An-Nisaa 4:89

An-Nisaa · from ayah 89

4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَاقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ ۪— وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا ۟ۙوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ كَمَا كَفَرُوۡا فَتَكُوۡنُوۡنَ سَوَآءً‌ فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوۡهُمۡ‌ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡهُمۡ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

They wish you would disbelieve as they disbelieved so you would be alike. So do not take from among them allies until they emigrate for the cause of Allah. But if they turn away, then seize them and kill them wherever you find them and take not from among them any ally or helper.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 12 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:89

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آ جائیں، اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وه ہیں تو بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہو جاؤ، پس جب تک یہ اسلام کی خاطر وطن نہ چھوڑیں ان میں سے کسی کو حقیقی دوست نہ بناؤ، پھر اگر یہ منھ پھیر لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی یہ ہاتھ لگ جائیں، خبردار! ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ سمجھ بیٹھنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کو اپنا لیا ہے، اسی طرح تم بھی کافر بن کر سب برابر ہوجاؤ،۔ لہذا (اے مسلمانو) تم ان میں سے کسی کو اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کے راستے میں ہجرت نہ کرلے۔ چنانچہ اگر وہ (ہجرت سے) اعراض کریں تو ان کو پکڑو، اور جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کردو، اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ، نہ مددگار۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (منافق تو) یہ تمنا کرتے ہیں کہ تم بھی کفر کروجیسے انہوں نے کفر کیا تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ سو تم ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت (کر کے اپنا ایمان اور اخلاص ثابت) کریں، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو انہیں پکڑ لو اور جہاں بھی پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ اور نہ مددگار،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ چاہتے ہیں کاش کہ تم کفر کرو جیسے انھوں نے کفر کیا، پھر تم برابر ہوجاؤ، تو ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بناؤ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں، پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور نہ ان سے کوئی دوست بناؤ اور نہ کوئی مدد گار۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ جیسے وہ خود ہوئے ہیں تاکہ سب برابر ہوجائیں۔ لہذا ان میں سے کسی کو آپ دوست نہ بناؤ تاآنکہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو جہاں انہیں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو۔ اور ان میں سے کسی کو بھی آپ نا دوست یا مددگار نہ بناؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تو آرزو رکھتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تم بھی کفر کرو کہ تم سب برابر ہوجاؤ تو تم ان میں سے کسی کو اپنا ساتھی نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ اس سے اعراض کریں تو ان کو گرفتار کرو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مددگار نہ بناؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کا راہ پر آنا درکنار وہ تو الٹا) یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی انہی کی طرح کافر ہوجاؤ تاکہ پھر تم سب ایک برابر ہوجاؤ پس تم ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہیں بنانا، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کی راہ میں، پھر اگر وہ (راہ حق سے) منہ موڑے ہی رہیں تو تم انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی تم انہیں پاؤ، اور ان میں سے کسی کو بھی تم دوست نہ بناو نہ مددگار ٹھہراؤ

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ تو دل سے چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے یہ لوگ کفر کررہے ہیں تاکہ تم (سب) برابر ہوجاؤ۔ سو تم ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بنانا جب تک اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اور اگر وہ روگردانی کریں تو انہیں پکڑو اور جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کرو اور ان میں سے (کسی کو) دوست اور مددگار نہ بناؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ تو اب ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اللہ کی راہ میں اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں (ہجرت نہ کریں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ساتھی اور مددگار مت بناؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ، تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں، لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

They wish that you should disbelieve just as they disbelieved so that you may all be alike. Do not, therefore, take from them allies until they emigrate in the way of Allah, but if they turn their backs (on emigration), seize them and slay them wherever you come upon them. Take none of them for your ally or helper, This is the verdict on those hypocritical confessors of faith who belong to a belligerent, non-Muslim nation and actually participate in acts of hostility against the Islamic state.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They wish that you should disbelieve, as they have disbelieved, and thus you become all alike. So, do not take friends from among them unless they migrate in the way of Allah. Then, if they turn away, seize them, and kill them wherever you find them, and do not take from among them a friend or helper.

— Muhammad Taqi Usmani

They wish that you should disbelieve, as they have disbelieved, and thus you become all alike. So, do not take friends from among them unless they migrate in the way of Allah. Then, if they turn away, seize them, and kill them wherever you find them, and do not take from among them a friend or helper.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They wish that you reject faith, as they have rejected, and thus that you all become equal (like one another). So take not Awliya' from them, till they emigrate in the way of Allah. But if they turn back, take (hold of) them and kill them wherever you find them, and take neither Awliya' nor helpers from them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They long that ye should disbelieve even as they disbelieve, that ye may be upon a level (with them). So choose not friends from them till they forsake their homes in the way of Allah; if they turn back (to enmity) then take them and kill them wherever ye find them, and choose no friend nor helper from among them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They wish you would disbelieve as they disbelieved so you would be alike. So do not take from among them allies until they emigrate for the cause of Allah. But if they turn away, then seize them and kill them wherever you find them and take not from among them any ally or helper.

— Saheeh International

They wish you to become unbelievers as they themselves are. Do not establish friendship with them until they have abandoned their homes for the cause of God. If they betray you, seize them and slay them wherever you find them. Do not establish friendship with them or seek their help

— Muhammad Sarwar

They desire that you should disbelieve as they have disbelieved, so that you might be (all) alike; therefore take not from among them friends until they fly (their homes) in Allah's way; but if they turn back, then seize them and kill them wherever you find them, and take not from among them a friend or a helper.

— Muhammad Habib Shakir

Fain would they that ye disbelieved even as they have disbelieved, so that ye may be all alike. Wherefore take not friends from among them until they migrate for the sake of Allah; and if they turn away, then lay hold of them and slay them, wheresoever ye find them, and take not from among them a friend or a helper.

— Abdul Majid Daryabadi

They but wish that ye should reject Faith, as they do, and thus be on the same footing (as they): But take not friends from their ranks until they flee in the way of Allah (From what is forbidden). But if they turn renegades, seize them and slay them wherever ye find them; and (in any case) take no friends or helpers from their ranks;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:89

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–91

منافقوں سے ہوشیار رہو اس میں اختلاف ہے کہ منافقوں کے کس معاملہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے خیالات داخل ہوئے تھے، حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان احد میں تشریف لے گئے تب آپ کے ساتھ منافق بھی تھے جو جنگ سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے ان کے بارے میں بعض مسلمان تو کہتے تھے کہ انہیں قتل کردینا چاہیے اور بعض کہتے تھے نہیں یہ بھی ایماندار ہیں، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم) ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 118 یہ حکم ان منافق مسلمانوں کا ہے جو برسر جنگ کافر قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور اسلامی حکومت کے خلاف معاندانہ کارروائیوں میں عملاً حصہ لیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

ہجرت کی مختلف صورتیں اور احکام قولہ تعالیٰ حتی یھاجروا فی سبیل اللہ الخ۔ ابتداء اسلام میں ہجرت دارالکفر سے تمام مسلمانوں پر فرض تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا سابرتاؤ کرنے سے منع کیا ہے جو اس فرض کے تارک ہوں، پھر جب مکہ فتح ہوا تو سرور عالم ﷺ نے فرمایالاھجرة بعد الفتح (رواہ البخاری) ”یعنی جب مکہ فتح ہو کر دارالاسلام بن گیا تو اب وہاں سے ہجرت فرض نہ رہی۔“ یہ اس زمانہ کا حکم ہے جبکہ ہجرت شرط ایمان تھی اس آدمی کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تھا جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے، لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اب یہ صورت باقی نہیں رہی۔ ہجرت کی دوسری صورت یہ ہے جو قیامت تک باقی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 88–89

88۔ 89: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللّٰهُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا۔ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ فئتین، ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ مثلاً کہیں گے، مَالَکَ قَائِماً۔ " رکس الشی " کے معنی ہیں چیز کو الٹ دیا، ارکسہ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

89۔ 1 ہجرت (ترک وطن) اس بات کی دلیل ہوگی کہ اب یہ مخلص مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں ان سے دوستی اور محبت جائز ہوگی۔ 89۔ 2 یعنی جب تمہیں ان پر قدرت و طاقت حاصل ہوجائے۔ 98۔ 3 حلال ہو یا حرام۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–89

53: ان آیتوں میں چار قسم کے منافقین کا تذکرہ ہے اور ان میں سے ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے، اس آیت میں منافقین کی پہلی قسم کا ذکر ہے، یہ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ تھے جو مدینہ منورہ آئے اور ظاہری طور پر مسلمان ہوگئے اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرلی، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے حضور اقدس ﷺ سے تجارت کے بہانے مکہ مکرمہ جانے کی اجازت لی اور واپس چلے گئے، ان کے بارے میں بعض مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ یہ سچے مسلمان تھے اور بعض انہیں منافق سمجھتے تھے ؛ لیکن جب وہ مکہ مکرمہ جاکر واپس نہ لوٹے تو ان کا کفر ظاہر ہوگیا ؛ کیونکہ اس وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنا ایمان کا لازمی حصہ تھا اور جو شخص قدرت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–89

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔ یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔ امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ منافق لوگ تو کفر پر ایسے جمے ہوئے ہیں کہ خود تو اسلام کیا قبول کریں گے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی مثل کافر ہو کر ان کے برابر ہوجاؤ۔ سو اب تم کو چاہیے کہ وہ جب تک ایمان قبول کر کے اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس نہ چلے آئیں اس وقت تک ان کو دوست نہ بناؤ نہ اپنے کسی کام میں ان کو دخل دو اور نہ ان کی حمایت اور اعانت کرو اور اگر وہ لوگ ایمان اور ہجرت کو قبول نہ کریں تو ان کو قید کرو اور قتل کرو جہاں قابو پاؤ اور اجتناب کلی رکھو اور ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً یہ لوگ جو ان کے بارے میں نرمی کی باتیں کر رہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کفر کیا ہے تم بھی کرو ‘ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ دُم کٹی بلی چاہتی ہے کہ سب بلیوں کی دمیں کٹ جائیں۔ فَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ یہ گویا اب ان کے ایمان کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اگر وہ ہجرت نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مؤمن نہیں منافق ہیں۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ ۔ یعنی اگر وہ ہجرت نہیں کرتے جو ان پر فرض کردی گئی ہے تو پھر وہ کافروں کے حکم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

123 مدینہ کے پاس کے منافقین ان کی اقسام :۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ منافقوں کی ایک قسم ایسی بھی تھی جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے یا دینے پر مجبور تھے ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہارے ساتھ شامل ہوجائیں تو اس صورت میں تم انہیں سچا بھی سمجھو اور اپنا ہمدرد بھی۔ اور اگر وہ اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے کی قربانی دینے پر تیار نہیں حالانکہ وہ ایسا کرسکتے ہیں تو تم ان پر ہرگز اعتماد نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

249 ۔ یعنی ان کے مومن ہونے کا کیا ذکر ہے۔ ان کے غلووکفر کا تو یہ حال ہے کہ الٹے وہ تمہی کو اپنے رنگ میں رنگ لینے اور اپنے میں جذب کرلینے کی دھن میں ہیں 250 ۔ (اور دارالحرب کرکے دارالاسلام میں نہ آجائیں) اس وقت ہجرت بھی اسلام کے لئے اقرار شہادتین کی طرح لازمی تھی۔ (آیت) ” لاتتخذوا منھم اولیآء “۔ یعنی ان سے مسلمانوں کا سابرتاؤ مت رکھو کہ دوستی کے جواز کے لئے شرط ہے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یہ قید بہت ضروری تھی، ورنہ یوں تجارت وغیرہ کی غرض سے تو کافر بھی دارالہجرت میں آسکتے تھے۔ دنیا کے قانون میں اسلام کا ثبوت انہی ظاہری چیزوں سے ملتا ہے۔ رہی تصدیق قلب، سو وہ صرف عنداللہ ہے۔ بندوں کے ذمہ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 88–90

آیت نمبر 88 تا 91 ترجمہ : اور جب لوگ اُحُدْ سے لوٹے تو لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا، ایک فریق نے کہا ان کو قتل کرو اور دوسرے فریق نے کہا مت قتل کرو، تو یہ آیت نازل ہوئی، (فَمَالکم) تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو جماعت ہوگئے اللہ نے ان کو ان کے کفر و معاصی کی ندولت واپس پھیر دیا کیا تم چاہتے ہو کہ جن کو اللہ نے گمراہ کردیا تم راہ راست پر لے آؤ یعنی تم ان کو من جملہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کرتے ہو، استفہام دونوں جگہ انکاری ہے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے اس کے لئے تو ہرگز ہدایت کا راستہ نہ پائیگا یہ لوگ تو دل سے چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح یہ لوگ کفر کررہے ہیں تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء (جو لوگ کفر کی طرف لوٹ گئے) وہ تو دل سے چاہتے ہیں کہ کاش تم بھی ایسے کافر ہوجاؤ جیسے وہ ہوگئے یعنی اپنے کفر کی طرح تمہارے کافر ہوجانے کی ان کو تمنا ہے تاکہ (گمراہی میں) تم سب برابر ہوجاؤ۔ فلا تتخذوا منہم اولیآء پس ان میں سے (کسی کو) تم دوست نہ بناؤ۔ ان مرتدوں کی دوستی سے اس آیت میں میں ممانعت فرما دی۔ حتی یہاجروا فی سبیل اللہ تاوقتیکہ (خالص مؤمن ہو کر محض ثواب کی امید پر بغیر کسی دنیوی لالچ کے وہ تمہارے ساتھ مل کر) اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ہجرت تین طرح کی ہوتی ہے : (1) وہ ہجرت جو آغاز اسلام میں مسلمانوں نے کی تھی ‘ (2) مجاہدوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–89

(88۔ 89) مسلمانو ! تم ان مرتدین کے باب میں دو گروہ کیوں ہوگئے، ایک گروہ تو ان کے اموال اور خون کو حلال سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو حرام کہتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے نفاق اور نیت کے فتور کی وجہ سے کفر کی طرف واپس پھیر دیا ہے۔ کیا تم ایسے گمراہوں کو دین الہی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال بد کے سبب گمراہ کر دے اس کو نہ پھر کوئی دین ملتا ہے اور نہ کوئی دلیل ، (اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے، یعنی اللہ گمراہ اسے ہی کرتا جو ہدایت کے باب میں اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اپنی بدکرداری وبداعمالی کے سبب ضائع کردے۔ فرمایا (سو جب ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً۔۔ : معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقوں کی وہ قسم تھی جو مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے، دلیل اس کی یہ الفاظ ہیں : (فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ) ”تو ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بناؤ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں۔“ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے، یا ساتھ دینے پر مجبور تھے۔ ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہیں ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 89–90

آیت نمبر : 89 تا 90۔ اس آیت میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ودوا لوتکفرون “۔ یعنی وہ خواہش کرتے ہیں کہ تم ہو انکی طرح کفر ونفاق میں، شرع برابر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے برات کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیآء حتی یھاجروا “۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “۔ (الانفال : 75) نہیں تمہارے لیے ان کی وارثت سے کوئی چیز یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں، ہجرت کی کئی قسمیں ہیں۔ (1) نبی مکرم ﷺ کی نصرت کے لیے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنا اور یہ ابتدائے اسلام میں واجب تھی حتی کہ فرمایا : ” لا ھجرۃ بعدل الفتح “۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–89

(1) الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والبیہقی نے دلائل میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ احد کی طرف نکلے کچھ لوگ لوٹ آئے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ان کے بارے میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت وہ تھی جو کہتی تھی کہ ہم ان سے قتال کریں گے اور ایک جماعت کہتی تھی ہم قتال نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” فما لکم فی المنفقین فئتین “ اتاری رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ پاکیزہ شہر ہے اور یہ میل کچیل کو دور کردیتا ہے جیسا کہ آگ چاندی کی میل کو دور کردیتی ہے۔ (2) سعید بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَدُّوْا : انہوں نے چاہا ] [ لَـوْ : (کہ) کاش ] [ تَـکْفُرُوْنَ : تم کفر کرو ] [ کَمَا : اس طرح جیسے ] [ کَفَرُوْا : انہوں نے کفر کیا ] [ فَتَـکُوْنُوْنَ : تو تم ہو جائو ] [ سَوَآئً : برابر ] [ فَلاَ تَتَّخِذُوْا : پس تم مت بنائو ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ اَوْلِیَآئَ : کوئی کارساز ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُہَاجِرُوْا : وہ ہجرت کریں ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَوَلَّــوْا : وہ منہ موڑیں ] [ فَخُذُوْہُمْ : تو تم گرفتار کرو ان کو ] [ وَاقْتُلُوْہُمْ : اور قتل کرو ان کو ] [ حَیْثُ : جہاں کہیں ] [ وَجَدْتُّـمُوْہُمْ : تم پائو ان کو ] [ وَلاَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْامِنْھُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا) کہ یہ لوگ اگر ہجرت فی سبیل اللہ سے اعراض کریں تو جب بھی تمہیں ان پر قدرت حاصل ہوجائے ان کو جہاں بھی پاؤ ان کو قتل کرو اور ان میں سے کسی کو بھی دوست اور مددگار نہ بناؤ ان سے بالکل ہی کلی طریقے پر اجتناب کرو۔ قال صاحب الروح ای جانبو ھم مجانبۃ کلیۃ ولا تقبلوا ولایۃ ونصرۃ ابدا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–91

حکم بست وسوم متعلق بہ معاملہ منافقین۔ قال تعالی، فمالکم فی المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔ مبینا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے احوال کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ مسلمانوں کو منافقین کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا چاہیے حاصل حکم یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ اس وقت تک کیا جائے گا کہ جب تک ان کا نفاق چھپا رہے اور جب ان کا کفر اور نفاق واضح اور ظاہر ہوجائے تو پھر ان کی ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے جب دلائل کفر کے واضح ہوجائیں تو پھر تردد کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رکوع کی تفسیر سمجھنا چند روایات کے نقل پر موقوف ہے اس لیے ہم ان روایات کو نقل کرتے ہیں۔ پہلی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 88–89

63 چوتھا حکم سلطانی :۔ راستہ میں مدینہ منورہ سے باہر جو منافق تمہیں ملے اسے بھی قتل کر ڈالو البتہ جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے اور غیر جانبدار ہیں ان کو قتل نہ کرو) یہاں سے منافقین کے دو گروہوں کا حکم بیان کیا گیا ہے ایک وہ منافقین جو مدینہ سے دوسرے شہروں میں نکل گئے تھے دوم وہ جو ایسے کافروں کے پاس جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس آیت میں المنافقین سے منافقین کا پہلا گروہ مراد ہے ان کے قتل کے بارے میں مسلمان دو فریقوں میں بٹ گئے ایک فریق نے کہا وہ منافق ہیں انہیں قتل کرنا چاہیے دوسرے فریق نے ان کے قتل میں توقف کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–89

منافقوں کی دو قسمیں منافقین کی مذمت کا سلسلہ پیچھے سے چلا آرہا ہے اور ان کو مختلف سازشوں کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر ضروری مسائل بھی بیان ہوچکے ہیں۔ آج کی آیات بھی منافقین ہی سے متعلق ہیں۔ ان میں اہل اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں مختلف آراء سے پرہیز کرتے ہوئے کسی ایک رائے پر ہی متفق رہیں اور انہیں کوئی ایسا موقع نہ دیں کہ وہ الٹا تمہیں گمراہ کرسکیں ۔ مفسرین کرام نے منافقین کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ پہلی قسم اعتقادی منافقین کی ہے اور دوسری عملی منافقین کی۔ اعتقادی منافق وہ ہے جو بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ مگر اس کا دل کفر پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَـمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ۝ 0۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۝ 89ۙ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–91

ترکیب : لو تکفرون بتاویل مصدر مفعول ہے وَدُّوا کا کما کفروا۔ ک لغت ہے مصدر محذوف کی ما مصدر یہ ہے اے کفروا ککفرھم۔ الا الذین استثناء ہے فاقتلوھم سے۔ بینکم وبینہم میثاق جملہ خبر یہ صفت ہے قوم کی اوجاء و عطف ہے یصلون پر حصرت صدورہم جملہ بتقدیر قد حال ہے فاعل جاؤکم سے ان یقاتلوکم ای ان یقاتلوکم۔ عن متعلق حصرت سے ہے او یقاتلوا قومہم معطوف ہے ان یقاتلو کم پر فان اعتزلوکم شرط فلم یقاتلوکم الخ اس کی تفسیر۔ فما جعل جملہ جواب فان لم یعتزلوکم شرط فخذوھم جواب شرط۔ تفسیر : کفار سے معاہدہ کی بابت : ابھی فرمایا تھا کہ جس کو خدا گمراہ کرے کیا تم اس کو ہدایت کرسکتے ہو۔ اب یہاں یہ فرماتا ہے کہ تم تو ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنَ سَوَآئً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ ص وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا لا ” وہ تو یہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے کہ تم سب برابر ہوجاؤ۔ پس تم ان میں سے کسی کو اپنا ساتھی نہ بنائو جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ اس سے اعراض کریں تو ان کو گرفتار کرو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پائو۔ اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مددگار نہ بنائو۔ “ (النسآء : 89) سابقہ آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافق حقیقتاً کافر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو اسے اس طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اس سے قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ منافقوں کو ہرگز دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی رضا کے لیے ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں حالت جنگ میں جہاں پاؤ ‘ پکڑو اور قتل کر دو ۔ ایسے لوگوں کو اپنا دوست اور مددگار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ہجرت کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 89 : وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا (وہ لوگ دل سے چاہتے ہیں کہ کاش تم بھی ایسے ہی کافر ہوجائو جیسے وہ ہوگئے) نحو : کاف یہ محذوف مصدر کی صفت ہے اور ما مصدر یہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ودوا لو تکفرون کفراً مثل کفرہم۔ وہ چاہتے ہیں کاش تم کفر کرو کفر کرنا ان کے کفر کی طرح۔ فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآئً (تاکہ وہ اور تم برابر ہوجائو) اس کا عطف تکفرون پر ہے۔ سواء یہ مستوین کے معنی میں ہے۔ تاکہ تم اور وہ کفر میں برابر ہوجائو۔ اسلام سے پہلے موالات نہیں : فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (پس تم ان کو دوست نہ بنائو یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 89۔: (آیت)” ودوا “ تم تمنا کرتے ہو جس طرح وہ اپنے مذہب کی طرف لوٹ گئے تم بھی لوٹو (آیت)” لوتکفرون کما کفروا فتکونون سواء “ ۔ کفر میں وہ برابر ہیں ، جواب تمنی نہیں ہے کیونکہ جواب تمنی کی فاء منصوب ہوتی ہے بلکہ یہاں نسق مراد ہے۔ وہ تمنا کرتے ہیں کہ کافر ہوجائیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ ایسے ہوجائے انکے برابر ہوجائیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ودوا لوتدھن فیدھنون “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا تتخذوا منھم اولیاء “۔ ان کے ساتھ موالات لین دین سے منع فرما دیا ۔ (آیت)” حتی یھاجروا فی سبیل اللہ “۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت نہ کرلیں ، عکرمہ (رح) کا قول ہے یہ ایک اور ہجرت ہے ۔ ہجرۃ کی تین قسمیں ۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 88–91

(88 ۔ 91) ۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے سو آدمی جب عبد اللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جا بیٹھے اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے اور دوسرافرقہ یہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے اور نہ ان کو قتل کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–92

آیت 92 آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لئے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ودوالوتکفرون کماکفروفتکونون سواء۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں اس سے گروہ منافقین مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کے دلوں میں چھی پوئی خواہشات اور اعتقادات کو واضح کردیاتا کہ مسلمان ان سے حسن ظن نہ رکھیں، کہ ان کی دشمنی پر یقین کریں اور ان سے اپنی برات اور بے زار کا اظہار کریں۔ قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ لہذا ان میں سے کسی کو اپنادوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں) یعنی ۔ واللہ ۔ جب تک وہ مسلمان ہوکر ہجرت نہ کرلیں کیونکہ ہجرت اسلام لانے کے بعد ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 88–89

215 منافقوں کے ایک گروہ کے کفر و نفاق کا اعلان و اظہار : سو مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو جن کا کفر و نفاق دلائل و قرائن سے ثابت اور واضح ہوگیا ہے۔ اور جو ایمان لانے کی بجائے الٹا یہ چاہتے ہیں کہ تم کو بھی نور ایمان و یقین سے محروم کرکے راہ حق و ہدایت سے پھیر دیں۔ اور اس طرح تم بھی ہلاکت و تباہی کی اسی راہ پر چلو جس پر یہ چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ استفہام یہاں پر تنبیہ و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی تم کو اے ایمان والو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ رہے ہو۔ ایک ان کی حمایت اور ان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–89

ایمان کا معیار تشریح : مدینہ اللہ رب العزت کی طرف سے مسلمانوں کیلئے جائے پناہ تھا اسی لیے مکہ سے ہجرت کرکے مسلمان مدینہ میں جمع ہوتے رہے۔ مگر آس پاس کئی ایسی بستیاں تھیں کہ جہاں لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کا اچھی طرح پتہ نہ چل رہا تھا کچھ مسلمان تو ان کو واقعی پکے مسلمان سمجھتے تھے مگر کچھ مسلمان ان کی منافقت سے آگاہ ہوچکے تھے تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے ہیں مگر ان کے دل مسلمانوں سے دور ہیں یہ صرف ذاتی مفادات اور دنیاوی فائدوں کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ دلوں کے اتنے برے اور بدنیت ہیں کہ ہدایت آنے کے بعد بھی ہدایت پانا نہیں چاہتے، بلکہ یہ تو چاہتے ہیں کہ تم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 88–91

اسرار و معارف آیات نمبر 88 تا 91 ۔ فمالکم۔۔۔ مبینا۔ مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ منافقین کے بارے نرم رویہ اختیار کریں بلکہ حق کو ضرور حق کہا جائے گا۔ ایسے ہی باطل جب ظاہر ہوگیا تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اسے باطل کہنا ہوگا کچھ افراد ایسے تھے جو بظاہر مسلمان ہو کر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے مگر یہاں رہ نہ سکے اور کچھ عرصہ بعد مکہ پلٹ گئے اور مرتد ہوگئے یعنی اسلام لانے کے بعد کافر ہوئے تو مرتد ہوگئے مگر اللہ نے انہیں منافق کہا ہے۔ غالبا اس لیے کہ وہ شروع سے ایمان لائے ہی نہ تھے بلکہ ممکن ہے اہل مکہ کے بھیجے ہوئے ہوں کہ مدینہ کے حالات سے باخبر رکھیں گے مگر وہ یہاں نہ ٹھہر سکے واپس بھاگے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 89–90

ف 2 یعنی اگر یہ منافقین کیس ایسے قبیلے سے اتصال رکھتے ہوں جس کا تم سے معاہد ہوچکا ہے تو تم انہیں قتل نہ کرو کیونکہ معاہدہ کا احترام اور اس کی پابندی لازم ہے آیت کا یہ مفہوم صحیح ہے بعض نے یصلون سے اتصال مراد لیا ہے مگر صحیح نہیں ہے کیونکہ اتصال نسبی قتال کے مانع نہیں ہوتا بلکہ اس آیت میں ان لوگوں کا استثنا ہے جو کسی معاہد قبیلہ کے جوار میں رہتے یا ان کے حلیف ہوتے، کیونکہ س وقت قبائل عرت دو حصوں میں تقسیم بعض کا معاہدہ مسلمانوں سے تھا اور بعض مشرکین مکہ کے حلیف یا ان کے جوار میں رہتے تھے چناچہ صلح حدیبہ میں بی یہ شق موجود ہے یہاں ان سے مراد بنو بکر۔ بنو اور خزاعتہ وغیر ہم کے قبائل جو اس وقت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:89) فتکونون سوائ۔ تاکہ تم بھی (اور وہ بھی) یکساں ہوجائیں۔ فان تولوا۔ اگر وہ ہجرت سے منہ موڑیں۔ انکار کریں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–90

آیت نمبر 88-90 لغات القرآن : مالکم، تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ فئتین، وہ جماعتیں۔ ارکس، الٹ دیا۔ یصلون، وہ ملتے ہیں۔ حصرت، رک گئی، رک گئے۔ اعتزلوا، وہ علیحدہ ہوگئے۔ السلم، صلح۔ تشریح : جس زمانے میں رسول اللہ ﷺ نے ہجرت فرمائی اس زمانے میں ہر مسلمان کو حکم تھا کہ جو مسلمان جہاں کہیں بھی ہے بشرط طاقت مدینہ کی طرف ہجرت کر جائے۔ ورنہ اس کا شمار منافقین میں ہوگا۔ ان میں ایک طبقہ تو وہ تھا جو جانے کے لئے مالی اور دوسری استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ وہ تمام مظلومیت کے باوجود مجبوراً اپنی جگہ رہ گیا۔ ان کا شمار مستضعفین میں ہوا۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر ہجرت سے گریز کرتا تھا۔ یہ لوگ بظاہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 88–91

جنگ احد سے واپس جانے والوں کا ذکر شان نزول : جنگ احد میں ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمی جب عبداللہ بن ابی منافق کے ساتھ لشکر اسلام سے جدا ہو کر مدینہ کو چلے آئے تو باقی سات سو آدمی جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کے دو فرقے ہوگئے تھے۔ ایک فرقہ تو یہ کہتا تھا کہ یہ تین سو آدمی عین وقت پر لشکر اسلام چھوڑ کر ایک منافق کے بہکانے سے گھر جابیٹھے۔ اس واسطے اب وہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ اب موقع پڑے تو ان کا قتل کرنا لازم ہے، اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ نہیں وہ ہمارے بھائی مسلمان ہیں نہ ہم ان سے لڑیں گے نہ قتل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے آپس کے اختلاف رفع ہوجانے کی غرض سے یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

جہاد و ہجرت : (ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ ان کفار کی جو تم سے برسرپیکار ہیں ، خواہشات کیا ہیں ؟ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اپنی طرح کفر وظلمت کی وادیوں میں ٹامک ٹوٹیاں مارتے دیکھیں ایسے لوگ ہرگز کسی دوستی اور تعلق کا استحقاق نہیں رکھتے ، یہ اس قابل ہیں کہ ان سے کامل بیزاری کا اظہار کیا جائے ۔ ہجرت سے مراد ان آیات میں مخلصانہ اسلام کو قبول کرنا ہے اسلام و ہجرت باہم اس لئے لازم ہیں کہ قبول حق وحقانیت کے بعد باطل سے جنگ قطعی اور واجبی ہے ۔ وہ لوگ جو اسلام قبول کرکے بھی کفروشرک میں بھرے رہتے ہیں ، درحقیقت مسلمان نہیں حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” انا بری من کل مسلم اقام بین اظھر المشرکین “۔ مجبوری اور اضطرار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 وہ تو یہ چاہتے ہیں اور وہ تو اس بات کے متمنی ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی ان ہی جیسے کافر بن جائو تاکہ تم اور وہ سب ایک سے ہو جائو یعنی جیسے انہوں نے کافرانہ روش اختیار کی ویسے ہی تم بھی کفر کی روش اختیار کرلو جس میں تم او وہ سب برابر ہو جائو۔ لہٰذا تم اس وقت تک ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور صحیح طور پر مہاجر نہ بنیں ۔ پھر اگر وہ ایمان لانے سے روگردانی کریں یعنی وہ ہجرت نہ کریں جو اصل ایمان کی علامت ہے تو تم جہاں کہیں بھی ان پر قابو پائو ان کو گرفتار کرو اور ان کو قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 8۔ اس وقت ہجرت کا وہ حکم تھا جواب اقرار بالشہادتین کا ہے۔ 9۔ مطلب یہ کہ کسی حالت میں ان سے کوئی تعلق نہ رکھو نہ امن میں دوستی نہ خوف میں استعانت بلکہ بالکل الگ تھلگ رہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ وہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی وہی ہوجاؤ ۔ یہ دوست بنانے کے قابل نہیں ہیں : 152: منافقین کا یہ پہلا گروہ ہے جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دل اسلام سے دور ہیں۔ ایسے لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جو ان کو مجبور کرتی ہیں اور اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن اسلام پر ان کا دل نہیں جمتا کیوں ؟ اس لیے کہ اسلام عمل چاہتا ہے وہ اس سے دور بھاگتے بھاگتے بھاگ ہی جاتے ہیں۔ ان کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ ہماری طرح سارے ہی بدعمل ہوجائیں تاکہ ہمیں اعمال پر مجبور نہ ہونا پڑے اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان بدعملوں کے ساتھ زیادہ راہ و رسم مت رکھو کیونکہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے اور بروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–91

Different forms of Emigration and their Rules Hijrah (Emigration) mentioned in verse 89 has been taken up in detail under the commentary on verse 100 of Surah al-Nis-a' which appears a little later. At this point, it is sufficient to know that Emigration from the homeland of Disbelief (Darul-kufr) was enjoined on all Muslims during the early period of Islam. It is for this reason that Allah Almighty has prohibited treating those who fail to carry out this obligation as Muslims. Consequently, when Makkah was conquered, the Holy Prophet declared: ھِجرَۃَ بَعدَ الفَتح لَا (There is no Hijrah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

118. This is the verdict on those hypocritical confessors of faith who belong to a belligerent, non-Muslim nation and actually participate in acts of hostility against the Islamic state.

Read the full tafseer →