Explained with ayahs 77–79
اولین درس صبر و ضبط
واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب مکہ شریف میں تھے کمزور تھے حرمت والے شہر میں تھے کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے شہر میں تھے وہ بکثرت تھے جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے ہیں، اس لئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ ان سے فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے چلے جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہوچکے ہیں ان پر عامل رہیں نماز ادا کرتے رہیں زکوٰۃ دیتے رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے کام آنے کا اور ان کی ہمدردی کرنے کا انہیں حکم…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 107
اس آیت کے تین مفہوم ہیں اور تینوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں
ایک مفہوم یہ ہے کہ پہلے یہ لوگ خود جنگ کے لیے بےتاب تھے۔ بار بار کہتے تھے کہ صاحب ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے، ہمیں ستایا جاتا ہے، مارا جاتا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں، آخر ہم کب تک صبر کریں، ہمیں مقابلہ کی اجازت دی جائے۔ اس وقت ان سے کہا جاتا تھا کہ صبر کرو اور نماز و زکوٰۃ سے ابھی اپنے نفس کی اصلاح کرتے رہو، تو یہ صبر و برداشت کا حکم ان پر شاق گزرتا تھا۔ مگر اب جو لڑائی کا حکم دے دیا گیا تو انہی تقاضا کرنے والوں میں سے ایک گروہ دشمنوں کا ہجوم اور جنگ کے خطرات دیکھ دیکھ کر سہما جا رہا ہے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تک مطالبہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (قبل نزول حکم جہاد تو جنگ کرنے کا ایسا تقاضا تھا کہ) ان کو (منع کرنے کے لئے) یہ کہا گیا تھا کہ (ابھی) اپنے ہاتھوں کو (لڑنے سے) روکے رہو اور (جو حکم تم کو ہوچکے ہیں اس میں لگے رہو مثلاً) نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیتے رہو (یا تو یہ حالت تھی اور یا) پھر ان پر جہاد کرنا فرض کردیا گیا تو کیا حال ہوا کہ ان میں سے بعض بعض آدمی (مخالف) لوگوں سے (طبعا) ایسا ڈرنے لگے (کہ ہم کو قتل کردیں گے) جیسا (کوئی) اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنا (زیادہ ڈرنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اکثر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا عقلاً ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون آیات 77 تا 85: آگے انہیں منافقین کی مزید کمزوریاں اور شرارتیں واضح کی جا رہی ہیں تاکہ مسلمان ان کے فتنوں سے آگاہ ہوجائیں اور ان کی وسوسہ اندازیوں سے مسلمانوں کے اندر جو غلط اور منافی توحید و اسلام رجحانات ابھر سکتے ہیں ان کا اچھی طرح ازالہ ہوجائے۔ پہلے ان منافقین کے اس عجیب و غریب رویے پر توجہ دلائی کہ اب تک تو یہ اپنے ایمان و اخلاص کی دھونس جمانے کے لیے بہت بڑھ بڑھ کر جہاد کے لیے مطالبہ کر رہے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے ایک ایک شخص جہاد کے عشق سے سرشار ہے لیکن پیغمبر کی طرف سے ان کو صبر و انتظار کی ہدایت کی جاتی تھی کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے، ابھی نماز اور زکوۃ کے…
Read the full tafseer →77۔ 1 مکہ میں مسلمان چونکہ تعداد اور وسائل کے اعتبار سے لڑنے کے قابل نہیں تھے اس لئے مسلمانوں کی خواہش کے باوجود انہیں قتال سے روکے رکھا گیا اور دو باتوں کی تاکید کی جاتی رہی، ایک یہ کہ کافروں کے ظالمانہ رویے کو صبر اور حوصلے سے برداشت کریں اور عفو و درگزر سے کام لیں۔ دوسرے یہ کہ نماز، زکوٰۃ اور دیگر عبادات وتعلیمات پر عمل کا اہتمام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ سے ربط وتعلق مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجائے۔ لیکن ہجرت کے بعد جب مدینہ میں مسمانوں کی طاقت مجتمع ہوگئی تو پھر انہیں قتال کی اجازت دے دی گئی اور جب اجازت دے دی گئی تو بعض لوگوں نے کمزوری اور پست ہمتی کا اظہار کیا۔ اس پر آیت میں مکی دور کی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
47: مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کفار کے سخت ظلم وستم کا سامنا کررہے تھے اس وقت بہت سے حضرات کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ ان کافروں سے انتقام لینے کے لئے جنگ کریں، لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی مصلحت اس میں تھی کہ وہ صبر وضبط کی بھٹی سے گزر کر اعلی اخلاق سے آراستہ ہوں اور پھر جہاد کریں تو وہ محض ذاتی انتقام کے جذبے سے نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا کی خاطر ہو لہذا اس وقت جب کچھ مسلمان جہاد کی تمنا کرتے ان سے یہی کہا جا ات تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روک کر رکھو اور جہاد کے بجائے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام پر عمل کرتے رہو، بعد میں جب…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 77 تا 83۔
آیات کے ان چار پیروں میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی لوگ ہوں جن کے بارے میں اس سبق کے سابقہ پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) اور یہ لوگ مناق تھے اور ممکن ہے کہ یہ تمام ریمارکس ان منافقین کے بارے میں ہوں ‘ جن سے یہ افعال سرزد ہوتے تھے اور وہ ایسی باتیں بھی کیا کرتے تھے ۔
ہم اسی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان آیات میں جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان میں نفاق کے خدوخال زیادہ نظر آتے ہیں ۔ مسلمانوں کی صفوں میں منافق موجود تھے اور ایسے افعال اور اس قسم کے اقوال صرف منافقین ہی سے صادر ہونا…
Read the full tafseer →4 مکہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کافر مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کرتے اور رخصت مانگتے کہ ہم کفار سے مقاتلہ کریں اور ان سے ظلم کا بدلہ لیں آپ مسلمانوں کو لڑائی سے روکتے کہ مجھ کو مقاتلہ کا حکم نہیں ہوا بلکہ صبر اور درگزر کرنے کا حکم ہے اور فرماتے کہ نماز اور زکوٰۃ کا جو حکم تم کو ہوچکا ہے اس کو برابر کئے جاؤ کیونکہ جب تک آدمی اطاعت خداوندی میں اپنے نفس پر جہاد کرنے کا اور تکالیف جسمانی کا خوگر نہ ہو اور اپنے مال خرچ کرنے کا عادی نہ ہو تو اس کو جہاد کرنا اور اپنی جان کا دینا بہت دشوار ہے اس بات کو مسلمانوں نے قبول کرلیا تھا۔
1 یعنی ہجرت…
Read the full tafseer →آیت 77 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ج
مکہ مکرمہ میں بارہ برس تک مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔ اس دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ‘ انہیں بہت بری طرح ستایا جا رہا تھا ‘ تشدد و تعذیب کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا خون کھولتا تھا اور بہت سے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ ہمیں اجازت دی جائے تو ہم اپنے بھائیوں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کا بدلہ لین ‘ آخر ہم نامرد نہیں ہیں ‘ بےغیرت نہیں ہیں ‘ بزدل نہیں ہیں۔ لیکن انہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ منہج انقلاب نبوی ﷺ…
Read the full tafseer →106 مکہ میں جہاد پر بندش :۔ مکہ میں مسلمانوں پر قریش مکہ نے جو ظلم و ستم ڈھائے تھے ان کا نشانہ صرف غلام مسلمان ہی نہ تھے، بلکہ آزاد اور معزز قسم کے مسلمانوں کا بھی ان لوگوں نے طرح طرح سے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ حتیٰ کہ خود رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کے ہاتھوں متعدد بار ایذائیں پہنچیں۔ اس وقت بعض جرأت مند مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی اجازت چاہی، تو آپ نے فرمایا کہ ابھی مجھے جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ لہذا تم بھی ان مصائب کو صبر سے برداشت کیے جاؤ اور اپنی تمام تر توجہ نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر صرف کرو۔ چناچہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ جو السابقون الاولون میں سے تھے…
Read the full tafseer →217 ۔ (کہ حالت امن میں اس قسم کی عبادات پر عمل کافی ہے) (آیت) ” کفوا ایدیکم “۔ یعنی جوش انتقام اور قتال سے ابھی باز رہو۔ یہ ذکر کن لوگوں کا ہے ؟ اسے سمجھنے کے لیے اس وقت کے حالات پیش نظر رکھنے ضروری ہیں۔ مسلمانوں کو مکہ میں قریش کے مظالم سہتے سہتے ایک زمانہ ہوگیا تھا۔ اور قدرۃ انتقام کی خواہش ان کے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی، یہ لوگ بھی آخر اسی خون اور اسی گوشت وپوشت کے تھے اور جوش میں آکر بار بار جنگ کی اجازت طلب کرنے لگے تھے۔ ادھر وحی الہی ابھی برابر عفو وحلم، مسامحت و درگزر کا سبق دے رہی تھی، یہاں تک کہ ہجرت کا حکم آگیا۔ اور مسلمان مدینہ کی پرامن فضا میں منتقل ہوآئے۔ 13 ۔ 14 سال کی صحبت رسول…
Read the full tafseer →آیت نمبر 77 تا 87
ترجمہ : کیا تم نے انھیں نہیں دیکھا جنہیں حکم دیا گیا کہ کافروں کے ساتھ قتال سے ہاتھ روکے رکھو، جبکہ انہوں نے مکہ میں کفار کی ایذا رسانی کی وجہ سے جہاد کا مطالبہ کیا، اور وہ صحابہ کی ایک جماعت تھی اور نماز پڑھتے رہو اور زکوة ادا کرتے رہو، پھر ھب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو اسی وقت ایک جماعت ان میں سے کافروں سے ڈرنے لگی، یعنی قتل کے ذریعہ ان کے عذاب سے جیسا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں بلکہ اس خوف سے بھی بڑھکر اور اشَدَّ ، کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے اور ' لَمَّا ' کے جواب پر اذا اور اس کا مابعد دلالت کررہا ہے، یعنی ان کو اچانک خوف لاحق ہوگیا، اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان سے کہا گیا تھا اپنے ہاتھوں کو تھامے رہو۔ یہ تعجب آفریں سوال ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ جب قتال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو سب قتال کے درپے تھے اور جب جہاد کا حکم دیا گیا تو ایک گروہ بیٹھ رہا اور کافروں سے لڑنے لگا۔
ہاتھ روک لینے کا حکم بتارہا ہے کہ جن کو حکم دیا گیا تھا وہ لڑائی کے درپے تھے۔ الذین قیل لہم الخ سے برقول کلبی حسب نقل بغوی حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری ‘ حضرت مقداد بن اسود کندی ‘ حضرت قدامہ بن مظعون جمحی ‘ حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص اور صحابہ ؓ کی وہ جماعت ہے جو مکہ میں کافروں کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھا رہے تھے اور…
Read the full tafseer →(77) یہاں سے اللہ تعالیٰ جہاد کے مشکل گزرنے اور بدر صغری میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکلنے کو گراں گزرنے کا ذکر فرماتے ہیں، چناچہ عبدالرحمن بن عوف ؓ سعدبن ابی وقاص ؓ زبیر ؓ قدامۃ بن مظعون ؓ ، مقداد بن اسود کندی ؓ طلحۃ بن عبید اللہ ؓ وغیرہ جب یہ حضرات مکہ مکرمہ میں کفار کی تکالیف سے پریشان ہورہے تھے تو ان سے کہا گیا تھا کہ ابھی لڑنے سے رکے رہو، کیوں کہ مجھے (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابھی اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں ہوا اور ایسے حالات میں مکہ مکرمہ کے ان مظلوم مسلمانوں کو یہ تلقین کی جارہی ہے کہ وہ پانچوں نمازوں کو اوقات کی پابندی کے ساتھ رکوع و سجود کے ساتھ ادا کرتے رہیں، نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ۔۔ : یعنی جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر انھیں ایذا دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں لڑنے سے روکے رکھا اور صبر کا حکم فرمایا، اب جو (مدینہ منورہ) میں لڑائی کا حکم آیا ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری مراد ملی، لیکن کچے مسلمان کنارہ کرتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح) متعدد روایات میں ہے کہ مسلمانوں نے مکی زندگی میں کئی دفعہ چاہا کہ ظالموں سے دو بدو نمٹیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو حکم ہوتا کہ ابھی نماز اور زکوٰۃ (مال خرچ کرنے) کا جو تمہیں حکم ہوا ہے اس کی خوب عادت ڈالو، تاکہ تمہاری تربیت ہوجائے، مدینہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 77۔
عمرو بن دینار نے عکرمہ ؓ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے ساتھی نبی مکرم ﷺ کے پاس مکہ میں آئے اور کہا : اے اللہ کے نبی ! ہم عزت میں تھے جب کہ ہم مشرک تھے جب ہم ایمان لائے تو ہم ذلیل ہوگئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : انی امرت بالعفوفلا تقاتلوا القوم۔ (1) (سنن نسائی، کتاب الجہاد جلد 2، صفحہ 51)
مجھے عفو کا حکم دیا گیا ہے پس تم قوم سے نہ لڑو، جب اللہ تعالیٰ آپ کو مدینہ طیبہ کی طرف جانے کا حکم دیا تو آپ کو قتال کرنے کا حکم دیا پس وہ لوگ اس وقت جہاد سے رک گئے پس یہ آیت نازل ہوئی، اس حدیث کو نسائی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے، اور یہ کلبی کا قول…
Read the full tafseer →قتال کا حکم نازل ہونے کے بعد اعراض پر وعید
(1) نسائی وابن جریر وابن ابی حاتم نے (اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے اپنی سنن میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد الرحمن بن عوف اور اس کے دوسرے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ہم عزت والے اور غالب تھے جب ہم مشرک تھے ہم جب ایمان لے آئے تو ہم ذلیل ہوگئے آپ نے فرمایا میں درگزر کا حکم دیا گیا ہوں کسی قوم سے نہ جنگ کرو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ میں پہنچا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ( کافروں سے) لڑنے کا حکم فرمایا تو وہ رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم “
(2) عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی طرف ] [ قِیْلَ : کہا گیا ] [ لَہُمْ : جن سے ] [ کُفُّوْآ : کہ تم لوگ روکے رکھو ] [ اَیْدِیَکُمْ : اپنے ہاتھوں کو ] [ وَاَقِیْمُوا : اور قائم کرو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ وَاٰتُوا : اور پہنچائو ] [ الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ کو ] [ فَلَمَّا : پھر جب ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْہِمُ : ان پر ] [ الْقِتَالُ : جنگ کرنے کو ] [ اِذَا : تب ہی ] [ فَرِیْقٌ: ایک فریق ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ یَخْشَوْنَ : ڈرتا ہے ] [ النَّاسَ : لوگوں سے ] [ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ : اللہ سے ڈرنے کی مانند ] [ اَوْ : یا ] [ اَشَدَّ : زیادہ سخت…
Read the full tafseer →قتال سے پہلو تہی کرنے والوں کا تذکرہ
لباب النقول 74 میں بحوالہ نسائی اور مستدرک حاکم حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے بعض ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے) اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ہم جب مشرک تھے تو عزت میں تھے پھر جب ہم ایمان لے آئے تو ذلت والے ہوگئے۔ (لہٰذا ہمیں دشمنان دین سے جنگ کرنا چاہیے) آپ نے فرمایا کہ مجھے معاف اور در گزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا جنگ نہ کرو پھر جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ پہنچا دیا تو قتال کا حکم دیا اس وقت لوگ جنگ کرنے سے بچنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →53 یہ منافقین کے لیے زجر ہے ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو مشرکین کے ہاتھوں بڑی بڑی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچتیں تو وہحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی شکایت کرتے اور آپ سے جہاد کی اجازت چاہتے۔ آپ فرماتے ابھی مجھے جہاد کا حکم نہیں ملا۔ جو احکام تم پر فرض ہوچکے ہیں نماز اور زکوۃ وغیرہ ابھی ان پر ہی عمل کرو۔ پھر ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جہاد کا حکم نازل ہوا تو ایک فریق (یعنی منافقین) اس حکم سے گھبرا اٹھے اور کہنے لگا کہ اے اللہ تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کیا۔ یہ لوگ قتال سے سخت خوفزدہ ہوئے ظاہر ہے ان کا خوف محض موت اور قتل کی وجہ سے تھا تو اس کے جواب میں فرمایا۔ اَیْنَ مَاتَکُوْنُوْا…
Read the full tafseer →ربط آیات
یہآیات بھی جہاد ہی سے متعلق ہیں اور یہ سلسلہ اس سورة مبارکہ میں دور تک چلا جائے گا۔ گزشتہ رکوع کی ابتداء میں اہل ایمان کو اپنے دفاع کی تلقین کی گئی تھی اور حکم دیا گیا تھا کہ موقع کی مناسبت سے گروہوں کی شکل میں حملہ کرو یا یکبارگی پوری قوت میدان میں لے آؤ ، دشمنکا مقابلہ بہرحال کرنا ہے ، پھر جہاد سے اعراض کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ منافق لوگ حیلے بہانے سے جہاد میں شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ اسبابِ قتال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا ایک مقصد تو اللہ کے دین کو غالب کرنا اور دوسرا مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانا ہے۔ اس کے بعد جہاد کی غرض وغایت بیان فرمائی کہ اہل ایمان کے راستے میں ، اس کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ 0ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْـيَۃِ اللہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَۃً 0ۚ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ 0ۚ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ 0ۭ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ 0ۚ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى 0ۣ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 77
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
-…
Read the full tafseer →ترکیب : فلما کتب شرط اذا فریق الخ جواب اذا یہاں مفاجات کے لئے ہے جو ظرف مکان ہے اور ظرف مکان اس موقع پر اس اسم کی خبر ہوسکتا ہے جو اس کے بعد ہے وہ یہاں فریق ہے۔ منہم اس کی صفت اور یخشون حال ہے اور ممکن ہے کہ اذا خبر نہ ہو تب فریق مبتداء اور منہم اس کی صفت اور یخشون خبر اینما شرط اور ما زائدہ ہے اور این شرطیہ پر تقویت معنی شرط کے لئے بیشتر داخل ہوتا ہے۔ یدرککم جواب۔
تفسیر : اس آیت میں اور طرح سے جہاد کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ جب کفار شیطانی کام پر لڑتے اور شیطان کی سپاہ بن کر نیک کاموں سے روکتے اور موحدین کو ستاتے ہیں تو پھر ایمانداروں کو کیا ہوا جو اللہ کی راہ میں حق پر نہ لڑیں بلکہ جو…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلٰی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ج فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً ج وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ ج لَوْ لَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ط قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ التَّقٰی قف وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً
” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کمزور مسلمانوں کو جنگ میں پہل کرنے کی بجائے اپنے آپ کو منظم اور اخلاق و ایمان کے لحاظ سے مضبوط کرنا چاہیے۔
مفسرین نے اس آیت کی متضاد مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ یہ آیت مظلوم مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے مظالم سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مطالبہ کیا کہ ہمیں لڑنے کی اجازت عنایت فرمائی جائے۔
امام نسائی (رح) نے کتاب الجہاد میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ اللہ کے رسول ! ہم مشرک ہونے کے باوجود معزز اور باوقار لوگ تھے اب ایمان لانے کے بعد ہم ذلیل ہو رہے ہیں۔ اس لیے…
Read the full tafseer →آیت 77 : مسلمان کفار سے لڑائی کرنے سے رکے ہوئے تھے جب تک وہ مکہ میں مقیم تھے۔ ان کی تمنا یہ تھی کہ ان کو قتال کی اجازت مل جائے۔ پس یہ آیت اتری : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کہا گیا۔ تم اپنے ہاتھوں کو روکو لڑائی سے) وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتُوا الزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ ( اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو پس جب لڑائی ان پر فرض کردی گئی مدینہ منورہ پہنچ کر) ۔
اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ (اسی وقت ایک جماعت ان میں سے لوگوں سے ڈرنے لگی جیسا اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 77۔:
(آیت)” الم تر الی الذین قیل لھم کفوا ایدیکم “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس آیت کا نزول عبدالرحمن عوف الزہریہ ، مقداد بن الاسود کندی ، قدامۃ بن مظعون الحجمی سعد بن ابی وقاص اور ایک جماعت جن کو مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے بہت اذیتیں دی ہیں اور یہ حضرات کہتے تھے کہ اللہ کے نبی ہمیں اجازت دیں ہم ان کے ساتھ قتال نہ کریں ، انہوں نے ہمیں بہت اذیتیں دے رکھی ہیں اور آپ ﷺ ان کو فرماتے تھے (آیت)” کفوا ایدیکم “ کیونکہ مجھے ابھی قتال کا حکم نہیں دیا گیا (آیت)” واقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ “۔ جب آپ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ قتال کا حکم دیا ، یہ بعض پر بہت مشقت اور گراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
(77 ۔ 79) ۔ اوپرجہاد کا ذکر تھا یہ آیتیں بھی اسی ذکر سے متعلق ہیں۔ معتبر سند سے نسائی، حاکم، ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلفیں دیتے تھے ایک روز ان تکلیفوں سے تنگ آکر عبد الرحمن بن عوف ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور قدامہ بن مظعون ؓ اور سعد بن ابی وقاص ؓ اور چند صحابہ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرکین کی ایذا دہی کی شکایت پیش کی۔ اور لڑائی کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی لڑائی کی اجازت نہیں ہے اس لئے بالفعل لڑائی سے ہاتھ…
Read the full tafseer →آیت 77
جب مسلمان مکہ میں تھے تو انہیں نماز اور زکوۃ کا حکم دیا گیا تھا، یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا اور اس سے مراد وہ معروف زکوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً
(1) اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔
(2) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →179 منافقوں کے ایک گروہ کے بارے میں دعوت غور و فکر : کہ ان کا معاملہ بھی کیسا عجیب ہے کہ پہلے تو یہ لوگ جہاد کا خود مطالبہ کر رہے تھے اور جب اس کا حکم آگیا تو یہ لوگ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اس سے مراد یا تو منافق ہیں یا کمزور مسلمان۔ (معارف القرآن از کاندھلوی (رح) و جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس طرح کے منافقانہ طرز عمل کی بجائے صدق و اخلاص والا طریقہ اپنانا چاہیئے۔ سو ایسے لوگ بڑے زور و شور سے جنگ وجدال اور جہاد و قتال کا مطالبہ کرتے تھے تو ان سے کہا جاتا کہ ابھی تم لوگ انتظار کرو اور نماز کے لئے اہتمام اور زکوٰۃ کی پابندی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق، اپنی تنظیم اور اپنے جذبہ انفاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
لڑائی سے ڈرنے والے
تشریح : ان آیات کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمان نبی کریم ﷺ سے جنگ کی اجازت مانگتے تھے کہ کفار کے ظلم و ستم سے نجات ملے۔ اس وقت ان کو جنگ سے رکے رہنے کا حکم دیا گیا کہ ابھی صرف صبر کرو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دو ۔ لیکن ہجرت کے بعد مسلمان کچھ مضبوط ہوئے تو پھر جنگ کا حکم ہوگیا۔ تب مسلمانوں کے کچھ لوگ جنگ سے یوں ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور کچھ اور مہلت مانگنے لگے تو اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ دنیا کی خواہش میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ آخرت کی خوشیوں بھری ہمیشہ کی زندگی ان کو یاد نہیں۔ اور فرمایا کہ ان کو بتاؤ کہ جو بھی یہ کریں گے ذرہ ذرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–87
اسرار و معارف
آیات نمبر 77 تا 78 ۔
اے مخاطب ذرا ان لوگوں کو دیکھ جن کو روکنا مشکل ہورہا تھا اور یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز روزہ کی پابندی کرو زکوۃ دو یعنی ارکان اسلام پر عمل کرو اسلام کو خود اپنے اوپر نافذ کرو تب یہ جہاد اور قتال کے لیے بیقرار تھے کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے اللہ کا حکم ہو رسول اللہ ﷺ لائے ہوں اور لوگ مانیں نہیں وہ خواہ اہل مکہ ہوں یا کوئی بھی اور ہم ان سے نزور شمشیر منوائیں گے تو ارشاد ہوتا تھا ٹھہرجاؤ ذرا اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو یہ در اصل منافقین کا کردار تھا جب مسلمان ہجرت کرکے آئے تو جو منافقین ان کی صفوں میں شامل ہوگئے یہ ان کی باتیں ہیں جو بعض حضرات نے مومنین کی طرف…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر ایذا دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لڑنے سے روکے رکھا اور صبر کا حکم دیا فرمایا اب جو (مدینہ منورہ) میں لڑائی کا حکم آیا ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری مراد ملی لیکن کچے مسلمان کنارہ کرتے رہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح) روایات میں ہے مسلمانوں نے مکی زندگی میں کئی دفعہ چاہا کہ ظالموں سے دو بدو نمٹیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو حکم ہوتا کہ ابھی نماز اور زکوٰۃ (نفاق مال) کا جو تم کو حکم ہوا ہے اس کی خوب عادت ڈالو تاکہ تمہاری تربیت ہوجائے۔ مدینہ منورہ میں بھی ہجرت کے ابتدائے برسوں میں مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →(4:77) کفوا۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں اکففوا بروزن انصروا۔ تھا ۔ تم روکو۔ کیف یکف۔ کفوا ایدکم (عن القتال) امام قرطبی (رح) عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف الزہری۔ المقداد بن الاسود الکندی۔ قدامہ بن مظعون ۔ سعد بن ابی وقاص ؓ اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی۔
ان حضرات کا تقاضا تھا کہ مکہ میں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں اب جب کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی ہے تو ان کو اپنے موذی دشمنوں کے ساتھ مقاتلہ کی اجازت دی جائے۔ لیکن چونکہ ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ حضور ﷺ ان کو نماز اور روزہ پر زیادہ توجہ دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے جو فرض کئے جا چکے تھے اور قتال سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–80
آیت نمبر 77-80
لغات القرآن : کفوا، روک لو۔ یخشون، ڈرتے ہیں۔ لم کتبت، تو نے کیوں لکھ دیا۔ کیوں فرض کردیا۔ اخرتنا، ہم سے تاخیر کردیتا۔ اجل قریب، قریبی مدت۔ یدرک، تمہیں پالے گا۔ بروج، برج، قلعہ۔ مشیدۃ، مضبوط۔
تشریح : اسلامی تحریک کے ہر قائد کا فرض ہے کہ اپنی صفوں کے اندر کالی بھیڑوں کو پہچان لے۔ یہاں پر نبی مکرم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کی پہچان صاف ہے۔ ویسے تو وہ منافق نفسانی جذبات کے لئے لڑنے مرنے کو بیتاب رہتے تھے لیکن جب یہ حکم دیا گیا کہ مت لڑو بلکہ نماز روزہ وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرو تو یہ حکم ان پر شاق گزرا۔ اب جو انہیں نفس کی راہ میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
منافقوں کا ذکر شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ایک روز ایک جماعت صحابہ کرام نے حضور سرور عالم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے، انہوں نے ہمیں ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکٰوۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز اور زکٰوۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد کچے مسلمان دو طرح کی باتیں کرتے تھے : ایک تو لڑائی پر جانے میں موت کے اندیشہ سے یہ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم تھوڑی مدت تک ٹل جاتا تو اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
[54] یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے جیسا کہ بعد کے فقرے میں '' شیطان کے حمائیتیوں سے لڑو '' واضح ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ منافقین کی جماعت جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، شور مچا رہی تھی کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے اس وقت انہیں روکا گیا اور کہا گیا کہ صلوۃ وزکوۃ ہی پر اپنی تمام قوتیں مرکوز رہنے دو اور جہاد کا مطالبہ نہ کرو ، کیونکہ یہ ایک ہنگامی و وقتی چیز ہے ، مگر یہ تھے کہ اظہار ایمان وایقان کے لئے بیقرار تھے اور جب جہاد فرض قرار دیا گیا ، وقت آگیا کہ کفر کے خلاف اعلان جنگ کردیا جائے تو یہ انتہا درجے کے بزدل ثابت ہوئے ان کے دلوں میں لوگوں کا ڈر اس درجہ سرایت کر گیا کہ یہ بہانے تلاش کرنے لگے ، حالانکہ مومن سوائے خدا کے اور کسی شخصیت سے مرعوب نہیں ہوتا ، وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →ف 3 اے مخاطب ! کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو یہ حکم دیا گیا کہ تم ابھی اپنے ہاتھوں کو روکے رہو یعنی جو لوگ مکہ میں جہاد کا تقاضا کر رہے تھے اور جہاد کی اجازت مانگ رہے تھے ان سے کہا گیا کہ ابھی گیا اور مدینہ میں ان کو قتال کا حکم دیا گیا تو ان کی یہ حلات ہوئی کہ اسی وقت ان میں سے کچھ لوگ کافروں اور دین حق کے مخالف لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے کوئی خدا سے ڈرتا ہو یا خدا کے ڈر سے بھی زیادہ ڈرنا اور یہ ڈرنے والے لوگ یوں کہنے لگے۔
اے ہمارے پروردگار ! تو نے ابھی ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا اور تھوڑی مدت تک کے لئے تو نے ہم کو اور مہلت کیوں نہ دے دی۔
اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ دنیا…
Read the full tafseer →ف 5۔ ان صاحبوں کا یہ تمنائی قول اگر زبان سے تھا تب تو اس کی توجیہ معصیت نہ ہونے کی معلوم ہوگئی اور اگر دل میں بطور حدیث النفس اور وسوسے کے تھا تو وسوسہ کا معصیت نہ ہونا قرآن و حدیث میں وارد ہے کوئی تردد ہی نہ رہا۔
Read the full tafseer →تم حافظے کے کتنے کمزور ہو کہ ابھی تم کیا کہہ رہے تھے اور اب کیا ؟
131: باتونی لوگ کبھی بات کے پکے نہیں ہوتے کیوں ؟ اس لیے کہ ان کے منہ میں جو آتا ہے کہتے جاتے ہیں فرمایا ابھی تم اپنے ایمان و اخلاص کی دھونس جمانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جہاد جہاد کے نعرے لگا رہے تھے۔ تمہارا مطالبہ ہی یہ تھا کہ ان ساری بیماریوں کا حل جہاد ہے۔ ہم تو کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمہارا ایک ایک شخص جہاد کے عشق سے سرشار ہے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف سے صبر و تحمل اور انتظار انتظار کی ہدایت کی جاتی تھی اور تم کو کہا جاتا تھا کہ نماز ، نماز اور بس نماز اگر مزید کچھ کرسکتے ہو تو زکوٰۃ۔…
Read the full tafseer →Commentary
The Background of Revelation
Verse 77 beginning with the words: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ (Have you not seen those to whom it was said, "Hold your hands { from fighting)...) was revealed in a particular background. Before their migration from Makkah, Muslims were regularly persecuted by disbelievers. Harassed Muslims used to visit the Holy Prophet ﷺ complaining to him about the high-handed treatment meted out to them and asking for his permission to fight back in self-defence and put an end to the Kafir reign of terror. He advised patience…
Read the full tafseer →107. This verse .can be interpreted in three ways, and each meaning is equally valid: First, that those who now shirked to fight in the cause of God were themselves initially eager to fight. They often approached the Prophet (peace be on him), saying that they were being wronged, beaten, persecuted and abused, that' their patience was exhausted, and that they wanted permission to fight. They had then been told to be patient and continue to purify their souls by observing Prayers and dispensing Zakah. At that time they had felt disconcerted by this counsel of patience. Later on, some of those…
Read the full tafseer →