Explained with ayahs 75–76
شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بےبس لوگو جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بےبال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بےکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ) 47۔ محمد :13) بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 105
یہ اللہ کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اللہ کی راہ میں اس غرض کے لیے لڑنا کہ زمین پر اللہ کا دین قائم ہو، یہ اہل ایمان کا کام ہے اور جو واقعی مومن ہے وہ اس کام سے کبھی باز نہ رہے گا۔ اور طاغوت کی راہ میں اس غرض کے لیے لڑنا کہ خدا کی زمین پر خدا کے باغیوں کا راج ہو، یہ کافروں کا کام ہے اور کوئی ایمان رکھنے والا آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔
سورة النِّسَآء 106
یعنی بظاہر شیطان اور اس کے ساتھی بڑی تیاریوں سے اٹھتے ہیں اور بڑی زبردست چالیں چلتے ہیں، لیکن اہل ایمان کو نہ ان کی تیاریوں سے خوف زدہ ہونا چاہیے اور نہ ان کی چالوں سے۔ آخر کار ان کا انجام ناکامی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ سے دعا تمام مصائب کا بہترین علاج ہے
آیت یقولون ربنا اخرجنا سے یہ بتلایا گیا کہ حکم قتال کا ایک سبب ان کمزور مسلمان مردوں اور عورتوں کی دعاء تھی جس کی قبولیت مسلمان کو حکم جہاد دے کر کی گئی اور ان کی مصائب کا فوری خاتمہ ہوگیا۔
جنگ تو سب کرتے ہیں مگر اس سے مومن اور کافر کے مقاصد الگ الگ ہیں۔
الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ اس آیت میں بتلایا گیا کہ مؤمنین اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومن کی جدوجہد کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو اور اللہ تعالیٰ کا حکم بلند ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا مالک ہے اور اس کا قانون…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۔
طاغوت کے لفظ پر بحث بقرہ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں قرآن نے فقاتلوا اولیاء الشیطان کہہ کر خود واضح فرمادیا کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
یہ آیت اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی جنگ خدا کی راہ میں ہوتی ہے اور خدا ان کے سر پر ہوتا ہے۔ برعکس اس کے اہل کفر کی جنگ شیطان کی راہ میں ہوتی اور شیطان ان کے سر پر ہوتا ہے۔ گویا مقابلہ اصلاً رحمان اور…
Read the full tafseer →76۔ 1 مومن اور کافر، دونوں کو جنگوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن دونوں کے مقاصد جنگ میں عظیم فرق ہے، مومن اللہ کے لئے لڑتا ہے، محض طلب دنیا یا ہوس ملک گیری کی خاطر نہیں۔ جب کہ کافر کا مقصد یہی دنیا اور اس کے مفادات ہوتے ہیں۔
76۔ 2 مومنوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ طاغوتی مقاصد کے لئے حیلے اور مکر کمزور ہوتے ہیں، ان کے ظاہری اسباب کی فروانی اور کثرت تعداد سے مت ڈرو تمہاری ایمانی قوت اور عزم جہاد کے مقابلے میں شیطان کے یہ حیلے نہیں ٹھہر سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
46: مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں، خود تو جنگ میں شریک ہوتے نہیں اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔
Read the full tafseer →“ اچانک تمام انسان ایک دورا ہے پر آکھڑے ہوتے ہیں ‘ اہداف ومقاصد متعین ہوجاتے ہیں ‘ خطوط واضح ہوجاتے ہیں اور لوگ دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ‘ دو ممتاز جھنڈوں کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
(آیت) ” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ (4 : 76)
” جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “
(آیت) ” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت “۔ (4 : 76)
” اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “
اہل ایمان کی صف آرائی اللہ کی راہ میں ہے اور وہ اللہ کا نظام حیات نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اللہ کی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ‘ وہ اللہ کے نام پر لوگوں کے…
Read the full tafseer →3 یعنی جب یہ بات ظاہر ہے کہ مسلمان اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر لوگ شیطان کی راہ میں۔ سو پھر تو مسلمانوں کو شیطان کے دوستوں یعنی کافروں کے ساتھ لڑنا بلاتامل ضروری ہوا۔ اللہ تعالیٰ انکا مددگار ہے۔ کسی قسم کا تردد نہ چاہیے اور سمجھ لو کہ شیطان کا حیلہ اور فریب کمزور ہے مسلمانوں پر نہ چل سکے گا۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ترغیب دلانا اور ہمت بندھانا ہے جس کا ذکر آیات آئندہ میں بالتصریح آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 76 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ
جنگ تو وہ بھی کر رہے ہیں ‘ جانیں وہ بھی دے رہے ہیں۔ ابوجہل بھی تو لشکر لے کر آیا تھا۔ ان کی ساری جدوجہد طاغوت کی راہ میں ہے۔
فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ ج
تم شیطان کے حمایتیوں سے ‘ حزب الشیطان سے قتال کرو۔
اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا
شیطان کی چال بظاہر بڑی زوردار بڑی بارعب دکھائی دیتی ہے ‘ لیکن جب مرد مؤمن اس کے مقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر معلوم ہوجاتا ہے کہ بڑی بودی اور پھسپھسی چال ہے۔
Read the full tafseer →105 وقتی اور سیاسی اتحاد شیطانی اتحاد ہے جس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے :۔ یہاں طاغوت سے مراد سرداران قریش کی اپنی اپنی چودھراہٹیں اور اسی طرح یہودیوں اور دوسرے قبائل عرب کے سرداروں کی سرداریاں ہیں۔ جن کی بنا پر ان کا عوام پر تسلط قائم تھا۔ جوں جوں اسلام کو اللہ نے ترقی دی تو ان سرداروں کو اپنی سرداریاں متزلزل اور ڈگمگاتی نظر آنے لگیں تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی۔ گویا مسلمانوں کے خلاف تمام اسلام دشمن قومیں متحد ہو کر اسلام کو مٹانے پر آمادہ ہوجاتی تھیں اور اسلام کے مقابلہ میں کفر کا یہ اتحاد دراصل شیطانی اتحاد تھا اور یہ محض وقتی اور سیاسی اتحاد ہوتا تھا۔ ورنہ اس اتحاد میں…
Read the full tafseer →214 ۔ (اور جیسا کہ خود حق تعالیٰ ہر قسم کی نفسانی آمیزش وآلایش سے منزہ وپاک ہے۔ اللہ والوں کا لشکر بھی کبھی عدوان و طغیان، ظلم وخیانت، مے نوشی وبدکاری کے آلات حرب سے مسلح ہو کر جنگ کر ہی نہیں سکتا) (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ کی قید جو بار بار لگائی جارہی ہے۔ بےمعنی نہیں بہت ہی پر معنی ہے۔ درحقیقت یہ آیت سلسلہ جہاد کی آیتوں میں سے ایک کلیدی آیت ہے اس نے صاف صاف اسلامی جہاد کا فرق دنیا جہان کی تمام جنگوں اور جاہلی محاربات سے واضح کردیا۔ اس نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ سچا مسلمان جب اپنے ابنائے جنس پر ہتھیار اٹھائے گا تو توسیع ملک کے لئے نہیں، قومی تفوق کے لئے نہیں تجارتی منڈیاں قائم کرنے کو نہیں،…
Read the full tafseer →الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ (الآیة) جنگ کی ضروت مومن اور کافر دونوں کو پیش آتی ہے لیکن دونوں کے مقصد جنگ میں عظیم فرق ہے، مومن اللہ کے لئے لڑتا ہے محض دنیا طلبی یا ہوس ملک گیری کے لئے نہیں جبکہ کافر کا مقصد یہی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ . جو مؤمن ہیں وہ اللہ کی راہ میں (یعنی اللہ کی اطاعت کی راہ میں) لڑتے ہیں (اللہ کی اطاعت ہی ایسا راستہ ہے جس پر چل کر مؤمن اللہ تک پہنچتا ہے) ۔
والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی شیطان کی اطاعت کی راہ میں لڑتے ہیں جو ان کو شیطان سے ملا دیتی اور طبقات میں جہنم میں پہنچا دینے والی ہو۔
فقاتلوا اولیآء الشیطن پس اے مسلمانو ! تم شیطان کی فوج (یعنی کافروں) سے لڑو۔ اس سے آگے جرأت دلاتے ہوئے فرمایا۔
ان کیدا الشیطن کان ضعیفا درحقیقت شیطان کا فریب کمزور ہے سوائے دل میں وسوسہ پیدا کرنے کے وہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔ بدر کی…
Read the full tafseer →(76) صحابہ کرام راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں اور ابوسفیان اور اس کے ساتھی شیطان کی اطاعت وپیروی میں لڑتے ہیں، لہذا شیطانی لشکر سے خوب خوب جہاد کرو، کیوں کہ شیطان تدابیر ذلت ورسوائی کی وجہ سے بیہودہ اور ناکام ہوتی ہیں، چناچہ بدر کے دن وہ ذلیل ورسوا ہوئے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ …. جہاد کی فرضیت اور ترغیب کے بعد اس آیت میں بتایا کہ جہاد کی ظاہری صورت کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ جہاد اپنے مقصد کے اعتبار سے جہاد ہے، مومن ہمیشہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے اور کافر کسی طاغوتی طاقت کو بچانے یا مضبوط کرنے کے لیے لڑتے ہیں، لہٰذا تم ان سے خوب لڑو۔ شیطان خواہ اپنے دوستوں کو کتنے ہی مکر و فریب سمجھائے، مگر تمہارے خلاف وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 76۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یہاں ” فی سبیل اللہ “ سے مراد فی طاعتہ ہے یعنی جو اللہ کی اطاعت میں جنگ کرتے ہیں (آیت) ” والذین یقاتلون فی سبیل اللہ الطاغوت “۔ ابو عبیدہ اور کسائی نے کہا : طاغوت مذکر اور مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : یہ مذکر، مونث استعمال ہوتا ہے، کیونکہ وہ کاہن اور کاہنۃ کو طاغوت کہتے تھے، فرمایا ہمیں حجاج نے بتایا انہوں نے ابن جریج سے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں ابو الزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ان طاغوتوں کے بارے میں پوچھا گیا جن کے پاس لوگ فیصلے کے لیے جاتے تھے، تو انہوں نے فرمایا : ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا حذرکم “ سے مراد ہے تم تیاری کرلو ہتھیاروں سے (یعنی اپنا اسلحہ لے لو) ۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ ہو کر چھوٹے لشکروں کی صورت میں نکلو۔ ” او انفروا جمیعا “ یا سب اکٹھے نکلو۔
(3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فانفروا اثبات “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے دس اور جو اس سے اوپر ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…
Read the full tafseer →[ اَلَّــذِیْنَ : جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ یُـقَاتِلُوْنَ : وہ لوگ جنگ کرتے ہیں ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَالَّذِیْنَ : اور جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ یُـقَاتِلُوْنَ : وہ لوگ جنگ کرتے ہیں ] [ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ : طاغوت کی راہ میں ] [ فَقَاتِلُوْآ : پس تم لوگ جنگ کرو ] [ اَوْلِـیَــآئَ الشَّیْطٰنِ : شیطان کے کارندوں سے ] [ اِنَّ : یقینا ] [ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ : شیطان کی چالبازی ] [ کَانَ ضَعِیْفًا : کمزور (ہوتی) ہے ]
نوٹ 1 : تاریخ انسانیت شاہد ہے کہ اس دنیا میں انسانوں کی محدود بصیرت اور خواہشاتِ نفس پر مبنی جب بھی کوئی سوشل آرڈر رائج ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
قتال کے دواعی ہوتے ہوئے قتال کیوں نہیں کرتے ؟
اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا تمہیں کیا عذر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال نہ کرو۔ قتال نہ کرنے کا تو کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ قتال کرنے کا ایک بہت بڑا داعیہ موجود ہے اور وہ یہ کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں میں جو لوگ ضعیف ہیں اور اپنے ضعف کی وجہ سے ہجرت کرنے سے عاجز ہیں اور مکہ معظمہ میں گھرے ہوئے ہیں اور مشرکین کے ظلم سے تنگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ جو شرک کی وجہ سے ظلم عظیم کے مرتکب ہیں اور اہل ایمان کو بھی تکلیفیں دے رہے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ٖ 52 تیسرا حکم سلطانی (کمزور اور ضعیف مسلمانوں کو جو مکہ میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ان کو ظالم مشرکوں کے پنجہ استبداد سے چھڑاؤ) پہلے سے زیادہ واضح اور مدلل طریقہ سے مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا کہ اٹھو ہتھیار پہنو اور ان کمزور مسلمانوں کو مشرکین کے نرغے سے چھڑاؤ جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ان ظالم مشرکوں سے ہمیں نجات دے لہذا تم اٹھو اور ان کی خلاصی کے لیے جہاد کرو۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے یعنی مومن تو ہمیشہ اللہ کے دین کو سر بلند کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے جہاد کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا انحصار اطاعت ہی پر ہے۔ جن لوگوں کو اطاعت نصیب ہوجاتی ہے ، ان کے دین میں پختگی آجاتی ہے ، اجرِ عظیم کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس کے نتیجے میں اطاعت گزار لوگوں کو آخرت میں انبیائ ، اصدقا ، شہدا اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوجاتی ہے۔
معاملات کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کفر و شرک کے علمبرداروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ پھر اہل ایمان کو خصوصی خطاب فرمایا خذوا حذرکم یعنی دشمن سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرلو۔ اسلحہ جمع…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ 0ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا 76ۧ
طَّاغُوتُ
والطَّاغُوتُ عبارةٌ عن کلِّ متعدٍّ ، وكلِّ معبود من دون الله، ويستعمل في الواحد والجمع . قال تعالی: فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ [ البقرة/ 256] ، وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] ، أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ [ البقرة/ 257] ، يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] ، فعبارة عن کلّ متعدّ ، ولما تقدّم سمّي السّاحر، والکاهن، والمارد من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
2 ؎ یعنی آخرت اور رضائے الٰہی میں جان بازی کرنے والوں کو دشمنوں سے لڑنا چاہیے۔ 12 منہ
ترکیب : فلیقاتل فعل فی سبیل اللّٰہ اس سے متعلق الذین الخ فاعل ومن یقاتل شرط فسوف نؤتیہ جواب۔ وما لکم استفہام مبتداء و خبر لاتقاتلون موضع حال میں ہے والمستضعفین معطوف ہے اسم اللّٰہ پر اے وفی سبیل المستضعفین ای فی تخلیصہم من الرجال الخ ان کا بیان ہے۔ الذین یقولون جملہ صفت ہے مستضعفین کی یا منصوب باضماراعنی۔
تفسیر : مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ اور دیگر ایمانداروں پر بےحد ظلم و ستم کرنے شروع کئے۔ ایمانداروں سے خریدو فروخت بیاہ شادی بند کردی ادھر کسی ایماندار بلالو صہیب جیسے کو گرم زمین پر لٹا کر کوڑے مارے جاتے…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَـآئَ الشَّیْطٰنِ ج اِنَّ کَیْدَالشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا ع
(جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے حامیوں سے لڑو۔ بیشک شیطان کی چال انتہائی کمزور ہوتی ہے)
(النسآء : 76)
ترتیب کے لحاظ سے آخری آیت
یہ اس رکوع کی آخری آیت ہے اور ترتیبِ مضامین کے لحاظ سے اس میں آخری بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو آئے دن جنگیں لڑنی پڑتی ہیں کبھی اس قبیلے سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ اور لڑائی کا فرق بیان کیا گیا ہے۔
یہاں دو جماعتوں اور لشکروں کی محاذ آرائی اور باہمی جنگ و جدل کی وجوہات ‘ محرکات اور ان کے مشن کا فرق نمایاں کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے جنگ و جدل کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کفار طاغوت کے مشن کی بالا دستی کے لیے برسر پیکار ہوتے ہیں۔ تیسرے پارے میں وضاحت گزر چکی ہے کہ طاغوت سے مراد ہر وہ قوت جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہو یہ حکمرانوں یا سیاستدانوں کی شکل میں ہوں یا عام انسانوں کے روپ میں ‘ کفار ہوں یا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے منافق گویا اللہ اور اس کے رسول کے…
Read the full tafseer →آیت 76 : پھر مسلمانوں کو رغبت دلائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کا مددگار اور کار ساز ہے اور مسلمانوں کے دشمن شیطان کی راہ میں لڑنے والے ہیں ان کا دوست شیطان ہی ہے : اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ شیطان کے راستہ میں لڑتے ہیں) الطاغوت سے مراد شیطان ہے۔
کید شیطانی :
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں : فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآئَ الشَّیْطٰنِ (تم شیطان کے دوستوں سے لڑو) اولیاء سے مراد کفار…
Read the full tafseer →76۔ (آیت)” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ اللہ کی اطاعت میں لڑتے ہیں۔ (آیت)” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت “۔ اس سے مراد شیطان کا راستہ ہے۔ ” فقاتلوا “ اے مؤمنین کی جماعت (آیت)” اولیاء الشیطان “ کفار کی جماعت اور اس کا لشکر ان کیدالشیطان “ شیطان کا مکروفریب ” کان ضعیفا “۔ جیسا کہ بدر کے دن ملائکہ کے ذریعے کفار پر رعب ڈال دیا گیا اور اس کی رسوائی کرائی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(75 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں کی ترغیب کے علاوہ مشرکین مکہ سے دین کی لڑائی میں یہ اور طرح سے ترغیب مسلمانوں کو دلائی۔ مکہ میں کمزور لوگ عورتیں بچے ایسے بہت آدمی تھے جو حضرت کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ کو نہ آسکے اب وہ مظلوم بن کر مشرکین مکہ کے قابوں میں تھے اور مشرکین مکہ ان مظلوموں پر طرح طرح کی زیادتی کرتے تھے۔ تاکہ وہ تنگ آن کر اپنے دین سے پھرجائیں اس لئے فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم کو اس بات سے کس نے روکا ہے کہ تم نہ لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو چھوڑانے میں جو مغلوب بن کر بےبس کافروں کے قابو میں ہیں اور رات دن اسی آفت سے نجات پانے کی اللہ سے التجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ جلدی ہمارا کوئی…
Read the full tafseer →آیت 76
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اہل ایمان اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔
(والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت) ” اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں “ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ اس آیت سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(1) بندہ مومن کے ایمان، اس کے اخلاص اور اس کی اتباع رسول ﷺ کے مطابق، اس کا جہاد اللہ کے راستے میں جہاد شمار ہوتا ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے آثار، اس کے مقتضیات اور اس کے لوازم میں سے ہے۔ جیسے طاغوت کی راہ میں لڑنا کفر اور اس کے مقتضیات میں سے ہے۔
(2) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے مناب اور بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے صبر و استقلال سے کام لے جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →176 مومن کا جہاد اللہ کی رضا کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں یعنی اس لیے کہ اللہ کا دین سربلند ہو، اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو، اس کے سوا قوم و ملک، اور رنگ و نسل وغیرہ کسی بھی امتیاز کیلئے وہ نہیں لڑتے۔ سو یہ جہاد اسلامی کا وہ طرہ امتیاز ہے جو اسے پاکیزہ بنا کر دنیا بھر کی تمام جنگوں سے ممتاز کردیتا ہے، کہ اس سے مقصود و مراد اعلائے کلمتہ اللہ اور رضائے خداوندی کا حصول ہوتا ہے۔ جس سے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کی جنگ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے سر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد
تشریح : ان آیات میں مظلوم کی فریاد، پھر ان کی مدد کے لیے مسلمانوں کو صاف لفظوں میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مکہ میں پھنسے ہوئے تھے اور ایمان لانے کی وجہ سے ان پر اہل مکہ بےحد ظلم و ستم کر رہے تھے اور بےچارے مظلوم مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے کہ کسی طرح انکی مدد کی جائے اور اس بستی سے نجات دلائی جائے جہاں کے لوگوں نے ان کی زندگیاں حرام کر رکھی ہیں تو مدینہ کے مسلمانوں کو حکم ہوا کہ جہاد کرو کفار کے خلاف اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے چنگل سے آزادی دلاؤ۔ یہ حکم کہ کفر کے خلاف اسلام کی مضبوطی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
اسرار و معارف
آیات نمبر 71 تا 76:
یا ایہا الذین امنو خذوا حزرکم ۔۔۔۔۔۔ کان ضعیفا۔
اگر قریب ترین راستیہ چاہیے تو وہ بھی ہے جس میں اللہ کریم کا قرب بھی ہے اور نبی پاک ﷺ کا بہت زیادہ قرب آپ ﷺ کی بےپناہ شفقت اور پیار ہے اور وہ ہے راہ حق میں جہاد اور قتال کا راستہ کہ ایسے خوش نصیبوں کا تذکرہ ملتا ہے جو میدانِ کارزار میں ہی پہنچے ایمان لائے اور شہادت سے سرفراز ہوئے ان بڑے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کے پاس حاضری کی اجازت دے کر اللہ کریم اپنے پیارے اور جنت کے باسی لوگوں پہ احسان فرما رہا ہے لیکن یاد رہے شہادت کے لیے خودکشی جائز نہیں کہ آدمی بغیر اسباب کا اہتمام کیے یا بغیر کسی ترتیب کے خواہ مخواہ میدان…
Read the full tafseer →ف 5 جہاد کی فرضیت اور ترغیب کے بعد اس آیت میں بتایا کہ جہاد کی ظاہر صورت کا عتبار نہیں ہے بلکہ جہاد اپنے مقصد کے اعتبار سے جہاد ہے۔ مومن ہمیشہ اعلا کلمتہ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے اور کافر کسی طاغوتی طاقت کو بچانے یا مضبوط کرنے کے لیے لڑتے ہیں لہذاتم ان سے خوب لڑو شیطان خواہ اپنے دوستوں کے کتنے ہی مکر و فریب سمجھا دے مگر تمہارے خلاف و کامیابی نہیں ہوسکتی (رازی)
Read the full tafseer →(4:76) کید۔ تدبیر (خواہ اچھی ہو یا بری) چال۔ واؤ۔ کید (باب ضرب) مصدر بمعنی چال چلنا۔ تدبیر کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71-76
لغات القرآن : حذر، بچاؤ۔ انفروا، نکلو۔ ثبات، الگ الگ۔ لیبطئن، البتہ وہ دیر کرے گا۔ مودۃ، دوستی۔ یلیتنی، اے کاش کہ میں۔ افوز، میں کامیاب ہوں (کامیاب ہوجاتا ہے) ۔ یقتل، قتل کیا گیا۔ یغلب، غالب آئے گا۔ المستضعفین، کمزور، الولدان، بچے۔ اخرجنا، ہمیں نکال۔ اولیاء الشیطن، شیطان کے دوست اور ساتھی۔ کید، فریب، دھوکہ۔
تشریح : ان آیات میں قتال یعنی فوجی حکمت عملی پر بہت زور دیا گیا ہے، جنگ احد کے بعد کفار اور منافقین یہ سمجھ کر ہر طرف سے منڈ کر آنے لگے کہ مسلمان کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرماتے ہوئے مسلمانوں کو قتال کا حکم دے دیا اور یہ کہہ کر ان کی ہمت بندھائی کہ اہل طاغوت بڑے زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
منافقوں کا ذکر شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کمزور تھے تو مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ایک روز ایک جماعت صحابہ کرام نے حضور سرور عالم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے، انہوں نے ہمیں ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکٰوۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز اور زکٰوۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔ جہاد کا حکم نازل ہونے کے بعد کچے مسلمان دو طرح کی باتیں کرتے تھے : ایک تو لڑائی پر جانے میں موت کے اندیشہ سے یہ کہتے تھے کہ جہاد کا حکم تھوڑی مدت تک ٹل جاتا تو اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
[54] یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے جیسا کہ بعد کے فقرے میں '' شیطان کے حمائیتیوں سے لڑو '' واضح ہے۔
Read the full tafseer →کید شیطان :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مومن ہمیشہ طاغوت و شیطان کے خلاف صف آراء رہتا ہے اور یہ کہ ظلم وعدوان کے پاؤں نہیں ہوتے ، بڑے سے بڑا جابر وقاہر مومن کی ایمانی قوتوں کے سامنے محض ناچیز و حقیر ہے ، بشر طے کہ مومن خود اپنی عظمتوں اور صلاحیتوں سے واقف ہو یعنی مسلمان کو چاہئے کہ وہ کسی نمرود اور کسی فرعون سے مرعوب نہ ہو ، ایمان وہ قوت ہے جو فولاد ہے زیادہ مضبوط اور بارود سے زیادہ موثر ہے ۔
حل لغات :
کید : تدبیر ۔ حیلہ ۔
Read the full tafseer →ف 2 جو لوگ اہل ایمان ہیں اور ایمان لا چکے ہیں اور کامل مئومن ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کی جنگ کا مقصد اللہ کے دین کو بلند کرنا ہوتاے کیونکہ دنیا کا امن اللہ تعالیٰ ہی کے قانون سے ہوسکتا ہے اور جو لوگ اہل کفر ہیں اور کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کا مقصد کفر کا غلبہ ہوتا ہے۔
لہٰذا اے مسلمانو ! تم شیطان کے دوستوں اور شیطان کے حمایتیوں سے جہاد کرو اور سا بات کو یقین رکھو کہ شیطان کی تدبیر کمزور اور سا کا دائو اوچھا اور بودا ہوتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ایک طرف کامل اہل ایمان ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپر جہاد کا وجوب اور اس کے فضائل بیان کرکے اس کی ترغیب تھی آگے دوسرے طور پر اس کی ترغیب ہے یعنی جہاد میں بعض مسلمانوں کے مستعد نہ ہونے پر ان کی ایک لطف آمیز شکایت بھی ہے جس کی بنایہ ہوئی کہ مکہ میں کفار بہت ستاتے تھے اس وقت بعض اصحاب نے جہاد کی اجازت اصرار چاہی مگر اس وقت حکم تھا عفو وصلح کا بعد ہجرت کے جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو طبعا بعض کو دشوار ہوا اس پر شکایت فرمائی گئی اور چونکہ بطور انکار یا اعتراض علی الحکم کے نہ تھا بلکہ محض تمنا تھی اور چندے اس حکم کے نہ آنے کی اس لیے توبیخ نہیں محض لطف آمیز شکایت ہے۔
Read the full tafseer →اللہ والوں کو شیطان کے حمایتیوں کے خلاف برسرپیکار رہنا ضروری ہے :
130: آیت زیرنظر نے مسلمانوں اور کافروں کی اغراض جنگ کا قطعی فیصلہ کردیا اور یہ حقیقت واضح کردی کہ اسلام نے جنگ کا جو حکم دیا ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں پر چڑھ دوڑیں بلکہ اس لیے دیا ہے کہ مظلوموں اور بےکسوں کی حمایت کریں اور انہیں ظالموں کے پنجے سے نجات دلائیں۔ بلاشبہ جنگ دونوں طرف سے لڑی گئی لیکن ایک نے ظلم کیا اور دوسرے نے ظلم کو روکنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ کسی پر کبھی ظلم نہیں کرتے لیکن جب مظلوم ہو کر دوسروں کے ظلم کو روکتے ہیں تو پھر سر دھڑ کی بازی لگا کر پوری قوت سے روکتے ہیں تاکہ ظالم آئندہ…
Read the full tafseer →Praying to Allah is the panacea for all hardships
The words of prayer in verse 75: يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا tell us that one of the reasons why the command to fight came was the prayer made by these weak Muslim men and women. Allah Almighty responded to their prayer and commanded Muslims to wage Jihad against their oppressors and which put an end to their hardships immediately.
The objectives of war
Verse 76 says that الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ :those who believe fight in the way of Allah and those who disbelieve fight in the way of Taghut.' This clearly…
Read the full tafseer →105. This lays down a clear verdict of God. To fight in the cause of God in order that His religion be established on earth is the task of men of faith, and whoever truly believes can never shirk this duty. To fight in the cause of taghut (authority in defiance of God) in order that the world may be governed by rebels against God is the task of unbelievers in which no believer can engage himself.
106. Satan and his comrades-in-arms ostensibly undertake tremendous preparations and contrive all kinds of ingenious machinations. True men of faith, however, should not be intimidated either by such…
Read the full tafseer →