Explained with ayahs 56–57
عذاب کی تفصیل اور نیک لوگوں کا انجام بالخیر
اللہ کی آیتوں کے نہ ماننے اور رسولوں سے لوگوں کو برگشتہ کرنے والوں کی سزا اور ان کے بد انجام کا ذکر ہوا انہیں اس آگ میں دھکیلا جائے گا جو انہیں چاروں طرف سے گھیرلے گی اور ان کے روم روم کو سلگا دے اور یہی نہیں بلکہ یہ عذاب دائمی ایسا ہوگا ایک چمڑا جل گیا تو دوسرا بدل دیا جائے گا جو سفید کاغذ کی مثال ہوگا ایک ایک کافر کی سو سو کھالیں ہوں گی ہر ہر کھال پر قسم قسم کے علیحدہ علیحدہ عذاب ہوں گے ایک ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال الٹ پلٹ ہوگی۔ یعنی کہہ دیا جائے گا کہ جلد لوٹ آئے وہ پھر لوٹ آئے گی۔ حضرت عمر ؓ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ پڑھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
سورة النِّسَآء 87
یاد رہے کہ یہاں جواب بنی اسرائیل کی حاسدانہ باتوں کا دیا جا رہا ہے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ آخر جلتے کس بات پر ہو ؟ تم بھی ابراہیم کی اولاد ہو اور یہ بنی اسماعیل بھی ابراہیم ہی کی اولاد ہیں۔ ابراہیم سے دنیا کی امامت کا جو وعدہ ہم نے کیا تھا وہ آل ابراہیم میں سے صرف ان لوگوں کے لیے تھا جو ہماری بھیجی ہوئی کتاب اور حکمت کی پیروی کریں۔ یہ کتاب اور حکمت پہلے ہم نے تمہارے پاس بھیجی تھی مگر تمہاری اپنی نالائقی تھی کہ تم اس سے منہ موڑ گئے۔ اب وہی چیز ہم نے بنی اسماعیل کو دی ہے اور یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
خلاصہ تفسیر
بلاشک جو لوگ ہماری آیات (و احکام) کے منکر ہوئے (ہم ان کو) عنقریب ایک سخت آگ میں داخل کریں گے (اور وہاں ان کی برابر یہ حالت رہے گی کہ) جب ایک دفعہ ان کی کھال (آگ سے) جل چکے گی تو ہم اس پہلی کھال کی جگہ فوراً دوسری (تازہ) کھال پیدا کر دینگے تاکہ (ہمیشہ) عذاب ہی بھگتتے رہیں (کیونکہ پہلی کھال میں جلنے کے بعد شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید اس میں ادراک و احساس نہ رہے اس لئے شبہ قطع کرنے کے یہ سنا دیا) بلاشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (کہ وہ ایسی سزا دے سکتے ہیں اور) حکمت والے ہیں (اس لئے باوجود قدرت کے جلی ہوئی کھال کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں، پھر بھی کسی حکمت سے بدل دیا جیسے کہ ایک حکمت کا بیان ابھی…
Read the full tafseer →دوسرا گروہ جو ایمان لایا ان کے متعلق فرمایا کہ ان کو ہم جنت میں داخل کریں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس میں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ ان تمام اجزا کی تشریح سورة بقرہ میں ہوچکی ہے۔ قرآن نے جہاں کہیں بنی اسماعیل پر اپنے اس احسان عظیم کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس امر کی وضاحت ضرور فرما دی ہے کہ اس احسان کا تعلق ایمان و اسلام سے ہے۔ مجرد خاندان و نسب سے نہیں ہے۔ بنی اسماعیل میں سے بھی وہی لوگ اس انعام الٰہی میں حصہ دار ہیں جو اس قرآن اور اس نبی پر ایمان لائے ہیں، جو ایمان نہیں لائے وہ سب دوزخ میں جائیں گے، اسرائیلی ہو یاں اسماعیلی۔ سورة جمعہ میں فرمایا ہے ”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي…
Read the full tafseer →57۔ 1 یہ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے جو ابدی نعمتیں ہیں، ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اہل ایمان جو اعمال صالح کی دولت سے مالا مال ہوں گے۔ جَعَلنا اللّہ مِنْھُمْ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر جگہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ذکر کرکے واضح کردیا کہ ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ایمان، عمل صالح کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے پھول مگر خوشبو کے بغیر، درخت ہو لیکن بغیر ثمر۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیرالقرون کے دوسرے مسلمانوں نے اس نکتے کو سمجھ لیا تھا۔ چناچہ ان کی زندگیاں ایمان کے پھل۔ اعمال صالحہ سے مالا مال تھیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے عمل کرتا ہے جو اعمال صالحہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
40: اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(آیت) ” نمبر 56 تا 57۔
(آیت) ” نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (4 : 56) ” اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ‘۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو مسلسل چلتا ہے ۔ ایک ایسا منظر جو نظروں کے سامنے ہے اور بار بار دہرایا جارہا ہے نظریں اس کے اوپر جم جاتی ہیں ۔ خیال ایک جگہ مرکوز ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ یہ یقینا ایک خوفناک منظر ہے ‘ اس کی خوفناکی فکر ونظر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔ اس مسلسل اور خوفناک منظر کو صرف ایک لفظ اسکرین پر لاتا ہے یہ لفظ (کلما) ہے ۔ اور یہ منظر صرف فقرے کے ایک حصے کے ذریعہ خوفناک اور ہولناک بن جاتا ہے ۔ (کلما نضجت جلودھم )…
Read the full tafseer →1 یعنی مومن ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ان کو عورتیں ایسی ملیں گی جو حیض اور دیگر آلائشوں سے پاک ہونگی اور ان کو گہری اور گنجان چھاؤں میں داخل کریں گے جو آفتاب کی دھوپ سے بالکل محفوظ ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 57 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
یہاں بھی وہی فوری تقابل simultaneous contrast ہے کہ اہل جہنم کے تذکرے کے فوراً بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے۔
وَّنُدْخِلُہُمْ ظلاًّ ظَلِیْلاً ۔
انہیں ایسی گہری اور ٹھنڈی چھاؤں میں رکھا جائے گا جو دھوپ کی حدت اور تمازت سے بالکل محفوظ ہوگی۔ّ َ
یہاں وہ حصہ ختم ہوا جس میں اہل کتاب کی طرف روئے سخن تھا۔ اب پھر مسلمانوں سے خطاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
88 کھالوں کی تبدیلی اس لیے کی جائے گی کہ ان کی تکلیف میں کمی کی بجائے کچھ اضافہ ہی ہوتا رہے کیونکہ جلی ہوئی کھال کو جلانے سے تکلیف نسبتاً کم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →175 ۔ یعنی انہیں عیش و راحت ہر طرح کی حاصل رہے گی (آیت) ” ازواج مطھرۃ “ پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا لہم فیہا ازواج مطہرۃ . اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو ہم ضرور جنتوں میں داخل کریں گے جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان جنتوں کے اندر وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک ستھری بیبیاں ہوں گی۔
حاکم نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے بیان کیا اور روایت کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حیض ‘ پاخانہ ‘ ناک کی ریزش اور تھوک سے پاک ہوں گی۔ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے وہ حیض ‘ پاخانہ ‘ پیشاب ‘ ناک کی ریزش ‘ تھوک ‘ بلغم اولاد اور منی سے پاک ہوں گی۔ عطاء کی روایت بھی اسی طرح…
Read the full tafseer →(57) اگلی آیت مومنین کے بارے میں نازل فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ قرآں کریم اور تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خلوص کے ساتھ تمام احکام خداوندی کی بجا آوری کرتے ہیں، ایسے حضرات کو آخرت میں ایسے باغات ملیں گے، جن میں درختوں کے نیچے شہد، دودھ، پانی پاکیزہ، اور شراب کی نہریں جارہی ہوں گی وہ جنت میں رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی، اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے، حیض اور ہر قسم کی باتوں سے پاک عورتیں ہوں گی اور عزت کے ساتھ گھنے سایہ میں ہم ان کو داخل کریں گے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : قرآن پاک میں عموماً وعدہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو ”کتابا متشابھا“ فرمایا ہے اور وعظ و تذکیر کا یہ مؤثر ترین انداز ہے۔ بعض نے اس آیت سے سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان سے الگ چیز ہے، کیونکہ یہ دونوں عطف کے ساتھ آئے ہیں، مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف کے ساتھ بیان کردیا ہے، ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل نہیں۔ (دیکھیے سورة عصر کی تفسیر) جنت کی نہروں کا بیان سورة محمد کی آیت (15) میں دیکھیے ازواج مطہرۃ کے لیے سورة رحمن کا آخری حصہ اور سورة بقرہ کی آیت (25) کی تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
آیت نمبر : 56 تا 57۔
الاصلاء کا معنی اس سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے، حمید بن قیس نے نون کے فتحہ کے ساتھ نصلیھم پڑھا ہے یعنی ہم انہیں بھون دیں گے، کہا جاتا ہے : شاہ مصلیۃ (بھونی ہوئی بکری) نارا اس قرات پر حرف جر کے حذف کے ساتھ ہے تقدیر عبارت بنار ہوگی۔ (آیت) ” کلما نضجت جلودھم “۔ کہا جاتا ہے : نضج الشیء نضجا ونضجا فلان نضیج الراء یعنی وہ پختہ رائے والا ہے، آیت کا معنی ہے ہم انہیں دوسری کھالیں تبدیل کردیں گے، زنادقۃ میں سے جو قرآن پر طعن کرتے ہیں اگر وہ کہیں کہ جلد کو کیسے عذاب دیا جائے گا جب اس نے گناہ کیا ہی نہیں، اسے کہا جائے گا جلد کو عذاب و عقاب نہیں کیا گیا حقیقت تکلیف نفوس پر واقع ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
کافروں پر عذاب کی شدت
(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ثوبر کے طریق سے ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ان کی کھالیں بدل دیں گے جو کاغذ کی طرح سفید ہوں گی۔
(2) طبرانی نے اوسط میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ نافع کے طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کے پاس یہ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب “ پڑھی گئی تو معاذ نے فرمایا میرے پاس اس کی تفسیر ہے یعنی ایک گھڑی میں سو مرتبہ ان کی کھال بدل جائے گی۔ عمر ؓ نے فرمایا میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
(3) ابن مردویہ…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ (لوگ) جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ سَنُدْخِلُہُمْ : ہم داخل کریں گے ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَآ : ان میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ہیں ] [ فِیْہَآ : ان میں ] [ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ : پاک کیے ہوئے جوڑے ] [ وَّنُدْخِلُہُمْ : اور ہم داخل کریں گے ان کو ] [ ظِـلاًّ ظَلِیْلاً : ہمیشگی والے سائے میں ]
Read the full tafseer →اہل کفر کی سزا بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) (الآیۃ) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی وہ ظاہری الائش حیض و نفاس اور بلغم اور میل کچیل سے پاک ہوں گی اور بد اخلاقی اور بد مزاجی اور ہراس چیز سے پاک ہوں گی جو نفرت اور وحشت کا سبب ہو۔
آخر میں فرمایا (وَّ نُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا) (اور ہم ان کو گھنے گنجان سایہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
مذمت یہود بربخل وحسد۔
قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 42 :۔ یہاں بیان فرمایا کہ اہل کتاب دو قسم کے لوگ تھے کچھ تو وہ تھے جو ایمان لاچکے تھے اور کچھ ایسے تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ ناراً الخ یہ منکرین اہل کتاب کیلئے اخروی تخویف ہے اور وَالَّذِیْن اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰت سَنُدْخِلُھُمْ الخ مومنین اہل کتاب کیلئے اخروی بشارت ہے یہاں تک احکام رعیت تھے اب احکام سلطانیہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بعض قباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ، انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور دین میں طعن بھی کی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ اگر آپ بھی ایمان نہیں لائیں گے ، پھر ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت برسیگی ، بالکل اسی طرح جیسے سبت یعنی ہفتہ کے دن والوں پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مزید خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ جبت اور طاغوت کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر جیسی باطل چیزوں اور شیطان کے پیروکار ہیں۔…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَـنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا 0ۭ لَھُمْ فِيْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ 0ۡ وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ترکیب : من امن مبتدا منہم خبر مقدممجموعہ جملہ پر داخل ہے۔ سوف نصلیہم جملہ خبر کلمہ شرط ‘ بدلنہم جواب والذین الخ مبتداء سند خلہم خبر لہم فیہا الخ جملہ لغت یا حال ہے۔
تفسیر : یہ اسی بیان کا تتمہ ہے کہ باوجود اس کے ہم نے خاندان ابراہیم (علیہ السلام) کو خصوصاً نسل اسحاق و اسرائیل کو کتاب یعنی ظاہر شریعت و حکمت یعنی علم اسرار اور ملک عظیم یعنی قدرت دی تھی۔ اس پر بھی ان میں سے کچھ لوگ تو خدا پرست تھے اور کچھ منکر اور مخالف رہے (جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل سے واضح ہوتا ہے) پھر جب ان کا اپنے ایسے انبیاء کی نسبت یہ حال تھا تو اے محمد ﷺ آپ کی نسبت انکار اور نکتہ چینی جس قدر ہو وہ اس بدبخت قوم کے حسد کے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدً ط لَھُمْ فِیْھَـآ اَزْوَاجٌ مَّطَھَّرَۃٌ ز وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِیْلاً
(اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ہم ان کو داخل کریں گے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی اور ہم ان کو گھنی چھائوں میں رکھیں گے) (النسآء : 57)
ایمان لانے والوں پر انعام
اللہ کے رسول کی دعوت کا انکار کرنے والوں اور اس کی تکذیب کرنے والوں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اللہ کے رسول…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفر اور حسد کرنے والوں کے مقابلہ میں صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کا صلہ اور انجام۔
جو لوگ ایمان لائے اور صالح کردار کے حامل ہوئے جو نہی وہ دنیا کے امتحانات سے نکل کر عالم عقبیٰ میں پہنچیں گے ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن میں نہریں اور آبشاریں چلتی ہوں گی۔ صاحب ایمان اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں نہایت پاک و صاف، وفادار اور جانثار بیویاں ہوں گی۔ انہیں سر سبز و شاداب اور لہلہاتے ہوئے باغوں کے گھنے سایوں میں داخل کیا جائے گا۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا…
Read the full tafseer →آیت 57 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْ خِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَداً لَہُمْ فِیْہَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم ان کو جنتوں میں ضرور داخل کریں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لئے وہاں ستھری بیویاں ہونگی) مطہرۃ کا مطلب نجاسات ٗ حیض و نفاس سے پاک ہونا۔
خوبصورت سایہ میں داخلہ :
وَّ نُدْخِلُہُمْ ظِلاًّ ظَلِیْلًا (اور ہم ان کو وسیع سایہ میں داخل کرینگے) ظلیلیہ صفت کا صیغہ ہے جو ظل سے لیا گیا۔ اور اس کے معنی کی تاکید کے لئے لایا گیا۔ جیسا کہتے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 57۔:
(آیت)” والذین امنوا وعملوا الصلحت ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ نہ ان کو سورج کی تپش سے تکلیف ہوگئی اور نہ ہی سردی سے وہ ایذاء پائیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(56 ۔ 57) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بدلوگوں کے لئے جہنم کی دہکتی آگ کی سزا کافی ہے اس پر یہ خیال گذر سکتا تھا کہ جب ایک دفعہ دہکتی آگ میں دوخیوں کا گوشت پوست جل جائے گا۔ تو پھر اسی جلی ہوئی کھال پر شاید آگ کی تکلیف کچھ کم ہوجائے گی کیونکہ جلی کھائی مردار ہوجاتی ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ کی آیتوں کے منکر لوگوں کی کھال جب دوزخ میں جل کر مردار ہوجائے گی تو عذاب کی تکلیف قائم رہنے کے لئے فورًا تازہ کھال بدل جائے گی۔ بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑی سی دیر میں دوزخیوں کی کھائیں کئی دفعہ بدلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت 51-57
یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
قول باری ہے (کلمانضجت جلودھم بدلنا ھم جلوداغیرھا، جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے اللہ تعالیٰ جل جانے والی کھالوں کی جگہ نئی کھالیں پیدا کردے گا، اس تفسیر کے قائلین وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کھال انسان کا حصہ نہیں ہوتی ، بلکہ گوشت اور ہڈیاں بھی انسان کی جز نہیں ہوتیں، انسان اس روح کا نام ہے جس نے اس بدن کو اپنالباس بنارکھا ہے۔
اس کے برعکس جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کھال انسان کا حصہ ہے اور انسان سر سے پیر تک موجود شخص کا نام ہے اس کے نزدیک آیت زیر بحث کی تفسیر یہ ہے کہ کھالوں کی اس طرح تجدید ہوگی کہ انہیں اس حالت پر…
Read the full tafseer →132 جنت کی بیویوں کی عظمت شان کا ایک پہلو : کہ ان کو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ سو " طاہرہ " اور " مطہرہ " میں فرق ہے اور یہاں پر " طاہرہ " نہیں " مطہرہ " فرمایا گیا ہے، جو کہ اسم مفعول ہے تطہیر سے۔ جس کے معنیٰ پاک کرنے کے آتے ہیں۔ یعنی جنت کی ان عورتوں کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و صاف کردیا گیا ہوگا، جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی تفصیل و تصریح مذکور و موجود ہے۔ پس عام طور پر اس کا جو ترجمہ پاکیزہ بیویوں جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا اس لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے۔ دونوں کا فرق واضح ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ…
Read the full tafseer →نیک بندوں کے لیے خوش خبری
تشریح : اس آیت میں خوشخبری دی جارہی ہے ان لوگوں کو جو قرآن پر ایمان لے آئے اور پھر اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں اس کے دیئے ہوئے قانون، اصول اور ہدایات کی پابندی کی اور یوں اعمال صالحہ کرتے ہوئے کامیاب زندگی گزاری تو ایسے لوگ صرف دنیا میں ہی کامیاب نہیں ہوتے، بلکہ آخرت میں بھی ان کو ایسی بہترین زندگی ملے گی کہ جن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ خوب صورت ٹھنڈی چھاؤں والے باغات ان کا ٹھکانہ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور پھر ان کو دل بہلانے اور خوش ہونے کے لیے انتہائی خوبصورت اور پاک دامن بیویاں بھی دی جائیں گی۔ غرض وہاں کوئی پریشانی اور دقت پیش نہ آئے گی اور یہ آرام دہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔
آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…
Read the full tafseer →ف 4 قرآن پاک میں عموما دندہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو لتابا متشابھا فرمایا ہے اور وعظ تذکیر کا یہ مئو ثر ترین انداز ہے۔ آیت سے بعض نو سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان کا غیر ہے کیونکہ یو دونوں عطف کے ساتھ مذکور ہیں مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف سے ساتھ بیان کردیا ہے۔ ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل ہے (ابن کثیر، شوکانی) آیت میں ظلا ظلیلا (گھنے سائے) نہایت درجہ کی راحت سے کنا یہ ہے۔ (کبیر) گھنے سائے تفسیر میں امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(4:57) ظلا ظلیلا۔ ظل۔ سایہ ۔ پرچھائیں۔ ظلیل صیغہ صفت ہے گھنی چھاؤں۔ ٹھنڈا سایہ۔ ظل کے بعد اسے تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ہم ان کو گھنی چاؤں میں داخل کریں گے۔ ربیع بن انس کہتے ہیں کہ ظلال ظلیلا۔ سے مراد عرش کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51-57
لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔
لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔
تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
شان نزول : فتح مکہ کے وقت آنحضرت ﷺ نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظمہ کی کنجی لے لی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کنجی انہیں واپس دے دی اور فرمایا کہ اب یہ کنجی ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی ۔ اس پر عثمان بن طلحہ اسلام لائے ۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب کو امانتیں دیانتداری کے ساتھ حا کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا اور فرائض نب، اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی بھی اس حکم میں داخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
[46] مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آل ابراہیم کو بہت سی دینی اور دنیوی نعمتیں دیں تو ان کے زمانے کے لوگ بھی بعض تو ایمان لائے اور بعض کافر رہے اب محمد ﷺ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کو بھی اللہ نے پیغمبری اور قرآن و سلطنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ غرض آل ابراہیم سے ہمیشہ حسد کیا جاتا رہا ہے اور لوگوں کے حسد سے نہ ان کا کچھ پہلے بگڑا اور نہ اب بگڑے گا۔
Read the full tafseer →(ف 1) اہل ایمان و فلاح کا ذکر ہے کہ انہیں باغات وانہار میں جگہ دی جائے گی اور ان کے لئے گھنے سائے مہیا کئے جائیں گے ۔ یعنی وہاں نظر وقلب کی مسرت کے لئے ہر وہ چیز جو ضروری ہے ، حاصل ہوگی اور عروسان فطرت پوری طرح بن سنور کر اہل جنت حضرات کے لئے جلوہ آراء ہوں گی اور پھر وہاں سب سے بڑی مسرت یہ ہوگی کہ پاک بیویاں بھی زینت دہ آغوش ہوں گی ، یعنی دنیا میں جتنی مسرتیں اور سعادتیں ہیں وہاں سب کا حصول ہوگا اور علی وجہ الکمال کہ کسی طرح کا نقص وتکدر ان میں موجود نہ ہو ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کی بارہ دریوں اور سیر گاہوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان لوگوں کے لئے ان باغات میں پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک ہوں گی اور ہم ان لوگوں کو نہایت گنجان سیالوں اور بےحد گھنی چھائوں والے مقامات میں داخل کردیں گے۔ (تیسیر)
فمنھم من امن بہ کی آیت میں دو گروہوں کا ذکر کیا تھا روگردانی اور اعراض کرنے والوں کا…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی دنیا کا سایہ نہ ہوگا کہ خود سایہ کے اندر بھی دھوپ چھنتی ہے وہ بالکل متصل ہوگا۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں کے انعام الٰہی پانے کا منظر :
109: دوسرا گروہ وہ تھا جو ایمان لایا ان کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو ہم جنت میں داخل کریں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس مین ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ پھل کھائیں گے اور سایوں میں آرام کریں گے اور پھر اس کی کیفیات بھی مختلف انداز سے بیان کی گئیں ہیں۔ اور ہر ایک کیفیت اپنے اندر ایک مقام رکھتی ہے جو ایک سے ایک بڑھ کر ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ :
” پرہیز گاروں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
Particular believers and disbelievers were mentioned in the previous verses. Stated now is the reward and punishment of a believer and a disbeliever as a universal rule.
Commentary
Explaining the highly apocalyptic statement كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ in verse 56, Sayyidna Mu` adh ؓ says that as soon as their skin is burnt out it will be replaced - and this will be with such speed that the skin will be replaced a hundred times in one moment.
Sayyidna Hasan al-Basri (رح) says:
تاکل النار کلّ یوم سبعین الف مرّۃ کلما اکلتھم قیل لھم : عودوا فیعودون کما کانوا (اخرج البیھقی عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
87. This is in response to the malicious remarks of the Israelites. What is being said is that they had no reason to feel jealous since both the Israelites and Ishmaelites were offspring of the same Abraham. Now, the leadership of the world had been promised only to those children of Abraham who followed the Book and Wisdom revealed by God. The Book and Wisdom had been sent down earlier to the Israelites, and to their discredit they had turned away from them. The same Book and Wisdom had now been made available to the Ishmaelites and they had decided to greet it with faith and gratitude.
Read the full tafseer →