An-Nisaa 4:70

An-Nisaa · from ayah 70

4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ ؕ— وَكَفٰی بِاللّٰهِ عَلِیْمًا ۟۠ذٰ لِكَ الۡـفَضۡلُ مِنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is the bounty from Allah, and sufficient is Allah as Knower.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 9 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:70

یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ فضیلت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اور (لوگوں کے حالات سے) پوری طرح باخبر ہونے کے لیے اللہ کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ فضل (خاص) اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ جاننے والا کافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کافی ہے سب کچھ جاننے والا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا فضل اللہ ہی کی طرف سے ہوگا اور (حقیقت جاننے کے لیے) اللہ تعالیٰ کا علیم ہونا ہی کافی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کا علم کفایت کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ مہربانی (اور عنایت) ہوگی اللہ کی طرف سے، اور کافی ہے اللہ جاننے والا،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ ہی کا علم کافی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے ہر شے کے جاننے کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور (حقیقت جاننے کے لیے بس) اللہ کا علم ہی کافی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

That is a bounty from Allah, and Allah suffices to know the truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That grace is from Allah; and Allah is sufficient as being the One who knows.

— Muhammad Taqi Usmani

That grace is from Allah; and Allah is sufficient as being the One who knows.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such is the bounty from Allah, and Allah is sufficient as All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is bounty from Allah, and Allah sufficeth as Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is the bounty from Allah, and sufficient is Allah as Knower.

— Saheeh International

The favors of God are such, and He knows very well (how to reward you).

— Muhammad Sarwar

This is grace from Allah, and sufficient is Allah as the Knower.

— Muhammad Habib Shakir

That is the grace from Allah, and sufficeth Allah as Knower!

— Abdul Majid Daryabadi

Such is the bounty from Allah: And sufficient is it that Allah knoweth all.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–70

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس قوت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لئے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبردی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقینا ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 69–70

سورة النِّسَآء 99 صدیق سے مراد وہ شخص ہے جو نہایت راستباز ہو، جس کے اندر صداقت پسندی اور حق پرستی کمال درجہ پر ہو، جو اپنے معاملات اور برتاؤ میں ہمیشہ سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کرے، جب ساتھ دے تو حق اور انصاف ہی کا ساتھ دے اور سچے دل سے دے، اور جس چیز کو حق کے خلاف پائے اس کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑا ہوجائے اور ذرا کمزوری نہ دکھائے۔ جس کی سیرت ایسی ستھری اور بےلوث ہو کہ اپنے اور غیر کسی کو بھی اس سے خالص راست روی کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کا اندیشہ نہ ہو۔ شھید کے اصل معنی گواہ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دے۔ اللہ کی راہ میں لڑ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

خلاصہ تفسیر اور جو شخص (ضروری احکام میں بھی) اللہ و رسول کا کہنا مان لے گا (گو تکثیر اطاعات سے کمال حاصل نہ کرسکے) تو ایسے اشخاص بھی (جنت میں) ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے (کامل) انعام (دین و قرب و قبول کا) فرمایا ہے، یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین (جو کہ انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے) اور شہدائ (جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دیدی) اور صلحائ (جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی اور مستحبات میں بھی جن کو نیک بخت دیندار کہا جاتا ہے) اور یہ حضرات (جس کے رفیق ہوں) بہت ثمرہ ہوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 66–70

تفسیر آیت 66۔ 70: وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۔ منافقین کی بنیادی کمزوری : اب یہ ان منافقین کے اصل سبب نفاق سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ بننے کو تو اسلام کے مدعی بن بیٹھے ہیں لیکن ابھی یہ جاہلیت کے سابق روابط و تعلقات کے پھندوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں ابھی تک خاندان، برادری، قبیلہ اور قوم کی زنجیریں بھی ان کے پاؤں میں ہیں اور وطن اور سرزمین کی وابستگیاں بھی دامن گیر ہیں اس وجہ سے یہ آگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–70

69۔ 1 اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے۔ آدمی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی ' حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جتنی خوشی اس فرمان رسول ﷺ کو سن کر ہوتی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی رفاقت پسند کرتے تھے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فروتر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ ﷺ کی صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے۔ جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–72

45: یعنی وہ کسی کو یہ فضیلت معاذ اللہ بیخبر ی کے ساتھ نہیں دیتا بلکہ ہر شخص کے عملی حالات سے باخبر ہو کردیتا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–70

(آیت) ” نمبر 69۔ 70 : یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔ یہاں مناسب ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے حکم ماننے والوں کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت میسر آنی اللہ کا بڑا انعام اور اس کا محض فضل ہے ان کی اطاعت کا معاوضہ نہیں جس سے منافقین بالکل محروم ہیں اور اللہ کافی ہے جاننے والا اور خبر رکھنے والا۔ وہ ہر ایک مخلص اور منافق اور ہر مطیع کی طاعت اور اس کے استحقاق اصلی اور مقدار فضل کو بالتفصیل جانتا ہے تو اب کسی کو ان امور کی تفاصیل کی وجہ سے وعدہ الٰہی کے پورا ہونے میں خلجان پیدا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ ط۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ان پر کہ جنہیں آخرت میں انبیاء کرام ‘ صدیقین عظام ‘ شہداء اور صالحین کی معیت حاصل ہوجائے۔ اس کے لیے دعا کرنی چاہیے : وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ اے اللہ ہمیں موت دیجیو اپنے وفادار ونیکوکار بندوں کے ساتھ ! وَکَفٰی باللّٰہِ عَلِیْمًا یعنی کون کس استعداد کا حامل ہے اور کس قدر و منزلت کا مستحق ہے ‘ اللہ خوب جانتا ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 69–70

99 منعم علیہم کون کون ہیں ؟ اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ فضیلت اور درجہ کے لحاظ سے بلند تر مقام رکھتے ہیں (1) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ (2) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔ (3) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

202 ۔ اللہ کا علم حاوی و محیط ہے۔ ان کی نیتوں کو بھی، ان کے عمل کو بھی، ان کے متقضائے عمل کو بھی، (آیت) ” ذلک الفضل من اللہ “۔ یعنی تمام مومنین کو جو کاملین کی معیت ورفاقت نصیب ہوگی، یہ محض فضل خداوندی کا ظہور ہوگا۔ ان کے اعمال کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–70

آیت نمبر 60 تا 70 ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک الفضل من اللہ . یہ مہربانی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یعنی انعام یافتہ لوگوں کے جیسے اعمال نہ ہونے کے باوجوداُن کی رفاقت میسر آجانا اللہ کی مہربانی ہے۔ وکفی باللہ علیما . اور اللہ پورا پورا جاننے والا ہے۔ یعنی اللہ اس رفاقت کے سبب اور انعام یافتہ گروہ کے ساتھ شمول کی وجہ کو خوب جانتا ہے ‘ رفاقت کا اصل سبب محبت ہے محب کے اعمال اگرچہ محبوب کے اعمال کی طرح نہ ہوں مگر محبوب کی محبت محبوب کے ساتھ رفاقت کا سبب ہے اور محبت ایک ایسی چیز ہے جس کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ اعمال لکھنے والے فرشتے بھی واقف نہیں ہوتے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص کو ایک قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 69–70

(69۔ 70) یہ آیت کریمہ حضرت ثوبان ؓ مولی رسول اکرم ﷺ کی فضیلت و بزرگی کے بیان میں نازل ہوئی کیونکہ ان کو رسول اکرم ﷺ سے حد درجہ محبت تھی، آپ کا دیدار کیے بغیر ان کو صبر نہیں آسکتا تھا، ایک مرتبہ یہ حاضر ہوئے اور رسول اکرم ﷺ نے ان کے چہرے کا رنگ فق دیکھا عرض کرنے لگے یا رسول اللہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہیں آخرت میں آپ کے دیدار سے محروم نہ ہوجاؤں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام اور افضل اصحاب نبی اکرم ﷺ اور شہداء وصالحین امت محمدیہ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور جنت میں حضرات انبیاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 69–70

یہ صدق سے مبالغہ ہے، یعنی جو بہت سچا ہو۔ بعض نے کہا، جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ بعض نے کہا، صدیق وہ ہے کہ صدق کی عادت کی وجہ سے اس سے جھوٹ ناممکن ہو اور بعض نے کہا کہ جو اپنے اعتقاد اور قول میں سچا ہو اور اپنے فعل کے ساتھ اپنے صدق کو ثابت کرے۔ (مفردات) استاد محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ صدیق صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے والا ہو اور کبھی کسی معاملے میں خلجان اور شک اس کے دل میں پیدا نہ ہو، یا وہ جو رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے اسوہ بنے، اس اعتبار سے اس امت کے صدیق ابوبکر ؓ ہی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ابوبکر صدیق ؓ دوسرے افاضل صحابہ کے لیے نمونہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–70

آیت نمبر : 69 تا 70۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ اگر منافقین اس امر کو بجا لاتے جس کے ساتھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اور وہ اس کی طرف رجوع کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر انعام فرماتا۔ اس کے بعد ان کا ثواب ذکر فرمایا جو ایسا کرتا ہے۔ یہ آیت اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم “۔ کی تفسیر ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے اپنے وصال کے وقت کہا تھا : اللھم الرفیق الاعلی (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 939) اے اللہ رفیق اعلی کی سنگت عطا فرما، اس سے یہی مراد ہے، بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–70

(1) الطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں والضیاء المقدسی نے صفہ الجنۃ میں (اور اس کو حسن کہا) حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں اپنی جان سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں میں اپنی اولاد سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہ لوں۔ اور جب میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں تو میں اس بات کو جانتا ہوں کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے تو نبیوں کے ساتھ بلند مرتبہ میں ہوں گے اور جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو نہ دیکھ سکوں نبی ﷺ نے ابھی اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ذٰلِکَ الْفَضْلُ : یہ فضل ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کے پاس) سے ہے ] [ وَکَفٰی بِاللّٰہِ : اور کافی ہے اللہ ] [ عَلِیْمًا : بطور جاننے والے کے ] نوٹ 1 : پیچھے آیت 60 سے منافقین کے طرز عمل کے متعلق سلسلہ کلام کا آغاز ہوا تھا۔ زیر مطالعہ آیت 66 میں انہی کے متعلق ایک امکانی بات کہی گئی ہے کہ ان سے تو شریعت پر ہی عمل نہیں ہوتا ‘ اگر ان سے دین کے لیے کسی بڑی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا تو اس کے پورا ہونے کا کیا امکان ہے۔ نوٹ 2: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں شہادت دے چکا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اور میں پانچ وقت کی نماز کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ کہ یہ مہربانی اللہ کی طرف سے ہے کہ اس نے اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق دے دی اور اسی میں لگائے رکھا۔ یہاں تک کہ آخرت میں ان حضرات کا ساتھ نصیب ہوا جو اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ کَفٰی باللّٰہِ عَلِیْمًا) یعنی اللہ تعالیٰ جاننے والا کافی ہے، اسے ہر عمل کا پتہ ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–70

مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔ قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔ ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 69–70

48 یہ دل و جان سے ماننے والے مخلص مومنین کیلئے اخروی بشارت ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی اور ارشادات نبوی پر پورا پورا عمل کریں گے اور دل و جان سے ان کے احکام کے سامنے سر جھکا دیں گے قیامت کے دن جنت میں ان کو انبیاء علیہم السلام۔ صدیقین۔ شہداء اور نیک لوگوں کی معیت اور سنگت نصیب ہوگی اور وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے آدمی نبی بھی بن سکتا ہے کیونکہ رسالت و نبوت تو وہبی چیز ہے جو محض عطاء الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ہے کسب اور ریاضت اور کثرت عبادت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد ہے اللہ اَعْلَمُ حَیْچُ یَجْعَلُ رِسَالَتہ (انعام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–70

ربط آیات گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے اور اپنے معاملات کو طاغوت کے پاس لے جانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کی فلاح کا دارو مدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے ، جب تک وہ اللہ کے رسول کو اپنا حکم مقرر نہ کریں۔ وہ کامل الایمان نہیں ہو سکتے ، پھر فرمایا ، اگر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مشکل احکام نازل فرما دیتا جیسا کہ بنی اسرائیل کی توبہ کو ان کی جانوں کے قتل کے ساتھ مشروط کردیا تھا۔ تو لوگوں کے لیے بڑی دشواری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی مہربانی فرمائی کہ کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو تکلیف مالایطاق میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللہِ۝ 0ۭ وَكَفٰى بِاللہِ عَلِــيْمًا۝ 70ۧ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–70

ترکیب : ومن یطع شرط فاولئک جواب اور ممکن ہے کہ مبتداء او خبر ہوں من النبین بیان ہے الذین انعم اللّٰہ علیہم کا حسن کا فاعل اولئک رفیقا تمیز ذلک مبتداء الفضل خبر۔ تفسیر : اس سے پیشتر کئی ایک آیتوں میں پے در پے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی تاکید چلی آتی ہے اور ہر ایک جگہ اس اطاعت کا جداگانہ فائدہ بھی بیان ہوتا آیا ہے۔ چناچہ اس سے پہلی آیت میں چار فائدے بیان کئے تھے۔ (1) لکان خیرا لہم (2) واشد تثبیتا کہ اس سے خوب ثابت قدمی حاصل ہوتی (3) واذ لاتیناھم الآیۃ (4) ولہدینا ھم اب اس آیت میں ایک اور سر لطیفہ کی طرف ایک بڑے فائدے کے ضمن میں اشارہ کرتا ہے۔ فائدہ : یہ کہ اللہ و رسول کی اطاعت کہ جس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 69–70

ایک اہم حقیقت وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ الخ اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ روئے سخن منافقین کی طرف ہی ہے اگرچہ خطاب کسی کو نہیں۔ انھیں کو سنا کر کہا جا رہا ہے کہ تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہیں آج تک جن لوگوں کے ساتھ چلنے کا اتفاق ہوا ہے اور جن کی نسبتوں کو کسی طرح ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اور جن کی رفاقتیں تمہارے لیے حاصل زندگی ہیں ‘ وہ کس طرح کے اور کس قماش کے لوگ ہیں ؟ ان میں ایک ایک آدمی مال پر جان دینے والا ‘ حبِّ جاہ کا مریض ‘ اپنی ذات کے گنبد میں بند اور اپنی ہی قوم کے حصار میں محدود رہنے والا ہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی عصبیتیں ہیں ‘ جنھیں وہ چھوڑنے کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–70

فہم القرآن ربط کلام : اطاعت رسول کے دنیا میں فوائد اور قیامت کے دن اس کے ثمرات۔ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ اور فرمان کو زندگی کے ہر شعبہ میں قطعی طور پر لائقِ اتباع اور باعث نجات سمجھنے والے کو دنیا اور آخرت کے آٹھ انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دنیا میں ہر اعتبار سے بھلائی کا حصول۔ ایمان پر ثابت قدمی کی توفیق۔ عظیم اجر۔ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ اور قیامت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت انبیاء، صدیق، شہداء اور صالح لوگوں کی رفاقت اور معیّت نصیب ہوگی۔ یہاں چار شخصیات کے حوالے سے درحقیقت چار قسم کے مراتب اور مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں لوگوں کی انہی چار مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 70 : ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ (یہ مہربانی اللہ تعالیٰ کی ہے) فضل کیا ہے : نحو : ذٰلک مبتدا ہے اسکی خبر الفضل من اللّٰہ ہے یا الفضل مشارٌالیہ ہے اور من اللّٰہ خبر ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ نمبر 1۔ کہ فرمانبرداروں کو عظیم اجر کا ملنا اور انعام یافتہ لوگوں کی رفاقت کا میسر آنا یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ اسی نے ہی یہ نعمت ان کو میسر فرمائی۔ نمبر 2۔ انعام یافتہ لوگوں کو فضیلت اور مرتبہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملا ہے۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ پورا پورا جاننے والے ہیں) اپنے بندوں کو اور ان کو جو ان میں سے فضیلت والے ہیں۔ نکتہ : اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے۔ کہ بندوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

70۔ (آیت)” ذلک الفضل من اللہ وکفی باللہ علیما “۔ اس سے آخرت کا ثواب مراد ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت ہے اور اس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا ان کے درجہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے ہی پہنچ سکتا ہے ۔ حضرت ابوہر یرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قریب قریب ہوجاؤ اور ٹھیک ٹھیک عمل کرو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے عمل کے مطابق نجات پائے گا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بھی ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں میں بھی مگر یہ کہ مجھے بھی اللہ کی رحمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–70

(69 ۔ 70) ۔ طبرانی ابن جریر ابی حاتم ابن مردویہ نے متعدد طریقوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھ لیتے ہیں جنت میں آپ تو عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے۔ اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر ہوں گے وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت میں اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجہ والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے۔ مرفوع حدیث 2 میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 70 یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ (فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا “ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔ (من النبین) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انہیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی (والصدیقین) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انہوں نے حق کو جان لیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–70

اولی الامر کی اطاعت کا بیان ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔ حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

166 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافی ہے اللہ جاننے والا۔ پس وہ خوب جانتا ہے کہ کس کی اطاعت کس درجے کی ہے۔ اور کون کس درجے کے لائق ہے۔ اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں معاملہ صرف ظاہر پر نہیں چلتا کہ وہ انسان کے باطن اور اس کے سرائر سے بھی واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ربیعہ بن کعب الاسلمی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ رات گزاری اور آپ ﷺ کو وضو کا پانی وغیرہ لا کردیا۔ تو اس پر آنحضرت ۔ ﷺ : نے ارشاد فرمایا کہ مانگو کیا چاہتے ہو ؟ تو آپ ؓ نے عرض کیا جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہئے۔ تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–70

اللہ کے پسندیدہ بندے تشریح : ان آیات میں انسانوں کی درجہ بندی کی گئی ہے اعمال، کردار اور اعتقادات کی نسبت سے، یعنی اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مخلوقات میں سے اکثر پر فضیلت دی اور پھر اس کی پرورش کے لیے تمام کائنات کو پیدا کردیا ہر قسم کی سہولیات، ہر قسم کے فائدے انسان کو جسمانی صحت کے لیے دیئے اور پھر روحانی صحت کے لیے اس کو ایسے اصول دیئے جو اس کو برائی سے بچا کر نیکی کی راہیں دکھاتے ہیں۔ یہ اصول کیسے دیئے ؟ کیونکہ بندہ نہ تو اللہ کو دیکھ سکتا ہے اور نہ آمنے سامنے بات کرسکتا ہے تو اس رابطے کے لیے اللہ نے کچھ ایسے اچھے انسان انسانوں میں سے ہی چن لیے جو اس قابل تھے کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–70

آیت نمبر 67 تا 70: آپ ﷺ تو زندگی کی سہل ترین راہوں پہ چلنے کا حکم دیتے ہیں یعنی دین اسلام زندگی گذارنے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ کام کو کرنے کا درست انداز ہمیشہ آسان ہوتا ہے اور غلط انداز اس کی نسبت مشکل ہوتا ہے اور کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا سو زندگی تو بہرحال سب کو بسر کرنا ہے اگر آپ کے بتائے ہوئے نظریات اور قواعد کو اختیار نہیں کریں گے تو کوئی نہ کوئی دوسری راہ اپنانا پڑے گی جو نہ صرف مشکل ہوگی بلکہ دو عالم میں کبھی چین نصیب نہ ہوگا پھر کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو آپ کی اطاعت سے محروم رہیں حالانکہ آپ کی عظمت اور آپ کا مقام اس سے بہت بلند ہے اگر ہم آپ کی اطاعت کے ثبوت کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اطاعت واخلاص پر رفاقت کا درجہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے اور لوگوں کی حالت معلوم ہے (رازی) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی ترغیب کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا کہ اطاعت سے انبیا صدیقین شہدا اور صالحین کی رفاقت حاصل ہوگی اب اس آیت میں جہاد کا حکم فرمایا ہے جو سب سے مشکل طاعت ہے اور منافقین کے بارے میں محتاط رہنے کا حکم دیا ہے۔ (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 69–70

(4:69) من ۔ بیانیہ ہے۔ حسن اولئک رفیقا۔ حسن بمعنی ما احسن تعجب کے لئے ہے۔ بظاہر حسن اولئک رفقاء چاہیے تھا ۔ علماء نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کی تقدیر کلام یہ ہے حسن کل واحد منھم رفیقا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ رفیق ۔ برید کے الفاظ واحد۔ جمع ۔ جنس سب معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے رفیق یہاں بمعنی رفقاء ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–70

آیت نمبر 65-70 لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔ اب حضور ﷺ نے دنیا سے پردہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–74

ان آیتوں میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے۔ جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرات کرے۔ لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے لڑی جاوے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑنے والوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔ خدا کی راہ میں جان دی تو جنت کمائی اور زندہ بچ کر آئے تو عقبیٰ کا اجر پایا اور لوٹ کا مال جدا ہاتھ آیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 69–74

[52] '' صدیقین '' یعنی بات کے کھرے اور معاملہ کے سچے، ایسے کہ سچائی اور حق پسندی گویا ان کی فطرت میں رچ بس گئی ہو اور طبیعت کا جزو بن گئی ہو۔ '' شہداء '' وہ لوگ ہیں جو دین کی خاطر اپنی جان دے دیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ جس چیز پر وہ ایمان لائے تھے وہ انہیں اس قدر عزیز تھی کہ اس کی خاطر انہوں نے اپنی جان تک قربان کردی۔ '' صالحین '' وہ لوگ ہیں جو دیندار اور پورے پابند شریعت ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–70

حسن رفاقت (ف 1) آیت کے شان نزول میں معتدد واقعات بیان کئے جاتے ہیں ۔ 1۔ ثوبان ؓ کا اشتیاق رفاقت یعنی اس کا دریافت کرنا کہ حضور ﷺ کیا ہم بھی شرف زیارت سے اس وقت محفوظ ہو سکیں گے جبکہ آپ ﷺ کے لئے ” مقام محمود “ کی بلندیاں مختص ہوں گی ؟ ثوبان ؓ حضور ﷺ کے ایک ادنی غلام تھے ۔ 2۔ چند انصار کا پوچھنا کہ ہم کیونکہ آپ ﷺ کی معیت ورفاقت حاصل کرسکتے ہیں ؟ 3۔ ایک عاشق رسول ﷺ انصاری کا کہنا کہ حضور ! ہم اس دنیا میں آپ ﷺ کی ادنی سی مفارقت گوارا نہیں کرسکتے ، قیامت کے دن کیا ہوگا چہرہ انور سے اکتساب مسرت کا موقع کیونکر ملے گا ؟ 4۔ عام مسلمانوں کا مطالبہ رفاقت وصحبت : مقصد بہرحال یہ ہے کہ جذبہ اطاعت سے سرشار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور جب یہ ایسا کرتے تو اس وقت ہم آخرت میں اپنی خاص رحمت سے ان کو بہت بڑا اجر عطا کرتے اور یقینا ہم صحیح راستے پر ان کو چلاتے اور ان کو سیدھا راستہ بتا دیتے جو جنت اور جناب قدس تک پہنچتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور اللہ و رسول کا حکم مانے گا تو یہ لوگ جنت میں ان حضرات کے ہمراہ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اور کامل انعام فرمایا یہ حضرات انعم اللہ علیہم انبیاء ہیں اور صدیقین ہیں اور شہدا ہیں اور صلحاء یعنی نیک لوگ ہیں اور یہ حضرات مذکورہ جس کے رفیق ہوں تو بہت اچھے اور بڑے خوب رفیق ہیں، یہ ان حضرات کی معیت ورفاقت کا میسرآجانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ اب احکام جہاد کا ذکر شروع ہوتا ہے یہاں سے چھ رکوع تک اسی مضمون کے متعلقات چلے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 69–70

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اصل ثمرہ : 123: جو لوگ سب سے کٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان کو اللہ کے انعام یافتہ بندوں انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کی معیت ورفاقت حاصل ہوتی ہے اور کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو اس پاک گروہ کی معیت ورفاقت حاصل ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس فضل خاص ہے اور اللہ اس فضل خاص کے مستحق بندوں سے بیخبر نہیں ہے جو لوگ اس فضل کے حاصل کرنے کے لئے ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیلیں گے وہ مطمئن رہیں کہ اللہ ان کی جاں بازیوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور کے لئے خاص انعامات رکھے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

1.Siddiq, lexically means 'very truthful'. In the Islamic terminology, it normally refers to those Companions of a prophet who excel all others in their submission to Allah and His Messenger. They enjoy the highest status of piety after the Prophets, like Sayyidna Abu Bakr ؓ 2. Shuhada (plural of Shahid) means the persons who sacrificed their lives in the way of Allah. The word has not been translated here by the word 'martyr` which sometimes is taken as an equivalent of Shahid, because the word 'martyr' is also applied for the persons killed in ethnic or racial wars while they may not be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

99. Siddiq denotes someone who is utterly honest, someone whose devotion to truth has reached a very high point. Such a person is always upright and straightforward in his dealings. He supports nothing but right and justice and does so with sincerity. He opposes whatever is contrary to truth, and does not waver in his opposition to falsehood. His life is so unblemished and selfless that even enemies, let alone friends, expect of him unadulterated probity and justice. The term shahid (pi. shuhada') means 'witness'. It signifies one who attests to the truth of his faith with his whole life. He…

Read the full tafseer →