An-Nisaa 4:59

An-Nisaa · from ayah 59

4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ— فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ— ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا ۟۠يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you. And if you disagree over anything, refer it to Allah and the Messenger, if you should believe in Allah and the Last Day. That is the best [way] and best in result.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:59

اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول ﷺ کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان حاکموں کی بھی جو تم میں سے ہوں۔ پھر اگر کسی بات پر تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہوجائے تو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو۔ یہی طریق کار بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر کی۔ پس اگر کسی امر میں اختلاف رائے واقع ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر اور باعتبار مآل اچھا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول ﷺ کا اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے ، پھر اگر تمہارا اگر کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور اپنے میں سے اہل اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم میں باہم اختلاف ہوجائے کسی چیز میں تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لیا کرو۔ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی خوشتر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی (اطاعت کرو) پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف رائے ہوجائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم واقعتا اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفید ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں جھگڑا ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ، اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Obey Allah and obey the Messenger, and those from among you who are invested with authority; and then if you were to dispute among yourselves about anything refer it to Allah and the Messenger if you indeed believe in Allah and the Last Day; that is better and more commendable in the end.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you. Then, if you quarrel about something, revert it back to Allah and the Messenger, if you believe in Allah and the Last Day. That is good, and the best at the end.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you. Then, if you quarrel about something, revert it back to Allah and the Messenger, if you believe in Allah and the Last Day. That is good, and the best at the end.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Obey Allah and obey the Messenger, and those of you who are in authority. If you differ in anything among yourselves, refer it to Allah and His Messenger, if you believe in Allah and in the Last Day. That is better and more suitable for final determination.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Obey Allah, and obey the messenger and those of you who are in authority; and if ye have a dispute concerning any matter, refer it to Allah and the messenger if ye are (in truth) believers in Allah and the Last Day. That is better and more seemly in the end.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, obey Allah and obey the Messenger and those in authority among you. And if you disagree over anything, refer it to Allah and the Messenger, if you should believe in Allah and the Last Day. That is the best [way] and best in result.

— Saheeh International

Believers, obey God, His Messenger, and your (qualified) leaders. If you have faith in God and the Day of Judgment, refer to God and His Messenger concerning matters in which you differ. This would be a more virtuous and a better way of settling differences.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! obey Allah and obey the Apostle and those in authority from among you; then if you quarrel about anything, refer it to Allah and the Apostle, if you believe in Allah and the last day; this is better and very good in the end.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! obey Allah and obey the apostle and owners of authority from amongst you. then if dispute in aught refer it Unto ye Allah and the apostle if ye indeed believe in Allah and the Last Day. That is the best and fairest interpretation.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Obey Allah, and obey the Messenger, and those charged with authority among you. If ye differ in anything among yourselves, refer it to Allah and His Messenger, if ye do believe in Allah and the Last Day: That is best, and most suitable for final determination.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مشروط اطاعت امیر صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹے سے لشکر میں حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس کو بھیجا تھا ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک لشکر بھیجا جس کی سرداری ایک انصاری ؓ کو دی ایک مرتبہ وہ لوگوں پر سخت غصہ ہوگئے اور فرمانے لگے کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے میری فرمانبرداری کا حکم نہیں دیا ؟ سب نے کہا ہاں بیشک دیا ہے، فرمانے لگے اچھا لکڑیاں جمع کرو پھر آگ منگوا کر لکڑیاں جلائیں پھر حکم دیا کہ تم اس آگ میں کود پڑو ایک نوجوان نے کہا لوگو سنو آگ سے بچنے کے لئے ہی تو ہم نے دامن رسول ﷺ میں پناہ لی ہے تم جلدی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 89 یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی، تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ ہے۔ اس میں حسب ذیل اصول مستقل طور پر قائم کردیے گئے ہیں (1) اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ تعالیٰ ہے۔ ایک مسلمان سب سے پہلے بندہ خدا ہے، باقی جو کچھ بھی ہے اس کے بعد ہے۔ مسلمان کی انفرادی زندگی، اور مسلمانوں کے اجتماعی نظام، دونوں کا مرکز و محور خدا کی فرمانبرداری اور وفاداری ہے۔ دوسری اطاعتیں اور وفاداریاں صرف اس صورت میں قبول کی جائیں گی کہ وہ خدا کی اطاعت اور وفاداری کی مد مقابل نہ ہوں بلکہ اس کے تحت اور اس کی تابع ہوں۔ ورنہ ہر وہ حلقہ اطاعت توڑ کر پھینک دیا جائے گا جو اس اصلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اجتہاد اور قیاس کا ثبوت قولہ تعالیٰ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اگر تمہارا کسی امر کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو تم اللہ اور رسول کی جانب رجوع کرو۔ کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کتاب و سنت کے احکام منصوصہ کی جانب رجوع کیا جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ اگر احکام منصوصہ موجود نہیں تو ان کے نظائر پر قیاس کر کے رجوع کیا جائے گا، فردوہ کے الفاظ عام ہیں جو دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ اولوالامر سے مراد : اولوالامر سے مراد اسلامی معاشرے کے ارباب حل و عقد، ذمہ دار اور سربراہ کار ہیں۔ عاشرے کے حالات کے لحاظ سے اس کے مصداق ارباب علم و بصیرت بھی ہوسکتے ہیں اور ارباب اقتدار و سیاست بھی۔ جو لوگ بھی اس پوزیشن میں ہوں کہ عوام کی سربراہی کرسکیں وہ اس لفظ کے مصداق ہیں۔ اگر امام و خلیفہ موجود ہو تو وہ اور اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 59–60

59۔ 1 مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ کی ہے کیونکہ حکم صرف اللہ ہی کا ہے ' لیکن چونکہ رسول ﷺ خالص منشاء الٰہی ہی کا مظہر ہے اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول ﷺ کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ) 4:80 " جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی " جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا مأخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امر و احکام کی اطاعت بھی ضروری ہے کیونکہ وہ یا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں۔ یا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: أُولِي الْأَمْرِ : سے مراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں، جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے، البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً جائز ہو، اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے، ایک تو اس طرح کے اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے، جس میں یہ اشارہ ہوگیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے، دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتادیا کہ اگر کسی معاملہ میں یہ اختلاف پیدا ہوجائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابل اطاعت ہے یا نہیں، تو اسے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 59۔ اس مختصر آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف بیان کرتے ہیں ‘ اور اس میں امت مسلمہ کا اساسی دستور بھی آجاتا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام میں حاکمیت اور اقتدار کا منبع کونسا ہے ۔ یہ سب کام اللہ سے شروع ہوتے ہیں اور اللہ کی ذات پر ہی ان کا اختتام ہوتا ہے ۔ اگر شریعت میں کسی حکم کے بارے میں تفصیلات نہ ہوں تو پھر اہل اسلام اس دستوری اصول کی طرف رجوع کرکے اپنے تمام جزئی مسائل میں جواب حاصل کرسکتے ہیں اور قیامت تک یہ اساسی دستوری اصول قائم ودائم ہے ۔ اس میں لوگوں کی آراء ار ان کی عقلی کاوشوں کے لئے اختلاف کی گنجائش بھی چھوڑی گئی ہے ۔ انسانوں کی زندگی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 پہلی آیت میں حکام کو عدل کا حکم فرما کر اب اوروں کو حکام کی متابعت کا حکم دیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت جب ہی واجب ہوگی جب وہ حق کی اطاعت کریں گے۔ فائدہ : حاکم اسلام بادشاہ یا اس کا صوبہ دار یا قاضی یا سردار لشکر اور جو کوئی کسی کام پر مقرر ہو ان کے حکم کا ماننا ضروری ہے جب تک کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے خلاف حکم نہ دیں اگر خدا اور رسول ﷺ کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس حکم کو ہرگز نہ مانے۔ 5 یعنی اور اگر تم میں اور اولوالامر میں باہم اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا یہ حکم اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے موافق ہے یا مخالف تو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کر کے طے کرلیا کرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فرمایا : آیت 59 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ یعنی کوئی قانون اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ اصولی طور پر یہ بات پاکستان کے دستور میں بھی تسلیم کی گئی ہے : " No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah." لیکن اس کی تنفیذ و تعمیل کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے ‘ لہٰذا اس وقت ہمارا دستور منافقت کا پلندہ ہے۔ اس آیت کی رو سے اللہ کے احکام اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکام قانون سازی کے دو مستقل ذرائع sources ہیں۔ اس طرح یہاں منکرین سنت کی نفی ہوتی ہے جو مؤخر الذکر کا انکار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا : وَاُولِی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

91 اسلامی حکومت کے چار اصول :۔ اس آیت میں ایک اسلامی حکومت کی چار مستقل بنیادوں کا ذکر کیا گیا ہے : 1۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی کائنات کا خالق ومالک ہے لہذا ہر طرح کے قانونی اور سیاسی اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ آج کی زبان میں یوں کہیے کہ قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ قانون سازی اور حلت و حرمت اور اوامرو نواہی کے اختیارات اسی کے لیے ہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قدر نظام ہائے سیاست رائج ہیں ان سب میں مقتدر اعلیٰ یا کوئی انسان ہوتا ہے یا ادارہ۔ جبکہ اسلامی نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ نہیں ہوسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

180 ۔ (کہ ان کے احکام بھی احکام خدا اور رسول پر مبنی اور انہی سے ماخوذ ہوں گے) (آیت) ” اطیعوا اللہ “۔ مطاع اصلی اور حاکم حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ رسول مطاع مطلق اس اعتبار سے ہیں کہ اللہ کے احکام کے وہی پہنچانے والے اور وہی ان احکام کی شرح و تفصیل کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” اولی الامر “۔ اولو الامر کون ہیں ؟ اس میں اچھی خاصی قیل وقال ہوئی ہے۔ علماء وفقہاء امت بھی مراد لئے گئے ہیں اور امراء و حکام بھی۔ اور بہتر یہ ہے کہ دونوں ہی مراد لئے جائیں کہ احکام شریعت کے نافذ کرنے والے یہ دونوں ہوتے ہیں۔ ای الولاۃ اوالعلماء (مدارک) روی عن جابر بن عبد اللہ وابن عباس روایۃ والحسن وعطاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

یٰاَ یھا الذین اٰمنوا اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم پہلی آیت میں حکام کو عدل و انصاف کا حکم فرما کر اب دوسروں کو متابعت کا حکم دیا جارہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت اسی وقت واجب ہوگی کہ جب وہ حق کی اطاعت کریں گے حکام کی یہ اطاعت اسی وقت تک ضروری ہے جب تک وہ خدا اور رسول کے خلاف حکم نہ دیں، اگر حاکم خدا اور رسول کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس کا حکم ہرگز نہ مانے۔ مذکورہ آیت کا شان نزول : ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے خالد بن ولید کی سر کردگی میں جنگی ضرورت سے ایک دستہ روانہ فرمایا، اس میں حضرت عماربن یاسر بھی شریک تھے، رات کے کسی حصہ میں یہ دستہ منزل مقصود پر پہنچ گیا، دشمنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم اے اہل ایمان اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور تم میں سے جو حاکم ہوں (ان کا حکم مانو) بخاری ‘ مسلم اور اصحاب سنن (ابن ماجہ ‘ نسائی ‘ ابوداؤد وغیرہ) نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن حذافہ کے حق میں ہوا تھا جن کو ایک دستہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا۔ ابن جریر ؓ اور ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد ؓ بن ولید کو ایک فوجی دستہ کے ساتھ بھیجا۔ اس دستہ میں حضرت عمار بن یاسر بھی تھے۔ فوجی دستہ ان لوگوں کی طرف روانہ ہوگیا جن پر چڑھائی کرنی مقصود تھی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(59) عثمان بن طلحہ ؓ اور ان کے ساتھیوں، احکام خداوندی میں اس کا اور نیز حکام اور علماء کا کہنا مانو اور اگر کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اگر بعث بعد الموت پر ایمان رکھتے ہو تو اس چیز کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے حوالہ کردیا کرو۔ اس کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن حذافیہ بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ داؤدی کہتے ہیں کہ یہ ابن عباس ؓ عنہپر جھوٹ ہے کیوں کہ عبداللہ بن حذافہ ایک لشکر کے امیر بن کر روانہ ہوئے،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رعایا کو، چاہے فوج کے افراد ہوں یا عام لوگ، انھیں اپنی، اپنے رسول ﷺ کی اور حکام و امراء کی اطاعت کا حکم دیا ہے، الا یہ کہ حکام اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اختیار والے بادشاہ، قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے، جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف حکم نہ کرے، اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانیے۔“ (موضح) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ) ”اطاعت صرف نیکی کے امور میں ہے۔“ [ بخاری، الأحکام، باب السمع…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 59۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) جب پہلی آیت میں ولاۃ کو خطاب فرمایا اور انہیں اداء امانات کا حکم دیا اور انہیں لوگوں کے درمیان عدل کا حکم دیا، تو اس آیت میں رعیت کو خطاب فرمایا، انہیں پہلے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیا، اس سے مراد اس کے احکام کی پیروی کرنا، اس کی نواہی سے اجتناب کرنا ہے پھر رسول کی اطاعت کا حکم دیا، یعنی جو حکم دیا اور جونہی فرمائی اس کی اطاعت کرنا، پھر امراء کی اطاعت کا حکم دیا، یہ جمہور علماء، حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا قول ہے، سہل بن عبداللہ تستری (رح) نے کہا : سات چیزوں میں سلطان کی اطاعت کرو، دراہم ودنانیر بنانے میں، کیل اور وزن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رسول کی اطاعت اور کتاب وسنت کی اتباع لفظ آیت ” واولی الامر منکم “ سے مراد حاجت فقہ اور صاحب علم ہیں۔ اطاعت رسول ﷺ کا اہم واقعہ (2) بخاری ومسلم وابی داؤد اور ترمذی و نسائی ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی نے دلائل میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا اطیعوا الرسول واولی الامر منکم “ یہ آیت عبد اللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی کے بارے میں نازل ہوئی جب ان کو نبی ﷺ نے ایک جنگ میں بھیجا۔ (3) ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ] [ اَطِیْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَاَطِیْعُوا : اور اطاعت کرو ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی ] [ وَاُولِی الْاَمْرِ : اور حکم والوں کی ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَنَازَعْتُمْ : تم لوگ باہم کھینچا تانی کرو ] [ فِیْ شَیْئٍ : کسی چیز میں ] [ فَرُدُّوْہُ : تو لوٹا دو اس کو ] [ اِلَی اللّٰہِ : تو لوٹادو اس کو ] [ وَالرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی طرف ] [ اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [ تُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ اور رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم اور امور متنازعہ میں کتاب و سنت کی طرح رجوع کرنے کا فرمان آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے علامہ واحدی نے اسباب النزول صفحہ 152 میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی صفحہ 65: ج 5 میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ کا امیر بنا کر بھیجا ان کی زیر امارت حضرت عمار بن یاسر ؓ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت خالد ؓ سے اجازت لیے بغیر ایک شخص کو امان دے دی حضرت خالد ؓ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور ان سے کہا کہ میرے بغیر اجازت تم نے کیوں امان دی۔ اس سے دونوں میں تلخی پیدا ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں معاملہ پیش ہوا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–59

حکم نوزدہم اداء امانت و اقامت عدل۔ قال تعالی، ان اللہ یامرکم۔۔۔ الی۔۔۔ تاویلا۔ ربط) دور سے یہود کے قبائح اور حدود اللہ سے ان کی تعدیوں کا بیان چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ان کی ایک اور تعدی کو بیان فرماتے ہیں کہ من جملہ تعدی حدود اللہ کے ایک تعدی امانت میں خیانت اور فیصلہ میں بےانصافی ہے یہود کی یہ عادت تھی کہ امانت میں خیانت کے کرتے اور فصل خومات میں رشوت لے کر بےانصافی کرتے اس لیے ان آیات میں اللہ نے امانت داری اور عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اس لیے دخول جنت اور ازواج مطہرہ اور ظل ظلیل کے مستحق اہل امانت اور اہل عدالت ہی ہوسکتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 58–59

حصہ دوم (احکام سلطانیہ): پہلا حکم سلطانی : حقداروں کو ان کے حقوق دلواؤ اور فیصلے انصاف سے کیا کرو یہاں خطاب حکام اور امراء مسلمین کو ہے جیسا کہ حضرت علی اور دوسرے مفسرین سے منقول ہے۔ قال علی بن ابی طالب و زید بن اسلم و شھر بن حوشب وابن زید ھذا خطاب لولاۃ الملمین خاصۃ الخ (قرطبی ج 5 ص 256) یہاں حکام اور صاحب اقتدار طبقہ کو حکم دیا گیا کہ حقداروں کے حقوق لوگوں سے دلواؤ اور باہمی نزاعات اور جھگڑے عدل و انصاف سے طے کرو اور رعیت کو حکم دیا گیا کہ ایسے حکام کی فرمانبرداری کرو اور اپنے جھگڑے ایسے حکام کے پاس لے جایا کرو جو عدل و انصاف سے فیصلہ کیا کریں۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ اَمَانَات سے یہاں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ادائے امانت اور عدل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے مسلمانوں کے اجتماعی اور انفرادی نظام درست رہ سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ حکم ہر اس شخص یا جماعت کے لیے ہے ، جو کسی نہ کسی طرح اصلاح معاشرہ کا ذمہ دار ہے۔ سب سے پہلے یہ ذمہ داری امیر یا حکام پر آتی ہے کیونکہ سوسائٹی میں نظم و نسق کے ذمہ دار وہی ہوتے ہیں ، کسی فرد یا جماعت کا حق دلانا اور فریقین میں جھگڑے کی صورت میں عدل قائم کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر ہر شخص فرداً فرداً بھی اپنے حلقہ اثر میں ذمہ دار ہے اور اس محدود حلقہ میں ادائے امانت اور قیام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝ 0ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝ 0ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝ 59ۧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 58–59

ترکیب : ان تودوا بتاویل مصدر مفعول ثانی ہوا۔ یامرکم کا واذا کا عامل یامرکم ہے۔ یہ سب شرط ان تحکموا اے بان تحکموا جملہ جواب نعما یعظکم یہ جملہ خبران نعما کا ما بمعنی الشیء معرفۃ تامۃ یعظکم محذوف کی صفت ہے جو مخصوص بالمدح ہے تقدیرہ نعم الشیء یعظکم بہ یا نعم کا فاعل اور مابمعنی الذی بھی ہوسکتا ہے اس کا مابعد اس کا صلہ اور یہ بھی فاعل نعم ہے اور مخصوص بالمدح محذوف ای نعم الذی یعظکم بہ تاویۃ الانۃ اور مانکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے۔ تب فاعل مضمر ہوگا اور مخصوص محذوف جیسا کہ بئس للظالمین بدلا میں ہے۔ تفسیر : امانت اور انصاف کا حکم : جبکہ اہل کتاب کی خیانت کا ذکر آیا کہ وہ تورات و انجیل کی بشارت کو جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِـکَ خَیْرٌوَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً ع (اے لوگوجو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی ‘ اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں ‘ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ ‘ اگر تم واقعی اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے) (النسآء :…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اپنے میں سے کسی کو حاکم بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ حکمران حاکم مطلق بن جائے بلکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں۔ امانتوں کی ادائیگی اور اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کا حکم دینے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا اس لیے فوری ذکر کیا ہے تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کوئی اپنے اختیارات میں آزاد ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کی خاطر ” اُولِی الْاَمْرِ “ کے لیے لفظِ ” اطاعت “ استعمال کرنے کے بجائے فقط واؤ کے عطف سے اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ راعی اور رعیت، امیر اور مامور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنے آپ کو صرف اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت ربط : آیت 59 : جب حکام کو ادائیگی امانات اور انصاف سے فیصلے کرنے کا حکم دیا تو لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔ فرمایا : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (اے ایمان والو ! تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بات مانو۔ پس اگر تم کسی چیز میں تنازع کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ) اولی الامر سے مراد حکام یا علماء ہیں کیونکہ ان کا حکم حکام پر چلتا ہے۔ اگر تم اور حکام کسی دینی امر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(اولی الامر کا مصداق) (تفسیر) 59۔: (آیت)” اولی الامر کی تفسیر میں کے مختلف اقوال ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ کے نزدیک اس سے مراد فقہاء اور علماء ہیں جو اپنے دین کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں اور یہ قول حسن ، ضحاک ، اور مجاہد (رح) کا بھی ہے ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ولو ردوہ الی الرسول والی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد امراء اور موالی ہیں ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے کہ امام پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ کے نزول کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرے اور امانت کو اچھی طرح ادا کرے ، جب یہ ایسا کرے تو اس رعایا پر لازم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر کی آیت میں حاکموں کا ذکر فرما کر اس آیت میں محکوم لوگوں کا ذکر فرمایا اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ بن حذافہ ؓ صحابی کو سردار کر کے اور کچھ لوگ ان کے ساتھ کر کے بخد کی طرف ایک چھوٹی سے لڑائی پر ان کو بھیجا تھا۔ راستے میں عبد اللہ بن حذافہ ؓ کو اپنے ساتھ کے لوگوں سے کچھ رنجش ہوگی۔ انہوں نے اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا کیا آنحضرت ﷺ نے تم لوگوں کو میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے ان لوگوں نے کہا ہاں دیا ہے۔ اس پر عبد اللہ نے حذافہ ؓ جنگل سے لکڑیاں جمع کرا کے ان لکڑیوں میں آگ لگادی۔ اور اپنے ساتھ کے سب آدمیوں سے کہا کہ تم سب اس آگ میں کود پڑو۔ اب عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–62

آیت 58-59 ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–70

اولی الامر کی اطاعت کا بیان ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔ حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

137 اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا اور اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی کہ یہ اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری بھی ہے دنیا و آخرت میں۔ سو تم اللہ کی اطاعت کرو۔ قرآن حکیم کی طرف رجوع کر کے، جو کہ اللہ پاک کا کلام حق ترجمان ہے کہ اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری ہی میں تمہارا بھلا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری مطلق ہے بغیر کسی قسم کی شرط و قید کے۔ کیونکہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اطاعت کس کی ؟ ، جھگڑوں کا فیصلہ تشریح : پچھلی آیات کی طرح اس آیت میں بھی مسلمانوں کو کچھ ایسے اصول بتائے جارہے ہیں جو ان کی پوری زندگی کے لیے راہنما ہیں۔ مذہب، رہن سہن اور سیاسی معاملات کے لیے خاص قانون بنا دیئے گئے ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اللہ جل شانہ نے اطاعت کرنے کے لیے تین درجے بتا دیئے ہیں۔ پہلا درجہ اللہ رب العزت کا ہے۔ ہر بندہ اسی کا مطیع، اسی کا غلام اور اسی کا فرمانبردار ہے۔ ہر شخص، ہر قوم اور ہر ملک کی نجات، کامیابی اور فلاح اسی میں ہے کہ اللہ کا فرمانبرداربن کر اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے اور پورے کا پورا اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہے۔ دوسرا درجہ نبی کریم ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–59

اسرار و معارف آیت نمبر 58 تا 59: ان اللہ یا مرکم۔۔۔ احسن تاویلا۔ اب رہی وہاں پہنچنے کی صورت تو ان دو آیات میں اس کی ساری تفصیل سمو دی گئی ہے پہلی صورت ہے ایمان باللہ کہ بغیر ایمان کے اللہ کریم کی اطاعت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور دوسری عمل کی ہے جس کے بغیر دعوی ایمان ہی محل نظر ہے تو ارشاد ہوا کہ اللہ کریم دو باتوں کا حکم دیتے ہیں اول یہ کہ امانت اس شخص کو دو جو اس کا اہل ہو اور دوسرے یہ کہ لوگوں کے مابین انصاف کرو۔ امانت کا معنی بہت وسیع ہے بظاہر تو اس مال کو امانت کہا جاتا ہے جو کسی نے مناسب موقع پر واپس لینے کے لیے دیا ہو خواہ وہ قرض کی صورت میں ہو یا محض کچھ عرصہ رکھنے کو دیا ہو مگر اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 مو ضح کا ترجمہ اوفائدہ یہ ہے اولی الا مر اختیار والے باشاہ اور قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے جبتک وہ خلاف خدا اور سول ﷺ حکم نہ کرے اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانے ایک امیر کی اطاعت کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا انما الطاعتہ فی المعروف کہ امیر کی اطاعت صرف معروف یعنی نیکی میں ہے (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)7 اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے یعنی باہمی نزاع کی صورت میں اللہ و رسول ﷺ کی طرف رجوع ہونا شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اتباع ہے اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کے بعد آپ ﷺ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں مستقل ہیں اور اس سے ثابت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:59) تاویلا۔ تاویل بروزن تفعیل۔ اول سے مشتق ہے جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں۔ اسی لئے مرجع اور جائے بازگشت کو موئل کہتے ہیں۔ اول الشی الیہ۔ اس کی چیز کو واپس لوٹا دو ۔ یقال فی الدعاء اول اللہ علیک ضالتک خدا تمہاری گمشدہ چیز کو واپس دلادے۔ احسن تاویلا انجام کار بہتر ہے۔ Best and most suitable for final determination

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 59 لغات القرآن : اولی الامر، صاحب اختیار۔ تنازعتم، تم آپس میں جھگڑ پڑے۔ ردوہ، اس کو لوٹاؤ۔ احسن، بہترین تاویل، انجام، جزا۔ تشریح : یہ آیت تمام آئین و قوانین اسلام کی جان ہے۔ اسلامی دستور کی حیثیت سے اول و آخر ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے آئین کب اس کی خاک کو پہنچ سکتے ہیں۔ اسلامی دستور سارے کا سارا سمیٹ کر اور لپیٹ کر اٹھائیس الفاظ میں حل کردیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ظاہری احکام سے بھی ہے اور اس روح مقصد سے بھی ہے جسے ایمان کہتے ہیں۔ یعنی اس میں ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ اگر باطن میں ایمان نہیں ہے تو ظاہری احکام کو آدھے دل سے ٹالنے کے لئے مان لینا اچھا نتیجہ نہیں دکھا سکتا۔ اس آیت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رسول (ﷺ) کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلم امراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں ۔ اگر حق کے خلاف حکم کرین تو ان کی اطاعت نہیں ۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں : (1) ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ، (2) دوسرے حدیث سے ظاہر ہوں ۔ (3) تیسرے قرآن وحدیث سے بطریق قیاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[48] اولوالامر سے مراد اسلامی معاشرے کے ارباب حل و عقد اور سربراہ کار کے ہیں۔ معاشرے کے حالات کے لحاظ سے اس کے مصداق ارباب علم و بصیرت بھی ہوسکتے ہیں اور ارباب اقتدار و سیاست بھی۔ جو لوگ بھی اس پوزیشن میں ہوں کہ عوام کی سربراہی کرسکیں وہ اس لفظ کے مصداق ہیں اگر خلیفہ موجود ہو تو وہ اور اس کے حکام اولوالامر ہیں اگر وہ موجود نہ ہو تو جماعت کے اندر جو معاملہ فہم اور صاحب بصیرت ہوں تو وہ اس سے مراد ہوں گے۔ [49] یعنی تم میں اور اولوالامر میں کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے کہ اس معاملے میں کیا حکم ہے۔ اگر اس میں نہ ملے تو نبی ﷺ کی سنت یعنی احادیث کی طرف رجوع کیا جائے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

جذبہ اطاعت کا صحیح حل : (ف 1) اس آیت اطاعت میں دراصل اداء امانت کی صحیح تشریح مذکور ہے یعنی ہر شخص کے دل میں ایک جذبہ اطاعت پنہاں ہے ، ہر انسان فطرتا چاہتا ہے کہ وہ کسی زبردست کے سامنے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ جھک جائے ، اسے ایک ایسے فارقلیط یا تسلی دینے والے کی ضرورت ہے جو ہر اضطراب اور پریشانی کے وقت اس کے لئے سرمایہ تسکین مہیا کرے ، یعنی جذبہ اطاعت وانقیاد کی تکمیل کیونکر ہو ؟ یہ ایک سوال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن حکیم نے آیت مذکورہ میں اس سوال کا جواب دیا ہے ، فرمایا ، خدا ‘ رسول اور حاکم عادل جو مسلم ہو ‘ اطاعت کے قابل ہیں ۔ یعنی شرعیات واخلاق میں خدا اور رسول کی باتیں مانو اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 59–60

ف 4 اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی بھی فرمانبرداری بجا لائو جو تم میں سے صاحب حکم ہوں خواہ وہ علماء ہوں یا امراء ہوں پھر اگر تم میں اور ان اولی الامر میں کوئی جھگڑا آپڑے اور تم باہم جھگڑنے لگو تو کہو یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور حاکم کہے میں نے قوانین اسلام کے موافق یہ حکم دیا ہے۔ غرض ! کسی بات میں اگر جھگڑا پڑجائے تو اس بات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول یعنی کتاب و سنت کی طرف لوٹا دو ، یعنی کتاب و سنت پر اس چیز کو پیش کردو، بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت کے وقوع پر ایمان رکھتے ہو، یہ طریقہ جھگڑے کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا دنیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–62

ف 3۔ یہ اہل حکومت کو خطاب ہے۔ 4۔ وہ بات بہت اچھی ہے دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں بقاء حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکماء اسلام کی بھی : اس چھوٹے سے جملے میں اسلام کی ساری تعلیم بند کردی گئی اور کوئی پہلو اس کا ایسا نہ رہ گیا جو تشنہ ہو۔ اس میں اللہ کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کا اور ان حکماء وقت کی فرمانبرداری کا جو برسر اقتدار ہوں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف کوئی حکم نہ دیں۔ اللہ کی فرمانبرداری کیسے ؟ فرمایا رسول کی فرمانبرداری در اصل اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرمانبرداری ممکن ہی نہیں جب تک کہ رسول کی فرمانبرداری نہ کی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو براہ راست حکم نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Proof of Ijtihad اِجتِھاد and Qiyas قیاس Finally, let us now refer to the statement: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ in verse 59 (Then, if you quarrel about something, revert it back to Allah and the Messenger.) This 'reverting back to Allah and the Messenger' takes two forms: 1. Revert to ahkam, the code of commands as mandated in the Book of Allah and the Sunnah of the Messenger of Allah. 2. If the textually-mandated ahkam do not exist, the act of reverting back will be accomplished by analogical deduction (Qiyas) as based on their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

89. This verse is the cornerstone of the entire religious, social and political structure of Islam, and the very first clause of the constitution of an Islamic state. It lays down the following principles as permanent guidelines: (1) In the Islamic order of life, God alone is the focus of loyalty and obedience. A Muslim is the servant of God before anything else, and obedience and loyalty to God constitute the centre and axis of both the individual and collective life of a Muslim. Other claims to loyalty and obedience are acceptable only insofar as they remain secondary and subservient, and…

Read the full tafseer →