Explained with ayahs 75–76
شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بےبس لوگو جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں۔ جو محض بےبال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ، جو بےکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ) 47۔ محمد :13) بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے (یعنی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 104
اشارہ ہے ان مظلوم بچوں، عورتوں اور مردوں کی طرف جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے قبائل میں اسلام قبول کرچکے تھے مگر نہ ہجرت پر قادر تھے اور نہ اپنے آپ کو ظلم سے بچاسکتے تھے یہ غریب طرح طرح سے تختہ مشق ستم بنائے جارہے تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ کوئی انہیں اس ظلم سے بچائے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو (باوجودیکہ اس کا قوی داعی موجود ہے، کیونکہ یہ جہاد) اللہ کی راہ میں (ہوتا ہے، یعنی اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ہے جس کا اہتمام ضروری ہے) اور (اس اعلاء دین کے آثار میں سے ایک خاص اثر کی ضرورت بھی درپیش ہے، وہ یہ کہ) کمزور (ایمانداروں) کی خاطر سے (بھی لڑنا ضرور ہے تاکہ کفار کے پنجہ ستم سے رہائی پائیں) جن (بیچاروں) میں کچھ مرد ہیں اور کھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو (کفار سے تنگ و پریشان ہو کر) دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (کسی طرح) اس بستی سے (یعنی مکہ سے جو ہمارے لیے جیل خانہ بنا ہوا ہے) باہر نکال، جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں…
Read the full tafseer →وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـۢا ڌ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۔
وما لکم (تمہیں کیا ہوا ہے) کا اسلوب کسی کام پر ابھارنے اور شوق دلانے کے لیے ہے۔ مستغعف سے مراد مظلوم، مجبور اور بےبس کے ہیں۔ مستضعین کا عطف فی سبیل اللہ پر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جو لوگ دین کی وجہ سے ستائے جا رہے ہوں ان کی آزادی کے لیے جنگ، قتال فی سبیل اللہ میں سب سے اول درجہ رکھتی ہے۔ ہم…
Read the full tafseer →75۔ 1 ظالموں کی بستی سے مراد (نزول کے اعتبار سے) مکہ ہے۔ ہجرت کے بعد وہاں باقی رہ جانے والے مسلمان خاص طور پر بوڑھے مرد، عورتیں اور بچے، کافروں کے ظلم ستم سے تنگ آکر اللہ کی بارگاہ میں مدد کی دعا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ تم ان مستضعفین کو کفار سے نجات دلانے کے لئے جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ جس علاقے میں مسلمان اس طرح ظلم و ستم کا شکار اور نرغا کفار میں گھرے ہوئے ہوں تو دوسرے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کافروں سے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے جہاد کریں، یہ جہاد دوسری قسم کا ہے یعنی دین کی نشرو اشاعت اور کلمۃ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
46: مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں، خود تو جنگ میں شریک ہوتے نہیں اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 75۔
قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی…
Read the full tafseer →2 یعنی دو وجہ سے تم کو کافروں سے لڑنا ضروری ہے، ایک تو اللہ کے دین کو بلند اور غالب کرنے کی غرض سے، دوسرے جو لوگ مظلوم مسلمان کافروں کے ہاتھ میں بےبس پڑے ہیں ان کو چھڑانے اور خلاصی دینے کی وجہ سے۔ مکہ میں بہت لوگ تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے اور ان کے اقرباء ان کو ستانے لگے کہ پھر کافر ہوجائیں، سو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ تم کو دو وجہ سے کافروں سے لڑنا ضرور ہے تاکہ اللہ کا دین بلند ہو اور مسلمان جو کہ مظلوم اور کمزور ہیں کفار مکہ کے ظلم سے نجات پائیں۔
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا :
آیت 75 وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاج وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا
ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی ؟ ان پر ظلم ہو رہا ہے ‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو ؟ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی جہادوں پر بھی کردیتے ہیں جو کہ آج کل ہمارے ہاں جاری ہیں اور ان پر…
Read the full tafseer →104 ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ اس آیت میں ان کمزور مسلمانوں، بیواؤں اور بچوں کی طرف اشارہ ہے جو مکہ یا بعض قبائل میں آباد تھے۔ اسلام قبول کرچکے تھے مگر ہجرت کرنے پر قدرت نہ رکھتے تھے اور کافروں کے ظلم و تشدد برداشت کرنے پر مجبور تھے اور اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ان ظالموں سے رہائی کی کوئی صورت پیدا فرما دے یا ہمارا کوئی حامی و مددگار بھیج جو ہمیں ان ظالموں کے پنجہ سے نکال لے جائے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایسے لوگوں کے حق میں نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد دعا فرماتے کہ یا اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کو جو…
Read the full tafseer →210 ۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یہ اعلاء کلمۃ اللہ تو خود جہاد کا ایک مستقل محرک اور قوی داعی ہے۔ (آیت) ” مالکم “۔ استفہام سے مقصود ترغیب وتحریص ہے اور خطاب مومنین صادقین سے ہے۔ خطاب للمامورین بالقتال علی طریقۃ الالتفات مبالغۃ فی التحریص والحث علیہ وھو المقصود من الاستفھام (روح)
211 ۔ یہ دوسرا داعی جہاد کے لئے ارشاد ہوا۔ کمزوروں کی دستگیری ونصرت اور مظلوموں کی اعانت اور انہیں ظالم کافروں کے پنجہ سے رہائی دلانا بجائے خود مقاصد جہاد میں سے ہے۔ (آیت) ” والمستضعفین “۔ کا عطف لفظ اللہ پر ہے یعنی فی سبیل اللہ والمستضعفین۔ زجاج اور زہری سے یہی ترکیب منقول ہے۔ عطف علی اسم اللہ عزوجل ای وفی سبیل…
Read the full tafseer →وَمَالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ (الآیة) ظالموں کی بستی سے مراد ( نزول کے اعتبار سے) مکہ ہے ہجرت کے بعد وہاں باقی رہ جانے والے مسلمان خاص طور پر بوڑھے مرد عورتیں اور بچے، کافروں کے ظلم وستم سے تنگ آکر اللہ کی بارگاہ میں مدد کی دعا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو متنبہ فرمایا کہ تم ان کمزور مسلمانوں کو کفار سے نجات دلانے کیلئے جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اس سے استدعا لال کرتے ہوئے علماء نے کہا ہے کہ جس علاقہ میں مسلمان اس طرح ظلم وستم کا شکار اور نرغہ کفار میں گھرے ہوں تو دوسرے مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کو کافروں کے ظلم وستم سے بچانے کیلئے جہاد کریں، یہ جہاد کی دوسری قسم ہے پہلی قسم…
Read the full tafseer →وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ : اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو اللہ کی راہ میں اور ان کمزوروں کی خاطر جن میں کچھ (کمزور) مرد ہیں اور کچھ عورتیں اور کچھ بچے۔ استفہام انکاری ہے یعنی ترک جہاد کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ المستضعفین کا عطف لفظ اللہ پر ہے یا لفظ سبیل پر۔ مراد یہ ہے کہ (مکہ میں) جو کمزور مسلمان رہ گئے ہیں ان کو مشرکوں کے پنجے سے رہا کرانے کے لئے جہاد نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ المستضعفین کا نصب اختصاص کی وجہ سے ہو یوں تو سبیل اللہ کا لفظ ہر خیر اور نیکی کو شامل ہے…
Read the full tafseer →(75) اب جہاد فی سبیل اللہ سے ان لوگوں کے اعراض کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں کہ اطاعت خداوندی میں کفار مکہ کے ساتھ کیوں جہاد نہیں کرتے، مکہ مکرمہ میں کمزور لوگ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ مکہ والے مشرک و ظالم ہیں اے اللہ ! یہاں سے ہمیں باہر نکال دے اور ہمارے لیے غیب سے کوئی مددگار اور کوئی حامی بھیج دے چناچہ اللہ تعالیٰ نیان کی دعا قبول کی اور رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے عتاب بن اسید ؓ کو معین ومحافظ بنا دیا ،
Read the full tafseer →اس آیت کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے، یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہارے لیے کفار سے لڑنا ضروری ہے، اول : اعلائے کلمۃ اللہ، یعنی اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے، دوم ان مظلوم مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑے ہیں۔ (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے لوگ ایسے رہ گئے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے اقارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے، تاکہ انھیں اسلام سے پھیر کر پھر کافر بنالیں۔ پس ”الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ“ سے مراد مکہ ہے اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کو ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میری…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 75۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ “۔ یہ جہاد پر برانگیختہ کرنا ہے یہ اپنے ضمن میں اس بات کو لیے ہوئے ہے کہ کمزور لوگوں کو ان مشرکوں کے ہاتھوں سے آزاد کرانا ہے جو ان کمزور لوگوں کو سزا دیتے ہیں اور انہیں دین کے سلسلہ میں فتنہ میں ڈالتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ اور کمزور مومنین کو نجات دلانے کے لیے جہاد کو واجب فرمایا اگرچہ اس میں نفوس کا تلف بھی ہو، اور قیدیوں کا چھڑانا مسلمانوں کی جماعت پر واجب ہے، خواہ وہ جہاد سے ہو یا اموال خرچ کرنے کے ساتھ ہو، اور یہ ضروری ہے، کیونکہ یہ نفس سے کم درجہ رکھتے ہیں، امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا حذرکم “ سے مراد ہے تم تیاری کرلو ہتھیاروں سے (یعنی اپنا اسلحہ لے لو) ۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ ہو کر چھوٹے لشکروں کی صورت میں نکلو۔ ” او انفروا جمیعا “ یا سب اکٹھے نکلو۔
(3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فانفروا اثبات “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے دس اور جو اس سے اوپر ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…
Read the full tafseer →[ وَمَا لَــکُمْ : تمہیں کیا ہے ] [ لاَ تُـقَاتِلُوْنَ : (کہ) تم لوگ جنگ نہیں کرتے ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ : اور کمزور کیے ہوئے لوگوں کے لیے ] [ مِنَ الرِّجَالِ : مردوں میں سے ] [ وَالنِّسَآئِ : اور عورتوں میں سے ] [ وَالْوِلْدَانِ : اور بچوں میں سے ] [ الَّذِیْنَ : جو لوگ ] [ یَـقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [ رَبَّــنَــآ : اے ہمارے ربّ ] [ اَخْرِجْنَا : تو نکال ہم کو ] [ مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ : اس بستی سے ] [ الظَّالِمِ : ظالم ہیں ] [ اَہْلُہَا : جس کے لوگ ] [ وَاجْعَلْ : اور تو بنا ] [ لَّــنَا : ہمارے لیے ] [ مِنْ لَّـدُنْکَ : اپنے پاس سے ] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
قتال کے دواعی ہوتے ہوئے قتال کیوں نہیں کرتے ؟
اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا تمہیں کیا عذر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال نہ کرو۔ قتال نہ کرنے کا تو کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ قتال کرنے کا ایک بہت بڑا داعیہ موجود ہے اور وہ یہ کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں میں جو لوگ ضعیف ہیں اور اپنے ضعف کی وجہ سے ہجرت کرنے سے عاجز ہیں اور مکہ معظمہ میں گھرے ہوئے ہیں اور مشرکین کے ظلم سے تنگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ جو شرک کی وجہ سے ظلم عظیم کے مرتکب ہیں اور اہل ایمان کو بھی تکلیفیں دے رہے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ٖ 52 تیسرا حکم سلطانی (کمزور اور ضعیف مسلمانوں کو جو مکہ میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ان کو ظالم مشرکوں کے پنجہ استبداد سے چھڑاؤ) پہلے سے زیادہ واضح اور مدلل طریقہ سے مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا کہ اٹھو ہتھیار پہنو اور ان کمزور مسلمانوں کو مشرکین کے نرغے سے چھڑاؤ جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ان ظالم مشرکوں سے ہمیں نجات دے لہذا تم اٹھو اور ان کی خلاصی کے لیے جہاد کرو۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے یعنی مومن تو ہمیشہ اللہ کے دین کو سر بلند کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے جہاد کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا انحصار اطاعت ہی پر ہے۔ جن لوگوں کو اطاعت نصیب ہوجاتی ہے ، ان کے دین میں پختگی آجاتی ہے ، اجرِ عظیم کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس کے نتیجے میں اطاعت گزار لوگوں کو آخرت میں انبیائ ، اصدقا ، شہدا اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوجاتی ہے۔
معاملات کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کفر و شرک کے علمبرداروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ پھر اہل ایمان کو خصوصی خطاب فرمایا خذوا حذرکم یعنی دشمن سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرلو۔ اسلحہ جمع…
Read the full tafseer →وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا 0ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا 0ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا 75ۭ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
2 ؎ یعنی آخرت اور رضائے الٰہی میں جان بازی کرنے والوں کو دشمنوں سے لڑنا چاہیے۔ 12 منہ
ترکیب : فلیقاتل فعل فی سبیل اللّٰہ اس سے متعلق الذین الخ فاعل ومن یقاتل شرط فسوف نؤتیہ جواب۔ وما لکم استفہام مبتداء و خبر لاتقاتلون موضع حال میں ہے والمستضعفین معطوف ہے اسم اللّٰہ پر اے وفی سبیل المستضعفین ای فی تخلیصہم من الرجال الخ ان کا بیان ہے۔ الذین یقولون جملہ صفت ہے مستضعفین کی یا منصوب باضماراعنی۔
تفسیر : مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ اور دیگر ایمانداروں پر بےحد ظلم و ستم کرنے شروع کئے۔ ایمانداروں سے خریدو فروخت بیاہ شادی بند کردی ادھر کسی ایماندار بلالو صہیب جیسے کو گرم زمین پر لٹا کر کوڑے مارے جاتے…
Read the full tafseer →وَمَا لَـکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْـکَ وَلِیًّا ج لا وَّاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْـکَ نَصِیْرًا ط
(اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ کئی بےبس مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بھی ہیں جو ( ظلم سے تنگ آ کر) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ! نکال ہمیں اس بستی سے ظالم ہیں جس کے رہنے والے اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی دوست اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد کے متعلق خطاب جاری ہے اور اس میں مظلوم کی مدد کرنا لازم قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے وطن اور گھر کی محبت انسان ہی نہیں درندوں اور پرندوں کے دل میں بھی پیدا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درندے اپنی غار کی اور پرندے اپنے گھونسلے کے ایک ایک تنکے کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر جاندار شام کو اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتا ہے۔ کوئی جاندار اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب کسی کو اس قدر ستایا جائے کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑجائیں تو وہ ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت انسان کی ہے جب مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم توڑے گئے کہ ظالم اور سفاک لوگوں نے…
Read the full tafseer →آیت 75 : وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ (اور تمہارے پاس کیا عذر ہے۔ کہ تم جہاد نہ کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں حالانکہ کمزور) ۔
نحو : ما مبتداء لکم خبر ہے۔ یہ استفہام نفی میں سستی پر متنبہ کرنے کے لئے اور اثبات میں انکار کے لئے ہے۔ لَاتقاتلونیہ حال ہے۔ اور اس میں عامل استقرار ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا محاورے میں کہتے ہیں مالک قائمًا۔ تو کیوں کھڑا ہے ؟ اب مطلب یہ ہوا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم قتال چھوڑنے والے ہو حالانکہ اس کے دواعی موجود ہیں۔
مستضعفین کون لوگ ہیں ؟
المستضعفین یہ حالت جری میں ہے کیونکہ سبیل اللّٰہپر اس کا عطف ہے۔ یعنی فی سبیل اللہ وفی خلاص…
Read the full tafseer →(تفسیر) 75۔:
(آیت)” ومالکم لا تقاتلون “ کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے (آیت)” فی سبیل اللہ “ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اللہ ان کو جہاد کے ترک کرنے سے عتاب کر رہے ہیں ، ” والمستضعفین “۔ ضعیف لوگ ، ابن شہاب کا قول ہے کہ ان کی خلاصی کے لیے کمزور لوگوں پر جہاد فرض نہیں یا اس سے مراد بعض نے کہا کہ مشرکین سے مجاہدین جو ضعیف و کمزور ہیں ان کی خلاصی کے لیے جہاد نہیں کرتے اور وہ کچھ مسلمان مکہ میں محبوس تھے ۔ (آیت)” من الرجال والنساء والولدان “۔ مشرکین کی طرف سے اذیت پہنچی ہے بہت ساروں کو ” الذین “ جو پکارتے ہیں ۔ (آیت)” یقولون ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا “۔ قریۃ سے مراد مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(75 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں کی ترغیب کے علاوہ مشرکین مکہ سے دین کی لڑائی میں یہ اور طرح سے ترغیب مسلمانوں کو دلائی۔ مکہ میں کمزور لوگ عورتیں بچے ایسے بہت آدمی تھے جو حضرت کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ کو نہ آسکے اب وہ مظلوم بن کر مشرکین مکہ کے قابوں میں تھے اور مشرکین مکہ ان مظلوموں پر طرح طرح کی زیادتی کرتے تھے۔ تاکہ وہ تنگ آن کر اپنے دین سے پھرجائیں اس لئے فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم کو اس بات سے کس نے روکا ہے کہ تم نہ لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو چھوڑانے میں جو مغلوب بن کر بےبس کافروں کے قابو میں ہیں اور رات دن اسی آفت سے نجات پانے کی اللہ سے التجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ جلدی ہمارا کوئی…
Read the full tafseer →آیت 75
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لئے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کردیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لئے بہت بڑی ملامت کا باعث ہوگا۔ (وما لکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ) ” تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں ؟ “ اور حال یہ ہے کہ مستصعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں ماگنتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
جنگ کی تیاری ہر وقت ضروری ہے
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنواخذور حذرکم فانفروا ثبات او انفرو جمیعا) اے ایمان والو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلوایا اکٹھے ہوکر) ایک قول ہے کہ ثبات کے معنی جماعتوں کے ہیں، اس کا واحد ثبۃ ہے، ایک قول ہے ثبۃ اس ٹولی یادستے کو کہتے ہیں جو دوسری ٹولیوں اور دستوں سے الگ تھلگ ہو، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستوں کی شکل میں اس طرح نکلیں کہ ایک دستہ ایک سمت روانہ ہوجائے اور دوسرا دستہ دوسری سمت یا سب مل کر ایک ساتھ نکل پڑیں۔
حضرت ابن عباس ، مجاہد، ضحاک اور قتادہ سے یہی روایت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
170 اصل چیز آخرت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جنہوں نے بیچ دیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں۔ اور دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں کو انہوں نے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا کہ ان کے سامنے اصل مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، اور آخرت کی حقیقی اور دائمی فلاح سے سرفرازی ہے۔ اور یہی ہیں سچے ایماندار اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے خوش نصیب لوگ ۔ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ وَکَثَََّرَ سَوَادَھُمْ ۔ سو اصل اور حقیقی چیز جسکو مقصد حیات بنانا چاہیئے وہ ہے آخرت۔ اور جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی جو کہ عمدہ بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی { وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد
تشریح : ان آیات میں مظلوم کی فریاد، پھر ان کی مدد کے لیے مسلمانوں کو صاف لفظوں میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مکہ میں پھنسے ہوئے تھے اور ایمان لانے کی وجہ سے ان پر اہل مکہ بےحد ظلم و ستم کر رہے تھے اور بےچارے مظلوم مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے تھے کہ کسی طرح انکی مدد کی جائے اور اس بستی سے نجات دلائی جائے جہاں کے لوگوں نے ان کی زندگیاں حرام کر رکھی ہیں تو مدینہ کے مسلمانوں کو حکم ہوا کہ جہاد کرو کفار کے خلاف اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے چنگل سے آزادی دلاؤ۔ یہ حکم کہ کفر کے خلاف اسلام کی مضبوطی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
اسرار و معارف
آیات نمبر 71 تا 76:
یا ایہا الذین امنو خذوا حزرکم ۔۔۔۔۔۔ کان ضعیفا۔
اگر قریب ترین راستیہ چاہیے تو وہ بھی ہے جس میں اللہ کریم کا قرب بھی ہے اور نبی پاک ﷺ کا بہت زیادہ قرب آپ ﷺ کی بےپناہ شفقت اور پیار ہے اور وہ ہے راہ حق میں جہاد اور قتال کا راستہ کہ ایسے خوش نصیبوں کا تذکرہ ملتا ہے جو میدانِ کارزار میں ہی پہنچے ایمان لائے اور شہادت سے سرفراز ہوئے ان بڑے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کے پاس حاضری کی اجازت دے کر اللہ کریم اپنے پیارے اور جنت کے باسی لوگوں پہ احسان فرما رہا ہے لیکن یاد رہے شہادت کے لیے خودکشی جائز نہیں کہ آدمی بغیر اسباب کا اہتمام کیے یا بغیر کسی ترتیب کے خواہ مخواہ میدان…
Read the full tafseer →ف 4 اس کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہیں کفار سے لڑنا ضروری ہے اول اعلائے کلمتہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے دوم ان مظلوم مسلمانوں کے نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑئے ہیں (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے ایسے لوگ رہ گئے تھے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے تعارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے نانہ اسلام سے پھیر کر ان کو پھر سے کافر بنالیں پس القریتہ الظالم اھلھا سے مکہ مراد ہے۔ اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کی ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میر والدہ بھی ان بےبس…
Read the full tafseer →(4:75) مالکم کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ کیا وجہ ہے۔ یہ استفہام تحریض علی الجہاد کے لئے ہے یعنی جہاد میں برانگیختہ کرنے کے لئے ہے۔
والمستضعفین۔ اسم مفعول جمع مذکر (باب استفعال) سبیل اللہ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ یعنی کہ تم جنگ کیوں نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور بےبس مرد۔ عورتوں اور بچوں (کی خلاصی) کے لئے۔ یہاں بےبس مرد، عورتیں اور بچوں سے مراد ہیں وہ جو مکہ میں مسلمان ہوئے اور مشرکین نے ان کو ہجرت سے روکے رکھا۔ اور ان پر طرح طرح کی اذیتیں اور سختیاں کیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71-76
لغات القرآن : حذر، بچاؤ۔ انفروا، نکلو۔ ثبات، الگ الگ۔ لیبطئن، البتہ وہ دیر کرے گا۔ مودۃ، دوستی۔ یلیتنی، اے کاش کہ میں۔ افوز، میں کامیاب ہوں (کامیاب ہوجاتا ہے) ۔ یقتل، قتل کیا گیا۔ یغلب، غالب آئے گا۔ المستضعفین، کمزور، الولدان، بچے۔ اخرجنا، ہمیں نکال۔ اولیاء الشیطن، شیطان کے دوست اور ساتھی۔ کید، فریب، دھوکہ۔
تشریح : ان آیات میں قتال یعنی فوجی حکمت عملی پر بہت زور دیا گیا ہے، جنگ احد کے بعد کفار اور منافقین یہ سمجھ کر ہر طرف سے منڈ کر آنے لگے کہ مسلمان کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرماتے ہوئے مسلمانوں کو قتال کا حکم دے دیا اور یہ کہہ کر ان کی ہمت بندھائی کہ اہل طاغوت بڑے زور…
Read the full tafseer →ان آیتوں میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجہ ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکہ مکرمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے، اور ان کی عوتوں اور بچوں پر بھی بےرحمانہ مظالم کرتے تھے۔ اور وہ لوگ ان کے ہاتھ میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی خلاصی اور مددالٰہی کی دعائیں کرتے تھے، یہ دعائیں قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ان کا ولی اور ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکہ مکرمہ فتح کرکے ان کی زبردست مدد فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کی کسی طرح کی سختی رفع کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے…
Read the full tafseer →[53] مکہ میں کچھ ایسے مسلمان رہ گئے تھے جو اپنے ضعف جسمانی و کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور نہ اپنے آپ کو کفار کے ظلم سے بچا سکتے تھے۔ اس آیت میں انہی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →نفیر عام :
(ف 2) ہجرت کے بعد بعض لوگ مکہ میں ایسے رہ گئے جو نہ ہجرت پر قادر تھے نہ جہاد پر مکہ والے انہیں مجبور کرتے کہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں ، ان کا ایمان انہیں ہر ابتلاء وآزمائش کو برداشت کرلینے کی تلقین کرتا ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو اعلان عام کے ذریعہ سے جہاد پر آمادہ کیا ہے کہ ان کمزور وناتواں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہوجائیں ، اس لئے کہ مسلمان ” مظلوم و ضعیف “ ہو کر دنیا میں نہیں رہ سکتا ، وہ ضعف وظلم کے خلاف اعلان جنگ ہے ، اس کا ذرہ ذرہ بغاوت وانقلاب میں سمویا ہوا ہے ، اس کی رگوں میں خون کی جگہ آزادی وخلافت کی بجلیاں دوڑ رہی ہیں ، ناممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کو کمزور ومضحل دیکھے…
Read the full tafseer →ف 1 اور اے مسلمانو ! آخر تم کو کیا عذر ہے کہ تم خدا کی راہ میں اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے کمزور و بےبس مسلمانوں کی خاطر جہاد نہ کرو جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں اور وہ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر یوں دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے کسی طرح نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے کوئی حمایت سرپرست اور والی پیدا کر دے اور اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج دے جو ان ظالموں کے مقابلے میں ہماری مدد کرے اور ہم کو پنجہ ستم سے رستگاری دلائے۔ (تیسیر)
قریۃ سے مراد یہاں مکہ معظمہ ہے مستضعفین سے مراد وہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے کہ اپنے ضعف وکم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے پھر کافروں نے بھی نہ جانے دیا اور طرح طرح سے ان کو ستاتے تھے چناچہ احادیث وتفاسیر میں بعضون کے نام بھی آئے ہیں آخر اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور بعضوں کی رہائی کا تو پہلے ہی سامان ہوگیا اور پھر مکہ معظمہ فتح ہوگیا جس سے سب کو امن اور اعزاز حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ نے ان پر حضرت عتاب بن اسید کو عامل وحاکم مقرر فرمایا پس ولی ونصیر کا مصداق خواہ رسول اللہ کو کہا جائے اور یہی اچھا معلوم ہوتا ہے اور یا حضرت عتاب کو کہا جائے کہ انہوں نے اپنے زمانہ حکومت میں سب کو خوب آرام پہنچایا۔
Read the full tafseer →جو لوگ دین کے لیے ستائے جا رہے ہوں ان کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض اول ہے :
129: نبی اعظم و آخر ﷺ کی ہجرت کے بعد مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے جو جسمانی ضعف اور کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور یہ بھی کہ روسائے مکہ ان کو ہجرت کرنے سے باز رکھے ہوئے تھے اور اس طرح طرح کی اذتییں ان کو دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی موجودگی میں ان کے لیے مکہ والوں کے مظالم برداشت کرنا آسان تھا کیوں ؟ اس لیے کہ اپنی تکلیف کے بعد جب ان کی آنکھیں اپنے محبوب کو دیکھ لیتی تھیں تو ان کے سارے غم اور دکھ دور ہوجاتے تھے لیکن آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد ان بےچاروں پر دوسرا عذاب شروع ہوگیا کفار کی مار اور دل آزاری اور…
Read the full tafseer →Commentary
Answering the call of the oppressed
Left behind in Makkah were Muslims who were unable to migrate because of physical weakness and insufficiency of resources. Later on, the disbelievers themselves stopped them from going and started hurting and harassing them in all sorts of ways so that they turn away from their faith in Islam. The names of some of these are preserved in exegetic works, for example, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and his mother, Sulyma ibn Hisham, Walid ibn Walid and Abu Jandal ibn Sahl, may Allah be pleased with them all (Qurtubi). These blessed people kept facing…
Read the full tafseer →104. This refers to those wronged, persecuted men, women and children of Makka and of the other tribes in Arabia who had embraced Islam, but were able neither to emigrate nor to protect themselves from the wrongs to which they were subjected. These helpless people suffered many forms of persecution, and prayed for deliverance from oppression.
Read the full tafseer →