An-Nisaa 4:80

An-Nisaa · from ayah 80

4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ— وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ۟ؕمَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He who obeys the Messenger has obeyed Allah; but those who turn away - We have not sent you over them as a guardian.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 11 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:80

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس رسول ﷺ کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے رسول ﷺ کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا، اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بیشک اس نے اللہ کی فرماں برداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس کسی نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور اگر کوئی منہ موڑتا ہے تو ہم نے آپ کو ان پر پاسبان بناکر نہیں بھیجا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے اس پر تم کو نگران نہیں مقرر کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور پھر گیا (راہ حق سے) تو ہم نے آپ کو (اے پیغمبر ﷺ !) ان لوگوں پر کوئی پاسبان بناکر نہیں بھیجا،

— مولانا اسحاق مدنی

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی۔ اور جو کوئی روگردانی کرلے سو ہم نے آپ کو ان پر نگران کرکے نہیں بھیجا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے اطاعت کی اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بناکر نہیں بھیجا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا تو بہرحال ہم نے آپ کو ان لوگوں پر پاسبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He who obeys the Messenger thereby obeys Allah; as for he who turns away, We have not sent you as a keeper over them!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever obeys the Messenger obeys Allah, and whoever turns away, then, We did not send you to stand guard over them.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever obeys the Messenger obeys Allah, and whoever turns away, then, We did not send you to stand guard over them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He who obeys the Messenger, has indeed obeyed Allah, but he who turns away, then We have not sent you as a watcher over them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso obeyeth the messenger hath obeyed Allah, and whoso turneth away: We have not sent thee as a warder over them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He who obeys the Messenger has obeyed Allah; but those who turn away - We have not sent you over them as a guardian.

— Saheeh International

One who obeys the Messenger has certainly obeyed God. You have not been sent to watch over those who turn away from you.

— Muhammad Sarwar

Whoever obeys the Apostle, he indeed obeys Allah, and whoever turns back, so We have not sent you as a keeper over them.

— Muhammad Habib Shakir

Whosoever obeyeth the apostle hath indeed obeyed Allah, and whosoever turnoth away -We have not sent thee over them as a keeper.

— Abdul Majid Daryabadi

He who obeys the Messenger, obeys Allah: But if any turn away, We have not sent thee to watch over their (evil deeds).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–81

ظاہر وباطن نبی اکرم ﷺ کا مطیع بنا لو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لئے کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے جو فرماتے ہیں وہ وہی ہوتا ہے جو میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میری ماننے والا اللہ تعالیٰ کی ماننے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی بات نہ مانی جس نے امیر کی اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے، پھر فرماتا ہے جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے تو اس کا گناہ اے نبی ﷺ آپ پر نہیں آپ کا ذمہ تو طرف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–81

سورة النِّسَآء 110 یعنی اپنے عمل کے یہ خود ذمہ دار ہیں۔ ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی۔ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ کے احکام و ہدایات ان تک پہنچا دو۔ یہ کام تم نے بخوبی انجام دے دیا۔ اب یہ تمہارا کام نہیں ہے کہ ہاتھ پکڑ کر انہیں زبردستی راہ راست پر چلاؤ۔ اگر یہ اس ہدایت کی پیروی نہ کریں جو تمہارے ذریعہ سے پہنچ رہی ہے، تو اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ کیوں نافرمانی کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جس شخص نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، (اور جس نے آپ کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ کی اطاعت عقلاً بھی واجب ہے، پس آپ کی اطاعت بھی واجب ہوئی) اور جو شخص (آپ کی اطاعت سے) روگردانی کرے سو (آپ کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ ہم نے) آپ کو (بطور ذمہ داری کے) ان کا نگران کر کے نہیں بھیجا (کہ آپ ان کو کفر نہ کرنے دیں، بلکہ آپ کا فرض پیغام پہنچا دینے سے پورا ہوجاتا ہے، اگر اس کے بعد بھی وہ کفر کریں تو آپ پر کسی باز پرس کا اندیشہ نہیں، آپ بےفکر رہیں۔)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–80

79 تا 80۔ مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ۭوَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ یہ آیتیں اوپر والی آیت ہی کے بعض اجمالات کو واضح کر رہی ہیں۔ پہلے ان لوگوں کو، جو کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور ناکامیوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر رہے تھے، مخاطب کر کے فرمایا کہ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خیر و شر ہر چیز کا ظہور خد ہی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ اسکے حکم و اذن کے بغیر کوئی چیز بھی ظہور میں نہیں آسکتی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–80

79۔ 1 یعنی اس کے فضل و کرم سے ہے یعنی کسی نیکی یا اطاعت کا صلہ نہیں ہے، کیونکہ نیکی کی توفیق بھی دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی نعمتیں اتنی بےپایاں ہیں کہ ایک انسان کی عبادت و اطاعت اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لئے ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں جو بھی جائے گا، محض اللہ کی رحمت سے جائے گا اپنے عمل کی وجہ سے نہیں صحابہ اکرام رضوان اللہ علھیم اجمعین نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ﷺ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ' ہاں جب تک اللہ مجھے بھی اپنے، دامان رحمت میں نہیں ڈھانک لے گا جنت میں نہیں جاؤں گا ' (صحیح بخاری) 79۔ 2۔ یہ برائی بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–81

48: ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بناء پر دیتے ہیں، اس کے بارے میں آیت : 79 نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدہ کا کوئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–80

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 آپ کی رسالت کو محقق فرما کر اب خدا تعالیٰ آپ کے متعلق یہ حکم سناتا ہے کہ جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا وہ بیشک ہمارا تابعدار ہے اور جو اس سے روگردانی کرے گا تو ہم نے تجھ کو اے رسول ﷺ ان لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کو گناہ نہ کرنے دے، ہم ان کو دیکھ لیں گے۔ تیرا کام صرف پیغام پہنچانا ہے آگے ثواب یا عقاب یہ ہمارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ج۔ یہ ٹکڑا بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ دو ٹوک انداز میں واضح کر رہا ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے یہ حدیث ملاحظہ کیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1 جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

112 اس لیے کہ اللہ کے احکام کی اطاعت کا عملی نمونہ اللہ کا رسول ہی پیش کرسکتا ہے اور اس کے احکام کی حکمت اور منشا کو اس کا رسول ہی سب سے بہتر سمجھ سکتا ہے لہذا رسول کی اتباع اور اس کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہوگی۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص رسول کے احکام سے اعراض کرتا ہے تو جبر واکراہ سے اطاعت کرانا رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

227 ۔ (کہ عام انسانوں کے پاس کوئی ذریعہ احکام الہی کی معرفت کا نہیں بجز واسطہ رسول کے) آیت میں رد آگیا ان گمراہ فرقوں کا جو رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے مستلزم نہیں سمجھتے۔ آیت عصمت رسول کے مضمون کو بھی واضح طور پر بیان کررہی ہے کہ اگر رسول سے ذرا بھی خطا وغلطی کا امکان ہوتا تو ان کی اطاعت عین اطاعت الہی کیسے قرار پاسکتی۔ من اقوی الدلائل علی انہ معصوم فی جمیع الاوامر والنواھی وفی کل مایبلغہ عن اللہ (کبیر) اور علاوہ حدیث نبوی کے جہاں یہ مضمون تصریحا آیا ہے، فقہاء نے خود اس آیت سے بھی نکالا ہے کہ رسول کی نافرمانی عین حق تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ افاد بذلک ان معصیتہ معصیۃ اللہ (جصاص) 228 ۔ (سو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–80

اَیْنَ ما تکونوایُدْرِکْکم الموتُ ، مذکورہ ضعیف الایمان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا اور اس کا آرام و راحت فانی اور عارضی ہے جس کے لئے تم مہلت طلب کررہے ہو، اس کے مقابلہ میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الہٰی کے صلہ میں تم سزا وار ہوگے، دوسرے یہ کہ جہاد کرویا نہ کرو موت تو اپنے وقت پر آکر ہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بندہو کر ہی کیوں نہ بیٹھ جاؤ، پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ رسول تو صرف حکم پہنچانے والے ہیں حکم دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ ومن تولی اور جو اطاعت سے روگردانی کرتا ہے۔ اس کی آپ پرواہ نہ کریں اور کوئی فکر نہ کریں۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا کیونکہ (اے محمد ﷺ ! ) ہم نے آپ ﷺ کو ان کا کنٹرولر بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچانے کی ہے حساب فہمی ہمارا کام ہے ان کے اعمال کی نگرانی اور کنٹرولنگ آپ کے ذمہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اور جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (آیت) ”وما ارسلنا من رسول“۔ (الخ) یعنی ہم نے ہر ایک رسول کو اسی لیے بھیجا ہے کہ بحکم الہی اس کی اطاعت کی جائے تو عبداللہ بن ابی منافق نے اپنے دیرینہ بغض کی بنا پر کہا کہ محمد ﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بجائے ان کی اطاعت کریں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس نے احکام میں رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کی کیوں کہ رسول بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی چیز کا حکم نہیں دیتے۔ حاشیہ (وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم آیت 3، 4) (اور حضور ﷺ جو کام بھی فرماتے ہیں وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کی وحی کے مطابق…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ : چونکہ نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول اور مبلغ ہیں، اس لیے ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے شریعت کے احکام سب ایسے ہیں جنھیں آپ ﷺ کی توضیح کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں، لہٰذا قرآن مجید سمجھنے کے لیے کوئی شخص سنت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”الرسالۃ للشافعی“ رقم : 57، 58، ایضًا بحث البیان الرابع ] وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : یعنی اس کے بعد بھی اگر لوگ گمراہ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، اس میں آپ ﷺ کو تسلی دی ہے۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 80 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اس کی اطاعت ہے صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ نے نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، جلد 2، صفحہ 124) اور ایک روایت میں ہے ” جس نے میرے امیر کیا اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن تولی “۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (1) ابن المنذر والخطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا اے لوگو ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ نازل فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی صحابہ نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کی اطاعت گویا آپ کی اطاعت ہے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں سے یہ ہے کہ میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں سے یہ ہے کہ اپنے ائمہ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ مَنْ : جو ] [ یُّطِعِ : اطاعت کرتا ہے ] [ الرَّسُوْلَ : رسول ﷺ کی ] [ فَقَدْ اَطَاعَ : تو اس نے اطاعت کی ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ تَوَلّٰی : منہ موڑتا ہے ] [ فَمَـآ اَرْسَلْنٰکَ : تو ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ حَفِیْظًا : نگران بنا کر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اللہ ہی کی فرمانبرداری ہے۔ معالم التنزیل (صفحہ 455: ج 1) میں اس کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ و من اجبّنی فقد احب اللّٰہ (جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی) تو بعض منافقین نے کہا کہ بس جی یہ آدمی تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اسے رب ہی بنا لیں۔ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو رب بنایا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ جس میں یہ بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–84

حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔ ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–80

55 یہ بھی منافقین اور یہود کے مذکورہ بالا قول باطل کا جواب ہے بلکہ اس جواب کی تفصیل ہے اس میں بظاہر خطاب تو حضرت نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ خطاب ہر مخاطب کو شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو فائدہ اور بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور جو اسے نقصان یا برائی پہنچتی ہے خالق اگرچہ اس کا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کا سبب انسان کی اپنی ہی بد عملی اور کوتاہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (شوری رکوع 4) ۔ یہود مدینہحضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اگر خوشحال تھے تو یہ محض اللہ کا احسان تھا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–80

ربط آیات گزشتہ رکوع میں منافقین کے متعلق یہ بیان ہوچکا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں لیمن لیبطئن جو جہاد میں شامل ہونے کے لیے تاخیر کرتے ہیں یا بالکل شریک نہیں ہوتے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کر رکھا ہے مگر ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ گزشتہ درس میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہوا تھا جو قتال کو ناپسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف کھاتے ہیں اس سلسلہ میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی منافقین کے بارے میں ہی ہے جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، وہ اس سے بچے ہوئے تھے مگر جب یہ فرض ہوگیا تو وہ گھبرانے لگے ، بعض دوسرے مفسرین کا خیال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ۝ 0ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا۝ 80ۭ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–81

ترکیب : من شرطیہ فقد اطاع اللّٰہ جواب۔ حفیظا حال ہے کہ مفعول سے ‘ علیہم متعلق ہے حفیظ سے ‘ فاذا شرط بیت جواب۔ اطاعۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے امر ناطاعۃ تقول حاضر و غائب دونوں کے لئے حاضر کے لئے تو آنحضرت ﷺ کو خطاب ہوگا تو ضمیر طائفۃ کی طرف پھرے گی وکلا ہما جائز۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے کہ ہمارے احکام بندوں کے پاس پہنچا دو اور باقی جو کچھ لوگ چوں و چرا کرتے ہیں آپ کو ان سے کیا وہ خدا سے سرکشی کرتے ہیں یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ جو آپ کا حکم مانتے ہیں وہ اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں کس لئے کہ رسول تو واسطہ ہے جس نے اس کو مانا تو اس نے اس کو مانا کہ جس نے وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 79–80

مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ط وَاَرْسَلْنٰـکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ج وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ط ” تمہیں جو سکھ بھی پہنچتا ہے خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے۔ اور اے رسول ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اور جو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے اس پر تم کو نگران مقرر نہیں کیا۔ “ (النسآء :…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–80

فہم القرآن ربط کلام : نقصان پہنچنے پر منافق رسول کریم ﷺ کی ذات کو ذمہ دار ٹھہراتے اس ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی سبب اس کے ذاتی کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی مختار کل اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اس آیت میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ انسان کو پہنچنے والی اچھائی اور فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ جہاں تک برائی اور نقصان کا معاملہ ہے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 80 : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (جو رسول کی اطاعت کرتا ہے در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے) کیونکہ وہ رسول تو حکم نہیں دیتے اور منع نہیں کرتے مگر اسی کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دے رکھا اور جس سے منع کر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی میں اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ وَمَنْ تَوَلّٰی (جس نے اطاعت سے منہ موڑا) پس اس سے اعراض کیا۔ فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا (نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر) کہ آپ ان کے اعمال کی حفاظت کریں اور ان کا محاسبہ کر کے ان پر ان کو سزا دیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 80۔: (آیت)” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ یہ اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میرے ساتھ محبت کی اس نے اللہ کے ساتھ محبت کی ، بعض منافقین نے کہا کہ یہ شخص کس بات کا ارادہ رکھتا ہے کہ وہ بنائے اپنے لیے رب جیسا کہ نصاری نے عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کو رب مانا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ یعنی جس نے آپ ﷺ کے فرامین پر عمل کیا اس نے اللہ کی اطاعت کی (آیت)” ومن تولی “۔ اور جس نے منہ موڑا اطاعت سے (آیت)” فما ارسلناک “ اے محمد ﷺ ” علیھم حفیظا “۔ یعنی تمہارا محافظ اور تمہارا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 80–82

(80 ۔ 82) ۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی گواہی سے آنحضرت ﷺ کے سچا نبی ہونے کا ذکر فرمایا تھا اب ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ میری نافرمانی عین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے 2۔ یہ حدیث اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ارشاد فرماتا ہے کو جو کوئی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–81

آیت 80 یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامرونواہی میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی (فقد اطاع) ” اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت ،۔ چونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ “ کیونکہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ ﷺ کی عصمت کی دلیل ہے۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے، لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 76–81

قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔ طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

192 رسول کی اطاعت، اللہ کی اطاعت : کہ رسول کا ارشاد دراصل اللہ ہی کا ارشاد ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَا یَنْطِقُ عَن الْہَویٰ ، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُُّوْحٰی } (النجم :3- 4) ۔ سو پیغمبر کی اطاعت و اتباع ہی میں انسان کیلئے دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی ہے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں یہ بہرحال اپنی جگہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اب اللہ کی اطاعت کی واحد راہ یہی ہے کہ لوگ آپ ﷺ کی اطاعت کریں کہ خدا کی اطاعت رسول کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا بس یہی آپ کا کام تھا۔ اب یہ کام ہر شخص کا اپنا ذاتی ہے کہ وہ رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا ہے یا نہیں یہ ہدایت بھی کردی گئی ہے کہ جس نے رسول ﷺ کی پیروی کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی، کیونکہ رسول ﷺ کا فرمان دراصل اللہ کا فرمان ہے۔ اب جو احکامات کو سمجھتے ہیں، عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں تو گویا انہوں نے جنت کما لی اور جو ایسا نہیں کرتے تو وہ اس کا اجر پالیں گے ان کی بدعملی کا خود ان سے پوچھا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–87

اسرار و معارف آیات نمبر 77 تا 78 ۔ اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی آنحضرت ﷺ چونکہ اللہ کے رسول اور مبلغ ہیں اس لیے ان کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر احکام شریعت ایسے ہیں جن کو آنحضرت ﷺ کی توضیح کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہے لہذا قرآن کے لیے کوئی شخص سنت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طاعت عین طاعت الہیٰ ہے۔ (تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو الرسالتہ للشافع رقم 57 ۔ 85 (الربع)11 یعنی اس کے بعد بھی اگر لوگ گمراہ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے۔ (کبیر )

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–80

آیت نمبر 77-80 لغات القرآن : کفوا، روک لو۔ یخشون، ڈرتے ہیں۔ لم کتبت، تو نے کیوں لکھ دیا۔ کیوں فرض کردیا۔ اخرتنا، ہم سے تاخیر کردیتا۔ اجل قریب، قریبی مدت۔ یدرک، تمہیں پالے گا۔ بروج، برج، قلعہ۔ مشیدۃ، مضبوط۔ تشریح : اسلامی تحریک کے ہر قائد کا فرض ہے کہ اپنی صفوں کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لے۔ یہاں پر نبی مکرم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی پہچان صاف ہے۔ ویسے تو وہ منافق نفسانی جذبات کے لئے لڑنے مرنے کو بیتاب رہتے تھے لیکن جب یہ حکم دیا گیا کہ مت لڑو بلکہ نماز روزہ وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تو یہ حکم ان پر شاق گزرا۔ اب جو انہیں نفس کی راہ میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–82

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہی کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کے بعد اپنی رسول ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اس میں کوتاہی کرے تو ہم ایسے لوگوں کے نگہبان ہیں ۔ پھر منافقوں کی مذمت فرمائی کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ان کی جان ومال کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اور اپنے گھروں میں جاکر برخلاف مشورہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کرتوت اللہ کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔ (ف 2) منصب نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو تمامی اور اقتدار کے لئے چن لیتا ہے ، اس کی ہر بات فشائے الہی میں ڈھل کے نکلتی ہے ، اس کا دل و دماغ انوار و تجلیات سے معمور ہوتا ہے ، اس کی ہر حرکت ترجمان ہوتی ہے رضائے حق کی ، اس لئے کسی شخص کو رسول یا نبی کہہ دینا بجائے خود اسے صحت مند قرار دینا ہے ، مگر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ذوق عربیت سے محروم ہیں ، اور قرآن کے اسلوب بدیع سے محض نا آشنا ۔ وہ حضور ﷺ کی اطاعت کو ضروری نہیں جانتے ، ان کے خیال میں قرآن حکیم اپنے موجودہ الفاظ کے ساتھ بالکل کافی ہے اور جو وسائل وذرائع قرآن فہمی کے لئے ضروری ہیں وہ چند…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 79–80

ف 2 اے انسان جو بھلائی اور خوش حالی تجھ کو پیش آتی ہے اور جو راحت تجھ کو میسر ہوتی ہے وہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے یعنی محض اس کے فضل سے ہوتی ہے اور اے انسان جو بدحالی اور برائی تجھ کو پیش آتی ہے وہ خود تیری بدولت اور تیرے سبب سے ہوتی یعنی تیرے اعمال بد کے نتیجے میں پیش آتی ہے اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی رسالت و نبوت پر گواہی دینے کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو اپنے روبرو دیکھنے کو کافی اور بس ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بندہ کو چاہئے نیکی کو اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تقصیر سے اور رسول پر الزام نہ رکھے تقصیروں سے اللہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسول کی رسالت کے مان لینے سے رسول کا فائدہ ؟ اور نہ ماننے سے اس کا کوئی نقصان : 138: فرمایا : اے پیغمبر اسلام (e) ! اگر یہ منافقین تمہاری رسالت کے باب میں متردد ہیں اور تمہارے ہر قول و فعل کو اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتے تو اس بات کی پرواہ نہ کرو کیوں ؟ اس لیے کہ اس طرح کا اقدام کر کے یہ آپ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے جو نقصان ہوگا وہ سراسر ان کا اپنا ہوگا اور جو شخص اپنا نقصان خود کرنے پر تل جائے اس کو روکنے کا کوئی فائدہ ؟ ہاں ! اس طرح وہ روکے والے کو مطعون کرے گا اس لیے اس کو اپنے کیے کا مزہ چکھ لینے دو اور تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں ہے اس لیے کہ اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Previous to this, there was the affirmation of prophethood. Now comes the statement which establishes the right of prophethood - it calls for compulsory obedience. In case hostile people refuse to obey, there are words of comfort for the noble Prophet of Islam who has been absolved of any responsibility for their lack of obedience. The opening statement in the verse presents a very important principle bearing on the authority of the blessed Rasul of Allah. Here, the obedience to the Prophet ﷺ has been equated with obedience to Allah. From this it follows that whoever disobeys the Prophet,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

110. Such people are responsible for their own conduct. It is they rather than the Prophet (peace be on him) who will be censured. The task entrusted to the Prophet (peace be on him) was merely to communicate to them the ordinances and directives of God and he acquitted himself of it very well. It was not his duty to compel them to follow the right way, so that if they failed to follow the teachings communicated to them by the Prophet (peace be on him) the responsibility was entirely theirs. The Prophet (peace be on him) would not be questioned as to why they disobeyed.

Read the full tafseer →