Explained with ayahs 64–65
اطاعت رسول ﷺ ہی ضامن نجات ہے
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں باذن اللہ سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ حَتّٰى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ) 3۔ آل عمران :152) یہاں بھی اذن سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 95
اس آیت کا حکم صرف حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے ہے جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و راہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ (جو صرف زبانی ایمان ظاہر کرتے پھرتے ہیں عند اللہ) ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے (اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے) فیصلہ کرا دیں پھر (جب آپ تصفیہ کردیں تو) اس آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں (انکار کی) تنگی نہ پاویں اور (اس فیصلہ کو) پورا پورا (ظاہری سے باطن سے) تسلیم کرلیں۔
معارف و مسائل
رسول کریم ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا کفر ہے۔
اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی عظمت اور علو مرتبت کے اظہار کے ساتھ آپ کی اطاعت جو بیشمار آیات قرآنیہ سے ثابت ہے اس کی واضح تشریح بیان فرمائی ہے اس آیت میں قسم کھا کر حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
تفسیر آیت 64 تا 65:
رسول کا اصلی مرتبہ : اب یہ رسول کا صحیح مرتبہ واضح فرمایا کہ رسول صرف مان لینے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ اس لیے آتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ وہ صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں بلکہ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے اس کی حیثیت صرف ایک واعظ و ناصح ہی کی نہیں بلکہ ایک اجب الاطاعت ہادی کی بھی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اذن کے تحت اس کو اس لیے مامور فرماتا ہے کہ لوگ جملہ معاملات میں اس کے احکام کی اطاعت کریں۔ اس لیے کہ اس کی اطاعت ہی بالواسطہ خدا کی اطاعت ہے۔ جو لوگ رسول کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے سیاسی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے یا اس سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں، ان کا…
Read the full tafseer →65۔ 1 اس آیت کا شان نزول ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جو بارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر ؓ سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر ؓ نے اس مسلمان کا سر قلم کردیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی، صحیح واقعہ یہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر ؓ کا جو رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا آپ نے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر ؓ کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
43: یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے ؛ بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما “۔ (4 : 65)
” نہیں اے محمد ﷺ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ “
ایک بار پھر ہم شرط ایمان کے سامنے کھڑے ہیں ‘ ایمان کی حدود ہمارے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ فرماتے ہیں اور اس فیصلے پر اپنی ذات پاک کا حلف اٹھاتے ہیں ‘ اس کے بعد اب کسی کے لئے کالم کی کیا گنجائش رہ جاتی ہیں ۔ اسلام کی شرط اور ایمان کی حدود کی نشاندہی…
Read the full tafseer →5 یعنی منافق لوگ کس بیہودہ خیال میں ہیں اور کیسے بیہودہ حیلوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تم کو اے رسول اپنے تمام چھوٹے بڑے مالی جانی نزاعات میں منصف اور حاکم نہ جان لیں گے کہ تمہارے فیصلہ اور حکم سے ان کے جی میں کچھ تنگی اور ناخوشی نہ آنے پائے اور تمہارے ہر ایک حکم کو خوشی کے ساتھ دل سے قبول نہ کرلیں گے اس وقت تک ہرگز ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا اب جو کرنا ہو سوچ سمجھ کر کریں۔
Read the full tafseer →آیت 65 فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ
اس میں انہیں کوئی اختیار choice حاصل نہیں ہے۔ ان کے مابین جو بھی نزاعات اور اختلافات ہوں ان میں اگر یہ آپ کو حکم نہیں مانتے تو آپ کے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہیں۔ کلام الٰہی کا دوٹوک اور پر جلال انداز ملاحظہ کیجیے۔
ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ
اگر آپ ﷺ ‘ کا فیصلہ قبول بھی کرلیا ‘ لیکن دل کی تنگی اور کدورت کے ساتھ کیا تب بھی یہ مؤمن نہیں ہیں۔
وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
واضح رہے کہ یہ حکم صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود نہیں تھا ‘ بلکہ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →97 یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری امت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپ کے ارشاد، حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کرلینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔ اور آپ کے ارشادات، احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہوچکے ہیں۔ اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم، پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔
یہ آیت بھی امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی…
Read the full tafseer →195 ۔ (آیت) ” عنداللہ “۔ یعنی اللہ کے ہاں ان کا ایمان اس وقت تک معتبر نہ سمجھا جائے گا۔ ان لوگوں سے مراد وہی منافقین اور اسلام کے ظاہری اور زبانی دعویدار ہیں۔ (آیت) ” فلا وربک “۔ میں لا زائد وتاکید کے معنی میں ہے۔ مزیدۃ لتاکید معنی انفسھم (مدارک)
196 ۔ آیت نے اسے صاف کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں مقدمات محض لے آنا ہرگز ایمان کے لئے کافی نہیں، عقلی واعتقادی حیثیت سے اطمینان بھی رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر ہونا چاہیے۔ ہاں اس کے بعد بھی کوئی طبعی تنگی باقی رہ جائے تو غیر اختیاری ہونے کی بنا پر معاف ہوگی۔ (آیت) ” حتی یحکموک فیما شجربینھم “۔ آپ ﷺ کی حیات مبارک میں تو آپ ﷺ کا حکم بننا ظاہر ہی تاھ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →فلا وربک لا یومنون . پس قسم ہے آپ کے رب کی وہ ایماندار نہیں ہوں گے۔
صحاح ستہ (صحیح بخاری و مسلم و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و نسائی و سنن ابن ماجہ) میں مذکور ہے کہ حرہ کے کسی پہاڑی نالے سے کھیتوں کو پانی دینے کے متعلق حضرت زبیر بن عوام کا کسی انصاری سے جھگڑا تھا دونوں خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا زبیر تم (پہلے) سینچ لو پھر اپنے ہمسایہ کی طرف پانی چھوڑ دو ۔ انصاری اس فیصلہ سے ناراض ہوگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس فیصلہ کی وجہ یہ ہے کہ زبیر آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا اور فرمایا زبیر ! سینچنے کے بعد پانی کو اتنا روکے رکھو کہ پانی مینڈھوں تک پہنچ…
Read the full tafseer →(65) آپ ﷺ کے پروردگار کی قسم ہے یہ لوگ عنداللہ ہرگز ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ ﷺ سے فیصلہ نہ کروائیں اور آپ ﷺ کے فیصلہ کے بعد ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور اس فیصلے کو پوری طرح دل سے تسلیم کرلیں۔
شان نزول : آیت ”۔ فلا وربک لایؤمنون حتی“۔ (الخ)
آئمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت زبیر ؓ کا ایک شخص سے حرہ کی زمین کی سیرابی کے بارے میں کچھ جھگڑا ہوا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اے زبیر اپنی زمین کو اولا خوب پانی دو اور پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، وہ شخص کہنے لگا یہ فیصلہ اس لیے ہے کہ زبیر ؓ آپ کے پھوپھی زاد…
Read the full tafseer →فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔۔ : اس آیت کی شان نزول میں ایک مسلمان اور یہودی کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کروانے کے بعد عمر ؓ سے فیصلہ کروانے گیا تھا، جس پر عمر ؓ نے اس مسلمان کی گردن اڑا دی تھی۔ مگر یہ واقعہ سنداً صحیح نہیں ہے، جیسا کہ حافظ ابن کثیر ؓ نے بھی وضاحت کی ہے، ویسے رسول اللہ ﷺ صحابہ کے اصرار کے باوجود منافقوں کی بڑی بڑی گستاخیوں پر نہ انھیں قتل کرتے، نہ قتل کی اجازت دیتے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب ذکر الخوارج : 1063 ]
2 عبداللہ بن زبیر ؓ راوی ہیں کہ زبیر ؓ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 65۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) مجاہد ؓ وغیرہ نے کہا : اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، جنہوں نے طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانے کا ارادہ کیا تھا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 75 دارالکتب العلمیہ)
طبری نے کہا : فلا کا قول پیچھے جو ذکر ہوچکا ہے اس کا رد ہے تقدیر عبارت یوں ہوگی، کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ پھر قسم سے آغاز فرمایا : (آیت) ” وربک لا یؤمنون “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 74 دارالکتب العلمیہ)
دوسرے ائمہ نے فرمایا : قسم پر لا کو…
Read the full tafseer →رسول کے فیصلہ سے اعراض کرنا حرام ہے
(1) عبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم وابو داؤد و ترمذی و نسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حبان والبیہقی نے زھری کے طریق سے عروہ بن زبیر (رح) نے زبیر بن عوام کی طرف سے یہ بیان فرمایا کہ ان کا ایک بدری صحابی سے چشمہ کے پانی کے بارے میں جھگڑا ہوا اور ہم نے اپنا معاملہ رسول اللہ ﷺ (اس چشمے سے) یہ دونوں حضرات کھجوروں کو پانی پلایا کرتے تھے انصاری نے کہا کہ سیلابی پانی کو گزرنے دے۔ تو زبیر نے اس پر انکار کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے زبیر (اپنی کھجوروں کو) پانی پلالے پھر اپنے پڑوس کی طرف پانی کو چھوڑ دو انصاری اس پر غضب ناک ہوگیا…
Read the full tafseer →[ فَلاَ : پس نہیں ! ] [ وَرَبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی قسم ] [ لاَ یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُحَکِّمُوْکَ : وہ حاکم تسلیم کریں آپ ﷺ کو ] [ فِیْمَا : اس میں ‘ جس میں ] [ شَجَرَ : اختلاف کیا ] [ بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لاَ یَجِدُوْا : وہ نہ پائیں ] [ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : اپنے جی میں ] [ حَرَجًا : کوئی تنگی ] [ مِّمَّا : اس سے ‘ جو ] [ قَضَیْتَ : آپ ﷺ نے فیصلہ کیا ] [ وَیُسَلِّمُوْا : اور وہ لوگ تسلیم کریں ] [ تَسْلِیْمًا : جیسے تسلیم کرتے ہیں ]
ح ر ج
حَرِجَ ۔ یَحْرَجُ (س) حَرَجًا : کسی چیز کا تنگ ہونا۔ پھر استعارۃً گناہ ہونے کے لیے آتا…
Read the full tafseer →رسول اللہ کے فیصلہ کو دل و جان سے قبول کیے بغیر مومن نہ ہوں گے
صحیح بخاری کتاب التفسیر 660: ج 1 میں حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر بن العوام ؓ کا ایک انصاری سے کاشت کے سیراب کرنے کے سلسلہ میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (پانی کا بہاؤ کچھ اس طرح سے تھا کہ پہلے حضرت زبیر ؓ کی زمین پڑتی تھی) آپ نے فرمایا کہ اے زبیر ! تم پانی کھیتی کو سیراب کرلو پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۔ اس انصاری نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لیے آپ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور اس کو ترجیح دے دی، رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور فرمایا اے زبیر ! تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
47 یہاں ایمان کیلئے تین شرطیں بیان کی گئی ہیں۔ اول حَتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ آپ کو فیصل مانیں دوم لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں۔ سوم وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً آپ کے فیصلے کے خلاف زبان پر گلہ کا کوئی لفظ نہ لائیں حاصل یہ کہ صرف زبانی اقرار سے مومن نہیں بن سکتے۔ جب زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر بھی پیغمبر خدا ﷺ کو فیصل نہ مانیں گے۔ اور آپ کا فیصلہ دل سے قبول نہیں کریں گے اور فیصلہ اپنے خلاف ہونے کی صورت میں کبیدہ خاطر اور دل میں رنجیدہ نہیں ہوں گے اور نہ زبان پر حرف شکایت لائیں گے اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے۔ وَ لَوْا اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے ، اللہ ، اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا تھا اور پھر یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ اگر حکام اور رعیت کے درمیان یا افراد کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو ایسے معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ضروری ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ کہ کسی بھی معاملہ میں آخری اور حتمی فیصلہ کتاب و سنت سے ہی حاصل کرنا ہوگا اگر دا اور قیامت پر ایمان پختہ ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور اس کے رسول کی طرف آؤ ۔ تو یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور خدا و رسول کے فیصلے کو…
Read the full tafseer →فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
ترکیب : الا لیطاع موضع نصب میں ہے مفعول لہ ہو کر اور لام ارسلنا سے متعلق ہے۔ باذن اللّٰہ موضع حال میں ہے یطاع سے اور مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے ای بسبب امر اللہ ولوانہم شرط اذ اس میں خبر ان عامل ہے جو جائوک ہے لوجدوا اللّٰہ جملہ جواب شرط فلا وربک لایومنون میں اول لا زائدہ ہے والتقدیر فوربک لا یؤمنون اور ممکن ہے کہ دوسرا زائدہ ہو اور قسم نفی اور منفی کے درمیان واقع ہو۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ جب ان کو رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ باوجود ادعائے ایمان کے اس سے اکڑتے ہیں۔ یہاں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ان کو رسول سے انحراف نہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ رسول دنیا میں اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ لوگ…
Read the full tafseer →فَلاَ وَ رَبِّـکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیمًا
(پس (اے پیغمبر) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حاکم بنائیں آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان۔ پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آپ نے کیا اور تسلیم کرلیں دل و جان سے) (النسآء : 65)
وَ رَبِّـکَ کا معنی و مفہوم
وَرَبِّـکَ میں وائو قسم کے لیے ہے۔ اس سے پہلے لا زائد کہا جاتا ہے ‘ لیکن یہ قسم کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ ہمارے متقدمین اس کو اسی معنی میں لیتے ہیں۔ نفیِ ایمان پر دلالت کرنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں منافقین کو رسول کو مطاع تسلیم کرنے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اب قطعی انداز میں رسول معظم ﷺ کو فیصل ماننے کا حکم دیا ہے۔
لہٰذا فیصلہ کُن انداز میں منافقوں، کافروں اور سب لوگوں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے کہ کسی کا ایمان اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک حضرت محمد ﷺ کو زندگی کے تمام معاملات میں حکم تسلیم نہ کرلیا جائے۔ جونہی آپ کا فیصلہ سامنے آئے تو اسے دل کی رغبت اور طبیعت کی چاہت کے ساتھ من وعن تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے تسلیم کرنے میں کسی قسم کا تردد اور تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں قرآن مجید نے ” شجر “ کا لفظ استعمال کیا…
Read the full tafseer →آیت 65:
فَلاَ وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ (پس آپ کے رب کی قسم ہے۔ وہ ایماندار نہیں ہونگے) : لا زائدہ ہے قسم کے معنی کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اور لا یؤمنون جواب قسم ہے یا تقدیر عبارت اس طرح ہے فلا یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ کہتے ہیں پھر فرمایا : وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَآپ کے رب کی قسم وہ مومن نہ ہونگے۔ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ (یہاں تک کہ وہ آپ کو فیصل مانیں ان معاملات میں جو ان کے مابین پیش آنے والے ہوں) یعنی جو ان کے مابین مختلف اور مختلط ہیں اور اسی سے الشجرہ کو شجرہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی شاخیں آپس میں ملی جلی ہوتی ہیں۔ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ…
Read the full tafseer →(فل اوربک لا یؤمنون کی مختلف تفاسیر)
65۔ (آیت)” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک “۔ عروق بن زبیر کا بیان ہے کہ ان کا جھگڑا ایک انصاری شخص سے ہوگیا وہ بدر میں آپ ﷺ سے مرۃ میں زمینوں کو پانی پلانے کے متعلق جھگڑا ہوا ، یہ دونوں آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کو فرمایا کہ اے زبیر تم اپنی زمین کو سیراب کرو پھر اپنے پڑوسی کی جانب پانی کو چھوڑ ، اس پر انصاری غصہ ہوا ، پھر کہنے اے اللہ کے رسول ﷺ وہ آپ کے چچا کا بیٹا ہے اس لیے اس پر آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا ، پھر انہوں نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ اپنی زمین کو سیراب کر پھر اس کو روکے رکھ یہاں تک کہ وہ تیری زمین کی منڈیر تک پہنچ جائے ، پہلے تو…
Read the full tafseer →اوپر اللہ کے رسول کی اطاعت کی تاکید تھی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تاکید کو اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر اور قوت دے دی ہے اس آیت کی شان نزول کی بابت صحاخ ستہ کی کتابوں میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری اور حضرت زبیر کا کھیت متصل تھا۔ اور ایک ہی ذریعہ آب پاشی سے دو کھیتوں کو پانی پہنچتا تھا۔ اس پانی کی بابت زبیر ؓ اور انصاری کا جھگڑا ہوا آنحضرت ﷺ کے پاس وہ جھگڑا فیصلہ کو آیا آنحضرت نے زبیر ؓ سے کہا کہ تم اپنے کھیت کو پانی دے کر انصاری کے کھیت کے لئے پانی چھوڑ دیا کرو انصاری نے کہا کہ زبیر ؓ آپ کے قرابت دار ہیں اس لئے آپ نے ان کی رعایت کا فیصلہ کیا ہے اس پر آپ کو غصہ آیا اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
آیت 65
اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض وغایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں، اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →155 معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے : یعنی ایسا نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ اپنے باہمی معاملات اور تنازعات تو یہ لوگ ارشادات نبوی ﷺ سے منہ موڑ کر اپنی خواہشات ومرضی کے مطابق طے کریں اور پیغمبر کی محبت و اطاعت کا محض زبانی کلامی دم بھریں اور بس۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوتا تھا اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ سو کلمہ " لا " سے نفی اسی ذہنیت کی کی جا رہی ہے۔ اور " وَرَبِّک " کی قسم سے اس کے عکس کا اثبات کیا جا رہا ہے، جو کہ اس کے بعد مذکور ہے۔ پس جو حضرات اس " لا " کو زائد کہتے ہیں وہ صحیح نہیں کہتے، بلکہ ایسے موقع پر " لا " کا استعمال بڑا بلیغ پر معنیٰ اور…
Read the full tafseer →یمان کی پرکھ
تشریح : آیت نمبر 59 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے کہ جو لوگ سچے مومن ہیں ان کیلیے فرض ہے کہ جھگڑے کی صورت میں قرآن و سنت سے مدد لیں جو اس کے سوا کریں گے وہ مومن نہیں کافر ہیں اور جو بھی قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ پر دل سے خوش نہ ہو مطمئن نہ ہو تو یہ بھی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے، اس لیے نیک دلی اور سچائی سے قرآن و سنت کے فیصلوں کو قبول کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ روایت پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” میں تم لوگوں میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم انہیں تھامے رہو گے تم گمراہ نہیں ہو گے (ایک) اللہ کی کتاب اور (دوسری) اس کے نبی کی سنت۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
اسرار و معارف
آیات 60 تا 65 الم تر الی الذین۔۔۔ و یسلموا تسلیما
اب ایسے لوگوں کی حالت ملاحظہ ہو جو اپنے دعوے اسلام میں تو نہ صرف قرآن حکیم پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے جو کچھ بھی اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوا تھا اس پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر میدان عمل میں انہیں شیطان کی رائے پسند ہے حالانکہ قرآن حکیم ہو یا پہلی منزل کتابیں سب کا مقصد ہی شیطان کی غلامی سے روکنا ہے ورنہ تو گمراہی میں پڑنے کا نہ صرف سخت خطرہ ہے بلکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ جو انسان بھی اس کی مانے اسے وہاں تک گمراہ کرکے لے جائے جہاں تک ممکن ہو نزول آیات کا سبب اگرچہ خاص واقعہ ہے ذرا وہ بھی سن لیں کہ ایک یہودی…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کے خلاف دل میں ذرہ بھر بھی تنگی اور باپسند ید گی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منا فی چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس میرے لائے ہوئے طریقہ کے تابع نہ ہوجائے بعض نے کہا ہے کہ یہ ّآیت پہلے قصہ کے ساتھ ہی متعلق اور بعض نے لکھا ہے کہ حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری کے درمیان شراج حرۃ کے پانی کے بارے میں نزاع ہوگئی آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے رعایت کی سفارش کی اور فرمایا اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دے اس پر انصاری نے کہا یہ اس لے کہ زبیر ؓ تمہارے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اس…
Read the full tafseer →(4:65) فلا وربک لا یؤمنون۔ اس جملہ میں فلا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) یہ نفی کے لئے ہے۔ ای لیس الامر کما یقولون یعنی بات وہ نہیں جو یہ کہتے ہیں یعنی وہ جو قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ان اردنا الا احسانا و توفیقا۔ غلط کہتے ہیں ۔ جھوٹ کہتے ہیں بلکہ تیرے رن کی قسم بات یہ ہے کہ لا یؤمنون ۔۔ الخ۔
(ب) یہ لا تاکید کے لئے ہے ۔ یعنی قسم کی تاکید میں۔
(ج) یہ نفی کے معنی میں ہے اور لا یؤمنون کی نفی کی تاکید میں۔ یعنی نہیں ۔ تیرے رب کی قسم ۔ یہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے ۔۔ الخ۔ اس کے قریب قریب اردو میں بھی ہم بولتے ہیں کہ نہیں خدا کی قسم میں یہ نہیں کروں گا۔ مطلب یہ کہ میں ہرگز ہرگز یہ نہیں کروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
آیت نمبر 65-70
لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔
اب حضور ﷺ نے دنیا سے پردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ حال کی شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرمانبردری لازم کردی ہے ، وہ بھی ایسے مسلمانوں سے پوری نہیں ہوسکتی جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا ۔ ایسی حالت میں قتل نفس یا جلا وطنی کا کوئی حکم حال کی شریعت میں نازل ہوتا تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے ۔ پھر فرمایا حال کی شریعت میں جن باتوں کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے ۔ اگر حال کے مسلمان نیک نیتی سے اسی کی پوری پابندی کریں گے تو ان کی بہتری اور ان کی فرمانبرداری کی مضبوطی کی نشانی ہے ، اور جب یہ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھے گا ، اور ان کے تھوڑے سے عملوں کا بہت سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
[51] رسول اکرم ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کا حَکَم بننا تو ظاہر ہی تھا۔ بعد وفات آپ کی لائی ہوئی شریعت حَکَم بننے کے لئے کافی ہے چناچہ فقہاء نے اس آیت سے استنباط کیا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول کے حَکَم میں کسی قسم کا شک و شبہ کرے یا ماننے سے انکار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : لا یومن احدکم حتی
یکون ھواہ تبعالما جئت بہ (تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہو جسے میں لے کر آیا ہوں) ۔ سورة نحل آیت 44 صفحہ 608، سورة قیامہ آیت 19 صفحہ 1460۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
حکم مطلق :
(ف 1) اس آیت میں ربوبیت مطلقہ کی قسم کھا کر بیان کیا ہے کہ اطاعت رسول لازمی ولابدی شے ہے ، یعنی ربوبیت عامہ کا تقاضا یہ ہے کہ رسول ﷺ کے ہر حکم کے سامنے گردنیں جھک جائیں ، جب تک اطاعت و تسلیم کا رضا کارانہ جذبہ دلوں میں موجود نہ ہو ‘ ایمان ویقین کی شمع روشن نہیں ہو سکتی ۔
قرآن حکیم یہی نہیں فرماتا کہ رسول ﷺ کے سامنے اپنی گردنوں کو جھکادو ‘ بلکہ وہ یہاں تک اس کی تائید و توثیق فرماتا ہے کہ دل کے کسی گوشے میں بدعقیدگی کی تاریکی موجود نہ رہے ۔
یقین وثبات کے پورے جذبات کے ساتھ نیاز مندی وعقیدت کے تمام ولولوں کے ساتھ مومن کے لئے ضروری ہے کہ آستانہ رسالت پر جھک جائے ، یعنی جوارح واعضاء کے…
Read the full tafseer →ف 1 اور ہم نے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا مگر اس لئے کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے یعنی تمام پیغمبروں کی بعثت کا مقصد خاص یہی ہوتا ہے کہ باذن الٰہی ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ان کو مطاع سمجھا جائے اور اگر یہ لوگ اسی وقت جبکہ انہوں نے گناہ کر کے خود اپنے حق میں برائی کی تھی اور اپنے کو نقصان پہنچایا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں بخشش طلب کرتے اور نادم ہو کر اپنے گناہ کی معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش و مغفرت کے خواستگار ہوتے تو یہ لوگ ضرور اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا پاتے، پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک…
Read the full tafseer →ف 3۔ اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے۔
4۔ تحکیم اور عدم حرج اور تسلیم کے مراتب تین ہیں اراعتقاد سے اور زبان سے اور عمل سے۔ اعتقاد سے یہ کہ قانون شریعت کو حق اور موضوع التحکیم جانتا ہے اور اس میں مرتبہ عقل میں ضیق نہیں اور اسی مرتبہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں اور زبان سے یہ کہ ان امور کا اقرار کرتا ہوں کہ حق اسی طرح ہے اور عمل سے یہ کہ مقدمہ لے بھی جاتا ہے اور طبعی ضیق بھی نہیں اور اس فیصلہ کے موافق کاروائی بھی کرلی سواول مرتبہ تصدیق و ایمان کا ہے اس کانہ ہونا عنداللہ کفر ہے اور منافقین میں خود اسی کی کمی تھی چناچہ تنگی کے ساتھ لفظ انکار اسی کی توضیح کے لیے ظاہر کردیا ہے اور دوسرا مرتبہ اقرار کا…
Read the full tafseer →جھگڑوں کے فیصلوں کی عدالت اور عدلیہ کا سب سے بڑا جج ایک ہی ہے :
118: آیت زیر نظر نے سارے شکوک و شبہات کو یک قلم ختم کردیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی حیثیت صاف صاف لفظوں میں بیان کردی اور گنجائش کسی صاحب ایمان کیلئے باقی نہ رہی فرمایا ” دیکھو تمارا پروردگار اس بات پر گواہ ہے کہ یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایسا نہ کریں کہ اپنے تمام جھگڑوں اور قضیوں میں تمہیں حاکم بنائیں۔ “ ایک ایک لفظ پر غور کرتے جائو اور اس عبادت کو جو تمہاری اپنی زبان میں تحریر کی گئی ہے بار بار پڑھو حقیقت تم پر خود بخود واضح ہوجاتی گئی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی حیثیت مسلمان معاشرے میں کیا ہے ؟ ایمان بنیادی شرط رسول ﷺ کی…
Read the full tafseer →Commentary
Not accepting the decision of the Holy Prophet is Kufr
This verse, while projecting a powerful view of the highly exalted station of the noble Prophet ﷺ presents a very explicit statement concerning the need to obey him, something conclusively proved by so many verses of the Holy Qur'an. The verse opens with the ultimate oath, "by your Lord", following which Allah Almighty proclaims that nobody can become a Muslim unless he accepts the verdict of the Holy Prophet ﷺ willingly, calmly and fully to the extent that there remains even in his heart not the slightest strain because of…
Read the full tafseer →95.The application of the injunction embodied in this verse is not confined to the life-time of the Prophet (peace be on him). It will remain in force until the Day of Judgement. The guidance the Prophet (peace be on him) proclaimed on God's behalf, and the manner in which he followed God's direction and inspiration, will for ever remain the universal touchstone for Muslims. In fact, recognition of that guidance as the final authority is the criterion of true belief. This principle was pronounced by the Prophet (peace be on him) in the following words: 'None of you can become a believer until…
Read the full tafseer →