امانت اور عدل و انصاف
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو تیرے ساتھ امانت داری کا برتاؤ کرے تو اس کی امانت ادا کر اور جو تیرے ساتھ خیانت کرے تو اس سے خیانت مت کر (مسند احمد و سنن) آیت کے الفاظ وسیع المعنی ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ عزوجل کے حقوق کی ادائیگی بھی شامل ہے جیسے روزہ نماز زکوٰۃ کفارہ نذر وغیرہ، اور بندوں کے آپس کے کل حقوق بھی شامل ہیں جیسے امانت دار کا حق اسے دلوایا جائے گا یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں والی بکری نے مارا ہے تو اس کا بدلہ بھی اسے دلوایا جائے گا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ شہادت کی وجہ سے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں مگر امانت نہیں مٹنے لگی کوئی شخص اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 88
یعنی تم ان برائیوں سے بچے رہنا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انحطاط کے زمانہ میں امانتیں، یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے مرتبے (Positions of trust) ایسے لوگوں کو دینے شروع کردیے جو نااہل، کم ظرف، بد اخلاق، بد دیانت اور بدکار تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں، یعنی جن میں بار امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو۔ بنی اسرائیل کی دوسری بڑی کمزوری یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے اہل حکومت خواہ تھوڑوں پر حکومت ہو خواہ بہتوں پر) بیشک تم کو اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ اہل حقوق کو ان کے حقوق (جو تمہارے ذمہ ہیں) پہنچا دیا کرو اور (تم کو) یہ (بھی حکم دیتے ہیں) کہ جب (محروم) لوگوں کا تصفیہ کیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ جس بات کی تم کو نصیحت کرتے ہیں وہ بات بہت اچھی ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں استحکام حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے) بلاشک اللہ تعالیٰ (تمہارے اقوال کو جو دوبارہ امانت و تصفیہ تم سے صادر ہوتے ہیں) خوب سنتے ہیں (اور تمہارے افعال کو جو اس باب میں تم سے واقع ہوتے ہیں) خواب دیکھتے ہیں (تو اگر کمی و کوتاہی کرو…
Read the full tafseer →آیات 58 تا 70 کا مضمون : آگے مسلمانوں کو خطاب کر کے پہلے ان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ شریعت الٰہی کی یہ امانت یہود سے چھین کر اب تمہارے حوالہ جو کی جا رہی تو تم یہود کی طرح قومی اور گروہی تعصب کی بیماری میں مبتلا نہ ہوجانا بلکہ ہمیشہ حق و انصاف کو نگاہ میں رکھنا۔ اب تم کتاب و حکمت کے ساتھ ایک ملک عظیم کے وراث بھی بنائے جا رہے ہو اور تم پر لوگوں کے معاملات کی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے تو تم لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور ہمیشہ اپنے فیصلوں میں عدل کو ملحوظ رکھنا اور اس بات کو یاد رکھنا کہ جس خدا نے تم کو اس ذمہ داری پر مامور کیا ہے وہ سمیع وبصیر ہے۔
اس کے بعد وہ طریقہ بتایا ہے جس کو اختیار کر کے…
Read the full tafseer →58۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کی شان میں، جو خاندانی طور پر خانہ کعبہ کے دربان و کلید برادر چلے آرہے تھے، نازل ہوئی ہے مکہ فتح ہونے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں تشریف لائے تو طواف کے بعد آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کو جو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوچکے تھے طلب فرمایا اور انہیں خانہ کعبہ کی چابیاں دے کر فرمایا ' یہ تمہاری چابیاں ہیں آج کا دن وفا اور نیکی کا دن ہے۔ آیت کا یہ سبب نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم عام ہے اور اس کے مخاطب عوام اور حکام دونوں ہیں۔ دونوں کو تاکید ہے کہ امانتیں انہیں پہنچاؤ جو امانتوں کے اہل ہیں۔ اس میں ایک تو وہ امانتیں شامل ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
40: اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 58۔
یہ ہیں امت مسلمہ کے فرائض اور یہ ہے اس کا ضابطہ اخلاق ۔ وہ امانتوں کو ان لوگوں کے سپرد کرتی ہے جو اس کے اہل ہوں ۔ اور اگر وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے تو عدل پر کرے گی اور اس نظام اور قانون کے مطابق کرے گی جو اللہ نے سکھایا ہے ۔
امانتوں کا آغاز امانت کبری سے ہوتا ہے ۔ یہ وہ امانت ہے جس سے فطرت انسان مربوط ہے اور یہ امانت وہی ہیں جس کے اٹھانے سے آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں نے معذوری کا اظہار کیا تھا ‘ لیکن اسے انسان نے اٹھا لیا تھا ۔ انسان نے جس بار امانت کو اٹھایا ‘ ” ہدایت ‘ معرفت اور ایمان باللہ کی امانت تھی ۔ یہ ایمان باللہ ‘ بامقصد ‘ باارادہ اور کمال توجہ کے لائق ایمان ہے ۔…
Read the full tafseer →2 یہود میں عادت تھی کہ امانت میں خیانت کرتے اور فصل خصومات میں رشوت وغیرہ کی وجہ سے کسی کی خاطر اور رعایت کر کے خلاف حق حکم دیتے اس لئے مسلمانوں کو ان دونوں باتوں سے اس آیت میں روکا گیا۔ منقول ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا چاہا تو عثمان بن طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ نے کنجی دینے سے انکار کیا تو حضرت علی نے اس سے چھین کر دروازہ کھول دیا۔ آپ فارغ ہو کر جب باہر تشریف لائے تو حضرت عباس نے آپ سے درخواست کی کہ یہ کنجی مجھ کو مل جائے اس پر آیت نازل ہوئی اور کنجی عثمان بن طلحہ ہی کے حوالہ کی گئی۔
3 یعنی اللہ تعالیٰ جو تم کو ادائے امانت اور عدل کے موافق حکم دینے کا حکم فرماتا…
Read the full tafseer →یہ دو آیات 58 ‘ 59 قرآن مجید کی نہایت اہم آیات ہیں ‘ جن میں اسلام کا سارا سیاسی ‘ قانونی اور دستوری نظام موجود ہے۔ فرمایا :
آیت 58 اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَہْلِہَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بالْعَدْلِ ط
پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جو بھی سیاسی نظام بناتے ہیں اس میں مناصب ہوتے ہیں ‘ جن کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور اختیارات بھی۔ لہٰذا ان مناصب کے انتخاب میں آپ کی رائے کی حیثیت امانت کی ہے۔ آپ اپنی رائے دیکھ بھال کردیں کہ کون اس کا اہل ہے۔ اگر آپ نے ذات برادری ‘ رشتہ داری وغیرہ کی بنا پر یا مفادات کے لالچ میں یا کسی کی دھونس کی وجہ سے…
Read the full tafseer →89 اس جملہ کے بہت سے مطلب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جس کسی نے تمہارے پاس کوئی امانت رکھی ہو اسی کو اس کی امانت ادا کردو۔ زید کی امانت بکر کے حوالے نہ کرو۔ امانت کا دوسرا مطلب ذمہ دارانہ مناصب ہیں۔ یعنی حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب انہی کے حوالے کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں۔ نااہل، بےایمان بددیانت اور راشی قسم کے لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ اس لحاظ سے یہ مسلمانوں سے اجتماعی خطاب ہے کیونکہ بدکار لوگوں کی حکومت سے ساری قوم کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ امانت کا تیسرا مطلب حقوق بھی ہیں یعنی تمہارے ذمہ جو حقوق ہیں خواہ اللہ کے ہوں یا بندوں کے، سب کے حقوق بجا لاؤ۔ کسی حکومت کے استحکام کی یہ پہلی…
Read the full tafseer →176 ۔ (آیت) ” الامنت “۔ امانات کے اندر جملہ حقوق آگئے جن کی ادائی واجب ہے اور (آیت) ” اھلھا “۔ سے وہ سب مراد ہیں جن کے متعلق وہ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ خطاب سارے مسلمانوں سے ہے، انہیں حکم ہو رہا ہے کہ جس جس کے جو حقوق واجب ہیں، سب ادا کرتے رہو، اسی میں حقوق اللہ وحقوق العباد سب آگئے۔ ھو یعم جمیع الامانات الواجبۃ علی الانسان من حقوق اللہ علی عبادہ ومن حقوق العباد بعضھم علی بعض (ابن کثیر) حکمھا عام ولھذا قال ابن عباس ومحمد بن الحنفیۃ ھی للبر والفاجر ایھی امر لکل احد (ابن کثیر) ھذہ الایۃ من امھات الاحکام تضمنت جمیع الدین والشرع (قرطبی) والا ظھر فی الایۃ انھا عامۃ فی جمیع الناس (قرطبی)
177 ۔ (ان کے…
Read the full tafseer →شان نزول : اِنَّ اللہ یأمرکم اَن تؤ دوا الامانات الی اھلھا، اس آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے، یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ اسلام کی آمد سے پہلے کعبہ کی خدمت بڑی عزت کی بات سمجھی جاتی تھی، اور بیت اللہ کی مختلف خدمتیں مختلف لوگوں میں تقسیم کی جاتی تھیں، حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کے سپرد تھی، جس کو سقایہ کہا جاتا تھا، اسی طرح بیت اللہ کی کلید برادری کی خدمت عثمان بن طلحہ کے سپرد تھی، اس کو حجابت اور سدانت کہا جاتا تھا، اور یہ خدمت پشتہا پشت سے خاندان بنو طلحہ میں چلی آرہی تھی جب آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تو اس وقت یہ خدمت عثمان بن طلحہ سے متعلق تھی، اب آگے اس واقعہ کی…
Read the full tafseer →ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اہلہا . اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو ادا کر دو ۔ سنید نے اپنی تفسیر میں حجاج بن جریح کی وساطت سے مجاہد (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عثمان بن طلحہ ؓ کے حق میں ہوا۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبہ کی کنجی عثمان ؓ سے لے کر اندر داخل ہوئے پھر یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ قربان اس سے پہلے میں نے حضور : ﷺ کو یہ آیت پڑھے نہیں سنا۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آیت کا نزول کعبہ کے اندر ہوا۔ سعید بن مسیب کی روایت بھی اسی کی مثل آئی ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ (حضور ﷺ…
Read the full tafseer →(58) رسول اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ بن بی طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ سے کلید (چابی) کعبہ لی تھی تو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس آیت میں کلید خانہ کعبہ عثمان بن ابی طلحہ ؓ کو واپس کردینے کا حکم دیا ہے کہ ان کی امانت ان ہی کو واپس کردو۔
اور جب عثمان بن ابی طلحہ اور عباس بن عبد المطلب کے درمیان فیصلہ کرو تو کلید (چابی) حضرت عثمان ؓ کو دو اور سقایہ (زمزم شریف پلانے کی خدمت) حضرت عباس ؓ کے سپرد کردو۔
اللہ تعالیٰ امانتوں کی واپسی اور عدل کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ حضرت عباس ؓ کی اس درخواست کو کہ یارسول اللہ ﷺ سقایہ کے ساتھ کلید (چابی) بھی مجھے مرحمت فرما دیجیے، سن رہا ہے اور حضرت…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا۔۔ : درمیان میں کفار کے احوال اور ان کے حق میں وعید کا ذکر آگیا تھا، اب دوبارہ سلسلۂ احکام شروع ہو رہا ہے۔ یہود امانت میں خیانت کرتے اور فیصلہ میں رشوت لے کر ظلم وجور کرتے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان باتوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ یہاں امانت سے مراد گو ہر قسم کی امانت ہے، اس کا تعلق مذہب و دیانت سے ہو یا دنیاوی معاملات سے، لیکن یہود حق کو چھپا کر علمی امانت میں خیانت کے مرتکب بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس کی خلاف ورزی کرلے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 58۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامنت “۔ یہ آیت اہم ترین احکام سے ہے یہ اپنے ضمن میں دین وشرع کی تمام تفصیلات کی جامع ہے نہ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس آیت کا مخاطب کون ہیں حضرت علی بن ابی طالب ؓ ، زید بن اسلم ؓ ، شہر بن حوشب ؓ ، اور ابن زید ؓ نے کہا : یہ خطاب مسلمانوں کے والیوں کو ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 70 دارالکتب العلمیہ) یہ نبی مکرم ﷺ اور آپ کے امراء کے لیے ہے پھر بعد کے تمام امراء کو شامل ہے، ابن جریج وغیرہ نے کہا : یہ خاص نبی مکرم ﷺ کو کعبہ کی چابی کے بارے میں خطاب ہے جب آپ نے عثمان بن ابی…
Read the full tafseer →(1) ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو فتح فرمایا تو عثمان بن ابی طلحہ کو بلایا جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا چابی مجھے دو تو وہ اس کو لے آیا جب اس نے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عباس آگے بڑھے اور کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ چابی مجھے دیجئے پانی پلانے کی خدمت کے ساتھ عثمان ؓ نے اپنے ہاتھ کو روک لیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان چابی مجھ کو دو انہوں نے دینے کے لئے اپنے ہاتھ کو بڑھا یا تو عباس نے پہلے کی طرح پھر کہا (کہ چابی مجھے…
Read the full tafseer →[ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ یَاْمُرُکُمْ : حکم دیتا ہے تم لوگوں کو ] [ اَنْ : کہ ] [ تُــؤَدُّوا : تم لوٹا دو ] [ الْاَمٰنٰتِ : امانتوں کو ] [ اِلٰٓی اَہْلِہَا : ان کے اہل (یعنی اہلیت والوں) کی طرف ] [ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ حَکَمْتُمْ : تم فیصلہ کرو ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے مابین ] [ اَنْ : (تو یہ) کہ ] [ تَحْکُمُوْا : تم لوگ فیصلہ کرو ] [ بِالْعَدْلِ : عدل سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ نِعِمَّا : کیا ہی اچھی ہے جو ] [ یَعِظُکُمْ : وہ نصیحت کرتا ہے تم کو ] [ بِہٖ : اس کے بارے میں ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ سَمِیْعًام : سننے والا ] [ بَصِیْرًا :…
Read the full tafseer →امانت کی ادائیگی اور فیصلوں میں انصاف کا حکم
اس آیت کے سبب نزول میں حضرات مفسرین کرام نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت سرور عالم ﷺ نے عثمان بن طلحہ حجبی سے کعبہ شریف کی چابی لے لی تھی۔ (ان کے خاندان میں عرصہ دراز سے کعبہ شریف کے کھولنے اور بند کرنے کی خدمت آرہی تھی جس کو اہل عرب سدانۃ البیت کے نام سے تعبیر کرتے تھے) آپ کعبہ شریف میں داخل ہوئے وہاں نماز پڑھی جب باہر نکلے تو حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ چابی ہمیں دے دیجیے تاکہ بنی ہاشم میں سقایۃ الحاج (حاجیوں کو پانی پلانا) اور سدانۃ البیت دونوں جمع ہوجائیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ عباس بن عبدالمطلب نے یہ سوال کیا تھا۔ آپ نے ان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
حکم نوزدہم اداء امانت و اقامت عدل۔
قال تعالی، ان اللہ یامرکم۔۔۔ الی۔۔۔ تاویلا۔
ربط) دور سے یہود کے قبائح اور حدود اللہ سے ان کی تعدیوں کا بیان چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ان کی ایک اور تعدی کو بیان فرماتے ہیں کہ من جملہ تعدی حدود اللہ کے ایک تعدی امانت میں خیانت اور فیصلہ میں بےانصافی ہے یہود کی یہ عادت تھی کہ امانت میں خیانت کے کرتے اور فصل خومات میں رشوت لے کر بےانصافی کرتے اس لیے ان آیات میں اللہ نے امانت داری اور عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اس لیے دخول جنت اور ازواج مطہرہ اور ظل ظلیل کے مستحق اہل امانت اور اہل عدالت ہی ہوسکتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
حصہ دوم (احکام سلطانیہ): پہلا حکم سلطانی : حقداروں کو ان کے حقوق دلواؤ اور فیصلے انصاف سے کیا کرو یہاں خطاب حکام اور امراء مسلمین کو ہے جیسا کہ حضرت علی اور دوسرے مفسرین سے منقول ہے۔ قال علی بن ابی طالب و زید بن اسلم و شھر بن حوشب وابن زید ھذا خطاب لولاۃ الملمین خاصۃ الخ (قرطبی ج 5 ص 256) یہاں حکام اور صاحب اقتدار طبقہ کو حکم دیا گیا کہ حقداروں کے حقوق لوگوں سے دلواؤ اور باہمی نزاعات اور جھگڑے عدل و انصاف سے طے کرو اور رعیت کو حکم دیا گیا کہ ایسے حکام کی فرمانبرداری کرو اور اپنے جھگڑے ایسے حکام کے پاس لے جایا کرو جو عدل و انصاف سے فیصلہ کیا کریں۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ اَمَانَات سے یہاں…
Read the full tafseer →ربط آیات
سورۃ کی ابتداء سے اب تک عموماً حقوق کا تذکرہ تھا۔ خصوصاً حقوق العباد کے ضمن میں یتیموں کے حقوق ، وراثت ، نکاح اور حلت و حرمت وغیرہ کے مسائل بیان ہوئے اس کے علاوہ یہودیوں کی بہت سی قباحتوں کا تذکرہ ہوا۔ اب یہاں سے تقریباً بارہ آیات تک دوسرا مضمون بھی آ رہا ہے جس کا تعلق اجتماعیت سے ہے اور جس میں سیاسیات بھی آجاتی ہیں۔
دیگر خرابیوں کے علاوہ یہودیوں میں دو بُری خصلتیں یہ بھی تھیں کہ ایک تو امانت کو ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں خیانت کرتے تھے اور دوسرے یہ کہ جب وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے تھے تو عدل و انصاف کا دامن چھوڑ کر جانبداری اور رشوت کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے آج کے درس کی اس…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا 0ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ 0ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا 58
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ترکیب : ان تودوا بتاویل مصدر مفعول ثانی ہوا۔ یامرکم کا واذا کا عامل یامرکم ہے۔ یہ سب شرط ان تحکموا اے بان تحکموا جملہ جواب نعما یعظکم یہ جملہ خبران نعما کا ما بمعنی الشیء معرفۃ تامۃ یعظکم محذوف کی صفت ہے جو مخصوص بالمدح ہے تقدیرہ نعم الشیء یعظکم بہ یا نعم کا فاعل اور مابمعنی الذی بھی ہوسکتا ہے اس کا مابعد اس کا صلہ اور یہ بھی فاعل نعم ہے اور مخصوص بالمدح محذوف ای نعم الذی یعظکم بہ تاویۃ الانۃ اور مانکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے۔ تب فاعل مضمر ہوگا اور مخصوص محذوف جیسا کہ بئس للظالمین بدلا میں ہے۔
تفسیر : امانت اور انصاف کا حکم : جبکہ اہل کتاب کی خیانت کا ذکر آیا کہ وہ تورات و انجیل کی بشارت کو جو…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَاِذَاحَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا
(بےشک اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ خوب بات ہے یہ جس کی اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے) (النسآء : 58)
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی دو نعمتوں سے نوازا ہے جن نعمتوں سے اس سے پہلے یہود کو نوازا گیا تھا۔ یعنی یہود کو ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب سے تورات و انجیل میں نبی ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ جس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا امانت داری کا تقاضا تھا لیکن انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اس امانت میں خیانت کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہر شعبہ میں پرلے درجہ کے خائن ثابت ہوئے۔ امت کو مالی ‘ اخلاقی، سیاسی اور عدالتی خیانت سے بچانے کے لیے ہر قسم کی ذمہ داری اس کے اہل لوگوں کے سپرد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ آیت فتح مکہ کے موقعہ پر نازل ہوئی۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ رسول معظم ﷺ نے ہجرت سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے کے لیے عثمان بن…
Read the full tafseer →تمام فرائض امانتیں :
آیت 58 : پھر حکام کو مخاطب کر کے ادائیگی امانات کا حکم دیا۔ اور عدل کا حکم دیا اپنے اس ارشاد سے : اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَا (اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم امانتیں امانت والوں کو ادا کردو) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس حکم میں ان فرائض کی ادائیگی بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ جن کو انسان نے اٹھایا ہے۔ اور حواس کی حفاظت بھی انہیں میں شامل ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔ وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ (اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو) حکمتم کا معنی…
Read the full tafseer →58۔ (آیت)” ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اھلھا “۔
(حضرت عثمان بن طلحہ سے کنجی لینے اور واپس کرنے کا بیان)
یہ عثمان بن طلحہ حجبی بن عبدالدار کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ کعبہ کے متولی تھے، جب فتح مکہ ہوا تو عثمان نے بیت اللہ کا دروازہ بند کر کے اس کی چھت پر چڑھ گیا ، آپ ﷺ نے اس سے چابی مانگی ، بعض نے کہا کہ مجھے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا گیا تاکہ اس سے چابی لیں لیکن اس نے چابی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ﷺ ہیں تو تم چابی دینے سے انکار نہ کرو گے ، حضرت علی ؓ نے اس کے ہاتھ سے چابی چھیں لی اور آپ ﷺ کو دی ، پھر اس چابی سے رسول اللہ ﷺ نے دروازہ کھولا اور…
Read the full tafseer →اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت ابن عثمان بن طلحہ کی شان میں اتری ہے جو ابو طلحہ بشیر بن عثمان کے چچا زاد بھائی اور اسی گھرانے میں کعبہ کی دربانی آج تک ہے۔ معتبر سند سے ابن اسحاق وغیرہ نے اس قصہ کو نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے عثمان بن طلحہ سے کعبہ کی کنجی لے کر کعبہ کو کھولا۔ اور کعبہ کے دروازہ پر خطبہ پڑھا۔ لوگوں کو طرح طرح کی نصیحت کی اسی موقع پر حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی کہ کعبہ کی کنجی ان دونوں میں سے کسی کو مل جائے تاکہ کعبہ کی دربانی آئندہ ان کے گھرانے میں رہے اتنے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور جن عثمان بن طلحہ سے آنحضرت ﷺ نے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
آیت 58-59
ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس…
Read the full tafseer →امانتوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ احکام
قول باری ہے (ان اللہ یامرکم ان تودوالامانات الی اھلھا، اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردو) مفسرین کا ان لوگوں کے بارے میں اختلاف رائے ہے جنہیں اس آیت میں امانتیں ادا کردینے کا حکم دیا گیا ہے۔
زید بن اسلم، مکحول اور شہر بن حوشب سے مروی ہے ان سے مراد ، ولاۃ الامر، یعنی وہ لوگ ہیں جو صاحب امر ہوں ابن جریج کا قول ہے کہ آیت کا نزول عثمان بن طلحہ کے بارے میں ہوا تھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ بیت اللہ کی کنجیاں انہیں واپس کردی جائیں، حضرت ابن عباس ، حضرت ابی بن کعب، حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق ہراس شخص…
Read the full tafseer →134 امانات سے مراد اور امانت کے مفہوم کی وسعت ؟ : سو امانات سے مراد عام ہے۔ یعنی وہ سب حقوق جو تمہارے ذمے واجب ہوں۔ خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے۔ سو ان سب کے اداء کرنے کا مطالبہ ہے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، وغیرہ) ۔ سو ہر وہ چیز جو کسی کے ذمے اور اس کے اعتماد پر چھوڑی گئی ہو وہ امانت کہلاتی ہے۔ اور امانات کا یہ لفظ یہاں پر بڑے وسیع مفہوم میں استعمال فرمایا گیا ہے جو تمام حقوق و فرائض کو عام اور حامل ہے۔ خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے۔ وہ انفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے۔ اپنوں سے متعلق ہوں یا بیگانوں سے۔ مالی معاملات کی قسم سے ہوں…
Read the full tafseer →امانتیں اور انصاف
تشریح : نیک بندوں کو جنت کی خوش خبری دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اب وضاحت فرما رہا ہے کہ نیک بندوں کی پہچان کیا ہے ؟ ان کے فرائض کیا ہیں ؟ اس آیت میں دو راہنما اصول بتائے جارہے ہیں جن کو عمل میں لانا ایک فرد، محلہ، شہر، ملک اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند اور ضروری ہے۔ پہلا اصول یہ بتایا گیا کہ امانتیں دیانت داری سے واپس کر دو ۔ یہ صرف اس پر ہی ختم نہیں ہوجاتا کہ کسی کا مال، مویشی اس کو دے دو بلکہ ذرا اور آگے چل کر دیکھیں تو اس حکم میں دستور مملکت کے چند مفید اصول ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کا ہر عہدیدار اپنے پاس بیشمار امانتیں رکھتا ہے۔ اس کا منصب، ڈیوٹی، امانت ہے۔ اگر وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
اسرار و معارف
آیت نمبر 58 تا 59: ان اللہ یا مرکم۔۔۔ احسن تاویلا۔
اب رہی وہاں پہنچنے کی صورت تو ان دو آیات میں اس کی ساری تفصیل سمو دی گئی ہے پہلی صورت ہے ایمان باللہ کہ بغیر ایمان کے اللہ کریم کی اطاعت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور دوسری عمل کی ہے جس کے بغیر دعوی ایمان ہی محل نظر ہے تو ارشاد ہوا کہ اللہ کریم دو باتوں کا حکم دیتے ہیں اول یہ کہ امانت اس شخص کو دو جو اس کا اہل ہو اور دوسرے یہ کہ لوگوں کے مابین انصاف کرو۔ امانت کا معنی بہت وسیع ہے بظاہر تو اس مال کو امانت کہا جاتا ہے جو کسی نے مناسب موقع پر واپس لینے کے لیے دیا ہو خواہ وہ قرض کی صورت میں ہو یا محض کچھ عرصہ رکھنے کو دیا ہو مگر اس…
Read the full tafseer →ف 5 درمیان میں کفار کے احوال اور ان کے حق میں وعید کا ذکر آگیا تھا اب دوبارہ سلسلئہ احکام کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یہود امانت میں خیانت کرتے اور فیصلہ میں رشوت لے کر جوا کرتے۔ مسلمانوں کو ان باتوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ یہاں امانت سے مراد گو ہر قسم کی امانت ہے اس کا تعلق مذہب ودیا نت سے ہو یا دنیاوی معاملات سے لیکن یہود کتمان حق کر کے امانت علمی میں خیانت کے مرتکب تھے بعض روایات میں ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن طلحتہ بن ابی طلحتہ احجبی سے کعبی کی کنجی لے لی۔ اس پر جبرائیل نازل ہوئے اور کنجی واپس کردینے کا حکم دیا (ابن جریر) آیت میں ہر قسم کے ذمہ کو اس کے اہل کے سپر کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(4:57) ظلا ظلیلا۔ ظل۔ سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظلیل صیغہ صفت ہے گھنی چھاؤں۔ ٹھنڈا سایہ۔ ظل کے بعد اسے تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ہم ان کو گھنی چاؤں میں داخل کریں گے۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ ظلال ظلیلا۔ سے مراد عرش کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 58
لغات القرآن : تؤدوا، تم ادا کر دو ۔ الامنت، امانتیں۔ الی اھلھا، اس کے مالکوں کی طرف۔ حکمتم، تم نے فیصلہ کیا (تم فیصلہ کرنے لگو) ، ان تحکموا، یہ کہ تم فیصلہ کرو۔ العدل، انصاف۔ نعما، بہترین۔ یعظکم، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔
تشریح : اس آیت میں مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جنہیں کتاب حکمت اور حکومت سے نوازا گیا ہے ان مومنوں کے لئے کتاب حکمت اور حکومت ایک آزمائش ہے۔ سلطنت کا انتظام اگر کیا جائے گا تو اس حکمت اور ان احکام کے تحت جنہیں اللہ کی کتاب نے پیش کیا ہے۔ تمام حکومتوں کے مقابلے میں مومن کی حکومت ایک خاص امتیاز رکھتی ہے یعنی یہاں پر عہدہ، دولت، روپیہ اور ہر چیز اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
شان نزول : فتح مکہ کے وقت آنحضرت ﷺ نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظمہ کی کنجی لے لی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کنجی انہیں واپس دے دی اور فرمایا کہ اب یہ کنجی ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی ۔ اس پر عثمان بن طلحہ اسلام لائے ۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب کو امانتیں دیانتداری کے ساتھ حا کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا اور فرائض نب، اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی بھی اس حکم میں داخل ہے۔
Read the full tafseer →[47] یعنی جو لوگ جس منصب کے اہل ہوں انہی کو اس پر فائز کرو، جو خیر امت ہوں انہیں اقتدار کی ذمہ داریاں سونپو۔ یہاں کلام کے سیاق وسباق میں '' امانات '' سے مراد ذمہ داری کے عہدے اور مناصب ہی ہیں۔
Read the full tafseer →اداء امانت :
(ف 2) امانت کا لفظ جہاں معاملات میں امانت حقوق پر بولا جاتا ہے وہاں پورے دین وضابطہ شرع پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، چناچہ ارشاد ہے (آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا “۔ الخ یعنی ذمہ داری کا یہ پروگرام جس کا نام اسلام و فطرت ہے بجز انسانوں نے اور سی کے حصہ میں نہیں آیا ۔
پس ادائے امانت کے معنی نہایت وسیع و عریض ہیں یعنی ہر حق اور فرض کی ادائیگی ۔
اسی لئے اس کی ایک صورت یہ بیان کی کہ جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل کو ہاتھ سے نہ جانے دو یعنی مسلمان کی ہر بات عادلانہ ومنصفانہ ہو ، بڑی سے بڑی قوت انہیں حق کے اظہار سے مانع نہ ہو ۔ کوئی لالچ ، کوئی…
Read the full tafseer →ف 3 بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان اہل امانت کو ادا کردیا کرو اور ان تک پہنچا دیا کرو اور نیز یہ حکم دیتا ہے کہ جب تم لوگوں کے مابین کوئی فیصلہ اور تصفیہ کیا کرو تو انصاف کے ساتھ کیا کرو اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بات بہت اچھی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے اور دیکھنے والا ہے ۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی امانت ہیں خیانت مت کرو اور چکوتی میں خاطر مت کر خواہ کسی کے واسطے یہ عادتیں یہود میں بہت تھیں، اسی واسطے بعضے کچے مسلمان قضیہ چکانے کو حضرت کے پاس نہ آتے کہ یہ کسی کی خاطر نہ رکھیں گے اور یہود کے عالموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 3۔ یہ اہل حکومت کو خطاب ہے۔
4۔ وہ بات بہت اچھی ہے دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں بقاء حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کے لئے ہدایت کہ جس کی امانت ہو اس کو واپس لوٹا دو :
110: اوپر کی آیات میں یہودیوں کی بد اعتدالیوں کا ذکر تھا۔ یہودیوں کی بداعتدالیاں کیا تھیں اور کس بات کا نتیجہ تھیں ؟ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے مرتکب تھے۔ اس کی عبادت سے منحرف ہوچکے تھے۔ اس کی عطا کردہ قوتوں کو غیر محل پر استعمال کرتے تھے اور یہ درحقیقت امانت میں خیانت تھی کیونکہ امانت میں یہ ساری باتیں آجاتی ہیں۔ امنات کا لفظ یہاں اپنے محدود مفہوم میں نہیں ہے بلکہ جس طرح اِنِاّاعَرْضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی اسِّمٰوٰتِ وِالْاَرْضِ ” ہم نے امانت کو زمین ، آسمانوں اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ “ والی آیت میں آیا ہے اس طرح اس جگہ بھی نہایت…
Read the full tafseer →Commentary
The background of the revelation of these verses
The first of the two verses cited above was revealed in the back-ground of a particular event which related to the custodial service of the Ka'bah, an office of great honour even before the advent of Islam. Those who were appointed to serve the House of Allah in a particular area of responsibility were regarded as people of great prestige and distinction in the community. Therefore, different areas of services were distributed over different people. It was from the time of Jahilliyah that, during the days of Hajj, the service of…
Read the full tafseer →88. Here the Muslims are forewarned against the evils which had afflicted the Israelites. One of the fundamental mistakes committed by the Israelites was that in the time of their degeneration they had handed over positions of trust (i.e. religious and political leadership) to incompetent, mean, immoral, dishonest and corrupt people. The result was that corruption spread throughout the nation. The Muslims are directed to take heed of this, and to entrust positions of responsibility only to those who are capable of shouldering the burdens of such positions. The other major weakness of the…
Read the full tafseer →