Explained with ayahs 84–87
حکم جہاد امتحان ایمان ہے
رسول اللہ ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ تنہا اپنی ذات سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہیے کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابو اسحاق حضرت براء بن عازب ؓ سے دریافت فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے جہاد کرے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے تو ممانعت تاکید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو تو حضرت براء نے فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے اللہ کی راہ میں لڑ تجھے فقط تیرے نفس کی تکلیف دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مومنوں کو بھی اس سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 113
یعنی یہ اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا نصیب ہے کہ کوئی خدا کی راہ میں کوشش کرنے اور حق کو سربلند کرنے کے لیے لوگوں کو ابھارے اور اس کا اجر پائے، اور کوئی خدا کے بندوں کو غلط فہمیوں میں ڈالنے اور ان کی ہمتیں پست کرنے اور انہیں اعلائے کلمۃ اللہ کی سعی و جہد سے باز رکھنے میں اپنی قوت صرف کرے، اور اس کی سزا کا مستحق بنے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو شخص اچھی سفارش کرے (یعنی جس کا طریق مقصود دونوں مشروع ہوں) اس کی اس (سفارش) کی وجہ سے (ثواب کا) حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے (یعنی جس کا طریق و غرض غیر مشروع ہو) اس کو اس (سفارش) کی وجہ سے (گناہ کا) حصہ ملے گا، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں (وہ اپنی قدرت سے نیکی پر ثواب اور بدی پر عذاب دے سکتے ہیں) اور جب تم کو کوئی (مشروع طور پر) سلام کرے تو تم اس (سلام) سے اچھے الفاظ میں سلام کرو، (یعنی جواب دو) یا (جواب میں) ایسے ہی الفاظ کہہ دو (تم کو دونوں اختیار دیئے جاتے ہیں) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر (یعنی ہر عمل پر حساب لیں گے (یعنی ان کا قانون یہی ہے اور یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
84۔ 85: فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا۔ مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْھَا ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْھَا ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا۔
" شفع " کے معنی ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے سداتھ جوڑنے کے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تائید و حمایت یا اس کے حق میں سفارش کرنے کے معنی میں یہ استعمال ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
83۔ 1 یہ بعض کمزور اور جلدباز مسلمانوں کا رویہ، ان کی اصلاح کی غرض سے بیان کیا جا رہا ہے۔ امن کی خبر سے مراد مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ہلاکت و شکست کی خبر ہے۔ (جس کو سن کر امن اور اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور جس کے نتیجے میں بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ پر اعتمادی پیدا ہوتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے) اور خوف کی خبر سے مراد مسلمانوں کی شکست اور ان کے قتل و ہلاکت کی خبر ہے (جس سے مسلمانوں میں افسردگی پھیلنے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا ہے) اس لئے انہیں کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کی خبریں، چاہے امن کی ہوں یا خوف کی انہیں سن کر عام لوگوں میں پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →51: آیت نمبر 84 میں آنحضرت ﷺ کو جو حکم دیا گیا تھا کہ آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں، اس کے بعد یہ آیت لاکر اشارہ کردیا گیا کہ آپ کی ترغیب کے نتیجے میں جو لوگ جہاد کریں گے، ان کے ثواب میں آپ بھی شریک ہوں گے کیونکہ جب کوئی شخص اچھی سفارش کے نتیجے میں کوئی نیک کام کرے تو جو ثواب کام کرنے والے کو ملتا ہے اس میں سفارش کرنے والے کو بھی حصہ ملتا ہے، اسی طرح اگر بری سفارش کے نتیجے میں کوئی غلط کام ہوجائے توجتنا گناہ غلط کام کرنے والے کو ملے گا، بری سفارش کرنے والا بھی اس کے گناہ میں شریک ہوگا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 85۔
اب جو شخص لوگوں کو قتال پر ابھارتا ہے ‘ اس مقصد کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دعوت جہاد دیتا ہے ‘ اسے اس دعوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کام کا پورا پورا اجر ملے گا ۔ اور جو شخص پہلو تہی کرتا ہے اور پیچھے رہتا ہے اور اس کے اگر برے نتائج نکلتے ہیں تو یہ شخص بھی ذمہ دار ہے ۔ ” کف “ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیچھے رہنے والا نتائج بد کا ذمہ دار ہوگا ۔
اسی اصول کا اطلاق ہر اچھی سفارش پر ہوگا اور بری سفارش پر بھی یہی اصول منطبق ہوگا ۔ اگرچہ یہ اصول خاص حالات کے اندر ذکر ہوا ہے لیکن یہ قرآن کریم کا انداز بیان ہے کہ وہ ایک مخصوص واقعہ کے ضمن میں ایک کلی قاعدہ بیان کردیتا ہے…
Read the full tafseer →7 یعنی اگر کوئی نیک کام میں سعی سفارش کرے جیسا نبی (علیہ السلام) کا مسلمانوں کو جہاد کی تاکید فرمانا یا کوئی بری بات میں ساعی ہو جیسا منافق اور سست مسلمانوں کا جہاد سے ڈر کر دوسروں کو بھی ڈرانا تو اول صورت میں ثواب کا اور دورسری صورت میں گناہ کا حصہ ملے گا ایسے ہی اگر کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند سے کچھ دلوادے تو یہ بھی خیرات کے ثواب میں شریک ہوگا اور جو کوئی کافر مفسد یا سارق کو سفارش کر کے چھڑادے پھر وہ فساد اور چوری کرے تو یہ بھی شریک ہوگا فساد اور چوری میں۔8 یعنی خدا تعالیٰ تمام چیزوں پر قادر اور ہر چیز کا حصہ بانٹنے والا ہے تو نیکی اور بدی کے حصہ دینے میں اس کو کوئی دشواری نہیں۔
Read the full tafseer →منافقین سے خطاب کے بعد اب پھر کچھ تمدنی آداب کا ذکر ہو رہا ہے۔ منافقین سے خطاب میں دو باتوں کو نمایاں کیا گیا۔ ایک اطاعت رسول ﷺ جو ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور ایک قتال فی سبیل اللہ جو ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا تھا۔ اب پھر اہل ایمان سے خطاب آ رہا ہے۔
آیت 85 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج۔
انسانی معاشرے کے اندر کسی کے لیے سفارش کرنا بھی بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ہے ‘ اس کی کوئی احتیاج ہے ‘ آپ جانتے ہیں کہ صحیح آدمی ہے ‘ بہروپیا نہیں ہے۔ دوسرے شخص کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کی مدد کرسکتا ہے تو آپ کو دوسرے شخص کے پاس جا کر اس کے حق میں سفارش…
Read the full tafseer →118 یہاں ربط مضمون کے لحاظ سے اچھی سفارش سے مراد یہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے گا اس کے جہاد میں اس کا بھی حصہ ہوگا اور جو منافق حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کا بھی حصہ ہے تاہم اس کا حکم عام ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے :
خ سفارش کرنے والے کا اجر :۔ سیدنا ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا تو آپ صحابہ سے فرماتے تم سفارش کرو اس کا تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ جو چاہتا ہے اسے نبی کی زبان سے جاری کرا دیتا ہے یا فیصلہ کرا دیتا ہے۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب التحریض علی الصدقۃ و الشفاعۃ فیہا۔۔۔ مسلم، کتاب البر…
Read the full tafseer →241 ۔ یعنی جو کوئی عمل خیر میں بہ طریق مشروع ساعی ہوگا، اسے اس کا اجر مل کر رہے گا کہ وہ کسی درجہ میں سبب بنا عمل خیر گا۔
242 ۔ (اس لئے کہ وہ سبب اور ذریعہ بنا معصیت کا) (آیت) ” شفاعۃ سیءۃ “۔ اس کے تحت میں علاوہ عمل بد کے وہ عمل خیر بھی آجاتے ہیں جو غیر مشروع طریق پر کئے جائیں۔
243 ۔ تو ہر نیکی پر اجر اور ہر بدی پر عذاب کا ترتب اس کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
شان نزال : وَاِذاجَاء ھم امرمن الامن اوالخوف اذاعوابہ، یہ آیت اس ہنگامی دور میں نازل ہوئی جبکہ ہر طرف افواہیں اڑرہی تھیں۔ کبھی خطرہ بےبنیاد کی مبالغہ آمیز اطلاعتیں آئیں جن سے مسلمانوں میں افسردگی پھیلنے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا اور بعض دفعہ مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کی خبریں آتیں جس کے نتیجے میں بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی پیدا ہوجاتی جو نقصان کا باعث بن سکتی تھی، مذکورہ آیت میں کمزور اور جلد باز اور افواہ پھیلانے کی اصلاح کی خاطر سرزیش کرتے ہوئے کہا جا ہا ہے کہ افواہیں پھیلانے سے باز رہیں اور عام لوگوں میں افواہیں پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ اور ذمہ داروں…
Read the full tafseer →من یشفع شفاعۃ حسنۃ جو اچھی شفاعت (سفارش) کرے جس میں مسلمانوں کے حق کی رعایت کرے ‘ مسلمان پر سے ضرر کو دفع کرے اور اس کے فائدہ کی تدبیر کرے اور یہ سب کوشش محض اللہ واسطے ہو۔
یکن لہ نصیب منہا تو شفاعت کرنے والے کے لئے شفاعت (کے ثواب) کا کچھ حصہ ہوگا۔ مجاہد نے کہا اس سے باہمی سفارش مراد ہے سفارشی کی سفارش اگر قبول نہ بھی کی جائے گی۔ تب بھی سفارشی کو اس کی سفارش کا ثواب ملے گا۔
(رواہ ابن ابی حاتم وغیرہ الحسن)
حضرت ابوموسیٰ ؓ اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں جب کوئی شخص کچھ مانگنے یا کسی اور کام کے لئے حاضر ہوتا تو آپ ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے۔ سفارش کرو۔ تم کو ثواب ملے گا اور اللہ…
Read the full tafseer →(85) چناچہ جو شخص توحید کا قائل ہو اور خیر خواہی وعدل کے ساتھ دو آدمیوں میں صلح کرائے تو اسے اس نیکی کا ثواب ملے گا اور جو شرک کرے اور اس کا مقصد بھی غلط ہو اسے اس کا گناہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر ایک نیکی و برائی کا بدلہ دینے پر یا یہ کہ ہر ایک چیز کو روزی دینے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً۔۔ : اوپر کی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو ، جو اعمال حسنہ میں سے ہے، یہاں بتایا کہ آپ ﷺ کو اس پر اجر عظیم ملے گا۔ پس یہاں شفاعت حسنہ سے ترغیب جہاد مراد ہے اور شفاعتِ سیۂ سے مراد اس کارخیر سے روکنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا : ”تم سفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔“ [ بخاری، الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ : 1432، عن ابی موسیٰ ]
Read the full tafseer →آیت نمبر : 85۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یشفع “۔ الشفاعۃ اور الشفعۃ وغیرہ الشفع سے مشتق ہیں اور اس کا معنی جفت عدد ہے۔ اسی سے الشفیع (شفعہ کرنے والا) کیونکہ وہ صاحب حاجت کے ساتھ شفع (جفت) ہوجاتا ہے اس سے ناقۃ شفوع ہے جب ایسی اونٹنی جو ایک بچہ جنم دینے کے بعد پھر حاملہ ہوجائے الشفع، ایک کو دوسرے کے ساتھ ملانا، الشفعۃ شریک کی ملکیت کو اپنی ملکیت کے ساتھ ملانا، الشفاعۃ کسی دوسرے کو اپنی جاہ اور وسیلہ کے ساتھ ملانا، یہ حقیقۃ شفیع کی قدر ومنزلت کا مشفع کے پاس اظہار کرنا ہے اور جس کے لیے سفارش کی گئی ہے اس کو نفع پہنچانا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” من یشفع شفاعۃ حسنۃ “ یعنی بعض لوگوں کی سفارش کرنا بعض کے لئے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا جو شخص کسی کے حق میں اچھے کام کی سفارش کرے گا تو اس کے لئے اجر ہوگا اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ” من یشفع شفاعہ حسنۃ یکن لہ نصیب منھا “ اور ” یشفع “ نہیں فرمایا۔
خیر کے کام میں سفارش باعث اجر ہے
(3) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص اچھی سفارش کرے گا اس کے لئے اس وقت تک اجر لکھا جاتا رہے گا جب تک سفارش کی منفعت جاری رہتی…
Read the full tafseer →[ مَنْ یَّشْفَعْ : جو سفارش کرتا ہے ] [ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً : کوئی اچھی سفارش ] [ یَّــکُنْ : تو ہوجاتا ہے ] [ لَّــہٗ : اس کے لیے ] [ نَصِیْبٌ: ایک حصہ ] [ مِّنْہَا : اس میں سے ] [ وَمَنْ یَّشْفَعْ : اور جو سفارش کرتا ہے ] [ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً : کوئی بری سفارش ] [ یَّــکُنْ : تو ہوجاتی ہے ] [ لَّــہٗ : اس کے لیے ] [ کِفْلٌ: ایک ذمہ داری ] [ مِّنْہَا : اس میں سے ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [ مُّقِیْتًا : قدرت رکھنے والا ]
ق و ت
قَاتَ ۔ یَقُوْتُ (ن) قَـوْتًا : غذا دینا ‘ رزق دینا۔
قُوْتٌ ج اَقْوَاتٌ (اسم ذات) : غذا ‘ روزی : { وَقَدَّرَ فِیْھَا…
Read the full tafseer →اچھی سفارش کا ثواب اور بری سفارش کا گناہ
اس آیت شریفہ میں شفاعت یعنی سفارش کرنے کی ترغیب دی ہے جبکہ سفارش اچھی ہو۔ اور سفارش کرنے پر وعید بھی بتائی ہے جبکہ سفارش بری ہو۔ جبکہ کسی کا مطلوب اچھا ہو تو اس کی سفارش کردینا ثواب کا کام ہے سفارش سے صاحب ضرورت کا کام بن جائے گا اور سفارش کرنے والے کو ثواب مل جائے گا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بات پوری نہیں پہنچا سکتے اور بات کو صحیح طریقے پر نہیں کہہ سکتے اور بہت سے لوگ اپنے علم و فہم اور لسان وبیان کے اعتبار سے اپنا مقصد ادا کرنے پر قادر تو ہوتے ہیں لیکن جن لوگوں سے کام ہے ان لوگوں تک پہنچ نہیں پاتے دونوں قسم کے لوگوں کے لیے سفارش کردی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
حکم بست ویکم ترغیب درشفاعت حسنہ وترہیب از شفاعت سیۂ ۔
قال تعالیٰ من یشفع۔۔ الی۔۔۔ مقیتا۔
ربط) گزشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب تھی اب ان آیات میں سفارش کے متعلق ایک قانون بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص عمدہ سفارش کرے مثلا شرکت جہاد کی ترغیب دے اس کو اس میں سے حصہ ملے گا یعنی اس کو بھی اسی قدر ثواب ملے گا جس قدر اس عمل کرنے والوں کو اور جو کوئی بری سفارش کرے مثلا لوگوں کو شرکت جہاد سے روکے اور ان کو جہاد میں جانے سے ڈرائے تو اس کو گناہ میں سے حصہ ملے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نیک کام کی سفارش کرے گا اس کو نیک کام کے ثواب سے حصہ ملے گا اور جو شخص بری سفارش کرے گا اس کو اس برے کام کے گناہ سے حصہ ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ٖ 61 فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ سے اِنَّ اللہَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءٍ حَسِیْباً تک حکم ثالث یعنی و َ مَالَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ پر تنویر ہے اور بعد عہد کی وجہ سے اس کا اعادہ ہے یہاں دوبارہ قتال کی ترغیب دی اور آنحضرت ﷺ کو مومنوں کو جہاد کی ترغیب دینے کا حکم فرمایا۔ تنکیل کے معنی تعذیب یعنی سزا دینے کے ہیں۔ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً الخ یہ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ سے متعلق ہے یعنی آپ مومنوں کو ترغیب الی الجہاد کا وعظ کریں اور جو شخص اچھی بات کا وعظ و نصیحت کرے اور نیک کاموں کی ترغیب دے اسے اللہ کی طرف سے بہت بڑا اجر وثواب ملے گا اور جو شخص کسی برے کام کی ترغیب دے اسے اس کی سزا ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ربط آیات
گزشتہ درس میں جہاد کے سلسلہ میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی ، اور اس بات کا تذکرہ تھا کہ امن و جنگ کے زمانہ میں غلط بات کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ ہر ایسی بات کو عام کردیتے تھے جس سے اہل اسلام کو نقصان پہنچنے کی امید ہو اور پھر ان کے ساتھ کمزور دل مسلمان بھی شامل ہوجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ، نیز یہ فرمایا کہ جب کوئی ایسی بات پہنچے تو اسے بلاتحقیق آگے چلانے کی بجائے رسولِ خدا کے سامنے پیش کر دو یا پھر حاکم وقت کے نوٹس میں لاؤ ، جو پوری تحقیق و تجسس کے بعد فیصلہ کریگا کہ آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ پھر اسی ضمن میں علماء فقہاء…
Read the full tafseer →مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَـنَۃً يَّكُنْ لَّہٗ نَصِيْبٌ مِّنْھَا 0ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَيِّئَۃً يَّكُنْ لَّہٗ كِفْلٌ مِّنْھَا 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا 85
شَّفَاعَةُ
: الانضمام إلى آخر ناصرا له وسائلا عنه، وأكثر ما يستعمل في انضمام من هو أعلی حرمة ومرتبة إلى من هو أدنی. ومنه : الشَّفَاعَةُ في القیامة . قال تعالی: لا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً [ مریم/ 87] ومنه قوله عليه السلام : «القرآن شَافِعٌ مُشَفَّعٌ»
الشفاعۃ
کے معنی دوسرے کے ساتھ اس کی مدد یا شفارش کرتے ہوئے مل جانے کے ہیں ۔ عام طور پر کسی بڑے با عزت آدمی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ترکیب : فقاتل میںعاطفہ ہے فلیقاتل فی سبیل اللہ پر یاقاتلوا پر۔ لاتکلف حال ہے فاعل ‘ قاتل سے الا نفسک مفعول ثانی ہے لاتکلف کا اور اول ضمیر مخاطب ہے بأساو تنکیلا تمیز ہیں واللّٰہ اشد سے من یشفع شرط یکن لہ نصیب منہا جواب مقیتا میں ی و سے بدل ہے جو اصل میں مفعل ہے قوت سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں مذکور تھا کہ منافق بلا تحقیق خبریں اڑایا کرتے ہیں کہ فلاں قوم مسلمانوں پر چڑھ کر آتی ہے۔ انہوں نے ایسی تیاری کی ہے تمام عرب اب عنقریب مدینہ کو آکر غارت کردیں گے جن سے پیشتر عام مسلمانوں کے دلوں میں خلجان پیدا ہوتا تھا اور ایک قسم کی پست ہمتی جو عادتاً انسان کو اپنی بےسرو سامانی اور مخالفین کے سامان اور…
Read the full tafseer →مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّـکُنْ لَّـہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّـکُنْ لَّـہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مُّقِیْتًا
” جو کسی نیک کام کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور جو کوئی بری بات کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 85)
شفاعت کا معنی و مفہوم
شفاعت کے لفظی معنی ملنے یا ملانے کے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تائید و حمایت اور کسی غریب اور کمزور کی بےکسی میں اپنی مدد ملا کر اسے قوی کردینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد کے لیے مسلمانوں کو ابھارنا اور دین کی نشرو اشاعت کی تبلیغ کرنا بھی جہاد ہے۔
جہاد کے دوران پیدا ہونے والے ضمنی مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے جہاد کی ترغیب اور دین کی تبلیغ کو اچھی سفارش اور اس کوشش کو جہاد کا حصہ شمار کیا ہے۔ کیونکہ ترغیب دلائے بغیر کوئی آدمی لڑنے مرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ترغیب اور تبلیغ کو قرآن مجید نے سورة الفرقان آیت 52 میں جہاد کبیر قرار دیا ہے۔ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ] اسے یہاں سفارش کے الفاظ میں بیان کیا…
Read the full tafseer →شفاعت حسنہ اور سیئات :
آیت 85: مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً (جو اچھی شفاعت کرتا ہے) وہ شفاعت شرارت کو دور کرنے کی ہو یا فائدہ پہنچانے کی بشرطیکہ شرعاً جائز ہو۔ یَّـکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا (تو اس کے لئے ثواب شفاعت کا حصہ ہوگا) وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً (جو بری سفارش کرے گا) سیئۃ وہ سفارش جو حسنہ کے برخلاف ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ میرے سوا اس کا کوئی تفسیر کرنے والا نہیں۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس نے توحید کا حکم دیا۔ کفار سے لڑائی کی یہ شفاعت حسنہ ہے اور اس کی ضد شفاعت سیئہ ہے۔
حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا۔ شفاعت حسنہ صلح کرانا اور شفاعت سیئۃ چغلی کرنا۔…
Read the full tafseer →85۔ (آیت) ” من یشفع شفاعۃ حسنۃ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکن لہ کفل منھا “۔ کفل کا معنی نصیب ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ لوگوں میں باہم صلح کرانا شفاعت حسنہ ہے اور بری شفاعت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان چغل خوری کرنا اور بعض نے کہا کہ شفاعت حسنہ لوگوں میں خیر کی بات کرنا ہے جو ثواب اور خیر کا ذریعہ بنے اور بری شفاعت یہ ہے کہ غیبت کرنا اور بری باتیں کرنا جو برائی کا باعث بنتا ہے۔ ” کفل منھا “ یعنی ان کے لیے حصہ ہوگا اور مجاہد کا قول ہے کہ بعض لوگوں کی بعض کے ساتھ شفاعت کرنا مراد ہے اور شفاعت کرنے والا شفیع اجر پائے گا ، اگرچہ اس کی شفاعت قبول نہ کی جائے ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(84 ۔ 87) ۔ اوپر گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی سے واپسی کے وقت ابو سفیان نے سال آئندہ بدر صغریٰ پر لڑائی کے لئے آنے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ پر آنحضرت ﷺ سترہ صحابہ کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر بدر صغریٰ کو تشریف لے گئے اور تین روز تک وہاں قیام کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان وغیرہ کے دل میں رعب ڈال دیا۔ اس لئے یہ لوگ وعدہ کے موافق بدر صغریٰ پر نہیں آئے یہ بدر صغریٰ ایک مقام ہے جہاں سالانہ بازار بھرتا ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت آنحضرت ﷺ کے ترغیب دلانے پر ستر آدمی باوجود زخمی ہونے کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ گئے تھے جن کی تعریف اوپر گذرچ کی ہے اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح اے نبی اللہ کے تم…
Read the full tafseer →آیت 85
یہاں شفاعت سے مراد کسی معاملے میں معاونت ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے کی بھلائی کے کسی کام میں سفارش کرتا ہے اور اس کام میں اس کی مدد کرتا ہے، مثلاً مظلوموں کے بارے میں ظالم کے پاس سفارش کرنا اسے اس کی کوشش اور عمل کے مطابق اس نیک سفارش سے حصہ نصیب ہوگا اور اصل کام کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور جو کوئی برائی کے کسی کام میں کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے تعاون اور مدد کے مطابق عذاب میں سے اس کو حصہ ملے گا۔ اس آیت کریمہ میں نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے لئے بہت بڑی ترغیب ہے۔ اسی طرح گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت پر زجر و توبیخ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
قول باری ہے (ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا۔ اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے) اختلاف کی تین صورتیں ہیں تناقض ، کی صورت میں اختلاف جس میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے فساد کو لازم کردے۔
تفاوت کی صورت میں اختلاف جس میں ایک حصہ توفصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھورہا ہو اور دوسرا حصہ انتہائی گھٹیا اور پست ہو۔ اختلاف کی یہ دونوں صورتیں قرآن سے منفی ہیں ، اور یہ چیز اس کے اعجاز کے دلائل سے ایک دلیل ہے۔
کیونکہ جب فصحاء اور بلغاء کا کوئی کلام طویل ہوتاجائے جس طرح قرآن کی طویل سورتیں ہیں تو ایسی صورت میں اس طویل کلام میں فصاحت اور بلاغت…
Read the full tafseer →207 اچھی سفارش اور اس کا اچھا پھل : یعنی کوئی ایسی سفارش جس سے کسی دوسرے صاحب حق کی جائز حدود کے اندر بھلائی مقصود ہو، اور وہ اس نے کسی دنیاوی غرض و لالچ کے بغیر محض رضائے الہٰی کے لئے کی ہو۔ سو ایسی شفاعت حسنہ (اچھی سفارش) کا اجر وثواب اس کو ملے گا اور اس نیکی میں وہ شریک وسہیم ہوگا۔ شفع کے اصل معنی ایک چیز کو دوسری چیز سے جوڑنے اور نتھی کردینے کے ہوتے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی کی بات کی تائید و حمایت یا اس کے حق میں سفارش کرنے کے معنیٰ میں استعمال ہوا۔ پھر آگے یہ سفارش اگر کسی مقصد حق کی تائید وتقویت کے لئے ہوگی تو " شفاعت حسنہ " یعنی اچھی سفارش کہلائیگی اور اگر اس سے مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
جہاد اور اس کی ترغیب
تشریح : غزوہ احد میں ابوسفیان ؓ کے ساتھ عہدہوا تھا کہ ذیعقدہ میں بدر صغر ٰی میں جنگ کی جائے گی۔ تب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو جہاد پر جانے کو کہا مگر لوگوں نے ٹال مٹول کیا۔ تب اللہ رب العزت نے حکم دیا کہ اے نبی ! آپ خود ہی جہاد کے لیے نکل جائیں لوگوں کو کہیں ضرور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ٹھیک ہے آپ نے تو اپناہی حساب کتاب دینا ہے وہ خود اپنے ذمہ دار ہیں پھر فرمایا کہ آپ بالکل گھبرائیں نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم ان کی جنگ کو ہی روک دیں اللہ رب نے اپنی مدد اور قوت کا وعدہ کیا اور فرمایا کہ اللہ رب العزت جنگ میں بھی شدید ہے اور سزا دینے میں بھی شدید ہے، لہٰذا فتح آپ کی ہی ہوگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 7 اللہ تعالیٰ کی طرف سے عسیٰ کا لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پس آیت میں وعدہ کیا جارہا ہے کہ عنقریب کفا رکا زور ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔۔8 اوپر کی آیت میں آنحضرت کو حکم دی کہ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دیں جو اعمال حسنہ میں میں سے یہاں تبایا کہ آپ ﷺ کو اس پر اجر عظیم ملے گا پس یہاں سفاعت حسنہ سے ترغیب جہاد مراد ہے اور شفاعت سیئہ سے اس کا کار خیر سے رکنا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اشفعر اتوجروا کہ نیک سفارش کرواجر پاو گے۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →یشفع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ جزم فعل بوجہ عمل من ہے۔ جو سفارش کرتا ہے جو معاونت کرتا ہے۔
کفل۔ حصہ۔ پورا پورا حصہ۔
مقیتا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اقوات مصدر۔ قوت۔ مادہ۔ قادر۔ نگران۔ محافظ۔ روزی دینے والا۔ بعض نے اس کا معنی شاہد بھی لیا ہے۔ یعنی اللہ ہر بات پر نظر رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85-86
لغات القرآن : یشفع، سفارش کرتا ہے۔ شفاعۃ حسنۃ، اچھی سفارش، شفاعۃ سیئۃ، بری سفارش۔ کفل، حصہ۔ مقیت، نگہبان، حییتم، تمہیں دعا دی گئی ، سلام کیا۔ حیوا، تم دعا دو ، سلام کرو۔
تشریح : یہاں شفاعت کے کم از کم دو معنی ہیں۔ اول تبلیغ و ترغیب۔ دوسرے حکام بالا تک کسی کی سفارش کرنا۔ ایک معنی اور بھی ہوتے ہیں کسی بےقصور کی وکالت کرنا۔
اب یہ اپنی اپنی توفیق ہے کوئی اسلام کی تبلیغ کرتا ہے کوئی کفر کی۔ کوئی لوگوں کو راہ ہدایت پر لانے کی کوشش کرت ا ہے تو کوئی راہ شیطنت پر لانے کی۔ دونوں کو جزا ملے گا۔ ایک کو ثواب کی دوسرے کو عذاب کی۔
سفارش کے یہ معنی بھی ہیں کہ صاحب حکم و اختیار کے پاس کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لئے (مشورہ کیے بغیر) شائع نہ کرنا چاہیے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ! آپ مسلانوں کو دین کی لڑائی کی ترغیب دلایا کیجئے، باقی رہی فتح وشکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہیں ہے بلکہ فتح وشکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ آپ بذات خود اللہ کی راہ میں لڑئیے اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ اللہ بند کرے لڑائی۔ یہ ایک غیب کی خبر تھی چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا اور یہ جو ہے کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے۔ اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔ ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
[57] اولوالامر کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 48 صفحہ 230 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) شفع ووتر جوڑا اور ایکائی کو کہتے ہیں شفاعت کے معنی ہیں کسی دوسرے کے ساتھ ہو کر کسی مسئلے کو طے کرنے کے ۔
آیت کا مقصد یہ ہے کہ اچھی باتوں کی طرف لوگوں کو مائل کرنا اچھی بات ہے اور برائی کی طرف دعوت دینا برا ہے یعنی جہاد کی ترغیب و اشاعت از قبیل حسنات ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کو کسل ودون ہمتی کی تعلیم دیتے ہیں ، مجرم ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 4 جو شخص کوئی اچھی سفارش کرے گا یعنی ایسی سفارش جو شرعاً صحیح ہو تو اس سفارش کرنے والے کو بھی اس سفارش کی وجہ سے ثواب کا ایک حصہ ملے گا اور جو شخص کوئی بری سفارش کرے گا یعنی جو شرعاً ممنوع ہو اس بری سفارش کرنے والے کو بھی اس سفارش کی وجہ سے گناہ کا ایک حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مثلاً کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند ہے کچھ دلوا دے یہ بھی شریک ہوا ثواب خیرات میں اور جو کافر یا مفسد کو سفارش کر کے چھڑا دے یہ بھی شریک ہے اس فساد میں (موضح القرآن)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ سفارش بھی اچھے کام کی ہو اور سفارش کا طریقہ بھی صحیح ہو یہ نہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جس کا طریق و مقصود دونوں مشروع ہوں۔
3۔ یعنی جس کا طریق یاغرض غیر مشروع ہوں۔
Read the full tafseer →نیکی میں تعاون نیکی ہے اور برائی میں تعاون برائی ، ہر تعاون کرنے والا خوب سمجھ لے :
147: آیت زیرنظر میں شفاعت یعنی کو اچھی اور بری دو قسموں میں تقسیم فرما کر اس کی حقیقت کو بھی واضح کردیا ہے اور یہ بھی بتلا دیا ہے کہ نہ ہر سفارش بری ہے اور نہ ہر سفارش اچھی اور یہ بھی بتا دیا کہ اچھی سفارش کرنے والے کو ثواب کا حصہ ملے گا اور بری سفارش کرنے والے کو عذاب کا۔ اس آیت میں اچھی سفارش کے ساتھ ” نَصِیْبٌ “ کا لفظ آیا ہے اور بری سفارش کے ساتھ ” کِفْلٌ “ کا اور لغت میں دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی کسی چیز کا ایک حصہ لیکن عرف عام میں لفظ ” نَصِیْبٌ “ اچھے حصے کے لیے بولا جاتا ہے اور لفظ کِفْلٌ برے حصہ…
Read the full tafseer →Commentary
The Reality of Recommendation and its rules and kinds
Verse 85 beginning with مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً points out to the act of شَفَاعَۃ 'shafah' (recommendation) under two heads, the good and the bad, a division which helps clarify its nature. The added message here is that no recommendation is universally good or bad. What has to be realized is that one who makes a good recommendation shall have a share in the reward it brings and whoever makes a bad recommendation shall have a share in the punishment it brings. It will be noted that the word: نَصِيبٌ 'nasibun' (share)…
Read the full tafseer →113. It is all a matter of choice and luck. One has the opportunity to struggle for the cause of God, and to urge others to strive for it in order to raise the banner of the Truth and be rewarded by God for so doing. Likewise, one also has the opportunity to expend one's energy trying to create misunderstanding among God's creatures and to demoralize people in their struggle for His cause thus incurring His chastisement.
Read the full tafseer →