Explained with ayahs 60–63
حسن سلوک اور دوغلے لوگ
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دعوے کو جھٹلایا ہے جو زبانی تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ کسی اور طرف لے جاتے ہیں، چناچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد ﷺ سے فیصلہ کرالیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے پاس چلو یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 91
یہاں صریح طور پر ”طاغوت“ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الہٰی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظام عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخرت سند مانتا ہو۔ لہٰذا یہ آیت اس معنیٰ میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت ”طاغوت“ کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ قرآن کی رو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر، دونوں لازم و ملزوم ہیں، اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (زبان سے تو) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ہم) اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی (یعنی قرآن اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی (یعنی توریت کیونکہ اس میں منافقین کا بیان ہے، اور اکثر منافقین یہود میں سے تھے، مطلب یہ ہے کہ زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جس طرح ہم توریت کو مانتے ہیں اسی طرح قرآن کو بھی مانتے ہیں، یعنی اسلام کے مدعی ہیں، پھر اس پر حالت یہ ہے کہ) اپنے مقدمے شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (کیونکہ غیر شرع کی طرف مقدمہ لے جانے کے لئے شیطان سکھلاتا ہے، پس اس پر عمل کرنا ایسا ہے جیسے شیطان ہی کے پاس…
Read the full tafseer →تحاکم الی الحاکم کے معنی ہیں تخاصم الیہ۔ یعنی اپنا قضیہ اور معامہ حاکم کے سامنے پیش کیا۔ طاغوت کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے مقابل میں فرمایا ہے تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہاں طاغوت، کتاب اللہ اور رسول کی ضد کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ مدینہ اور اطراف مدینہ میں آیت کے زمانہ نزول تک یہ حیثیت صرف یہود کے سرداروں اور لیڈروں ہی کو حاصل تھی کہ جو لوگ نبی ﷺ کی عدالت سے بچنا چاہتے وہ اپنے معاملات ان کے پاس لے جاتے اس وجہ سے طاغوت سے مراد وہی ہوسکتے ہیں اور ہر اعتبار سے وہ اس لفظ کے بالکل ٹھیک ٹھیک مصداق تھے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ کی ہے کیونکہ حکم صرف اللہ ہی کا ہے ' لیکن چونکہ رسول ﷺ خالص منشاء الٰہی ہی کا مظہر ہے اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول ﷺ کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ) 4:80 " جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی " جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا مأخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امر و احکام کی اطاعت بھی ضروری ہے کیونکہ وہ یا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں۔ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
42: یہاں سے ان منافقوں کا ذکر ہورہا ہے جو اصل دل سے تو یہودی تھے مگر مسلمانوں کو دکھانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، ان کا حال یہ تھا کہ جس معاملے میں ان کی توقع ہوتی کہ آنحضرت ﷺ ان کے فائدے کا فیصلہ کریں گے ان کا مقدمہ تو آپ کے پاس لے جاتے ؛ لیکن جس مسئلے میں ان کو خیال ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا وہ مقدمہ آپ کے بجائے کسی یہودی سردار کے پاس لے جاتے، جسے اس آیت میں طاغوت کہا گیا ہے، منافقین کی طرف سے ایسے کئی واقعات پیش آئے تھے جو متعدد روایات میں منقول ہیں، طاغوت کے لفظی معنی ہیں نہایت سرکش ؛ لیکن یہ لفظ شیطان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ہر باطل کے لئے بھی، یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(آیت) ” نمبر 60 تا 65۔
بعض لوگوں کی یہ تصویر جو ان آیات میں کھینچی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھیں ۔ اس دور میں جس میں نفاق کا بہت زور تھا اور یہودی منافقین کے ساھت ملک کر ایک زور آور قوت تھے۔
یہ لوگ جو یہ ارادہ رکھتے تھے کہ قانونی فیصلے طاغوت کے مطابق ہوں ‘ یہ لوگ منافقین تھے جیسا کہ آیات کے اس مجموعے کی دوسری آیت میں اس کی تصریح بھی کردی گئی ہے ۔ ان سے مراد یہودی بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب ان کو یہ دعوت دی جاتی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرانا تسلیم کریں تو وہ انکار کردیتے تھے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ اس قانون کے مطابق فیصلے…
Read the full tafseer →7 یہود فصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے اس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خائن ہوتے وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ حق کی رعایت کریں گے اور کسی کی اصلاً رعایت نہ کریں گے۔ سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے۔ یہودی جو سچا تھا اس نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اس نے کہا کہ چل کعب بن اشرف، کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر وہ دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں جھگڑا لیکر آئے تو آپ ﷺ نے یہودی کا حق ثابت فرمایا۔ منافق…
Read the full tafseer →آیت 60 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ
لیکن ان کا طرز عمل یہ ہے کہ :
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ
یہاں واضح طور پر طاغوت سے مراد وہ حاکم یا وہ ادارہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا۔ پچھلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ گویا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند ہوگیا وہ طاغوت سے خارج ہوگیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو قبول نہیں کرتا وہ طاغوت ہے ‘ اس لیے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا۔ چناچہ غیر مسلم حاکم یا منصف جو اللہ…
Read the full tafseer →92 منافقوں کا آپ کے پاس فیصلہ لانے سے گریز :۔ جو دعویٰ تو مسلمانوں کا سا کرتے ہیں مگر حقیقت میں منافق ہیں اور طاغوت کا مفہوم پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ فرد، عدالت، ادارہ یا نظام ہے جو اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا حکم لوگوں پر مسلط کرنا چاہتا ہو۔ منافقوں کا طریقہ یہ تھا کہ جس مقدمہ میں انہیں توقع ہوتی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اسے تو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آتے اور جس مقدمہ میں یہ خطرہ ہوتا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اسے آپ کے پاس لانے میں پس و پیش کرنے لگتے حتیٰ کہ انکار بھی کردیتے تھے۔ یہی حال آج بھی نام نہاد مسلمانوں کا ہے۔ اگر شریعت کا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو سر آنکھوں پر،…
Read the full tafseer →184 ۔ مراد یہود اور منافقین ہیں۔ (آیت) ” انزل من قبلک “۔ یعنی توریت (آیت) ” یزعمون “۔ زعم کے اصل معنی مطابق قول کے ہیں۔ خواہ وہ حق ہو یا باطل لیکن عموما اس کا استعمال جھوٹ یا مشکوک بات کے لئے ہوتا۔ الزعم القول الحق والباطل و اکثر مایقال فیما یشک فیہ ولا یتحقق (تاج) واذا شک فیہ فلم یدرلعلہ کذب اوباطل قیل یزعم فلان (لسان) محاورۂ قرآنی میں یہ ہمیشہ ذم ہی کا پہلولئے ہوئے آیا ہے۔ جاء فی القرآن فی کل موضع ذم القائلون بہ (راغب)
185 ۔ (بجائے اس کے کہ اسے شریعت کی عدالت میں لائیں) طاغوت۔ پر حاشیہ پ 3 میں گزر چکا ہے۔ یہاں مراد ہر غیر اللہ کی حکومت واقتدار ہے۔
186 ۔ یعنی اس کی حاکمیت کے تسلیم کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →الم تر الی الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کتاب آپ ﷺ پر نازل ہوئی اور جو کچھ آپ سے پہلے نازل ہوا سب پر ایمان رکھتے ہیں ان سے مراد منافق ہیں۔
یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت .(پھر بھی) طاغوت کے پاس اپنا فیصلہ کرانے لئے جانا چاہتے ہیں۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا تھا کہ عمر ؓ نے حق کو باطل سے جدا کردیا اسی لئے آپ کا نام فاروق ہوگیا۔
طاغوت سے مراد ہے کعب بن اشرف یا قبیلۂ جہینہ کا کاہن (طغیان کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا) چونکہ یہ دونوں حق کی حدود سے متجاوز تھے اس لئے ان کو طاغوت کہا گیا یا یوں کہا جائے…
Read the full tafseer →(60) اے محمد ﷺ کیا آپ کو ان لوگوں کی اطلاع نہیں جو قرآن کریم اور توریت کی پیروی کے دعویدار ہو کر بھی اپنے فیصلے کعب بن اشرف کے پاس لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ کہ قرآن کریم میں ان کو اس سے کنارہ کشی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
شان نزول : (آیت) ”الم ترالی الذین یزعمون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوبرزہ اسلمی کاہن تھے، یہودیوں کے جھگڑوں میں ان کے درمیان فیصلہ کیا کرتے تھے ،
مسلمانوں میں سے کچھ لوگ بھی ان کے پاس گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”الم تر الی الذین“۔ سے ”احسانا وتوفیقا“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔
اور ابن ابی حاتم ؒ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اوپر کی آیات میں مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، یہاں فرمایا کہ منافق ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کبھی آپ ﷺ کے فیصلے اور حکم پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی مشرک سردار یا یہودی یا نصرانی عدالت یا کسی کاہن سے فیصلہ کروایا جائے، حالانکہ اسلام ان سب کے انکار کا حکم دیتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر عمل نہ کرنے والی ہر عدالت کو طاغوت قرار دیتا ہے۔ مومن کا کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ سننا اور ماننا ہے۔ [ دیکھیے النور : 51 ] اور منافقوں کا حال اس کے برعکس ہے۔ [ دیکھیے النور : 48، لقمان : 21 ] افسوس کہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت نمبر : 60 تا 61۔
یزید بن زریع عن داؤد بن ابی ھند عن الشعبی کے سلسلہ سے مروی ہے شعبی نے فرمایا : ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا ہوا یہودی نے منافق کو نبی مکرم ﷺ سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ ﷺ رشوت قبول نہیں کرتے، منافق نے یہودی کو یہود کے حکام سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا ک، کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں رشوت لیتے ہیں، جب اختلاف ہوا تو دونوں نے جہینۃ قبیلہ میں ایک کاہن کو اپنا حکم بنانے پر اتفاق کیا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک “۔ یعنی منافق اور ” وما انزل من قبلک “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو برزہ سلمی کا ہن تھا یہود کے درمیان فیصلے کیا کرتا تھا ان معاملات میں کہ جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اس کی طرف فیصلہ کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا “ سے لے کر ” احسانا وتوفیقا “ تک۔
(2) ابن اسحاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جلاس بن صامت اپنی توبہ سے پہلے اور مقیب بن مشتیر اور رافع بن زید اور بشر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کی قوم کے مسلمانوں نے ایک جھگڑے میں حضور ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا جبکہ…
Read the full tafseer →[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں کی طرف جو ] [ یَزْعُمُوْنَ : جتاتے ہیں ] [ اَنَّـہُمْ : کہ وہ لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِمَـآ : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اُتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَـآ : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَـبْلِکَ : آپ سے پہلے ] [ یُرِیْدُوْنَ : وہ لوگ چاہتے ہیں ] [ اَنْ یَّـتَحَاکَمُوْآ : کہ فیصلے کے لیے لے جائیں (جھگڑے کو) ] [ اِلَی الطَّاغُوْتِ : سرکشوں کی طرف ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ اُمِرُوْآ : حکم دیا گیا ہے ان کو ] [ اَنْ یَّــکْفُرُوْا : کہ وہ انکار کریں ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَیُرِیْدُ : اور…
Read the full tafseer →ایک منافق کا واقعہ جو یہودی کے پاس فیصلہ لے گیا
صاحب معالم التنزیل (صفحہ 4467: ج 1) سبب نزول بتاتے ہوئے یہیں ایک واقعہ نقل کیا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ کہ بشرنامی ایک منافق تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا تھا۔ فیصلہ کرانے کے لیے کہیں جانا تھا۔ یہودی نے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں ان سے فیصلہ کرا لیں لیکن بشر منافق نے کہا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا۔ یہودی نے کہا کہ نہیں میں تو محمد ﷺ ہی کے پاس لے چلوں گا، جب منافق نے یہ دیکھا کہ یہ اور کسی جگہ جانے کو تیار نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دونوں حاضر ہوگئے آنحضرت ﷺ نے یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
44 یہ اَطِیْعُوْا اللہَ وَ اَطِیْعُوْ الرَّسُوْلَ سے متعلق ہے اور ان منافقین یہود کیلئے زجر ہے جو دعوے کرتے تھے کہ وہ تورات کی تعلیم کے مطابق قرآن پر اور آخری پیغمبر پر دل و جان سے ایمان لا چکے ہیں مگر ان کا عمل ان کے اس دعویٰ کے سراسر خلاف تھا۔ امام ثعلبی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کی ہے کہ ایک منافق بشر نامی کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا تو اس یہودی اور اس کے متعلقین نے اس منافق سے کہا کہ چلو یہ جھگڑا ہم تمہارے پیغمبر کے پاس لے چلتے ہیں تو اس منافق نے کہا کہ نہیں یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس چلو۔ آخر مقدمہ عدالت نبوی میں پہنچا آپ نے فریقین کے بیانات سن کر یہودی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ ایک یہ کہ امانت اس کے اہل تک پہنچاؤ اور دوسری یہ کہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ ان دونوں احکام کے مخاطبین اولاً مسلمان حکام بنتے ہیں اور ثانیاً عام مسلمان ، پھر گزشتہ درس میں یہ ارشاد ہوا کہ مذکورہ دو احکام کی تعمیل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جبکہ اہل ایمان اللہ کی اطاعت کریں رسول کی اطاعت کریں اور مسلمان حکام کی اطاعت کریں۔ جب کہ وہ نیکی کا حکم دیں۔ پھر فرمایا اگر کسی معاملہ میں جھگڑا پیدا ہوجائے ، حکام اور رعایا کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہوجائے تو فرمایا کہ ایسے معاملہ کو واپس اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِہٖ 0ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا 60
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : یریدون حال ہے الذین یزعمون سے۔ انہم اور اس کا معمول قائم مقام دو مفعولوں کے ہیں۔ وقد امروا حال ہے فاعل یریدون سے ضلالاً اے فیضلوا ضلالا اور بمعنی اضلال بھی ہوسکتا ہے فی انفسہم متعلق ہے قل سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور قضایا کے فیصلے انہیں کے سپرد کر دو ۔ یہاں اس بات کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایسے بھی تیرہ باطن لوگ ہیں کہ باوجود ان کو اس بات کا اقرار ہے کہ ہم قرآن اور سب اگلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں نور ایمان نہیں صرف ظاہری ایمان ہے۔ اپنے قضا یا ناپاک اور شیطانی لوگوں کے پاس فیصلے کے لئے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس امید سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَـآ اُنْزِلَ اِلَیْـکَ وَمَـآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِـکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْ بِہٖ ط وَیُرِیْدُالشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلـاً م بَعِیْدًا وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰـفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْـکَ صُدُوْدًا ج
(اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دے کر من گھڑت ایمان ‘ نمائشی اطاعت کی تردید اور شیطان کی اتباع سے منع کیا گیا ہے۔ اہل کتاب کے بعد خطاب کا رخ منافقین کی طرف کردیا گیا۔
منافقین کا دعویٰ اور خیال تھا کہ وہ قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ منع کرنے کے باوجود چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلے طاغوت کے ذریعے ہوں۔ یہ اس لیے کہ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں دھکیل دے تاکہ یہ ہدایت کی طرف نہ پلٹ سکیں۔
حافظ ابن حجر ؓ نے اس آیت کے تحت ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے منافقوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک منافق اور یہودی کے…
Read the full tafseer →بشر منافق اور یہودی کا قصہ :
آیت 60 : بشر منافق اور یہودی کے درمیان جھگڑا تھا۔ یہودی نے اس کو کہا کہ آئو نبی اکرم ﷺ سے فیصلہ کروا لیں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ رشوت نہیں لیتے۔ منافق نے کہا چلو کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ اس کا مقصد تھا کہ اس کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لے۔ پھر دونوں فیصلہ لے کر حضرت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ مگر منافق راضی نہ ہوا۔ اور کہنے لگا آئو۔ ہم عمر کے پاس فیصلہ لے جاتے ہیں۔ یہودی نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ مگر یہ راضی نہیں ہوا۔ اس پر عمر ؓ نے منافق کو کہا۔ کیا بات اسی طرح ہے۔ اس…
Read the full tafseer →(یہودی اور منافق کا ایک جھگڑے میں آپ ﷺ کے فیصلے سے انحراف)
(تفسیر) 60۔:
(آیت)” الم تر الی الذین یزعمون امنھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی الطاغوت “۔ امام شعبی (رح) نے کہا کہ ایک یہودی اور ایک منافق میں کچھ جھگڑا تھا ، یہود معاملے کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ حضور اقدس ﷺ فیصلہ رشوت کھا کر نہیں کرسکتے اور منافق یہودیوں سے فیصلہ کرانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ وہ رشوت لے لیں گے اور رشوت لے کر فیصلہ میں غیر جانبداری کرسکیں گے ، بالاخر وہ دونوں اتفاق رائے سے قبیلہ جہینہ کے ایک کاہن کے پاس گئے، دونوں نے اپنا مقدمہ فیصلہ کے لیے اس کے سامنے رکھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(60 ۔ 63) ۔ اوپر اللہ و رسول کے حکم کے موافق عمل کرنے کی تاکیدتھی ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس تاکید کے پابند نہیں ہیں ان آیتوں کی شان نزول میں سلف کا اختلاف ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کے موافق جس شان نزول کو حافظ ابن کثیر (رح) نے صحیح ٹھہرا کر اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک منافق اور یہودی میں کچھ جھگڑا تھا یہود کہتا تھا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ محمد ﷺ کی پیشی میں ہونا چاہیے اور منافق کعب بن اشرف یہودیوں کے سردار کی پیشی کا اصرار کرتا تھا۔ آخر مقدمہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں آیا۔ اور آپ نے یہودی کی طرف اس مقدمہ کا فیصلہ کردیا۔ منافق نے اس خیال سے کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
آیت 58-59
ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →143 منافقوں کا تعجب انگیز حال : استفہام یہاں پر تعجیب و تقبیح کے لئے ہے کہ ان لوگوں کا حال بڑا عجیب اور عبرت انگیز ہے کہ دعویٰ تو کیا ہے اور عمل و کردار کیا ؟ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب کامل پر جو کہ آپ ﷺ پر اتاری گئی اے پیغمبر !۔ یعنی قرآن حکیم۔ اور یہ کہ وہ ایمان رکھتے ہیں ان کتابوں پر جو کہ اس سے پہلے اتاری گئیں یعنی تورات و انجیل وغیرہ پر۔ مگر فیصلہ کرانا چاہتے ہیں طاغوت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ صدق دل سے کتاب الہی اور سنت رسول کی طرف رجوع کرتے۔ کیونکہ جس اللہ پر ایمان کا یہ دعویٰ کرتے تھے اس کی طرف سے واضح ہدایت آچکی تھی۔ یعنی قرآن…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کا فیصلہ
تشریح : پہلی آیات میں تمام معاملات میں اللہ اور رسول ﷺ کی بتائی ہوئی راہیں (قوانین) اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اصول اور قوانین بہترین اور انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ موجودہ آیات میں اس حکم کی نافرمانی کرنے کے نقصانات بتائے گئے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی اور منافق (جو بظاہر مسلمان تھا) کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ فیصلہ کے لیے یہودی نے آنحضرت ﷺ کا نام لیا، جبکہ منافق نے کعب بن اشرف جو کہ یہودی عالم تھا اس سے فیصلہ کروانا چاہا۔ آخر کار دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس فیصلہ کے لیے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انصاف سے فیصلہ کیا اور یہودی کے حق میں فیصلہ ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
اسرار و معارف
آیات 60 تا 65 الم تر الی الذین۔۔۔ و یسلموا تسلیما
اب ایسے لوگوں کی حالت ملاحظہ ہو جو اپنے دعوے اسلام میں تو نہ صرف قرآن حکیم پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے جو کچھ بھی اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوا تھا اس پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر میدان عمل میں انہیں شیطان کی رائے پسند ہے حالانکہ قرآن حکیم ہو یا پہلی منزل کتابیں سب کا مقصد ہی شیطان کی غلامی سے روکنا ہے ورنہ تو گمراہی میں پڑنے کا نہ صرف سخت خطرہ ہے بلکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ جو انسان بھی اس کی مانے اسے وہاں تک گمراہ کرکے لے جائے جہاں تک ممکن ہو نزول آیات کا سبب اگرچہ خاص واقعہ ہے ذرا وہ بھی سن لیں کہ ایک یہودی…
Read the full tafseer →ف 2 اوپر کی آیتوں میں تمام مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اب یہاں فرمایا کہ منافق ہمیشہ رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کبھی آنحضرت ﷺ کے فیصلے اور حکم پر راضی نہیں ہوتے (رازی) اس حد تک مفسرین متفق ہیں کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور بظاہر ہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب میں سے کسی منا فق کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تاہم اس کے تحت مختلف اسباب نزول مذکور ہیں (رازی) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معتب ن قشیر اور رافع بن زید میں جھگڑا ہوگیا مسلمانوں نے ان سے کہا چلو نبی ﷺ سے فیصلہ کر اتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں جابلی کاہنوں کے پاس چلتے…
Read the full tafseer →(4:60) یزعمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ زعم مصدر۔ باب نصر۔ وہ گمان کرتے ہیں وہ دعوی کرتے ہیں۔
یتحاکمون الی۔ مضارع جمع مذکر غائب (اصل میں یتحاکمون تھا۔ نون اعرابی ان ناصبہ کی وجہ سے ساقط ہوگیا۔ تحاکم۔ تفاعل مصدر۔ تحاکم الی الحاکم۔ باہمی جھگڑے کو کسی حاکم کے پاس فیصلہ کے لئے لے جانا۔ یریدون ۔۔ الطاغوت۔ یعنی دعویٰ تو یہ کرتے ہیں۔ کہ جو کلام آپ پر نازل ہوا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور ادھر باہمی جھگڑے کے فیصلے کے لئے ان لوگوں کے پاس لے جائیں جو اللہ تعالیٰ سے سرکش ہیں۔
وقد امروا ۔۔ بہ۔ حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ انکار کریں۔ باز رہیں ایسے لوگوں سے (طاغوت سے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
آیت نمبر 60-64
لغات القرآن : یزعمون، دعوی کرتے ہیں، گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یتحاکموا، وہ فیصلہ کے لئے جائیں۔ امروا، حکم دیا گیا۔ ضلال بعیدا، گم راہی میں دور۔ تعالوا، آؤ۔ رایت، تو نے دیکھا (تو دیکھے گا) ۔ صدود، اٹک کر، روک رک کر۔ یحلفون، وہ قسم کھاتے ہیں۔ توفیق، باہمی میل ملاپ۔ لیطاع، تاکہ اطاعت کی جائے۔ لوجدوا، البتہ وہ پاتے۔
تشریح : اس حکم کے بعد کہ حکومت کے عہدے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ امانت داری کے لئے ہیں اور ان پر وہی مقرر کئے جائیں گے جو انہیں اللہ کی امانت سمجھیں گے۔ فرمایا گیا کہ اس حکم کے بعد جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے لگو تو بےلاگ اور بےلوث کرو۔ پھر اس حکم کے بعد اللہ کا حکم مانو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منافق لوگ ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان پورا نہیں ہے ، کیونکہ اس سے پہلے اللہ نے انہیں رسول وقت کے حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات ماننے سے منع کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
[50] '' طاغوت '' سے یہاں مراد وہ حاکم ہے جو قانون الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(ف 2) طاغوت سے مراد ہر غیر شرعی ادارہ حکومت ہے ، مسلمان مجبور ہے کہ اس کی مخالفت کرے ، البتہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ مسلمان بزدل رہے اور اس کی گردن ہمیشہ ماسوی اللہ کے ڈر سے جھکی رہے ۔
حل لغات :
تاویل : انجام نتیجہ ۔ صدود : رکنا ہٹنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 4 اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی بھی فرمانبرداری بجا لائو جو تم میں سے صاحب حکم ہوں خواہ وہ علماء ہوں یا امراء ہوں پھر اگر تم میں اور ان اولی الامر میں کوئی جھگڑا آپڑے اور تم باہم جھگڑنے لگو تو کہو یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور حاکم کہے میں نے قوانین اسلام کے موافق یہ حکم دیا ہے۔ غرض ! کسی بات میں اگر جھگڑا پڑجائے تو اس بات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول یعنی کتاب و سنت کی طرف لوٹا دو ، یعنی کتاب و سنت پر اس چیز کو پیش کردو، بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت کے وقوع پر ایمان رکھتے ہو، یہ طریقہ جھگڑے کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 3۔ یہ اہل حکومت کو خطاب ہے۔
4۔ وہ بات بہت اچھی ہے دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں بقاء حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
دعوائے اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ قبول نہ کرنے والوں کا فیصلہ :
112: روایات میں اس طرح کے بہت سے فیصلوں کا ذکرد کیا گیا ہے جن میں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کو چھوڑ کر سرادر ان یہود کے پاس اپنے مقدمہ کو لے جانے کی کوشش کی ان میں سے ایک کا ذکر اس جگہ کردینا مناسب خیال کیا جاتا ہے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکے۔ ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی سے ایک نام کے مسلمان کا جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے اپنا فیصلہ کرانے کے لئے اس نام کے مسلمان سے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے جانے میں پہل کی اور کہا کہ چلو رسول اللہ ﷺ سے اپنے اس قضیہ کا فیصلہ کرا لیں لیکن مسلمان مصر تھا…
Read the full tafseer →Verses previous to these carried the command to revert back to the mandate given by Allah and the Messenger in all matters. In the present verses which follow, the act of reverting to laws contrary to the Shari` ah has been censured.
Commentary
The background of the revelation of these verses
There is a special incident behind the revelation of these verses, the details of which identify a hypocrite by the name of Bishr. He got into a dispute with a Jew. The Jew said, "Let us go to Muhammad and ask him to settle our dispute.' But, Bishr, the hypocrite, did not accept this proposal. Instead,…
Read the full tafseer →91. Taghut clearly signifies here a sovereign who judges things according to criteria other than the law of God. It also stands for a legal and judicial system which acknowledges neither the sovereignty of God nor the paramount authority of the Book of God. This verse categorically proclaims that to refer disputes to the judgement of a court of law which is essentially taghut contravenes the dictates of a believer's faith. In fact, true faith in God and His Book necessarily requires that a man should refuse to recognize the legitimacy of such courts. According to the Qur'an, belief in God…
Read the full tafseer →