An-Nisaa 4:86

An-Nisaa · from ayah 86

4:86

وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا ۟وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you are greeted with a greeting, greet [in return] with one better than it or [at least] return it [in a like manner]. Indeed, Allah is ever, over all things, an Accountant.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 11 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:86

اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اُسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو، بے شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب (کسی لفظ) سلام کے ذریعے تمہاری تکریم کی جائے تو تم (جواب میں) اس سے بہتر (لفظ کے ساتھ) سلام پیش کیا کرو یا (کم از کم) وہی (الفاظ جواب میں) لوٹا دیا کرو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو ، یا جواب میں وہی کہہ دو۔ بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو۔ یقینا اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو۔ اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب تمہیں کوئی سلام کرے کسی بھی لفظ سے تو تم اس کو اس سے بہتر لفظوں میں جواب دیا کرو، یا (کم ازکم) وہی لفظ کہہ دیا کرو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پورا پورا حساب رکھنے والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر طور پر سلام کرو یا اسی کو لوٹا دو بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز کا حساب کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب کوئی شخص تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

When you are greeted with a salutation then return it with a better one, or at least the same. Surely Allah takes good count of everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you are greeted with a salutation, greet with one better than it, or return the same. Surely, Allah is the One who takes account of everything.

— Muhammad Taqi Usmani

When you are greeted with a salutation, greet with one better than it, or return the same. Surely, Allah is the One who takes account of everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or (at least) return it equally. Certainly, Allah is Ever a Careful Account Taker of all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When ye are greeted with a greeting, greet ye with a better than it or return it. Lo! Allah taketh count of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you are greeted with a greeting, greet [in return] with one better than it or [at least] return it [in a like manner]. Indeed, Allah is ever, over all things, an Accountant.

— Saheeh International

Answer a greeting in kinder words than those said to you in the greeting or at least as kind. God keeps account of all things.

— Muhammad Sarwar

And when you are greeted with a greeting, greet with a better (greeting) than it or return it; surely Allah takes account of all things.

— Muhammad Habib Shakir

And when ye are greeted with a greeting, then greet back with one better than that or return that; verily Allah is of everything the Reckoner.

— Abdul Majid Daryabadi

When a (courteous) greeting is offered you, meet it with a greeting still more courteous, or (at least) of equal courtesy. Allah takes careful account of all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 84–87

حکم جہاد امتحان ایمان ہے رسول اللہ ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہیے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابو اسحاق حضرت براء بن عازب ؓ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو تو حضرت براء نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 114 اس وقت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو رہے تھے، اور جیسا کہ تعلقات کی کشیدگی میں ہوا کرتا ہے، اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں مسلمان دوسرے لوگوں کے ساتھ کج خلقی سے نہ پیش آنے لگیں۔ اس لیے انہیں ہدایت کی گئی کہ جو تمہارے ساتھ احترام کا برتاؤ کرے اس کے ساتھ تم بھی ویسے ہی بلکہ اس سے زیادہ احترام سے پیش آؤ۔ شائستگی کا جواب شائستگی ہی ہے، بلکہ تمہارا منصب یہ ہے کہ دوسروں سے بڑھ کر شائستہ بنو۔ ایک داعی و مبلغ گروہ کے لیے، جو دنیا کو راہ راست پر لانے اور مسلک حق کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھا ہو، درشت مزاجی، ترش روئی اور تلخ کلامی مناسب نہیں ہے۔ اس سے نفس کی تسکین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سلام اور اسلام واذا حییتم بتحیة فحیوا باحسن منھا الخ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سلام اور اس کے جواب کے آداب بتلائے ہیں لفظ تحیہ کی تشریح اور اس کا تاریخی پہلو۔ تحیہ کے لفظی معنی ہیں کسی کو ”حیاک اللہ“ کہنا، یعنی ”اللہ تم کو زندہ رکھے قبل از اسلام عرب کی عادت تھی کہ جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ”حیاک اللہ“ یا انعم اللہ بک عینا یا ”انعم صباحاً وغیرہ الفاظ سے سلام کیا کرتے تھے، اسلام نے اس طرز تحیہ کو بدل کر السلام علیکم کہنے کا طریقہ جاری کیا، جس کے معنی ہیں ”تم ہر تکلیف اور رنج و مصیبت سے سلامت رہو۔“ ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ لفظ سلام اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–87

آگے کا مضمون۔ آیات 86 تا 100: آیت 81 میں نبی ﷺ کو منافقین سے اعراض کا جو حکم دیا گیا تھا اس کا اثر قدرتی طور پر جاں نثار صحابہ پر یہ پڑ سکتا تھا کہ جن کے باب میں ان کو شبہ بھی ہوجاتا کہ ان کا تعلق منافقین سے ہے۔ ان سے وہ ربط ضبط اور سلام و کلام ختم کردیتے اور اس طرح ایک معاشرتی بائیکاٹ کی شکل پیدا ہوجاتی جو ابھی اس مرحلے میں مطلوب نہیں تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس موقع پر مسلمانوں کو ایسی ہدایات دی جائیں جو ان کو اعتدال پر قائم رکھیں۔ وہ منافقین سے ہوشیار تو رہیں لیکن ان سے سلام و کلام بند نہ کریں۔ ابھی ان کو اصلاح حال کا اور موقع دیں۔ چناچہ سب سے پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 86–87

86۔ 1 تحیۃ اصل میں تحیۃ (تفعلۃ) ہے یا کے یا میں ادغام کے بعد تحیۃ ہوگیا۔ اس کے معنی ہیں۔ درازی عمر کی دعا (الدعاء بالحیاۃ) یہاں یہ سالم کرنے کے معنی میں ہے۔ (فتح القدیر) زیادہ اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں و رحمتہ اللہ کا اضافہ اور السلام علیکم و رحمتہ اللہ کے جواب میں وبرکاتہ کا اضافہ کردیا جائے۔ لیکن کوئی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے تو پھر اضافے کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے، ایک اور حدیث میں ہے کہ صرف السلام علیکم کہنے سے دس نیکیاں اور اس کے ساتھ و رحمتہ اللہ کہنے سے بیس نیکیاں اور برکاتہ کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ (مسند احمد،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–87

52: اسلام بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سفارش ہے، اس لیے سفارش کا حکم بیان کرنے کے ساتھ سلام کا حکم بھی بیان فرما دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیا ہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے، مثلاً اگر اس نے صرف السلام علیکم کہا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے لیکن اگر بعینہ اسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 86۔ اسلام نے اپنا ایک خاص سلام اسلامی معاشرے کو دیا ۔ جس سے ایک مسلمان اور مسلمان معاشرہ غیر مسلم اور غیر مسلم معاشروں سے ممتاز ہوگیا ۔ یہ سلام کو بالکل منفرد اور متمیز بنا دیتا ہے ‘ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ممتاز صفات کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے دوسرے معاشروں میں مدغم اور گھل مل نہیں جاتا ‘ نہ کان نمک میں نمک بن جاتا ہے ۔ اسلام نے تین الفاظ دیئے ہیں۔ السلام علیکم ‘ السلام علیکم ورحمتۃ اللہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور جواب سلام یا تو ویسا ہوگا یا اس سے زیادہ ہوگا ماسوائے تیسرے لفظ کے ۔ مثلا السلام علیکم ‘ کا جواب یا تو وعلیکم السلام ہے یا اس سے بہتر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی کسی مسلمان کو سلام کرنا یا دعا دینا درحقیقت اللہ سے اس کی شفاعت کرنا ہے تو حق تعالیٰ شفاعت حسنہ کی ایک خاص صورت کو جو مسلمانوں میں شائع ذائع ہے صراحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ جب کوئی اے مسلمانو تم کو دعا دے یا سلام کرے تو تم کو بھی اس کا جواب ضرور دینا چاہیے یا تو وہی کلمہ تم بھی اس کو کہو یا اس سے بہتر مثلاً اگر کسی نے کہا السلام علیکم تو واجب ہے تم پر کہ اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہو اور زیادہ ثواب چاہو تو ورحمتہ اللہ بھی بڑھا دو اور اگر اس نے یہ لفظ بڑھایا ہو تو تم " وبرکاتہ " زیادہ کردو۔ اللہ کے یہاں ہر ہر چیز کا حساب ہوگا اور اس کی جزا ملے گی سلام اور اس کا جواب بھی اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْرُدُّوْہَا ط۔ ہر معاشرے میں کچھ ایسے دعائیہ کلمات رائج ہوتے ہیں جو معاشرے کے افراد باہمی ملاقات کے وقت ‘ استعمال کرتے ہیں۔ جیسے مغربی معاشرے میں گڈ مارننگ اور گڈایوننگ وغیرہ۔ عربوں کے ہاں صباح الخیر اور مساء الخیر کے علاوہ سب سے زیادہ رواج حَیَّاک اللّٰہ کہنے کا تھا۔ یعنی اللہ تمہاری زندگی بڑھائے۔ جیسے ہمارے ہاں سرائیکی علاقے میں کہا جاتا ہے حیاتی ہو وے۔ درازئ عمر کی اس دعا کو تَحِیَّہ کہا جاتا ہے۔ سلام اور اس کے ہم معنی دوسرے دعائیہ کلمات بھی سب اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں۔ عرب میں جب اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تو دیگر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

119 جب کوئی شخص دوسرے کو سلام کہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا کرتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے آپس میں سلام کہنا نہایت پسندیدہ عمل ہے کیونکہ اس سے اسلامی معاشرہ میں اخوت پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ اس بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ بہتر اسلام کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور اسے بھی سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے (بخاری، کتاب الایمان، باب اطعام الطعام من الاسلام۔ الاستیذان، باب السلام للمعرفۃ و غیر المعرفۃ) 2۔ سلام کے آداب :۔ سیدنا عمران ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

244 ۔ (اس لئے معاشرت کے ان جزئیات کو حقیر سمجھ کر نظر انداز نہ کردیاجائے) سلام کے جواب میں سلام تو بہر حال واجب ہے۔ اس کے بعد اختیار دو دیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ جواب سلام، سلام سے بہتر ہو۔ دوسرے یہ کہ ایسا ہی ہو۔ بہترین قول بعض صحابہ اور تابعین کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلام کرنے والا اگر مسلمان ہے تو اس کا جواب زیادتی کے ساتھ دیا جائے اور اگر غیر مسلم ہے تو اس کے الفاظ دہرائے جائیں۔ ردوھا بافضل منھا فی الزیادۃ علی اھل دینکم وملتکم اور دوھا مثل ما سلم علیکم علی غیر اھل دینکم (ابن عباس) (آیت) ” اذا حییتم بتحیۃ “۔ یعنی جب تمہیں سلام کیا جائے طریق مشروع پر۔ سلام کے شرعی طریقوں کی تفصیل کتب فقہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 86–87

وَاِذاحُیّیتُمْ بتحیةٍ فحیوا باَحْسَنَ منھا، تحیَّة، اصل میں تَحْییَة بروزن تَفْعِلَة، یاء کو یاء میں ادغام کردیا تحِیَّة ہوگیا، اس کے معنی ہیں درازی عمر کی دعاء کرنا یہاں سلام کرنے کے معنی میں ہے سلام کا اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح تو آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں ورحمتہ اللہ کا اضافہ کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ قبل ازاسلام سلام کا طریقہ : اسلام سے پہلے عرب کی عام عادت یہ تھی کہ ملاقات کے وقت آپس میں حیاک اللہ یا انعم اللہ بک عینا یا انعم صباحاً وغیرہ الفاظ کہتے تھے اسلام نے سلام کے اس طریقہ کو بدل کر السلام علیکم کا طریقہ جاری کیا، جس کے معنی ہیں تم تکلیف اور رنج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا حییتم بتیحیۃ اور جب تم کو کسی طرح کا سلام کیا جائے۔ تحیت۔ حَیَّاک اللہ کا مصدر ہے۔ یہ اگرچہ جملہ خبریہ ہے لیکن (انشائیہ) دعائیہ کے مواقع پر استعمال ہوتا ہے عرب حیاکّ اللّٰہ (اللہ تیری زندگی دراز کرے) اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ سلام کے موقع پر کہتے تھے۔ عہد اسلامی میں یہ لفظ۔ لفظ سلام سے بدل گیا اور مسلمانوں کا باہم دستور تحیت لفظ سلام ہوگیا۔ حضرت عمران ؓ بن حصین نے فرمایا ہم جاہلیت کے زمانہ میں (سلام کے موقعہ پر) کہتے تھے : اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا اور انعم صباحاجب اسلام آیا تو ہم کو ایسا کہنے کی ممانعت کردی گئی (اور سلام کا دستور ہوگیا) رواہ ابوداؤد۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(86) اور جس وقت تمہارے مذہب والا تمہیں سنت کے مطابق سلام کرے تو اس سے بہترین اور اچھے الفاظ میں اس کو سلام کا جواب دو اور جب کوئی غیر مذہب والا سلام کرے تو ان ہی الفاظ میں اس کا سلام کا جواب دے دو۔ اللہ کی جانب سے سلام اور اس کے جواب پر جزا دی جائے گی، یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو سلام کرنے میں بخل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (جس کے واقع ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں) میدان حشر میں سب کو جمع کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–87

جہاد کا حکم دینے کے بعد اب صلح کے بعض احکام بیان فرمائے چناچہ فرمایا کہ اگر کفار کی طرف سے جنگ ختم کرنے اور صلح کرنے کی کوئی پیش کش کی جاتی ہے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا کم از کم اتنی پیش کش ضرور قبول کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ) [ الأنفال : 61 ] ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجا اور اللہ پر بھروسہ کر۔“ ایک مصداق اس آیت کا یہ ہے کہ جہاد کے سفر کے دوران کوئی شخص اگر اطاعت کے اظہار کے لیے یا اسلام قبول کرنے کے اظہار کے لیے سلام کہے تو یہ کہہ کر اسے قتل مت کرو کہ تم مومن نہیں۔ (النساء : 94) اور ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 86–88

آیت نمبر : 86۔ اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا حییتم بتحیۃ “۔ التحیۃ یہ حییت کا مصدر ہے۔ اصل میں تحییۃ تھا، جسے توضیۃ اور تسمیۃ ہے یا کو یا میں ادغام کیا گیا۔ التحیۃ کا معنی سلام ہے، التحیۃ کی اصل زندگی کی درازی کی دعا کرنا ہے۔ التحیات للہ یعنی آفات سے سلامتی، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ملک بھی ہے، عبداللہ بن صالح العجلی نے کہا میں نے کسائی سے التحیات للہ کے متعلق پوچھا کہ اس کا معنی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : التحیات، برکات کی مثل ہے۔ میں نے کہا : برکات کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا میں نے اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–86

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من یشفع شفاعۃ حسنۃ “ یعنی بعض لوگوں کی سفارش کرنا بعض کے لئے۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا جو شخص کسی کے حق میں اچھے کام کی سفارش کرے گا تو اس کے لئے اجر ہوگا اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” من یشفع شفاعہ حسنۃ یکن لہ نصیب منھا “ اور ” یشفع “ نہیں فرمایا۔ خیر کے کام میں سفارش باعث اجر ہے (3) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص اچھی سفارش کرے گا اس کے لئے اس وقت تک اجر لکھا جاتا رہے گا جب تک سفارش کی منفعت جاری رہتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ حُیِّیْتُمْ : تم لوگوں کو سلام کیا جائے ] [ بِتَحِیَّۃٍ : کوئی سلام ] [ فَحَیُّوْا : تو تم سلام کرو ] [ بِاَحْسَنَ مِنْہَآ : اس سے زیادہ اچھے سے ] [ اَوْرُدُّوْہَا : یا لوٹا دو اس کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [ حَسِیْـبًا : حساب لینے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سلام اور جواب سلام کے احکام و مسائل لفظ حُیِّیْتُمْ باب تفعیل سے بروزن سُمِّیْتُمْ صیغہ جمع مذکر ہے اور فَحَیُّوْا اسی سے امر کا صیغہ ہے۔ اس کا مصدر تَحِیَّۃٌ ہے اس کا اصل معنی ہے حیاک اللّٰہ کہنا یعنی یہ دعا دینا کہ اللہ تجھے زندہ رکھے۔ یہ تو اس کا اصل لغوی معنی ہوا۔ پھر لفظ تحیۃ ملاقات کے وقت سلام کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا کیونکہ سلام میں زندگی کے ساتھ سلامتی کی بھی دعا ہے۔ سورة نور میں ارشاد فرمایا (فَاِِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ) پھر جب تم گھر جانے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو دعا کے طور پر جو خدا کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–86

حکم بست ویکم ترغیب درشفاعت حسنہ وترہیب از شفاعت سیۂ ۔ قال تعالیٰ من یشفع۔۔ الی۔۔۔ مقیتا۔ ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب تھی اب ان آیات میں سفارش کے متعلق ایک قانون بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص عمدہ سفارش کرے مثلا شرکت جہاد کی ترغیب دے اس کو اس میں سے حصہ ملے گا یعنی اس کو بھی اسی قدر ثواب ملے گا جس قدر اس عمل کرنے والوں کو اور جو کوئی بری سفارش کرے مثلا لوگوں کو شرکت جہاد سے روکے اور ان کو جہاد میں جانے سے ڈرائے تو اس کو گناہ میں سے حصہ ملے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نیک کام کی سفارش کرے گا اس کو نیک کام کے ثواب سے حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے گا اس کو اس برے کام کے گناہ سے حصہ ملے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–86

ٖ 61 فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ سے اِنَّ اللہَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ حَسِیْباً تک حکم ثالث یعنی و َ مَالَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ پر تنویر ہے اور بعد عہد کی وجہ سے اس کا اعادہ ہے یہاں دوبارہ قتال کی ترغیب دی اور آنحضرت ﷺ کو مومنوں کو جہاد کی ترغیب دینے کا حکم فرمایا۔ تنکیل کے معنی تعذیب یعنی سزا دینے کے ہیں۔ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً الخ یہ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ سے متعلق ہے یعنی آپ مومنوں کو ترغیب الی الجہاد کا وعظ کریں اور جو شخص اچھی بات کا وعظ و نصیحت کرے اور نیک کاموں کی ترغیب دے اسے اللہ کی طرف سے بہت بڑا اجر وثواب ملے گا اور جو شخص کسی برے کام کی ترغیب دے اسے اس کی سزا ملے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 85–87

ربط آیات گزشتہ درس میں جہاد کے سلسلہ میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی ، اور اس بات کا تذکرہ تھا کہ امن و جنگ کے زمانہ میں غلط بات کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ ہر ایسی بات کو عام کردیتے تھے جس سے اہل اسلام کو نقصان پہنچنے کی امید ہو اور پھر ان کے ساتھ کمزور دل مسلمان بھی شامل ہوجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ، نیز یہ فرمایا کہ جب کوئی ایسی بات پہنچے تو اسے بلاتحقیق آگے چلانے کی بجائے رسولِ خدا کے سامنے پیش کر دو یا پھر حاکم وقت کے نوٹس میں لاؤ ، جو پوری تحقیق و تجسس کے بعد فیصلہ کریگا کہ آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ پھر اسی ضمن میں علماء فقہاء…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّۃٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا۝ 86 تحیۃ وقوله عزّ وجلّ : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها أَوْ رُدُّوها [ النساء/ 86] ، وقوله تعالی: فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النور/ 61] ، فَالتَّحِيَّة أن يقال : حيّاک الله، أي : جعل لک حياة، وذلک إخبار، ثم يجعل دعاء . ويقال : حَيَّا فلان فلانا تَحِيَّة إذا قال له ذلك، وأصل التّحيّة من الحیاة، ثمّ جعل ذلک دعاء تحيّة، لکون جمیعه غير خارج عن حصول الحیاة، أو سبب حياة إمّا في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–87

ترکیب : واذا حییتم شرط تحیۃ اصلہ تحیۃ تفعلۃ من حیث ی کی حرکت نقل کرکے ح کی طرف آئی ٗ باہم ادغام ہوگیا۔ فحیوا جواب اس کی اصل حییوا تھی۔ لجمعنکم جواب ہے قسم محذوف کا پھر یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور مبتداء کی دوسری خبر بھی بن سکتا ہے فما مبتداء لکم خبر فی المنافقین متعلق ہے محذوف سے اے اصر تم فئتین اس محذوف کی خبر۔ تفسیر : فقاتل فی سبیل اللّٰہ میں جس طرح کہ شرک و فساد مٹانے کے لئے لڑنے کی تاکید تھی اسی طرح اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ لڑائی صرف اپنے موقع پر ہے اور خاص حقوق الٰہی کے لئے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ تم اپنے اخلاق اور معاشرت میں درندہ پن اختیار کرو۔ گاہ بیگاہ جس کو پائو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْرُدُّ وْہَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَسِیْبًا (اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو ۔ اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے) (النسآء : 86) ” تحیۃ “ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس کا اصل معنی ” کسی کو زندگی کی دعا دینا “ ہے۔ ” حَیَّاکَ اللّٰہُ “ کا دعائیہ کلمہ اسی سے بنا ہے جس کا معنی ہے ” اللہ تمہیں زندہ رکھے “ یا ” اللہ تمہاری عمر دراز کرے “۔ سلام کے حکم کا پس منظر گزشتہ رکوع میں ہم نے پڑھا ہے کہ منافقین کی مختلف عادات و خصوصیات کو بیان کرنے اور مسلمانوں کے خلاف ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–87

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کا معنٰی ہر وقت اور ہر کسی سے لڑنا نہیں بلکہ جو بھی اسلام اور مسلمانوں کی طرف مائل ہو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ہے۔ فرمایا جو تمہیں ہدیہ دے تو تم بھی اسے اس سے بہتر یا اس جیسا تحفہ دو ۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر محاسب و نگہبان اور وہی معبود برحق ہے۔ جو تمہیں دنیا میں پیار، محبت اور توحید کی بنیاد پر اکٹھا رہنے کا حکم دیتا ہے۔ وہی قیامت کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا۔ لوگوں کو جمع کرنے اور قیامت کے آنے میں ذرہ برابر شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فرمان سچا اور اس سے بڑھ کر کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا سچ سنو، اسے قبول کرو اور اس پر قائم ہوجاؤ۔ یہاں تحفہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 86 : وَاِذَا حُیِّیْتُمْ (جب تمہیں سلام کیا جائے) سلام کے ساتھ تحیہ ہمارے دین میں یہ دونوں جہاں کی سلامتی کی دعا ہے۔ جیسا کہ النور کی آیت 61 میں فسلِّموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللّٰہ۔ فرمایا اسی طرح سورة احزاب آیت 44 میں تحیتہم یوم یلقونہ سلامٌ۔ فرمایا۔ سلام کی انتہاء وبرکاتہ : اسلام سے قبل اہل عرب ملاقات کے وقت حیاک اللّٰہ کہتے یعنی تیری زندگی دراز ہو۔ اسلام نے آ کر اس کو السلام علیکم سے بدل دیا۔ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ (کسی طرح کا سلام تو تم اس سے بہتر جواب دو ) یعنی کہو وعلیکم السلام و (رح) جب کہ وہ السلام علیکم کہے اور برکاتہ کا اضافہ کردو جبکہ و (رح) کہے۔ اور کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 86۔: (آیت) ” واذا حیتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دودھا “۔ تحیہ کہتے ہیں طویل زندگی کی دعادینا ، یہاں تحیہ سے مراد اسلام ہے ۔ (سلام کا جواب دینا واجب علی الکفایہ ہے) کہا جاتا ہے کہ جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو جواب میں اس سے اچھا جواب دو یا جیسا اس نے سلام کیا ویسا ہی تم دے دو ، جب کوئی تمہیں کہے اسلام علیکم تو تم جواب میں کہو ، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اور جب کوئی تمہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو اور اگر کوئی تمہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو تم اس کے جواب اسی طرح کہو ۔ روایت کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 84–87

(84 ۔ 87) ۔ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے سال آئندہ بدر صغریٰ پر لڑائی کے لئے آنے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ پر آنحضرت ﷺ سترہ صحابہ کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر بدر صغریٰ کو تشریف لے گئے اور تین روز تک وہاں قیام کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان وغیرہ کے دل میں رعب ڈال دیا۔ اس لئے یہ لوگ وعدہ کے موافق بدر صغریٰ پر نہیں آئے یہ بدر صغریٰ ایک مقام ہے جہاں سالانہ بازار بھرتا ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت آنحضرت ﷺ کے ترغیب دلانے پر ستر آدمی باوجود زخمی ہونے کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ گئے تھے جن کی تعریف اوپر گذرچ کی ہے اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح اے نبی اللہ کے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت 86) (بتحیۃ) کا لفظ دو ملاقاتیوں میں سے کسی ایک سے عزت و احترام نیز دعا اور بشاشت وغیرہ کے طور پر صادر ہوتا ہے۔ سلام و دعا کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے بارے میں شریعت میں وارد ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں کسی بھی طریقے سے سلام کیا جائے تو وہ الفاظ اور بشاشت کے اعتبار سے اس سے بہتر یا اسی طریقے سے سلام کا جواب دیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلام کا بالکل جواب نہ دینے یا کمتر طریقے سے جواب دینے سے روکا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس کے دو پہلو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–87

سلام اور اس کا جواب۔ قول باری ہے (واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب ددو یا کم ازکم اسی طرح) اہل لغت کے نزدیک تحیت کے معنی ملک یعنی سلطنت اور مالک بنانے کے ہیں شاعر کا یہ شعر اس معنی میں ہے۔ اسیر بہ الی النعمان حتی، انیح علی تحیتہ بجند۔ میں اس اونٹ پر بادشاہ نعمان کی طرف جارہا ہوں یہاں تک کہ میں اس کی سلطنت کے اندرجند کے مقام پر اپنااونٹ بٹھاؤں گا یعنی قیام کروں گا۔ شاعر نے ، علی تحتیہ، کہہ کرنعمان کی سلطنت مراد لی ہے اہل عرب کے قول ، حیاک اللہ کے معنی ، ملک اللہ ، اللہ تجھے مالک بنادے ) کے ہیں ، سلام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

210 تَحِیَّۃً کا معنی و مطلب ؟ : " تَحِیَّۃً "، " حیات " سے مشتق و ماخوذ ہے جسکے معنی زندگی کے ہیں۔ سو یہ لفظ اصل میں زندگی اور درازی عمر کی دعاء کے معنی میں آتا ہے۔ عرب پہلے بھی کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں " حَیَّاک اللّٰہُ "، " خدا تمہیں زندہ رکھے، لمبی عمر دے " لیکن بعد میں یہ لفظ مطلق سلام کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی لیے دین حنیف نے اس موقع پر " حیاک اللہ " کی بجائے " السلام علیکم " کی دعاء تعلیم و تلقین فرمائی جو کہ اس قدیم دعاء سے کہیں بڑھ کر اعلیٰ وارفع دعا ہے۔ کیونکہ " حیاک اللہ " میں صرف زندگی کی دعا ہے خواہ وہ زندگی کیسی ہی کیوں نہ ہو، جبکہ " السلام علیکم " میں اس سے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 86–87

نیکی کا بدلہ تشریح : مسلمانوں کو تہذیب اور اخلاق کے بارے میں حکم دیا جارہا ہے کہ چاہے کوئی تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو مسلمان کا اخلاق اجازت نہیں دیتا کہ کسی سلام کرنے والے کو اس سے بہتر اور خوش خلقی سے جواب نہ دیا جائے۔ یوں بھی آپس میں ملنے کا بہترین طریقہ اسلام علیکم کہنا ہے تو جواب میں وعلیکم السلام یا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ کہا جائے اگر کوئی السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہے تو جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا چاہئے۔ اس طرح آپس میں محبت اور خوش خلقی کا اظہار ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد نے حضرت ابو امامہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–87

اسرار و معارف آیات نمبر 77 تا 78 ۔ اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 جہاد کا حکم دینے کے بعد فرمایا اگر کفار صلح پر راضی ہوجائیں تو تم راضی ہوجا و یا یہ جنگ میں اگر کوئی شخص سلام کہ دے تو اسے قتل نہ کرو (رازی) تحیہ کے معنی درازئی عمر کی دعا کے ہیں اور یہاں مراد سلام ہے (معالم)10 گو یا تناہی جواب دینا فرض اور اس سے بہتر جواب دینا مستحب ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تحیہ کے ہر جملہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ پس اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکا تہ پر (آنحضرت ﷺ نے فرمایا) تیس نیکیاں ملیں گی (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:86) حییتم۔ تمہیں دعا دی جائے۔ تمہیں سلام کیا جائے۔ تحیۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حیوا۔ تم دعا دو ۔ تم سلام کرو۔ امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 85–86

آیت نمبر 85-86 لغات القرآن : یشفع، سفارش کرتا ہے۔ شفاعۃ حسنۃ، اچھی سفارش، شفاعۃ سیئۃ، بری سفارش۔ کفل، حصہ۔ مقیت، نگہبان، حییتم، تمہیں دعا دی گئی ، سلام کیا۔ حیوا، تم دعا دو ، سلام کرو۔ تشریح : یہاں شفاعت کے کم از کم دو معنی ہیں۔ اول تبلیغ و ترغیب۔ دوسرے حکام بالا تک کسی کی سفارش کرنا۔ ایک معنی اور بھی ہوتے ہیں کسی بےقصور کی وکالت کرنا۔ اب یہ اپنی اپنی توفیق ہے کوئی اسلام کی تبلیغ کرتا ہے کوئی کفر کی۔ کوئی لوگوں کو راہ ہدایت پر لانے کی کوشش کرت ا ہے تو کوئی راہ شیطنت پر لانے کی۔ دونوں کو جزا ملے گا۔ ایک کو ثواب کی دوسرے کو عذاب کی۔ سفارش کے یہ معنی بھی ہیں کہ صاحب حکم و اختیار کے پاس کسی کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–87

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لئے (مشورہ کیے بغیر) شائع نہ کرنا چاہیے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ! آپ مسلانوں کو دین کی لڑائی کی ترغیب دلایا کیجئے، باقی رہی فتح وشکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہیں ہے بلکہ فتح وشکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ آپ بذات خود اللہ کی راہ میں لڑئیے اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ اللہ بند کرے لڑائی۔ یہ ایک غیب کی خبر تھی چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا اور یہ جو ہے کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے۔ اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔ ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں اکثر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

سلام : (ف 2) تحیۃ کے معنی اصل میں کلمات دعائیہ کے ہیں جن مخاطب کی درازی عمر مقصود ہو ۔ اسلامی اصطلاح میں مراد اسلام علیکم کہنا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جہاد میں بعض دفعہ مسلمان باوجود ” اسلام علیکم “ سننے کے مخاطب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اس شبہ میں کہ یہ کہیں منافق نہ ہو ۔ قرآن حکیم نے فرمایا جو شخص تمہیں سلام کہے ، تمہارا فرض ہے کہ اسے مسلمان سمجھو اور اسے اس سے سے بہتر ہدیہ سلام پیش کرو ۔ یعنی مسلمان کو کسی حالت میں بھی زیبا نہیں کہ وہ سوء ظن سے کام لے اور خواہ مخواہ مسلمانوں کو کافر سمجھے ہر وہ شخص جو اسلام کا اظہار کرتا ہے ، مسلمان ہے ، باہمی ملاقات کے وقت یہ لفظ اسلام نے ایسا تجویز کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور جب تم کو کوئی دعا دے یعنی سلام علیکم کرے تو تم اس کے سلام سے اچھے اور بہتر الفاظ میں اس کو سلام کرو یعنی اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم ویسے ہی الفاظ کہہ دو اور انہی الفاظ میں اس کو جواب دے دے جو پہلے شخص نے کہے تھے، یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محاسب اور ہر بات کا حساب لینے والا ہے۔ (تیسیر) تحیۃ اصل میں زندگی کی دعا دینے کو کہتے ہیں اہل عرب جب آپ میں ملتے تھے تو ایک دوسرے کو حیاک اللہ کہتا تھا پھر تحیتہ مطلقاً دعا میں استعمال ہونے لگا۔ یہاں اس کے معنی ملاقات کے وقت سلام علیکم کرنے کے ہیں۔ آسمانی تہذیب میں ہمیشہ ملاقات کا تحیتہ سلام رہا ہے جو قومیں آسمانی تہذیب سے محروم ہیں ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–87

ف 4۔ امر کے صیغہ ہے اور حسیب سے اس کا حکم ظاہر وجوب معلوم ہوتا ہے اور یہی مذہب ہے فقہاء کا۔ یہ وجوب جواب سلام کا علی الکفایہ ہے اگر جماعت میں سے ایک نے بھی جواب دے دیا تو سب کے ذمہ سے اترجائے گا نفس جواب واجب ہے باقی ویسے ہی الفاظ یا ان سے احسن یا لغوی صورتوں میں ان سے کم یہ سب اختیار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ویسا ہی جواب ہے جیسا کہ اس نے دیا : 148: اس آیت میں سلام و دعا کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ اسلام سے قبل عربوں میں ملاقات کے وقت ” حَیَّاکَ اللّٰہ “ کہنے کا رواج تھا جس کے معنی ہیں کہ ” اللہ تم کو زندہ رکھے “ اس طرح ” اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا “ یا ” اَنْعَمَ صَبَاحًا “ کے الفاظ سے بھی ایک دوسرے سے سلام و دعا کرتے تھے اسلام نے طرز تحیہ کی بجائے ” اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ “ کہنے کا طریقہ جاری کیا اور اس کے جواب میں ” وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ “ کہنا شروع کیا یعنی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو ” السلام علیکم “ کہے اور دوسرا پہلے کو ” وعلیکم السلام “ سے جواب دے اور اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Salam and Islam : The Bliss of Muslim Greeting In verse 86 which begins with the words: وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا Allah Almighty tells us the etiquette of offering and returning greetings known as Salam among Muslims. Lexically, تَحَیَّۃ 'Tahiyyah' means sayings حَیَّکَ اللہ :'Hayyakallah', that is, 'may Allah keep you alive'. In pre-Islam Arabia, when people met, they used to greet each other by saying 'Hayyakallah' or An` amallahu bika ` aynan' or ` An` im sabahan' or other expression of this nature. When Islam came, it changed this style of greeting and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

114. At that time the relations between the Muslims and non-Muslims were strained to the limit. It was feared, therefore, that the Muslims might feel inclined to treat the latter discourteously. They are accordingly asked to pay at least as much respect and consideration to others as is paid to them - and preferably more. Good manners and courtesy are to be matched by the Muslims. In fact, the mission entrusted to the Muslims requires them to excel others in this respect. Harshness, irritability and bitterness are not becoming in a people whose main function is to preach a message and invite…

Read the full tafseer →