Explained with ayahs 82–83
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح وبلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لئے کہ حکم وحمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چناچہ اور جگہ فرمایا (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا) 47۔ محمد :24) یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 111
منافق اور ضعیف الایمان لوگوں کی جس روش پر اوپر کی آیتوں میں تنبیہہ کی گئی ہے اس کی بڑی اور اصلی وجہ یہ تھی کہ انہیں قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ آتا تھا کہ رسول پر واقعی وحی اترتی ہے اور یہ جو کچھ ہدایات آرہی ہیں۔ اسی لیے ان کی منافقانہ روش پر ملامت کرنے کے بعد اب فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ قرآن پر غور ہی نہیں کرتے ورنہ یہ کلام تو خود شہادت دے رہا ہے کہ یہ خدا کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہو نہیں سکتا۔ کوئی انسان اس بات پر قادر نہیں ہے کہ سالہا سال تک وہ مختلف حالات میں، مختلف مواقع پر، مختلف مضامین پر تقریریں کرتا رہے اور اول سے آخر تک اس کی ساری تقریریں…
Read the full tafseer →تدبر قرآن
افلایتدبرون القرآن، اس آیت سے اللہ تعالیٰ قرآن میں غور و فکر کرنے کی دعت دیتے ہیں، اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے افلایتدبرون فرمایا افلایقرؤن نہیں فرمایا اس سے بظاہر ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ وہ اگر گہری نظر سے قرآن کو دیکھیں تو ان کو اس کے معانی و مضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا اور یہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی ادا ہوسکتا ہے، صرف تلاوت اور قرات جس میں تدبر اور غور و فکر نہ ہو اس سے بہت سے اختلافات نظر آنے لگتے ہیں، جو حقیقت کے خلاف ہے۔
دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81 تا 82: وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا۔
مبتدا کے حذف کا فائدہ : طاعۃ خبر ہے، مبتدا اس کا محذوف ہے اور یہ بات ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مبتدا کو حذف کردیا جائے تو مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ پیغمبر کی مجلس میں ہوتے ہیں اور پیغمبر ان کو خدا کا کلام اور اس…
Read the full tafseer →82۔ 1 قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و تدبر کی تاکید کی جا رہی ہے اور اس کی صداقت جانچنے کے لئے ایک معیار بھی بتلایا گیا کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہوتا (جیسا کہ کفار کا خیال ہے) اس کے مضامین اور بیان کردہ واقعات میں تعارض و تناقص ہوتا۔ کیونکہ ایک تو یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے۔ ایک ضخیم اور مفصل کتاب ہے، جس کا ہر حصہ اعجاز و بلاغت میں ممتاز ہے۔ حالانکہ انسان کی بنائی ہوئی بڑی تصنیف میں زبان کا معیار اور اس کی فصاحت و بلاغت قائم ہی نہیں رہتی، دوسرے، اس میں پچھلی قوموں کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ جنہیں اللہ علام الغیوب کے سواء کوئی اور بیان نہیں کرسکتا۔ تیسرے…
Read the full tafseer →49: یوں تو انسان کی کوئی کاوش کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتی لہذا انسان کی کتابوں میں تضاد اور اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کرے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس میں یقیناً تضادات اور اختلافات ہوں گے۔ جن لوگوں نے پچھلے انبیائے کرام کی کتابوں میں تحریفات کی ہیں۔ ان کی وجہ سے ان کتابوں میں جو تضادات پیدا ہوئے ہیں، وہ اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ ان کی تفصیل دیکھنی ہو تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب ”اظہار الحق“ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کا اردو ترجمہ ”بائبل سے قرآن تک“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (4 : 82)
” کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔
اس بیان اور ہدایت کے اندر انسانیت کے لئے انتہائی عزوشرف کا مقام پوشیدہ ہے ۔ اس میں انسان کے ادراک پر مکمل بھروسہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کی شخصیت کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے ۔ نیز اس میں عدالت عقل میں فیصلہ لے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی ایک ایسے مظہر میں جس کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے زیادہ دشوار نہیں ہے ۔
قرآن کے اندر پائی جانے والی مکمل ‘ جامع اور بےقید ہم آہنگی ایک ایسا مظہر ہے جو…
Read the full tafseer →1 پہلی آیات سے حضرت محمد ﷺ کا رسول اللہ ہونا اور ان کی اطاعت بعینہ خدا کی اطاعت ہونی اور ان کے نافرمانوں پر حق تعالیٰ کا عذاب ہونا تو خوب ظاہر ہوگیا مگر منافق اور آپ کے مخالف یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کی گواہی اور اس کے ارشادات کی تسلیم و تصدیق میں تو ہم کو تامل ہرگز نہیں مگر یہ کیونکر معلوم ہو کہ یہ خدا کا کلام ہے بشر کا بنایا ہوا نہیں تو حق تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے جس سے صاف معلوم ہوجائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ دیکھو اگر قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا جیسا کہ تم گمان کرتے ہو تو ضرور قرآن میں بہت سے مواقع میں طرح طرح کے اختلافات ملتے۔ دیکھو آدمی ہر حالت میں اسی…
Read the full tafseer →آیت 82 اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط
یہ قرآن پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ‘ لیکن اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔ نمازیں تو وہ پڑھتے تھے۔ اس وقت جو بھی منافق تھا اسے نماز تو پڑھنی پڑتی تھی ‘ ورنہ اس کو مسلمان نہ مانا جاتا۔ آج تو مسلمان مانے جانے کے لیے نماز ضروری نہیں ہے ‘ اس وقت تو ضروری تھی۔ بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تو پہلی صف میں ہوتا تھا اور جمعہ کے روز تو خاص طور پر خطبے سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کرتا تھا کہ لوگو ان کی بات توجہ سے سنو ‘ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا اپنی چودھراہٹ کے اظہار کے لیے یہ انداز اختیار کرتا۔ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے ‘ قرآن سنتے تھے ‘ لیکن قرآن پر تدبر…
Read the full tafseer →114 قرآن میں اختلاف نہ ہونا ہی منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہے :۔ منافقوں کی جن باتوں پر انہیں تنبیہ کی گئی ہے ان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں بھی شک تھا۔ اس آیت میں اس شک کو دور کرنے کی عقلی دلیل پیش کی گئی ہے جو یہ ہے، کہ انسان کی حالت یہ ہے کہ بچپن میں اس کی عقل ناپختہ ہوتی ہے۔ جوانی میں قدرے ترقی کر جاتی ہے اور پختہ عمر میں عقل بھی پختہ ہوجاتی ہے اور اس کے ان تینوں ادوار کے کلام میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ پھر زندگی بھر اس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ بچپن میں خیالات و نظریات اور طرح کے ہوتے ہیں، جوانی میں اور طرح کے اور بڑھاپے میں اور طرح کے۔ پھر انسان جس شہر یا ملک…
Read the full tafseer →231 ۔ (جو بشری تالیف وتصنیف کا لازمہ ہے) (آیت) ” اختلافا کثیرا “۔ اس کے مفہوم میں بہت کچھ قیل قال ہوئی ہے۔ کسی نے کہا کہ بیان میں تناقض مراد ہے اور کسی نے کہا کہ تحقیقات میں فرق مراتب اور کسی نے کہا کہ عبارت کی عدم یکسانی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود اختلاف کثیر کا لفظ بڑا وسیع اور جامع ہے۔ معنوی اور ادبی ہر قسم کی بےآہنگی ہر طرح کا جھول جھال اس کے اندر داخل ہے۔ قرآن مجید نے اس آیت سے دنیا کے سامنے اپنی یکتائی کا ایک مستقل چیلنج پیش کردیا کہ ہر طرح ٹھونک بجا کر دیکھ لو، ہر طرح جانچ پڑتال کرلو، مضامین کی پستی وبلندی، عبارت کی ناہمواری، کسی قسم کی کوئی کمی کوئی کوتاہی اس کے اندر نہ پاؤ گے۔ اور یہی…
Read the full tafseer →اَفَلاَیتدبرون القرآن، اسلام کی بلند عمارت دوستونوں پر قائم ہے ایک ذات پیغمبر اور دوسرا قرآن حکیم، یہ منافقین پیغمبر کی ذات گرامی سے منہ موڑتے ہیں ساتھ ہی قرآن سے بھی برگشتہ ہیں، اگر یہ لوگ ایک لمحہ کے لئے قرآن پاک پر غور کرتے تو ان پر یہ بات واضح ہوجاتی کہ قرآن خدائی کلام ہے۔
Read the full tafseer →افلا یتدبرون القران . پھر کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ یعنی منافق کیا قرآن کی عبارت اور مضامین پر غور نہیں کرتے اور قرآن کے اندر جو عجائب وغرائب ہیں ان کو نہیں سمجھتے کہ کلام اللہ ہونا اور انسانی کلام نہ ہونا ان پر واضح ہوجاتا اور ان کو ایمان حاصل ہوجاتا اور یہ نفاق ترک کردیتے۔
افلا یتدبرونکا لفظ بنا رہا ہے کہ (شرعاً ) مسائل شریعت میں قیاس سے کام لینا جائز ہے۔
ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا اور اگر قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں یہ بکثرت تفاوت پاتے یعنی معنی میں تناقض اور عبارت میں تفاوت ہوتا کچھ حصہ فصیح ہوتا کچھ رکیک ‘ کسی حصہ کا مقابلہ دشوار ہوتا اور…
Read the full tafseer →(82) کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے کہ بعض احکام بعض کے مشابہ ہیں اور بعض بعض کی تصدیق کرتے ہیں اور جن باتوں کا رسول اکرم ﷺ حکم دیتے ہیں وہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔
اور اگر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت تضاد اور ٹکراؤ ہوتا اور بعض احکام کا بعض کے ساتھ کوئی تناسب نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭ۔ : منافقین کے مکر و فریب اور مذموم خصائل کے ضمن میں قرآن کی حقانیت کے اثبات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ منافقین یہ سب مکر و فریب اور سازشیں اس بنا پر کر رہے تھے کہ وہ آپ کو سچا نبی نہیں سمجھتے تھے، لہٰذا یہاں آپ ﷺ کے صدق نبوت پر بطور دلیل کے قرآن کو پیش کیا اور قرآن حکیم آپ ﷺ کے صدق نبوت کی تین وجہوں سے دلیل بنتا ہے، اول اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے۔ [ دیکھیے البقرۃ : 23 ] دوم امور غیب کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اور سوم اختلاف و تناقض سے پاک اور مبرا ہونے کی بنا پر۔ یہاں اسی تیسری چیز کو بیان فرمایا ہے۔ (رازی) مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر : 81 تا 82۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طآئفۃ منھم غیرالذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون “۔ یعنی امرنا طاعۃ اور طاعۃ پر نصب بھی جائز ہے یعنی نطیع طاعۃ، یہ نصر بن عاصم، حسن اور حجدری کی قرات ہے، اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی وہ جب آپ کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ہمارا معاملہ اطاعت ہے یا ہم پوری اطاعت کرتے ہیں اور ان کا یہ قول نفع بخش نہیں، کیونکہ جو اطاعت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو حقیقۃ مطیع نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انکی اس اطاعت کو ثابت نہیں کیا جو انہوں ظاہر کی تھی اگر بغیر اعتقاد طاعت اگر ہوتی تو ان کے لیے اس…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” افلا یتدبرون القران “ سے مراد ہی کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “ یعنی اللہ تعالیٰ کے قول میں اختلاف نہیں ہوتا اور وہ حق ہوتا ہے اس میں باطل نہیں ہوتا اگرچہ لوگوں کے قول مختلف ہوتے ہیں۔
(3) ابن ابی حاتم نے عبد الرحمن بن زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن المنذر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے (یہ آیت) ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “ پڑھی اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[ اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ : تو کیا یہ لوگ غور وفکر نہیں کرتے ] [ الْقُرْاٰنَ : قرآن میں ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ کَانَ : وہ ہوتا ] [ َمِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ : غیر اللہ کے پاس سے ] [ لَوَجَدُوْا : تو یہ پاتے ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا : بہت زیادہ اختلاف ]
Read the full tafseer →قرآن میں تدبر کرنے ترغیب :
پھر فرمایا (اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ) (الآیۃ) کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے اگر قرآن میں غور و فکر کریں تو ان کو یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں جن کے رسول ہونے کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ (وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا) اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ اور کہیں سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ اس کی خبروں میں بھی تعارض ہوتا، اس کی نظم و بلاغت میں تفاوت ہوتا، بعض خبریں صحیح ہوتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →58 اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بیان کردہ امور وحقائق نفس الامر اور واقع سے مختلف ہوتے اور بیان کا نفس الامر سے مختلف ہونا جھوٹ اور کذب ہوتا ہے تو حاصل یہ نکلا کہ اگر قرآن خدا کا کلام نہ ہوتا بلکہ انسان کا خود ساختہ ہوتا تو اس کے کئی بیانات نفس الامر کے خلاف اور جھوٹے ہوتے لیکن اگر قرآن کے بیان کردہ امور و حقائق کو بنظر انصاف دیکھا جائے اور ان میں غور و فکر کیا جائے تو اس میں ایک بات بھی خلاف واقع نہیں مل سکے گی بان یکون بعض اخباراتہ الغیبیۃ کا لاخبار عما یسرہ المنافقون غیر مطابق للواقع الخ (روح ج 5 ص 92 و خازن ج 1 ص 470) حضرت شیخ (رح) کے نزدیک یہی راجح ہے یا اختلاف سے عام اختلاف مراد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ربط آیات
گزشتہ درس میں منافقین اور یہود کا یہ رویہ بیان ہوا کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا الزام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ذات پر لگاتے ہیں کہ آپ کی بےتدبیری کی وجہ سے ایسا ہوا ہے یا پھر بُرا شگون لیتے ہیں کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کی مدینے آمد کی وجہ سے ان پر نحوست پڑی ہے (العیاذ باللہ) اللہ نے فرمایا یہ دونوں باتیں غلط ہیں شگون لینا تو ویسے ہی شرک ہے کسی کے آنے یا جانے سے نفع یا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ ہر چیز کا خالق اور موجد تو اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ انسانوں کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب انہیں کوئی راحت پہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور جب کوئی تکلیف…
Read the full tafseer →اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ 0ۭ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِيْہِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا 82
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً […
Read the full tafseer →1 ؎ اگر کوئی کہے کہ قرآن میں اختلاف ہے کیونکہ کہیں ہے خدا کو دیکھیں گے پھر ہے لا تدرکہ الابصار کہ اس کو بصر اور اک نہیں کرسکتی کہیں ہے لنئلن کہ ہم سب سے سوال کریں گے پھر ہے لایسئل عن ذنبہ انس ولاجان کہ کسی کے گناہ سے سوال نہ ہوگا چناچہ بعض پادریوں نے بائیبل کے اختلاف کثیرہ کے جواب میں ایسے اختلافات قرآن گنوائے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں ہرگز اختلاف نہیں اس کی تشڑیح ان کے مواقع میں موجود ہے بخلاف اختلاف بائیبل کے 12۔
2 ؎ اس جگہ سے قیاس کا جو استنباط کا ہم معنی ہے حجت شرعیہ ہونا ثابت ہے اس مقام پر امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ان للعامی کیب علیہ تقلید العلماء فی احکام الحوادث کہ…
Read the full tafseer →اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا
” کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اور (اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ) اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ ضرور پاتے اس میں اختلافِ کثیر۔ “ (النسآء : 82)
منافقین کا فکری تضاد
قدم قدم پر منافقین کے فکری تضاد کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو وہ اللہ کے رسول ﷺ کی ہر بات اور قرآن کریم کی ہر آیت پر سمعنا واطعنا کہتے ہیں اور بار بار اپنی اطاعت اور فدویت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور قرآن کریم پر تنقید کرنے سے باز نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اگر آدمی قرآن مجید کے نصائح اور فرمودات پر غور کرے تو اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ قرآن تضادات کے بجائے سیدھی اور صاف بات کہتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید پر آدمی مخلصانہ طریقہ پر غور اور عمل کرے تو وہ منافقت اور قول و فعل کے تضاد سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ وہ کسی حقیقت کو منوانے کے لیے تحکم کی بجائے سوچ و بچار اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ توحید کی دعوت دی تو زمین و آسمان کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، سمندر کی لہروں اور تہوں گویا کہ بحروبر کی تمام نشانیوں کو پیش فرمایا یہاں تک کہ انسان کو اپنے آپ پر غور کرنے کا حکم دیا اور یہی دعوت قرآن…
Read the full tafseer →تقلید جامد کی تردید :
آیت 82 : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْ ٰانَ (کیا پھر وہ قرآن پر غور نہیں کرتے) یعنی کیا وہ قرآن کے مضامین اور عبارت پر غور نہیں کرتے۔
التدبر : معاملے کے پس منظر کو دیکھنا اور پیش منظر کو سامنے رکھنا۔ پھر استعمال میں عام ہو کر ہر اس تامل و تفکر کے لئے بولا جانے لگا جس میں دلائل کی طرف نظر کرتے ہوئے دل کا تصرف شامل ہو۔
اس سے روافض کی اس بات کی تردید ہوجاتی ہے۔ کہ قرآن کا معنی سمجھا نہیں جاسکتا مگر رسول اللہ ﷺ کی اور امام معصوم کی تفسیر سے یہ آیت قیاس کی صحت اور تقلید (جامد) کو باطل قرار دیتی ہے۔
وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ (اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا)…
Read the full tafseer →(تفسیر) 82۔:
(آیت) ” افلا یتدبرون القرآن “۔ کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے ، تدبر کہتے ہیں کسی کام میں آخری نظر تک غور وفکر کرنا (آیت) ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “۔ یعنی ان میں تفاوت اور تناقض بہت پایا جاتا ہے اگر یہ قرآن کسی اور کی طرف سے ہوتا ، یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ اگر وہ غیب اور پوشیدہ باتوں میں اختلاف دیکھتے ہیں کیا وہ ان چیزوں میں غور وفکر نہیں کرتے ، اگر غورو فکر کرتے ہوتے تو اس میں ان کو تناقض نظر نہ آتا اور وہ اس کو کلام اللہ ہونے کی ضرور تصدیق کرتے اس لیے کہ جو کلام من جانب اللہ ہو تو اس میں تناقض نہیں ہوتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(80 ۔ 82) ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی گواہی سے آنحضرت ﷺ کے سچا نبی ہونے کا ذکر فرمایا تھا اب ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ میری نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے 2۔ یہ حدیث اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ارشاد فرماتا ہے کو جو کوئی اس…
Read the full tafseer →آیت 82
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تدبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں تدبر سے مراد ہے کتاب اللہ کے معانی میں غور و فکر اس کے مبادی، نتائج و عواقب اور اس کے لوازم میں گہری نظر سے سوچنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تدبر تمام علوم و معارف کی کنجی ہے۔ ہر بھلائی اسی کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے اور تمام علوم کا استخراج اسی سے کیا جاتا ہے۔ کتاب اللہ ہی سے قلب میں ایمان کا اضافہ ہوتا ہے اور شجرہ ایمان جڑ پکڑتا ہے۔ کتاب اللہ ہی رب معبود کی معرفت عطا کرتی ہے، اس معرفت سے نوازتی ہے کہ رب معبود کی صفات کمال کیا ہیں اور وہ کون سی صفات نقس سے منزہ ہے۔ کتاب اللہ اس راستے کی معرفت عطا کرتی ہے جو رب…
Read the full tafseer →قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
194 منافقوں کے طاعت کے زبانی کلامی دعوے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے حکم مانا۔ معلوم ہوا کہ طاعت و فرمانبرداری کے محض زبانی کلامی اور بلند بانگ دعوے کرنا کافی نہیں۔ اور یہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں بلکہ یہ منافق لوگوں کا شیوہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ مخلص اہل ایمان محض زبانی کلامی دعو وں کی بجائے اپنے عمل و کردار سے اپنے صدق و اخلاص کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اور یہی اصل مقصود ہے یہاں پر۔ " طاعَۃ “ ٌ خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اور عربی کے اس اسلوب کے مطابق جب مبتداء کو حذف کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ پیغمبر کی مجلس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
نبی ﷺ کے خلاف سازشیں
تشریح : ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو آپ ﷺ کے سامنے ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نبی ﷺ کو ان منافقین کی طرف سے آگاہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو بالکل خبر نہیں کہ ان کی کہی ہوئی ہر بات اور ہر سازش ہم لکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ کا نگہبانی کا بندوبست اتنا زبردست اور بہترین ہے کہ اس سے بندوں کا کوئی عمل اور کوئی ارادہ چھپا ہوا نہیں۔ نبی کریم ﷺ کو منافقین سے خبردار کرنے کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان منافقین کی طرف سے بالکل پریشان نہ ہوں، کیونکہ آپ کا حامی اور مددگار بہت طاقت ور اور بہترین سازگار ہے۔ وہ ہے اللہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 1 ابتدائے ہجرت میں منافقین کی حرکتوں سے چشم پوشی کا حکم تھا اس کے بعد آیت جاھد الکفار والمنا فقین ( کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو) سے یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے منافقین سے جہاد کے یہی معنی ہیں کہ ان کو زجرو و ملامت کی جائے اور ان کی حرکتوں چشم پوشی نہ کی جائے تفصیل کے لیے دیکھئے التوبہ آیت 3) مگر امام رازی اس نسخ پر راضی نہیں ہیں (کبیر)
2 منافقین کے مکر و فریب اور مذموم خصائل کے ضمن میں قرآن کی حقانیت کے اثبات کی ضرورت ہے اس لیے پیش آئی کہ منافقین یہ سب مکرو فریب اور سازشیں اس بنا پر کررہے تھے کہ وہ آپ ﷺ کو سچا نبی نہیں سمجھتے تھے۔ لہذا یہاں آنحضرت ﷺ صدق نبوت پر بطور دلیل کے قرآن کو پیش کیا…
Read the full tafseer →(4:82) لو کان ۔ ای لوکان ھذا القران۔ اگر یہ قرآن ہوتا (اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر 81-82
لغات القرآن : طاعۃ، اطاعت۔ برزوا، وہ نکلے۔ بیت، رات کو جمع ہوکر باتیں کیں۔ یبیتون، وہ رات گزارتے ہیں۔ اعرض، چھوڑ دو ، منہ پھیر لو۔ افلا یتدبرون، وہ غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔
تشریح : منافقین کی پہچان یہ ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ جب دن میں حضور کی محفل میں ہوتے تو بڑھ بڑھ کے آپ کی اطاعت کا دم بھرتے لیکن رات کے اندھیرے میں ان کے سردار جمع ہو کر آپ کے خلاف مشورہ کرتے اور تدبیریں سوچتے رہتے۔ وہ اس بات کا ذرا خیال نہ کرتے کہ د ن میں انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے کیا کیا وعدے کئے تھے۔ کہا جا رہا ہے (اے نبی ﷺ ! ) آپ ان باتوں کو اپنے دل پر نہ لیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں وہی کارساز ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہی کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کے بعد اپنی رسول ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اس میں کوتاہی کرے تو ہم ایسے لوگوں کے نگہبان ہیں ۔ پھر منافقوں کی مذمت فرمائی کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ان کی جان ومال کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اور اپنے گھروں میں جاکر برخلاف مشورہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کرتوت اللہ کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
[65] یعنی خود تمہاری بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں دعوت تدبر و تفکر ہے جو شخص قرآن حکیم پر دیانت داری کے ساتھ غور کرے گا ، ضرور ہے کہ اس کی عظمت وصداقت پر یقین لے آئے سب سے بڑی بات جو قرآن پاک کی معجزانہ دلیل ہے وہ اس کی وحدت ویکسائی ہے ۔
سارا قرآن پڑھ جاؤ ۔ اس میں ہزاروں نکات و معارف بیان کئے ہیں ، کہیں تضاد وتعارض کا نام نہیں ، ایک دریا ہے جو برابر بہتا چلا جاتا ہے اور پڑھنے والے کو بہائے لئے جارہا ہے ، اسلوب بیان بھی بیسوں اختیار کئے ہیں مگر سب میں حیران کن بلاغت ہے کہیں زور کلام کم نہیں ہوتا ، توحید والہیات سے لے کر اخلاق ومعاشرت کے باریک اور نازک مسائل تک بیان کئے ہیں مگر کیا مجال ہے جو شگفتگی و پاکیزگی میں فرق آجائے ،…
Read the full tafseer →ف 1 کیا یہ لوگ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کے اعجاز میں غور اور تدبر سے کام نہیں لیتے اور اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی جانب سے ہوتا اور خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں یہ لوگ بکثرت تفاوت پاتے جیسا کہ عام طور سے دوسرے کے کلام میں ہوا کرتا ہے۔ (تیسیر)
حضر ت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مخلوق ہر حال میں اس حال کے موافق بولتا ہے غصے میں مہربانی والوں کی طرف دھیان نہیں رہتا اور مہربانی میں غصے والوں کی طرف دنیا کے بیان میں آخرت یاد نہ آوے اور آخرت کے بیان میں دنیا بےپروائی میں عنایت کا ذکر نہیں اور عنایت میں بےپروائی کا تو اس حال کا کلام سنے دوسرے حال سے مخالف نظر آوے اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 6۔ تاکہ اس کا کلام الہی ہوناواضح ہوجائے۔
7۔ پس لامحالہ یہ غیرا للہ کا کلام نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کلام اللہ کے وجوہ اعجاز میں سے اس کی فصاحت و بلاغت کا بےمثل ہونا اور اس کے اخبارات کا جن پر مطلع ہونے کا رسول اللہ کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا بالکل صحیح و مطابق واقع کے ہونا ہے پس معلوم ہوا کہ یہ کلام خالق تعالیٰ کا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کی باتوں میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا :
143: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ پھر کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ معلوم ہے کہ ” دبر “ کسے کہتے ہیں ؟ پیٹھ کو۔ پیٹھ کہاں ہوتی ہے ؟ پیچھے۔ اف ! توبہ قرآن اور پیچھے۔ ہاں ہاں ! قرآن اور پیچھے۔ تم نے کبھی یہ فقرہ نہیں سنا ؟ ” کہ یار تم اس بات کے پیچھے ہی لگ گئے ہو۔ “ اب غور کرو کہ پیچھے کا کیا مطلب ہے ؟ بس اس دبر سے تدبر ہے اور اسی سے تدبر اور تدبر کے معنی ہیں ” التکفیر فی دبر الامور “ (راغب) یعنی امور کے نتائج میں غور و فکر کرنا۔ قرآن کریم کی آیت کے اس حصہ کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ قرآن کے پیچھے لگ جاؤ اس طرح کہ اس میں غور و فکر…
Read the full tafseer →Deliberation in the Qur'an
Verse 82 begins with: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (Do they not, then, ponder in the Qur'an?) Through this verse, Allah Almighty invites people to deliberate in the Qur'an. Noteworthy here are a few points. First of all, the words used are: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ (Do they not, then, ponder ...) and not اَفَلَا یقرؤُنَ (Do they not, then, recite.) Obviously, there is a delicate hint being given through this verse which is suggesting that if they were to look at the Qur'an deeply, they would find no discrepancy in its words and meanings. This sense can come…
Read the full tafseer →111. The main reason for the attitude of the hypocrites and lukewarm believers was their lack of conviction that the Qur'an came from God. They did not believe that the Prophet (peace be on him) had received the messages and directives that he preached from God Himself. Hence, when they are censured for their hypocritical conduct, they are told that they do not reflect upon the Qur'an. For the Qur'an itself is a strong, persuasive testimony to its divine origin. It is inconceivable that any human being should compose discourses on different subjects under different circumstances and on…
Read the full tafseer →