An-Nisaa 4:74

An-Nisaa · from ayah 74

4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ ؕ— وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا ۟فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So let those fight in the cause of Allah who sell the life of this world for the Hereafter. And he who fights in the cause of Allah and is killed or achieves victory - We will bestow upon him a great reward.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 10 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:74

(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کر دیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آجائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا ﺛواب عنایت فرمائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہوجائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ان (مؤمنوں) کو اللہ کی راہ میں (دین کی سربلندی کے لئے) لڑنا چاہئے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو بیچ دیتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ (خود) قتل ہو جائے یا غالب آجائے توہم (دونوں صورتوں میں) عنقریب اسے عظیم اجر عطا فرمائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس لازم ہے کہ اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچتے ہیں اور جو شخص اللہ کے راستے میں لڑے، پھر قتل کردیا جائے، یا غالب آجائے تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا جن لوگوں نے آخرت کے عوض دنیا کی زندگی کو بیچ دیا ہے، انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہے پھر خواہ وہ شہید ہوجائے یا غالب آجائے۔ جلد ہی (دونوں صورتوں میں) ہم اسے بہت بڑا اجر عطا کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے وہ لوگ اٹھیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے لیے تج چکے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا تو خواہ مارا جائے یا غالب ہو ہم اس کو اجر عظیم دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جنہوں نے بیچ دیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں، اور (اس میں نفع ہی نفع ہے کہ) جو کوئی لڑے گا اللہ کی راہ میں، پھر وہ مارا جائے یا غالب آجائے تو (بہر صورت) ہم اسے نوازیں گے بہت بڑے اجر سے،

— مولانا اسحاق مدنی

تو (اگر یہ ہے تو) اسے چاہیے کہ اللہ کی راہ میں لڑے۔ A ان لوگوں سے جو دنیا کی زندگی خریدے ہوئے ہیں آخرت کے عوض میں۔ اور جو کوئی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو مارا جائے یا جیت جائے (بہرصورت) ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

) پس اللہ کی راہ میں قتال کرنا چاہیے ان لوگوں کو جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں قتال کرے گا تو خواہ وہ مارا جائے یا غالب ہو ہم اسے (دونوں حالتوں میں) بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Let those who seek the life of the Next World in exchange for the life of this world fight in the way of Allah. We shall grant a mighty reward to whoever fights in the way of Allah, whether he is slain or comes out victorious.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, those who sell the worldly life for the Hereafter should fight in the way of Allah. Whoever fights in the way of Allah, then gets killed or prevails, We shall give a great reward to him.

— Muhammad Taqi Usmani

So, those who sell the worldly life for the Hereafter should fight in the way of Allah. Whoever fights in the way of Allah, then gets killed or prevails, We shall give a great reward to him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So fight those who trade the life of this world with the Hereafter, in the cause of Allah, and whoever fights in the cause of Allah, and is killed or gets victory, We shall bestow on him a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Let those fight in the way of Allah who sell the life of this world for the other. Whoso fighteth in the way of Allah, be he slain or be he victorious, on him We shall bestow a vast reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So let those fight in the cause of Allah who sell the life of this world for the Hereafter. And he who fights in the cause of Allah and is killed or achieves victory - We will bestow upon him a great reward.

— Saheeh International

Those who want to buy the life hereafter with this life should fight for the cause of God. We will give them a great reward whether they are killed or whether they are victorious.

— Muhammad Sarwar

Therefore let those fight in the way of Allah, who sell this world's life for the hereafter; and whoever fights in the way of Allah, then be he slain or be he victorious, We shall grant him a mighty reward.

— Muhammad Habib Shakir

Let them wherefore fight in the way of Allah those who have purchased the life of this world for the Hereafter: And whosoever fighteth in the way of Allah, and is then slain or overcometh, We shall vouchsafe unto him a mighty hire.

— Abdul Majid Daryabadi

Let those fight in the cause of Allah Who sell the life of this world for the hereafter. To him who fighteth in the cause of Allah,- whether he is slain or gets victory - Soon shall We give him a reward of great (value).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–74

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہوجائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لئے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں، جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 103 یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا دنیا طلب لوگوں کا کام ہے ہی نہیں۔ یہ تو ایسے لوگوں کا کام ہے جن کے پیش نظر صرف اللہ کی خوشنودی ہو، جو اللہ اور آخرت پر کامل اعتماد رکھتے ہوں، اور دنیا میں اپنی کامیابی و خوشحالی کے سارے امکانات اور اپنے ہر قسم کے دنیوی مفاد اس امید پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں کہ ان کا رب ان سے راضی ہوگا اور اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں بہرحال ان کی قربانیاں ضائع نہ ہوں گی۔ رہے وہ لوگ جن کی نگاہ میں اصل اہمیت اپنے دنیوی مفاد ہی کی ہو، تو درحقیقت یہ راستہ ان کے لیے نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 72–74

2۔ وان منکم الخ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی خطاب مؤمنین سے ہے، حالانکہ آگے جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ مؤمنین کی نہیں ہو سکتیں، اس لئے علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد منافقین ہیں، وہ چونکہ ظاہراً مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اس لئے خطاب میں ان کو مؤمنین کی ایک جماعت کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ ۭوَمَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ الذین، یہاں مفعول کے محل میں نہیں بلکہ فاعل کی حیثیت میں ہے اور شری یشری یہاں بیچنے کے معنی میں ہے۔ سورة یوسف میں ہے وشروہ بثمن بخس دراہم معدودہ (اور انہوں نے یوسف کو نہایت حقیر قیمت پر بیچ دیا، گنتی کے چند درہموں پر، اور وہ اس کی قدر سے نا آشنا تھے)۔ دنیا کی زندگی کو آخرت سے ییچتے ہیں یعنی دنیا کی زندگی پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین تو صرف اس جنگ کے غازی بننا چاہتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

74۔ 1 شَرَیٰ یشٰریٰ ، کے معنی بیچنے کے بھی آتے ہیں اور خریدنے کے بھی۔ متن میں پہلا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے اس اعتبار سے (فلیقاتل) کا فاعل (الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) 4:74 اگر اس کے معنی خریدنے کے کئے جائیں تو اس صورت میں الذین مفعول بنے گا اور فلیقاتل کا فاعل المومن النافر (راہ جہاد میں کوچ کرنے والے مومن) محذوف ہوگا۔ مومن ان لوگوں سے لڑیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی۔ یعنی جنہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مال کی خاطر اپنے دین کو فروخت کردیا۔ مراد منافقین اور کافرین ہونگے (ابن کثیر نے یہی مفہوم بیان کیا ہے)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–76

46: مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں، خود تو جنگ میں شریک ہوتے نہیں اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدینا بالاخرۃ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74) (ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ راہ میں لڑنا چاہئے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “ اس لئے مومنین کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے ‘ اسلام ماسوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کی جائے ‘ کسی اور جنگ کا قائم ہی نہیں ہے ۔ اس لئے جنگ نہ کی جائے کہ مصنوعات کے لئے خام مال فراہم کیا جائے ‘ نہ اسلام غنیمت کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ اقتدار کے حصول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر منافق لوگ جہاد سے رکیں تو رکیں اور اپنے نشیب و فراز دنیاوی کو تکتے رہیں تو تکتے رہیں مگر جو لوگ کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر لات مار چکے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ کی راہ میں بےتامل لڑیں اور دنیا کی زندگی اور اس کے مال و دولت پر نظر نہ رکھیں اور سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور حکم برداری میں ہر طرح نفع ہے غالب ہوں یا مغلوب مال ملے یا نہ ملے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 74 فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بالْاٰخِرَۃِط۔ جو لوگ یہ طے کرچکے ہوں کہ ہم نے دنیا کی زندگی کے بدلے میں آخرت قبول کی ‘ ان کے لیے تو قتال فی سبیل اللہ میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انہوں نے واقعی یہ سودا اللہ سے کیا ہے تو پھر انہیں اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا چاہیے۔ وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ اللہ کی راہ میں قتال کرنے والے کے لیے دو ہی امکانات ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ قتل ہو کر مرتبہ شہادت پر فائز ہوجائے اور دوسرے یہ کہ وہ دشمن پر غالب رہے اور فتح مند ہو کر واپس آئے۔ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 اس آیت میں مسلمانوں کو محض اللہ کی رضا اور اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمان خواہ لڑائی میں شہید ہوجائے یا بچ کر گھر واپس آجائے اسے دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کوئی شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے، کوئی شہرت اور ناموری کے لیے اور کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے اور کوئی غصے اور قومی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے۔ ان میں سے کون اللہ کی راہ میں لڑتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں لڑنے والا صرف وہ ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

207 ۔ (اخلاص کامل اور اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے) (آیت) ’ فلیقاتل “۔ میںکے معنی ہیں کہ اگر واقعی اسے فوز عظیم ہی منظور ہے۔ 208 ۔ یعنی کافروں سے قتال کرے جو دین کی صحیح تعلیم کو بھلائے ہوئے ہیں اور آخرت کے منکر ہیں۔ (آیت) ” یشرون “۔ شراء لغات اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنی خریدنے کے بھی ہیں اور فروخت کرنے کے بھی۔ کچھ اس بنا پر اور کچھ آیت کی ترکیب الفاظ کی بنا پر، آیت کے ایک بالکل دوسرے معنی بھی کئے جاسکتے ہیں اور کئے گئے ہیں۔ یعنی ” وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے عوض میں فروخت کرچکے ہیں۔ “ اور اس صورت میں آیت کا تعلق تمام تر مومنین مخلصین سے ہوگا جو اپنی ہر دنیوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–74

وَلَئِنَ اَصَابَکم فضل الخ اس آیت میں منافقین کے قلبی اضطراب کا ذکر ہے، یعنی اگر مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آجائے منافق کہتے ہیں کہ مجھ پر خدا کا احسان و انعام ہے کہ میں ان کے ساتھ بروقت موجود نہ تھا ورنہ میں بھی مارا جاتا، اور میرا بھی وہی حال ہوتا جو ان کا ہوا، یہ ایک بدترین جذبہ ہے کہ ایک انسان خود کو ایک جماعت کا فرد بھی تسلیم کرے اور اس پر مصیبت پڑے تو اپنی سلامتی پر یوں خوش بھی ہو۔ اور اگر مسلمانوں کو اللہ کا فضل یعنی مال غنیمت حاصل ہو تو حسرت وپشیمانی کا اظہار کرے کہ معلوم ہو کہ مال و دولت ہی سب کچھ ہے اور اسی کی خاطر ربط وتعلق ہے اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں مصیبت سے دامن بچانا اور دولت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلیقاتل فی سبیل اللہ پھر اللہ کی راہ میں لڑیں۔ اس کا عطف خُذُوْاحِذْرَکُمْپر ہے یعنی اپنے بچاؤ کے لئے ہتھیار وغیرہ لے لو پھر اللہ کی راہ میں لڑو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فاء کو جزائیہ قرار دیا جائے یعنی منافق اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو ہٹیں اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے۔ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی فروخت کرتے ہیں یعنی وہ مخلص جو آخرت کی طلب میں اپنی جانیں دیتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یشترونکا معنی ہے یشترو ن . اس وقت منافق مراد ہوں گے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو پسند کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ خلوص کے ساتھ ایمان لائیں۔ نفاق کو چھوڑ دیں اور اللہ کی راہ میں جہاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 73–74

(73۔ 74) اور اگر تمہیں کہیں فتح وغنیمت مل جاتی ہے تو ابن ابی منافق مال کے فوت ہونے پر افسوس کرکے کہتا تھا کہ میں ساتھ ہوتا تو مجھے بہت مال وغنیمت مل جاتی، اگر اسے غنیمت وغیرہ کی چیز کا شوق ہے تو اطاعت خداوندی میں ان لوگوں یعنی مومنین مخلصین سے جنہوں نے اس کو آخرت کے عوض خرید رکھا ہے مل کر جہاد کرے، نیز یہ معنی بیان کیے گئے ہیں اس آیت میں مومنین ہی کو کفار سے جہاد کرنے کی مزید تاکید کی گئی ہے، چناچہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ایسے حضرات کے ثواب کو بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے یا وہ غالب آجائے دونوں صورتوں میں ہم جنت میں اسے اجر عظیم دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ۔۔ : اوپر کی دو آیتوں میں جہاد سے پیچھے رہنے والوں اور دوسروں کو روکنے والوں، یعنی ”مُبَطِّئِیْنَ“ کی مذمت کے بعد اب مخلصین کو ترغیب دی جا رہی ہے۔ (رازی) ”شَرَیٰ یَشْرِیْ“ کے معنی بیچنا اور خریدنا دونوں آتے ہیں، یہاں ترجمہ بیچنے کا کیا گیا ہے اور اکثر مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے، لیکن اگر اسے خریدنے کے معنی میں لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو منافق گھر میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے آخرت کے بدلے دنیا خرید رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور آخرت کا نقصان کر کے دنیا حاصل نہ کریں۔ (فتح القدیر۔ طبری) فَسَوْفَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 74۔ اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ “ یہ مومنین کو خطاب ہے یعنی اللہ کے راستہ میں لڑیں کفار سے (آیت) ” الذین یشرون “۔ جنہوں نے بیچ دیں اپنی جانیں اور اپنے اموال اللہ کے لیے (آیت) ” بالاخرۃ “ یعنی آخرت کے ثواب کے بدلے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ “ یہ شرط ہے ” فیقتل او یغلب “۔ اس پر معطوف ہے اور جزا (آیت) ” فسوف نؤتیہ اجرا عظیما “ ہے، فیقتل کا معنی ہے جو شہید ہوگا یا کامیاب ہوگا اور مال غنیمت لے گا، ایک جماع نے من یقاتل اور فلیقاتل (لام امر کے سکون کے ساتھ) پڑھا ہے، ایک جماعت نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 71–76

(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا حذرکم “ سے مراد ہے تم تیاری کرلو ہتھیاروں سے (یعنی اپنا اسلحہ لے لو) ۔ (2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ ہو کر چھوٹے لشکروں کی صورت میں نکلو۔ ” او انفروا جمیعا “ یا سب اکٹھے نکلو۔ (3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فانفروا اثبات “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے دس اور جو اس سے اوپر ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلْیُقَاتِلْ : پس چاہیے کہ جنگ کریں ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [ یَشْرُوْنَ : بیچ دیا ] [ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا : دنیا کی زندگی کو ] [ بِالْاٰخِرَۃِ : آخرت کے بدلے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّـقَاتِلْ : جنگ کرے گا ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ فَـیُـقْتَلْ : پھر وہ قتل کیا گیا ] [ اَوْ : یا ] [ یَغْلِبْ : غالب آیا ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ نُــؤْتِیْہِ : ہم دیں گے اس کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بالْاٰخِرَۃِ ) یعنی جو لوگ طالب دنیا ہیں اپنی دنیا بنانے کے لیے آخرت کو چھوڑ رہے ہیں اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں یہ لوگ بھی مسلمانوں کی طرح سے اللہ کی راہ میں جنگ لڑیں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے گھروں سے نکلیں کفر کو دبائیں اور کافروں کو شکست دیں۔ ھذا اذا کان شری بعمنی اشتری یعنی الذین یختارون الدنیا علی الاخرۃ و جاز ان یکون بمعنی یبیعون فیکون المراد من الموصول المومنون ویکون المعنی ان صدھم المنافقون فلیقاتلوا فی سبیل اللہ ولا یبالوا بالمبافقین الذین یصدونھم جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–84

حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔ ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51 یہ ترغیب الی القتال ہے۔ یَشْرُوْنَ شری سے ہے جو اضداد میں سے ہے اور خریدنے اور بیچنے دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ یہاں یشرون بمعنی یبیعون ہے یعنی وہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب مومنوں نے اپنی زندگی کا مقصد یہ قرار دیا ہے کہ وہ ہر معاملے میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دیں گے تو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہئے۔ اور انہیں میدان قتال میں ثابت قدم رہنا اور منافقوں کی بد دل کرنے والی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یہ مجاہدین کے لیے دنیوی اور اخروی بشارت ہے اگر شہید ہوجائیں تو آخرت میں بلند ترین درجات حاصل کریں گے اور اگر شہادت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–74

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لزوم کا بیان تھا۔ اور اسے کامیابی کا ذریعہ بتلایا گیا تھا ، پھر اس اطاعت کے فوائد گنوائے گئے کہ اطاعت گزاروں کو نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کی معیت نصیب ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اس سے پیشر اطاعت ہی کے ضمن میں منافقین کا اعراض اور ان کی مذمت بیان ہوئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے تنازعات کا رُخ رسول خدا کی بجائے طاغوت کی طرف موڑتے ہیں پھر یہ بھی بیان ہوا کہ منافقین کے ساتھ کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا کیونکہ تقویٰ ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَۃِ۝ 0ۭ وَمَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا۝ 74 قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 74–76

2 ؎ یعنی آخرت اور رضائے الٰہی میں جان بازی کرنے والوں کو دشمنوں سے لڑنا چاہیے۔ 12 منہ ترکیب : فلیقاتل فعل فی سبیل اللّٰہ اس سے متعلق الذین الخ فاعل ومن یقاتل شرط فسوف نؤتیہ جواب۔ وما لکم استفہام مبتداء و خبر لاتقاتلون موضع حال میں ہے والمستضعفین معطوف ہے اسم اللّٰہ پر اے وفی سبیل المستضعفین ای فی تخلیصہم من الرجال الخ ان کا بیان ہے۔ الذین یقولون جملہ صفت ہے مستضعفین کی یا منصوب باضماراعنی۔ تفسیر : مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ اور دیگر ایمانداروں پر بےحد ظلم و ستم کرنے شروع کئے۔ ایمانداروں سے خریدو فروخت بیاہ شادی بند کردی ادھر کسی ایماندار بلالو صہیب جیسے کو گرم زمین پر لٹا کر کوڑے مارے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ ط وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْیَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا (پس چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے وہ لوگ اٹھیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے لیے تج چکے ہوں۔ اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے ‘ پھر قتل کیا جاتا ہے یا غالب رہتا ہے ہم عنقریب اس کو اجر عظیم عطا کریں گے) (النسآء : 74) اللہ کی راہ میں لڑنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں ایک ایسی حقیقت کو بیان کیا جا رہا ہے جو معرکہ ہائے حق و باطل میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ کفر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اب پھر مسلمانوں کو جہاد پر یہ کہہ کر تیار کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں کو جنہوں نے دنیا پر آخرت کو مقدم سمجھ رکھا ہے اللہ کے راستے میں ضرور لڑنا چاہیے۔ انہیں کسی نقصان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں لہٰذا یہ اللہ کی راہ میں کٹ مریں یا غالب آئیں انہیں ہر دو صورتوں میں اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّہُ لِمَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِہِ ، لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِہِ ، وَتَصْدِیقُ کَلِمَاتِہِ ، بِأَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، أَوْ یَرْجِعَہُ إِلَی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مخلصین کو جہاد لازم ہے : آیت 74 : فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَالدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ (پس چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے فروخت کرنے والے ہیں) یَشْرُوْنَ فروخت کرنے کے معنی میں ہے۔ اور مراد اس سے یہ ہے کہ مومن آخرت کی باقی زندگی کو دنیا کی جلدی ختم ہونے والی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور اس کے بدلے میں لے لیتے ہیں۔ یعنی اگر بیمار دلوں والے اور کمزور نیات والے کبھی جہاد سے رک جائیں۔ تو ثابت قدم رہنے والے مخلصین کو ضرور لڑنا چاہیے۔ دوسری تفسیر : یشرون، یشترون کا ہم معنی ہے۔ مراد وہ منافقین ہیں جو دنیا کی زندگی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

74۔ (آیت)” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ “۔ بعض نے کہا کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، (آیت)” یشترون “ وہ لوگ جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، اس آیت کا معنی ہے ایمان لے آؤ پھر قتال کرو ، بعض نے کہا کہ یہ مخلص مؤمنین کے بارے میں نازل ہوئی ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے راستے میں قتال کرنے کے والے ۔ انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی کے بدلے میں آخرت کو خرید لیا اور آخرت کو ترجیح دی (آیت)” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل “۔ وہ شہید ہوتا ہے۔ ” اویغلب “ یا وہ کامیابی کے ساتھ غالب آجاتا ہے ۔ ” فسوف نوتیہ “۔ ان دونوں صورتوں میں (آیت)” اجراعظیما “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–74

(71 ۔ 74) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بعض مسلمانوں نے یہود کی توبہ قتل سے قبول ہونے کا حال یہود سے سن کر یہ کہا تھا کہ ہمارے اوپر کی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے۔ لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرأت کرلے لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے کی جائے۔ مشہور قول علماء کا یہی ہے کہ آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–74

آیت 71 اللہ تبارک و تعالیٰ اپن مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جاسکے اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فانفروا ثبات) ” جماعت جماعت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 71–75

جنگ کی تیاری ہر وقت ضروری ہے قول باری ہے (یا ایھا الذین امنواخذور حذرکم فانفروا ثبات او انفرو جمیعا) اے ایمان والو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلوایا اکٹھے ہوکر) ایک قول ہے کہ ثبات کے معنی جماعتوں کے ہیں، اس کا واحد ثبۃ ہے، ایک قول ہے ثبۃ اس ٹولی یادستے کو کہتے ہیں جو دوسری ٹولیوں اور دستوں سے الگ تھلگ ہو، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستوں کی شکل میں اس طرح نکلیں کہ ایک دستہ ایک سمت روانہ ہوجائے اور دوسرا دستہ دوسری سمت یا سب مل کر ایک ساتھ نکل پڑیں۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد، ضحاک اور قتادہ سے یہی روایت ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 74–75

170 اصل چیز آخرت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جنہوں نے بیچ دیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں۔ اور دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں کو انہوں نے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا کہ ان کے سامنے اصل مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، اور آخرت کی حقیقی اور دائمی فلاح سے سرفرازی ہے۔ اور یہی ہیں سچے ایماندار اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے خوش نصیب لوگ ۔ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ وَکَثَََّرَ سَوَادَھُمْ ۔ سو اصل اور حقیقی چیز جسکو مقصد حیات بنانا چاہیئے وہ ہے آخرت۔ اور جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی جو کہ عمدہ بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی { وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–74

جہاد کی تیاری اور اس کا اجر تشریح : پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ ان آیات میں امت مسلمہ کو دین کی حفاظت، اسلام کے پھیلانے کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کا اصل مطلب ہے کمال درجہ کی کوشش کرنا۔ مسلمان زندگی کے ہر قدم پر جہاد کرتا ہے، اسلام کی سربلندی کیلئے ہر وقت جہاد کرتا ہے۔ دل، زبان، قلم، مال اور جان سب کچھ باطل کو مٹانے کے لیے اور حق کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان آیات میں کفر و شرک کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت سامان جنگ سے لیس رہو مگر لڑائی کے اصولوں سے ہٹ کر کام نہ کرو بلکہ پوری طرح منظم ہو کر ترتیب سے انتظام اور اتحاد سے لڑائی کے لیے نکلو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–76

اسرار و معارف آیات نمبر 71 تا 76: یا ایہا الذین امنو خذوا حزرکم ۔۔۔۔۔۔ کان ضعیفا۔ اگر قریب ترین راستیہ چاہیے تو وہ بھی ہے جس میں اللہ کریم کا قرب بھی ہے اور نبی پاک ﷺ کا بہت زیادہ قرب آپ ﷺ کی بےپناہ شفقت اور پیار ہے اور وہ ہے راہ حق میں جہاد اور قتال کا راستہ کہ ایسے خوش نصیبوں کا تذکرہ ملتا ہے جو میدانِ کارزار میں ہی پہنچے ایمان لائے اور شہادت سے سرفراز ہوئے ان بڑے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کے پاس حاضری کی اجازت دے کر اللہ کریم اپنے پیارے اور جنت کے باسی لوگوں پہ احسان فرما رہا ہے لیکن یاد رہے شہادت کے لیے خودکشی جائز نہیں کہ آدمی بغیر اسباب کا اہتمام کیے یا بغیر کسی ترتیب کے خواہ مخواہ میدان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ زندگی دنیا پر نظر نہ رکھیں آخرت چاہیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے (موضح) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ جنگ کے دو ہی نتیجے ہوسکتے ہیں یعنی شہادت یا فتحمندی اور دونوں مسلمان کے حق میں خوش کن ہیں کیونکہ دونوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلص مجاہدین کے لیے دو چیزوں میں سے ایک کی ضمانت دی ہے اگر شہید ہوجائے تو سے جنت میں داخل کرے گا اور زندہ واپس آئے تو اجر و غنیمت کے ساتھ واپس آئے گا (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:74) فلیقاتل۔ مقاتلہ (مفاعلۃ) مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس سے خطاب مؤمنین سے ہے جنہوں نے آخرت کے لئے اپنی دنیاوی زندگی بیچ دی فلیقاتل پس چاہے کہ لڑیں۔ ومن یقاتل میں فعل مضارع مجزوم بوجہ عمل من کے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–76

آیت نمبر 71-76 لغات القرآن : حذر، بچاؤ۔ انفروا، نکلو۔ ثبات، الگ الگ۔ لیبطئن، البتہ وہ دیر کرے گا۔ مودۃ، دوستی۔ یلیتنی، اے کاش کہ میں۔ افوز، میں کامیاب ہوں (کامیاب ہوجاتا ہے) ۔ یقتل، قتل کیا گیا۔ یغلب، غالب آئے گا۔ المستضعفین، کمزور، الولدان، بچے۔ اخرجنا، ہمیں نکال۔ اولیاء الشیطن، شیطان کے دوست اور ساتھی۔ کید، فریب، دھوکہ۔ تشریح : ان آیات میں قتال یعنی فوجی حکمت عملی پر بہت زور دیا گیا ہے، جنگ احد کے بعد کفار اور منافقین یہ سمجھ کر ہر طرف سے منڈ کر آنے لگے کہ مسلمان کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرماتے ہوئے مسلمانوں کو قتال کا حکم دے دیا اور یہ کہہ کر ان کی ہمت بندھائی کہ اہل طاغوت بڑے زور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–74

ان آیتوں میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے۔ جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرات کرے۔ لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے لڑی جاوے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑنے والوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔ خدا کی راہ میں جان دی تو جنت کمائی اور زندہ بچ کر آئے تو عقبیٰ کا اجر پایا اور لوٹ کا مال جدا ہاتھ آیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–74

[52] '' صدیقین '' یعنی بات کے کھرے اور معاملہ کے سچے، ایسے کہ سچائی اور حق پسندی گویا ان کی فطرت میں رچ بس گئی ہو اور طبیعت کا جزو بن گئی ہو۔ '' شہداء '' وہ لوگ ہیں جو دین کی خاطر اپنی جان دے دیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ جس چیز پر وہ ایمان لائے تھے وہ انہیں اس قدر عزیز تھی کہ اس کی خاطر انہوں نے اپنی جان تک قربان کردی۔ '' صالحین '' وہ لوگ ہیں جو دیندار اور پورے پابند شریعت ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 72–74

(ف 1) منافق میں دون ہمتی اور خود غرضی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے جبکہ جہاد کے مواقع آتے ہیں ، یہ عملا کسل وتاخیر سے کام لیتا ہے اور پھر اگر مسلمانوں کو کوئی حادثہ پیش آجائے تو خوش ہوتا ہے کہ میں اس میں شریک نہیں تھا اور اگر انہیں حریت وآزادی کی نعمتوں سے کچھ حصہ ملے تو یہ بھی الجھتا ہے کہ اے کاش میں بھی اس کے شریک حال ہوتا ۔ اس آیت میں انہیں منافقین کا حال بیان کیا ہے کہ دیکھئے اپنی اس ذلیل ذہنیت پر کس درجہ قانع ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 لہٰذا اگر اس قسم کے منافق اور تاخیر کرنے والے جہاد سے جان چراتے ہیں تو وہ مخلص مسلمان جنہوں نے دنیوی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کو اختیار کر رکھا ہے اور دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کئے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے گا خواہ وہ قتل کردیا جائے یعنی مقلوب ہوجائے یا وہ غلبہ حاصل کرے اور غالب ہوجائے بہرحال ہم اس کو آخرت میں بہت بڑا اجر وثواب عطا فرمائیں گے۔ یشرون الحیوۃ الدنیا کا ترجمہ دو طرح کی اگیا ہے ایک یہ کہ دنیوی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کردیا ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی اس شخص کو اگر فوزعظیم کا شوق ہے تو اول درست کرے ہاتھ پاوں ہلاوے مشقت جھیلے تیغ وسنان کے سامنے سینہ سپر بنے دیکھو فوز عظیم ہاتھ آتا ہے کہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیوی زندگی کے بدلے آخرت کی زندگی کو پسند کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ سے نہیں گھبراتے : 128: آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی بیچنے والے کا سواد کبھی خسارے کا سودا نہیں ہو سکتا یہ تو اتنا نفع ہے جس کا شمار ممکن ہی نہیں۔ گزشتہ دونوں آیتوں میں کم ہمتوں اور دو دلے لوگوں کا بیان تھا اور اب ان لوگوں کا تذکرہ شروع ہوا جو اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں بیچ چکے اور اپنا کچھ بھی باقی نہ رکھا اور بتانا یہ مقصود ہے کہ ان کی دنیوی غرض کوئی بھی ان کے عمل جہاد سے وابستہ نہ تھی یعنی یہ شریک جہاد ہوتے ہیں تو خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے۔ نہ وہ اپنی فتح کی شہرت چاہتے ہیں اور نہ ہی مال غنیمت کے طالب ہیں اس لیے تو وہ سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–74

2. Seen outwardly, the words of the verse 72 (... وَإِنَّ مِنكُمْ ) seem to suggest that this too is addressed to the believers, although the characteristics described later on cannot be taken to be those of the believers. Therefore, al-Qurtubi says that they signify hypocrites. Since, they were the ones who used to claim being Muslims, at least outwardly. This is why they have been identified as a group from among the believers.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

103. The point stressed here is that fighting in the cause of God cannot be conducted by people engrossed in the pursuit of worldly benefits. This is the task of those who seek to please God, who have complete faith in Him and in the Hereafter, who are prepared to sacrifice all opportunities of worldly success and prosperity, and of all worldly interests, hoping thereby to win God's good pleasure. Irrespective of what happens in the present world such sacrifices will not be wasted in the Hereafter. Jihad (struggle in the cause of God) is not for those who mainly care for worldly benefits.

Read the full tafseer →