Explained with ayahs 77–79
اولین درس صبر و ضبط
واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے چلے جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہوچکے ہیں ان پر عامل رہیں نماز ادا کرتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے کام آنے کا اور ان کی ہمدردی کرنے کا انہیں حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة النِّسَآء 109
یعنی جب فتح و ظفر اور کامیابی و سرخروئی نصیب ہوتی ہے تو اسے اللہ کا فضل قرار دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ان پر یہ فضل نبی ہی کے ذریعہ سے فرمایا ہے۔ مگر جب خود اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کے سبب سے کہیں شکست ہوتی ہے اور بڑھتے ہوئے قدم پیچھے پڑنے لگتے ہیں تو سارا الزام نبی کے سر تھوپتے ہیں اور خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →ایک عبرت ناک واقعہ
این ماتکونوا یدرککم الموت الخ اللہ تعالیٰ نے اس آیت جہاد سے رکنے والوں کے اس شبہ کا ازالہ کردیا کہ شاید جہاد سے جان بچا کر موت سے بھی بچ سکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ موت ایک دن آ کر رہے گی، خواہ تم جہاں کہیں بھی ہو وہیں موت آئے گی، جب یہ بات ہے تو تمہارا جہاد سے منہ پھیرنا بیکار ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے ذیل میں ایک عبرت ناک واقعہ بروایت ابن جریرو ابن ابی حاتم عن مجاہد لکھا ہے کہ پہلی امتوں میں ایک عورت تھی، اس کو جب وضع حمل کا وقت شروع ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اس نے اپنے ملازم کو آگ لینے کے لئے بھیجا، وہ دروازہ سے نکل ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی ظاہر…
Read the full tafseer →اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ۭ وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا
بروج، برج کی جمع ہے۔ اپنے ابتدائی مفہوم میں تو یہ کسی نمایاں اور واضح چیز کے لیے استعمال ہوا، لیکن پھر یہ بلند عمارتوں اور قلعوں کے لیے معروف ہوگیا۔ اس کے ساتھ مشیدۃ کی صفت بلندی اور استحکام دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے۔
اب یہ ان منافقین کے خوفِ موت کی علت بھی واضح فرمائی…
Read the full tafseer →78۔ 1 ایسے کمزور مسلمانوں کو سمجھانے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا فانی ہے اور اس کا فائدہ عارضی ہے جس کے لئے تم کچھ مہلت طلب کر رہے ہو۔ اس کے مقابلے میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الٰہی کے صلے میں تم سزاوار ہوگے۔ دوسرے یہ جہاد کرو یا نہ کرو، موت تو اپنے وقت پر آکر رہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ جاؤ پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ ؟ مضبوط برجوں سے مراد مضبوط اور بلند وبالا فصیلوں والے قلعے ہیں۔
78۔ 2 یہاں سے پھر منافقین کی باتوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سابقہ امت کے منکرین کی طرح انہوں نے بھی کہا کہ بھلائی (خوش حالی، غلے کی پیداوار، مال اولاد کی فروانی وغیرہ) اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
47: مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کفار کے سخت ظلم وستم کا سامنا کررہے تھے اس وقت بہت سے حضرات کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ ان کافروں سے انتقام لینے کے لئے جنگ کریں، لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی مصلحت اس میں تھی کہ وہ صبر وضبط کی بھٹی سے گزر کر اعلی اخلاق سے آراستہ ہوں اور پھر جہاد کریں تو وہ محض ذاتی انتقام کے جذبے سے نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر ہو لہذا اس وقت جب کچھ مسلمان جہاد کی تمنا کرتے ان سے یہی کہا جا ات تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روک کر رکھو اور جہاد کے بجائے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام پر عمل کرتے رہو، بعد میں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80)
” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور…
Read the full tafseer →3 یعنی کیسے ہی مضبوط اور محفوظ و مامون مکان میں رہو مگر موت تم کو کسی طرح نہ چھوڑے گی کیونکہ موت ہر ایک کے واسطے مقدر اور مقرر ہوچکی ہے اپنے وقت پر ضرور آئے گی کہیں ہو۔ سو اگر جہاد میں نہ جاؤ گے تو بھی موت سے ہرگز نہیں بچ سکتے تو اب جہاد سے گھبرانا اور موت سے ڈرنا اور کافروں کے مقاتلہ سے خوف کرنا بالکل نادانی اور اسلام میں کچے ہونے کی بات ہے۔
4 یعنی ان منافقین کا اور عجیب حال سنو اگر تدبیر لڑائی کی درست آئی اور فتح ہوئی اور غنیمت کا مال ہاتھ آگیا تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے یعنی اتفاقی بات ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے اور اگر تدبیر بگڑ جاتی اور ہزیمت و نقصان پیش آجاتا تو…
Read the full tafseer →آیت 78 اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ
ظاہر ہے قتال سے جی چرانے کا اصل سبب موت کا خوف تھا۔ چناچہ ان کے دلوں کے اندر جو خوف تھا اسے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ موت سے کوئی مفر نہیں ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔
وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط۔
اگرچہ تم بہت مضبوط fortified قلعوں کے اندر اپنے آپ کو محصور کرلو۔ پھر بھی موت سے نہیں بچ ‘ سکتے۔
وَاِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ہٰذِہِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج۔
منافقین کا ایک طرز عمل یہ بھی تھا کہ اگر مسلمانوں کو کوئی کامیابی حاصل ہوجاتی ‘ فتح نصیب ہوجاتی ‘ کوئی اور بھلائی پہنچ جاتی ‘…
Read the full tafseer →108 موت اپنے وقت پر ہی آئے گی اور آ کے رہے گی : یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مسلمان تو درکنار کوئی کافر بھی انکار نہیں کرتا۔ یہاں اس حقیقت کے ذکر کا مقصود یہ ہے کہ اگر یہ کمزور دل مسلمان اس حقیقت کو ہر وقت سامنے رکھیں تو لڑائی سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ موت کا وقت بھی مقرر ہے اور جگہ بھی۔ لہذا اگر وہ تمہارا مقدر ہوچکی ہے تو گھر پر بھی یقینا آ کے رہے گی اور اگر تمہاری زندگی ابھی باقی ہے تو پھر میدان جنگ میں بھی یقینا موت نہیں آئے گی۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ خطاب منافقین کو ہے جو جنگ احد میں شکست دیکھ کر اپنے بھائی بندوں سے کہتے تھے کہ اگر تم ہماری بات مان لیتے تو تمہارے عزیز اس لڑائی میں…
Read the full tafseer →222 ۔ (توجب موت ایسی یقینی اور بےپناہ شے ہے تو آخرت میں جہاد کے اجر و مراتب بےحساب سے محروم اور خالی ہاتھ کیوں پہنچو ؟ )
223 ۔ ذکر اب منافقین کا ہورہا ہے۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب تک مسلمانوں کی بات بنی رہتی، یہ لوگ بھی برابر کے شریک رہتے اور کہتے کہ یہ تو عین فضل خداوندی ہے جس میں ہم تم سب یکساں شریک ہیں اور جب بات بگڑ جاتی تو جھٹ سارا الزام مسلمانوں اور ان کے سردار اعظم ﷺ پر رکھ دیتے کہ یہ جو کچھ پیش آیا، سب آپ ہی کی بےتدبیریوں کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” تصبھم حسنۃ “۔ مثلا جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور اس میں حصہ رسدی ان کو بھی مل گیا۔ (آیت) ” تصبھم سیءۃ “۔ مثلا جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
اَیْنَ ما تکونوایُدْرِکْکم الموتُ ، مذکورہ ضعیف الایمان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا اور اس کا آرام و راحت فانی اور عارضی ہے جس کے لئے تم مہلت طلب کررہے ہو، اس کے مقابلہ میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الہٰی کے صلہ میں تم سزا وار ہوگے، دوسرے یہ کہ جہاد کرویا نہ کرو موت تو اپنے وقت پر آکر ہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بندہو کر ہی کیوں نہ بیٹھ جاؤ، پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →این ما تکونوا تم جہاں کہیں ہو۔ اَیْنَ (اسم ظرف مکان) کے اندر شرط کا معنی ہے اور معنی شرط کی تاکید کے لئے لفظ ما ذکر کیا گیا ہے۔
یدریککم الموت تم کو موت پہنچے گی۔
ولو کنتم فی بروج مشیدۃ خواہ تم اونچی کوٹھیوں یا قلعوں میں ہو۔ قتادہ (رح) نے بروج مشیدۃ کا ترجمہ مضبوط محلات کیا ہے اور عکرمہ نے چونے اور مصالحہ سے جڑا ہوا ترجمہ کیا ہے۔
اس جگہ اس آیت کو ذکر کرنے سے آیت : لَوْلاَ اَخَّرْتَنَا اِلٰی اَجَلٍ قِرِیْب کے جواب کی طرف اشارہ ہے یعنی جہاد سے موت قریب نہیں آجاتی نہ احتیاط موت مقدرہ کو دور کرسکتی ہے حکم تقدیری لوٹایا نہیں جاسکتا۔
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے تو یہودیوں اور منافقوں نے…
Read the full tafseer →(78) اے گروہ مومنین اور اے منافقین خواہ تم خشکی میں ہو یا تری میں، سفر میں ہو یا حضر میں خواہ مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہوں، موت سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں موت ضرور آئے گی، یہود اور منافقین کہتے تھے کہ جب سے رسول اکرم ﷺ اور ان کے اصحاب مدینہ منورہ آئے ہیں ہمارے پھلوں اور کھیتوں میں کمی ہو وہی ہے، اللہ تعالیٰ ان کا قول نقل کرکے ان کی تردید فرماتے ہیں۔
یعنی اگر منافقین اور یہودیوں کو پیداوار اور بارش کی بہتات نظر آتی ہے تو بذعم خود کہنے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر نیکی دیکھتا ہے اور اگر قحط اور تنگی اور نرخ وغیرہ میں گرانی ہوتی ہے تو العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ۔۔ : یعنی جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر انھیں ایذا دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں لڑنے سے روکے رکھا اور صبر کا حکم فرمایا، اب جو (مدینہ منورہ) میں لڑائی کا حکم آیا ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری مراد ملی، لیکن کچے مسلمان کنارہ کرتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح) متعدد روایات میں ہے کہ مسلمانوں نے مکی زندگی میں کئی دفعہ چاہا کہ ظالموں سے دو بدو نمٹیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو حکم ہوتا کہ ابھی نماز اور زکوٰۃ (مال خرچ کرنے) کا جو تمہیں حکم ہوا ہے اس کی خوب عادت ڈالو، تاکہ تمہاری تربیت ہوجائے، مدینہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 78۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” این ما تکونوا یدرکم الموت “۔ شرط اور جزا ہے اور مازائدہ ہے یہ خطاب عام ہے اگرچہ مراد منافقین یا وہ کمزور مومن ہیں جنہوں نے کہا تھا ؛ (آیت) ” لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ یعنی تو نے ہمیں کیونکہ ڈھیل نہ دی تاکہ ہم اپنی عمریں پوری کرکے فوت ہوتے، یہ منا یقین کے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، کیونکہ جب جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے کہا : (آیت) ” لوکانوا عندنا ماماتوا وما قتلوا “۔ (آل عمران : 156) اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(1) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” این ما تکونوا “ یعنی زمین میں تم جہاں کہیں بھی ہو۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو کنتم فی بروج مشیدۃ “ یعنی مضبوط محلات میں۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد ہے ایسے محلات جن پر پلستر کیا گیا ہو۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی بروج مشیدۃ “ سے مراد آسمان دنیا میں بنائے ہوئے سفید محل۔
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ” فی بروج مشیدۃ “ سے آسمان میں محلات مراد…
Read the full tafseer →[ اَیْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ] [ تَـکُوْنُوْا : تم ہو گے ] [ یُدْرِکْکُّمُ : آئے گی تم کو ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ وَلَـوْ : اور اگر ] [ کُنْتُمْ : تم ہو ] [ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ : کسی انتہائی مضبوط گنبد میں ] [ وَاِنْ تُصِبْـہُمْ : اور اگر آ لگے ان کو ] [ حَسَنَۃٌ : کوئی بھلائی ] [ یَّــقُوْلُــوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ ہٰذِہٖ : یہ ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ہے ] [ وَاِنْ تُصِبْہُمْ : اور اگر آلگے ان کو ] [ سَیِّئَۃٌ : کوئی برائی ] [ یَّــقُوْلُوْا : تو وہ کہتے ہیں ] [ ہٰذِہٖ : یہ ] [ مِنْ عِنْدِکَ : آپ ﷺ کے پاس سے ہے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ کُلٌّ : سب کچھ ] [ مِّنْ عِنْدِ…
Read the full tafseer →تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت پکڑ لے گی
جو لوگ بزدلی اختیار کرتے ہیں اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے سے کتراتے ہیں موت کے ڈر سے ایسا کرتے ہیں موت کا وقت مقرر ہے جب موت آئے گی مرنا ہی پڑے گا اور جہاں کہیں بھی ہوں موت پہنچ جائے گی۔
اس آیت میں فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہیں موت پکڑ لے گی، اگرچہ مضبوط قلعوں کے اندر ہو، موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ 253: ج 1) لکھتے ہیں کہ آیت (اَیْنَمَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمْ الْمَوْتُ ) منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب غزوہ احد میں مسلمان شہید ہوگئے تو منافقین نے کہا کہ (لَوْ کَا نُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا) (اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →54 یہ بھی منافقین کے لیے زجر ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ فرماتے ہیں اگر مسلمانوں کی فتح ہوتی اور مال غنیمت ہاتھ لگ جاتا تو منافقین کہتے یہ سب اللہ مہربانی ہے اور اگر کہیں شکست ہوئی تو آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے کہ نعوذ باللہ یہ پیغمبر کی بےتدبیری کا نتیجہ ہے (روح ج 5 ص 88، قرطبی ج 5 ص 284 وغیرہ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال باطل کا رد فرمایا کہ فتح و شکست اور تنگی و فراخی سب اللہ کی طرف سے ہے وہ ہر چیز کا خالق و مخترع ہے اور وہی نافع و ضار ہے۔ لا خالق و لا مخترع سواہ فلیس الامر کما زعمتم فاللہ تعالیٰ وحدہ ھو النافع الضار و عن ارادتہ تصدر جمیع الکائنات (بحر ج 3 ص 300) حسن اور ابن زید کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
ربط آیات
گزشتہ رکوع میں منافقین کے متعلق یہ بیان ہوچکا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں لیمن لیبطئن جو جہاد میں شامل ہونے کے لیے تاخیر کرتے ہیں یا بالکل شریک نہیں ہوتے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کر رکھا ہے مگر ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ گزشتہ درس میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہوا تھا جو قتال کو ناپسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف کھاتے ہیں اس سلسلہ میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی منافقین کے بارے میں ہی ہے جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، وہ اس سے بچے ہوئے تھے مگر جب یہ فرض ہوگیا تو وہ گھبرانے لگے ، بعض دوسرے مفسرین کا خیال…
Read the full tafseer →اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَۃٍ 0ۭ وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَۃٌ يَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللہِ 0ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَۃٌ يَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِكَ 0ۭ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللہِ 0ۭ فَمَالِ ہٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَہُوْنَ حَدِيْثًا 78
أين
أَيْنَ لفظ يبحث به عن المکان، كما أنّ «متی» يبحث به عن الزمان، والآن : كل زمان مقدّر بين زمانین ماض ومستقبل، نحو : أنا الآن أفعل کذا، وخصّ الآن بالألف واللام المعرّف بهما ولزماه، وافعل کذا آونة، أي : وقتا بعد وقت، وهو من قولهم : الآن .
وقولهم : هذا أوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ترکیب : وان تصبہم شرط یقولوا الخ جواب فما مبتداء ھؤلاء القوم خبر لایکادون الخ جملہ حال ہے ما اصابک ماشرطیہ واصابک بمعنی یصیبک فمن اللّٰہ جواب وارسلنا فعل بافاعل کے مفعول للناس متعلق سے رسولاً حال مؤکد۔
تفسیر : جہاد سے منہ چھپانے والوں کا ایک یہ بھی بہانہ تھا کہ وہ عالم اسباب پر نظر کرکے جو کچھ کبھی ہزیمت یا تکلیف پیش آتی یا مال و جان کا نقصان پہنچتا تھا تو وہ اس کو الزام دینے کے لیے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کردیتے تھے کہ یہ برائی آپ کی وجہ سے پیش آئی اور جو فتح وظفر غنیمت حاصل ہوجاتی تو اس کو کہتے یہ خدا کی طرف سے ہے۔ غرض یہ کہ برائی صرف اے نبی تیری وجہ سے پیش آتی ہے اور بھلائی تو مقدر بات ہے…
Read the full tafseer →اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْکُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط وَ اِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ط قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط فَمَالِ ھٰٓؤُلَآئِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثًا
” تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔ اگرچہ تم مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔ اور اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دیجیے ہر چیز اللہ کی جانب سے ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد وہی کرسکتا ہے جو موت سے ڈرنے والا نہ ہو۔ موت کا تعلق قتال کے ساتھ نہیں۔ موت کا وقت ‘ مقام اور سبب مقرر ہے۔ موت اپنے وقت اور مقام پر آئے گی چاہے کوئی قلعہ بند ہوجائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو زندگی عزیز، اولاد محبوب اور مال و جان پیارے ہوتے ہیں۔ لیکن مومن اور دوسروں کا فرق یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے حکم کو دنیا جہاں کی ہر چیز سے عزیز تر سمجھ کر بےخوف و خطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ گھر ہو یا باہر، امن ہو یا جنگ میرے لیے موت کا وقت اور جگہ مقرر ہے۔ پھر منافقوں کی طرح چھپنا اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹنے کا کیا…
Read the full tafseer →آیت 78 :
پھر اس آیت میں واضح فرمایا۔ کہ احتیاط، تقدیر میں کسی چیز کا فائدہ نہیں دیتی۔ فرمایا : اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ (جہاں بھی تم ہو گے۔ موت تم کو آئے گی) وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ (خواہ تم بلند قلعوں یا محلات میں ہو)
نحو : این میں شرط کے معنی میں تاکید کے لئے ماؔ کو بڑھایا گیا ہے۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ (اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچے) جیسے خوشحالی ٗ ارزانی یَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے) اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ (اگر ان کو برائی پہنچتی ہے) یعنی قحط کی…
Read the full tafseer →78۔ (آیت)” اینما تکونوا یدرکم الموت “ یعنی تم پر موت اترے گی ، یہ ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو احد کے دن قتل کردیئے گئے تھے کہ اگر وہ ہمارے ساتھ یا ہمارے پاس ہوتے تو اللہ ضروری ان کو واپس ہم پر لوٹاتا۔
(آیت)” ولوکنتم فی بروج مشیدہ “ بروج کہا جاتا ہے مشیدہ کہا جاتا ہے بلند وبالا کو۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ وہ قصر میں ہوں گے اور عکرمہ (رح) نے کہا کہ وہ مجصص ہوں گے اور الشید الجص کو کہا جاتا ہے (آیت)” وان تصبھم حسنۃ “۔ یہ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہ کہتے تھے جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پھلوں اور ہماری کھیتوں میں کمی اس شخص اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
(77 ۔ 79) ۔ اوپرجہاد کا ذکر تھا یہ آیتیں بھی اسی ذکر سے متعلق ہیں۔ معتبر سند سے نسائی، حاکم، ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلفیں دیتے تھے ایک روز ان تکلیفوں سے تنگ آکر عبد الرحمن بن عوف ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور قدامہ بن مظعون ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ اور چند صحابہ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرکین کی ایذا دہی کی شکایت پیش کی۔ اور لڑائی کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی لڑائی کی اجازت نہیں ہے اس لئے بالفعل لڑائی سے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
آیت 78
(وان تصبھم حسنۃ) ” اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انہیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں (ھذہ من عند اللہ) ” یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ “ جب انہیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں (ھذہ من عندک) ” یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔ “ یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →185 موت سے ڈرنا بےسود و لا حاصل : سو جب کوئی مضبوط اور محفوظ قلعوں کے اندر بھی موت سے نہیں بچ سکتا تو پھر موت سے ڈرنا بےسود اور لا حاصل ہے کہ وہ اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گی۔ اگرچہ کوئی مضبوط قلعوں کے اندر ہی بند کیوں نہ ہو۔ پس اپنے مقررہ وقت پر تو وہ بند قلعوں اور محفوظ سے محفوظ مقامات پر بھی آ کر رہے گی، اور وقت سے پہلے وہ تم پر کبھی آئیگی نہیں، اگرچہ تم تیروں اور گولوں و میزائلوں کی بارش ہی میں کیوں نہ ہوؤ۔ تو پھر اس سے ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ؟ سبحان اللہ ! کیسا مضبوط کردیتی ہے انسان کے دل کو یہ ایمان کی دولت کہ اس کے بعد انسان کو نہ کوئی خوف رہتا ہے نہ خطرہ۔ اور وہ ہر حال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
لڑائی سے ڈرنے والے
تشریح : ان آیات کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمان نبی کریم ﷺ سے جنگ کی اجازت مانگتے تھے کہ کفار کے ظلم و ستم سے نجات ملے۔ اس وقت ان کو جنگ سے رکے رہنے کا حکم دیا گیا کہ ابھی صرف صبر کرو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دو ۔ لیکن ہجرت کے بعد مسلمان کچھ مضبوط ہوئے تو پھر جنگ کا حکم ہوگیا۔ تب مسلمانوں کے کچھ لوگ جنگ سے یوں ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور کچھ اور مہلت مانگنے لگے تو اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ دنیا کی خواہش میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ آخرت کی خوشیوں بھری ہمیشہ کی زندگی ان کو یاد نہیں۔ اور فرمایا کہ ان کو بتاؤ کہ جو بھی یہ کریں گے ذرہ ذرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جب موت سے تمہیں کسی حال میں چھٹکا را نہیں تو پھر اللہ کی راہ میں جہاد سے کیوں ہچکچاتے ہو مقصد جہاد کی ترغیب ہے (کبیر)5 اوپر بیان فرمایا کہ منا فیقن جہاد سے جی چراتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں۔ اب یہاں ان کی ایک دوسر مذموم خصلت کا ذکر فرمایا جو پہلی بھی بری ہے یعنی نحوست کہ آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ (کبیر) یہاں الحسنہ سے مرا اد نصرت غلبہ اور خو شحالی وغیرہ ہے اور اس کے مقابلے میں السئیہ سے مراد بلا مصیبت قتل وہزیمت وغیرہ ہے۔6 یہ ان کے کلام کا جواب ہے کہ برائی بھلائی دونوں اسی کی طرف سے اور اسی حکم سے ہیں۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا وہی ہے بلا اور مصیبت کو کسی کی نحوست قرار دینا قطعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(4:78) یدرککم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ادراک سے۔ پلستر کیا ہوا۔ بلند۔ قصر مشید (22:45) بہت بلند محل۔ مشیدۃ تشیید (تفعیل) سے اسم مفعول اونچے اور مضبوط بنائے ہوئے۔
فمال ھولاء القوم۔ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ کیسی ہے۔ ما شان ھولاء القوم ۔
لایکادون۔ کادیکاد (فتح) کود مصدر۔ کاد یکاد۔ اگرچہ افعال تامہ ہیں لیکن استعمال میں ان کے بعد دوسرا فعل ضرور آتا ہے۔ جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے لا یکادون یفقھون حدیثا بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
آیت نمبر 77-80
لغات القرآن : کفوا، روک لو۔ یخشون، ڈرتے ہیں۔ لم کتبت، تو نے کیوں لکھ دیا۔ کیوں فرض کردیا۔ اخرتنا، ہم سے تاخیر کردیتا۔ اجل قریب، قریبی مدت۔ یدرک، تمہیں پالے گا۔ بروج، برج، قلعہ۔ مشیدۃ، مضبوط۔
تشریح : اسلامی تحریک کے ہر قائد کا فرض ہے کہ اپنی صفوں کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لے۔ یہاں پر نبی مکرم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی پہچان صاف ہے۔ ویسے تو وہ منافق نفسانی جذبات کے لئے لڑنے مرنے کو بیتاب رہتے تھے لیکن جب یہ حکم دیا گیا کہ مت لڑو بلکہ نماز روزہ وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تو یہ حکم ان پر شاق گزرا۔ اب جو انہیں نفس کی راہ میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
منافقوں کا ذکر شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ایک روز ایک جماعت صحابہ کرام نے حضور سرور عالم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے، انہوں نے ہمیں ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکٰوۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز اور زکٰوۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد کچے مسلمان دو طرح کی باتیں کرتے تھے : ایک تو لڑائی پر جانے میں موت کے اندیشہ سے یہ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم تھوڑی مدت تک ٹل جاتا تو اچھا…
Read the full tafseer →[55] یعنی تمہاری وجہ سے ہے۔
Read the full tafseer →موت کی ہمہ گیری :
(ف 2) اس آیت میں موت کی ہمہ گیری کا تذکرہ ہے ، مقصد یہ ہے کہ موت کا ڈر وجہ تخلیف نہ ہو ، موت جھونپڑے سے لے کر قصر سفید تک سب کو شامل ہے ، اس کی فرمانروائی اتنی وسیع ہے کہ وہ لوگ بھی جو ہزاروں قسمتوں کے مالک ہیں ، اس سے نہیں بچتے ۔
(ف 3) منافقین کی بےسمجھی کا ذکر ہے کہ وہ ہر ابتلاء کو حضور ﷺ کے تشادم تفاول نہیں بن سکتا ۔
حل لغات :
ثقیل : باریک ریشہ جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے ۔ بروج : جمع برج کے معنی ظہر کے ہوتے ہیں ، اس لئے اس سے مراد نمایاں عمارت ہے ۔
Read the full tafseer →ف 1 رہا موت کا معاملہ تو موت کی تو یہ حالت ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو وہیں آلے گی خواہ تم چونے کے پختہ سے پختہ قلعوں ہی میں محفوظ کیوں نہ ہو اور ان منافقوں کی حالت یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی بھلائی اور اچھی بات پیش آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ منجانب اللہ ہے اور اللہ کی طرف سے اتفاقاً پیش آگئی ہے اور اگر ان کو کوئی برائی اور بری حالت پیش آجاتی ہے تو اے پیغمبر ! ﷺ یہ یوں کہتے ہیں کہ یہ برائی تیری بدولت ہے اور تیری بےتدبڑری کا نتیجہ ہے آپ ان سے فرما دیجیے یہ سب باتیں اللہ ہی کی جانب سے ہیں آں خر ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ یہ بات سمجھنے کے قریب ہو کر بھی نہیں نکلتے۔ (تیسیر)
بروج مشیدہ،…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور ترغیب جہاد میں یہ مذکور ہوا ہے کہ وقت پر موت نہیں ٹلتی خواہ جہاد میں جاو یا نہ جاو چونکہ بعض منافقین جہاد میں جانے کو موت میں موثرا اور نہ جانے کو حیات میں موثر سمجھتے تھے اور کہتے تھے پس جب کبھی جہاد میں قتل وموت واقع ہوتا تو رسول اللہ پر الزام لگاتے کہ آپ ہی کے کہنے سے جہاد میں گئے اور شکار موت ہوئے دیکھو جہاد کا موثر فی الموت ہوناثابت ہوگیا اور اگر کبھی باوجود اسباب ظاہری کی کمی کے کفار پر فتح ہوتی اور اس سے استدلال کرتے کہ دیکھو جہاد اگر موثر فی الموت ہے تو اب وہ اثر کہا گیا تو کہتے کہ یہ محض اتفاقی بات من جانب اللہ ہے غرض کام بگڑتا تو حضرت ﷺ پر الزام اور سنورتا تواتفاقی بات آگے…
Read the full tafseer →موت سے فرار ؟ سوچ لو ! اس کی کوئی صورت ممکن بھی ہے :
135: انسان پیدا ہوا ہے ؟ کیوں ؟ مرنے کے لیے اور آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ یقینا مرا۔ قتال فرض کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ پس جب سوائے اس کے چارہ نہیں تو خواہ اس کے کرنے میں جان رہے یا جائے وہ کام کرنا ہوگا۔ یہ کوئی اصول زندگی نہیں کہ اگر ایک کام کے کرنے کی ضرورت انسانی زندگی کے بقاء کے لیے ہے موت کا خطرہ ہو تو انسان وہ کام نہ کرے اس طرح پر موت سے بچنا گویا انسانی زندگی کی اصل غرض ہوگئی حالانکہ یہ بات بذاتہ بالکل غلط ہے تاہم اگر تم موت سے بچنے ہی کو انسان کی زندگی کی اصلی غرض…
Read the full tafseer →There is no escape from death:
In أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ (verse 78) (Wherever you will be death will over-take you), Allah Almighty removes any doubts the deserters from Jihad may entertain. They think that, perhaps by dodging Jihad, they can also dodge death. Therefore, it was said that there will be a day of death, a day when it, must come, no matter where you are; it will come exactly where you are. When this is settled, there is no sense in backing out from Jihad.
Hafiz Ibn Kathir (رح) ، the famous commentator, while discussing this verse, has reported a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
109. When such people encounter success and victory, they attribute it to the grace of God. They allow themselves to forget that this grace came to them through no one but the Prophet (peace be on him). When they are either beaten or face setbacks because of their own faults and weaknesses they gratuitously exonerate themselves and place the blame squarely on the Prophet (peace be on him).
Read the full tafseer →