Explained with ayahs 88–91
منافقوں سے ہوشیار رہو
اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کردینا چاہیے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم) ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 116
یہاں ان منافق مسلمانوں کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے حصوں میں اسلام تو قبول کرچکے تھے، مگر ہجرت کر کے دارالاسلام کی طرف منتقل ہونے کے بجائے بدستور اپنی کافر قوم ہی کے ساتھ رہتے بستے تھے، اور کم و بیش ان تمام کارروائیوں میں عملاً حصہ لیتے تھے جو ان کی قوم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتی تھی۔ مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ سخت پیچیدہ تھا کہ ان کے ساتھ آخر کیا معاملہ کیا جائے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی ہو، آخر یہ ہیں تو مسلمان ہی۔ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کفار کا سا معاملہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تین مختلف گروہوں کا بیان اور ان کے احکام
پہلے فرقہ کا بیان۔ (جب تم ان مرتدین کی حالت دیکھ چکے) پھر تم کو کیا ہوا کہ ان منافقین کے باب میں تم (اختلاف رائے کر کے) دو گروہو ہوگئے (کہ ایک گروہ ان کو اب بھی مسلمان کہتا ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو (ان کے علانیہ کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ان کے (بد) عمل کے سبب (وہ بدعمل اور تداداً دارالسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے، جو کہ اس وقت نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا) کیا تم لوگ (اے وہ گروہ جن کو اس ترک دارالاسلام کا علامت کفر ہونا معلم نہیں) اس کا ارادہ رکھتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے (جبکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 89: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللّٰهُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا۔ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔
فئتین، ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ مثلاً کہیں گے، مَالَکَ قَائِماً۔ " رکس الشی " کے معنی ہیں چیز کو الٹ دیا، ارکسہ،…
Read the full tafseer →88۔ 1 یہ استفہام انکار کے لئے ہے یعنی تمہارے درمیان ان منافقین کے بارے میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان منافقین سے مراد وہ ہیں جو احد کی جنگ میں مدینہ سے کچھ دور جا کر واپس آگئے تھے، ہماری بات نہیں مانی گئی (صحیح بخاری سورة ، نساء صحیح مسلم، کتاب المنافقین) جیسا کہ تفصیل میں پہلے گزر چکی ہے۔ ان منافقین کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ان منافقین سے (بھی) لڑنا چاہئے، دوسرا گروہ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتا تھا۔
88۔ 2 کَسَبُوا (اعمال) سے مراد رسول ﷺ کی مخالفت اور جہاد سے اعراض ہے۔ ارکَسھُمْ۔ اوندھا کردیا یعنی جس کفر و ضلالت سے نکلے تھے، اسی میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
53: ان آیتوں میں چار قسم کے منافقین کا تذکرہ ہے اور ان میں سے ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے، اس آیت میں منافقین کی پہلی قسم کا ذکر ہے، یہ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ تھے جو مدینہ منورہ آئے اور ظاہری طور پر مسلمان ہوگئے اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرلی، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے حضور اقدس ﷺ سے تجارت کے بہانے مکہ مکرمہ جانے کی اجازت لی اور واپس چلے گئے، ان کے بارے میں بعض مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ یہ سچے مسلمان تھے اور بعض انہیں منافق سمجھتے تھے ؛ لیکن جب وہ مکہ مکرمہ جاکر واپس نہ لوٹے تو ان کا کفر ظاہر ہوگیا ؛ کیونکہ اس وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنا ایمان کا لازمی حصہ تھا اور جو شخص قدرت کے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔
یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔
امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
2 ان منافقوں میں وہ لوگ داخل ہیں جو ظاہر میں بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ ظاہر و باطن کفر پر قائم تھے لیکن حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور محبت کا معاملہ رکھتے تھے اور غرض ان کی یہ تھی کہ مسلمانوں کی فوج ہماری قوم پر چڑھائی کرے تو ہمارے جان و مال اس حیلہ سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کا آنا جانا اس غرض سے ہے دل کی محبت سے نہیں تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ ان شریروں سے ملنا ترک کردینا چاہیے تاکہ ہم سے جدا ہوجائیں اور بعضوں نے کہا ان سے ملے جائیے شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے قبضہ میں ہے تم اس کا ہرگز فکر مت کرو اور ان لوگوں…
Read the full tafseer →آیت 88 فَمَا لَکُمْ فِی الْْمُنٰفِقِیْنَ فِءَتَیْنِ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط
بات آگے واضح ہوجائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے ‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دو رائیں پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا ‘ اب نہیں ہجرت کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہو ؟
وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط۔
ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →121 منافقوں کے بارے میں دو گروہ :۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ : جب نبی اکرم احد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ (منافقین) آپ کو چھوڑ کر مدینہ واپس آگئے۔ ان واپس ہونے والوں کے بارے میں صحابہ کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک کہتا تھا کہ ہم ان سے (بھی) لڑائی کریں گے اور دوسرا کہتا تھا کہ ہم ان سے لڑائی نہ کریں گے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔۔ مسلم، کتاب صفۃ المنافقین)
122 یعنی ان منافقوں نے واپس جا کر اپنی منافقت کا ثبوت مہیا کردیا ہے۔ اب اگر تم یہ چاہو کہ ہمیں ان سے لڑائی نہ کرنی چاہیے شاید کہ وہ راہ راست پر آجائیں…
Read the full tafseer →246 ۔ کہے جارہے ہیں) یہ آیت کس گروہ منافقین کے باب میں ہے ؟ روایتیں اس بارے میں مختلف ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ وہ منافقین ہوں جو عزوۂ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کی سیادت میں جنگ سے قبل ہی واپس چلے آئے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وہ گروہ ہو جس نے مدینہ کی چراگاہ پر ڈاکہ ڈالا تھا۔ اس کا بھی امکان ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو دارالحرب مکہ سے دارالہجرت مدینہ میں آئے۔ اپنا اسلام ظاہر کیا۔ مال تجارت لے کر مکہ گئے اور پھر واپس نہ آئے۔ مشرکوں میں مل جل کر وہیں دارالحرب میں رہ پڑے اور سباق قرآنی کی رو سے یہی قول سب سے زیادہ قوی ہے بہرحال وہ کوئی سے بھی ہوں، تھے منافقین ہی، جو مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف شرکت جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
آیت نمبر 88 تا 91
ترجمہ : اور جب لوگ اُحُدْ سے لوٹے تو لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا، ایک فریق نے کہا ان کو قتل کرو اور دوسرے فریق نے کہا مت قتل کرو، تو یہ آیت نازل ہوئی، (فَمَالکم) تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو جماعت ہوگئے اللہ نے ان کو ان کے کفر و معاصی کی ندولت واپس پھیر دیا کیا تم چاہتے ہو کہ جن کو اللہ نے گمراہ کردیا تم راہ راست پر لے آؤ یعنی تم ان کو من جملہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کرتے ہو، استفہام دونوں جگہ انکاری ہے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے اس کے لئے تو ہرگز ہدایت کا راستہ نہ پائیگا یہ لوگ تو دل سے چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح یہ لوگ کفر کررہے ہیں تاکہ…
Read the full tafseer →فما لکم من المنفقین فئتین . پس تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے۔ فمالکم میں فاء تفریع کے لئے ہے۔ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا پر مابعد فاء متفرع ہے مطلب یہ ہے کہ تم آپس میں تفرقہ اور اختلاف کیوں کرتے ہو ‘ اپنا معاملہ اس خدا کے سپرد کیوں نہیں کردیتے جو سب سے زیادہ سچا ہے جو کچھ اس نے بیان کیا اس پر یقین رکھو اور وہ جو بھی حکم دے اس کی تعمیل کرو۔
سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کی روایت سے بیان کیا (1) [ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تقریر کی اور فرمایا تمہاری ایسے شخص کے متعلق کیا رائے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(88۔ 89) مسلمانو ! تم ان مرتدین کے باب میں دو گروہ کیوں ہوگئے، ایک گروہ تو ان کے اموال اور خون کو حلال سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو حرام کہتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے نفاق اور نیت کے فتور کی وجہ سے کفر کی طرف واپس پھیر دیا ہے۔
کیا تم ایسے گمراہوں کو دین الہی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال بد کے سبب گمراہ کر دے اس کو نہ پھر کوئی دین ملتا ہے اور نہ کوئی دلیل ، (اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے، یعنی اللہ گمراہ اسے ہی کرتا جو ہدایت کے باب میں اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اپنی بدکرداری وبداعمالی کے سبب ضائع کردے۔ فرمایا (سو جب ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے…
Read the full tafseer →یعنی تم ان منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہوگئے، تمہیں تو ان کے متعلق ایک رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ غزوۂ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر راستے ہی سے واپس ہوگئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کہنے لگا، آپ انھیں قتل کریں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف تھا، تو یہ آیت اتری : (فمالکم فی المنافقین فئتین) اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ طیبہ ہے، یہ گند کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے گند کو۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ۔۔) : 4589 ] شوکانی ؓ نے فرمایا، یہ حدیث اس آیت کے اسباب نزول میں سب سے زیادہ صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
آیت نمبر : 86۔
اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا حییتم بتحیۃ “۔ التحیۃ یہ حییت کا مصدر ہے۔ اصل میں تحییۃ تھا، جسے توضیۃ اور تسمیۃ ہے یا کو یا میں ادغام کیا گیا۔ التحیۃ کا معنی سلام ہے، التحیۃ کی اصل زندگی کی درازی کی دعا کرنا ہے۔ التحیات للہ یعنی آفات سے سلامتی، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ملک بھی ہے، عبداللہ بن صالح العجلی نے کہا میں نے کسائی سے التحیات للہ کے متعلق پوچھا کہ اس کا معنی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : التحیات، برکات کی مثل ہے۔ میں نے کہا : برکات کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا میں نے اس کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(1) الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والبیہقی نے دلائل میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ احد کی طرف نکلے کچھ لوگ لوٹ آئے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ان کے بارے میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت وہ تھی جو کہتی تھی کہ ہم ان سے قتال کریں گے اور ایک جماعت کہتی تھی ہم قتال نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ اتاری رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ پاکیزہ شہر ہے اور یہ میل کچیل کو دور کردیتا ہے جیسا کہ آگ چاندی کی میل کو دور کردیتی ہے۔
(2) سعید بن…
Read the full tafseer →[ فَمَا لَــکُمْ : تو تمہیں کیا ہے ] [ فِی الْْمُنٰـفِقِیْنَ : منافقوں (کے بارے) میں ] [ فِئَـتَـیْنِ : (تم لوگ ہوتے ہو) دو گروہ ] [ وَ : حالانکہ ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اَرْکَسَہُمْ : لوٹایا ان کو ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ کَسَبُوْا : انہوں نے کمایا ] [ اَ : کیا ] [ تُرِیْدُوْنَ : تم لوگ چاہتے ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ تَہْدُوْا : تم ہدایت دو ] [ مَنْ : اس کو جسے ] [ اَضَلَّ : گمراہ کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَمَنْ : اور جسے ] [ یُّضْلِلِ : گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فَلَنْ تَجِدَ : تو ہرگز نہیں پائے گا تو ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ سَبِیْلاً : کوئی راہ ]
ر ک س
رَکَسَ یَرْکُسُ…
Read the full tafseer →منافقوں اور دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے
روح المعانی صفحہ 107: ج 5 میں مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ ہم مہاجر ہیں پھر وہ مرتد ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگی کہ ہم مکہ معظمہ جاکر اپنا تجارتی سامان لے آئیں تاکہ تجارت کیا کریں، مسلمانوں کا آپس میں ان کے بارے میں اختلاف ہوا ایک جماعت نے کہا کہ یہ منافق ہیں دوسری جماعت نے کہا کہ یہ مومن ہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کا نفاق کھول کر بیان فرما دیا۔ اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا، اور ضحاک سے نقل کیا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ معظمہ ہی میں رہ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
حکم بست وسوم متعلق بہ معاملہ منافقین۔
قال تعالی، فمالکم فی المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔ مبینا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے احوال کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کو منافقین کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے حاصل حکم یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ اس وقت تک کیا جائے گا کہ جب تک ان کا نفاق چھپا رہے اور جب ان کا کفر اور نفاق واضح اور ظاہر ہوجائے تو پھر ان کی ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے جب دلائل کفر کے واضح ہوجائیں تو پھر تردد کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رکوع کی تفسیر سمجھنا چند روایات کے نقل پر موقوف ہے اس لیے ہم ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔
پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
63 چوتھا حکم سلطانی :۔ راستہ میں مدینہ منورہ سے باہر جو منافق تمہیں ملے اسے بھی قتل کر ڈالو البتہ جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے اور غیر جانبدار ہیں ان کو قتل نہ کرو) یہاں سے منافقین کے دو گروہوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ایک وہ منافقین جو مدینہ سے دوسرے شہروں میں نکل گئے تھے دوم وہ جو ایسے کافروں کے پاس جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس آیت میں المنافقین سے منافقین کا پہلا گروہ مراد ہے ان کے قتل کے بارے میں مسلمان دو فریقوں میں بٹ گئے ایک فریق نے کہا وہ منافق ہیں انہیں قتل کرنا چاہیے دوسرے فریق نے ان کے قتل میں توقف کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
منافقوں کی دو قسمیں
منافقین کی مذمت کا سلسلہ پیچھے سے چلا آرہا ہے اور ان کو مختلف سازشوں کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر ضروری مسائل بھی بیان ہوچکے ہیں۔ آج کی آیات بھی منافقین ہی سے متعلق ہیں۔ ان میں اہل اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں مختلف آراء سے پرہیز کرتے ہوئے کسی ایک رائے پر ہی متفق رہیں اور انہیں کوئی ایسا موقع نہ دیں کہ وہ الٹا تمہیں گمراہ کرسکیں ۔
مفسرین کرام نے منافقین کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ پہلی قسم اعتقادی منافقین کی ہے اور دوسری عملی منافقین کی۔ اعتقادی منافق وہ ہے جو بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ مگر اس کا دل کفر پر…
Read the full tafseer →فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللہُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا 0ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللہُ 0ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِيْلًا 88
نِّفَاقُ
، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145]
نفاق جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے…
Read the full tafseer →1 ؎ مدینہ کے چند لوگ ابتدائے اسلام میں ایسے بھی تھے کہ ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر درپردہ حبّ ِ جاہ وغیرہ اسباب دنیا کے سبب آنحضرت ﷺ اور مہاجرین سے سخت عداوت رکھتے تھے۔ مسلمانوں پر نکتہ چینیاں بھی کیا کرتے تھے۔ مخالفوں کو بھی اسرار پر مطلع کرتے اور لڑنے کو ابھارتے تھے۔ مسلمان چاہتے تھے کہ ان منافقوں کو نکال دیا جائے مگر بعض رحمدل انصار اپنی قرابتوں کے سبب درگذر کی طرف مائل تھے۔ اس لئے ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے تھے۔ ان آیات میں انہیں کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ 12
Read the full tafseer →فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَھْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلًا
” پس تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو اللہ نے تو انھیں ان کے کرتوتوں کے باعث پیچھے لوٹا دیا ہے۔ کیا تم ان کو ہدایت دینا چاہتے ہو جنھیں اللہ نے گمراہ کیا ہے اور جن کو اللہ گمراہ کر دے تم ان کے لیے کوئی راہ نہیں پاسکتے۔ “ (النسآء : 88)
ہجرت نہ کرنے والے منافقین کے بارے میں مسلمانوں کی دو رائے
ان آیات میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو مکہ معظمہ یا کسی اور بستی میں مسلمان تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق مسلمانوں میں بزدلی اور انتشار پیدا کرتے ہیں ‘ جس سے مسلمانوں کو چوکنا اور بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔
مکہ معظمہ اور اس کے گردونواح میں ایسے لوگ اور قبائل موجود تھے جو دنیاوی اغراض اور تعلق داری کی بنا پر کفار کے ساتھ مسلمانوں سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ جب ہجرت کا فیصلہ کن حکم آیا کہ دارالکفر کو چھوڑ کر سب مسلمان دارالاسلام مدینہ میں جمع ہوجائیں تاکہ طاقت مجتمع، مرکز مضبوط، اور دین پر عمل کرنے کیلئے بہتر ماحول پاسکیں تو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ترجیح دینے کی بجائے کفار کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ مدینہ میں رہنے والے منافقین کی حالت بھی یہی تھی کہ جب کبھی…
Read the full tafseer →آیت 88 : فَمَالَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ (تمہیں کیا ہوگیا کہ تم منافقین کے متعلق دو گروہ ہوگئے)
نحو : مَا مبتداء اور لکم خبر ہے۔
منافقین کے لئے فیصلہ کن قول :
مطلب یہ ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم ان لوگوں کے متعلق اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔ جو ظاہراً منافقت اختیار کرنے والے ہیں۔ اور تم ان کے متعلق دو گروہوں میں بٹ گئے ہو۔ تم ان کے متعلق قطعی طور پر کافر ہونے کی بات نہیں کرتے۔ یہ معاملہ اس طرح ہوا کہ ایک جماعت منافقین نے دیہات کی طرف جانے کے لئے آپ ﷺ سے اجازت مانگی۔ ان کو مدینہ کی مرطوب آب وہوا کی وجہ سے تکلیف تھی۔ جب وہ مدینہ سے نکلے تو برابر سفر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مشرکین مکہ سے جا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 88۔:
(آیت)” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔
(فی المنافقین فئتین کا شان نزول)
اس کے نزول کے سبب میں آئمہ مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول جنگ احد میں پیچھے رہنے والے منافقین کے بارے میں ہوا ، جب آپ ﷺ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آپ ﷺ سے کہ ان کو قتل کر دو کیونکہ یہ منافقین ہیں اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ان کو درگزر فرمائیے کیونکہ یہ زبان سے اسلام والا کلام کرتے ہیں ۔
حضرت عدی بن ثابت ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ وہ زید بن ثابت ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
(88 ۔ 91) ۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے سو آدمی جب عبد اللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جا بیٹھے اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے اور دوسرافرقہ یہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے اور نہ ان کو قتل کریں گے۔…
Read the full tafseer →آیت 88
ان آیات (1) میں مذکورہ منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرام میں اشتباہ واقع ہوگیا، چناچہ بعض صحابہان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے اور
(ۃ) حاشیہ الف (یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ (صحیحین میں حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنگ احد کے لئے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرام کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا…
Read the full tafseer →منافقین کے بارے میں رویہ
قول باری ہے (فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بماکسبوا، پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں ، حالانکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے) ۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی امدا د کرتے تھے قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ ایت کا نزول ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام کا اظہار کیا تھاپھرم کہ واپس جاکر شرک کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
215 منافقوں کے ایک گروہ کے کفر و نفاق کا اعلان و اظہار : سو مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو جن کا کفر و نفاق دلائل و قرائن سے ثابت اور واضح ہوگیا ہے۔ اور جو ایمان لانے کی بجائے الٹا یہ چاہتے ہیں کہ تم کو بھی نور ایمان و یقین سے محروم کرکے راہ حق و ہدایت سے پھیر دیں۔ اور اس طرح تم بھی ہلاکت و تباہی کی اسی راہ پر چلو جس پر یہ چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ استفہام یہاں پر تنبیہ و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی تم کو اے ایمان والو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ رہے ہو۔ ایک ان کی حمایت اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ایمان کا معیار
تشریح : مدینہ اللہ رب العزت کی طرف سے مسلمانوں کیلئے جائے پناہ تھا اسی لیے مکہ سے ہجرت کرکے مسلمان مدینہ میں جمع ہوتے رہے۔ مگر آس پاس کئی ایسی بستیاں تھیں کہ جہاں لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کا اچھی طرح پتہ نہ چل رہا تھا کچھ مسلمان تو ان کو واقعی پکے مسلمان سمجھتے تھے مگر کچھ مسلمان ان کی منافقت سے آگاہ ہوچکے تھے تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے ہیں مگر ان کے دل مسلمانوں سے دور ہیں یہ صرف ذاتی مفادات اور دنیاوی فائدوں کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ دلوں کے اتنے برے اور بدنیت ہیں کہ ہدایت آنے کے بعد بھی ہدایت پانا نہیں چاہتے، بلکہ یہ تو چاہتے ہیں کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
اسرار و معارف
آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔
مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 1 یہ آیات کب اتریں اور ان میں منافقین سے مراد کون لوگ ہیں اس بارے میں صحابہ ؓ کرام سے مختلف روایات ہیں حضرت زید ؓ بن ثابت سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر راستہ ہی سے واپس ہوگئے (ابن ابی اور ان کے ساتھی) اس کے بارے میں میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ کہنے لگا کہ ہم انہیں قتل کریں اور دسرا گروہ اس کے خلاف تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہو (بخاری ومسلم) امام شوکانی فرماتے ہیں ؛ نزول کے اسباب میں یہ روایت سب سے اصح ہے۔ دوسری روایت حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف سے ہے کہ عرب کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے پھر وہ بیمار ہو کر واپس چلے…
Read the full tafseer →فمالکم۔ کیوں تم میں۔ فی المنافقین۔ منافقوں کے بارے میں۔ فئتین۔ دو گروہ۔ یعنی کیا وجہ ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہوں میں ہوگئے ہو۔ بعض لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ دنیاوی مفاد یا باہمی معاشرتی یا خانگی تعلقات کی وجہ سے مکہ سے یا دیگر مقامات سے ہجرت سے باز ہے۔ بعض انہی وجوہ کی بناء پر مدینہ ہجرت کرنے کے بعد وہاں سے ناسازگی آب و ہوا یا دیگر بہانہ سازی سے واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے۔ اور وہاں کم و بیش اپنی کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ان کی کاروائیوں میں حصہ لیتے رہے۔ مسلمانوں کی رائے ان کے بارے میں مختلف تھیں۔ ایک گروہ ان کو خارج از اسلام گردانتا تھا۔ جب کہ دوسرا گروہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
آیت نمبر 88-90
لغات القرآن : مالکم، تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ فئتین، وہ جماعتیں۔ ارکس، الٹ دیا۔ یصلون، وہ ملتے ہیں۔ حصرت، رک گئی، رک گئے۔ اعتزلوا، وہ علیحدہ ہوگئے۔ السلم، صلح۔
تشریح : جس زمانے میں رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی اس زمانے میں ہر مسلمان کو حکم تھا کہ جو مسلمان جہاں کہیں بھی ہے بشرط طاقت مدینہ کی طرف ہجرت کر جائے۔ ورنہ اس کا شمار منافقین میں ہوگا۔ ان میں ایک طبقہ تو وہ تھا جو جانے کے لئے مالی اور دوسری استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ وہ تمام مظلومیت کے باوجود مجبوراً اپنی جگہ رہ گیا۔ ان کا شمار مستضعفین میں ہوا۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر ہجرت سے گریز کرتا تھا۔ یہ لوگ بظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
جنگ احد سے واپس جانے والوں کا ذکر
شان نزول : جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی جب عبداللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو باقی سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جابیٹھے۔ اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے، اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے نہ قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے آپس کے اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
[57] اولوالامر کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 48 صفحہ 230 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →منافق گمراہ ہیں :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ منافق گمراہ ہیں اس لئے کہ ان کے نفاق کی شہادت خود خدا نے دی ہے ، ان کے متعلق مسلمانوں کو دوگونہ حکمت عملی سے کام لینا چاہئے یہ کھلے کافر ہیں ۔
البتہ فرق اسلام جو دیانت داری کے ساتھ جزئیات اسلام میں مختلف ہیں ‘ ان کی تکفیر وتفسیق درست نہیں ۔ اگر اصول ونصوص میں اتفاق ہے ، جزئیات کا اختلاف کوئی وزنی چیز نہیں ۔ ہاں وہ لوگ جو مسلمہ نصوص وحقائق کے متوازی الگ اصول و اساس کو مانتے ہیں وہ ہرگز مسلمان نہیں ، اگرچہ ان کو دعوائے اسلام ہی کیوں نہ ہو ۔
Read the full tafseer →ف 3 پھر اے مسلمانو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقین کے بارے میں جو مدینہ کو چھوڑ کر مکہ والوں سے جا ملے یعنی دار السلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں چلے گئے باہم اختلاف رائے رکھتے ہو اور وہ دو گروہ بن گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کی کمائی کی وجہ ہے اور ان کے بد اعمالی کے سبب سے الٹا پھیر چکا ہے اور ان کو کفر میں لوٹا چکا ہے۔
کیا تم اے مسلمانو ! یہ ارادہ رکھتے ہو اور تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو اور ایسے لوگوں کو راہ پر لے آئو جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم کر رکھا ہے اور ان کی گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے محروم کر دے اور راہ سے ہٹا دے…
Read the full tafseer →ف 5۔ وہ بدعمل ارتداد دائر الاسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے جو کہ مثل ترک اقرار بالاسلام کے علامت کفر کی تھی اور واقع میں وہ پہلے بھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا۔
6۔ مطلب یہ کہ تم گمراہ کو مومن کہتے ہو حالانکہ وہ مومن ہے جس میں ایمان ہو اور ان میں وقت تک ایمان ہے نہیں تو کیا اب ایمان پیدا کرو گے جو ان کو مومن کہہ سکو، اور یہ محال ہے۔ پس ان کا مومن و مہتدی ہونا معلق لاملا ہے، اس لئے ان کو مومن کہنا مثل حکم بالمحال کے ہے۔
7۔ پس ان لوگوں کو مومن نہ کہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →قانون الہی جس کو فیل کردے تم اس کو پاس کرنے والے کون ہو ؟ بےفائدہ جھگڑا چھوڑ دو :
150: بلاشبہ اسلام نرمی کو پسند کر ات ہے لیکن ساتھ ہی وہ ہر معاملہ میں اعتدال پسند بھی ہے اس لحاظ سے ایسی نرمی جو جماعت و قوم کے لیے نقصان دہ ہو وہ نرمی نرمی نہیں رہتی بلکہ کچھ اور ہی بن جاتی ہے۔ لوگ جب اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے اور رسول اللہ کی ہجرت کے بعد انہوں نے بھی ہجرت شروع کردی تو ایسے بھی واقعات رونما ہوئے کہ کچھ سچے مسلمانوں کے ساتھ کچے لوگ بھی شامل ہوگئے اور یہ فطری بات تھی مثلا ایک آدمی نے سچے دل سے ایمان قبول کیا ہے وہ رسول اللہ کی ہجرت کے بعد مکہ میں ایک پل رہنا بھی گوارا نہیں کرتا وہ سب کچھ…
Read the full tafseer →Commentary
The verses quoted above describe three groups of people about whom two injunctions have been given. The following narrations clarify events surrounding these groups:
1. ` Abdullah ibn Hamid has narrated from Mujahid that some disbelievers of Makkah came to Madinah. They pretended to have become Muslims and claimed to have come there as emigrants. Later, they turned into apostates. They went to the Holy Prophet ﷺ ، told him about their plan to go to Makkah to buy merchandise from there. Having made their false excuse, they departed for Makkah and never returned. There arose a…
Read the full tafseer →116.The problem of the hypocrites is discussed here. They had outwardly embraced Islam in Makka and in other parts of Arabia, but instead of migrating to the Domain of Islam they continued co live among their own people who were unbelievers, taking part in all their hostile machinations against Islam and the Muslims. It was not easy for the Muslims to decide how to deal with such people. Some were of the opinion that since they professed Islam, performed Prayers, fasted and recited the Qur'an they could not be treated as unbelievers. Here God pronounces His judgement on this issue.
Unless the…
Read the full tafseer →