Explained with ayahs 60–63
حسن سلوک اور دوغلے لوگ
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دعوے کو جھٹلایا ہے جو زبانی تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ کسی اور طرف لے جاتے ہیں، چناچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد ﷺ سے فیصلہ کرالیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے پاس چلو یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
سورة النِّسَآء 93
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان کی اس منافقانہ حرکت کا مسلمانوں کو علم ہوجاتا ہے اور انہیں خوف ہوتا ہے کہ اب باز پرس ہوگی اور سزا ملے گی اس وقت قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں اس کا جواب آیا کہ ان کے دلوں میں جو کفر و نفاق ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف اور باخبر ہیں، ان کی تاویلیں غلط اور قسمیں جھوٹی ہیں اس لئے آپ ان کے عذر کو قبول نہ فرمائیں اور حضرت عمر کے خلاف دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ رد فرما دیں، کیونکہ اس منافق کا کفر واضح ہوچکا تھا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ان منافقین کو بھی آپ خیر خواہانہ نصیحت فرما دیں جو ان کے دلوں پر اثر انداز ہو، یعنی آخرت کا خوف دلا کر ان کو مخلصانہ اسلام کی طرف دعوت دیں یا دنیوی سزا کا ذکر کردیں کہ اگر تم نفاق سے باز نہ آئے تو کسی وقت نفاق کھل جائے گا، تو تمہارا بھی یہی انجام ہوگا جو بشر منافق کا ہوا۔
Read the full tafseer →منافقین کے دل کا اصلی راز : فرمایا کہ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے۔ یہ امت کی خیر خواہی اور ساز گاری پیدا کرنے کا جذبہ ہے جو ان سے یہ پاپڑ بلوا رہا ہے یا منافقت اور طاغوت پرستی کا فساد ہے جو انہیں اسلام کی طرف ابھی یکسو ہونے نہیں دے رہا ہے اور یہ دل میں اس امید کی پرورش کر رہے ہیں کہ شاید اس کشمکش کا نتیجہ یہود اور کفار کی فتحمندی کی شکل میں نکلے تو ان کی یہ منافقت کی پالیسی کامیاب رہے گی۔ فرمایا کہ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا۔ ان کی اس حرکت سے اعراض کرو،…
Read the full tafseer →63۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ ہم نے ان کے دلوں کے تمام بھیدوں سے واقف ہیں (جس پر ہم انہیں جزا دیں گے) لیکن اے پیغمبر ! آپ ان کے ظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے درگزر ہی فرمائیے اور نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے سے ان کے اندر کی اصلاح کی کوشش جاری رکھئے ! جس سے یہ معلوم ہوا کہ دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، وعظ، نصیحت اور قول کے ذریعے سے ہی ناکام بنانے کی سعی کی جانی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
43: یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے ؛ بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم وعظھم وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ (4 : 63) ”۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، ان سے تعرض مت کرو انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اتر جائے ۔ “
یہ لوگ وہ ہیں جو اپنی نیتوں اور اپنے اندرونی ارادوں کو چھپانا چاہتے ہیں اور جھوٹے دلائل اور غلط عذر پیش کرتے ہیں لیکن اللہ ان کے دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے اور ان کے ضمیر کے اندرونی حالات سے بھی باخبر ہیں ۔ لیکن جو پالیسی اسی وقت طے شدہ تھی وہ یہ تھی کہ منافقین سے چشم پوشی کی جائے ‘ ان کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وعظ ونصیحت اور تعلیم وتربیت سے کام لیا جائے ۔۔۔۔…
Read the full tafseer →3 اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان کی قسم اور ان کی معذرت سابقہ کی تکذیب فرمائی کہ منافقین جو کچھ زبانی باتیں بنائیں بنانے دو اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کی باتیں خوب معلوم ہیں یعنی انکے نفاق اور ان کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے۔ سو آپ بھی علم خداوندی پر بس کر کے منافقوں کی بات سے تغافل کیجئے اور ان کی بات کی پروا نہ کیجئے مگر ان کو نصیحت کرنے اور کام کی باتیں بتانے میں ہرگز کوتاہی نہ فرمائیں اور ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت 63 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ ق فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا
یہ آیات نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رض کو بری قرار دیا کہ اللہ کی طرف سے ان کی براءت آگئی ہے ‘ اور اسی دن سے ان کا لقب فاروققرار پایا ‘ یعنی حق و باطل میں فرق کردینے والا۔
اب ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سورة مبارکہ میں منافقت جو زیر بحث آئی ہے وہ تین عنوانات کے تحت ہے۔ منافقوں پر تین چیزیں بہت بھاری تھیں ‘ جن میں سے اوّلین رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تھی۔ اور یہ بڑی نفسیاتی بات ہے۔ ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کی اطاعت بڑا مشکل کام ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
95 مگر اللہ تعالیٰ نے منافق کے وارثوں کی اس چال سے آپ کو مطلع کردیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قصاص کے مقدمہ کو یہ آیات نازل فرما کر خارج کردیا کہ جو لوگ اپنے مالی یا جانی مقدمات میں اللہ کے رسول کو دل و جان سے حکم تسلیم نہیں کرتے وہ فی الحقیقت مومن ہی نہیں ہیں لہذا قصاص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسا کہ اس سے آگے آ رہا ہے۔ سیدنا عمر ؓ کے اس فیصلہ پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں فاروق کا لقب عطا فرمایا۔
96 یعنی آپ ان منافقوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے البتہ انہیں دل نشین انداز میں وعظ و نصیحت کرتے رہیے اور انہیں یہ سمجھائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اسی کو…
Read the full tafseer →191 ۔ (اور ان کے کرتوتوں کو علم خداوندی اور مواخذۂ خداوندی کے حوالہ رکھیے، خود مؤاخذہ سردست نہ فرمائیے) (آیت) ” مافی قلوبھم “۔ یعنی جو کچھ یہ اپنے دلوں میں کفر ونفاق کی قسم سے چھپائے ہوئے ہیں۔
192 ۔ یعنی خاص ان کی اصلاح سے متعلق ان پر کافی مضامین کو تبلیغ کرتے رہیے کہ ان پر حجت الہی قائم رہے (آیت) ” وعظھم “۔ انہیں نصیحت کرتے رہیے جیسا کہ منصب رسالت کا اقتضا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →اولئک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبہم . یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے اندرونی خیال (نفاق) کو اللہ جانتا ہے۔ ان کو پختہ قسمیں سوائے دوزخی بنانے کے اور کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔
فاعرض عنہم . سو آپ سے ان تغافل کر جایا کریں۔
یعنی ان کا عذر نہ قبول کیجئے نہ مقتول کے خون کے مطالبہ کی طرف کوئی توجہ کیجئے۔ مقتول کا خون قابل قصاص نہیں۔
وعظہم . اور ان کو نصیحت کیجئے کہ نفاق سے باز آجائیں اور سچے دل سے مسلمان ہوجائیں۔
وقل لہم فی انفسہم قولا بلیغا . اور ان سے خاص ان کی ذات کے متعلق مؤثر بات کہہ دیں یعنی ایسی بات کہہ دیجئے جو ان کے دلوں کے اندر اتر جائے۔ حسن (رح) بصری نے کہا قول بلیغ یہ ہے کہ منافقوں سے کہا…
Read the full tafseer →(63) آپ ان لوگوں کو معاف فرمائیے اور اس مرتبہ ان پر گرفت نہ فرمائیے اور نصیحت فرما دیجیے کہ دوسری مرتبہ ایسا نہ کریں ورنہ سخت قسم کی گرفت کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ۔۔ : اطاعت رسول کی دوبارہ ترغیب دی ہے۔ یعنی اللہ کے رسول دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ تمام معاملات میں اللہ کے حکم کے مطابق ان کی اطاعت کی جائے۔ ”باذن اللہ“ کا معنی اللہ کی توفیق و اعانت بھی کیا گیا ہے، وہ بھی درست ہے، معلوم ہوا ہر رسول واجب الاطاعت ہوتا ہے۔
وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا : اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آنا اور آپ سے استغفار کروانا آپ کی زندگی کے ساتھ خاص تھا، آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر آیا ہو اور آپ سے دعا کرنے کی درخواست کی ہو۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے یہاں ایک بدوی کی حکایت نقل کی ہے، جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت نمبر : 62 تا 63۔
یعنی (آیت) ” فکیف “ کیا حال ہوگا۔ یا فکیف، یصنعون ‘ یعنی وہ کیا کریں گے، (آیت) ” اذا اصابتھم مصیبۃ “۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے استعانت ترک کرنے کی وجہ سے جب انہیں کوئی مصیبت آپہنچتی ہے اور جو ذلت انہیں لاحق ہوتی ہے اس ارشاد میں (آیت) ” فقل لن تخرجوا معی ابدا ولن تقاتلوا معی عدوا “۔ (توبہ : 83) بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ان کے اپنے سردار کا قتل ہے۔ (آیت) ” بما قدمت ایدیھم “۔ یہاں تک کلام مکمل ہے پھر ان کے فعل کے متعلق خبر دی۔ یہ اس طرح ہے کہ حضرت عمر ؓ نیی جب ان کے ساتھی کو قتل کردیا تو ان کی قوم اس کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لیے آئی اور قسمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو برزہ سلمی کا ہن تھا یہود کے درمیان فیصلے کیا کرتا تھا ان معاملات میں کہ جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اس کی طرف فیصلہ کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا “ سے لے کر ” احسانا وتوفیقا “ تک۔
(2) ابن اسحاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جلاس بن صامت اپنی توبہ سے پہلے اور مقیب بن مشتیر اور رافع بن زید اور بشر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کی قوم کے مسلمانوں نے ایک جھگڑے میں حضور ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا جبکہ…
Read the full tafseer →[ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ : وہ لوگ ہیں کہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِیْ قُلُوْبِہِمْ : ان کے دلوں میں ہے ] [ فَاَعْرِضْ : تو آپ ﷺ اعراض کریں ] [ عَنْہُمْ : ان سے ] [ وَ : اور ] [ عِظْہُمْ : آپ ﷺ نصیحت کریں ان کو ] [ وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیں ] [ لَّـہُمْ : ان سے ] [ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ : ان کے جی (یعنی دل) میں ] [ قَوْلاً م بَلِیْغًا : ایک پہنچنے (یعنی اترنے) والی بات ]
نوٹ : آیت 60 اپنے حکم اور الفاظ کے اعتبار سے عام ہے۔ یہ ہر اس شخص کی مذمت اور برائی کا اظہار کرتی ہے جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کسی اور باطل کی طرف اپنا فیصلہ لے جائے ۔ یہاں طاغوت سے یہی مراد…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) (الایۃ) کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دلوں کا حال معلوم ہے وہ ان کو سزا دے گا، آپ ان سے اعراض کریں زجر و توبیخ نہ کریں ہاں ان کو نصیحت کرتے رہیں جو ان کی ذاتوں کے بارے میں ہو اور انتہائی وضاحت کے ساتھ ان سے ایسی باتیں فرمائیں جو مؤثر ہوں راہ حق پر لانے والی ہوں۔
(فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) کا ایک مطلب تو مفسرین نے یہی بتایا ہے جو ابھی اوپر بیان ہوا کہ ان سے اعراض کریں اور زجر و تو بیخ سے کام نہ لیں اور دوسرا مطلب یہ بتایا ہے کہ ان کا عذر قبول کرنے سے اعراض فرمائیں اور انہوں نے جو بشر مقتول کے خون کا دعویٰ کیا ہے اس طرف توجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
45 مُصِیبَۃٌ سے قتل کا مذکورہ واقعہ مراد ہے اور مَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ سے حضرت رسول خدا ﷺ کے فیصلہ پر اعتماد نہ کرنا اور اسے کافی نہ سمجھنا مراد ہے کیونکہ مصیبت قتل ان پر اسی بناء پر آئی کہ انہوں نے دربار نبوی کا فیصلہ تسلیم نہ کیا۔ جب حضرت عمر ؓ نے بشر منافق کو قتل کردیا تو اس کے ورثاء نے حضرت نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر مقتول کے خون بہا کا مطالبہ کیا اور لگے قسمیں کھانے کہ ہم نے آپ کا فیصلہ رد نہیں کیا تھا بلکہ حضرت عمر کے پاس جانے سے ہماری نیت یہ تھی کہ وہ ہمارے درمیان صلح کرا دیں۔ اُوْلئِکَ یَعْلَمُ اللہُ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ الخ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتیں جانتا ہے اور اسے معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ ایک یہ کہ امانت اس کے اہل تک پہنچاؤ اور دوسری یہ کہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ ان دونوں احکام کے مخاطبین اولاً مسلمان حکام بنتے ہیں اور ثانیاً عام مسلمان ، پھر گزشتہ درس میں یہ ارشاد ہوا کہ مذکورہ دو احکام کی تعمیل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جبکہ اہل ایمان اللہ کی اطاعت کریں رسول کی اطاعت کریں اور مسلمان حکام کی اطاعت کریں۔ جب کہ وہ نیکی کا حکم دیں۔ پھر فرمایا اگر کسی معاملہ میں جھگڑا پیدا ہوجائے ، حکام اور رعایا کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہوجائے تو فرمایا کہ ایسے معاملہ کو واپس اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَعْلَمُ اللہُ مَا فِيْ قُلُوْبِہِمْ 0ۤ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا 63
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
قلب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] .
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : یریدون حال ہے الذین یزعمون سے۔ انہم اور اس کا معمول قائم مقام دو مفعولوں کے ہیں۔ وقد امروا حال ہے فاعل یریدون سے ضلالاً اے فیضلوا ضلالا اور بمعنی اضلال بھی ہوسکتا ہے فی انفسہم متعلق ہے قل سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور قضایا کے فیصلے انہیں کے سپرد کر دو ۔ یہاں اس بات کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایسے بھی تیرہ باطن لوگ ہیں کہ باوجود ان کو اس بات کا اقرار ہے کہ ہم قرآن اور سب اگلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں نور ایمان نہیں صرف ظاہری ایمان ہے۔ اپنے قضا یا ناپاک اور شیطانی لوگوں کے پاس فیصلے کے لئے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس امید سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ثُمَّ جَـآئُ وْکَ یَحْلِفُوَنَ صلے ق بِاللّٰہِ اِنْ اَرَدْنَـآ اِلَّا اِحْسَانًاوَّتَوْفِیْقاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَافِیْ قُلُوْبِھِمْ ق فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا
(اس وقت کیا ہوگا جب ان کے اعمال کی پاداش میں ان کو بھی مصیبت پہنچے گی ‘ پھر یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آئیں گے کہ خدا کی قسم ہم نے تو صرف بہتری اور سازگاری چاہی۔ ان لوگوں کے دلوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اللہ اس سے خوب واقف ہے ‘ ان سے اعراض کرو ‘ ان کو سمجھاؤ اور ان سے خود ان کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ہونے کے ساتھ منافقین کی دوغلی پالیسی سے نبی ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو وعظ و نصیحت جاری رکھیں۔
اس فرمان میں آپ کو خبر دی جارہی ہے کہ آج تو منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر اتراتے اور دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن عنقریب وقت آنے والا ہے کہ جب ان کے کرتوت سامنے آئیں گے تو یہ اپنے کیے پر پچھتاتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلف اٹھاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اس کام میں ہماری یہ مصلحت تھی اور یہ کام ہم نے فلاں وجہ سے کیا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف باہمی یگانگت اور موافقت پیدا کرکے اچھا ماحول پیدا کرنا تھا چناچہ اس پیش گوئی اور…
Read the full tafseer →آیت 63 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو ان کے دلوں میں ہے) یعنی منافقت۔ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ (آپ ان سے اعراض فرمائیں) ۔ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًام بَلِیْغًا (اور ان کو نصیحت کریں اور ان کو ان کے متعلق موثر بات کہیں)
اعرض کا مفہوم :
اَعْرِضْکا مطلب۔ نمبر 1۔ ان کا عذر قبول کرنے سے اعراض کریں۔ اور ڈانٹ ڈپٹ اور انکار کے ساتھ ان کو نصیحت کریں۔ اور ان کو نصیحت کرنے میں تخویف وانذار میں خوب مبالغہ کریں۔ یا نمبر 2۔ انجام سے اعراض کریں اور عتاب سے نصیحت کریں اور ان کی اس حرکت کے متعلق آپ کے دل میں جو آخری…
Read the full tafseer →(تفسیر) 63۔ـ:
(آیت)” اولئک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبھم “۔ جو ان کے دلوں میں نفاق ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں وہ کچھ ہے جو ان کی زبانوں کے برخلاف ہے ۔ (آیت)” فاعرج عنھم “۔ ان کی سزا سے آپ اعراض کریں ۔ بعض نے کہا کہ ان کے بارے میں خدا خوفی سے ڈریں اور بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ قتل کر وعدہ ہے اگر وہ توبہ نہ کریں ، حسن (رح) کا قول ہے کہ تم ان کو بلیغ بات کہو کیونکہ اگر وہ یہ بات کریں جو ان کے دل میں ہے تو ان کو قتل کر دیاجائے کیونکہ ہر شخص کو وہی انجام حاصل ہوتا ہے جو ان کے دل میں ہوتا ہے، ضحاک (رح) کا قول ہے (آیت)” فاعرض عنھم وعظھم “۔ یعنی ملاء میں۔ (آیت)” وقل لھم فی انفسھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(60 ۔ 63) ۔ اوپر اللہ و رسول کے حکم کے موافق عمل کرنے کی تاکیدتھی ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس تاکید کے پابند نہیں ہیں ان آیتوں کی شان نزول میں سلف کا اختلاف ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کے موافق جس شان نزول کو حافظ ابن کثیر (رح) نے صحیح ٹھہرا کر اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک منافق اور یہودی میں کچھ جھگڑا تھا یہود کہتا تھا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ محمد ﷺ کی پیشی میں ہونا چاہیے اور منافق کعب بن اشرف یہودیوں کے سردار کی پیشی کا اصرار کرتا تھا۔ آخر مقدمہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں آیا۔ اور آپ نے یہودی کی طرف اس مقدمہ کا فیصلہ کردیا۔ منافق نے اس خیال سے کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
آیت 63
اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے۔ (الذین یزع مومن انھم امنوا) ” جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔ “ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے اور جو کچھ آپ ﷺ سے پہلے تھا۔ بایں ہمہ (یریدون ان یتحاکموآ الی الظاغوت) ” وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔ “ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ (وقد امروا ان یکفروابہ ) ” انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔ “ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہوسکتے ہیں کیونکہ ایمان اس امر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →148 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ دلوں کے چھپے حالات کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ یعنی ان کے اس نفاق کو، جسے یہ دوسروں سے تو جھوٹی قسمیں کھا کر چھپالیتے ہیں، مگر دلوں کے بھید جاننے والے اس وحدہ لاشریک سے یہ کیسے چھپ اور چھپا سکیں گے۔ وہ تو بہرحال دلوں کے حالات کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے بلکہ وہ تو انسانوں کے دلوں کے ان حالات کو بھی جانتا ہے جو ابھی تک ان کے دلوں میں آئے ہی نہیں بلکہ بعد میں آئیں گے کہ اس کی شان ہے { یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی } (طہٓ: 7) جسکی تفسیر میں حضرات علمائے کرام کا کہنا ہے کہ " سر " سے مراد وہ خیال ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
صحیح طریقہ
تشریح : ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ رب العزت خوب اچھی طرح ان کو جانتے ہیں اور جب بھی وقت آئے گا ان کو سزا ملے گی۔ پھر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا حکم ہے کہ آپ ﷺ ان کی منافقت اور خباثت کی بالکل پرواہ نہ کریں اور مسلسل انکو نصیحت کرتے رہیں، پھر اللہ رب العزت مغفرت مانگنے کی تلقین فرماتا ہے کہ اگر ان لوگوں سے قصور ہوگیا تھا تو ان کو یہی چاہیئے تھا کہ وہ رسول ﷺ کے پاس آتے اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ﷺ سے درخواست کرتے کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں تو اللہ رب العزت یقیناً ان کی توبہ قبول کرکے ان کو معاف کردیتا، کیونکہ بہت دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان غلطیوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
اسرار و معارف
آیات 60 تا 65 الم تر الی الذین۔۔۔ و یسلموا تسلیما
اب ایسے لوگوں کی حالت ملاحظہ ہو جو اپنے دعوے اسلام میں تو نہ صرف قرآن حکیم پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے جو کچھ بھی اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوا تھا اس پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر میدان عمل میں انہیں شیطان کی رائے پسند ہے حالانکہ قرآن حکیم ہو یا پہلی منزل کتابیں سب کا مقصد ہی شیطان کی غلامی سے روکنا ہے ورنہ تو گمراہی میں پڑنے کا نہ صرف سخت خطرہ ہے بلکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ جو انسان بھی اس کی مانے اسے وہاں تک گمراہ کرکے لے جائے جہاں تک ممکن ہو نزول آیات کا سبب اگرچہ خاص واقعہ ہے ذرا وہ بھی سن لیں کہ ایک یہودی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ان منافقوں کے دل کا چور اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے تم کو معلوم نہیں تم ان سے اپنا ظاہری معاملہ درگزر کا رکھو اور ان کو دلپذیر نصیحت کرتے رہو شاید کسی کے دل میں کوئی بات اترجائے (ا، ت )
Read the full tafseer →(4:63) فی انفسکم۔ ان کے اپنے متعلق۔ ان کے لئے۔ بلیغا۔ اثر کرنے والا۔ پہنچنے والا۔ بلاغت والا۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ان سے ان کے حق میں اثر کرنے والی بات کہہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
آیت نمبر 60-64
لغات القرآن : یزعمون، دعوی کرتے ہیں، گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یتحاکموا، وہ فیصلہ کے لئے جائیں۔ امروا، حکم دیا گیا۔ ضلال بعیدا، گم راہی میں دور۔ تعالوا، آؤ۔ رایت، تو نے دیکھا (تو دیکھے گا) ۔ صدود، اٹک کر، روک رک کر۔ یحلفون، وہ قسم کھاتے ہیں۔ توفیق، باہمی میل ملاپ۔ لیطاع، تاکہ اطاعت کی جائے۔ لوجدوا، البتہ وہ پاتے۔
تشریح : اس حکم کے بعد کہ حکومت کے عہدے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ امانت داری کے لئے ہیں اور ان پر وہی مقرر کئے جائیں گے جو انہیں اللہ کی امانت سمجھیں گے۔ فرمایا گیا کہ اس حکم کے بعد جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے لگو تو بےلاگ اور بےلوث کرو۔ پھر اس حکم کے بعد اللہ کا حکم مانو،…
Read the full tafseer →اس آیت میں اس زمانہ کے عام منافقوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کچھ اس زمانہ پر منحصر نہیں ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت رسول سے لے کر آخرالرسول حضرت محمد ﷺ تک اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول ہیں ان سب کے حق میں اللہ کا یہی حکم تھا کہ ہر وقت کی امت پر اللہ کے رسول کی فرمانبرداری فرض ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
[50] '' طاغوت '' سے یہاں مراد وہ حاکم ہے جو قانون الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(ف 1) ان آیات میں منافقین کی نفسیات کو بیان کیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے کتراتے ہیں ، اور حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں حب رسول ﷺ کا جذبہ دن بدن کم ہوتا جائے اور جب عناد رسول ﷺ کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر اخلاص ومودت کی قسمیں کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو محض احسان وتوفیق کے حامی ہیں ، ہماری تمام تگ ودو اس لئے ہے کہ دونوں گروہوں میں صلح وامن قائم ہوجائے ۔
فرمایا یہ منافقت ہے ، خدا خوب جانتا ہے اس لئے آپ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے تعرض نہ کریں اور وعظ و حکمت سے انہیں متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 3 یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور ان کے مافی الضمیر سے خوب واقف ہے یعنی ان کا کفر اور نفاق اس کو خوب معلوم ہے لہٰذا بہ تقاضائے مصلحت آپ ان سے کوئی تعارض نہ کیجیے اور ان سے تغافل و چشم پوشی کا برتائو کیجیے اور ان کو نصیحت فرماتے رہیے اور ان کے حق میں اور ان کے بارے میں ان سے ایسی بات کہا کیجیے جو ان پر اثر انداز اور ان کے لئے مئوثر اور ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو۔
مطلب یہ ہے کہ جو کفر و نفاق ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ … جانتا ہے اور یہ اپنے کفر و نفاق کی بنا پر چونکہ شریعت اسلامیہ کے فیصلہ کو پسند نہیں کرتے اس لئے دوسروں کے پاس…
Read the full tafseer →ف 1۔ ان آیتوں میں ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایک شخص تھا منافق بشر اس کا نام تھا اس کا کسی یہودی سے جھگڑا ہوا یہودی نے کہا چل محمد ﷺ کے پاس ان سے فیصلہ کرالیں منافق نے کہا کعب بن اشرف کے پاس چل یہود کا ایک سردار تھا ظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس معاملہ میں حق یہودی ہوگا اس نے جانا کہ رسول اللہ ﷺ کسی کی رعایت نہ فرمائیں گے وہاں حق فیصلہ ہوگا گو میں آپ سے مذہبی مخالفت رکھتا ہوں منافق چونکہ باطل پر تھا اس نے سمجھا کہ رسول اللہ کے یہاں تو میری بات نہ چلے گی گو میں ظاہر مسلمان ہوں مگر کعب بن اشرف خود کوئی حق پرست نہیں وہاں میرا مقدمہ سرسبز ہوجائے گا پھر آخر وہ دونوں رسول اللہ ہی کے پاس مقدمہ لے کر…
Read the full tafseer →فرمایا ” پیغمبر اسلام ! یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے۔ پس چاہئے کہ ان کے پیچھے نہ پڑو اور انہیں پندو ونصیحت کرتے رہو ، تم انہیں ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ “ وہ اثر پذیر ہو یا نہ ہو اس کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے یقینا وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے ہو کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔ یہ ان سارا غصہ اس بات پر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ اب اگر یہ…
Read the full tafseer →The fourth verse (63) comes up with the answer. It says that Allah is all-aware of the disbelief and hypocrisy rooted in their hearts. All their interpretations are false, and their oaths, an exercise in lying. So, the Holy Prophet ﷺ ، is being asked to ignore their excuses and reject their charge of excess against Sayyidna ` Umar , as the disbelief of this particular hypocrite had become manifest.
After that, towards the end of this verse (63), the Holy Prophet 4 has been asked to give good counsel to the rest of the hypocrites as well, in a way that may touch their hearts, that is, tell…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
93. This may mean that when Muslims become aware of their hypocritical activities and they feel afraid of being caught, censured, and eventually punished, the hypocrites resort to every stratagem, including oaths, in order to assure people that they are true believers.
Read the full tafseer →