Explained with ayahs 13–14
نافرمانوں کا حشر
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لئے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیگی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہ اور فریضہ الہ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة النِّسَآء 25A
یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی۔ جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت کو تبدیل کریں، یا ان دوسری قانونی حدوں کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کردی ہیں۔ لیکن سخت افسوس ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہودیوں کی جسارت کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا۔ اس قانون وراثت کے معاملہ میں جو نافرمانیاں کی گئی ہیں وہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت کی حد تک پہنچتی ہیں۔ کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور محروم کیا گیا۔ کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھیرایا گیا، کہیں سرے سے تقسیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
میراث کے مذکورہ احکام بیان کرنے کے بعد ان دو آیتوں میں ان احکام کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی فضیلت اور نافرمانی کرنے کی بری عاقبت کا بیان ہے، جس سے احکام مذکورہ کی اہمیت مقصود ہے۔
یہ سب احکام مذکورہ (متعلقہ میراث یا مع احکام یتامی کے) خداوندی ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ اور رسول کی پوری اطاعت کرے گا (یعنی ان ضابطوں کی پابندی کرے گا) اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بہشتوں میں (فوراً) داخل کردیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔
وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
12۔ 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علماء کا اجماع ہے (فتح القدیر، ابن کثیر) اس طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وارث ہونے والی موجودہ بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کے وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے یا پہلے کسی خاوند سے۔
12۔ 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا اگر زیادہ ہونگی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا یہ بھی ایک اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر)
12۔ 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
13: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کردے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹ اقرار کرلے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہوسکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔
جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
5 یعنی تمام احکام مذکورہ سابقہ متعلق حقوق یتامی اور وصیت اور میراث اللہ کے مقرر فرمودہ ضابطے اور قاعدے ہیں۔ اور جو کوئی اطاعت کرے گا احکام الٰہی کی جن میں حکم وصیت و میراث بھی داخل ہے اس کے لئے ہمیشہ کو جنت ہے اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اور حدود خداوندی سے بالکل خارج ہوجائے گا۔ وہ ہمیشہ کو ذلت کے ساتھ عذاب جہنم میں گرفتار رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
آیت 12 وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ ج۔
بیوی فوت ہوگئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہوجائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ ِ
فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط
اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ…
Read the full tafseer →26 احکام کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے :۔ اگرچہ یہاں میراث کے احکام بیان ہو رہے ہیں مگر حکم عام ہے۔ خواہ احکام یتامیٰ کے حقوق کے متعلق ہوں یا عورتوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ وصیت سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی دوسرے ضابطے ہوں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کردی ہیں اگر ان سے کوئی تجاوز کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہے گا اور ربط مضمون کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اس قانون وراثت کو توڑے، عورتوں کو ورثہ سے محروم رکھے یا صرف بڑے بیٹے کو مستحق وراثت قرار دے یا عورت مرد کو برابر کا حصہ دار قرار دے یا جائیداد کو سرے سے تقسیم ہی نہ کرے اور اسے مشترکہ خاندانی جائیداد قرار دے دے تو ایسے سب…
Read the full tafseer →50 ۔ یہ عذاب دائمی بھی ہوگا اور معذب کے حق میں ذلت آفرین بھی، اس عذاب کے مورد کافر ہی ہوں گے۔ (آیت) ” یتعد حدودہ “۔ یعنی حد سے اس قدر باہر نکل جائے، کہ ان احکام کے احکام الہی ہونے ہی سے انکار کردے۔ الکافر ھو الذی تعدی الحدود کلھا (مدارک) ای یتعد حدودہ استحلالا (مدارک عن الکلبی) (آیت) ” ومن یعص اللہ “۔ میں معصیت سے مراد معصیت کفر وشرک ہے۔ فسر الضحاک ھنا المعصیۃ بالشرک وقال الکلبی ومن یعص اللہ یکفرہ (مدارک)
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ (الآیۃ) یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے اس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت کو تبدیل کریں یا ان دوسری قانونی حدود کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کردی ہیں، لیکن سخت افسوس ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہودیوں کی سی جسارت کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا اور اس کی حدود کو توڑا اس قسم کی جسارت خدا کے ساتھ کھلی بغاوت ہے، کہیں عورتوں کو مستقل طور پر میراث سے محروم کیا گیا کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق قرار دیا گیا، کہیں سرے سے تقسیم میراث کے…
Read the full tafseer →و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ ناراً خالدا فیھا و لہ عذاب مہین . اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا۔ (یعنی حکم کا انکار کرے گا) اور اسکے ضابطوں سے ہٹ جائے گا وہ اسکوآگ میں لے جائیگا جس میں وہ ہمیشہ رہیگا اور اس کو ذلت آفریں عذاب ہوگا۔
چونکہ لفظ مَن مفرد ہے اس لیے ہٗ ضمیر مفرد مذکر اور خالداً حال بصیغہ مفرد مذکر ذکر کیا لیکن معنی کے لحاظ سے من جمع ہے اس لییخالدِین حال بصیغہ جمع مذکر ذکر کیا۔ وا اللہ اعلم
حقیقی اور علاتی بہن بھائی کا ذکر اس سورت کے آخر میں آئے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ فرائض کے مسائل اس جگہ سیر حاصل طور پر بیان کردیں۔
مسئلہ عول
اگر اہل فرائض کے حصے ترکہ کے…
Read the full tafseer →(14) اور جو خیانت اور ظلم کرکے احکام خداوندی کی نافرمانی اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے اس کو جہنم میں رکھے گا اور وہاں عذاب کے ساتھ ساتھ ذلت بھی ہوگی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کردیں اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (النساء : 135)
اور ” اولی بھما “۔ جائز ہے، یہ فراء وغیرہ سے مروی ہے۔ اور امرأۃ کے لیے مراۃ بھی کہا جاتا ہے یہ اس کی اصل ہے اخ کی اصل اخو ہے اس پر دلیل اخوان ہے، اخ سے واؤ کو حذف کیا گیا اور بغیر قیاس کے اس میں یہ تبدیلی کی گئی، فراء نے کہا : اخت کے ہمزہ کو ضمہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے واؤ کو حذف کیا گیا ہے اور بنت کے پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے یاء حذف کی گئی ہے اور یہ حذف اور تعلیل غیر قیاسی ہے۔
مسئلہ نمبر : (30) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فان کانوا اکثر من ذلک فھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تلک حدود اللہ “ یعنی اللہ کی اطاعت یعنی میراث کے حصہ جو مقرر کئے گئے یہ اللہ کی حدود ہیں (اور) ” ویتعد حدود اللہ “ یعنی جو شخص اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں اور (اللہ تعالیٰ کے حکم کی) زیادتی کی جو اس کے لیے یہ سزا ہے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” تلک حدود اللہ “ یعنی سنۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کا حکم ہے میراث کی تقسیم میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن یطع اللہ ورسولہ “ یعنی میراث کو تقسیم کرے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (پھر فرمایا) ” ومن یعص اللہ…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّعْصِ : نافرمانی کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَرَسُوْلَــہٗ : اور اس کے رسول کی ] [ وَیَتَـعَدَّ : اور تجاوز کرے گا ] [ حُدُوْدَہٗ : اس کی حدوں سے ] [ یُدْخِلْہُ : تو وہ داخل کرے گا اس کو ] [ نَارًا : ایک ایسی آگ میں ] [ خَالِدًا : ہمیشہ رہنے والا ہے ] [ فِیْہَا : جس میں ] [ وَلَـہٗ : اور اس کے لیے ہی ] [ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ: ایک رسوا کرنے والا عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم اور نافرمانی پر و عید
میراث کے حصے بیان فرمانے کے بعد احکام خداوند یہ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید فرماتے ہو ارشاد فرمایا کہ جو کچھ اوپر بیان ہوا یہ اللہ کی حدبندیاں ہیں خدائے پاک کے قانون کو توڑنا اور حدبندیوں سے آگے بڑھنا بغاوت ہے، اور قانون کی پاسداری کرنا اور اس کی حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ شانہٗ کی رضا مندی اور اس کے انعامات حاصل ہونے کا سبب ہے۔ فرمانبر داروں کے لیے باغ ہیں جو دارلنعیم میں ہوں گے ان میں ہمیشہ رہیں گے ان باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو لوگ حدود و قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ نافرمان ہیں، نافرمانوں کی سزا دوزخ کا عذاب ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(قانون میراث) یعنی تفصیل حصص میراث۔
ربط) اوپر کی آیتوں میں اجمالی طور پر استحقاق میراث کا بیان تھا کہ میت کے اقارب خواہ مرد ہوں یا عورت بالغ ہوں یا نابالغ سب وارث ہیں اور ترکہ میں سب کا حق ہے اب ان آیات میں حصوں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں ارث کے تین سبب تھے (اول نسب) مگر نسب کی رو سے صرف ان مردوں کو حصہ ملتا تھا کہ جو قبیلہ کی طرف سے دشمنوں سے جنگ کی قابلیت رکھتے ہوں لڑکوں اور عورتوں اور ضعیفوں کو میراث کا مستحق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دوم) تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا یعنی بیٹا بنا لینا مرنے کے بعد وہ متبنی اس کی میراث کا حق دار ہوتا تھا جیسا کہ ہندوؤں میں اس کارواج ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
16 یہ بشارت اخروی ہے۔ احکام میراث جن کی آئے دن ضرورت رہتی ہے بیان کرنے کے بعد فرمایا یہ اللہ کی حدود اور اس کے مقررہ احکام ہیں جو اللہ کے رسول کی وساطت سے بندوں کو دئیے گئے ہیں جو ان احکام پر ایمان لائیگا اور ان پر عمل کریگا اس کے لیے آخرت میں جنات نعیم اور نعیم مقیم کی بشارت ہے۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور اس کے نافذ کردہ احکامِ میراث کو معطل کرتے اور ان کے مطابق وارثوں میں ترکہ تقسیم نہیں کرتے۔ عصیان سے یہاں عصیان کا کامل درجہ مراد ہے۔ یعنی جو شخص ان احکام پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور اس کی…
Read the full tafseer →نافرمانی کامنظر
برخلاف اس کے فرمایا ومن یعص اللہ ورسولہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ویتعد حدودہ اور اس کی مقررہ حدوں سے تجاوز کیا۔ یدخلہ نارا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ اور وہاں کی زندگی عارضی نہیں بلکہ خالد فیھا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ولہ عذاب مھین اور ایسے شخص کے لیے ذلت ناک عذاب ہوگا۔ طرح طرح کی پریشانیاں ہوں گی۔
امام ترمذی نے ترمذی شریف میں بیان کیا ہے کہ تمام صحابہ کرام ؓ ائمہ دین اور اہل حق کا اتفاق ہے کہ جس شخص کے دل میں نور ایمان اور نور توحید ہوگا اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رکھا جائے گا ایسے شخص کو فاسق ، گنہگار یا عملی منافق کرسکتے ہیں جو…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ يُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا 0 ۠ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ 14 ۧ
عصا
العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ :
ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ
[ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
3 ؎ کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے نہ فروع ہوں یعنی کوئی اولاد نہ ہو نہ اصول ہوں ماں باپ دادا وغیرہ 12 منہ
: کلالتہ کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل سے مشتق ہے جس کے معنی بار کے ہیں۔ ایسی قرابت بعیدہ جو نہ اصول سے تعلق رکھے نہ فروع سے ایک طرح کی بار ہوتی ہے۔ پھر کلالہ کون ہے ؟ بعض کہتے ہیں وہ میت ہے کہ جس کے بعد اس کے وارثوں میں سے نہ اس کے اصول ماں باپ موجود ہوں نہ فروع اولاد ہو بلکہ اور لوگ ہوں بھائی اور ان کی اولاد وغیرہ ان کی نسبت یہ بلحاظ پرورش کے ایک بار سمجھا جاتا ہے۔ ابوبکر عمر علی اور جمہور صحابہ ؓ اور اہل لغت و اہل حرمین کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں میت کے ایسے وارث جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ یُدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْـہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا ص وَلَـہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ ع
(یہ اللہ کے ضابطے ہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ضابطوں کے حدود سے باہر نکل جائے گا اسے وہ دوزخ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے میراث کے احکام کو اپنی حدود قرار دینے کے بعداسکے ماننے والوں کو جزا اور نہ ماننے والوں کو سزا سنائی ہے۔
ان آیات میں ماں باپ، اولاد اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے درمیان میّت کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیداد کی وراثت کے بارے میں اصول متعین کر کے انہیں میت کا وارث بنایا گیا۔ لیکن حدیث میں کچھ جرائم کے مرتکب افراد کو بعض حالتوں میں وراثت سے محروم کردیا گیا ہے۔ جن میں سر فہرست مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا یعنی ایک آدمی پہلے کافر تھا اب مسلمان ہوا لہٰذانئے دین میں شامل ہونے کی وجہ سے دوسرے دین کے حامل کا وارث نہیں ہوسکتا۔ اس کے…
Read the full tafseer →آیت 14 :
وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا (اور وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل فرمائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا)
لفظ و معنی کا لحاظ :
نحو : خَالِدِیْنَ ٗ اور خَالِدًا کو نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے اوپر والی آیت میں جمع لائے اور اس آیت میں مفرد لایا گیا۔
ایک میں معنی کا لحاظ کیا جبکہ دوسرے میں لفظ کا لحاظ کیا۔
قراءت : ندخلہ دونوں مدنی اور شامی نے پڑھا ہے۔ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔ (اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے) کیونکہ وہ ذلیل ہوگا اللہ تعالیٰ کے ہاں۔
تردید…
Read the full tafseer →14۔ (آیت)” ومن یعص اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب مھین “۔ قراء اہل مدینہ اور ابن عامر نے ” ندخلہ جنات ، ندخلہ نارا “۔ پڑھا ہے اسی طرح سورة فتح میں ” ندخلہ ، نعذبہ “ اور سورة تغابن میں نکفر ، ندخلہ اور سورة طلاق میں ، ندخلہ ، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ان سب مقامات کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13 ۔ 14) ۔ لفظ تلک سے ان احکام کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو شروع سورت سے یہاں تک نکاح یتیموں کے مال، میراث، اور وصیت کے باب میں گذرے ہیں اور ان احکام کا نام حدود اس لئے فرمایا ہے کہ ان کی پابندی اور ترک پابندی پر جنت کے وعدے اور دوزخ کے وعید وعید کو منحصر فرمایا ہے لیکن باوجود اس وعدہ اور وعید کے اس آخری زمانہ میں ان حدود اللہ کے اکثر لوگ پابند نہیں ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اپنے احکام کی پابندی کی توفیق عنایت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لئے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کردیئے ہیں اور اس کے بعد فرمایا : (تلک حدود اللہ) ” یہ اللہ کی حدیں ہیں “ بنا بریں وارث کے لئے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا (منع کردہ) تجاوز میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاوصیۃ لوارٹ) (1) ” کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں “
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
اے ابن آدم ! دوچیزیں ایسی ہیں جن میں سے کسی ایک پر بھی تجھے اختیار حاصل نہیں۔ ایک تو یہ کہ میں نے اس وقت تیرے مال تیرے لیے ایک حصہ رہنے دیا۔ جب میں نے تجھے پاک صاف کرنے کے لیے حلق میں تیری سانس کی آمدورفت کی جگہ کو اپنی گرفت میں کرلیا یعنی تیری روح قبض کرلی اور دوسری یہ کہ تیری وفات کے بعد میروں بندوں کی تیرے لیے دعائیں تجھ تک پہنچتی رہتی ہیں۔ )
اس روایت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ انسان کی وفات کے وقت اس کے مال کا ایک حصہ اس کا ہوتا ہے۔ سارامال اس کا نہیں ہوتا۔ یعنی وہ مال کے ایک حصے (تہائی) کا مالک ہوتا ہے جس میں وہ صدقہ یاوصیت کرسکتا ہے۔ سارے مال کا نہیں…
Read the full tafseer →35 حدود اللہ سے تجاوز کرنے والوں کا انجام نہایت ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں کیلئے دوزخ کی آگ اور رسوا کن عذاب ہے کہ انہوں نے اپنے تکبر و غرور کی بناء پر حق سے منہ موڑا تھا (جیسا کہ عموماً ہوتا ہے) اس لئے اب اس کو اس رسوا کن عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ عذاب مہین (رسوا کن عذاب) ایسے شخص کیلئے ہے جو تجاوز حدود یعنی حدوں کے پھلانگنے کے اس جرم کو حلال جانتا ہو، اور اس کی پرواہ ہی نہ کرتا ہو، کہ ایسا کرنا کفر ہے جسکی سزا عذاب مہین یعنی رسوا کن عذاب ہے۔ رہ گئے وہ لوگ جن سے بشری تقاضوں کی بناء پر ایسے ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اللہ کی حدود
تشریح : وراثت کے کچھ اصول بیان کئے گئے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ یہ احکامات اور قانون مسلم ملت کو بیشمار جھگڑوں، فساد اور بےسکونی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ تو صرف انسان کی بہتری کے لیے مقرر کئے گئے ہیں خود اللہ رب العزت کو تو اس میں کوئی فائدہ نہیں مگر ان آیات میں بہت سخت الفاظ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے ان قوانین میں ردو بدل کرے گا تو اس کو رب العالمین جہنم کا عذاب ضرور دے گا اور یہ عذاب ہمیشہ کے لیے دیا جائے گا۔ جیسا کہ کئی دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ جہنم کا عذاب بڑا ہی شدید عذاب ہے۔ مگر ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے خوش خبری کا پیغام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیات 13 تا 14: تلک حدود اللہ۔۔ ولہ عذاب مھین۔
حدود اللہ کی اہمیت :
یہ اللہ کریم کے احخام ہیں اور اس کی مقرر کردہ حدود ہیں اور اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی جنت کی ضمانت ہے جس کی نعمتوں کو کبھی زوال نہیں اور جس میں داخلے کے بعد کسی کو بھی کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا۔ لیکن خیال ضرور رہے کہ صرف نماز روزہ ہی اطاعت نہیں جیسے لوگ یہ تو کرلیتے ہیں مگر مال یا میراث تقسیم کرنا پڑے تو حیلے بہانے سے مال کھالیا جاتا ہے یاد رہے کہ یہ تقسیم میراث اور مختلف رشتوں کے حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور ان پر عمل ہی نجات کا راستہ ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کے خلاف جن لوگوں نے احکام الہی کی پرواہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1 اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کے وراثت میں شریک قرار دیکر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا۔ اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزابیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انہیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں۔ یا اللہ تعالیٰ انکے بارے میں کوئی دو سری سزانازل فرمادے۔ اسلام زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورت نور جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی یہاں سبیلا سے اسی طرف اشارہ ہے…
Read the full tafseer →یعص۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم (بوجہ عمل من جو اسم جازم فعل ہے) اصل میں یعصی تھا۔ عصیان مصدر باب ضرب۔ من یعص۔ جو نافرمانی کرے گا۔
یتعد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یتعدی تھا (عدوان مصدر) من یتعد جو حدود الٰہیہ سے تجاوز کرے گا۔
مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اھانۃ مصدر۔ باب افعال۔ ذلیل و خوار کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 – 14
لغات القرآن : حدود اللہ، اللہ کی حدیں ہیں۔ الفوز العظیم، بڑی کامیابی۔ یعص، نافرمانی کرتا ہے۔ یتعد، وہ حد سے بڑھتا ہے۔ مھین، ذلت، (ذلت والا عذاب)
تشریح : یہ حصے اس نے مقرر کئے ہیں جس کے پاس علم بھی ہے اور حکمت بھی۔ اس کی مصلحتوں اور دانش کو کون پہنچ سکتا ہے۔ اگر ان حدود کی پرواہ نہ کی جائے تو پھر یہ جنگل کی انار کی اور لاقانونیت ہوگی۔ کسب مال، صرف مال، اقتصادیات، معاشرت، کنبہ داری، حقوق، عزت اور الفت سب تہہ وبالا ہوجائیں گے۔
اس لئے ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت کرنے والوں کو عظیم انعامات کا یقین دلایا ہے اور بغاوت کرنے والوں کے لئے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ کسی مذہب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
حاصل مطلب یہ ہے کہ بی بی کے مال میں شوہر کا آدھا حصہ ہے جبکہ بی بی کی اولاد نہ ہو، اور اگر اس شوہر یا اور شوہر سے اولاد ہو تو شوہر کا چوتھائی حصہ مال کا ہے۔ اس طرح شوہر کے مال میں بی بی کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ اور اگر اولاد ہو تو بی بی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ عورت کا مہر قرض میں داخل ہے۔ اب میاں بی بی کی میراث کے بعد آیت میں بھائی بہن کی میراث کا جو ذکر ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی اور بہن کو کچھ نہیں ملتا۔ جب باپ اور بیٹا نہ ہوں تو میت کے بھائی بہن کی یہ صورت ہے کہ اگر وہ بھائی بہن سگے ہوں یا فقط باپ میں شریک ہوں تو ان کا حصہ مثل میت کے اولاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[19] یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت تبدیل کریں لیکن اس سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے اللہ کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا، کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور پر محروم کیا گیا، کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ اب بعض مسلمان ریاستیں اہل مغرب کی تقلید میں '' وفات ٹیکس '' (Death Tax) رائج کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(ف 1) ان آیات میں اللہ کے احکام ونواہی کو حدود سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان حدود سے تجاوز کرنا گناہ ہے اس لئے کہ یہ فرائض ومنکرات حق و باطل اور جنت و دوزخ کے درمیان بطور حدود کے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کا خیال رکھتے ہیں اور ہر لحظہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں ، وہ فوز عظیم پالیتے ہیں اور وہ جن کے خمیر میں معصیت وکبر سرشت ہے ، وہ انکار کردیتے ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔
حل لغات :
کللۃ : اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی اصل وفرع موجود نہ ہو ۔
Read the full tafseer →ف 1 یہ تمام احکام مذکورہ اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدیں اور اس کے مقرر کردہ ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت و فرمانبرداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں ابتداً ہی داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بغیر کسی عذاب کے ابتداً جنت میں داخل ہوجانا اور وہاں ہمیشہ رہنا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ و رسول کا کہنا نہ مانے گا اور اس کی باندھی ہوئی حدوں کو توڑ کر بڑھ جائے گا اور اس کے مقررہ ضابطوں سے تجاوز کرنے پر اصرار کرے گا اور اس کے قوانین…
Read the full tafseer →ف 2۔ جاہلیت میں جیسا یتامی اور مواریث کے معاملہ میں بہت سی بےاعتدالیاں تھیں جن کی اصلاح اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی اسی طرح عورتوں کے معاملہ میں بھی طرح طرح کے رسوم قبیحہ اور بےعنوانیاں شائع تھیں آگے الرجال قوامون تک ان معاملات کی اصلاح فرماتے ہیں اور جو خطا و قصور شرعا معتبر ہو اس پر تادیب کی اجازت دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →قانون میراث کی پابندی نہ کرتا و دنیا دونوں کا خسارہ ہے :
41: یہ احکام جو تم کو دیئے گئے ہیں یہ گویا اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدود ہیں اور حدود اللہ کی پر واہ نہ کرنے والا یقینا اپنی دنیا کو برباد کرتا ہے۔ اور آخرت کو اور پھر آخرت کا خسارہ تو ایسا ہے جو کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ اس طرح یہ عذاب دائمی بھی ہوگا جو ان کو دیا جائے گا اور معذب کے حق میں ذلت آخریں بھی اور عذاب دو چار روز کی بات بھی نہیں بلکہ دائمی عذاب کی خبر تم کو پہنچائی جا رہی ہے۔ لیکن جس چیز کا بدلہ یا نتیجہ ہے چند روز کی چاندنی اور پھر اندھیری رات کے مترادف ہے۔
غور کیجئے کہ قرآن کریم کی یہ وعید کتنی سخت ترین وعید ہے لیکن آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
Commentary
It is the consistent style of the Holy Qur'an that whenever it has described the beliefs and injunctions prescribed by Allah, it is followed by promises of reward or warnings of punishment.
This is what has been done here in these two verses after mentioning the rules of inheritance. The purpose is to stress upon Muslims to obey these injunctions.
SOME ADDITIONAL RULES OF INHERITANCE
A Muslim cannot inherit from a Kafir
Although, the distribution of inheritance is based on nearness of kinship, but there are certain exceptions to this rule. First of all, the deceased and his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
25a. This is a terrifying verse in which those who either tamper with God's laws of inheritance or violate the legal bounds categorically laid down by God in His Book are warned of unending punishment. It is lamentable that, in spite of these very stern warnings, Muslims have occasionally been guilty of breaching God's laws with the same boldness and insolence as that of the Jews. Disobedience to God's law of inheritance has occasionally assumed the proportion of open rebellion against Him. In some instances, women have been disinherited altogether. In others, the eldest son has been declared…
Read the full tafseer →