Explained with ayahs 71–74
طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو
اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچاؤ کے اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہوجائے۔ ضرورت کے ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے رہیں قوت مضبوط کرتے رہیں منظم مردانہ وار جہاد کے لئے بیک آواز اٹھ کھڑے ہوں چھوٹے چھوٹے لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے ہی ہوشیار رہیں کہ منافقین کی خصلت ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں، جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 101
واضح رہے کہ یہ خطبہ اس زمانہ میں نازل ہوا تھا جب احد کی شکست کی وجہ سے اطراف و نواح کے قبائل کی ہمتیں بڑھ گئیں تھیں اور مسلمان ہر طرف سے خطرات میں گھر گئے تھے۔ آئے دن خبریں آتی رہتی تھیں کہ فلاں قبیلے کے تیور بگڑ رہے ہیں، فلاں قبیلہ دشمنی پر آمادہ ہے، فلاں مقام پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ پے در پے غداریاں کی جا رہی تھیں۔ ان کے مبلغین کو فریب سے دعوت دی جاتی تھی اور قتل کردیا جاتا تھا۔ مدینہ کے حدود سے باہر ان کے لیے جان و مال کی سلامتی باقی نہ رہی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے ایک زبردست سعی و جہد اور سخت جاں فشانی کی ضرورت تھی تاکہ ان خطرات کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (کافروں کے مقابلہ میں) اپنی تو احتیاط رکھو (یعنی ان کے داؤ گھات سے بھی ہوشیار رہو اور مقاتلہ کے وقت سامان، ہتھیار ڈھال اور تلوار سے بھی درست رہو) پھر (ان سے مقاتلہ کے لئے) متفرق طور پر یا مجتمع طور پر (جیسا موقع ہو) نکلو اور تمہارے مجمع میں (جس میں بعض منافقین بھی شامل ہو رہے ہیں) کوئی شخص ایسا ہے (مراد اس سے منافق ہے) جو (جہاد سے) ہٹا ہے (یعنی جہاد میں شریک نہیں ہوتا) پھر اگر تم کو کوئی حادثہ پہنچ گیا (جیسے شکست وغیرہ) تو (اپنے نہ جانے پر خوش ہو کر) کہتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ لڑائی میں حاضر نہیں ہوا نہیں تو مجھ پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آگے کا مضمون۔ آیات 71۔ 76: وہی اوپر والا مضمون آگے چل رہا ہے۔ خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن تبصرہ انہی منافقین کے رویے پر ہے جن کی بابت اوپر فرمایا ہے کہ یہ اسلام کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی چوٹ کھانے اور ہجرت و جہاد کی آزمائشوں سے گزرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے لیس ہونے اور جنگ کے لیے اٹھنے کا حکم دیا۔ فرمایا کہ اگر جماعتی حیثیت سے جنگ کے لیے اٹھنے کی ضرورت پیش آئے تو جماعتی شکل میں اٹھو اور اگر ٹکڑیوں اور دستوں کی شکل میں نکلنے کا موقع ہو تو ٹکڑیوں اور دستوں کی صورت میں نکلو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ اس کے بعد منافقین کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →71۔ 1 حِذْرَکُمْ (اپنا بچاؤ اختیار کرو) اسلحہ اور سامان جنگ اور دیگر ذرائع سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
45: یعنی وہ کسی کو یہ فضیلت معاذ اللہ بیخبر ی کے ساتھ نہیں دیتا بلکہ ہر شخص کے عملی حالات سے باخبر ہو کردیتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
(آیت) ” 71 تا 74۔
یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی…
Read the full tafseer →4 یہاں سے جہاد کا ذکر ہے اس سے پہلی آیت میں یہ ذکر تھا کہ جو اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اس کو انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت انعام میں ملے گی اور احکام خداوندی میں حکم جہاد چونکہ شاق اور دشوار ہے خصوصاً منافقین پر جن کا ذکر اوپر سے آرہا ہے اس لئے جہاد کا حکم فرمایا کہ ہر کوئی حضرات انبیاء صدیقین وغیرہم کی رفاقت اور معیت کی امید نہ کرنے لگے۔ منقول ہے کہ شروع اسلام میں بہت سے ضعیف الاسلام بھی دعوت اسلامی کو قبول کرچکے تھے پھر جب جہاد فرض ہوگیا تو بعض متزلزل ہوگئے اور بعض کفار کے ہم زبان ہو کر آپ کی مخالفت کرنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو !…
Read the full tafseer →اب ذکر آ رہا ہے قتال فی سبیل اللہ کا۔ یہ دوسری چیز تھی جو منافقین پر بہت بھاری تھی۔ مادی اعتبار سے یہ بڑا سخت امتحان تھا۔ اطاعت رسول ﷺ زیادہ تر ایک نفسیاتی مرحلہ تھا ‘ ایک نفسیاتی الجھن تھی ‘ لیکن اپنا مال خرچ کرنا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ایک خالص محسوس مادی شے تھی۔
آیت 71 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا
یعنی جیسا موقع ہو اس کے مطابق الگ الگ دستوں کی شکل میں یا اکٹھے فوج کی صورت میں نکلو۔ رسول اللہ ﷺ موقع کی مناسبت سے کبھی چھوٹے چھوٹے گروپ بھیجتے تھے۔ جیسے غزوۂ بدر سے قبل آپ ﷺ نے آٹھ مہمیں روانہ فرمائیں ‘ جبکہ غزوۂ بدر…
Read the full tafseer →100 جنگ احد کے بعد مسلمانوں کی حالت اور احکام :۔ یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب مسلمان میدان احد میں ایک دفعہ شکست سے دو چار ہوچکے تھے اور ابو سفیان نے واپسی کے وقت اپنے خطبہ میں اپنی کامیابی کا اعلان بھی کیا تھا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ یہودیوں، منافقوں اور مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل کے حوصلے بڑھ گئے اور اسلام دشمنی میں اپنی کوششیں تیز تر کردی تھیں۔ بسا اوقات ایسی خبریں آتیں کہ اب فلاں قبیلہ جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے اور اب فلاں قبیلہ مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی دور میں مسلمانوں سے پے در پے غداریاں بھی کی گئیں۔ ان کے مبلغین کو فریب سے دعوت دی جاتی اور قتل کردیا…
Read the full tafseer →203 ۔ (جیسا موقع اور جیسی مصلحت ہو) قرآن مجید کی اکثر آیتوں کی طرح ان آیتوں کو بھی پوری طرح سمجھنے کے لئے ان کا پس منظر نظر رکھنا ضروری ہے۔ احد میں ابھی حال ہی میں مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی تھی اور مشرکین کی ٹوٹی ہوئی ہمتیں اس سے قدرۃ بڑھ گئی تھیں اور اکیلے قریش مکہ ہی نہیں گردوپیش کے دوسرے قبیلہ بھی متحد ہو کر اسلام کے خلاف زبردست محاذ تیار کرچکے تھے۔ مسلمانوں کی ہمت، ثبات و استقامت کے یہ درس عین اس وقت دیئے جارہے ہیں۔ (آیت) ” خذوا حذرکم “۔ حذر کا مفہوم بہت وسیع وجامع ہے۔ ہر چیز جو دشمن سے بچاؤ کے کام آتی ہے۔ اس میں شامل ہے۔ خواہ ہتھیار ہوں خواہ تدبیریں۔ وقس علی ھذا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے دشمنوں سے محتاط رہو یعنی ان سے احتیاطی تدابیر اختیار کرو اور ان سے بیدار مغز رہو پھر دشمن سے لڑنے کے لئے جماعتوں کی شکل میں یکے بعد دیگرے نکلویا اجتماعی طور پر نکلو اور یقیناً تم میں بعض وہ بھی ہیں جو نکلنے میں پس وپیش کرتے ہیں، یعنی لڑائی سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن ابیّ اور اس کے ساتھی، اور اس کو مومن ظاہر کے اعتبار سے کہا گیا ہے، اور لام، فعل پر قسمیہ ہے، اور پھر اگر تم کو کوئی مصیبت (نقصان) پہنچتی ہے مثلاً قتل اور شکست تو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ میں ان کے ساتھ (لڑائی) میں حاضر نہ ہو اور نہ تو میں مصیبت…
Read the full tafseer →یا یہا الذین امنوا خذوا حذرکم اے اہل ایمان اپنے بچاؤ کا سامان لے لیا کرو۔
(احتیاط رکھو) حَذَر : اور حذر : دونوں صحیح ہیں جیسے اَثَر اور اِثْر مَثَل : اور مِثْل۔ حذر : بچاؤ کی چیز کو کہتے ہیں جیسے اسلحہ وغیرہ۔
فانفروا ثبات او انفروا جمیعا . پھر (جہاد کو) نکلو متفرق ٹولیاں بنا کر یا نکلو اکٹھے ہو کر جیسی مصلحت ہو۔ ثبات : جمع ہے ثُبَۃٌکی ثُبَۃٌ: منفرد ٹولی۔ اس کی جمع ثُبِین : بھی آتی ہے۔ (1) [ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے انفرو اثبات یعنی دس اور دس سے زائد۔ مجاہد نے کہا چھوٹی ٹولیا۔ (از مفسر)]
Read the full tafseer →(71) ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے دشمن سے پوری طرح احتیاط رکھو، علیحدہ علیحدہ مت نکلو، بلکہ اکٹھے ہو کر جماعتوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلو۔
Read the full tafseer →اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی ترغیب کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا کہ اس اطاعت سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہوگی۔ اب اس آیت میں جہاد کا حکم فرمایا، جو سب سے مشکل اطاعت ہے اور کفار و منافقین سے پورا بچاؤ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حالات کے مطابق الگ الگ دستوں یا اکٹھے لشکر کی صورت نکلنے میں سے جو بہتر ہو اختیار کرو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 71۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم “۔ یہ محمدیہ میں سے مخلص مومنین کو خطاب ہے اور نہیں کفار سے جہاد کرنے، اللہ کے راستہ میں نکلنے اور شرع کی حمایت کرنے کا خطاب ہے ماقبل آیت سے اسکی نظم اور اتصال کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی طاعت کا ذکر کیا تو اہل طاعت کو دین کے احیاء اپنی دعوت کے اعلاء کے قیام کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ بلا سوچے سمجھے دشمن کی صفوں میں گھس نہ جائیں حتی کہ جو ہتھیار، سامان جنگ انکے پاس ہے اس کا خوب پتا لگا لیں اور جان لیں اور ان پر کیسے حملہ کریں، یہ انکے لیے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” خذوا حذرکم “ سے مراد ہے تم تیاری کرلو ہتھیاروں سے (یعنی اپنا اسلحہ لے لو) ۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فانفروا ثبات “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ ہو کر چھوٹے لشکروں کی صورت میں نکلو۔ ” او انفروا جمیعا “ یا سب اکٹھے نکلو۔
(3) الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” فانفروا اثبات “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے دس اور جو اس سے اوپر ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ خُذُوْا : تم لوگ پکڑوحِذْرَکُمْ : اپنے بچائو کے ہتھیار کو ] [ فَانْفِرُوْا : پھر تم لوگ نکلو ] [ ثُــبَاتٍ : گروہ در گروہ ] [ اَوِ : یا ] [ انْفِرُوْا : تم لوگ نکلو ] [ جَمِیْعًا : سب اکٹھا ]
نر
نَفَرَ ۔ یَنْفِرُ (ض) نَفْرًا : (1) کسی اہم کام کے لیے نکلنا ‘ جیسے سفر یا جنگ کے لیے۔ { وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّط قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاط } (التوبۃ :81) ” اور انہوں نے کہا مت نکلو گرمی میں۔ آپ کہہ دیجیے جہنم زیادہ سخت ہے بلحاظ گرمی کے۔ “ (2) نَفَرَ عَنْہُ : کسی چیز سے دور بھاگنا ‘ بدکنا ‘ نفرت…
Read the full tafseer →دشمنوں سے ہوشیار رہنے اور قتال کرنے کا حکم
ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ دشمنوں کی جانب سے چوکنے رہیں ہتھیار تیار رکھیں اور موقع کے مطابق نکل کھڑے ہوں، جہاں چھوٹی جماعتوں سے ضرورت پوری ہوتی ہو وہاں چھوٹی جماعتیں چلی جائیں اور جہاں بڑی جماعت کی ضرورت ہو وہاں بڑی جماعت چلی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
حکم بستم وجوب جہاد برائے احیاء دین وتخلیص ضعفاء ومظلومین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ تنکیلا۔
ربط) گذشتہ آیات میں اہل کتاب اور منافقین اور اعداء دین کی شرارتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں مسلمانوں کو ان سے جہاد کا حکم دیتے ہیں جو احیاء دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے بدسرشتوں کے قلع قمع کا بہترین طریقہ ہے جو مسلمان کافروں کے پنجہ ظلم میں بےطرح گرفتار ہیں ان کی خلاصی اور رہائی کی سبیل ہے اور جہاد فی سبیل اللہ اطاعت خدا اور رسول کا جس کا ماقبل ذکر تھا اعلی اور اکمال فرر ہے جس سے اندرونی اخلاص اور نفاق ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جہاد کا حکم منافقین پر بہت شاق اور گراں گذرتا ہے اسی وجہ…
Read the full tafseer →ٖف 49 دوسرا حکم سلطانی (اٹھو اور ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مشرکین سے جہاد کرو) حِذْرٌ سے جنگی ہتھیار مراد ہیں جیسا کہ امام مقاتل اور محمد باقر سے مروی ہے ای عدتکم من السلاح قالہ مقاتل وھو المروی عن ابی جعفر ؓ (روح ج 5 ص 79) اور ثبات جمع ثُبَۃٌ کی اور ثُبَۃٌ اس جماعت کو کہتے ہیں جس میں دس سے زیادہ آدمی ہوں (ایضا) اور فَانْفِرُوْا کی ضمیر سے حال ہے یعنی جب جہاد کی مہم درپیش ہو تو بلا توقف جہاد میں کود پڑو جیسا بن پڑے یا جیسا موقع و محل کے مناسب ہو سب مل کر دشمن پر حملہ کردو یا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں حملہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لزوم کا بیان تھا۔ اور اسے کامیابی کا ذریعہ بتلایا گیا تھا ، پھر اس اطاعت کے فوائد گنوائے گئے کہ اطاعت گزاروں کو نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کی معیت نصیب ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اس سے پیشر اطاعت ہی کے ضمن میں منافقین کا اعراض اور ان کی مذمت بیان ہوئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے تنازعات کا رُخ رسول خدا کی بجائے طاغوت کی طرف موڑتے ہیں پھر یہ بھی بیان ہوا کہ منافقین کے ساتھ کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا کیونکہ تقویٰ ہی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا 71
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ترکیب : ثبات جمع ثبۃ بمعنی جماعت اور اس کی اصل ثبوۃ اور تصغیر ثیۃ یہ حال ہے فانفروا سے اور اسی طرح جمیعا حال ہے لمن اسم ان لیبطئن من موصولہ یا موصوفہ اس کا صلہ یا صفت منکم خبران۔ فان اصابتکم شرط قال الخ جواب اذ ظرف ہے۔ انعم کا کان لم تکن بینکم وبینہ مودّۃ جملہ معترضہ ہے لیقولن اور اس کے مفعول یلیتنی الخ میں یہاں منادی محذوف ہے یا قوم لیتنی ابو علی ایسی جگہ منادی محذوف نہیں مانتے۔
تفسیر : جبکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم ہو مؤکد ہوچکا اور اس کے فوائد بیان ہوچکے کہ جن پر موافق حکم اللہ اور رسول کے پابندی اور اطاعت ضروری ہے بڑی اصل الاصول بات جہاد ہے۔ اس لئے اس تمہید کے بعد اس کا حکم…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُـبَاتٍ اَوِانْفِرُوْا جَمِیْعًا
(اے ایمان والو ! ہوشیار رہو (اپنے اسلحہ سنبھالو) اور جہاد کے لیے نکلوٹکڑیوں کی صورت میں یا جماعتی شکل میں) (النسآء : 71)
آیت کا پس منظر
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات کریمہ جنگ احد کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کے باعث بظاہر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کے ستر جلیل القدر اور بہادر صحابہ شہید ہوگئے۔ مشرکینِ مکہ اگرچہ اس شکست سے فائدہ نہ اٹھا سکے ‘ لیکن مدینہ کے اطراف و اکناف میں رہنے والے قبائل کے حوصلے ضرور بڑھ گئے۔ اور قریش کو بھی اپنا کھویا ہوا وقار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : اطاعت رسول کا حکم اور اس کے ثمرات بیان کرنے کے بعد جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ اطاعت رسول کرنے والے جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔
اسلام اور کفر کی پندرہ سالہ کشمکش اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ معرکۂ بدر میں مسلمانوں کو بےمثال کا میابی حاصل ہوئی اور احد میں کفار کا پلڑا بھاری رہا۔ جس سے کفار اور یہود و نصارٰی کے حوصلے اس قدر بلند ہوئے کہ وہ سوچنے لگے کہ مسلمانوں کو ختم کرنا ناممکن کام نہیں لہٰذا اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے کہ ایک فریق ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوجائے۔ اس بنا پر اہل مکہ اور یہود نے مدینہ کی چاروں جانب سازشوں کے جال بننا شروع کردیئے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کو…
Read the full tafseer →آیت 71 : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ (اے ایمان والو ! اپنے بچائو کا سامان لے لیا کرو) احتیاط کرو اور دشمن سے بچو۔
صرف ولغت :
الحِذْر اور الحَذَر۔ ایک معنی رکھتے ہیں یعنی بچنا۔ ان کی نظیر اثر اور اَثَرکا لفظ ہے۔ محاورہ ہے۔ اخذ حذرہ۔ جبکہ وہ محتاط ہوجائے۔ اور خوف زدہ چیز سے بچ جائے۔ گویا اس نے احتیاط کو ایسا آلہ بنایا جس سے اس نے اپنے نفس کو بچا لیا۔ اور اپنی روح کی حفاظت کرلی۔ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ (پھر نکلو متفرق ٹولیاں بنا کر) یعنی دشمن کی طرف متفرق سرایا میں جماعت بنا کر نکلو۔ الثباتکا معنی جماعات ہے۔ اس کا واحد ثُبَّۃٌ ہے۔
اکٹھے نکلنا :
اَوِانْفِرُوْا جَمِیْعًا (یا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 71۔ـ:
(آیت)” یایھا الذین امنوا حذوا حذرکم “۔ تم دشمن سے بچو ۔ تم ان کے خلاف اپنے اسلحہ جمع رکھو ، حذر اور حذر دونوں کے معنی ایک ہی ہیں جیسے مثل اور مثل دونوں کے معنی ایک ہیں ۔ ” فانفروا “ نکالو ان کو ” ثبات “ اس سے مراد سرایا ہیں ، ایک سریہ کے بعد دوسرا سریہ ثبات بمعنی مجتمع ہونا تفرقہ بازی سے بچنا ۔ (آیت)” اونفروا جمیعا “۔ تم سب آپ ﷺ کے ساتھ جمع رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71 ۔ 74) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بعض مسلمانوں نے یہود کی توبہ قتل سے قبول ہونے کا حال یہود سے سن کر یہ کہا تھا کہ ہمارے اوپر کی اگر کوئی ایسا حکم نازل ہوتا تو ہم ضرور اس کی تعمیل کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور ان میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے۔ لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرأت کرلے لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے کی جائے۔ مشہور قول علماء کا یہی ہے کہ آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ اپن مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جاسکے اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلنا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فانفروا ثبات) ” جماعت جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
جنگ کی تیاری ہر وقت ضروری ہے
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنواخذور حذرکم فانفروا ثبات او انفرو جمیعا) اے ایمان والو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلوایا اکٹھے ہوکر) ایک قول ہے کہ ثبات کے معنی جماعتوں کے ہیں، اس کا واحد ثبۃ ہے، ایک قول ہے ثبۃ اس ٹولی یادستے کو کہتے ہیں جو دوسری ٹولیوں اور دستوں سے الگ تھلگ ہو، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستوں کی شکل میں اس طرح نکلیں کہ ایک دستہ ایک سمت روانہ ہوجائے اور دوسرا دستہ دوسری سمت یا سب مل کر ایک ساتھ نکل پڑیں۔
حضرت ابن عباس ، مجاہد، ضحاک اور قتادہ سے یہی روایت ہے…
Read the full tafseer →167 منظم اور گوریلہ دونوں قسم کی جنگوں کا حکم و ارشاد : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے ہتھیار لے لیا کرو۔ پھر تم چلو مختلف دستوں کی شکل میں یا سب اکٹھے یعنی ضرورت اور موقع کے مطابق جیسا تم لوگ بہتر اور مناسب سمجھو ویسا ہی کرو۔ " ثَبات " ثُبَۃٌ کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑی، گروہ اور جماعت کے ہیں۔ سو یہ خطاب مسلمانوں سے من حیث الجماعت ہے اور ان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تم لڑو اللہ کی راہ میں اکھٹے مل کر بھی، جیسا کہ منظم فوج کشی میں ہوتا ہے۔ اور مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں کی صورت میں بھی جیسا کہ گوریلہ جنگ میں ہوتا ہے اور مسلمانوں نے جنگ کے لئے دونوں طریقے اپنائے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
جہاد کی تیاری اور اس کا اجر
تشریح : پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ ان آیات میں امت مسلمہ کو دین کی حفاظت، اسلام کے پھیلانے کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کا اصل مطلب ہے کمال درجہ کی کوشش کرنا۔ مسلمان زندگی کے ہر قدم پر جہاد کرتا ہے، اسلام کی سربلندی کیلئے ہر وقت جہاد کرتا ہے۔ دل، زبان، قلم، مال اور جان سب کچھ باطل کو مٹانے کے لیے اور حق کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان آیات میں کفر و شرک کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت سامان جنگ سے لیس رہو مگر لڑائی کے اصولوں سے ہٹ کر کام نہ کرو بلکہ پوری طرح منظم ہو کر ترتیب سے انتظام اور اتحاد سے لڑائی کے لیے نکلو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
اسرار و معارف
آیات نمبر 71 تا 76:
یا ایہا الذین امنو خذوا حزرکم ۔۔۔۔۔۔ کان ضعیفا۔
اگر قریب ترین راستیہ چاہیے تو وہ بھی ہے جس میں اللہ کریم کا قرب بھی ہے اور نبی پاک ﷺ کا بہت زیادہ قرب آپ ﷺ کی بےپناہ شفقت اور پیار ہے اور وہ ہے راہ حق میں جہاد اور قتال کا راستہ کہ ایسے خوش نصیبوں کا تذکرہ ملتا ہے جو میدانِ کارزار میں ہی پہنچے ایمان لائے اور شہادت سے سرفراز ہوئے ان بڑے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کے پاس حاضری کی اجازت دے کر اللہ کریم اپنے پیارے اور جنت کے باسی لوگوں پہ احسان فرما رہا ہے لیکن یاد رہے شہادت کے لیے خودکشی جائز نہیں کہ آدمی بغیر اسباب کا اہتمام کیے یا بغیر کسی ترتیب کے خواہ مخواہ میدان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ف 1 مراد منافقین ہیں اور ان کو ظاہری اختلاط اعتبار سے منکم کہہ دیا ہے مگر مفسرین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ان سے مراد ضعیف الا یمان ہیں پس منکم اپنے معنوں میں ہے۔ (رازی) یعنی ان کو تمہاری فتح کی خوشی ہے ارونہ تمہیں نقصان پہنچنے کا غم انہیں تو صرف مطلب سے مطلب ہے۔ فتح اوشکست دونوں حالتوں میں اس قسم کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں کہ جیسے بالکل اجنبی ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے پر آیت کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ جملہ معترضہ ہے اور یا لیتنی الخ لیقولن کا مقولہ ہے (رازی )
اوپر کی آیتوں میں جہاد سے مبطین اور پیچھے رہنے والے اور دوسروں کو روکنے ولے) کی مذمت کے بعد اب مخلصین کو ترغیب دی…
Read the full tafseer →(4:71) حذرکم۔ تمہارا بچاؤ۔ جس کے ذریعہ کیا جاتا ہے ۔ حذر کہلاتا ہے۔ مضاف مضاف الیہ۔ الحذر (س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا۔ قرآن حکیم میں ہے ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم (65:14) تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔
حذر سے یہاں مراد اسلحہ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے۔ خذوا حذرکم احتیاطی تدابیر مکمل رکھو۔ اپنے بچاؤ کا انتظام پورا رکھو۔ اپنے بچاؤ کے ہتھیار موجود رکھو۔ مقابلہ کے لئے چوکنے اور تیار رہو۔
انفروا۔ تم نکلو۔ تم کوچ کرو۔ (نصر، ضرب) نفیر اور نفور سے۔ جس کے معنی نکلنے کوچ کرنے۔ اور بھاگنے (فرار ہونے) کے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71-76
لغات القرآن : حذر، بچاؤ۔ انفروا، نکلو۔ ثبات، الگ الگ۔ لیبطئن، البتہ وہ دیر کرے گا۔ مودۃ، دوستی۔ یلیتنی، اے کاش کہ میں۔ افوز، میں کامیاب ہوں (کامیاب ہوجاتا ہے) ۔ یقتل، قتل کیا گیا۔ یغلب، غالب آئے گا۔ المستضعفین، کمزور، الولدان، بچے۔ اخرجنا، ہمیں نکال۔ اولیاء الشیطن، شیطان کے دوست اور ساتھی۔ کید، فریب، دھوکہ۔
تشریح : ان آیات میں قتال یعنی فوجی حکمت عملی پر بہت زور دیا گیا ہے، جنگ احد کے بعد کفار اور منافقین یہ سمجھ کر ہر طرف سے منڈ کر آنے لگے کہ مسلمان کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرماتے ہوئے مسلمانوں کو قتال کا حکم دے دیا اور یہ کہہ کر ان کی ہمت بندھائی کہ اہل طاغوت بڑے زور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
ان آیتوں میں جہاد کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے قتل کا سا حکم تو اس شریعت میں نہیں ہے لیکن اس شریعت میں دین کی ترقی کے لئے دین کے مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے۔ جس کو اجر کمانا ہو وہ اس حکم کی تعمیل میں کوشش اور جرات کرے۔ لغت میں جہاد کے معنی مشقت کے ہیں اور شرع میں جہاد اس لڑائی کو کہتے ہیں جو خاص دین کی ترقی کے لئے لڑی جاوے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نیک نیتی سے دین کی لڑائی لڑنے والوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔ خدا کی راہ میں جان دی تو جنت کمائی اور زندہ بچ کر آئے تو عقبیٰ کا اجر پایا اور لوٹ کا مال جدا ہاتھ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
[52] '' صدیقین '' یعنی بات کے کھرے اور معاملہ کے سچے، ایسے کہ سچائی اور حق پسندی گویا ان کی فطرت میں رچ بس گئی ہو اور طبیعت کا جزو بن گئی ہو۔ '' شہداء '' وہ لوگ ہیں جو دین کی خاطر اپنی جان دے دیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ جس چیز پر وہ ایمان لائے تھے وہ انہیں اس قدر عزیز تھی کہ اس کی خاطر انہوں نے اپنی جان تک قربان کردی۔ '' صالحین '' وہ لوگ ہیں جو دیندار اور پورے پابند شریعت ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →حذواحذرکم :
(ف 2) حذر کے معنی علامہ زمحشری نے یہ کہے ہیں کہ وہ ہر شے جو تمہیں دشمنوں سے محفوظ رکھے ، چاہے وہ از قبیل تدابیر ہو چاہے از قسم اسلحہ ، یعنی مسلمان بہرحال محتاط ‘ بیدار اور خطرناک رہے ، دشمن اس کے داب و جلال سے لرزہ براندام ہو ، آہ ! آج مسلمان کا علم ان آیات پر بالکل نہیں ، نتیجہ یہ ہے کہ ہر نوع کی ذلتوں اور حقارتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔
حل لغات :
لیبطئن : کسل اور سستی ۔
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! اپنے بچائو کا سامان لے لو اور جو احتیاطی تدابیر کرسکتے ہو وہ کرلو، پھر کافروں سے جنگ کرنے کی غرض سے خواہ چھوٹی ٹولیاں بنا کر اور چند آدمی مل مل کر نکلو یا سب اکٹھے اور مجتمع ہو کر نکلو یعنی جیسا موقع دیکھو اس کے مطابق نکلو (تیسیر)
حذر اور حذر دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے اثر اور اثر حذر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے دشمن کے مقابلہ میں اپنا بچائو کیا جائے وہ بچائو ہتھیاروں سے ہو یا ڈھال سے ہو یا اور کسی احتیاطی تدبیر سے ہو سب کو حذر کہا جاتا ہے۔
ثبۃ ایک چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں جو دس آدمیوں کی یا دس سے زائد کی ہو بعض نے کہا جو جماعت دو سے اوپر ہو اس کو ثبۃ کہتے ہیں مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 8۔ یعنی ان کے داو گھات سے بھی ہوشیار رہو اور مقاتلہ کے وقت سامان ہتھیار ڈھال تلوار سے بھی درست ہو۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو نور بصیرت سے کام لینے کی ایک خاص ہدایت :
125: نور بصیرت کیا ہے ؟ مسلمانوں قوم کو من حیث القوم دوسری قوموں سے ہر وقت چوکنا رہنا ، کسی کو دھوکا نہ دینا اور سکی سے دھوکا نہ کھانا ، حالات جیسے بھی پیش آئیں ان کے لئے ہر وقت تیار رہنا۔ دشمنوں کے ساتھ دشمنی ہونے کے باوجود اصول کی پابندی کرنا اور کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ کل اگر دشمنی دوسرتی میں بدل جائے تو خفت محسوس ہو اور دوستوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے باوجود اس بات کا خیال رکھنا کہ کسی وقت یہ دوستی دشمنی میں بھی بدل سکتی ہے اس لئے ان کو اپنے خاص رازوں سے واقف نہ کرنا کیہ حالات بدلیں تو گھر کا بھیدی لنگا ڈھائے کا محاور ہم پر صادق آجائے۔…
Read the full tafseer →Before this, there was the command to obey Allah and His Messenger. Now, in the present verses, Jihad has been prescribed for the obedient and faithful so that they can vitalize their Faith and raise the word of Allah high and supreme. (Qurtubi)
Commentary
Important Notes
In the first part of the verse: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ اَلخ (0 those who believe, take your precautions ...), appears the command to ensure the supply of weapons, while the later part refers to the launching of Jihad action. This tells us two things right away. Firstly, as already clarified at…
Read the full tafseer →101. This discourse was revealed after the Battle of Uhud, when the tribes living around Madina had been greatly encouraged by the defeat of the Muslims. Thus dangers seemed to surround the Muslims on all sides. Day in and day out news poured in about the hostile intentions of one tribe after another. Reports came in of attacks mounted now in one area, and then in another. The Muslims were again and again the victims of treachery. Their preachers were invited to preach and then put to the sword. Beyond Madina, neither their lives nor their property was secure. Consequently the Muslims had to…
Read the full tafseer →