Explained with ayahs 66–70
عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت
اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس قوت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لئے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبردی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقینا ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 98
یعنی جب وہ شک چھوڑ کر ایمان و یقین کے ساتھ رسول کی اطاعت کا فیصلہ کرلیتے تو اللہ کے فضل سے ان کے سامنے سعی و عمل کا سیدھا راستہ بالکل روشن ہوجاتا اور انہیں صاف نظر آجاتا کہ وہ اپنی قوتیں اور محنتیں کس راہ میں صرف کریں جس سے ان کا ہر قدم اپنی حقیقی منزل مقصود کی طرف اٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
خلاصہ تفسیر
اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات (بطور احکام مقصودہ کے) فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو یا اپنے وطن سے بےوطن ہوجایا کرو تو بجز معدودے چند لوگوں کے (جو مومن کامل ہوتے) اس حکم کو کوئی بھی نہ بجالاتا (اس سے ثابت ہوا کہ کمال اطاعت کرنے والے کم ہوتے ہیں) اور اگر یہ (منافق) لوگ جو کچھ ان کو (اطاعت رسول بجان دل کی) نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لئے (دنیا میں تو بوجہ استحقاق ثواب کے) بہتر ہوتا اور (نیز با اعتبار تکمیل دین کے ان کے) ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا (کیونکہ تجربہ سے ثابت ہوا کہ دین کا کام کرنے سے خود باطنی کیفیت اعتقاد و یقین کو ترقی ہوتی ہے) اور اس حالت میں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
تفسیر آیت 66۔ 70:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۔
منافقین کی بنیادی کمزوری : اب یہ ان منافقین کے اصل سبب نفاق سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ بننے کو تو اسلام کے مدعی بن بیٹھے ہیں لیکن ابھی یہ جاہلیت کے سابق روابط و تعلقات کے پھندوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں ابھی تک خاندان، برادری، قبیلہ اور قوم کی زنجیریں بھی ان کے پاؤں میں ہیں اور وطن اور سرزمین کی وابستگیاں بھی دامن گیر ہیں اس وجہ سے یہ آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
66۔ 1 آیت میں انہی نافرمان قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا جا رہا ہے کہ اگر انہیں حکم دیا جاتا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو، جب یہ آسان باتوں پر عمل نہیں کرسکے تو اس پر عمل کس طرح کرسکتے تھے ؟ یا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق ان کے بابت فرمایا جو یقینا واقعات کے مطابق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سخت حکموں پر تو یقینا مشکل ہے لیکن اللہ تعالیٰ بہت شفیق اور مہربان ہے اور اس کے احکامات بھی آسان ہیں۔ اس لیے اگر وہ ان حکموں پر چلیں جن کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور ثابت قدمی کا باعث ہو۔ کیونکہ ایمان اطاعت سے زیادہ اور معصیت سے کم ہوتا ہے نیکی سے نیکی کا راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
44: مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا، جس کا ذکر سورة بقرہ (54) میں آیا ہے، اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیا جاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا، اب اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے احکام کو دل وجان سے تسلیم کرلو، لہذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے صحیح معنی میں فرماں برادار بن جائیں۔
بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم تو ایسی فرماں برادار قوم ہیں کہ جب ہمارے آباؤ اجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔
اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔
قتل نفس اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
1 یعنی سب کی جانوں کا مالک چونکہ خدا تعالیٰ ہے اس لئے اس کے حکم میں کسی کو جان سے بھی دریغ نہ کرنا چاہئے۔ سو اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو کہیں اپنی جانوں کے ہلاک کر ڈالنے اور جلا وطن ہوجانے کا حکم فرما دیتا جیسے کہ بنی اسرائیل پر حکم کردیا تھا تو بجانہ لاتے اس حکم کو مگر گنے چنے صرف سچے اور پکے ایمان والے۔ یہ منافق ایسے حکم پر کیسے عمل کرسکتے تھے۔ اب ان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کو ہم نے جو حکم دے رکھے ہیں وہ محض ان کی نصیحت اور خیر خواہی کے ہیں نہ جان کی ہلاکت کا حکم دیا گیا نہ جلا وطن ہونے کا۔ اگر انہی آسان اور سہل حکموں پر چلیں تو نفاق بالکل جاتا رہے اور خالص مسلمان ہوجائیں مگر افسوس سمجھتے نہیں…
Read the full tafseer →آیت 68 وَّلَہَدَیْنٰہُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا
اکثر مفسرین نے اس آیت کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے آپ کو قتل کرو ‘ خود کشی کرو ‘ تو ہمیں یہ کرنا ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو نکلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ومالک ہے۔ اس کی طرف سے دیا گیا ہر حکم واجب التعمیل ہے۔ البتہ اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ کے الفاظ میں ایک مزید اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 54 میں ہم تاریخ بنی اسرائیل کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی ان کو مرتد ہونے کی جو سزا دی گئی تھی اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
98 یعنی ایسے منافقین جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگر ہم کسی بنا پر ان پر قتل واجب کردیتے جیسا کہ بچھڑا پوجنے والوں پر واجب کیا تھا یا یہاں (مدینہ) سے کسی اور جگہ نقل مکانی یا ہجرت کرنے کو کہتے تو اس قسم کی قربانیاں یہ لوگ کیسے بجا لاسکتے تھے ؟ اور اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے تو ان کی منزل مقصود قریب تر ہوجاتی اور یہ بہرحال فائدہ میں رہتے۔ یہاں دنیا میں بھی باوقار زندگی نصیب ہوتی اور آخرت میں بھی بڑے اجر کے مستحق ہوتے۔
Read the full tafseer →200 ۔ (کہ بےروک ٹوک سیدھے رضاء الہی کے مقام، جنت میں داخل ہوجائیں) اور عجب نہیں کہ اسی کی برکت سے دنیا میں بھی سعی وعمل کی صراط مستقیم ان پر خوب روشن ہو کر رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →ولہدینہم صراطا مستقیما اور ہم ان کو ضرور سیدھا راستہ بتا دیتے جس پر چل کر وہ بارگاہ قدس تک پہنچ جاتے۔
طبرانی نے قابل قبول سند سے اور ابو نعیم و ضیاء نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آجاتی ہے تو جب تک حاضر ہو کر شرف زیارت حاصل نہ کرلوں قرار نہیں آتا لیکن جب مجھے اپنی اور آپ ﷺ کی موت کا تصور ہوتا ہے تو جانتا ہوں کہ (مرنے کے بعد یہ شرف زیارت حاصل نہ ہو سکے گا کیونکہ) آپ جنت میں انبیاء کے ساتھ اونچے درجہ میں ہوں گے اور میں اگر جنت میں پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(66۔ 67۔ 68) جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا اگر اسی طرح ان لوگوں پر بھی ہم یہ بات فرض کردیتے تو مخلص لوگوں کے علاوہ جن کے رئیس ثابت بن قیس بن شماس انصاری ہیں اور کوئی بھی اس کو خوشی سے بجا نہ لاتا۔
اور اگر یہ منافقین توبہ اور اخلاص پر عمل کرتے تو یہ چیز آخرت میں بھی ان کے لیے بہتر ہوتی اور دنیا میں بھی ان کے ایمان کو اور پختہ کرتی اور جس چیز کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا، اگر یہ اس کی بجا آوری کرتے تو جنت میں ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے اور دنیا میں بھی ایسے دین کے یہاں پسندیدہ ہے یعنی دین اسلام پر ان کو پختگی عطا کرتے۔
شان نزول : (آیت) ”ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ان آیات کا تعلق بھی منافقین سے ہے، ان میں انھیں اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، (مگر یہ ایسے ہیں کہ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اسے کب بجا لانے والے تھے، جو حکم ہم نے انھیں دیے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں، نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں، نفاق جاتا رہے گا، ایمان کامل نصیب ہوگا اس کو غنیمت سمجھیں۔ (موضح)
2 ابن عاشور فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ تمہید ہے جہاد کے ان احکام کی جو ساتھ ہی شروع ہو رہے ہیں :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
آیت نمبر : 66 تا 68۔
ان آیات کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس اور ایک یہودی نے باہم تفاخر کیا، یہودی نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم پر اپنے آپ کو قتل کرنا فرض کیا گیا تھا ہم نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
اور ہمارے مقتول ستر ہزار تک پہنچ گئے ثابت نے کہا اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہم پر فرض کرتا تو اپنے آپ کو قتل کرو تو ہم ایسا کرتے۔ ابو اسحاق السبیعی نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی ؛ (آیت) ” ولو انا کتبناعلیہم “۔ تو ایک شخص نے کہا : اگر ہمیں حکم دیا جاتا تو ہم ایسا کرتے، سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمیں عافیت دی، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ سے مراد یہودی ہیں (جن کو آپس میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا) اگر عربوں کو بھی اس کے حکم دیا جاتا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو خنجروں سے قتل کریں۔
(2) عبد بن حمید وابن المنذر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم “ ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بارے میں یہ بھی نازل ہوئی ” واتوا حقہ یوم حصادہ “ نازل ہوئی۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) وسلم اس آیت کے بارے میں روایت…
Read the full tafseer →[ وَّلَـہَدَیْنٰـہُمْ : اور ہم ضرور ہدایت دیتے ان کو ] [ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا : ایک سیدھے راستے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
جانوں کے قتل کرنے اور گھروں سے نکلنے کا حکم ہوتا تو تھوڑے افراد عمل کرتے
اوپر کی آیات میں یہ بتایا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہر فیصلے پر بلا چون و چرا سچے دل سے راضی ہو اور دل میں ذراسی بھی تنگی محسوس نہ کرے۔ اور اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان کو جو حکم دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی فرمانبر داری کریں اور آپ کے حکم کو تسلیم کریں اور آپ کے فیصلہ پر راضی ہوجائیں یہ کوئی ایسی مشکل چیز نہیں ہے جس پر عمل نہ ہو سکے۔ اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کرو (جیسا کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے بطور توبہ جانوں کے قتل کرنے کا حکم ہوا تھا) یا یہ حکم دیتے کہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
47 یہاں ایمان کیلئے تین شرطیں بیان کی گئی ہیں۔ اول حَتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ آپ کو فیصل مانیں دوم لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں۔ سوم وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً آپ کے فیصلے کے خلاف زبان پر گلہ کا کوئی لفظ نہ لائیں حاصل یہ کہ صرف زبانی اقرار سے مومن نہیں بن سکتے۔ جب زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر بھی پیغمبر خدا ﷺ کو فیصل نہ مانیں گے۔ اور آپ کا فیصلہ دل سے قبول نہیں کریں گے اور فیصلہ اپنے خلاف ہونے کی صورت میں کبیدہ خاطر اور دل میں رنجیدہ نہیں ہوں گے اور نہ زبان پر حرف شکایت لائیں گے اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے۔ وَ لَوْا اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں منافقین کی مذمت بیان ہوئی تھی کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ، دین اور کتاب کی طرف آؤ اور اس کے رسول سے اپنے تنازعات کا تصفیہ کراؤ تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ جھوٹے بہانے کرتے ہیں قسمیں اٹھاتے ہیں مگر یہ چیزیں انجام کے اعتبار سے ان کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اس کے بعد گزشتہ درس میں رسول خدا کی اطاعتِ کی فرضیت کا تذکرہ تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ اللہ کے نبی اور رسول ہوتے ہیں ، لہٰذا ان کا اتباع ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ خدا کی رضا حاصل ہو سکتی ہے اور نہ انسان کامیاب ہو…
Read the full tafseer →وَّلَہَدَيْنٰھُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا 68
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی،
وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ترکیب : الا لیطاع موضع نصب میں ہے مفعول لہ ہو کر اور لام ارسلنا سے متعلق ہے۔ باذن اللّٰہ موضع حال میں ہے یطاع سے اور مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے ای بسبب امر اللہ ولوانہم شرط اذ اس میں خبر ان عامل ہے جو جائوک ہے لوجدوا اللّٰہ جملہ جواب شرط فلا وربک لایومنون میں اول لا زائدہ ہے والتقدیر فوربک لا یؤمنون اور ممکن ہے کہ دوسرا زائدہ ہو اور قسم نفی اور منفی کے درمیان واقع ہو۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ جب ان کو رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ باوجود ادعائے ایمان کے اس سے اکڑتے ہیں۔ یہاں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ان کو رسول سے انحراف نہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ رسول دنیا میں اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ مَّا فَعَلُوْہُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْہُمْ ط وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوْا مَایُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَـکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِیْتًا لا وَّ اِذًا لَّاٰ تَیْنٰـہُمْ مِّنْ لَّدُنَّـآ اَجْرًا عَظِیْمًا لا وَّ لَھَدَیْنٰـہُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْـقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ ج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ط ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین مشکل حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لوگوں پر ایسے احکام نازل کیے جو نرمی اور آسانی پر مبنی ہیں۔ اگر یہ احکام سخت اور مشکل ہوتے تو لوگوں کو ان پر عمل کرنا دشوار اور ناممکن ہوتا۔ اس صورت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے جگر گوشوں کو گھروں سے نکال دینے کا حکم دیتے یعنی جو نافرمان اور سرکش ہیں انہیں قتل کرنے یا گھروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیتے تو چند لوگوں کے سوا کوئی بھی ان پر عمل نہ کرسکتا۔ یا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر شرک کی یہ سزا تجویز کی گئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →آیت 68 : وَلَہَدَیْنٰہُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (اور ضرور ان کی ہم راہنمائی کرتے سیدھے راستہ کی طرف) ہدایت سے یہاں مراد دین پر ثابت قدمی دینا ہے۔
نحو : ہم مفعول اول اور صراطًا مستقیما مفعول ثانی ہے۔
Read the full tafseer →68۔ ” ولھدینا ھم صراطا مستقیما “۔ اس سے مراد صراط مستقیم ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
(66 ۔ 68) ۔ اوپر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کی تاکید اور طرح سے فرمائی۔ تفسیر سدی وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول کی بابت جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان میں سے کسی نے بعض مسلمانوں کے روبرو ذکر کیا کہ ہمارے بڑوں پر بچھڑا پوجنے کی توبہ قتل قرار پائی۔ اور ہمارے بڑوں نے اس پر عمل کیا۔ مسلمانی شریعت میں تو ایسا سخت حکم کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اس کا جواب دیا کہ ہمارے اوپر بھی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کئے ہوتے مثلاً ، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کرسکتے، پس انہیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے آسان ہے اور ان میں کسی کے لئے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہوجائیں، تاکہ اپنے رب کے لئے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انہوں نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
161 صراط مستقیم کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو ہم ضرور ڈال دیتے سیدھی راہ پر۔ سو " صراط مستقیم " یعنی " سیدھی راہ " بڑی ہی عظیم الشان راہ ہے کہ یہ راہ سعادت دارین کی کفیل وضامن ہے۔ یعنی اس سیدھی راہ پر جو انہیں دارین کی سعادتوں کی طرف لے جاتی۔ سو اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم ﷺ کے احکام و ارشادات کی اطاعت و فرمانبرداری، دارین کی سعادت و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ سے مراد وہی راہ ہے جو حضرات انبیائے کرام، صدیقین، شہدا اور صالحین کی راہ ہے۔ جیسا کہ اس سے متصل بعد والی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا جارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اللہ کے احکامات مشکل نہیں
تشریح : ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو تو کوئی مشکل کام نہیں کہا گیا جیسا کہ پہلی امتوں کو کہا گیا تھا ان کی طرح اگر ان کو رسول یا اللہ یہ حکم دیتے کہ اپنے گلے کاٹ لو اور یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو یہ لوگ اس پر ہرگز عمل نہ کرتے شاید تھوڑے سے لوگ حکم مان لیتے۔ ان لوگوں کو تو بہت ہی آسان احکامات دیئے گئے ہیں، اس لیے ان کو چاہیے کہ خوش دلی اور پورے ذوق و شوق سے تمام احکامات کو مانیں ان کو جو احکامات دیئے گئے ہیں وہ نہ صرف آسان ہی ہیں، بلکہ بےحد فائدہ مند اور بہترین اجر وثواب کے موجب بھی ہیں۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا : اگر یہ لوگ ان کو مان لیتے تو میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
آیت نمبر 67 تا 70:
آپ ﷺ تو زندگی کی سہل ترین راہوں پہ چلنے کا حکم دیتے ہیں یعنی دین اسلام زندگی گذارنے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ کام کو کرنے کا درست انداز ہمیشہ آسان ہوتا ہے اور غلط انداز اس کی نسبت مشکل ہوتا ہے اور کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا سو زندگی تو بہرحال سب کو بسر کرنا ہے اگر آپ کے بتائے ہوئے نظریات اور قواعد کو اختیار نہیں کریں گے تو کوئی نہ کوئی دوسری راہ اپنانا پڑے گی جو نہ صرف مشکل ہوگی بلکہ دو عالم میں کبھی چین نصیب نہ ہوگا پھر کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو آپ کی اطاعت سے محروم رہیں حالانکہ آپ کی عظمت اور آپ کا مقام اس سے بہت بلند ہے اگر ہم آپ کی اطاعت کے ثبوت کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 3 صدیق یہ صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے ولا ہو اور کبھی کسی معاملہ میں خلجان اور رشک اس کے دل میں پیدا نہ ہو یا وہ جو رسول ﷺ کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسرے کے لیے اسوۃ بنے اس اعتبار سے اس امت کے صدیق حضرت ابوبکر ؓ ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ دوسرے افاضل صحابہ ؓ کے لیے نمومہ بنتے ہیں حضرت علی ؓ بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے اس لیے علما اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں شہدا یہ شہید کی جمع ہے اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(4:67) اذا۔ حرف جزا ہے۔ جواب شرط۔ جزا کے لئے آتا ہے تب۔ اس وقت۔ (دیکھو 4:53) اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف کی صورت میں بدل لیتے ہیں۔ یہاں اذا۔ وہ جواب ہے جس کا سوال مقدر ہے۔ جیسے کہ سوال ہے کہ اس خیر انھم اور اشد تثبیتا کے بعد پھر کیا ہوتا تو جواب ہے۔ تو پھر ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے۔
من لدنا۔ ہماری طرف سے لدن ظرف زمان ہے تو نہایت وقت کی ابتداء پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس مقیم رہا ابتداء طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔
ظرف مکان بھی ہے جس کا معنی ہے پاس۔ طرف ۔ قرآن حکیم میں عموماً اسی کا استعمال ہے مثلاً آیۃ ہذا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
آیت نمبر 65-70
لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔
اب حضور ﷺ نے دنیا سے پردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرمانبردری لازم کردی ہے ، وہ بھی ایسے مسلمانوں سے پوری نہیں ہوسکتی جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا ۔ ایسی حالت میں قتل نفس یا جلا وطنی کا کوئی حکم حال کی شریعت میں نازل ہوتا تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے ۔ پھر فرمایا حال کی شریعت میں جن باتوں کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے ۔ اگر حال کے مسلمان نیک نیتی سے اسی کی پوری پابندی کریں گے تو ان کی بہتری اور ان کی فرمانبرداری کی مضبوطی کی نشانی ہے ، اور جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھے گا ، اور ان کے تھوڑے سے عملوں کا بہت سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
[51] رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کا حَکَم بننا تو ظاہر ہی تھا۔ بعد وفات آپ کی لائی ہوئی شریعت حَکَم بننے کے لئے کافی ہے چناچہ فقہاء نے اس آیت سے استنباط کیا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول کے حَکَم میں کسی قسم کا شک و شبہ کرے یا ماننے سے انکار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : لا یومن احدکم حتی
یکون ھواہ تبعالما جئت بہ (تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہو جسے میں لے کر آیا ہوں) ۔ سورة نحل آیت 44 صفحہ 608، سورة قیامہ آیت 19 صفحہ 1460۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(ف 2) ان آیات میں نفاق و ایمان کی نفسیات بیان فرمائی ہیں کہ منافق میدان جہاد میں سربکف نہیں نکل سکتے اور تثبت و استقلال کی نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں ، یہ اس لئے کہ جہاد وقربانی موقوف ہے جذبہ ایمان وایقان کی مضبوطی پر اور وہ دل جن میں ایمان کی شمع فروزاں کبھی روشن ہی نہیں ہوئی ، کیونکر ایثار وتضحیہ کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں ، پس جہاد و ہجرت اور ایثار وقربانی معیار ہے ایمان کی گہرائیوں کا جس درجہ کوئی نفس زکیہ پرجوش اور مجاہد ہے اسی درجہ اس کا قلب ایمان کی نعمتوں سے مالا مال ہے اور جس قدر اس میں دون ہمتی اور بزدلی ہے وہ نفاق ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ف 2 اور اگر ہم لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو اور خودکشی کردیا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جائو اور وطن سے بےوطن ہو جائو تو سوائے معدودے چند اور تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے اس حکم کی کوئی بھی تعمیل نہ کرتا اور اگر یہ منافق جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے یعنی رسول کی کامل اطاعت اور ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور ایمان کی تکمیل کے اعتبار سے پختہ اور مضبوط کرنے والا ہوتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مالک کے حکم میں تو جان تک دریغ نہ کرنا چاہئے اگر اللہ ویسے حکم کرتا تو یہ منافق کب کرسکتے یہ حکم تو نصیحت کے ہیں انہیں پر چلیں تو نفاق جاتا رہے اور مومن ہوجاویں غنیمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 6۔ اوپر اللہ و رسول کی اطاعت پر خاص مخاطبین سے وعدہ تھا آگے بطور قاعدہ کلیہ کے اللہ و رسول کی اطاعت پر عام وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →اس طرح دین کی شاہراہ پر وہ بھی گامزن ہوجاتے :
122 : ” اور ہم ان کو ایسی راہ پر لگا دیتے جو سیدھی راہ ہوتی۔ “ اور اس طرح وہ بےدھڑک سیدھے رضائے الہٰی کے مقام جنت میں داخل ہوجاتے اور عجب نہیں کہ اس کی برکت سے دنیا میں بھی سعی وعمل کی راہ مستقیم ان پر خوب روشن ہوجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
The present verses and those appearing immediately earlier were revealed in the background of an incident relating to Bishr, the hypocrite. As we already know, he had first proposed Ka'b Ibn Ashraf, the Jew as the adjudicator of his dispute, but, later on, mutual discussions forced him to go to the Holy Prophet ﷺ for this purpose.
Since the judgment of the Holy Prophet ﷺ was against him, he did not accept it and went to Sayyidna ` Umar ؓ for a totally fresh decision.
When the news of this incident got around in the city of Madinah, the Jews chided Muslims by saying: 'What sort of people you…
Read the full tafseer →98. By giving up uncertainty, and deciding with complete faith and conviction to follow the Prophet (peace be on him), the straight path of their endeavours would have opened up before them. They would have been able to perceive clearly the channels into which their energies should be directed, so that each step they took would be a step towards the true goal.
Read the full tafseer →