Explained with ayahs 64–65
اطاعت رسول ﷺ ہی ضامن نجات ہے
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں باذن اللہ سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ حَتّٰى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ) 3۔ آل عمران :152) یہاں بھی اذن سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 94
یعنی خدا کی طرف سے رسول اس لیے نہیں آتا ہے کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو۔ بلکہ رسول کے آنے کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جو قانون وہ لے کر آیا ہے، تمام قوانین کو چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کی جائے اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتا ہے، تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسول کو رسول مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں اول تو ایک عام ضابطہ بتلایا کہ ہم نے جو رسول بھیجا وہ اسی لئے بھیجا کہ سب لوگ فرمان خداوندی کے موافق اس کے احکام کی اطاعت کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جو شخص رسول کے احکام کی مخالفت کرے اس کے ساتھ کفار جیسا معاملہ کیا جائے گا اس لئے حضرت عمر نے جو عمل کیا وہ صحیح ہوا۔ اس کے بعد ان کو خیر خواہاہ مشورہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ تاویلات باطلہ اور جھوٹی قسموں کے بجائے اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے اور آپ کے پاس حاضر ہو کر خود بھی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کی مغفرت کی دعاء کرتے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی توبہ قبول فرما لیتے۔
اس جگہ قبول توبہ کے لئے حضور ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
تفسیر آیت 64 تا 65:
رسول کا اصلی مرتبہ : اب یہ رسول کا صحیح مرتبہ واضح فرمایا کہ رسول صرف مان لینے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ اس لیے آتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ وہ صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں بلکہ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے اس کی حیثیت صرف ایک واعظ و ناصح ہی کی نہیں بلکہ ایک اجب الاطاعت ہادی کی بھی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اذن کے تحت اس کو اس لیے مامور فرماتا ہے کہ لوگ جملہ معاملات میں اس کے احکام کی اطاعت کریں۔ اس لیے کہ اس کی اطاعت ہی بالواسطہ خدا کی اطاعت ہے۔ جو لوگ رسول کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے سیاسی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے یا اس سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں، ان کا…
Read the full tafseer →64۔ 1 مغفرت کے لئے بارگاہ الٰہی میں ہی توبہ استغفار ضروری اور کافی ہے۔ لیکن یہاں ان کو کہا گیا اے پیغمبر ﷺ ! وہ تیرے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور تو بھی ان کے لئے مغفرت کرتا۔ یہ اس لئے کہ چونکہ انہوں نے فصل خصومات (جھگڑوں کے فیصلے) کے لئے دوسروں کی طرف رجوع کرکے آپ ﷺ کا استخفاف کیا تھا۔ اس لئے اس کے ازالے کے لئے آپ ﷺ کے پاس آنے کی تاکید کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
43: یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے ؛ بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جائوک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “۔
” (انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے ۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی کی درخواست کرتا ‘ تویقینا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے ۔ (4 : 64)
یہ ایک وزن دار حقیقت ہے ۔ رسول محض واعظ نہیں ہوتا کہ وہ ایک تقریر کرے اور چلا جائے اور اس کی تقریر ہوا میں تحلیل ہوجائے ۔…
Read the full tafseer →4 یعنی اللہ تعالیٰ جس رسول ﷺ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجتا ہے سو اسی غرض کیلئے بھیجتا ہے کہ اللہ کے حکم کے موافق بندے ان کے کہنے کو مانیں تو اب ضرور تھا کہ یہ لوگ رسول ﷺ کے ارشاد کو بلاتامل پہلے ہی سے دل و جان سے تسلیم کرتے اور اگر گناہ اور برا کرنے کے بعد بھی متنبہ ہوجاتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول ﷺ بھی ان کی معافی کی دعا کرتا تو پھر بھی حق تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ اول تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جو بعینہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا ہٹے اور بچے۔ پھر جب اس کا وبال ان پر پڑا تو اب بھی متنبہ اور تائب نہ ہوئے بلکہ لگے جھوٹی قسمیں کھانے اور تاویلیں گھڑنے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت 63 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ ق فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا
یہ آیات نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رض کو بری قرار دیا کہ اللہ کی طرف سے ان کی براءت آگئی ہے ‘ اور اسی دن سے ان کا لقب فاروققرار پایا ‘ یعنی حق و باطل میں فرق کردینے والا۔
اب ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سورة مبارکہ میں منافقت جو زیر بحث آئی ہے وہ تین عنوانات کے تحت ہے۔ منافقوں پر تین چیزیں بہت بھاری تھیں ‘ جن میں سے اوّلین رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تھی۔ اور یہ بڑی نفسیاتی بات ہے۔ ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کی اطاعت بڑا مشکل کام ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
95 مگر اللہ تعالیٰ نے منافق کے وارثوں کی اس چال سے آپ کو مطلع کردیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قصاص کے مقدمہ کو یہ آیات نازل فرما کر خارج کردیا کہ جو لوگ اپنے مالی یا جانی مقدمات میں اللہ کے رسول کو دل و جان سے حکم تسلیم نہیں کرتے وہ فی الحقیقت مومن ہی نہیں ہیں لہذا قصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسا کہ اس سے آگے آ رہا ہے۔ سیدنا عمر ؓ کے اس فیصلہ پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں فاروق کا لقب عطا فرمایا۔
96 یعنی آپ ان منافقوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے البتہ انہیں دل نشین انداز میں وعظ و نصیحت کرتے رہیے اور انہیں یہ سمجھائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اسی کو…
Read the full tafseer →193 ۔ یہاں یہ ارشاد ہورہا ہے کہ رسول کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کو حاکم اعلی اور مقتدا تسلیم کیا جائے اور امت اسی کے لائے ہوئے قانون اور بتلائی ہوئی شریعت پر چلنا سیکھے، ورنہ محض زبانی رسول مان لینے سے تو کوئی حاصل ہی نہیں۔ (آیت) ” من رسول “۔ میں من زاید تاکید کی غرض سے ہے۔ من زائدۃ للتاکید (قرطبی) (آیت) ” باذن اللہ “۔ اس قید نے واضح کردیا کہ مطاع حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے، رسول ﷺ مطاع اس کے نائب کی حیثیت سے ہوتا ہے۔
194 ۔ (اور ان کی توبہ قبول ہوگئی ہوتی) (آیت) ” اذ ظلموا انفسھم “۔ اپنی جان پر ظلم اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ رسول زندہ سلامت اپنے درمیان موجود اور پھر ان عدالت سے اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ اور ہم نے ہر رسول اسی لئے بھیجا کہ حکم خدا کے مطابق اس کی بات مانی جائے یعنی رسالت کا مقصود ہی یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کی اطاعت لوگوں پر لازم کردی جائے۔ اذن سے مراد ہے حکم یعنی اللہ کا حکم ہے کہ جس پیغمبر کو بھیجا جائے لوگ اس کے حکم کو مانیں اور جو اس کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اور اس کے حکم کو نہ مانے اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ فیصلۂ رسول کو نہ ماننے کا مطلب ہی یہ ہوگا کہ رسول ﷺ کی رسالت کو قبول نہیں کیا۔
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جآءوک اور جب (نفاق کی وجہ سے اور طاغوت کے پاس فیصلہ کرانے کے لئے جانے کے سبب) انہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا تھا۔ آپ کے پاس آجاتے یعنی…
Read the full tafseer →(64) یعنی بحکم خداوندی اس رسول کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر ناراضگی کا اظہار نہ ہو۔
مسجد ضرار والے، جنہوں نے مسجد ضرار بنائی اور آپ کے حکم پر منہ بنایا اگر یہ توبہ کے لیے حاضر ہو کر اپنے کاموں سے توبہ کرتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے معافی کی دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ توبہ کے بعد ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ۔۔ : اطاعت رسول کی دوبارہ ترغیب دی ہے۔ یعنی اللہ کے رسول دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ تمام معاملات میں اللہ کے حکم کے مطابق ان کی اطاعت کی جائے۔ ”باذن اللہ“ کا معنی اللہ کی توفیق و اعانت بھی کیا گیا ہے، وہ بھی درست ہے، معلوم ہوا ہر رسول واجب الاطاعت ہوتا ہے۔
وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا : اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آنا اور آپ سے استغفار کروانا آپ کی زندگی کے ساتھ خاص تھا، آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر آیا ہو اور آپ سے دعا کرنے کی درخواست کی ہو۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے یہاں ایک بدوی کی حکایت نقل کی ہے، جس نے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 64۔
(آیت) ” الا لیطاع “۔ جس کا حکم دے اور جس سے منع کرے۔ (آیت) ” باذن اللہ “۔ اللہ کے علم کے مطابق، بعض نے اس کا معنی کیا ہے اللہ کی توفیق سے۔ (آیت) ” ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاءوک “۔ ابو صادق نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ہمارے پاس ایک اعرابی آیا جب کہ ہم تین دن سے رسول اللہ ﷺ کو دفن کرچکے تھے۔ اس اعرابی نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی قبر انور پر ڈال دیا اور قبر انور کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہا : یا رسول اللہ ﷺ آپ نے کہا تو ہم نے آپ کا قول سنا، آپ نے اللہ تعالیٰ سے کلام یاد کیا اور ہم نے آپ سے کلام یاد کیا، جو اس نے تجھ پر نازل کیا اس میں ہے : (آیت) ” ولوانھم اذ…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے واجب ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں جن کو اللہ چاہتے ہیں (یعنی رسولوں کی) اور وہ کسی ایک بھی اطاعت نہیں کرتا مگر اللہ کے حکم سے اطاعت کرتا ہے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولو انہم اذ ظلموا انفسہم “ ایک یہودی اور ایک مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنا فیصلہ کعب بن اشرف کے پاس لے گئے۔
(3) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ استغفار دو طرح پر ہیں ایک کلام میں اور ایک عمل میں کلام میں استغفار اس…
Read the full tafseer →[ وَمَــآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی رسول ] [ اِلاَّ : مگر ] [ لِیُطَاعَ : (اس لیے) کہ اس کی اطاعت کی جائے ] [ بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [ وَلَــوْ : اور اگر ] [ اَنَّــہُمْ : یہ (ہوتا) کہ وہ لوگ ] [ اِذْ ظَّلَمُوْآ : جب انہوں نے ظلم کیا ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ پر ] [ جَآئُ وْکَ : آتے آپ ﷺ کے پاس ] [ فَاسْتَغْفَرُوا : پھر استغفار کرتے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ : اور استغفار کرتے ان کے لیے ] [ الرَّسُوْلُ : رسول ﷺ ] [ لَــوَجَدُوا : تو وہ لوگ پاتے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ تَوَّابًا : بار بار توبہ قبول کرنے والا ] [ رَّحِیْمًا…
Read the full tafseer →رسول کی رسالت اطاعت ہی کے لیے ہے :
جن لوگوں نے اپنے عمل کی تاویلیں پیش کیں اور جھوٹے عذر سامنے لاکر رسول اللہ ﷺ کو خوش کرنے لگے، ان کے لیے مزید تنبیہ فرمائی اور توبہ و استغفار کی طرف متوجہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ) کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا اسی لیے بھیجا کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے۔ رسول کا کام اللہ کے احکام پہنچانا ہے اور رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اور رسول کی نافرمانی اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔ جن لوگوں نے طاغوت کی طرف مقدمہ لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور پھر جب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا اس سے راضی نہ ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →46 رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے مگر یہ منافقین اطاعت کے بجائے نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَآءُوْکَ جونہی ان سے یہ گناہ صادر ہوا تھا کہ انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کے فیصلہ سے اعراض کیا اگر اسی وقت وہ اس پر نادم ہوجاتے اور پیغمبر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے اور آپ بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے قبولیت توبہ اور معافی کی سفارش فرماتے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا اور ان کا گناہ معاف کردیتا۔ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمُ الرَّسُوْل وسئل اللہ تعالیٰ ان یقبل توبتھم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے ، اللہ ، اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا تھا اور پھر یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ اگر حکام اور رعیت کے درمیان یا افراد کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو ایسے معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ضروری ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ کہ کسی بھی معاملہ میں آخری اور حتمی فیصلہ کتاب و سنت سے ہی حاصل کرنا ہوگا اگر دا اور قیامت پر ایمان پختہ ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور اس کے رسول کی طرف آؤ ۔ تو یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور خدا و رسول کے فیصلے کو…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ 0ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا 64
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة،
( ر س ل ) الرسل
الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ترکیب : الا لیطاع موضع نصب میں ہے مفعول لہ ہو کر اور لام ارسلنا سے متعلق ہے۔ باذن اللّٰہ موضع حال میں ہے یطاع سے اور مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے ای بسبب امر اللہ ولوانہم شرط اذ اس میں خبر ان عامل ہے جو جائوک ہے لوجدوا اللّٰہ جملہ جواب شرط فلا وربک لایومنون میں اول لا زائدہ ہے والتقدیر فوربک لا یؤمنون اور ممکن ہے کہ دوسرا زائدہ ہو اور قسم نفی اور منفی کے درمیان واقع ہو۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ جب ان کو رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ باوجود ادعائے ایمان کے اس سے اکڑتے ہیں۔ یہاں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ان کو رسول سے انحراف نہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ رسول دنیا میں اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ لوگ…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْـنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَـآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
(اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا تو اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ جب کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ‘ تمہاری خدمت میں حاضر ہوتے اور خدا سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی چاہتا تو وہ خدا کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے) (النسآء : 64)
رسول کا حقیقی مقام و مرتبہ
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے رسول کی حیثیت و عظمت کو پوری…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔ اس میں منافقوں کو توبہ کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے رسول کا مرتبہ اور مقام بیان کرنے کے ساتھ اپنی شفقت و مہربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ رسول معظم ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی شان اور مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ملمع سازی یا محض دعو وں کی بنیاد پر رسول کی ذات کو خوش کرلیا جائے تو اس سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ جب تک حقیقتاً قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق آپ کی اطاعت نہ کی جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی لاتعداد رحمتوں کا تعلق ہے وہ اس قدر بےکنار ہیں کہ جب بھی کوئی شخص خواہ اس کا…
Read the full tafseer →آیت 64 : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول کبھی بھی مگر اس لئے تاکہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ تعالیٰ کے اذن سے) باذن اللّٰہ کا مطلب۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطاعت کی توفیق بخشی اور اس میں آسانی فرمائی۔ نمبر 2۔ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کی اجازت دی۔ اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مبعوث پیغمبر کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اس کی اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دینے والا ہے۔ پس اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا : من یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا…
Read the full tafseer →64۔ (آیت)” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ اللہ کے حکم سے اطاعت رسول واجب ہے ، زجاج (رح) کا قول ہے کہ ان کی پیروی کرو اللہ اجازت اور ان کے حکم کے مطابق اور بعض کا قول ہے کہ (آیت)” الا لیطاع “ پر کلام تام ہوجاتا ہے باذن اللہ تعالیٰ کا مطلب ہے ، کہ اللہ کے علم و فیصلے سے ، اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی طاقت وقوع پذیر ہے اس کے حکم سے (آیت)” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم “ طاغوت کی طرف اپنے امور کا فیصلے لے جا کر اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہو ۔ (آیت)” جاء و ک فاستغفر اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توابا رحیما ‘ ؓ
Read the full tafseer →اوپر اس منافق کا ذکر تھا جو اپنے مقدمہ کو آنحضرت ﷺ کی پیشی میں لانے پر رضامند نہیں تھا۔ بلکہ اس کو اصرار تھا کہ اس کا مقدمہ کعب بن اشرف کی پیشی میں فیصل ہو۔ اسی ذکر کو پورا کرنے کے لئے اس آیت میں اس زمانے کے عام منافقوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کچھ اس زمانہ پر منحصر نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت رسول سے لے کر آخر الرسل محمد ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے ہیں ان سب کے حق میں اللہ کا یہی ایک حکم تھا کہ ہر وقت کی امت پر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری فرض ہے اس لئے جتنی پچھلی امتوں نے رسولوں کی نافرمانی کی ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ اور وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت 63
اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ (الذین یزع مومن انھم امنوا) ” جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔ “ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور جو کچھ آپ ﷺ سے پہلے تھا۔ بایں ہمہ (یریدون ان یتحاکموآ الی الظاغوت) ” وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔ “ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ (وقد امروا ان یکفروابہ ) ” انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔ “ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہوسکتے ہیں کیونکہ ایمان اس امر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →151 رسول کی اطاعت ہی اصل مقصود ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے تو وہ اسی لیے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ اس کے سب اوامرو ارشادات میں، نہ یہ کہ احکام و معاملات میں۔ تو یہ لوگ چلیں اپنی خواہش ومرضی پر اور زبانی کلامی دعوے ہوں ایمان و محبت رسول کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن افسوس کہ آج کے مسلمان کا حال بھی بالعموم یہی ہے کہ وہ عشق و محبت رسول کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود پیغمبر کے طریق اور اس کی سنت کے اتباع سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ اِلّا مَا شائَ اللّٰہ ۔ فَاِنَّا لِلّٰہ واِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ یہاں پر جو " باذن اللہ " کی قید لگی ہوئی ہے وہ بڑی معنیٰ خیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
صحیح طریقہ
تشریح : ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ رب العزت خوب اچھی طرح ان کو جانتے ہیں اور جب بھی وقت آئے گا ان کو سزا ملے گی۔ پھر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا حکم ہے کہ آپ ﷺ ان کی منافقت اور خباثت کی بالکل پرواہ نہ کریں اور مسلسل انکو نصیحت کرتے رہیں، پھر اللہ رب العزت مغفرت مانگنے کی تلقین فرماتا ہے کہ اگر ان لوگوں سے قصور ہوگیا تھا تو ان کو یہی چاہیئے تھا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ﷺ سے درخواست کرتے کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں تو اللہ رب العزت یقیناً ان کی توبہ قبول کرکے ان کو معاف کردیتا، کیونکہ بہت دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان غلطیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
اسرار و معارف
آیات 60 تا 65 الم تر الی الذین۔۔۔ و یسلموا تسلیما
اب ایسے لوگوں کی حالت ملاحظہ ہو جو اپنے دعوے اسلام میں تو نہ صرف قرآن حکیم پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے جو کچھ بھی اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوا تھا اس پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر میدان عمل میں انہیں شیطان کی رائے پسند ہے حالانکہ قرآن حکیم ہو یا پہلی منزل کتابیں سب کا مقصد ہی شیطان کی غلامی سے روکنا ہے ورنہ تو گمراہی میں پڑنے کا نہ صرف سخت خطرہ ہے بلکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ جو انسان بھی اس کی مانے اسے وہاں تک گمراہ کرکے لے جائے جہاں تک ممکن ہو نزول آیات کا سبب اگرچہ خاص واقعہ ہے ذرا وہ بھی سن لیں کہ ایک یہودی…
Read the full tafseer →ف 5 اطاعت رسول کی دوبارہ ترغیب دی ہے (رازی) یعنی اللہ کے رسول دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ جمیع امور میں اللہ تعالیٰ کی توفیق واعانت سے ان کی اطاعت کی جائے معلوم ہوا کہ ہر رسول صاحب شریعت ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، رازی )
6 جب ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے فیصلے سے انحراف کر کے معصیت کا ارتکاب کیا ہے تو ان کو چاہیے تھا کہ بجائے حیلہ بازیوں اور سخن سازیوں کے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول اللہ ْْﷺ سے بھی اپنے لیے مغفرت کی دعا کر واتے اگر ایسا کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا اور ان پر رحم کرتا (تنبیہ) اس جگہ حافظ ابن کثیر نے ایک بدوی کی حکایت نقل کردی ہے جس نے آنحضرت ﷺ کے روضئہ مبارک کے پاس…
Read the full tafseer →(4:64) اذ ظلموا انفسھم۔ جب وہ ظلم کر بیٹھے تھے اپنی جانوں پر جاء وک تمہارے پاس آجاتے۔ فاستغفروا اللہ۔ اللہ سے بخشش طلب کرتے۔ واستغفرلہم الرسول اور رسول کریم ﷺ بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے۔
لوجدوا ۔۔ رحیما۔ جواب شرط۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
آیت نمبر 60-64
لغات القرآن : یزعمون، دعوی کرتے ہیں، گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یتحاکموا، وہ فیصلہ کے لئے جائیں۔ امروا، حکم دیا گیا۔ ضلال بعیدا، گم راہی میں دور۔ تعالوا، آؤ۔ رایت، تو نے دیکھا (تو دیکھے گا) ۔ صدود، اٹک کر، روک رک کر۔ یحلفون، وہ قسم کھاتے ہیں۔ توفیق، باہمی میل ملاپ۔ لیطاع، تاکہ اطاعت کی جائے۔ لوجدوا، البتہ وہ پاتے۔
تشریح : اس حکم کے بعد کہ حکومت کے عہدے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ امانت داری کے لئے ہیں اور ان پر وہی مقرر کئے جائیں گے جو انہیں اللہ کی امانت سمجھیں گے۔ فرمایا گیا کہ اس حکم کے بعد جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے لگو تو بےلاگ اور بےلوث کرو۔ پھر اس حکم کے بعد اللہ کا حکم مانو،…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ رسول وقت کے فیصلے اور حکم پر جو کوئی دل سے پابندی اختیار نہ کرے گا وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے۔ جو لوگ قول رسول کے مقابلہ میں صریح قول رسول کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے قولوں کو مانتے ہیں ۔ ان کی نسبت پورا خوف ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کرے اور ان لوگوں کو پورے مسلمان کے زمرے میں شمار نہ فرماوے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
[50] '' طاغوت '' سے یہاں مراد وہ حاکم ہے جو قانون الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو۔
Read the full tafseer →رسول بجائے خود مطاع ہے :
(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ منافقین اگر حضور ﷺ کے پاس آکر سچے دل سے طلب مغفرت کریں اور رسول ﷺ ان کے خلوص سے متاثر ہو کر ان کے لئے استغفار کرے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخش دیں گے ۔
یعنی جب تک ان کے خلوص پر مہر رسالت ثبت نہ ہو اور جب تک خدا کا پیغمبر ﷺ یہ نہ کہہ دے کہ یہ خالصۃ اب میرے ہمنوا ہوگئے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ انہیں عفو توبہ کا مستحق قرار نہیں دیتا ۔ (آیت) ” الا لیطاع باذن اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ رسول مطاع مطلق ہے ، اس کا وجود بجائے خود حجت وسند ہے ، اس کی ہر ادا صبغۃ اللہ میں رنگین ہوتی ہے ۔ اس کا ہر قول وفعل مستفاد ہوتا ہے منشائے الہی سے (آیت) ” وما ینطق من الھوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 3 یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور ان کے مافی الضمیر سے خوب واقف ہے یعنی ان کا کفر اور نفاق اس کو خوب معلوم ہے لہٰذا بہ تقاضائے مصلحت آپ ان سے کوئی تعارض نہ کیجیے اور ان سے تغافل و چشم پوشی کا برتائو کیجیے اور ان کو نصیحت فرماتے رہیے اور ان کے حق میں اور ان کے بارے میں ان سے ایسی بات کہا کیجیے جو ان پر اثر انداز اور ان کے لئے مئوثر اور ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو۔
مطلب یہ ہے کہ جو کفر و نفاق ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ … جانتا ہے اور یہ اپنے کفر و نفاق کی بنا پر چونکہ شریعت اسلامیہ کے فیصلہ کو پسند نہیں کرتے اس لئے دوسروں کے پاس…
Read the full tafseer →ف 2۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نفاق چھوڑ کر ایمان لے آئیں چونکہ استغفار موقوف تھا ایمان پر اس لیے ذکر اس کو مستلزم ہوگیا اس کی تصریح کی حاجت نہیں پس ایک شرط تو اس قبول توبہ کی یہ ہے اور دو شرطیں اور بھی آیت میں مذکور ہیں ایک تو حاضری خدمت نبوی دوسرے آپ کا بھی استغفار کرنا۔
Read the full tafseer →اطاعت کا جو حکم ان کو دیا گیا وہ کوئی نئی بات نہ تھی ہر ایک فرستادہ کی اطاعت لازم تھی :
116 : منصب رسالت کیوں تھا ؟ فرمایا رسول صرف مان لینے کے لئے نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر رسول اس لئے آیا تھا کہ اس کی اطاعت کی جائے وہ صرف عقیدت کا مرکز ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ اطاعت کا مرکز بھی تھا۔ اس کی حیثیت ایک واعظ وناصح ہی کی نہ تھی بلکہ ایک وجب الاطاعت ہادی راہنما کی بھی تھی اس کو اس لئے مبعوث کیا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جو لوگ رسول کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے یا اس سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں ان کا دعویٰ ایمان بالکل جھوٹا ہے۔
چونکہ اصل مضمون اس رکوع…
Read the full tafseer →The fifth verse (64) begins by stating a universal Divine principle: And We did not send any Messenger but to be obeyed by the leave of Allah.' It means that any Messenger who was sent by Allah was sent so that everyone obeys the rules set by him in accordance with the will and command of Allah Almighty. In that case, the inevitable consequence will be that anyone who opposes the rules set by the Messenger will be dealt with in the manner disbelievers are dealt with. Therefore, whatever Sayyidna ` Umar ؓ did turned out to be correct. Following this appears an advice in the best interest of…
Read the full tafseer →94.This is to impress upon us that Prophets are not sent so that people may pay lip-service to their Prophethood, and then obey whoever they wish. The purpose of sending Prophets is that people should follow the laws of God as brought and expounded by them rather than laws devised by man, and that they should obey the commands of God as revealed to the Prophets to the exclusion of the commands of others.
Read the full tafseer →