Explained with ayahs 82–83
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح وبلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لئے کہ حکم وحمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چناچہ اور جگہ فرمایا (اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا) 47۔ محمد :24) یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سورة النِّسَآء 112
وہ چونکہ ہنگامہ کا موقعہ تھا اس لیے ہر طرف افواہیں اڑ رہی تھیں۔ کبھی خطرے کی بےبنیاد مبالغہ آمیز اطلاعیں آتیں اور ان سے یکایک مدینہ اور اس کے اطراف میں پریشانی پھیل جاتی۔ کبھی کوئی چالاک دشمن کسی واقعی خطرے کو چھپانے کے لیے اطمینان بخش خبریں بھیج دیتا اور لوگ انہیں سن کر غفلت میں مبتلا ہوجاتے۔ ان افواہوں میں وہ لوگ بڑی دلچسپی لیتے تھے جو محض ہنگامہ پسند تھے، جن کے لیے اسلام اور جاہلیت کا یہ معرکہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ تھا، جنہیں کچھ خبر نہ تھی کہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ افواہیں پھیلانے کے نتائج کس قدر دور رس ہوتے ہیں۔ ان کے کان میں جہاں کوئی بھنک پڑجاتی ہے اسے لے کر جگہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جب ان کو کسی امر (جدید) کی خبر پہنچتی ہے خواہ (وہ امر موجب) امن ہو یا (موجب) خوف (مثلاً کوئی لشکر مسلمانوں کا کسی جگہ جہاد کے لئے گیا، اور ان کے غالب ہونے کی خبر آئی، یہ امن کی خبر ہوئی، یا انکے مغلوب ہونے کی خبر آئی یہ خوف کی خبر ہے) تو اس (خبر) کو فوراً مشہور کردیتے ہیں (حالانکہ بعض اوقات وہ غلطی نکلتی ہے اور اگر صحیح بھی ہوئی تب بھی بعض اوقات اس کا مشہور کرنا مصلحت انتظامیہ کے خلاف ہوتا ہے اور اگر (بجائے خود مشہور کرنے کے) یہ لوگ اس (خبر) کو رسول ﷺ کے اور جو (حضرات اکابر صحابہ) ان میں ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان (کی رائے) کے اوپر حوالہ رکھتے (اور خود کچھ دخل نہ دیتے) تو اس…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ۭوَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔
اولو الامر پر بحث اسی سورة کی آیت 59 کے تحت گزر چکی ہے۔ " استنباط " کا اصل مفہوم کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا اور کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کرنا ہے۔ اپنے اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تہ کو پہنچنے اور اس کی حقیقت کو پانے کے معنی میں یہ استعمال ہوا۔
منافقین چونکہ ملت کے خیرخواہ نہیں تھے اس وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
83۔ 1 یہ بعض کمزور اور جلدباز مسلمانوں کا رویہ، ان کی اصلاح کی غرض سے بیان کیا جا رہا ہے۔ امن کی خبر سے مراد مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ہلاکت و شکست کی خبر ہے۔ (جس کو سن کر امن اور اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور جس کے نتیجے میں بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ پر اعتمادی پیدا ہوتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے) اور خوف کی خبر سے مراد مسلمانوں کی شکست اور ان کے قتل و ہلاکت کی خبر ہے (جس سے مسلمانوں میں افسردگی پھیلنے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا ہے) اس لئے انہیں کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کی خبریں، چاہے امن کی ہوں یا خوف کی انہیں سن کر عام لوگوں میں پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
50: بعض لوگ مدینہ منورہ میں بلا تحقیق افواہیں پھیلادیا کرتے تھے جس سے معاشرہ میں بڑا نقصان ہوتا تھا یہ آیت ایسی بےتحقیق افواہوں پر یقین کرلینے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی ممانعت کررہی ہے
Read the full tafseer →اب سیاق کلام ذرا آگے بڑھتا ہے اور ایک دوسرے گروہ کو لیا جاتا ہے جو اسلامی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔
(آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (83)
” یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری…
Read the full tafseer →2 یعنی ان منافقوں اور کم سمجھ مسلمانوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب کوئی بات امن کی پیش آتی مثلاً رسول اللہ ﷺ کا کسی سے صلح کا قصد فرمانا یا لشکر اسلام کی فتح کی خبر سننا یا کوئی خبر خوفناک سن لیتے ہیں جیسے دشمنوں کا کہیں جمع ہونا یا مسلمانوں کی شکست کی خبر آنا تو ان کو بلا تحقیق کئے مشہور کرنے لگتے ہیں اور اس میں اکثر فساد و نقصان مسلمانوں کو پیش آجاتا ہے۔ منافق ضرر رسانی کی غرض سے اور کم سمجھ مسلمان کم فہمی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔
3 یعنی کہیں سے کچھ خبر آئے تو چاہیے کہ اول پہنچائیں سردار تک اور اسکے نائبوں تک جب وہ اس خبر کو تحقیق اور تسلیم کر لیویں تو ان کے کہنے کے موافق اس کو کہیں نقل کریں…
Read the full tafseer →آیت 83 وَاِذَا جَآءَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ ط
منافقین کی ایک روش یہ بھی تھی کہ جوں ہی کوئی اطمینان بخش یا خطرناک خبر سن پاتے اسے لے کر پھیلا دیتے۔ کہیں سے خبر آگئی کہ فلاں قبیلہ چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے ‘ اس کی طرف سے حملے کا اندیشہ ہے تو وہ فوراً اسے عام کردیتے ‘ تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوجائے۔ اِذَاعَۃکا لفظ آج کل نشریاتی broadcasting اداروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مِذْیَاعریڈیو سیٹ کو کہا جاتا ہے۔
وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلآی اولی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ ط
اگر یہ لوگ ایسی خبروں کو…
Read the full tafseer →115 افواہوں کی تخلیق کا حکم :۔ غزوہ احد اور غزوہ خندق کا درمیانی دور مسلمانوں کے لیے ابتلا کا دور تھا جبکہ غزوہ احد میں ایک دفعہ مسلمانوں کی شکست کی وجہ سے یہودیوں، مشرکوں، قریش مکہ اور قبائل عرب، غرض سب اسلام دشمن طاقتوں کے حوصلے بڑھے ہوئے تھے اور مدینہ پر ہر طرف ایک ہنگامی قسم کی فضا چھائی ہوئی تھی اس صورتحال سے اسلام دشمن لوگ خوب فائدہ اٹھاتے اور کبھی تو مسلمانوں کو مرعوب اور دہشت زدہ بنانے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا دیتے کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کے خلاف بڑا بھاری لشکر جمع ہوچکا ہے اور عنقریب وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے والا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا کہ خطرہ کی بات فی الواقع موجود ہوتی لیکن غلط…
Read the full tafseer →232 ۔ (بغیر اس تحقیق کے کہ وہ خبر صحیح بھی ہے اور بغیر اس پر غور کئے کہ اگر صحیح ہے بھی تو اس کی فوری اشاعت کہاں تک مناسب وقرین مصلحت ہے) اشارہ منافقین اور کمزور ایمان والوں کی طرف ہے۔ نزل فی جماعۃ من المنافقین اوضعفاء المسلمین (جلالین) ہئیت اسلامی شروع ہی سے ایک حد تک منظم، بلکہ نیم عسکری جماعت تھی اور یہ امر ہر اجتماعی تنظیم کے منافی عموما اور عسکری تنظیم کے منافی تو خصوصا ہے کہ امت کے عوام اور عام افراد جس خبر کو جہاں سن پائیں بلا اپنے سرداروں اور اہل حل وعقد کی طرف رجوع کئے بےتحقیق اسے لے دوڑیں اور بےتحاشا اسے پھیلانا شروع کردیں۔ (آیت) ” امر من الامن “۔ مثلا کہیں باہر سے لشکر اسلام کی فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
شان نزال : وَاِذاجَاء ھم امرمن الامن اوالخوف اذاعوابہ، یہ آیت اس ہنگامی دور میں نازل ہوئی جبکہ ہر طرف افواہیں اڑرہی تھیں۔ کبھی خطرہ بےبنیاد کی مبالغہ آمیز اطلاعتیں آئیں جن سے مسلمانوں میں افسردگی پھیلنے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا اور بعض دفعہ مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کی خبریں آتیں جس کے نتیجے میں بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی پیدا ہوجاتی جو نقصان کا باعث بن سکتی تھی، مذکورہ آیت میں کمزور اور جلد باز اور افواہ پھیلانے کی اصلاح کی خاطر سرزیش کرتے ہوئے کہا جا ہا ہے کہ افواہیں پھیلانے سے باز رہیں اور عام لوگوں میں افواہیں پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ اور ذمہ داروں…
Read the full tafseer →واذا جآء ہم اور جب ان کو یعنی منافقوں یا کمزور رائے رکھنے والے مسلمانوں کو۔
امرا من الامن امن کی کوئی خبر مل جاتی ہے یعنی فتح و سلامتی کی اطلاع ہوجاتی ہے۔
او الخوف یا خوف یعنی شکست و ہزیمت کی۔
اذاعوا بہ تو اس کو پھیلا دیتے ہیں۔
ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم اور اگر وہ اس خبر کو رسول ﷺ کے اور جو ان میں ایسے امورکو سمجھتے ہیں ان کے حوالہ پر رکھتے۔ یعنی عقلمند صحابہ ؓ جیسے حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ؓ وغیرہم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ چونکہ یہ جلیل القدر صحابہ ؓ معاملات میں بصیرت رکھتے تھے اس لئے ان کو اولی الامر فرمایا یا یہ وجہ کہ اکثر اوقات انہی میں سے امیر بنائے…
Read the full tafseer →(83) اور ان منافقین کی خیانت اور بددیانتی کا یہ حال ہے کہ جب کسی لشکر کی کامیابی اور غنیمت ملنے کی ان کو اطلاع ملتی ہے تو حسد میں اسے چھپا لیتے ہیں اور اگر مجاہدین کے لشکر کے بارے میں کسی پریشان مثلا شکست کھاجانے وغیرہ کی خبران کو پہنچتی ہے تو سب جگہ اس کی تشہیر کرتے پھرتے ہیں۔
اور اگر یہ اس لشکر کی خبر کو رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ وغیرہ کے حوالے کردیتے ہیں، جو ایسی باتوں کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں تو اس خبر کے غلط و صحیح ہونے کو وہ حضرات پہچان ہی لیتے ہیں جو ان اہل ایمان میں ان امور کی تحقیق کرلیا کرتے ہیں تو پھر صحیح خبر ان لوگوں کو بھی معلوم ہوجاتی اور اگر اللہ کی طرف سے یہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ۔۔ : امن کی خبر یہ کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی، یا دشمن کا لشکر واپس چلا گیا، جس سے مسلمان بےفکر ہو کر تیاری کم کردیں وغیرہ اور خوف کی خبر یہ کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کو شکست ہوئی، یا دشمن بہت بڑی تعداد میں حملہ آور ہونے والا ہے، جس سے مسلمانوں میں خوف و ھر اس پھیلے۔ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے مختلف سرایا (جنگی دستے) لڑائی کے لیے بھیجتے رہتے تھے، اس لیے اس قسم کی افواہیں مدینہ میں اکثر پہنچتی رہتی تھیں، لیکن منافقین اور بےاحتیاط قسم کے مسلمان بجائے اس کے کہ انھیں سب سے پہلے آپ ﷺ یا آپ ﷺ کے ذمے دار اصحاب تک پہنچائیں، از خود ان افواہوں کی تشہیر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 83۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء ھم امر من الامن “۔ اذا میں شرط کا معنی ہے اور اس کی جزا نہیں لگائی جاتی اگرچہ اس پر مازائدہ کیا گیا ہو اور یہ بہت قلیل الاستعمال ہے سیبویہ نے کہا : اور عمدہ ہے جو کعب بن زہیر ؓ نے کہا :
واذا ماتشاء تبعث منھا مغرب الشمس ناشطامذعورا :
یعنی عمدہ یہ ہے اذا ما کے ساتھ جزم نہ دی جائیی جس طرح اس بیت میں جزم نہیں دی گئی، سورة بقرہ کی ابتدا میں یہ گزر چکا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا امر سنتے ہیں جس میں امن ہوتا ہے جیسے مسلمانوں کی کامیابی اور ان کے دشمن کا قتل (اوالخوف) یا اس کی ضد (اذا عوابہ) تو اس کا خوب چرچا کرتے ہیں اور اس کی حقیقت کو…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید ومسلم وابن ابی حاتم نے ابن عباس کے طریق سے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ نے اپنی بیویوں سے جدائی اختیار کرلی تو مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریان زمین پر مار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی میں نے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر زور سے آواز لگائی کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تو یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” واذا جاء ہم امر من الامن والخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم “ میں اس امر کا استنباط کرنے والا تھا۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ جَآئَ : آتی ہے ] [ ہُمْ : ان کے پاس ] [ اَمْرٌ : کوئی بات ] [ مِّنَ الْاَمْنِ : امن میں سے ] [ اَوِ الْخَوْفِ : یا خوف میں سے ] [ اَذَاعُوْا : تو وہ لوگ چرچا کرتے ہیں ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَ : حالانکہ ] [ لَوْ : اگر ] [ رَدُّوْہُ : وہ لوٹا دیتے اس کو ] [ اِلَی الرَّسُوْلِ : رسول ﷺ کی طرف ] [ وَاِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ : اور اختیار والوں کی طرف ] [ مِنْہُمْ : اپنوں میں سے ] [ لَـعَلِمَہُ : تو علم حاصل کرتے اس کا ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ : حقیقت معلوم کرسکتے ہیں اس کی ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [ فَضْلُ اللّٰہِ :…
Read the full tafseer →غیر محقق بات کو پھیلانے کی مذمت اور خبروں کو اہل علم تک پہنچانے کی اہمیت
صحیح مسلم صفحہ 480: ج 1 میں ایک تفصیلی واقعہ ذکر کیا ہے جو حضرت عمر ؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے (طلاق دیے بغیر کچھ عرصہ کے لیے) ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار فرمائی تھی اس بات کی خبر لوگوں کو پہنچی تو اس کو طلاق پر محمول کرکے آگے بڑھانا شروع کردیا اور یہ مشہور ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے بار گاہ رسالت میں حاضری کی اجازت چاہی اجازت مل جانے پر خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور سوال کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! عرض کیا کہ میں مسجد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →59 یہ شکوہ منافقین کی دوسری وجہ ہے کہ وہ ان خبروں اور رازوں کا افشا کرتے ہیں اور ان کو مشہور کرتے ہیں جن کا پوشیدہ رکھنا ہی اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہے ان کا تعلق خواہ امن سے ہو یا خوف سے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جہاد پر جو لشکر بھیجتے جب وہ غالب یا مغلوب ہو کر واپس آتے تو منافقین ان کی خبریں غلط انداز میں پھیلا دیتے۔ ان الرسول کان اذا بعث سریۃ من السرایافغلبت او غلبت تحدثوا بذالک وانشوہ ولم یصبروا الخ (بحر ج 3 ص 305) لَعَلِمَہٗ کی ضمیر منصوب اَمْرٌ کی طرف راجع ہے۔
60 اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ اَلَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اس قسم کی خبر کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
ربط آیات
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان ہوئی تھی کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی مجلس میں بٹھ کر آپ کی اطاعت کا اظہار کرتے ہیں مگر جب وہاں سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور سکی میں بناتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی تمام باتیں لکھ لی جاتی ہیں اور وہ قیامت کے دن سزا کے مستوجب ہوں گے۔ پھر حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے اعراض کریں ، اور خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام کرتے رہیں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین اور یہود کا شکوہ کیا کہ یہ لوگ قرآن پاک میں غورو فکر کیوں نہیں کرتے اگر اس طرف توجہ دیتے تو جان لیتے کہ یہ اللہ کا کلام…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ 0ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ 0ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا 83
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ…
Read the full tafseer →1 ؎ فضل و رحمت سے مراد قرآن اور آنحضرت کیر سالت ہے یعنی اگر قرآن اور ملبوت تمہارے لیے نہ آتی تو بجز اس لوگوں کے کہ جن لوگوں کو ازلی ہدایت ہے سب شیطان کے تابع مشکور و بدکار ہیں اور نفوس زکیہ قبل نبوت کے یہی شرک و حرام کاری سے بچے ہوئے تھے۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَاِذَا جَائَ ھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ ط وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَستَنْبِطُونَہٗ مِنْہُمْ ط وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلاً
” اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن سے یا خطرے سے متعلق تو وہ اسے پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں وہ ان کو اچھی طرح سمجھ لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق اپنی دوغلی پالیسی اور فکر کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی دوغلے پن سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کے ذریعے مسلمانوں میں دھڑے بندی کردی جائے۔
مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے اور مسلمانوں کے اعصاب توڑنے کے لیے افواہ سازی اور جھوٹی خبروں کا ایک سلسلہ قائم کر رکھا تھا۔ یہ لوگ اہل مکہ کی معمولی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ کبھی کفار کی طاقت کا معمولی تأثر دیتے کہ مسلمان جوابی کاروائی کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کریں۔ بسا اوقات معمولی…
Read the full tafseer →ناتجربہ کار لوگ :
آیت 83 : وَ اِذَا جَآئَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ (جب ان کو امن کی خبر مل جاتی ہے یا خوف کی) ہم سے مراد کمزور مسلمان جن کو حالات کا پورا تجربہ نہیں یا منافقین۔ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کے جہاد سرایا کی سلامتی و امن کی اطلاع ملتی یا خوف اور شکست وغیرہ کی۔ اَذَا عُوْا بِہٖ (تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں) ان کا یہ پھیلانا نقصان دہ تھا۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے۔ اذاع السروا ذاع بہ۔ اس نے وہ بھید ظاہر کردیا۔ ہٖ کی ضمیر کا مرجع الامر ہے۔ یا الامن یا الخوف۔ کیونکہ اوؔ۔ کسی ایک چیز کا تقاضا کرتا ہے۔
وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ (اور…
Read the full tafseer →83۔ (آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوابہ “۔ رسول اللہ ﷺ ملک کے اطراف میں مختلف جنگی دستے بھیجا کرتے تھے وہ جا کر یا غالب ہوتے یا مغلوب ، بہرحال منافق ان کی خبریں قبل از وقت معلوم کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے اور پتہ لگتے ہی رسول اللہ ﷺ کے بیان کرنے سے پہلے بیان کرنا شروع کردیتے تھے تاکہ شکست کی خبریں سنا کر اہل ایمان کے دلوں میں ضعف پیدا کردیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ (آیت) ” اذا جاء ھم “۔ اس سے مراد منافقین ہیں ۔ (آیت) ” امر من الامن “ اس سے مراد فتح و غنیمت ، خوف قتل اور ہزیمت شکست ہے ۔ (آیت) ” اذا عوابہ “ اس کو پھلا دیتے اشاعت کردیتے ہیں ۔ (آیت) ” ولو…
Read the full tafseer →صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات سے کنارہ کشی اختیار کی تھی تو لوگوں نے مدینہ میں چرچا کردیا کہ آنحضرت نے سب ازواج کو طلاق دے دی میں اس چرچا کی برداشت نہ کرسکا اور میں نے جا کر حضرت سے پوچھا کہ کیا آپ نے سب بی بیوں کو طلاق دے دی آپ نے فرمایا نہیں پھر حضرت عمر ؓ نے مسجد نبوی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بآواز یہ پکاردیا کہ آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ مفسرین نے یہ جو کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت کی لڑائیوں کی خبریں فتح و شکست اوپری طور پر سن کر اس کو لوگ مشہور کردیا کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی 2۔ اس غرض ان…
Read the full tafseer →آیت 83
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لئے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہ ﷺ اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں، جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
قول باری ہے (ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا۔ اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے) اختلاف کی تین صورتیں ہیں تناقض ، کی صورت میں اختلاف جس میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے فساد کو لازم کردے۔
تفاوت کی صورت میں اختلاف جس میں ایک حصہ توفصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھورہا ہو اور دوسرا حصہ انتہائی گھٹیا اور پست ہو۔ اختلاف کی یہ دونوں صورتیں قرآن سے منفی ہیں ، اور یہ چیز اس کے اعجاز کے دلائل سے ایک دلیل ہے۔
کیونکہ جب فصحاء اور بلغاء کا کوئی کلام طویل ہوتاجائے جس طرح قرآن کی طویل سورتیں ہیں تو ایسی صورت میں اس طویل کلام میں فصاحت اور بلاغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
199 اَفواہ طرازی کی قباحت و شناعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی چیز پہنچتی ہے تو یہ اس کو فورا پھیلا دیتے ہیں جس سے کئی طرح کے مفاسدجنم لیتے اور خرابیاں فروغ پاتی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ افواہ طرازی ایک مذموم شئی اور فتنہ پردازی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ اس طرح افواہ طرازی سے ایک طرف جھوٹ کو فروغ ملتا ہے، کیونکہ اکثر افواہیں جھوٹی اور بےبنیاد ہوتی ہیں اور دوسری طرف اس میں معاشرے میں افراتفری، خوف و ہراس اور بےاطمینانی پھیلتی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے منافقین کے منافقانہ طرز عمل کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ چونکہ ملت کے خیر خواہ نہیں تھے اس…
Read the full tafseer →تحقیق کے بغیر افواہ پھیلانا
تشریح : شروع میں مدنیہ میں ابھی نئی نئی اسلامی ریاست بنی تھی، مسلمان بھی کچھ کمزور اور کچھ پختہ عقیدہ رکھتے تھے اور پھر یہودیوں کی بستیاں بھی موجود تھیں، منافقین بھی کافی موجود تھے، غرض کافی افراتفری کا وقت تھا۔ ظاہر ہے اس ہلکی پھلکی کمزوری سے مخالفین پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، لہٰذا یہ لوگ افواہوں کے ہتھیار کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہے تھے جس پر اللہ رب العزت کا فرمان نازل ہوا کہ مخالفین اسلام کبھی تو دشمنوں کی طرف سے کسی ایسے خطرہ کا اعلان کردیتے جس کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا اور لوگ ان پھیلتی ہوئی غلط افواہوں سے بےسکون اور فکر مندہوجاتے۔ کچھ نو مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 3 امن کی خبر یہ کہ مسلمانوں کی فتح ہوئی ارخوف کی خوف کی خبر یہ کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کو شکست ہوگئی آنحضرت ﷺ مسلمانوں کے مختلف سراپا تھے۔ لڑائی کے لیے بھیجتے رہتے تھے، اس لیے اس قسم کی افواہیں مدینہ میں اکثر پہنچتی رہتی تھیں لیکن منافقین اور بےاحتیاط قسم کو مسلمان بجائے اسکے کہ انہیں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ یا آپ ﷺ کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں از خودان افواہوں کی تشہیر شروع کردیتے۔ ان کے اسی شرط حمل کی یہاں مذمت کی جار ہی ہے۔ (شوکانی۔ قرطبی)4 تعلمہ الذینیستنبطو نہ منھم کا دوسر اترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے تو اسے وہ لوگ جان لیتے جو ان میں سے یعنی مسلمانوں سے) تحقیق کی صلا حیت رکھتے ہیں حافظ ابن…
Read the full tafseer →(4:83) امر۔ کے معنی حکم کے ہیں لیکن یہ جملہ اقوال و افعال کے لئے بھی عام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ والیہ یرجع الامر کلہ (11:123) اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے ۔ امر ۔ یعنی کوئی بات ، کوئی معاملہ۔ اس کی جمع امور ہے۔ واذا جاء ہم امر من الامن۔ اس کا مطلب ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی خبر۔ کوئی امر ۔ کوئی معاملہ (خواہ وہ امن کے متعلق ہو یا خوف کے متعلق) پہنچتا ہے
اذاعوا بہ۔ وہ مشہور کردیتے ہیں ۔ اس کا تذکرہ عام کردیتے ہیں۔ اس کو شہرت دیدتے ہیں اشاعت کردیتے ہیں۔ افشا کردیتے ہیں۔ اذاعوا۔ اذاعۃ سے بمعنی شہرت دینا۔ خبر پھیلانا۔ راز ظاہر کرنا۔ ذیع مادہ۔
اولی الامر۔ صاحب الامر۔ غاکم با اقتدار۔ ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت نمبر 83-84
لغات القرآن : اذاعوا، انہوں نے مشہور کردیا۔ یستنبطونہ، وہ اس کی تحقیق کرلیتے۔ لاتکلف، جنہیں ذمہ دار نہیں بنایا جائے گا۔ حرض، آمادہ کیجئے، رغبت دلائیے۔ ان یکف، یہ کہ وہ روک دے۔ اشدباس، لڑائی میں بہت سخت۔ اشد تنکیلا، سزا دینے میں سخت۔
تشریح : جھوٹی سچی خبریں پھیلانا نفس کی کمزوری ہے اور جنگ و جہاد کے دنوں میں دشمن کے ہاتھ میں غلط افواہیں پھیلانے کا خاص ہتھیار ہوتا ہے ۔ وہ اپنے مطلب کے لائق طرح طرح کی خبریں اڑاتا بھی ہے اور اڑواتا بھی ہے۔ منافقین اور کمزور عقل مسلمان ان خبروں کو لے کر بلکہ نمک مرچ لگا کر جگہ جگہ پھونکتے پھرتے ہیں۔ جھوٹا اطمینان دلاتے ہیں یا جھوٹا خوف پھیلاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو بغیر سوچے سمجھے اور سمجھ داروں سے صلاح لئے (مشورہ کیے بغیر) شائع نہ کرنا چاہیے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ! آپ مسلانوں کو دین کی لڑائی کی ترغیب دلایا کیجئے، باقی رہی فتح وشکست وہ لشکر کی مدد پر منحصر نہیں ہے بلکہ فتح وشکست اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ آپ بذات خود اللہ کی راہ میں لڑئیے اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ یہ جو فرمایا قریب ہے کہ اللہ بند کرے لڑائی۔ یہ ایک غیب کی خبر تھی چناچہ اسی کے موافق ظہور ہوا اور یہ جو ہے کہ اللہ کی لڑائی اور عذاب سخت ہے۔ اس سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔ ان آیتوں میں مکہ کے اہل شرک سے دین کی لڑائی کا حکم تھا اور ان اہل شرک میں اکثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
[57] اولوالامر کی تشریح اس سورت کے حاشیہ 48 صفحہ 230 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
پروپیگنڈا :
(ف 2) منافقین پروپیگنڈا کی مؤثریت سے خوف واقف تھے ۔ جب کبھی کوئی بات ان کے ہاتھ لگتی ، خوب پھیلاتے ، وہ چاہتے تھے کہ نشرواشاعت کا یہ طریق نہایت کارگر ہے ، چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اثرات کو تسلیم کیا ہے فرمایا (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا “۔ یعنی اگر خدا کی رحمتیں مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتیں تو وہ بجز چند سمجھ دار انسانوں کے ضرور گمراہ ہوجاتے ۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اکاذیب اراجیف کی اشاعت یکسر شیطانی فعل ہے ، اسلامی طریق اشاعت پروپیگنڈا کا مترادف نہیں ، حالانکہ اس کی وسعت دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔
حل لغات :
حرص : مصدر…
Read the full tafseer →ف 2 اور ان لوگوں کو جب کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے اور جب ان کو کوئی خبر پہنچتی ہے خواہ وہ اطلاع امن کی ہو جیسے فتح اور سلامتی خواہ وہ خبرخوف کی ہو جیسے ہزیمت اور ارتداد وغیرہ تو یہ اسی خبر کو مشہور کردیتے ہیں اور ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس خبر کو مشہور کرنے اور اس اطلاع کو جا بجا کہتے پھرنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ یا ان لوگوں تک پہونچا دیتے جو ان میں سے ذمہ دار اور ذی رائے اور اہل بصیرت ہیں تو اس خبر کی صحیح حقیقت کو ان میں سے وہ ذمہ دار اور اہل الرائے حضرات سمجھ لیتے جو بات کی تہ میں سے بات کا نتیجہ صحیح اخذ کرلیا کرتے ہیں اور وہ اس خبر کو پہچان لیتے جو ان میں سے خبر کی تحقیق کرلیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 6۔ تاکہ اس کا کلام الہی ہوناواضح ہوجائے۔
7۔ پس لامحالہ یہ غیرا للہ کا کلام نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کلام اللہ کے وجوہ اعجاز میں سے اس کی فصاحت و بلاغت کا بےمثل ہونا اور اس کے اخبارات کا جن پر مطلع ہونے کا رسول اللہ کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا بالکل صحیح و مطابق واقع کے ہونا ہے پس معلوم ہوا کہ یہ کلام خالق تعالیٰ کا ہے۔
Read the full tafseer →رسالت کا درجہ تو بہت بڑا ہے لیکن بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے لوگ بھی یقینا ہوتے ہیں :
144: یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ ” جو لوگ اس بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں “ اِسْتَنْبَاط ن ب ط سے ہے اور ” نبط البئر “ کے معنی ہیں کنوئیں کو کھودا یہاں تک کہ پانی آگیا اور کنواں کھودنے کا یہی مقصود تھا۔ اس طرح استنباط کرنے والے وہ لوگ ہوئے جو اپنے فہم و فراست سے بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے ہیں وہی استنباط کرنے والے کہلاتے ہیں یعنی بات کہ گہرائی میں پہنچ کر اس کے اصل مطلب کو حاصل کرلینے والے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ” اولوالامر “ بننے یا بنا دیے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ کسی ایرے غیرے کو ” اولو الامر “ بنا دینے کے جو…
Read the full tafseer →Commentary
The Background of Revelation
According to Sayyidna Ibn ` Abbas, Dahhak and Abu Mu'adh ؓ the verse: وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ (And when there comes to them a matter about peace or fear, they spread it) was revealed about the hypocrites; and, according to Sayyidna Hasan and many others, this verse was revealed about weak Muslims (Ruh a1-Ma` ani).
After having reported events relating to this verse, the famous commentator, Ibn Kathir (رح) has stressed on the importance of referring to the hadith of Sayyidna ` Umar ibn al-Khattab ؓ ، while…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
112. This was a period of turbulence and upheaval and rumour was rife. Occasionally, baseless and exaggerated reports circulated and seized the whole of Madina and its outlying areas with alarm and consternation. At other times some cunning enemy tried to conceal the dangers threatening the Muslims by spreading soothing reports. A specially keen interest in rumours was taken by those who simply relished anything out of the ordinary, and who did not consider this life-and-death struggle between Islam and Ignorance to be a matter of crucial importance, and who were not aware of the far-reaching…
Read the full tafseer →