An-Nisaa 4:87

An-Nisaa · from ayah 87

4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ— لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ؕ— وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا ۟۠اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah - there is no deity except Him. He will surely assemble you for [account on] the Day of Resurrection, about which there is no doubt. And who is more truthful than Allah in statement.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 11 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:87

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں وه تم سب کو یقیناً قیامت کے دن جمع کرے گا، جس کے (آنے) میں کوئی شک نہیں، اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات واﻻ اور کون ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ ہے (کہ) اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ تمہیں ضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بات میں زیادہ سچا کون ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر صورت تمہیں قیامت کے دن کی طرف (لے جاکر) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ یقینا تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن کی طرف لے جا کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہوسکتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، وہ ضرور جمع کر لائے گا تم سب لوگوں کو قیامت کے اس دن میں، جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوسکتی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ وہ ہے کہ کوئی معبود نہیں بجز اس کے وہ ضرور تم (سب) کو قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کوئی شبہ نہیں اور کون اللہ سے بڑھ کر بات میں سچا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہیں لازماً جمع کرے گا قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوگا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

There is no god but Allah. He will certainly gather you all together on the Day of Resurrection - the Day regarding which there can be no doubt. Whose word can be truer than Allah's?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah: There is no god but He. He shall certainly gather you towards the Day of Doom. There is no doubt about it. Who is more truthful in his word than Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

Allah: There is no god but He. He shall certainly gather you towards the Day of Doom. There is no doubt about it. Who is more truthful in his word than Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah! None has the right to be worshipped but He. Surely, He will gather you together on the Day of Resurrection about which there is no doubt. And who is truer in statement than Allah

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah! There is no Allah save Him. He gathereth you all unto a Day of Resurrection whereof there is no doubt. Who is more true in statement than Allah?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah - there is no deity except Him. He will surely assemble you for [account on] the Day of Resurrection, about which there is no doubt. And who is more truthful than Allah in statement.

— Saheeh International

God exists. He is the only Lord. He will gather you all together on the Day of Judgment which will certainly come. Who is more truthful than God?

— Muhammad Sarwar

Allah, there is no god but He-- He will most certainly gather you together on the resurrection day, there is no doubt in it; and who is more true in word than Allah?

— Muhammad Habib Shakir

Allah! there is no god but he. Surely He shall gather you together on the Day of Resurrecticn, whereof there is no doubt; and who is more truthful than Allah in discourse?

— Abdul Majid Daryabadi

Allah! There is no god but He: of a surety He will gather you together against the Day of Judgment, about which there is no doubt. And whose word can be truer than Allah's?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 84–87

حکم جہاد امتحان ایمان ہے رسول اللہ ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہیے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابو اسحاق حضرت براء بن عازب ؓ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو تو حضرت براء نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 115 یعنی کافر اور مشرک اور ملحد اور دہریے جو کچھ کر رہے ہیں اس سے خدا کی خدائی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس کا خدائے واحد اور خدائے مطلق ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو کسی کے بدلے بدل نہیں سکتی۔ پھر ایک دن وہ سب انسانوں کو جمع کرکے ہر ایک کو اس کے عمل کا نتیجہ دکھا دے گا۔ اس کی قدرت کے احاطہ سے بچ کر کوئی بھاگ بھی نہیں سکتا۔ لہٰذا خدا ہرگز اس بات کا حاجت مند نہیں ہے کہ اس کی طرف سے کوئی اس کے باغیوں پر جلے دل کا بخار نکالتا پھرے اور کج خلقی و ترش کلامی کو زخم دل کا مرہم بنائے۔ یہ تو اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے۔ لیکن یہی آیت اس پورے سلسلہ کلام کا خاتمہ بھی ہے جو پچھلے دو تین رکوعوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پھر فرمایا اللہ لا الہ الا ھو لیجمعنکم الی یوم القیمة لاریب فیہ یعنی ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کو معبود جانو، جو کام کرو اس کی عبادت کی نیت سے کرو، وہ تم کو قیامت کے روز جمع فرمائیں گے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اس روز سب کے بدلے عنایت فرمائیں گے، قیامت کا وعدہ اور جزاء و سزا کی خبر سب حق ہے۔“ ومن اصدق من اللہ حدیثاً کیونکہ اللہ کی دی ہوئی خبر ہے، اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–87

آگے کا مضمون۔ آیات 86 تا 100: آیت 81 میں نبی ﷺ کو منافقین سے اعراض کا جو حکم دیا گیا تھا اس کا اثر قدرتی طور پر جاں نثار صحابہ پر یہ پڑ سکتا تھا کہ جن کے باب میں ان کو شبہ بھی ہوجاتا کہ ان کا تعلق منافقین سے ہے۔ ان سے وہ ربط ضبط اور سلام و کلام ختم کردیتے اور اس طرح ایک معاشرتی بائیکاٹ کی شکل پیدا ہوجاتی جو ابھی اس مرحلے میں مطلوب نہیں تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس موقع پر مسلمانوں کو ایسی ہدایات دی جائیں جو ان کو اعتدال پر قائم رکھیں۔ وہ منافقین سے ہوشیار تو رہیں لیکن ان سے سلام و کلام بند نہ کریں۔ ابھی ان کو اصلاح حال کا اور موقع دیں۔ چناچہ سب سے پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 86–87

86۔ 1 تحیۃ اصل میں تحیۃ (تفعلۃ) ہے یا کے یا میں ادغام کے بعد تحیۃ ہوگیا۔ اس کے معنی ہیں۔ درازی عمر کی دعا (الدعاء بالحیاۃ) یہاں یہ سالم کرنے کے معنی میں ہے۔ (فتح القدیر) زیادہ اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں و رحمتہ اللہ کا اضافہ اور السلام علیکم و رحمتہ اللہ کے جواب میں وبرکاتہ کا اضافہ کردیا جائے۔ لیکن کوئی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے تو پھر اضافے کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے، ایک اور حدیث میں ہے کہ صرف السلام علیکم کہنے سے دس نیکیاں اور اس کے ساتھ و رحمتہ اللہ کہنے سے بیس نیکیاں اور برکاتہ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ (مسند احمد،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–87

52: اسلام بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سفارش ہے، اس لیے سفارش کا حکم بیان کرنے کے ساتھ سلام کا حکم بھی بیان فرما دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیا ہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے، مثلاً اگر اس نے صرف السلام علیکم کہا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے لیکن اگر بعینہ اسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 37 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 94۔ اس سبق کا آغاز اس اصول سے ہوتا ہے جس کے اوپر اسلامی نظام کی عمارت استوار ہے اور اس کے تمام پہلو اس اصول سے ماخوذ ہیں ۔ (آیت) ” نمبر 87۔ اسلامی نظام زندگی کا پہلا قدم عقیدہ توحید ہے اور عقیدہ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ حاکم ہے ۔ اس اسلامی قونون وضع کریں ‘ یا اسلامی انتظامیہ قائم کریں ۔ قانون نظام کا تعلق اسلامی معاشرے کے داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی قانون سے ہو جس کے مطابق اسلامی سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے ۔ چناچہ زیر بحث آیت بعض داخلی اور بین الاقوامی قوانین کا افتتاحیہ ہے۔ نفس انسانی کی تربیت کا سفر اس عقیدے سے شروع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 87–88

2 ان منافقوں میں وہ لوگ داخل ہیں جو ظاہر میں بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ ظاہر و باطن کفر پر قائم تھے لیکن حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور محبت کا معاملہ رکھتے تھے اور غرض ان کی یہ تھی کہ مسلمانوں کی فوج ہماری قوم پر چڑھائی کرے تو ہمارے جان و مال اس حیلہ سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کا آنا جانا اس غرض سے ہے دل کی محبت سے نہیں تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ ان شریروں سے ملنا ترک کردینا چاہیے تاکہ ہم سے جدا ہوجائیں اور بعضوں نے کہا ان سے ملے جائیے شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے قبضہ میں ہے تم اس کا ہرگز فکر مت کرو اور ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 87 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ ط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا منافقین پر جو تین چیزیں بہت شاق تھیں ‘ اب ان میں سے تیسری چیز کا تذکرہ آ رہا ہے ‘ یعنی ہجرت۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو بیمار تھے ‘ بوڑھے تھے ‘ سفر کے قابل نہیں تھے ‘ یا عورتیں اور بچے تھے ‘ ان کا معاملہ تو پہلے ذکر ہوچکا کہ ان کے لیے تمہیں قتال کرنا چاہیے تاکہ انہیں ظالموں کے چنگل سے چھڑاؤ۔ ایک وہ لوگ تھے جو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان تو کرچکے تھے لیکن اپنے کافر قبیلوں اور اپنی بستیوں کے اندر آرام سے رہ رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے ‘ جبکہ ہجرت اب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

120 وہ سچی بات یہ ہے کہ قیامت یقینا آ کے رہے گی۔ اس دن تمام قسم کے لوگ منافقین بھی، مشرکین بھی اور مسلمان بھی سب اللہ کے حضور اکٹھے کر کے لائے جائیں گے اور ان سب کا پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔ نیز سچی بات یہ ہے کہ اسلام دشمن عناصر جتنی بھی کوششیں کرسکتے ہیں کر دیکھیں نہ وہ اسلام کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ اللہ کے قانون کو بدل سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

245 ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے چھوٹے بڑے سارے ہی ارشادات سے متعلق قلب میں یقین محکم اور اذعان کامل قائم رہنا چاہیے۔ اگر ریب وتذبذب ذرا بھی باقی رہ گیا تو عمل بلکہ عزم عمل میں بھی کوتاہی رہ جائے گی، (آیت) ” الی “۔ یہ کبھی فی کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہاں تو اسی معنی میں ہے۔ الی بمعنی فی (جمل) المراد لیجمعنکم فی الموت (کبیر) (آیت) ” فیہ “۔ میں ضمیر (آیت) ” یوم “۔ کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور جمع کی طرف بھی۔ فی الیوم اوفی الجمع (بیضاوی) معنی بہرصورت یہ ہیں کہ کوئی شبہ اس بیان کی حقیقت اور اس خبر کی صداقت میں نہیں۔ لاشک فی حقیقۃ ما اقول لکم فی ذلک واخبر کم من خبری ( ابن جریر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 86–87

وَاِذاحُیّیتُمْ بتحیةٍ فحیوا باَحْسَنَ منھا، تحیَّة، اصل میں تَحْییَة بروزن تَفْعِلَة، یاء کو یاء میں ادغام کردیا تحِیَّة ہوگیا، اس کے معنی ہیں درازی عمر کی دعاء کرنا یہاں سلام کرنے کے معنی میں ہے سلام کا اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح تو آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں ورحمتہ اللہ کا اضافہ کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ قبل ازاسلام سلام کا طریقہ : اسلام سے پہلے عرب کی عام عادت یہ تھی کہ ملاقات کے وقت آپس میں حیاک اللہ یا انعم اللہ بک عینا یا انعم صباحاً وغیرہ الفاظ کہتے تھے اسلام نے سلام کے اس طریقہ کو بدل کر السلام علیکم کا طریقہ جاری کیا، جس کے معنی ہیں تم تکلیف اور رنج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ لا الہ الا ہو اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں۔ اللہ مبتدا ہے اور لا الہ الا ہو خبریا جملہ معترضہ تاکید یہ ہے سابق اور لاحق میں جو تہدید کا مضمون ہے اس کی تاکید اس جملہ سے ہو رہی ہے اور مبتدا (اللہ) کی خبر لیجمعنکم : ہے۔ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ وہ ضرور ضرور تم کو (قبروں سے نکال کر) قیامت کے دن جمع کرے گا۔ آیت سابقہ میں حسیباً آیا تھا اس جملہ کا مفہوم بھی حسیباً کی طرح ہے۔ الی یوم القیمۃ میں الییا فی کے معنی میں ہے (اسی کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے) یا اس کا متعلق محذوف ہے یعنی تم قیامت کے دن کی طرف جاؤ گے۔ قیام اور قیامت دونوں مصدر ہیں جیسے طلاب : اور طلابۃ۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) منافقین میں سے دس آدمیوں کی جماعت دین اسلام سے مرتد ہو کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلی گئی، اس کے بارے میں جو اختلاف رائے ہوا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–87

جہاد کا حکم دینے کے بعد اب صلح کے بعض احکام بیان فرمائے چناچہ فرمایا کہ اگر کفار کی طرف سے جنگ ختم کرنے اور صلح کرنے کی کوئی پیش کش کی جاتی ہے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا کم از کم اتنی پیش کش ضرور قبول کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ) [ الأنفال : 61 ] ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجا اور اللہ پر بھروسہ کر۔“ ایک مصداق اس آیت کا یہ ہے کہ جہاد کے سفر کے دوران کوئی شخص اگر اطاعت کے اظہار کے لیے یا اسلام قبول کرنے کے اظہار کے لیے سلام کہے تو یہ کہہ کر اسے قتل مت کرو کہ تم مومن نہیں۔ (النساء : 94) اور ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 86–88

آیت نمبر : 86۔ اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا حییتم بتحیۃ “۔ التحیۃ یہ حییت کا مصدر ہے۔ اصل میں تحییۃ تھا، جسے توضیۃ اور تسمیۃ ہے یا کو یا میں ادغام کیا گیا۔ التحیۃ کا معنی سلام ہے، التحیۃ کی اصل زندگی کی درازی کی دعا کرنا ہے۔ التحیات للہ یعنی آفات سے سلامتی، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ملک بھی ہے، عبداللہ بن صالح العجلی نے کہا میں نے کسائی سے التحیات للہ کے متعلق پوچھا کہ اس کا معنی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : التحیات، برکات کی مثل ہے۔ میں نے کہا : برکات کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا میں نے اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

سلام کا جواب دینا واجب ہے (1) احمد نے الزھد میں وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے (حسن سند کے ساتھ) سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا السلام علیک یا رسول ورحمۃ اللہ ! آپ نے فرمایا وعیک السلام ورھمۃ اللہ وبرکاتہ پھر اور آدمی آیا اور کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے جواب ارشاد فرمایا وعلیک اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کے پاس فلاں اور فلاں آیا انہوں نے آپ پر سلام کیا تو آپ نے ان دونوں کو زیادہ کلمات کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَللّٰہُ : اللہ ] [ لَآ اِلٰــہَ : کوئی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ ہُوَ : وہ ] [ لَـیَجْمَعَنَّـکُمْ : وہ لازماً جمع کرے گا تم لوگوں کو ] [ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن کی طرف ] [ لاَ رَیْبَ : کوئی شک نہیں ہے ] [ فِیْہِ : جس میں ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ اَصْدَقُ : زیادہ سچا ہے ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ حَدِیْثًا : بلحاظ بات کے ] نوٹ 1: میدان احد سے مکہ واپس ہوتے ہوئے کفار اور مسلمانوں کے درمیان اگلے سال میدان بدر میں دوبارہ جنگ کرنے کا وعدہ ہوا تھا۔ وقت آنے پر اس کی تیاری میں کچھ مسلمانوں کو تامل تھا۔ اس وقت آیت 84 نازل ہوئی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ ستر صحابہ کرام ؓ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ قیامت کے دن سب کو جمع فرمائے گا اس آیت میں عقیدہ توحید اور حشر و نشر اور قیام قیامت کو بیان فرمایا ہے اور فرمایا کہ قیامت کے دن میں کوئی شک نہیں وہ روز جزا ہے جس میں خیرو شر کا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کی خبر دی ہے اور اس کی بات سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں لہٰذا یقین مانو اور عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تاکید وعید۔ قال تعالی، اللہ لاالہ الاھو۔۔۔ الی۔۔۔۔ حدیثا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیت میں یعنی ان اللہ کان علی کل شیء حسیبا۔ آیت۔ میں وعید اور تہدید تھی اب اس آیت میں اس کی تاکید کے لیے اپنی توحید اور عظمت اور قیامت کا ذکر فرماتے ہیں اللہ کی یہ شان ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں ذرہ برابر کسی قسم کا شک نہیں یعنی قیامت ضرور آئے گی اور حساب و کتاب اور جزاء اعمال کے لیے سب ایک جگہ ضرور جمع ہوں گے اور اللہ سے کون زیادہ بات میں سچا ہوسکتا ہے یعنی جب اس نے قیامت کی خبردی تو اس کو سچ جانو اور تعمیل احکام کا خاص اہتمام کرو اور یقین جانو کہ جس اس کے احکام کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

62 ترغیب الی الجہاد کے بعد اصل مسئلہ (مسئلہ توحید) بیان فرما دیا جس کی خاطر جہاد کرنا ہے اور ساتھ لَیَجْمَعَنَّکُمْ الخ سے تخویف اخروی سنادی کہ اگر اللہ کا حکم نہیں مانو گے اور جہاد سے گریز کرو گے تو آخر کار قیامت کے دن میدان حشر میں اللہ کے سامنے کیے جاؤ اور اپنے اعمال کی سزا پاؤ گے اور کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکو گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 85–87

ربط آیات گزشتہ درس میں جہاد کے سلسلہ میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی ، اور اس بات کا تذکرہ تھا کہ امن و جنگ کے زمانہ میں غلط بات کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ ہر ایسی بات کو عام کردیتے تھے جس سے اہل اسلام کو نقصان پہنچنے کی امید ہو اور پھر ان کے ساتھ کمزور دل مسلمان بھی شامل ہوجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ، نیز یہ فرمایا کہ جب کوئی ایسی بات پہنچے تو اسے بلاتحقیق آگے چلانے کی بجائے رسولِ خدا کے سامنے پیش کر دو یا پھر حاکم وقت کے نوٹس میں لاؤ ، جو پوری تحقیق و تجسس کے بعد فیصلہ کریگا کہ آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ پھر اسی ضمن میں علماء فقہاء…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۝ 0ۭ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ لَا رَيْبَ فِيْہِ۝ 0ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِيْثًا۝ 87ۧ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–87

ترکیب : واذا حییتم شرط تحیۃ اصلہ تحیۃ تفعلۃ من حیث ی کی حرکت نقل کرکے ح کی طرف آئی ٗ باہم ادغام ہوگیا۔ فحیوا جواب اس کی اصل حییوا تھی۔ لجمعنکم جواب ہے قسم محذوف کا پھر یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور مبتداء کی دوسری خبر بھی بن سکتا ہے فما مبتداء لکم خبر فی المنافقین متعلق ہے محذوف سے اے اصر تم فئتین اس محذوف کی خبر۔ تفسیر : فقاتل فی سبیل اللّٰہ میں جس طرح کہ شرک و فساد مٹانے کے لئے لڑنے کی تاکید تھی اسی طرح اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ لڑائی صرف اپنے موقع پر ہے اور خاص حقوق الٰہی کے لئے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ تم اپنے اخلاق اور معاشرت میں درندہ پن اختیار کرو۔ گاہ بیگاہ جس کو پائو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ط لَـیَجْمَعَنَّـکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا ع ” اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن کی طرف لیجا کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہوسکتا ہے۔ “ (النسآء : 87) منافقین کے نفاق کا اصل سبب مسلمانوں کو گزشتہ آیت کریمہ میں منافقین سے ترک تعلق سے روکا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جس طرح پہلے ان سے محبت سے پیش آتے تھے اسی محبت کو باقی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آہستہ آہستہ قرآن کریم کے اسلوبِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–87

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کا معنٰی ہر وقت اور ہر کسی سے لڑنا نہیں بلکہ جو بھی اسلام اور مسلمانوں کی طرف مائل ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ہے۔ فرمایا جو تمہیں ہدیہ دے تو تم بھی اسے اس سے بہتر یا اس جیسا تحفہ دو ۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر محاسب و نگہبان اور وہی معبود برحق ہے۔ جو تمہیں دنیا میں پیار، محبت اور توحید کی بنیاد پر اکٹھا رہنے کا حکم دیتا ہے۔ وہی قیامت کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا۔ لوگوں کو جمع کرنے اور قیامت کے آنے میں ذرہ برابر شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا اور اس سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا سچ سنو، اسے قبول کرو اور اس پر قائم ہوجاؤ۔ یہاں تحفہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 87 : اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ہُوَط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن میں جمع کریگا) نحو : لفظ اللہ مبتداء۔ لا الٰہ الا ہو۔ خبر ہے یا جملہ معترضہ ہے اور لیجمعنکم خبر ہے۔ مطلب یہ ہے۔ اللہ کی قسم وہ ضرور تمہیں جمع کرے گا۔ یوم القیامۃ سے مراد تمہیں اٹھائے گا۔ قیامت اور قیام یہ طلابہ اور طلاب کی طرح ہیں۔ اور قیام سے قبور سے اٹھنا یا حساب کے لئے کھڑا ہونا مراد ہے۔ جیسا یوم یقوم الناس لرب العالمین۔ المطففین : 6۔ میں وارد ہوا۔ لَا رَیْبَ فِیْہِقیامت میں کوئی شبہ نہیں۔ نحو : یہ یوم القیامۃ سے حال ہے۔ ہَا کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

87۔ (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو لیجمعنکم “۔ لام قسم ہے ۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” واللہ لیجمعنکم فی الموت “ یعنی تم کو موت کے ساتھ جمع کرے گا یا قبروں میں جمع کرے گا ۔ (آیت)” الی یوم القیامۃ “ قیامت کو قیامۃ اس وجہ سے کہا گیا چونکہ قیامت کے دن ان کو قبروں سے اٹھایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” یوم یوم یخرجون من الاجداث سراعا “۔ بعض نے کہا کہ حساب دینے کے لیے ان کو اٹھایا جائے گا جیسا کہ رب کا فرمان ہے (آیت)” یوم یقوم الناس لرب العالمین “۔ ” لاریب فیہ ومن اصدق من اللہ حدیثا “ یعنی قول اور وعدہ کے ساتھ تصدیق کرنے والا ، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ کے نزدیک صاد کے سکون کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 84–87

(84 ۔ 87) ۔ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے سال آئندہ بدر صغریٰ پر لڑائی کے لئے آنے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ پر آنحضرت ﷺ سترہ صحابہ کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر بدر صغریٰ کو تشریف لے گئے اور تین روز تک وہاں قیام کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان وغیرہ کے دل میں رعب ڈال دیا۔ اس لئے یہ لوگ وعدہ کے موافق بدر صغریٰ پر نہیں آئے یہ بدر صغریٰ ایک مقام ہے جہاں سالانہ بازار بھرتا ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت آنحضرت ﷺ کے ترغیب دلانے پر ستر آدمی باوجود زخمی ہونے کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ گئے تھے جن کی تعریف اوپر گذرچ کی ہے اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح اے نبی اللہ کے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 87 اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے، نیز اس لئے کہ وہ تخلیق و تدبیر کا ئنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر سا کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے، اس لئے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے۔ فرمایا : (لیجمعنکم) ” وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا۔ (الی یوم القیمۃ لاریب فیہ) ” قیامت کے دن “ یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–87

سلام اور اس کا جواب۔ قول باری ہے (واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب ددو یا کم ازکم اسی طرح) اہل لغت کے نزدیک تحیت کے معنی ملک یعنی سلطنت اور مالک بنانے کے ہیں شاعر کا یہ شعر اس معنی میں ہے۔ اسیر بہ الی النعمان حتی، انیح علی تحیتہ بجند۔ میں اس اونٹ پر بادشاہ نعمان کی طرف جارہا ہوں یہاں تک کہ میں اس کی سلطنت کے اندرجند کے مقام پر اپنااونٹ بٹھاؤں گا یعنی قیام کروں گا۔ شاعر نے ، علی تحتیہ، کہہ کرنعمان کی سلطنت مراد لی ہے اہل عرب کے قول ، حیاک اللہ کے معنی ، ملک اللہ ، اللہ تجھے مالک بنادے ) کے ہیں ، سلام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

213 قیامت کی قطعیت کا ذکر وبیان : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ قیامت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ اس قیامت کے قیام و وقوع میں، اور نہ اس میں برپا ہونے والے اس حشر و اجتماع میں۔ سو اس میں کسی بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ عقل سلیم اور نقل صحیح دونوں اسکے امکان اور وقوع پر متفق ہیں۔ پس جو کوئی اس میں شک کرتا ہے، یا اس کا انکار کرتا ہے، تو وہ اس کے اپنے دماغ کی خرابی اور قسمت کی مار ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ اس کے بغیر عدل و انصاف کے تقاضوں کا پورا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس دن کا آنا ایک طبعی اور لازمی امر ہے۔ سو فرمایا گیا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 86–87

نیکی کا بدلہ تشریح : مسلمانوں کو تہذیب اور اخلاق کے بارے میں حکم دیا جارہا ہے کہ چاہے کوئی تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو مسلمان کا اخلاق اجازت نہیں دیتا کہ کسی سلام کرنے والے کو اس سے بہتر اور خوش خلقی سے جواب نہ دیا جائے۔ یوں بھی آپس میں ملنے کا بہترین طریقہ اسلام علیکم کہنا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام یا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ کہا جائے اگر کوئی السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا چاہئے۔ اس طرح آپس میں محبت اور خوش خلقی کا اظہار ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد نے حضرت ابو امامہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–87

اسرار و معارف آیات نمبر 77 تا 78 ۔ اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 87–88

ف 1 یہ آیات کب اتریں اور ان میں منافقین سے مراد کون لوگ ہیں اس بارے میں صحابہ ؓ کرام سے مختلف روایات ہیں حضرت زید ؓ بن ثابت سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر راستہ ہی سے واپس ہوگئے (ابن ابی اور ان کے ساتھی) اس کے بارے میں میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ کہنے لگا کہ ہم انہیں قتل کریں اور دسرا گروہ اس کے خلاف تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہو (بخاری ومسلم) امام شوکانی فرماتے ہیں ؛ نزول کے اسباب میں یہ روایت سب سے اصح ہے۔ دوسری روایت حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف سے ہے کہ عرب کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے پھر وہ بیمار ہو کر واپس چلے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 87 لغات القرآن : لیجمعنکم ، البتہ وہ ضرور تمہیں جمع کرے گا ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ حدیث، بات ۔ تشریح : کافروں اور منافقوں کو اس بات میں سراسر شک تھا کہ قیامت آئے گی یا نہیں۔ انہیں اس بات پر بھی شک تھا کہ یہ کیسے ہوگا کہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان سے حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور پھر انہیں جنت یا جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قیامت کا دن ایک ایسا یقینی دن ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات اس ذات کی طرف سے ہے جس کا قول سب سے سچا قول ہوتا ہے۔ ہر شخص قیامت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا اور پھر اسے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–87

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لئے (مشورہ کیے بغیر) شائع نہ کرنا چاہیے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ! آپ مسلانوں کو دین کی لڑائی کی ترغیب دلایا کیجئے، باقی رہی فتح وشکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہیں ہے بلکہ فتح وشکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ آپ بذات خود اللہ کی راہ میں لڑئیے اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ اللہ بند کرے لڑائی۔ یہ ایک غیب کی خبر تھی چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا اور یہ جو ہے کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے۔ اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔ ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں اکثر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

شغل تکفیر : (ف 3) اس آیت کا ماقبل کے ساتھ ایک لطیف ربط ہے اور وہ یہ کہ سابقہ آیت میں شغل تکفیر سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو ہدیہ سلام پیش کرتا ہے ، زائد از زائد عزت واکرام کا مستحق ہے تم مجاز نہیں کہ اسے غیر مسلم یا منافق سمجھو ۔ (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “ ۔ کہہ کر اس مفہوم کی تائید فرمائی ہے یعنی جب خدا وہ ہے جس کی پرستش ضروری ہے اور جو غلام الغیوب ہے تو تمہیں کیا حق حاصل ہے کہ کسی کے باطن کے متعلق فیصلہ کرو اور خواہ مخواہ ناجائز بدظنی سے کام لو ، تم کسی کے خدا نہیں کہ جسے کافر کہہ دو ‘ کافر ہوجائے ، (آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ “ میں زجر وتوبیخ ہے ان لوگوں کے لئے جو خدائی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں وہ تم سب کو ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا اس دن کے واقع ہونے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ (تیسیر) لاریب فیہ میں دو احتمال ہوسکتے ہیں ایک کو ہم نے اختیار کرلیا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے جمع کرنے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں۔ واللہ اعلم اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ سچی تو کسی کی بات کیا ہوگی اس کے مساوی بھی نہیں جس کا علم اور قدرت کامل ہے اس کی بات کے برابر کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی اور جب اللہ تعالیٰ ہی کی بات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–87

ف 4۔ امر کے صیغہ ہے اور حسیب سے اس کا حکم ظاہر وجوب معلوم ہوتا ہے اور یہی مذہب ہے فقہاء کا۔ یہ وجوب جواب سلام کا علی الکفایہ ہے اگر جماعت میں سے ایک نے بھی جواب دے دیا تو سب کے ذمہ سے اترجائے گا نفس جواب واجب ہے باقی ویسے ہی الفاظ یا ان سے احسن یا لغوی صورتوں میں ان سے کم یہ سب اختیار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے سوا کوئی ” الٰہ “ نہیں وہ تم سب کو ” اکٹھا “ کرے گا اور اللہ سے زیادہ کون ” سچا “ ہے : 149: اس چھوٹی سی آیت میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ، تینوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے ، تینوں ہی ایک دوسرے سے زیادہ اہم ہیں ، تینوں ہی اللہ کا بیان بہت لمبا ہے اور تینوں ہی مختلف مقامات میں بیان کی جا چکی ہیں۔ (1) ” اللہ کے سوا کوئی ” الٰہ “ نہیں ہے۔ “ الٰہ کا لفظ قرآن کریم میں ایک سو گیارہ بار استعمال ہوا ہے اور ہر مقام پر اس کا ترجمہ ” الٰہ “ یا ” معبود “ ہی سے کیا گیا ہے اور ” الٰہ “ اور ” معبود “ دونوں ہی عربی زبان کے الفاظ ہیں جن کا ترجمہ اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ” عبادت کے لائق “ اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that comes verse 87 اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَ‌يْبَ فِيهِ which means that there is no object worthy of worship other than Allah. So, it exhorts: Believe in Him as the only object of your worship and whatever you do let that be with the intention of an act of worship or ` ibadah before Him. He will gather everyone on the Day of Qiyamah, the fateful Day of Doom, in which there is no doubt. That will be the Day when He will give everyone the return for whatever deeds he will come up with the promise that Qiyamah will come and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

115.Whatever the unbelievers, polytheists and atheists may do does not impair God's godhead. That God is the One and Absolute Lord of all is a fact which none can alter. And a Day will come when He will gather together all human beings and will make them see the consequences of their deeds, and no one will be in a position to escape His retribution. God therefore does not require His good creatures to maltreat, on His behalf, those who are lost in error. This is the link between the present verse and the one preceding it. The same verse also concludes the theme running through the last twenty…

Read the full tafseer →