدبندیوں سے آگے بڑھنا بغاوت ہے، اور قانون کی پاسداری کرنا اور اس کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ شانہٗ کی رضا مندی اور اس کے انعامات حاصل ہونے کا سبب ہے۔ فرمانبر داروں کے لیے باغ ہیں جو دارلنعیم میں ہوں گے ان میں ہمیشہ رہیں گے ان باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو لوگ حدود و قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ نافرمان ہیں، نافرمانوں کی سزا دوزخ کا عذاب ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

16 یہ بشارت اخروی ہے۔ احکام میراث جن کی آئے دن ضرورت رہتی ہے بیان کرنے کے بعد فرمایا یہ اللہ کی حدود اور اس کے مقررہ احکام ہیں جو اللہ کے رسول کی وساطت سے بندوں کو دئیے گئے ہیں جو ان احکام پر ایمان لائیگا اور ان پر عمل کریگا اس کے لیے آخرت میں جنات نعیم اور نعیم مقیم کی بشارت ہے۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور اس کے نافذ کردہ احکامِ میراث کو معطل کرتے اور ان کے مطابق وارثوں میں ترکہ تقسیم نہیں کرتے۔ عصیان سے یہاں عصیان کا کامل درجہ مراد ہے۔ یعنی جو شخص ان احکام پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

حدود اللہ کی پابندی وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا تلک حدود اللہ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدی ہیں۔ مثلاً وراثت ہی کے متعلق اللہ نے یہ حدیں مقرر کی ہیں کہ مرنے والے کے بعض اقرباذوی الفروض کہلاتے ہیں۔ اور وہ ایسے رشتہ دار ہیں جن کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقررفرمادیے ہیں۔ جیس آٹھواں ، چھٹا ، چوتھا ، دو تہائی ایک تہائی وغیرہ ان کا ذکر مختلف آیات میں آگیا ہے اس کے علاوہ دوسرے رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جو عصبہ کہلاتے ہیں ان میں بیٹا ، پوتا یا باپ دادا وغیرہ جن کا تعلق میت کے باپ کی طرف ہو۔ چچا یا اس کی اولاد بھی اسی میں آتے ہیں۔ ذوی الفروض کے بعد جو مال بچتا ہے وہ عصبہ میں تقسیم ہوتا ہے۔…………

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ۝ 0 ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا۝ 0 ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ 13 حدَّ الحدّ : الحاجز بين الشيئين الذي يمنع اختلاط أحدهما بالآخر، يقال : حَدَدْتُ كذا : جعلت له حدّا يميّز، وحَدُّ الدار : ما تتمیز به عن غيرها، وحَدُّ الشیء : الوصف المحیط بمعناه المميّز له عن غيره، وحَدُّ الزنا والخمر سمّي به لکونه مانعا لمتعاطيه من معاودة مثله، ومانعا لغیره أن يسلک مسلکه، قال اللہ تعالی: وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ [ الطلاق/ 1] ، وقال تعالی: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–14

3 ؎ کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے نہ فروع ہوں یعنی کوئی اولاد نہ ہو نہ اصول ہوں ماں باپ دادا وغیرہ 12 منہ : کلالتہ کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل سے مشتق ہے جس کے معنی بار کے ہیں۔ ایسی قرابت بعیدہ جو نہ اصول سے تعلق رکھے نہ فروع سے ایک طرح کی بار ہوتی ہے۔ پھر کلالہ کون ہے ؟ بعض کہتے ہیں وہ میت ہے کہ جس کے بعد اس کے وارثوں میں سے نہ اس کے اصول ماں باپ موجود ہوں نہ فروع اولاد ہو بلکہ اور لوگ ہوں بھائی اور ان کی اولاد وغیرہ ان کی نسبت یہ بلحاظ پرورش کے ایک بار سمجھا جاتا ہے۔ ابوبکر عمر علی اور جمہور صحابہ ؓ اور اہل لغت و اہل حرمین کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں میت کے ایسے وارث جو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ یُدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْـہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا ص وَلَـہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ ع (یہ اللہ کے ضابطے ہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ضابطوں کے حدود سے باہر نکل جائے گا اسے وہ دوزخ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے احکام کو اپنی حدود قرار دینے کے بعداسکے ماننے والوں کو جزا اور نہ ماننے والوں کو سزا سنائی ہے۔ ان آیات میں ماں باپ، اولاد اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے درمیان میّت کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیداد کی وراثت کے بارے میں اصول متعین کر کے انہیں میت کا وارث بنایا گیا۔ لیکن حدیث میں کچھ جرائم کے مرتکب افراد کو بعض حالتوں میں وراثت سے محروم کردیا گیا ہے۔ جن میں سر فہرست مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا یعنی ایک آدمی پہلے کافر تھا اب مسلمان ہوا لہٰذانئے دین میں شامل ہونے کی وجہ سے دوسرے دین کے حامل کا وارث نہیں ہوسکتا۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت نمبر 13 : تِلْکَ (یہ) اس کا مشارٌا لیہ وہ احکام ہیں جن کا تذکرہ باب الیتامی والوصا یا وا لمواریث میں ہوچکا۔ حُدُوْدُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں) ان کو حدود کہا۔ کیونکہ احکام شریعت حدود کی طرح ہیں۔ جو کہ مکلفین کے لئے لگائی گئیں۔ ان سے تجاوز ان کے لئے جائز نہیں ہے۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (جو اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 13۔: (آیت)” تلک حدود اللہ “۔ یہ میراث کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے یہ اللہ کی حدود ہیں ۔ (آیت)” ومن یطع اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ ذلک الفوز العظیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–14

(13 ۔ 14) ۔ لفظ تلک سے ان احکام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو شروع سورت سے یہاں تک نکاح یتیموں کے مال، میراث، اور وصیت کے باب میں گذرے ہیں اور ان احکام کا نام حدود اس لئے فرمایا ہے کہ ان کی پابندی اور ترک پابندی پر جنت کے وعدے اور دوزخ کے وعید وعید کو منحصر فرمایا ہے لیکن باوجود اس وعدہ اور وعید کے اس آخری زمانہ میں ان حدود اللہ کے اکثر لوگ پابند نہیں ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اپنے احکام کی پابندی کی توفیق عنایت فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

آیت 11-12 وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت :۔ یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے ” میراث کے مقرر حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے “ ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہوگا، سوائے نانی کی ورثات کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–14

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اے ابن آدم ! دوچیزیں ایسی ہیں جن میں سے کسی ایک پر بھی تجھے اختیار حاصل نہیں۔ ایک تو یہ کہ میں نے اس وقت تیرے مال تیرے لیے ایک حصہ رہنے دیا۔ جب میں نے تجھے پاک صاف کرنے کے لیے حلق میں تیری سانس کی آمدورفت کی جگہ کو اپنی گرفت میں کرلیا یعنی تیری روح قبض کرلی اور دوسری یہ کہ تیری وفات کے بعد میروں بندوں کی تیرے لیے دعائیں تجھ تک پہنچتی رہتی ہیں۔ ) اس روایت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ انسان کی وفات کے وقت اس کے مال کا ایک حصہ اس کا ہوتا ہے۔ سارامال اس کا نہیں ہوتا۔ یعنی وہ مال کے ایک حصے (تہائی) کا مالک ہوتا ہے جس میں وہ صدقہ یاوصیت کرسکتا ہے۔ سارے مال کا نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

23 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو تمہاری اولادوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اولاد جو کہ انسان کو سب سے زیادہ محبوب اور پیاری ہوتی ہے، اور جس کے لئے وہ سب پاپڑ بیلتا، اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتا ہے، اس کے لئے بھی رب تعالیٰ اس کو اس طرح تاکیدی حکم دیتا ہے، تاکہ کہیں ان کی کوئی حق تلفی نہ ہوجائے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ہماری اولادوں پر ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے، جل جلالہ پس کتنے ظالم اور کس قدر ناشکرے ہیں وہ لوگ، جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–14

اللہ کی حدود تشریح : وراثت کے کچھ اصول بیان کئے گئے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ احکامات اور قانون مسلم ملت کو بیشمار جھگڑوں، فساد اور بےسکونی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ تو صرف انسان کی بہتری کے لیے مقرر کئے گئے ہیں خود اللہ رب العزت کو تو اس میں کوئی فائدہ نہیں مگر ان آیات میں بہت سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے ان قوانین میں ردو بدل کرے گا تو اس کو رب العالمین جہنم کا عذاب ضرور دے گا اور یہ عذاب ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ جیسا کہ کئی دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ جہنم کا عذاب بڑا ہی شدید عذاب ہے۔ مگر ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے خوش خبری کا پیغام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–14

آیات 13 تا 14: تلک حدود اللہ۔۔ ولہ عذاب مھین۔ حدود اللہ کی اہمیت : یہ اللہ کریم کے احخام ہیں اور اس کی مقرر کردہ حدود ہیں اور اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی جنت کی ضمانت ہے جس کی نعمتوں کو کبھی زوال نہیں اور جس میں داخلے کے بعد کسی کو بھی کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا۔ لیکن خیال ضرور رہے کہ صرف نماز روزہ ہی اطاعت نہیں جیسے لوگ یہ تو کرلیتے ہیں مگر مال یا میراث تقسیم کرنا پڑے تو حیلے بہانے سے مال کھالیا جاتا ہے یاد رہے کہ یہ تقسیم میراث اور مختلف رشتوں کے حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور ان پر عمل ہی نجات کا راستہ ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کے خلاف جن لوگوں نے احکام الہی کی پرواہ نہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–15

ف 1 اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کے وراثت میں شریک قرار دیکر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا۔ اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزابیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انہیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں۔ یا اللہ تعالیٰ انکے بارے میں کوئی دو سری سزانازل فرمادے۔ اسلام زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورت نور جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی یہاں سبیلا سے اسی طرف اشارہ ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:13) یدخلہ۔ میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر حاضر من کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت نمبر 13 – 14 لغات القرآن : حدود اللہ، اللہ کی حدیں ہیں۔ الفوز العظیم، بڑی کامیابی۔ یعص، نافرمانی کرتا ہے۔ یتعد، وہ حد سے بڑھتا ہے۔ مھین، ذلت، (ذلت والا عذاب) تشریح : یہ حصے اس نے مقرر کئے ہیں جس کے پاس علم بھی ہے اور حکمت بھی۔ اس کی مصلحتوں اور دانش کو کون پہنچ سکتا ہے۔ اگر ان حدود کی پرواہ نہ کی جائے تو پھر یہ جنگل کی انار کی اور لاقانونیت ہوگی۔ کسب مال، صرف مال، اقتصادیات، معاشرت، کنبہ داری، حقوق، عزت اور الفت سب تہہ وبالا ہوجائیں گے۔ اس لئے ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت کرنے والوں کو عظیم انعامات کا یقین دلایا ہے اور بغاوت کرنے والوں کے لئے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ کسی مذہب نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھا حصہ ہے جبکہ بی بی کی اولاد نہ ہو، اور اگر اس شوہر یا اور شوہر سے اولاد ہو تو شوہر کا چوتھائی حصہ مال کا ہے۔ اس طرح شوہر کے مال میں بی بی کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ عورت کا مہر قرض میں داخل ہے۔ اب میاں بی بی کی میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کی میراث کا جو ذکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی اور بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہوں یا فقط باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–13

[41] ایک بیوی ہو یا اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو چوتھائی یا آٹھواں حصہ ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ [15] کلالہ اس کو کہتے ہیں جو بےاولاد اور جس کے والدین بھی نہ ہوں۔ [16] وارثان کلالہ کی تین صورتیں ہیں : (1) عینی یعنی سگے بھائی بہن، (2) اخیافی یعنی جو بھائی بہن میت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں، (3) علاّتی یعنی سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ رکھتے ہوں۔ مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت میں حکم صرف اخیافی بھائی بہنوں کے لئے ہے۔ رہی دوسری صورتیں تو ان کا حکم سورت کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے۔ [17] نہ عملاً نہ ارادۃً ۔ عملاً کی مثال یہ کہ وصیت ایک تہائی سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–14

(ف 1) ان آیات میں اللہ کے احکام ونواہی کو حدود سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان حدود سے تجاوز کرنا گناہ ہے اس لئے کہ یہ فرائض ومنکرات حق و باطل اور جنت و دوزخ کے درمیان بطور حدود کے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کا خیال رکھتے ہیں اور ہر لحظہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں ، وہ فوز عظیم پالیتے ہیں اور وہ جن کے خمیر میں معصیت وکبر سرشت ہے ، وہ انکار کردیتے ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ حل لغات : کللۃ : اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی اصل وفرع موجود نہ ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 12–13

ف 1 اور تمہارے لئے اس مال میں سے جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں آدھا حصہ مقرر ہے۔ اگر ان بیویوں کی کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو خواہ تم سے یا کسی دوسرے شوہر سے تو پھر تم کو ان کے مال متروکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا لیکن انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنے کے بعد دیا جائے گا اور ان بیویوں کے لئے تمہارے اس مال میں سے جو تم چھوڑ مرو ایک چوتھائی حصہ مقرر ہے بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کوئی اولاد ہو خواہ ان موجودہ بیویوں سے یا کسی اور عورت سے تو پھر ان کو بجائے چوتھائی کے آٹھوں حصہ ملے گا لیکن اس وصیت کو پورا کرنے کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

ف 1۔ احکام کو بیان کرکے آگے ان کے اعتقاد و عملا ماننے کی تاکید اور نہ ماننے پر وعید ارشاد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جدہ یعنی دادی اور نانی کی میراث کا حال : فائدہ نمبر 1: عربی میں دادی نانی دونوں کو جدہ کہتے ہیں اس لئے شریعت میں ان دونوں کی میراث کا حال بالکل یکساں اور دونوں کا ایک ہی حصہ ہے۔ فائدہ نمبر 2ــ: دادی سے صرف باپ کی ماں مراد نہیں۔ بلکہ دادا کی ماں اور دادی کی ماں (یعنی باپ کی نانی) اور پڑدادا کی ماں اور پڑدادی کی ماں وغیرہ کو بھی شرعاً دادی اور جدہ کہتے ہیں اور یہ سب ذوی الفروض میں داخل ہیں۔ اس وجہ سے ایک شخص کے کئی کئی دادیاں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص کے دادا کی مان (یعنی پڑدادی) بھی موجود ہو اور دادی کی مان بھی اور دادی کی نانی بھی زندہ ہو۔ اسی طرح کئی پشت تک سلسلہ چل سکتا ہے۔ اگر ہم چار پشت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

Commentary It is the consistent style of the Holy Qur'an that whenever it has described the beliefs and injunctions prescribed by Allah, it is followed by promises of reward or warnings of punishment. This is what has been done here in these two verses after mentioning the rules of inheritance. The purpose is to stress upon Muslims to obey these injunctions. SOME ADDITIONAL RULES OF INHERITANCE A Muslim cannot inherit from a Kafir Although, the distribution of inheritance is based on nearness of kinship, but there are certain exceptions to this rule. First of all, the deceased and his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

22. Whether a man has one wife or several wives the share of the wife/wives is one-eighth of the inheritance when the deceased has issue, and one-fourth when he has no issue. The share of the wives, whether one-fourth or one-eighth, will be distributed equally among them. 23. The remaining five-sixths or two-thirds of the inheritance goes to the legal heirs, if any. Where there are no legal heirs, the person concerned is entitled to make a bequest with regard to the remaining part of the inheritance. Commentators are agreed that the sisters and brothers mentioned here mean half-brothers and…

Read the full tafseer →