Explained with ayahs 80–81
ظاہر وباطن نبی اکرم ﷺ کا مطیع بنا لو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لئے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے جو فرماتے ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میری ماننے والا اللہ تعالیٰ کی ماننے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی بات نہ مانی جس نے امیر کی اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے، پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی ﷺ آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
سورة النِّسَآء 110
یعنی اپنے عمل کے یہ خود ذمہ دار ہیں۔ ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی۔ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ کے احکام و ہدایات ان تک پہنچا دو۔ یہ کام تم نے بخوبی انجام دے دیا۔ اب یہ تمہارا کام نہیں ہے کہ ہاتھ پکڑ کر انہیں زبردستی راہ راست پر چلاؤ۔ اگر یہ اس ہدایت کی پیروی نہ کریں جو تمہارے ذریعہ سے پہنچ رہی ہے، تو اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ کیوں نافرمانی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہ (منافق) لوگ (آپ کے احکام سن کر آپ کے سامنے زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہمارا کام (آپ کی) اطاعت کرنا ہے، پھر جب آپ کے پاس سے (اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو شب کے وقت (پوشیدہ) مشورے کرتے ہیں ان میں ایک جماعت (یعنی ان کے سرداروں کی جماعت) برخلاف اس کے جو کچھ زبان سے کہہ چکے تھے (اور چونکہ وہ سردار ہیں اصل مشورہ وہ کرتے ہیں باقی ان کے تابع رہتے ہیں تو اس خلاف میں سب کی ایک حالت ہے) اور اللہ تعالیٰ (سرکاری روزنامچہ میں) لکھتے جاتے ہیں جو کچھ وہ راتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں (موقع پر سزا دیں گے) سو آپ ان کی (بیہودگی کی) طرف التفات (اور خیال) نہ کیجئے اور (نہ کچھ فکر کیجئے، بلکہ سارا قصہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81 تا 82: وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا۔
مبتدا کے حذف کا فائدہ : طاعۃ خبر ہے، مبتدا اس کا محذوف ہے اور یہ بات ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مبتدا کو حذف کردیا جائے تو مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ پیغمبر کی مجلس میں ہوتے ہیں اور پیغمبر ان کو خدا کا کلام اور اس…
Read the full tafseer →81۔ 1 یعنی یہ منافقین آپ ﷺ کی مجلس میں جو باتیں ظاہر کرتے۔ راتوں کو ان کے برعکس باتیں کرتے اور سازشوں کے جال بنتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے اعراض کریں اور اللہ پر توکل کریں ان کی باتیں اور سازشیں آپ ﷺ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی کیونکہ آپ کا ولی اور کارساز اللہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
48: ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بناء پر دیتے ہیں، اس کے بارے میں آیت : 79 نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدہ کا کوئی…
Read the full tafseer →(آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (81) افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (82) (4 : 81۔ 82)
” وہ منہ پر کہتے ہیں ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ‘ اللہ انکی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ‘ تم انکی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ وہی بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی…
Read the full tafseer →9 ان منافقین کی اور مکاری سنو آپ ﷺ کے روبرو آکر تو کہہ جاتے ہیں ہم نے قبول کیا حکم تیرا اور باہر جا کر مشورہ کرتے ہیں اس کے خلاف یعنی تیری نافرمانی اور مخالفت کا مشورہ کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں ان کے سب مشورے لکھے جاتے ہیں ان کو سزا دینے کے لئے۔ سوائے نبی ﷺ ان سے منہ پھیر لے اور کسی بات کی پروا مت کر اور اپنے سب کام اللہ کے حوالے کر دے وہ تیرے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 81 وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌز
ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ آپ کے سامنے تو کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں ‘ آپ ﷺ نے جو فرمایا قبول ہے ‘ ہم اس پر عمل کریں گے۔
فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ ط۔
جا کر ایسے مشورے آپس میں شروع کردیتا ہے جو خلاف ہے اس کے جو وہ وہاں کہہ کر گئے ہیں۔ سامنے وہ ہوگئی بعد میں جا کر جو ہے ریشہ دوانی ‘ سازش۔
وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ
آپ ان کی پروانہ کیجیے ‘ یہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ابھی ان کے خلاف اقدام کرنا خلاف مصلحت ہے۔ جیسے ایک دور میں فرمایا گیا : فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا…
Read the full tafseer →113 یعنی منافقین آپ کے سامنے تو آپ کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں اور آپ کی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کے خفیہ مشورے ان باتوں سے بالکل الگ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی سوچ اور انداز فکر ہی مختلف ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان مسلمانوں کو کیسے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے تاکہ ان کی قوت کمزور ہو اور ان سے پیچھا چھڑایا جاسکے یا انہیں مدینہ ہی سے نکال دیا جائے اور اس غرض کے لیے یہود مدینہ سے مشورے اور گٹھ جوڑ کرتے رہتے ہیں۔ سو آپ ان کی ایسی ناپاک سازشوں کی مطلق پروا نہ کیجئے۔ فقط اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ اللہ تعالیٰ خود ان سے نمٹ لے گا۔
Read the full tafseer →229 ۔ ذکر منافقین کا چل رہا ہے۔ یعنی المنافقین (ابن عباس) یہ زبان سے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی عرض کرتے تھے کہ ان کے احکام سرآنکھوں پر۔ آپ کے ارشادات کی تعمیل ہمیں قبول ومنظور۔ (آیت) ” طاعۃ “۔ خبر ہے مبتدا محذوف ہے۔ وبہ امرنا وشاننا طاعۃ (کشاف)
230 ۔ اس کی کارسازی یہ ہے کہ وہ دنیا میں آپ کو ان کے شر سے اور سازشوں سے محفوظ رکھے گا اور آخرت میں انہیں شدید سزائیں دے گا۔ (آیت) ” طآئفۃ منھم “۔ یعنی ان منافقوں کے سردار اور سرغنہ (آیت) ” بیت “۔ رات کی تاریکی اور پوشیدگی میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سازشیں اور منصوبے بنائے جاتے تھے۔ (آیت) ” واللہ یکتب “۔ یعنی خدائی ریکارڈ میں انکی سازشیں…
Read the full tafseer →ویقولوں طاعة، فَاِذَا بَرزُوا مِنْ عندک بیَّتَ طایفة منھم، (الآیة) اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو دوزخی پالیسی رکھتے ہیں زبان سے کچھ کہتے ہیں اور دل میں کچھ ہوتا ہے۔
اس نفاق وبدباطنی کا کیا ٹھکانہ کہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو تو اطاعت و تسلیم کا دم بھرتے ہیں اور ہر طرح یقین دلاتے ہیں کہ ہم سے بڑھکر آپ کا کوئی مطیع نہیں، مگر آپ کے پاس سے جانے کے بعد رات کو آپ کے خلاف مشورہ کرتے ہیں جسے قدرت کی آنکھ دیکھتی ہے اور ان کے راز دارانہ مشوروں کو سنتی ہے۔
لہٰذا آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹالیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے، نہ ان کی اصلاح ممکن ہے اور نہ ان کی راتوں کو راز دارانہ سازشیں اسلام کو کوئی…
Read the full tafseer →ویقولون طاعۃ اور (جب آپ ان کو کوئی حکم دیتے ہیں تو) وہ کہتے ہیں (ہمارا تو کام ہی) اطاعت ہے۔
طاعۃ : حقیقت میں مفعول تھا دوام اور ثبات کا مفہوم ظاہر کرنے کے لئے بصورت خبر ذکر کیا (کیونکہ جملہ فعلیہ اقتران زمانی کی وجہ سے حدوث پر دلالت کرتا ہے اور جملۂ اسمیہ زمانہ پر دلالت نہ کرنے کی وجہ سے دمام کا مفہوم ظاہر کرتا ہے۔ جملۂ فعلیہ سے جملۂ اسمیہ کی طرف رجوع اسی غرض سے کیا جاتا ہے) ۔
فاذا برزوا من عندک پھر جب آپ ﷺ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو
بیت طآئفۃ منہم غیر الذی تقول . ان کی ایک جماعت رات کو مشورہ کرتی ہے اس کے خلاف جو ( آپ ﷺ کے سامنے) کہا تھا۔ قتادہ اور کلبی نے کہا کہ تبییت (بروز تفعیل) کا معنی…
Read the full tafseer →(81) اور یہ منافقین کا گروہ وہ گروہ ہے جو ظاہرا یہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام آپ ﷺ کی اطاعت کرنا ہے، لہٰذا جو چاہو ہمیں حکم کرو اور جب یہ منافق آپ ﷺ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان کی جماعت جو کہتی ہے یہ اس کے مشورے کے مطابق اس میں تبدیلی کرلیتے ہیں۔
لہذا آپ ﷺ ان سے دور رہیے اور ان کے مشوروں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا اور ان منافقین وان کی تمام تر سازشوں کا مناسب طریقہ پر خاتمہ کردے گا۔
Read the full tafseer →ۭوَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۡ۔ : یہاں منافقین کی ایک اور مذموم خصلت بیان فرمائی ہے اور ان کو سرزنش کی ہے اور آپ ﷺ کو ان کی حرکات سیۂ سے چشم پوشی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم فرمایا ہے۔ ”بَیَّتَ“ کا لفظ اصل میں ”بَیْتٌ“ (گھر) سے ہے اور انسان چونکہ عموماً رات کو گھر میں رہتا ہے، اس لیے ”بَاتَ“ کے معنی شب باشی کے ہیں، پھر چونکہ رات کے فارغ اوقات میں آدمی اپنے معاملات پر غور و فکر کرتا ہے، اس لیے ”بَیَّتَ“ کا لفظ کسی معاملہ میں نہایت غور و فکر کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ (رازی) یعنی دن کو وہ آپ کے سامنے اطاعت کا یقین دلاتے ہیں مگر رات کو ان سے کچھ لوگ اس کے برعکس مشورے کرتے ہیں، جو وہ دن کو آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر : 81 تا 82۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طآئفۃ منھم غیرالذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون “۔ یعنی امرنا طاعۃ اور طاعۃ پر نصب بھی جائز ہے یعنی نطیع طاعۃ، یہ نصر بن عاصم، حسن اور حجدری کی قرات ہے، اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی وہ جب آپ کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ہمارا معاملہ اطاعت ہے یا ہم پوری اطاعت کرتے ہیں اور ان کا یہ قول نفع بخش نہیں، کیونکہ جو اطاعت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو حقیقۃ مطیع نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انکی اس اطاعت کو ثابت نہیں کیا جو انہوں ظاہر کی تھی اگر بغیر اعتقاد طاعت اگر ہوتی تو ان کے لیے اس…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ویقولون طاعۃ “ (الآیہ) یہ وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس تو کہتے تھے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر تاکہ ان کے خون اور ان کے مال امن میں ہوجائیں لفظ آیت ” فاذا برزوا “ یعنی جب رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے جاتے تھے ” بیت طائفۃ “ تو وہ اس بات کے مخالف ہوجاتے تھے جو انہوں نے آپ کے پاس کہی تھی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو عیب لگائے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” بیت طائفۃ منہم غیر الذی تقول “ یعنی وہ اس بات کو بدل ڈالتے تھے جو نبی ﷺ سے کہتے تھے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ وَیَـقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ] [ طَاعَۃٌ: فرمانبرداری ہے ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ بَرَزُوْا : وہ نکلتے ہیں ] [ مِنْ عِنْدِکَ : آپ ﷺ کے پاس سے ] [ بَیَّتَ : تورات میں مشورہ کرتا ہے ] [ طَـآئِفَۃٌ : ایک گروہ ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ غَیْرَ الَّذِیْ : اس کے علاوہ جو ] [ تَقُوْلُ : آپ کہتے ہیں ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَکْتُبُ : لکھتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ یُـبَـیِّتُوْنَ : وہ لوگ رات میں مشورہ کرتے ہیں ] [ فَاَعْرِضْ : تو آپ ﷺ اعراض کریں ] [ عَنْہُمْ : ان سے ] [ وَتَوَکَّلْ : اور بھروسہ کریں ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] […
Read the full tafseer →منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ
اس آیت میں منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جب آپ کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ کے حکم سے کیسے باہر ہوسکتے ہیں ہمارا کام تو بات ماننا اور فرمانبرداری کرنا ہے (ای امرنا و شاننا طاعۃ) علی انہ خبر مبتداء محذوف پھر جب آپ کی مجلس سے باہر نکل جاتے ہیں ان میں سے ایک جماعت (یعنی ان کے رؤسا) راتوں کو اس بات کے علاوہ مشورے کرتے ہیں جو انہوں نے آپ کی مجلس میں کہا تھا یعنی آپ کے ارشاد کے خلاف چلتے ہیں اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور خلاف ورزی کے منصوبے بناتے ہیں۔
(وَ اللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ) (اور اللہ لکھتا ہے جو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →57 یہ منافقین کا شکوی ہے اور ان کی دو رخی چال پر ان کو زجر ہے جب وہ آپ کے پاس موجود ہوتے ہیں اس وقت تو آپ کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں اور کہتے ہیں حضور آپ کا حکم ہمارے سر و چشم لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنے قول واقرار کے برعکس رات کو آپ کے اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے ہیں لیکن آپ ان کی پروا نہ کریں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور ہم نے ان کے تمام منصوبے نوٹ کر رکھے ہیں اور ان کو اس شرارت کی پوری پوری سزا دیں گے۔ تَقُوْلُ میں دو احتمال ہیں یا تو یہ واحد مونث غائب کا صیغہ ہے اور ضمیر غائب طائفہ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ منافقین کا طائفہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ربط آیات
گزشتہ درس میں منافقین اور یہود کا یہ رویہ بیان ہوا کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا الزام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ذات پر لگاتے ہیں کہ آپ کی بےتدبیری کی وجہ سے ایسا ہوا ہے یا پھر بُرا شگون لیتے ہیں کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کی مدینے آمد کی وجہ سے ان پر نحوست پڑی ہے (العیاذ باللہ) اللہ نے فرمایا یہ دونوں باتیں غلط ہیں شگون لینا تو ویسے ہی شرک ہے کسی کے آنے یا جانے سے نفع یا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ ہر چیز کا خالق اور موجد تو اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ انسانوں کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب انہیں کوئی راحت پہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور جب کوئی تکلیف…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ 0ۡفَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ 0ۭ وَاللہُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ 0ۚ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ 0ۭ وَكَفٰى بِاللہِ وَكِيْلًا 81
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ترکیب : من شرطیہ فقد اطاع اللّٰہ جواب۔ حفیظا حال ہے کہ مفعول سے ‘ علیہم متعلق ہے حفیظ سے ‘ فاذا شرط بیت جواب۔ اطاعۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے امر ناطاعۃ تقول حاضر و غائب دونوں کے لئے حاضر کے لئے تو آنحضرت ﷺ کو خطاب ہوگا تو ضمیر طائفۃ کی طرف پھرے گی وکلا ہما جائز۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے کہ ہمارے احکام بندوں کے پاس پہنچا دو اور باقی جو کچھ لوگ چوں و چرا کرتے ہیں آپ کو ان سے کیا وہ خدا سے سرکشی کرتے ہیں یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ جو آپ کا حکم مانتے ہیں وہ اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں کس لئے کہ رسول تو واسطہ ہے جس نے اس کو مانا تو اس نے اس کو مانا کہ جس نے وہ…
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ ز فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَـآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ غَیْرَالَّذِیْ تَقُوْلُط وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا
” اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے۔ پھر جب باہر نکلتے ہیں آپ کے پاس سے تو رات بھر مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اپنے قول کے بالکل برعکس اور اللہ تعالیٰ لکھ رہا ہے جو وہ سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ پس آپ ان سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔ “ (النسآء : 81)
منافقین کا طرز عمل
گزشتہ آیت میں رسول کی برتر حیثیت کو پوری وضاحت سے کھول دیا گیا اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کے کردار کا تذکرہ جاری ہے۔ منافق کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ دوغلی بات کرتا ہے۔
منافق کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سامنے جی حضوری اور بعد میں اس کے الٹ بات کرتا ہے۔ یہی عادت آپ کے دور کے منافقوں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے رعب اور مسلمانوں کے ماحول سے مرعوب ہو کر اور ظاہری رکھ رکھاؤ کے لیے آپ ﷺ کے سامنے آتے تو ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتے کہ جن سے آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ واقعتا مخلص لوگ ہیں۔ لیکن جونہی آپ کی محفل سے باہرجاتے بالخصوص رات کے وقت خفیہ میٹنگوں میں مشورے کرتے کہ اسلام سے کس طرح چھٹکارا پائیں اور آپ کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے ؟ ان کی خفیہ مجالس کو طشت ازبام…
Read the full tafseer →آیت 81 : وَیَقُوْلُوْنَ (اور منافق کہتے ہیں) جب آپ ان کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں۔ طَاعَۃٌ۔ : یہ مبتدائے محذوف امرنا کی خبر ہے۔ امرنا طاعۃ یا شاننا طاعۃ (ہمارا کام تو اطاعت ہے) فَاِذَا بَرَزُوْا (جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں) مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ (تو ان میں سے ایک جماعت رات گزارتی ہے) -
ملمع ساز منافق :
بَیَّتَکا معنی ملمع سازی کرنا اور ہموار کرنا ٗ بنانا یہ البیتوتۃ سے ہے۔ کیونکہ یہ معاملے کا فیصلہ کرنا اور رات کو اس کا منصوبہ بنانے کو کہتے ہیں۔ یا ابیات الشعر سے ہے۔ کیونکہ شاعر بھی شعر کو سوچتا اور موزوں الفاظ ملا کر ادا کرتا ہے۔
قراءت : حمزہ اور ابو عمرو نے ادغام…
Read the full tafseer →81 ۔ (آیت)” ویقولون طاعۃ “۔ منافقین صرف زبان سے یہ کہتے آپ ﷺ کو کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور ہمارا کام صرف آپ کے ارشاد کی طاعت ہے ، نحویوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام اور شان یہی ہے کہ ہم اطاعت کریں ، (آیت)” فاذا برزوا “ جب وہ نکلے (آیت)” من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول “۔ قتادہ (رح) اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ بیت کا معنی ہے بدل ڈالنا اس لیے بیت کا ترجمہ ہوا بدل ڈالتی ہے ، ابو عبیدہ اور قتیبی رحمہما اللہ نے کہا اس کا ماخذ ” بیتوتت “۔ ہے ، مطلب یہ ہے کہ رات کو مشورہ کرکے وہ بات طے کرتے ہیں جو دن میں کیے ہوئے وعدہ کے خلاف ہوتی ہے۔
حسن (رح) اور اخفش (رح) کہتے ہیں کہ عرب جس چیز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(80 ۔ 82) ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی گواہی سے آنحضرت ﷺ کے سچا نبی ہونے کا ذکر فرمایا تھا اب ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ میری نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے 2۔ یہ حدیث اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ارشاد فرماتا ہے کو جو کوئی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
آیت 80
یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامرونواہی میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی (فقد اطاع) ” اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت ،۔ چونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ ﷺ کی عصمت کی دلیل ہے۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے، لہٰذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
194 منافقوں کے طاعت کے زبانی کلامی دعوے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے حکم مانا۔ معلوم ہوا کہ طاعت و فرمانبرداری کے محض زبانی کلامی اور بلند بانگ دعوے کرنا کافی نہیں۔ اور یہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں بلکہ یہ منافق لوگوں کا شیوہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ مخلص اہل ایمان محض زبانی کلامی دعو وں کی بجائے اپنے عمل و کردار سے اپنے صدق و اخلاص کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اور یہی اصل مقصود ہے یہاں پر۔ " طاعَۃ “ ٌ خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اور عربی کے اس اسلوب کے مطابق جب مبتداء کو حذف کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ پیغمبر کی مجلس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
نبی ﷺ کے خلاف سازشیں
تشریح : ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو آپ ﷺ کے سامنے ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نبی ﷺ کو ان منافقین کی طرف سے آگاہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو بالکل خبر نہیں کہ ان کی کہی ہوئی ہر بات اور ہر سازش ہم لکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ کا نگہبانی کا بندوبست اتنا زبردست اور بہترین ہے کہ اس سے بندوں کا کوئی عمل اور کوئی ارادہ چھپا ہوا نہیں۔ نبی کریم ﷺ کو منافقین سے خبردار کرنے کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ان منافقین کی طرف سے بالکل پریشان نہ ہوں، کیونکہ آپ کا حامی اور مددگار بہت طاقت ور اور بہترین سازگار ہے۔ وہ ہے اللہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 12 یہاں منافقین کی ایک اور مذموم خصلت بیان فرمائی ہے اور ان کو سرزنش کی ہے اور آنحضرت ﷺ کو ان کی حرکات شبیعہ سے چشم پوشی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم فرمایا ہے بیتت کا لفظ اصل میں بیت (گھر) سے ہے اور انسان چونکہ عمو مارات کو اپنے گھر میں رہتا ہے اس لیے بات کے معنی ثب باشی کے ہیں پھر چونکہ رات کے فارغ اوقات میں آدمی اپنے معالات پر غور و فکر کرتا ہے اس لیے بتیت کا لفث کسی معاملہ میں نہایت غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ( رازی)
Read the full tafseer →(4:81) طاعۃ۔ ای یقولون من افواہہم۔ یعنی منہ سے تو اطاعت کا دم بھرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں۔ طاعۃ اسم بمعنی حکمبرداری۔ قبول کرنا۔ حکم ماننا۔ طوع سے۔
برزوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ نکلتے ہیں بروز سے باب نصر۔ جس کے معنی کھلم کھلا ظاہر ہونے کے ہیں۔ یعنی جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔
بیت۔ اس نے رات کے وقت مشورت کی۔ یعنی تو ایک طائفہ (گروہ) رات بھر (آپ کے خلاف) ایسے مشوروں میں لگا رہتا ہے جو غیر الذی نقول ہے۔ یعنی جو وہ کہتا ہے (کہ ہم فرمانبردار ہیں) اس سے بالکل مختلف ہے۔ نقول میں ضمیر واحد مؤنث غائب طائفۃ کی طرف راجع ہے یا اس کی ضمیر (واحد مذکر حاضر) رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر 81-82
لغات القرآن : طاعۃ، اطاعت۔ برزوا، وہ نکلے۔ بیت، رات کو جمع ہوکر باتیں کیں۔ یبیتون، وہ رات گزارتے ہیں۔ اعرض، چھوڑ دو ، منہ پھیر لو۔ افلا یتدبرون، وہ غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔
تشریح : منافقین کی پہچان یہ ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ جب دن میں حضور کی محفل میں ہوتے تو بڑھ بڑھ کے آپ کی اطاعت کا دم بھرتے لیکن رات کے اندھیرے میں ان کے سردار جمع ہو کر آپ کے خلاف مشورہ کرتے اور تدبیریں سوچتے رہتے۔ وہ اس بات کا ذرا خیال نہ کرتے کہ د ن میں انہوں نے نبی مکرم ﷺ سے کیا کیا وعدے کئے تھے۔ کہا جا رہا ہے (اے نبی ﷺ ! ) آپ ان باتوں کو اپنے دل پر نہ لیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں وہی کارساز ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہی کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کے بعد اپنی رسول ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اس میں کوتاہی کرے تو ہم ایسے لوگوں کے نگہبان ہیں ۔ پھر منافقوں کی مذمت فرمائی کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ان کی جان ومال کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اور اپنے گھروں میں جاکر برخلاف مشورہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کرتوت اللہ کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
[65] یعنی خود تمہاری بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) طاعۃ بصورت رفع اس کے معنی یہ ہیں کہ اطاعت کا مکہ میں کوئی انقطاع وتجدد نہیں یعنی جب کہ منافق آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں ، اس وقت غیر مشروط اور غیر متغیر اطاعت کا یقین دلاتے ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں اسلام کے خلاف حبل وتدابیر تلاش کرتے ہیں ، فرمایا آپ ان سے زیادہ تعرض نہ فرمائیں ، توکل رکھیں ، اللہ آپ ﷺ کا ناصر ووکیل ہے ۔
حل لغات :
حسنۃ سیئۃ : نیکی اور برائی ، انعام اور مصیبت ۔
Read the full tafseer →ف 3 جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اور جو شخص آپ کی اطاعت سے روگردانی کرے تو آپ کوء فکر نہ کیجیے اور اس پر غم نہ کیجیے کیونکہ آپ کو ہم نے ان کے اوپر کوئی محافظ اور نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے اور یہ منافق لوگ بظاہر زبان سے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم فرماں بردار ہیں اور ہمارا کام تو آپ کی اطاعت اور فرماں برداری کرنا ہے لیکن جب یہ لوگ آپ کے پا س سے باہر نکلتے ہیں اور باہر جاتے ہیں تو ان ہی لوگوں میں سے ایک جماعت رات کے وقت ان باتوں کے خلاف خفیہ مشورے کرتی ہے جو باتیں یہ آپ سے کہہ چکے تھے اور جو خفیہ مشورے یہ رات کے وقت کیا کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 5۔ چناچہ کبھی ان کی شرارت سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔
Read the full tafseer →اللہ کی اطاعت کا دعویدار رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کر کے خود اپنے دعویٰ کی تردید کرتا ہے :
139: جن لوگوں نے بھلائی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تھی اس نسبت سے انہوں نے اللہ کی اطاعت کا دعویٰ کیا لیکن وقت آنے پر برائی کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر کے گویا انہوں نے اپنے دعویٰ کی خود تردید کردی۔ اس لیے کہ رسول جب اللہ ہی کا رسول ہے اور اس کی اطاعت ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے وہ اس سے انکاری ہیں۔ حالانکہ رسول کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت سے سر پھیرا اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کو قبول نہیں کیا۔ اس لیے ایسا دعویٰ جس کی تردید دعویٰ کرنے والا خود ہی کر دے اس پر کسی خارجی شہادت کی…
Read the full tafseer →That obedience to the Holy Prophet ﷺ is obligatory was the subject of verse 80. Here, the Prophet ﷺ was comforted in case the disbelievers rejected his message. Now comes a mention of some hypocrites who used to wriggle out of this obligation.
Commentary
The first verse (81) which begins with the words: وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ (And they say, "Obedience (we observe)..." condemns those who practice a policy of double-dealing. They will say something verbally and have something else hidden in their hearts. Once this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
110. Such people are responsible for their own conduct. It is they rather than the Prophet (peace be on him) who will be censured. The task entrusted to the Prophet (peace be on him) was merely to communicate to them the ordinances and directives of God and he acquitted himself of it very well. It was not his duty to compel them to follow the right way, so that if they failed to follow the teachings communicated to them by the Prophet (peace be on him) the responsibility was entirely theirs. The Prophet (peace be on him) would not be questioned as to why they disobeyed.
Read the full tafseer →