An-Nisaa 4:79

An-Nisaa · from ayah 79

4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ؗ— وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ؕ— وَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ؕ— وَكَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًا ۟مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ فَمِنۡ نَّـفۡسِكَ‌ ؕ وَاَرۡسَلۡنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

What comes to you of good is from Allah, but what comes to you of evil, [O man], is from yourself. And We have sent you, [O Muhammad], to the people as a messenger, and sufficient is Allah as Witness.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 11 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:79

اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے اے محمدؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اوراس پر خدا کی گواہی کافی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھے جو بھلائی ملتی ہے وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وه تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے، ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواه کافی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے، اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ (اس بات کی) گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے انسان! اپنی تربیت یوں کر کہ) جب تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ اللہ کی طرف سے ہے (اسے اپنے حسنِ تدبیر کی طرف منسوب نہ کر)، اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے (یعنی اسے اپنی خرابئ نفس کی طرف منسوب کر)، اور (اے محبوب!) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور (آپ کی رسالت پر) اللہ گواہی میں کافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو کوئی بھلائی تجھے پہنچے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی تجھے پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کافی گواہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور کوئی مصیبت آئے تو وہ تیرے اپنے اعمال کی بدولت ہوتی ہے اور ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس بات پر اللہ کی گواہی ہی کافی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہیں جو سکھ بھی پہنچتا ہے خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے اور اے رسول ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بھی کوئی بھلائی پہنچتی ہے تجھے (اے انسان !) تو وہ اللہ ہی کی طرف سے (اور اسی کے فضل سے) ہوتی ہے اور جو بھی کوئی بدحالی پیش آتی ہے تجھے تو وہ تیری اپنی ہی وجہ سے ہوتی ہے اور ہم نے (بہر حال اے پیغمبر ﷺ !) آپ کو بھیجا ہے سب لوگوں کے لیے رسول بناکر، اور کافی ہے اللہ گواہی دینے کو،

— مولانا اسحاق مدنی

تجھے جو بھی سکھ پیش آتا ہے وہ بس اللہ ہی کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تیرے اپنے ہی سبب سے ہے۔ اور ہم نے آپ کو انسانوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمان !) تجھے جو بھلائی بھی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ خود تیرے نفس کی طرف سے ہے اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو تو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہ کے طو رپر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ کو جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو مصیبت آپ پر آتی ہے وہ آپ کے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔ ہم نے آپ کو تمام لوگوں تک پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Whatever good happens to you is from Allah; and whatever misfortune smites you is because of your own action. We have sent you to mankind (O Muhammad!) as a Messenger, and Allah is sufficient as a witness.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever good comes to you, it is from Allah and whatever evil visits you, it comes from your own selves. We have sent you to be a Messenger for the people. Allah is enough to be a witness.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever good comes to you, it is from Allah and whatever evil visits you, it comes from your own selves. We have sent you to be a Messenger for the people. Allah is enough to be a witness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whatever of good reaches you, is from Allah, but whatever of evil befalls you, is from yourself. And We have sent you as a Messenger to mankind, and Allah is sufficient as a Witness.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whatever of good befalleth thee (O man) it is from Allah, and whatever of ill befalleth thee it is from thyself. We have sent thee (Muhammad) as a messenger unto mankind and Allah is sufficient as Witness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

What comes to you of good is from Allah, but what comes to you of evil, [O man], is from yourself. And We have sent you, [O Muhammad], to the people as a messenger, and sufficient is Allah as Witness.

— Saheeh International

Whatever good you may receive is certainly from God and whatever you suffer is from yourselves. We have sent you, (Muhammad), as a Messenger to people. God is a Sufficient witness to your truthfulness.

— Muhammad Sarwar

Whatever benefit comes to you (O man!), it is from Allah, and whatever misfortune befalls you, it is from yourself, and We have sent you (O Prophet!), to mankind as an apostle; and Allah is sufficient as a witness.

— Muhammad Habib Shakir

Whatsoever of good betideth thee is from Allah, and whatsoever of ill betideth thee is because of thy self. And We have sent thee unto the mankind as an apostle; and sufficieth Allah as a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

Whatever good, (O man!) happens to thee, is from Allah; but whatever evil happens to thee, is from thy (own) soul. and We have sent thee as a messenger to (instruct) mankind. And enough is Allah for a witness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–79

اولین درس صبر و ضبط واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے چلے جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہوچکے ہیں ان پر عامل رہیں نماز ادا کرتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے کام آنے کا اور ان کی ہمدردی کرنے کا انہیں حکم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة النِّسَآء 109 یعنی جب فتح و ظفر اور کامیابی و سرخروئی نصیب ہوتی ہے تو اسے اللہ کا فضل قرار دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ان پر یہ فضل نبی ہی کے ذریعہ سے فرمایا ہے۔ مگر جب خود اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کے سبب سے کہیں شکست ہوتی ہے اور بڑھتے ہوئے قدم پیچھے پڑنے لگتے ہیں تو سارا الزام نبی کے سر تھوپتے ہیں اور خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پختہ مضبوط گھر تعمیر کرنا توکل کے خلاف نہیں ولوکنتم فی بروج مشیدة اس آیت میں کہا گیا کہ موت تم کو بہرکیف پہنچ کر رہے گی، اگرچہ تم مضبوط محلوں میں ہی کیوں نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ رہنے سہنے اور مال و اسباب کی حفاظت کے لئے مضبوط و عمدہ گھر تعمیر کرنا نہ خلاف توکل ہے اور نہ خلاف شرع ہے۔ (قرطبی) انسان کو نعمت محض اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ ما اصابک من حسنة فمن اللہ یہاں حسنتہ سے مراد نعمت ہے۔ (مظہری) اس آیت سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ انسان کو جو نعمت ملتی ہے وہ کوئی اس کا حق نہیں ہوتا، بلکہ محض اللہ کا فضل ہوتا ہے، انسان خواہ کتنی ہی عبادت کرے، اس سے وہ نعمت کا مستحق نہیں ہوسکتا اس لئے عبادت کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 79–80

79 تا 80۔ مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ۭوَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔ یہ آیتیں اوپر والی آیت ہی کے بعض اجمالات کو واضح کر رہی ہیں۔ پہلے ان لوگوں کو، جو کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور ناکامیوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر رہے تھے، مخاطب کر کے فرمایا کہ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خیر و شر ہر چیز کا ظہور خد ہی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ اسکے حکم و اذن کے بغیر کوئی چیز بھی ظہور میں نہیں آسکتی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 79–80

79۔ 1 یعنی اس کے فضل و کرم سے ہے یعنی کسی نیکی یا اطاعت کا صلہ نہیں ہے، کیونکہ نیکی کی توفیق بھی دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی نعمتیں اتنی بےپایاں ہیں کہ ایک انسان کی عبادت و اطاعت اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لئے ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں جو بھی جائے گا، محض اللہ کی رحمت سے جائے گا اپنے عمل کی وجہ سے نہیں صحابہ اکرام رضوان اللہ علھیم اجمعین نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ﷺ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ' ہاں جب تک اللہ مجھے بھی اپنے، دامان رحمت میں نہیں ڈھانک لے گا جنت میں نہیں جاؤں گا ' (صحیح بخاری) 79۔ 2۔ یہ برائی بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–81

48: ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے، کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بناء پر دیتے ہیں، اس کے بارے میں آیت : 79 نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدہ کا کوئی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–80

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اصل بات یہ ہے کہ جملہ بھلائی اور برائی کا موجد ہرچند اللہ ہے مگر بندہ کو چاہیے کہ نیکی اور بھلائی کو حق تعالیٰ کا فضل اور احسان سمجھے اور سختی اور برائی کو اپنے اعمال کی شامت جانے، اس کا الزام پیغمبر ﷺ پر نہ رکھے۔ پیغمبر ﷺ ان امور کے لئے نہ موجد ہے نہ سبب بلکہ موجد یعنی ان باتوں کا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے اور سبب تمہارے عمل۔ 7 حق تعالیٰ رسول ﷺ سے منافقوں کے الزام کو دور فرما کر ارشاد کرتا ہے کہ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول کر کے بھیجا اور ہم کو سب کچھ معلوم ہے ہم سب کے اعمال کا بدلہ دے لیں گے۔ تم کسی کے بیہودہ انکار و الزام کی پرواہ نہ کرو اپنا کار رسالت کئے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 79 مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ط اس آیت کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ میرے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ یہاں تحویل خطاب ہے۔ پہلی آیت میں خطاب ان مسلمانوں کو جن کی طرف سے کمزوری یا نفاق کا اظہار ہو رہا تھا ‘ لیکن اس آیت میں بحیثیت مجموعی خطاب ہے کہ دیکھو اے مسلمانو ! جو بھی کوئی خیر تمہیں ملتا ہے اس پر تمہیں یہی کہنا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور کوئی شر پہنچ جائے تو اسے اپنے کسب و عمل کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ خیر بھی اللہ کی طرف سے ہے اور شر بھی۔ ایمان مفصل“ میں الفاظ آتے ہیں :…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

110 اب اسی عقیدہ تقدیر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ اللہ کی مشیت کے علاوہ انسان کو قوت ارادہ اور اختیار بھی دیا گیا ہے اور خیر و شر کی دونوں راہیں بھی بتادی گئی ہیں۔ اسی لحاظ سے انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملتا ہے۔ (اگر انسان اچھے اعمال کرے تو اسے اس کا اچھا بدلہ مل جائے تو یہ خالصتاً اللہ کا فضل و احسان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انسان پر سابقہ احسانات ہی اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے شکریہ کے طور پر وہ جتنی بھی اطاعت و عبادت کرے ان احسانات کا عوض نہیں بن سکتی۔ اب اگر اللہ تعالیٰ اس عبادت و اطاعت کی مزید جزا بھی عطا فرما دے تو اس لحاظ سے یہ محض اس کا فضل و احسان ہوا۔ اور نافرمانی اور گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

225 ۔ (اے انسان ! ) خطاب اب عام نوع انسانی سے ہے۔ یا انسان خطابا عاما (کشاف) الخطاب عام کانہ قیل مااصابک یا انسان (بحر) والخطاب فیہ کما قال الجبائے وروی عن قتادۃ عام لکل من یقف علیہ لا للنبی ﷺ (روح) (آیت) ” فمن اللہ “۔ یعنی اس کے فضل وکرم کا نتیجہ۔ (آیت) ” من اللہ ومن عند اللہ “۔ یہ دو محاورہ الگ الگ ہیں۔ زبان وادب کے ماہرین نے دونوں میں فرق یہ بتایا ہے کہ دوسرا محاورہ برے بھلے سارے افعال تکوینی کے لئے عام ہے بہ خلاف اس کے پہلے محاورہ کا استعمال صرف محل رضا پر ہوتا ہے۔ من عند اللہ اعم یقال فی ماکان یرضاہ ویسخطہ ولا یقال ھو من اللہ الا فی ماکان یرضاہ وبامرہ (بحر) (آیت) ” فمن نفسک “۔ یعنی اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 78–80

اَیْنَ ما تکونوایُدْرِکْکم الموتُ ، مذکورہ ضعیف الایمان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا اور اس کا آرام و راحت فانی اور عارضی ہے جس کے لئے تم مہلت طلب کررہے ہو، اس کے مقابلہ میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الہٰی کے صلہ میں تم سزا وار ہوگے، دوسرے یہ کہ جہاد کرویا نہ کرو موت تو اپنے وقت پر آکر ہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بندہو کر ہی کیوں نہ بیٹھ جاؤ، پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ . تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ ہر انسان کو خطاب ہے۔ یعنی انسان کو جو بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ کی مہربانی سے پہنچتی ہے انسان کا کوئی استحقاق نہیں نہ خدا پر بھلائی دینا لازم ہے کیونکہ انسان جو طاعت بھی کرتا ہے اگر ہم فرض کرلیں کہ وہ بالکل معصیت سے پاک ہے اور ساری عمر انسان اسی میں مشغول رہے اور وہ قابل قبول بھی ہے پھر بھی وہ پیدا کی ہوئی تو خدا ہی کی ہے اسی کے کرم کا نتیجہ ہے اللہ ہی نے تو اس کو ناپسندیدہ اعمال سے محفوظ رکھا اور پسندیدہ کاموں کی توفیق دی اور نیک کام کی توفیق دینا محض اس کی عنایت ہے پھر نیکی کرنے سے دنیا یا آخرت کے ثواب کا استحقاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(79) اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ فتح وغنیمت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور ہزیمت اور قتل وغیرہ یہ اپنی غلطیوں اور مورچہ کو چھوڑنے کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ احد کے دن صحابہ کرام ؓ نے ایک غلط فہمی کی بنا پر مورچہ چھوڑ دیا تھا ، اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ نیکی کا جو کام ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی وجہ سے ہوتا ہے اور برائی نفس کی ترغیبات اور اس کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے اور آپ صرف ان مخاطبین کی جانب ہی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے تمام جن وانس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان منافقین کی بات پر کہ خیر منجانب اللہ اور العیاذ باللہ برائی رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ۔۔ : اس میں برائی اور بھلائی کا ایک قانون بیان فرما دیا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے اس کا بھیجنے والا بھی گو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کا سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں۔ [ دیکھیے الشوریٰ : 30 ] اس لیے سلف صالحین کا عام قاعدہ تھا کہ جب کوئی اجتہادی رائے پیش کرتے تو کہتے، اگر یہ صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اسی کی توفیق سے ہے اور اگر غلط ہے تو ہماری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ (ابن کثیر) اوپر کی آیت میں پیدا کرنے اور وجود میں لانے کے اعتبار سے ”حسنہ“ اور ”سیۂ“ دونوں کو ”من عند اللہ“ (اللہ کی طرف سے) قرار دیا ہے کہ دونوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 79۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ، وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک “۔ یعنی اے پیارے محمد ! جو آپ کو شادابی، صحت اور سلامتی میسر آئے تو وہ تجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور جو انسان کو قحط سالی اور شدت لاحق ہو وہ اس کے گناہ کی وجہ سے ہے جس پر اسے عقاب کیا گیا ہے۔ خطاب نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے، یعنی اے لوگو ! تمہیں جو شادابی، وسعت رزق میسر آئے تو وہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور جو قحط سالی اور تنگی رزق پہنچے تو تمہاری اپنی طرف سے ہے یعنی تمہارے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ یہ حسن اور سدی وغیرہما کا قول ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–79

(1) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” این ما تکونوا “ یعنی زمین میں تم جہاں کہیں بھی ہو۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “ یعنی مضبوط محلات میں۔ (3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد ہے ایسے محلات جن پر پلستر کیا گیا ہو۔ (4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد آسمان دنیا میں بنائے ہوئے سفید محل۔ (5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” فی بروج مشیدۃ “ سے آسمان میں محلات مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ مَـآ اَصَابَکَ : جو آ لگے تجھ کو ] [ مِنْ حَسَنَۃٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ فَمِنَ اللّٰہِ : تو (وہ) اللہ کے پاس سے ہے ] [ وَمَـآ اَصَابَکَ : اور جو آ لگے تجھ کو ] [ مِنْ سَیِّـئَۃٍ : کوئی بھی برائی ] [ فَمِنْ نَّفْسِکَ : تو (وہ) تیرے نفس سے ہے ] [ وَاَرْسَلْنٰکَ : اور ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ رَسُوْلاً : رسول ہوتے ہوئے ] [ وَکَفٰی بِاللّٰہِ : اور کافی ہے اللہ ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ) (جو کچھ تجھے اچھی حالت پہنچ جائے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو کچھ تجھے بد حالی پہنچ جائے وہ تیری طرف سے ہے) یہ خطاب ہر انسان کو ہے اور اس میں اچھی بری حالت پیش آنے کا قانون بنا دیا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں جو بھی نعمت اور اچھی حالت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے نیک اعمال کرنے سے بھی اللہ پر کسی کا کچھ حق واجب نہیں ہوتا۔ نیک اعمال پر جو نعمتوں اور برکتوں کے وعدے ہیں وہ سب اس کا فضل ہے اور جو کوئی نقمت یا مصیبت بد حالی انسان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–84

حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔ ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–80

55 یہ بھی منافقین اور یہود کے مذکورہ بالا قول باطل کا جواب ہے بلکہ اس جواب کی تفصیل ہے اس میں بظاہر خطاب تو حضرت نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ خطاب ہر مخاطب کو شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو فائدہ اور بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور جو اسے نقصان یا برائی پہنچتی ہے خالق اگرچہ اس کا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس کا سبب انسان کی اپنی ہی بد عملی اور کوتاہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (شوری رکوع 4) ۔ یہود مدینہحضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اگر خوشحال تھے تو یہ محض اللہ کا احسان تھا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–80

ربط آیات گزشتہ رکوع میں منافقین کے متعلق یہ بیان ہوچکا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں لیمن لیبطئن جو جہاد میں شامل ہونے کے لیے تاخیر کرتے ہیں یا بالکل شریک نہیں ہوتے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کر رکھا ہے مگر ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ گزشتہ درس میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہوا تھا جو قتال کو ناپسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف کھاتے ہیں اس سلسلہ میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی منافقین کے بارے میں ہی ہے جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، وہ اس سے بچے ہوئے تھے مگر جب یہ فرض ہوگیا تو وہ گھبرانے لگے ، بعض دوسرے مفسرین کا خیال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَـنَۃٍ فَمِنَ اللہِ۝ 0ۡوَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ۝ 0ۭ وَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا۝ 0ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۝ 79 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 78–79

ترکیب : وان تصبہم شرط یقولوا الخ جواب فما مبتداء ھؤلاء القوم خبر لایکادون الخ جملہ حال ہے ما اصابک ماشرطیہ واصابک بمعنی یصیبک فمن اللّٰہ جواب وارسلنا فعل بافاعل کے مفعول للناس متعلق سے رسولاً حال مؤکد۔ تفسیر : جہاد سے منہ چھپانے والوں کا ایک یہ بھی بہانہ تھا کہ وہ عالم اسباب پر نظر کرکے جو کچھ کبھی ہزیمت یا تکلیف پیش آتی یا مال و جان کا نقصان پہنچتا تھا تو وہ اس کو الزام دینے کے لیے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کردیتے تھے کہ یہ برائی آپ کی وجہ سے پیش آئی اور جو فتح وظفر غنیمت حاصل ہوجاتی تو اس کو کہتے یہ خدا کی طرف سے ہے۔ غرض یہ کہ برائی صرف اے نبی تیری وجہ سے پیش آتی ہے اور بھلائی تو مقدر بات ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 79–80

مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ط وَاَرْسَلْنٰـکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ج وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ط ” تمہیں جو سکھ بھی پہنچتا ہے خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے۔ اور اے رسول ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اور جو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے اس پر تم کو نگران مقرر نہیں کیا۔ “ (النسآء :…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–80

فہم القرآن ربط کلام : نقصان پہنچنے پر منافق رسول کریم ﷺ کی ذات کو ذمہ دار ٹھہراتے اس ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی سبب اس کے ذاتی کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی مختار کل اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اس آیت میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ انسان کو پہنچنے والی اچھائی اور فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ جہاں تک برائی اور نقصان کا معاملہ ہے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 79: پھر فرمایا۔ مَآ اَصَابَکَ (جو تجھ کو پہنچے) مِنْ حَسَنَۃٍ (کوئی نعمت و احسان) کؔ کا مخاطب انسان ہے اور خطاب عام ہے۔ زجاج کہتے ہیں۔ خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کے علاوہ ہیں۔ فَمِنَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے) یعنی اس کا تفضل و احسان ہے۔ وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ (اور جو تمہیں آزمائش و مصیبت پہنچے) فَمِنْ نَّفْسِکَ (پس وہ تیری طرف سے ہے) یعنی ان اعمال کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کیے ہیں جیسا دوسری آیت میں فرما دیا۔ وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم۔ اچھائی و برائی آپ کے اختیار میں نہیں : وَ اَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلاً (اور ہم نے آپ کو لوگوں کے لئے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 79۔: (آیت)” مااصابک من حسنۃ “۔ حسنۃ سے مراد خیر اور نعمت ہے (آیت)” فمن اللہ وما اصابک من سئیۃ “۔ کوئی برائی یا ناپسندیدہ کام (آیت)” فمن نفسک “ اس سے مراد تمہارے گناہ ہیں ، خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد آپ ﷺ کے علاوہ ہیں ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ‘۔ ہے ۔ اہل قدر نے اس آیت کے ظاہر کو لیا ہے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سے برائی ی نفی کی ہے اور اس کی نسبت بندوں کی طرف کی ہے (آیت)” وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک “۔ اس آیت کی مراد وہ نیکیاں نہیں جو کمائی سے حاصل ہوں اور نہ ہی برائیاں بلکہ اس سے مطلق طاعات اور معاصی ہیں یا اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 77–79

(77 ۔ 79) ۔ اوپرجہاد کا ذکر تھا یہ آیتیں بھی اسی ذکر سے متعلق ہیں۔ معتبر سند سے نسائی، حاکم، ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلفیں دیتے تھے ایک روز ان تکلیفوں سے تنگ آکر عبد الرحمن بن عوف ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور قدامہ بن مظعون ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ اور چند صحابہ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرکین کی ایذا دہی کی شکایت پیش کی۔ اور لڑائی کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی لڑائی کی اجازت نہیں ہے اس لئے بالفعل لڑائی سے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 78–79

آیت 78 (وان تصبھم حسنۃ) ” اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انہیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں (ھذہ من عند اللہ) ” یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ “ جب انہیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں (ھذہ من عندک) ” یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔ “ یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 76–81

قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔ طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

189 ہر بھلائی اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی بھلائی تم کو پہنچتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے پہنچتی ہے۔ کہ وہی ہے بخشنے والا اور عطاء فرمانے والا۔ اور وہی ہے سب کا خالق ومالک۔ اور اس کی کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مشیئت ومنظوری سے ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو بھی کوئی چیز انسان کو ملتی ہے وہ اسی کی طرف سے اور بغیر کسی سبب کے محض اس کی عنایت اور مہربانی سے ملتی ہے۔ خود ہمارے وجود اور ان کے اندر پائی جانے والی قدرت کی بیشمار اور عظیم الشان نشانیاں اور نعمتیں محض اس کی عطاء و بخشش ہی کا نتیجہ وثمرہ ہیں۔ ہم نے ان میں سے کسی کیلئے کوئی جدوجہد تو درکنار، کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

مصیبت شامت اعمال کی وجہ سے تشریح : انسان کو تمام بھلائیاں، آرام و آسائش کی تمام چیزیں اللہ کی دی ہوئی ہیں۔ یہ بندے کی مرضی ہے کہ ان کو لوگوں کی اور اپنی بھلائی کے لیے استعمال کرے یا برائی کے لیے استعمال کرے۔ قرآن پاک کا یہ اعلان کہ مصیبت، دکھ اور تکلیف انسان خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کرتا ہے۔ اس کی بڑی خوبصورت وضاحت سلطان بشیر محمود صاحب نے اپنی کتاب ” قیامت اور حیات بعد الموت “ میں کی ہے فرماتے ہیں۔ اگر کوئی ملک، قوم، معاشرہ یا فرد بلا خوف زندگی، اطمینان، امن اور ترقی کا خواہاں ہے تو ان کے لیے اصلاح کا پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ یہ دیکھیں کہ وہ اللہ کا کوئی قانون تو نہیں توڑ رہے۔ جہاں تک ظلم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–87

اسرار و معارف آیات نمبر 77 تا 78 ۔ اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اس میں برائی اور بھلائی کا ایک قانون بیان فرمادیا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جو برائی پہنچتی ہے اس کا بھیجنے والا بھی گو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کا سبب تمہارے اپنے گناہ ہوتے ہیں۔ (دیکھئے سورت شوریٰ آیت 3) اس لیے سلف صالحین کا خام قاعدہ تھا کہ جن کوئی اجتہادی رائے ئ پیش کرتے تو کہتے کہ اگر یہ صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کے طرف سے اور اسی کی توفیق سے اور اگر غلط ہے تو ہماری طرف سے اور شیطان کی طرف سے (ابن کثیر) اوپر کی آیت میں خلق وایجاد کے اعتبار سے حسنتہ اور سیئہ دونوں کو من عند اللہ قرار دیا ہے اور اس آیت میں باعتبار کسب وسبب کے سیئہ کو انسان کی طرف منسوب کردیا ہے لہذا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 78–79

(4:78) یدرککم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ادراک سے۔ پلستر کیا ہوا۔ بلند۔ قصر مشید (22:45) بہت بلند محل۔ مشیدۃ تشیید (تفعیل) سے اسم مفعول اونچے اور مضبوط بنائے ہوئے۔ فمال ھولاء القوم۔ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ کیسی ہے۔ ما شان ھولاء القوم ۔ لایکادون۔ کادیکاد (فتح) کود مصدر۔ کاد یکاد۔ اگرچہ افعال تامہ ہیں لیکن استعمال میں ان کے بعد دوسرا فعل ضرور آتا ہے۔ جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے لا یکادون یفقھون حدیثا بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–80

آیت نمبر 77-80 لغات القرآن : کفوا، روک لو۔ یخشون، ڈرتے ہیں۔ لم کتبت، تو نے کیوں لکھ دیا۔ کیوں فرض کردیا۔ اخرتنا، ہم سے تاخیر کردیتا۔ اجل قریب، قریبی مدت۔ یدرک، تمہیں پالے گا۔ بروج، برج، قلعہ۔ مشیدۃ، مضبوط۔ تشریح : اسلامی تحریک کے ہر قائد کا فرض ہے کہ اپنی صفوں کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لے۔ یہاں پر نبی مکرم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی پہچان صاف ہے۔ ویسے تو وہ منافق نفسانی جذبات کے لئے لڑنے مرنے کو بیتاب رہتے تھے لیکن جب یہ حکم دیا گیا کہ مت لڑو بلکہ نماز روزہ وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تو یہ حکم ان پر شاق گزرا۔ اب جو انہیں نفس کی راہ میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–82

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ نبی اللہ کے رسول ہیں اور لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں وہ اللہ کے فرمانے کے موافق کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہی کہتے تو ان کی فرمانبرداری عین اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کے بعد اپنی رسول ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ جو کوئی اس میں کوتاہی کرے تو ہم ایسے لوگوں کے نگہبان ہیں ۔ پھر منافقوں کی مذمت فرمائی کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ان کی جان ومال کو کوئی صدمہ نہ پہنچے، اور اپنے گھروں میں جاکر برخلاف مشورہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کرتوت اللہ کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں۔ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

رفع تناقض : (ف 1) ان دو آیتوں میں بظاہر تناقض معلوم ہوتا ہے کہ مصائب کہ من عند اللہ بھی کہا ہے اور من نفسک بھی ، مگر خدا کا کلام ہر تناقض وتعارض سے پاک ہے ، پہلی آیت سے تشادم کی تردید مقصود ہے ، دوسری سے منشا یہ ہے کہ مصائب کے ذمہ دار خود انسان ہیں ، جہاں تک کسی واقعہ کے سبب اول کا تعلق ہے وہ ظاہر ہے خدا کے سوا اور کوئی نہیں اور جہاں اسباب قریبہ کا بیان ہے ‘ واضح ہو کہ وہ انسان خود پیدا کرتا ہے یعنی گوہر مصیبت خدا کی طرف سے ہے مگر ہم حاصل اسے خود اپنے عمل سے کرتے ہیں ۔ اس لئے حضور ﷺ کے آنے سے تم مصیبتوں میں مبتلا ہوگئے ہو تو اس کی وجہ آپ ﷺ کی تشریف آوری نہیں ، تمہاری بدبختی اور انکار ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 79–80

ف 2 اے انسان جو بھلائی اور خوش حالی تجھ کو پیش آتی ہے اور جو راحت تجھ کو میسر ہوتی ہے وہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے یعنی محض اس کے فضل سے ہوتی ہے اور اے انسان جو بدحالی اور برائی تجھ کو پیش آتی ہے وہ خود تیری بدولت اور تیرے سبب سے ہوتی یعنی تیرے اعمال بد کے نتیجے میں پیش آتی ہے اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی رسالت و نبوت پر گواہی دینے کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو اپنے روبرو دیکھنے کو کافی اور بس ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بندہ کو چاہئے نیکی کو اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تقصیر سے اور رسول پر الزام نہ رکھے تقصیروں سے اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ تمام لوگوں میں جن اور انسان دونوں آگئے پس اس میں بیان ہے حضور ﷺ کی بعثت عامہ کا جو قرآن و حدیث میں اور جگہ بی مذکور ومنصوص اور عقیدہ قطعی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اصلاح کا پہلو اس میں تھا کہ بھلائی کی نسبت اللہ کی طرف اور برائی کی نسبت اپنی طرف کرتے : 137: یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کی رضا ہے اور ایک اللہ کی قضا و قدر کے فیصلے۔ جو شخص ان دونوں میں فرق کرنا نہیں جانتا وہ ہمیشہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عین رضا کے مطابق ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ ” مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ “ ہے۔ ادب و احترام کی سیدھی اور صاف راہ یہ ہے کہ انسان کو جب بھی کوئی بھلائی اور اچھائی نصیب ہو یا بھلائی اور اچھائی کا نتیہجہ اس کے سامنے آئے تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے کرے کہ وہ خیر کل ہے لیکن جب کوئی معاملہ اس کے برعکس ہوجائے تو اس کی نسبت اپنی ذات کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Building secure houses is not against Tawakkul Let us now consider: وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُ‌وجٍ مُّشَيَّدَةٍ in verse 78. It says: 'Wherever you will be Death will overtake you, even though you are in fortified castles.' This tells us that building a good and strong house to live with ensured security of person and things is not contrary to the dictates of tawakkul or trust in Allah and that it is not against the rules of Shari'ah either. (Qurtubi) A Blessing comes only by the grace of Allah In مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّـهِ (verse 79), translated as: 'whatever good comes to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

109. When such people encounter success and victory, they attribute it to the grace of God. They allow themselves to forget that this grace came to them through no one but the Prophet (peace be on him). When they are either beaten or face setbacks because of their own faults and weaknesses they gratuitously exonerate themselves and place the blame squarely on the Prophet (peace be on him).

Read the full tafseer →