Explained with ayahs 66–70
عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت
اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس قوت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لئے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبردی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقینا ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
سورة النِّسَآء 99
صدیق سے مراد وہ شخص ہے جو نہایت راستباز ہو، جس کے اندر صداقت پسندی اور حق پرستی کمال درجہ پر ہو، جو اپنے معاملات اور برتاؤ میں ہمیشہ سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کرے، جب ساتھ دے تو حق اور انصاف ہی کا ساتھ دے اور سچے دل سے دے، اور جس چیز کو حق کے خلاف پائے اس کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑا ہوجائے اور ذرا کمزوری نہ دکھائے۔ جس کی سیرت ایسی ستھری اور بےلوث ہو کہ اپنے اور غیر کسی کو بھی اس سے خالص راست روی کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کا اندیشہ نہ ہو۔
شھید کے اصل معنی گواہ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دے۔ اللہ کی راہ میں لڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
خلاصہ تفسیر
اور جو شخص (ضروری احکام میں بھی) اللہ و رسول کا کہنا مان لے گا (گو تکثیر اطاعات سے کمال حاصل نہ کرسکے) تو ایسے اشخاص بھی (جنت میں) ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے (کامل) انعام (دین و قرب و قبول کا) فرمایا ہے، یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین (جو کہ انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے) اور شہدائ (جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دیدی) اور صلحائ (جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی اور مستحبات میں بھی جن کو نیک بخت دیندار کہا جاتا ہے) اور یہ حضرات (جس کے رفیق ہوں) بہت ثمرہ ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
تفسیر آیت 66۔ 70:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۔
منافقین کی بنیادی کمزوری : اب یہ ان منافقین کے اصل سبب نفاق سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ بننے کو تو اسلام کے مدعی بن بیٹھے ہیں لیکن ابھی یہ جاہلیت کے سابق روابط و تعلقات کے پھندوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں ابھی تک خاندان، برادری، قبیلہ اور قوم کی زنجیریں بھی ان کے پاؤں میں ہیں اور وطن اور سرزمین کی وابستگیاں بھی دامن گیر ہیں اس وجہ سے یہ آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69۔ 1 اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے۔ آدمی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی ' حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جتنی خوشی اس فرمان رسول ﷺ کو سن کر ہوتی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی رفاقت پسند کرتے تھے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فروتر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ ﷺ کی صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے۔ جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
44: مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا، جس کا ذکر سورة بقرہ (54) میں آیا ہے، اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیا جاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا، اب اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرلو، لہذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے صحیح معنی میں فرماں برادار بن جائیں۔
بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم تو ایسی فرماں برادار قوم ہیں کہ جب ہمارے آباؤ اجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(آیت) ” نمبر 69۔ 70 :
یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔
یہاں مناسب ہے…
Read the full tafseer →2 نبی وہ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے یعنی فرشتہ ظاہر میں آکر پیغام کہہ جائے اور صدیق وہ کہ جو پیغام اور احکام خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو آئے ان کا جی آپ ہی اس پر گواہی دے اور بلا دلیل اس کی تصدیق کرے اور شہید وہ کہ پیغمبروں کے حکم پر جان دینے کو حاضر ہیں اور صالح اور نیک بخت وہ کہ جن کی طبعیت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے۔ اور بری باتوں سے اپنے نفس اور بدن کی اصلاح اور صفائی کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چار قسمیں مذکورہ جو امت کے باقی افراد سے افضل ہیں ان کے ما سواء جو مسلمان ہیں اور درجہ میں ان کے برابر نہیں لیکن اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں مشغول ہیں وہ لوگ بھی انہیں کی شمار اور…
Read the full tafseer →فرمایا :
آیت 69 وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْن ج
وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا
یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کا شمار ان لوگوں کے زمرے میں ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ سورة الفاتحہ میں ہم نے یہ الفاظ پڑھے تھے : اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ آیت زیر مطالعہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ“ کی تفسیر ہے۔ ان مراتب کو ذرا سمجھ لیجیے۔ صالح مسلمان گویا baseline پر ہے۔ وہ ایک نیک نیت مسلمان ہے جس کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
99 منعم علیہم کون کون ہیں ؟ اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ فضیلت اور درجہ کے لحاظ سے بلند تر مقام رکھتے ہیں (1) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ (2) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔ (3) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ…
Read the full tafseer →201 ۔ دنیا کی مادی اور حسی نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، انسان ان سے لطف ولذت لینے میں کچھ کمی ہی محسوس کرتا ہے۔ اگر ساتھ ہی یاران بزم اور شرکاء صحبت بھی اپنے ہم مذاق اور دل پسند نہ ہوں، یہاں بشارت اسی نعمت عظیم کو مل رہی ہے کہ اہل جنت کو مادی وروحانی ہر قسم کی نعمتوں کے علاوہ صحبت بھی پاکیزہ ترین، بہترین، انسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے والوں کی نصیب ہوگی، (آیت) ” حسن اولئک رفیقا “۔ میں ایک پہلو حیرت کا بھی ہے اور ایس لئے ترجمہ ” کیسے اچھے “ سے کیا گیا ہے۔ فیہ معنی التعجب کانہ قیل وما احسن اولئک رفیقا (کشاف) (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ اس اطاعت کا تعلق احکام اور واجبات ضروری سے ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →ومن یطع اللہ والرسول اور جو لوگ اللہ اور رسول کے حکم پر چلیں گے یعنی اللہ کے فرائض ادا کریں گے اور رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کریں گے۔
فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے انعام سے سرفراز فرمائے گا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہداء اور نیک اعمال لوگ۔
طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے مسروق کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ نے عرض کیا تھا (اب تو تھوڑی دیر کے لئے بھی) آپ سے جدا رہنا ہمارے لئے مناسب نہیں کیونکہ وفات کے بعد تو آپ کو اتنے اونچے درجہ پر پہنچا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(69۔ 70) یہ آیت کریمہ حضرت ثوبان ؓ مولی رسول اکرم ﷺ کی فضیلت و بزرگی کے بیان میں نازل ہوئی کیونکہ ان کو رسول اکرم ﷺ سے حد درجہ محبت تھی، آپ کا دیدار کیے بغیر ان کو صبر نہیں آسکتا تھا، ایک مرتبہ یہ حاضر ہوئے اور رسول اکرم ﷺ نے ان کے چہرے کا رنگ فق دیکھا عرض کرنے لگے یا رسول اللہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہیں آخرت میں آپ کے دیدار سے محروم نہ ہوجاؤں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام اور افضل اصحاب نبی اکرم ﷺ اور شہداء وصالحین امت محمدیہ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور جنت میں حضرات انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
یہ صدق سے مبالغہ ہے، یعنی جو بہت سچا ہو۔ بعض نے کہا، جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ بعض نے کہا، صدیق وہ ہے کہ صدق کی عادت کی وجہ سے اس سے جھوٹ ناممکن ہو اور بعض نے کہا کہ جو اپنے اعتقاد اور قول میں سچا ہو اور اپنے فعل کے ساتھ اپنے صدق کو ثابت کرے۔ (مفردات) استاد محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ صدیق صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے والا ہو اور کبھی کسی معاملے میں خلجان اور شک اس کے دل میں پیدا نہ ہو، یا وہ جو رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے اسوہ بنے، اس اعتبار سے اس امت کے صدیق ابوبکر ؓ ہی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ابوبکر صدیق ؓ دوسرے افاضل صحابہ کے لیے نمونہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت نمبر : 69 تا 70۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا کہ اگر منافقین اس امر کو بجا لاتے جس کے ساتھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اور وہ اس کی طرف رجوع کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر انعام فرماتا۔ اس کے بعد ان کا ثواب ذکر فرمایا جو ایسا کرتا ہے۔ یہ آیت اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم “۔ کی تفسیر ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے اپنے وصال کے وقت کہا تھا : اللھم الرفیق الاعلی (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 939)
اے اللہ رفیق اعلی کی سنگت عطا فرما، اس سے یہی مراد ہے، بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(1) الطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں والضیاء المقدسی نے صفہ الجنۃ میں (اور اس کو حسن کہا) حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں اپنی جان سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں میں اپنی اولاد سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہ لوں۔ اور جب میں اپنی اور آپ کی موت کو یاد کرتا ہوں تو میں اس بات کو جانتا ہوں کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے تو نبیوں کے ساتھ بلند مرتبہ میں ہوں گے اور جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو نہ دیکھ سکوں نبی ﷺ نے ابھی اس…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّطِـعِ : اطاعت کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَالرَّسُوْلَ : اور ان رسول ﷺ کی ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ مَعَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے ] [ اَنْعَمَ : انعام کرے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلَیْہِمْ : جن پر ] [ مِّنَ النَّبِیّٖنَ : نبیوں میں سے ] [ وَالصِّدِّیْقِیْنَ : اور کامل سچوں میں سے ] [ وَالشُّہَدَآئِ : اور شہیدوں میں سے ] [ وَالصّٰلِحِیْنَ : اور نیک لوگوں میں سے ] [ وَحَسُنَ : اور اچھے ہوئے ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ رَفِیْقًا : بطور رفیق کے ]
رق
رَفُقَ ۔ یَرْفُقُ (ک) رَفَاقَۃً : ساتھی ہونا ‘ نرمی سے پیش آنا۔
رَفِیْقٌ (فَعِیْلٌ کے وزن پر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے والوں کے لیے بشارت عظیمہ
اوپر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور فرمانبر داری کا ذکر ہے یہاں بطورقاعدہ کلیہ فرمانبرداروں کا عظیم مرتبہ ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبر داری کا یہ صلہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہو۔
صاحب معالم التنزیل (صفحہ 450: ج 1) لکھتے ہیں کہ حضرت ثوبان ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کو رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ کی زیارت کے بغیر صبر نہیں کرسکتے تھے۔ ایک دن حاضر خدمت ہوئے تو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
48 یہ دل و جان سے ماننے والے مخلص مومنین کیلئے اخروی بشارت ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی اور ارشادات نبوی پر پورا پورا عمل کریں گے اور دل و جان سے ان کے احکام کے سامنے سر جھکا دیں گے قیامت کے دن جنت میں ان کو انبیاء علیہم السلام۔ صدیقین۔ شہداء اور نیک لوگوں کی معیت اور سنگت نصیب ہوگی اور وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے آدمی نبی بھی بن سکتا ہے کیونکہ رسالت و نبوت تو وہبی چیز ہے جو محض عطاء الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ہے کسب اور ریاضت اور کثرت عبادت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد ہے اللہ اَعْلَمُ حَیْچُ یَجْعَلُ رِسَالَتہ (انعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے اور اپنے معاملات کو طاغوت کے پاس لے جانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کی فلاح کا دارو مدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے ، جب تک وہ اللہ کے رسول کو اپنا حکم مقرر نہ کریں۔ وہ کامل الایمان نہیں ہو سکتے ، پھر فرمایا ، اگر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مشکل احکام نازل فرما دیتا جیسا کہ بنی اسرائیل کی توبہ کو ان کی جانوں کے قتل کے ساتھ مشروط کردیا تھا۔ تو لوگوں کے لیے بڑی دشواری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی مہربانی فرمائی کہ کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو تکلیف مالایطاق میں…
Read the full tafseer →وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ 0ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا 69ۭ
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ترکیب : ومن یطع شرط فاولئک جواب اور ممکن ہے کہ مبتداء او خبر ہوں من النبین بیان ہے الذین انعم اللّٰہ علیہم کا حسن کا فاعل اولئک رفیقا تمیز ذلک مبتداء الفضل خبر۔
تفسیر : اس سے پیشتر کئی ایک آیتوں میں پے در پے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی تاکید چلی آتی ہے اور ہر ایک جگہ اس اطاعت کا جداگانہ فائدہ بھی بیان ہوتا آیا ہے۔ چناچہ اس سے پہلی آیت میں چار فائدے بیان کئے تھے۔ (1) لکان خیرا لہم (2) واشد تثبیتا
کہ اس سے خوب ثابت قدمی حاصل ہوتی (3) واذ لاتیناھم الآیۃ (4) ولہدینا ھم اب اس آیت میں ایک اور سر لطیفہ کی طرف ایک بڑے فائدے کے ضمن میں اشارہ کرتا ہے۔
فائدہ : یہ کہ اللہ و رسول کی اطاعت کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ایک اہم حقیقت
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ الخ اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ روئے سخن منافقین کی طرف ہی ہے اگرچہ خطاب کسی کو نہیں۔ انھیں کو سنا کر کہا جا رہا ہے کہ تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہیں آج تک جن لوگوں کے ساتھ چلنے کا اتفاق ہوا ہے اور جن کی نسبتوں کو کسی طرح ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اور جن کی رفاقتیں تمہارے لیے حاصل زندگی ہیں ‘ وہ کس طرح کے اور کس قماش کے لوگ ہیں ؟ ان میں ایک ایک آدمی مال پر جان دینے والا ‘ حبِّ جاہ کا مریض ‘ اپنی ذات کے گنبد میں بند اور اپنی ہی قوم کے حصار میں محدود رہنے والا ہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی عصبیتیں ہیں ‘ جنھیں وہ چھوڑنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
فہم القرآن
ربط کلام : اطاعت رسول کے دنیا میں فوائد اور قیامت کے دن اس کے ثمرات۔
رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ اور فرمان کو زندگی کے ہر شعبہ میں قطعی طور پر لائقِ اتباع اور باعث نجات سمجھنے والے کو دنیا اور آخرت کے آٹھ انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔
دنیا میں ہر اعتبار سے بھلائی کا حصول۔ ایمان پر ثابت قدمی کی توفیق۔ عظیم اجر۔ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ اور قیامت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت انبیاء، صدیق، شہداء اور صالح لوگوں کی رفاقت اور معیّت نصیب ہوگی۔ یہاں چار شخصیات کے حوالے سے درحقیقت چار قسم کے مراتب اور مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں لوگوں کی انہی چار مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی…
Read the full tafseer →خوب رفاقت والے :
آیت 69 : وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓپکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ (جو لوگ اللہ اور رسول کے حکم پر چلیں گے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہونگے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے انعام سے سرفراز فرمائے گا۔ یعنی انبیاء، صدیقین ٗ شہداء، صالحین)
جو ایسی اطاعت کرے گا جیسے انبیاء ( علیہ السلام) کے افضل صحابہ ؓ ۔
الصدیق نمبر 1۔ سچائی میں مبالغہ کرنے والا کہ اس کا ظاہری معاملہ بھی صدق والا ہو اور باطن کا صدق مراقبہ کے ساتھ ہو۔ نمبر 2۔ جو اپنے فعل سے قول کی تصدیق کرنے والا ہو۔ والشہدائ وہ لوگ جنہوں نے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 69۔:
(آیت)” ومن یطع اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ من النبیین “۔ یہ آیت آپ ﷺ کے غلام حضرت ثوبان کے متعلق نازل ہوئی ، یہ آپ ﷺ سے بےحد محبت کرتے تھے اور کم صبر تھے ایک دن آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ان کا چہرہ متغیر تھا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ کے غم کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نہ کوئی بیماری لاحق ہے اور نہ کوئی تکلیف ہے، صرف یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کو نہیں دیکھتا تو دل پریشان ہوجاتا ہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آجاتا ہوں ، پھر انہوں نے آخرت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ کی مجھ سے ملاقات نہ ہوسکے کیونکہ آپ تو نبیوں کے درجات میں بلند مقام پر ہوں گے اور اگر میں جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(69 ۔ 70) ۔ طبرانی ابن جریر ابی حاتم ابن مردویہ نے متعدد طریقوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھ لیتے ہیں جنت میں آپ تو عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے۔ اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر ہوں گے وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت میں اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجہ والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے۔ مرفوع حدیث 2 میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کئے ہوتے مثلاً ، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کرسکتے، پس انہیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے آسان ہے اور ان میں کسی کے لئے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہوجائیں، تاکہ اپنے رب کے لئے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
161 صراط مستقیم کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو ہم ضرور ڈال دیتے سیدھی راہ پر۔ سو " صراط مستقیم " یعنی " سیدھی راہ " بڑی ہی عظیم الشان راہ ہے کہ یہ راہ سعادت دارین کی کفیل وضامن ہے۔ یعنی اس سیدھی راہ پر جو انہیں دارین کی سعادتوں کی طرف لے جاتی۔ سو اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم ﷺ کے احکام و ارشادات کی اطاعت و فرمانبرداری، دارین کی سعادت و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ سے مراد وہی راہ ہے جو حضرات انبیائے کرام، صدیقین، شہدا اور صالحین کی راہ ہے۔ جیسا کہ اس سے متصل بعد والی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اللہ کے پسندیدہ بندے
تشریح : ان آیات میں انسانوں کی درجہ بندی کی گئی ہے اعمال، کردار اور اعتقادات کی نسبت سے، یعنی اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مخلوقات میں سے اکثر پر فضیلت دی اور پھر اس کی پرورش کے لیے تمام کائنات کو پیدا کردیا ہر قسم کی سہولیات، ہر قسم کے فائدے انسان کو جسمانی صحت کے لیے دیئے اور پھر روحانی صحت کے لیے اس کو ایسے اصول دیئے جو اس کو برائی سے بچا کر نیکی کی راہیں دکھاتے ہیں۔ یہ اصول کیسے دیئے ؟ کیونکہ بندہ نہ تو اللہ کو دیکھ سکتا ہے اور نہ آمنے سامنے بات کرسکتا ہے تو اس رابطے کے لیے اللہ نے کچھ ایسے اچھے انسان انسانوں میں سے ہی چن لیے جو اس قابل تھے کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
آیت نمبر 67 تا 70:
آپ ﷺ تو زندگی کی سہل ترین راہوں پہ چلنے کا حکم دیتے ہیں یعنی دین اسلام زندگی گذارنے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ کام کو کرنے کا درست انداز ہمیشہ آسان ہوتا ہے اور غلط انداز اس کی نسبت مشکل ہوتا ہے اور کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا سو زندگی تو بہرحال سب کو بسر کرنا ہے اگر آپ کے بتائے ہوئے نظریات اور قواعد کو اختیار نہیں کریں گے تو کوئی نہ کوئی دوسری راہ اپنانا پڑے گی جو نہ صرف مشکل ہوگی بلکہ دو عالم میں کبھی چین نصیب نہ ہوگا پھر کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو آپ کی اطاعت سے محروم رہیں حالانکہ آپ کی عظمت اور آپ کا مقام اس سے بہت بلند ہے اگر ہم آپ کی اطاعت کے ثبوت کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 3 صدیق یہ صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے ولا ہو اور کبھی کسی معاملہ میں خلجان اور رشک اس کے دل میں پیدا نہ ہو یا وہ جو رسول ﷺ کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسرے کے لیے اسوۃ بنے اس اعتبار سے اس امت کے صدیق حضرت ابوبکر ؓ ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ دوسرے افاضل صحابہ ؓ کے لیے نمومہ بنتے ہیں حضرت علی ؓ بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے اس لیے علما اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں شہدا یہ شہید کی جمع ہے اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(4:69) من ۔ بیانیہ ہے۔ حسن اولئک رفیقا۔ حسن بمعنی ما احسن تعجب کے لئے ہے۔ بظاہر حسن اولئک رفقاء چاہیے تھا ۔ علماء نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کی تقدیر کلام یہ ہے حسن کل واحد منھم رفیقا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ رفیق ۔ برید کے الفاظ واحد۔ جمع ۔ جنس سب معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے رفیق یہاں بمعنی رفقاء ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
آیت نمبر 65-70
لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔
اب حضور ﷺ نے دنیا سے پردہ…
Read the full tafseer →شان نزول : آنحضرت ﷺ سے آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ کرام نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو دیکھ لیتے ہیں مگر جنت میں تو آپ عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر دہوں گے، وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت مین اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجے والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے نبی وہ جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آوے۔ صدیق وہ جن میں وحی کی صداقت کا مداہ زیادہ ہو جیسے حضرت ابوبکر صدیق ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
[52] '' صدیقین '' یعنی بات کے کھرے اور معاملہ کے سچے، ایسے کہ سچائی اور حق پسندی گویا ان کی فطرت میں رچ بس گئی ہو اور طبیعت کا جزو بن گئی ہو۔ '' شہداء '' وہ لوگ ہیں جو دین کی خاطر اپنی جان دے دیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ جس چیز پر وہ ایمان لائے تھے وہ انہیں اس قدر عزیز تھی کہ اس کی خاطر انہوں نے اپنی جان تک قربان کردی۔ '' صالحین '' وہ لوگ ہیں جو دیندار اور پورے پابند شریعت ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
حسن رفاقت
(ف 1) آیت کے شان نزول میں معتدد واقعات بیان کئے جاتے ہیں ۔
1۔ ثوبان ؓ کا اشتیاق رفاقت یعنی اس کا دریافت کرنا کہ حضور ﷺ کیا ہم بھی شرف زیارت سے اس وقت محفوظ ہو سکیں گے جبکہ آپ ﷺ کے لئے ” مقام محمود “ کی بلندیاں مختص ہوں گی ؟ ثوبان ؓ حضور ﷺ کے ایک ادنی غلام تھے ۔
2۔ چند انصار کا پوچھنا کہ ہم کیونکہ آپ ﷺ کی معیت ورفاقت حاصل کرسکتے ہیں ؟
3۔ ایک عاشق رسول ﷺ انصاری کا کہنا کہ حضور ! ہم اس دنیا میں آپ ﷺ کی ادنی سی مفارقت گوارا نہیں کرسکتے ، قیامت کے دن کیا ہوگا چہرہ انور سے اکتساب مسرت کا موقع کیونکر ملے گا ؟
4۔ عام مسلمانوں کا مطالبہ رفاقت وصحبت :
مقصد بہرحال یہ ہے کہ جذبہ اطاعت سے سرشار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ف 2 اور اگر ہم لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو اور خودکشی کردیا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جائو اور وطن سے بےوطن ہو جائو تو سوائے معدودے چند اور تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے اس حکم کی کوئی بھی تعمیل نہ کرتا اور اگر یہ منافق جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے یعنی رسول کی کامل اطاعت اور ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور ایمان کی تکمیل کے اعتبار سے پختہ اور مضبوط کرنے والا ہوتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مالک کے حکم میں تو جان تک دریغ نہ کرنا چاہئے اگر اللہ ویسے حکم کرتا تو یہ منافق کب کرسکتے یہ حکم تو نصیحت کے ہیں انہیں پر چلیں تو نفاق جاتا رہے اور مومن ہوجاویں غنیمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 6۔ اوپر اللہ و رسول کی اطاعت پر خاص مخاطبین سے وعدہ تھا آگے بطور قاعدہ کلیہ کے اللہ و رسول کی اطاعت پر عام وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اصل ثمرہ :
123: جو لوگ سب سے کٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان کو اللہ کے انعام یافتہ بندوں انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کی معیت ورفاقت حاصل ہوتی ہے اور کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو اس پاک گروہ کی معیت ورفاقت حاصل ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس فضل خاص ہے اور اللہ اس فضل خاص کے مستحق بندوں سے بیخبر نہیں ہے جو لوگ اس فضل کے حاصل کرنے کے لئے ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیلیں گے وہ مطمئن رہیں کہ اللہ ان کی جاں بازیوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور کے لئے خاص انعامات رکھے گئے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
1.Siddiq, lexically means 'very truthful'. In the Islamic terminology, it normally refers to those Companions of a prophet who excel all others in their submission to Allah and His Messenger. They enjoy the highest status of piety after the Prophets, like Sayyidna Abu Bakr ؓ
2. Shuhada (plural of Shahid) means the persons who sacrificed their lives in the way of Allah. The word has not been translated here by the word 'martyr` which sometimes is taken as an equivalent of Shahid, because the word 'martyr' is also applied for the persons killed in ethnic or racial wars while they may not be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
99. Siddiq denotes someone who is utterly honest, someone whose devotion to truth has reached a very high point. Such a person is always upright and straightforward in his dealings. He supports nothing but right and justice and does so with sincerity. He opposes whatever is contrary to truth, and does not waver in his opposition to falsehood. His life is so unblemished and selfless that even enemies, let alone friends, expect of him unadulterated probity and justice.
The term shahid (pi. shuhada') means 'witness'. It signifies one who attests to the truth of his faith with his whole life. He…
Read the full tafseer →