An-Nisaa 4:56

An-Nisaa · from ayah 56

4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا ؕ— كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve in Our verses - We will drive them into a Fire. Every time their skins are roasted through We will replace them with other skins so they may taste the punishment. Indeed, Allah is ever Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:56

جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وه عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ کی) آگ میں جھونک دیں گے، جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ (مسلسل) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا ہم انھیں عنقریب ایک سخت آگ میں جھونکیں گے، جب بھی ان کی کھالیں گل سڑ جائیں گی ہم انھیں ان کے علاوہ اور کھالیں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں، بیشک اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا ہم یقینا انہیں دوزخ میں جھونک دیں گے۔ جب بھی ان کے جسموں کی کھال گل جائے گی تو ہم دوسری کھال بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا زبردست اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم ان کو ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے۔ جب جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کو دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ یہ عذاب کا مزا خوب چکھیں۔ بیشک اللہ عزیز و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہماری آیتوں سے، عنقریب ہی ہم ان کو جھونک دینگے ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں، (جہاں ان کا حال یہ ہوگا کہ) جب بھی جل جائیں گی ان کھالیں تو ہم ان کی بدل دینگے اور کھالیں، تاکہ یہ مزہ چکتے رہیں عذاب کا، بیشک اللہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ کفر کیا ہم انہیں عنقریب (دوزخ کی) آگ میں جھونکیں گے جب کبھی انکی جلدی پک جائیں گی ہم ان کی جلدوں کو بدل کر دوسری کردیا کریں گے تاکہ وہ (برابر تازہ) عذاب چکھتے رہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً جو لوگ ہماری آیات کا کفر کریں گے ایک وقت آئے گا کہ ہم انہیں آگ میں جھونک دیں گے اور جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کو دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں یقیناً اللہ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا انہیں ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو ہم اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں یقینا اللہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We shall cast those who reject Our signs into the Fire; and as often as their skins are burnt out, We shall give them other skins in exchange that they may fully taste the chastisement. Surely Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who have disbelieved in Our verses, We shall certainly make them enter a fire. Whenever their skins are burnt out, We shall give them other skins in their place, so that they may taste the punishment. Surely, Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who have disbelieved in Our verses, We shall certainly make them enter a fire. Whenever their skins are burnt out, We shall give them other skins in their place, so that they may taste the punishment. Surely, Allah is All-Mighty, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Surely, those who disbelieved in Our Ayat, We shall burn them in Fire. As often as their skins are roasted through, We shall change them for other skins that they may taste the punishment. Truly, Allah is Ever Most Powerful, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Those who disbelieve Our revelations, We shall expose them to the Fire. As often as their skins are consumed We shall exchange them for fresh skins that they may taste the torment. Lo! Allah is ever Mighty, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve in Our verses - We will drive them into a Fire. Every time their skins are roasted through We will replace them with other skins so they may taste the punishment. Indeed, Allah is ever Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

We will make the rejectors of Our revelations suffer in hell fire. As soon as the fire destroys their skins, We will give them new skins so that they may suffer more of the torment. God is Majestic and All-wise.

— Muhammad Sarwar

(As for) those who disbelieve in Our communications, We shall make them enter fire; so oft as their skins are thoroughly burned, We will change them for other skins, that they may taste the chastisement; surely Allah is Mighty, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve in Our revelations, presently We shall roast them into Fire. So oft as their skins are cooked We shall change them for other skins, so that they may keep on tasting the torment verily Allah is ever Mighty, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who reject our Signs, We shall soon cast into the Fire: as often as their skins are roasted through, We shall change them for fresh skins, that they may taste the penalty: for Allah is Exalted in Power, Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–57

عذاب کی تفصیل اور نیک لوگوں کا انجام بالخیر اللہ کی آیتوں کے نہ ماننے اور رسولوں سے لوگوں کو برگشتہ کرنے والوں کی سزا اور ان کے بد انجام کا ذکر ہوا انہیں اس آگ میں دھکیلا جائے گا جو انہیں چاروں طرف سے گھیرلے گی اور ان کے روم روم کو سلگا دے اور یہی نہیں بلکہ یہ عذاب دائمی ایسا ہوگا ایک چمڑا جل گیا تو دوسرا بدل دیا جائے گا جو سفید کاغذ کی مثال ہوگا ایک ایک کافر کی سو سو کھالیں ہوں گی ہر ہر کھال پر قسم قسم کے علیحدہ علیحدہ عذاب ہوں گے ایک ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال الٹ پلٹ ہوگی۔ یعنی کہہ دیا جائے گا کہ جلد لوٹ آئے وہ پھر لوٹ آئے گی۔ حضرت عمر ؓ کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ پڑھنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–57

سورة النِّسَآء 87 یاد رہے کہ یہاں جواب بنی اسرائیل کی حاسدانہ باتوں کا دیا جا رہا ہے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ آخر جلتے کس بات پر ہو ؟ تم بھی ابراہیم کی اولاد ہو اور یہ بنی اسماعیل بھی ابراہیم ہی کی اولاد ہیں۔ ابراہیم سے دنیا کی امامت کا جو وعدہ ہم نے کیا تھا وہ آل ابراہیم میں سے صرف ان لوگوں کے لیے تھا جو ہماری بھیجی ہوئی کتاب اور حکمت کی پیروی کریں۔ یہ کتاب اور حکمت پہلے ہم نے تمہارے پاس بھیجی تھی مگر تمہاری اپنی نالائقی تھی کہ تم اس سے منہ موڑ گئے۔ اب وہی چیز ہم نے بنی اسماعیل کو دی ہے اور یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–57

خلاصہ تفسیر بلاشک جو لوگ ہماری آیات (و احکام) کے منکر ہوئے (ہم ان کو) عنقریب ایک سخت آگ میں داخل کریں گے (اور وہاں ان کی برابر یہ حالت رہے گی کہ) جب ایک دفعہ ان کی کھال (آگ سے) جل چکے گی تو ہم اس پہلی کھال کی جگہ فوراً دوسری (تازہ) کھال پیدا کر دینگے تاکہ (ہمیشہ) عذاب ہی بھگتتے رہیں (کیونکہ پہلی کھال میں جلنے کے بعد شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید اس میں ادراک و احساس نہ رہے اس لئے شبہ قطع کرنے کے یہ سنا دیا) بلاشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (کہ وہ ایسی سزا دے سکتے ہیں اور) حکمت والے ہیں (اس لئے باوجود قدرت کے جلی ہوئی کھال کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں، پھر بھی کسی حکمت سے بدل دیا جیسے کہ ایک حکمت کا بیان ابھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

بنی اسمعیل کو تنبیہ : فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ ۭوَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيْرًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا۔ یہ آیات (55 تا 58) بنی اسماعیل سے متعلق ہیں۔ فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ تو اس کتاب و حکمت کو قبول کر کے ایمان سے مشرف ہوچکا ہے لیکن ایک گروہ ابھی اس سے روگردان ہے۔ اس گروہ کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ اپنے کفر پر اڑا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا جہاں ان کے عذاب میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

56۔ 1 یعنی جہنم میں اہل کتاب کے منکرین ہی نہیں جائیں گے بلکہ دیگر تمام کفار کا ٹھکانہ بھی جہنم ہی ہے۔ 56۔ 2 یہ جہنم کے عذاب کی سختی، تسلسل اور دوام کا بیان ہے۔ صحابہ کرام سے منقول بعض آثار میں بتلایا گیا ہے۔ کھالوں کی تبدیلی دن میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں مرتبہ عمل میں آئے گی اور مسند احمد کی روایت کی رو سے جہنمی جہنم میں اتنے فربہ ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں کی لو سے پیچھے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت جتنا ہوگا، ان کی کھال کی موٹائی ستر بالشت اور ڈاڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–56

39: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے ؛ چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا ؛ چنانچہ ان میں بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے، اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب ؑ) کی اولاد میں نبوت جاری رہی ہے، اب اگر ان کے دوسرے صاحب زادے (حضرت اسماعیل ؑ) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–57

(آیت) ” نمبر 56 تا 57۔ (آیت) ” نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (4 : 56) ” اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ‘۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو مسلسل چلتا ہے ۔ ایک ایسا منظر جو نظروں کے سامنے ہے اور بار بار دہرایا جارہا ہے نظریں اس کے اوپر جم جاتی ہیں ۔ خیال ایک جگہ مرکوز ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ یہ یقینا ایک خوفناک منظر ہے ‘ اس کی خوفناکی فکر ونظر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔ اس مسلسل اور خوفناک منظر کو صرف ایک لفظ اسکرین پر لاتا ہے یہ لفظ (کلما) ہے ۔ اور یہ منظر صرف فقرے کے ایک حصے کے ذریعہ خوفناک اور ہولناک بن جاتا ہے ۔ (کلما نضجت جلودھم )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 پہلی آیت میں مومن و کافر کا ذکر تھا اب مطلق مومن اور کافر کی جزاو سزا بطور قاعدہ کلیہ کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ ایمان کی طرف پوری ترغیب اور کفر سے پوری ترہیب ہوجائے۔ 7 یعنی کافروں کے عذاب میں نقصان اور کمی نہ آنے کی غرض سے ان کی کھال کے جل جانے کے وقت دوسری کھال بدل دی جائے گی مطلب یہ ہوا کہ کافر ہمیشہ عذاب میں یکساں مبتلا رہیں گے۔ 8 یعنی اللہ تعالیٰ بیشک زبردست اور غالب ہے کافروں کو ایسی سزا دینے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں اور حکمت والا ہے کافروں کو یہ سزا دینی عین حکمت کے موافق ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے جسے میڈیکل سائنس نے دریافت کیا ہے کہ درد کا احساس انسان کی کھال skin ہی میں ہے۔ اس کے نیچے گوشت اور عضلات وغیرہ میں درد کا احساس نہیں ہے۔ کسی کو چٹکی کاٹی جائے ‘ کانٹا چبھے ‘ چوٹ لگے یا کوئی حصہ جل جائے تو تکلیف اور درد کا سارا احساس جلد ہی میں ہوتا ہے۔ چناچہ ان جہنمیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب بھی ان کی کھال آتش جہنم سے جل جائے گی تو اس کی جگہ نئی کھال دے دی جائے گی تاکہ ان کی تکلیف اور سوزش مسلسل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–57

88 کھالوں کی تبدیلی اس لیے کی جائے گی کہ ان کی تکلیف میں کمی کی بجائے کچھ اضافہ ہی ہوتا رہے کیونکہ جلی ہوئی کھال کو جلانے سے تکلیف نسبتاً کم ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

173 ۔ آیت کا مقصود اہل دوزخ کے دوام عذاب کا اعلان ہے۔ (آیت) ” نضجت “۔ نضج کے لفظی معنی پک جانے کے ہیں۔ یہاں مراد جل چکنے سے ہے مقصود یہاں یہی ہے کہ عذاب منقطع نہ ہوگا۔ اور احساس عذاب ہمیشہ تازہ ہوتا رہے گا۔ یمکن ان یقال ھذا استعارۃ عن الدوام وعدم الانقطاع (کبیر) المقصود بیان دوام العذاب وعدم انقطاعھا (کبیر) صاحب بحر نے بھی اس قول کو نقل کیا ہے اگرچہ قبول نہیں کیا ہے۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ کھال جب جل جائے گی تو اس میں مزید الم کا ادراک ہی کہاں باقی رہے گا، نہیں بلکہ کھال کا احساس ہر دم تازہ ہوتا رہے گا اور جلد بےحس کبھی بھی نہ ہونے پائے گی، ، آخرت میں خواص اشیاء کو دنیا کے خواص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–57

ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین کفروا باتینا سوف نصلیہم نارا . جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا بلاشبہ ہم ان کو آگ میں جھونک دیں گے اس آیت کا مفہوم سابق آیت کے مفہوم کی توصیح اور تاکید کی طرح ہے۔ کلما نضبحت جلودہم بدلنہم جلودا غیرہا . ہر دفعہ جب ان کی کھال جل چکے گی تو ہم فوراً پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال بنا دیں گے یعنی کھال تو وہی ہوگی دوبارہ اس کی نئی صورت بنا دی جائے گی جیسے عرب کہتے ہیں بَدَّلْتُ الْخَاتَمَ قُرْطًا میں نے انگوٹھی کو بالی کی شکل سے بدل دیا یعنی انگوٹھی کی شکل نہ رہی بالی کی ہوگئی۔ یا یہ مراد ہے کہ جلنے کا اثر کھال سے دور کردیا جائے گا تاکہ دوبارہ عذاب کا احساس (کھال میں) پیدا ہوجائے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، ہم آخرت میں ان کو دوزخ میں داخل کریں گے، جب ان کے بدن جل جائیں گے تو ہم انہیں دوسری کھالیں دیں گے تاکہ درد کی شدت معلوم ہو، اللہ تعالیٰ ان کھالوں کی تبدیلی کرنے میں بڑی حکمت والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا : یہاں بتایا کہ یہ سزا اہل کتاب کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ سب کفار کو ملے گی۔ (رازی) (بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا) سے اہل جہنم کے عذاب کی سختی بیان کرنا مقصود ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اتنی تیز آگ میں ان کے چمڑے ایک ایک لمحے میں کتنی کتنی بار جل کر دوبارہ تبدیل ہوں گے، البتہ یہ تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جہنمیوں کا جسم بہت بڑھا دیا جائے گا، حدیث میں ہے : ”کافر کے کان کی کونپل اور کندھے کے درمیان ستر سال کا فاصلہ ہوگا۔“ [ أحمد (2؍116، 117، ح : 24909 و سندہ صحیح۔ ہدایۃ المستنیر ھدایۃ المستنیر ] اور اسی طرح فرمایا : ”کافر کی داڑھ احد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–57

آیت نمبر : 56 تا 57۔ الاصلاء کا معنی اس سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے، حمید بن قیس نے نون کے فتحہ کے ساتھ نصلیھم پڑھا ہے یعنی ہم انہیں بھون دیں گے، کہا جاتا ہے : شاہ مصلیۃ (بھونی ہوئی بکری) نارا اس قرات پر حرف جر کے حذف کے ساتھ ہے تقدیر عبارت بنار ہوگی۔ (آیت) ” کلما نضجت جلودھم “۔ کہا جاتا ہے : نضج الشیء نضجا ونضجا فلان نضیج الراء یعنی وہ پختہ رائے والا ہے، آیت کا معنی ہے ہم انہیں دوسری کھالیں تبدیل کردیں گے، زنادقۃ میں سے جو قرآن پر طعن کرتے ہیں اگر وہ کہیں کہ جلد کو کیسے عذاب دیا جائے گا جب اس نے گناہ کیا ہی نہیں، اسے کہا جائے گا جلد کو عذاب و عقاب نہیں کیا گیا حقیقت تکلیف نفوس پر واقع ہے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 56–57

کافروں پر عذاب کی شدت (1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ثوبر کے طریق سے ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ان کی کھالیں بدل دیں گے جو کاغذ کی طرح سفید ہوں گی۔ (2) طبرانی نے اوسط میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ نافع کے طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ کے پاس یہ آیت ” کلما نضجت جلودہم بدلنہم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب “ پڑھی گئی تو معاذ نے فرمایا میرے پاس اس کی تفسیر ہے یعنی ایک گھڑی میں سو مرتبہ ان کی کھال بدل جائے گی۔ عمر ؓ نے فرمایا میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ (3) ابن مردویہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : انکار کیا ] [ بِاٰیٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [ سَوْفَ : عنقریب ] [ نُصْلِیْہِمْ : ہم ڈالیں گے ان کو ] [ نَارًا : ایک آگ میں ] [ کُلَّمَا : جب کبھی بھی ] [ نَضِجَتْ : پک جائیں گی ] [ جُلُوْدُہُمْ : ان کی کھالیں ] [ بَدَّلْنٰہُمْ : تو ہم تبدیل کردیں گے ان کو (یعنی ان کے لیے) ] [ جُلُوْدًا : کھالوں کو ] [ غَیْرَہَا : ان کے (یعنی پہلی کھالوں کے) علاوہ ] [ لِیَذُوْقُوا : تاکہ وہ لوگ چکھیں ] [ الْعَذَابَ : عذاب کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ] ن ض ج نَضِجَ ۔ یَنْضَجُ (س)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کو دوزخ میں سخت عذاب، کھالوں کا بار بار جلنا اور بار بار نئی کھال پیدا ہونا اور اہل ایمان کا جنتوں میں عیش کرنا اوپر مومنین اور منکرین کا ذکر تھا۔ اب یہاں کافروں کا عتاب اور مومنین کا ثواب ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلی آیت میں کافروں کے سخت عذاب کا اور دوسری آیت میں اہل ایمان کا اجر وثواب اور انعامات کا ذکر ہے۔ کافروں کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ ہم ان کو آگ میں داخل کردیں گے یہ آگ معمولی نہ ہوگی بہت بڑی آگ ہوگی جس پر لفظ ناراً کی تنوین دلالت کرتی ہے اور سورة اعلیٰ میں اس آگ کے بارے میں فرمایا (یَصْلَی النَّارَ الْکُبْریٰ ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–57

مذمت یہود بربخل وحسد۔ قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔ ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–57

ف 42 :۔ یہاں بیان فرمایا کہ اہل کتاب دو قسم کے لوگ تھے کچھ تو وہ تھے جو ایمان لاچکے تھے اور کچھ ایسے تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ ناراً الخ یہ منکرین اہل کتاب کیلئے اخروی تخویف ہے اور وَالَّذِیْن اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰت سَنُدْخِلُھُمْ الخ مومنین اہل کتاب کیلئے اخروی بشارت ہے یہاں تک احکام رعیت تھے اب احکام سلطانیہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–57

ربط آیات گزشتہ آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بعض قباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ، انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور دین میں طعن بھی کی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ اگر آپ بھی ایمان نہیں لائیں گے ، پھر ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت برسیگی ، بالکل اسی طرح جیسے سبت یعنی ہفتہ کے دن والوں پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مزید خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ جبت اور طاغوت کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر جیسی باطل چیزوں اور شیطان کے پیروکار ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْہِمْ نَارًا۝ 0ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا۝ 56 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–57

ترکیب : من امن مبتدا منہم خبر مقدممجموعہ جملہ پر داخل ہے۔ سوف نصلیہم جملہ خبر کلمہ شرط ‘ بدلنہم جواب والذین الخ مبتداء سند خلہم خبر لہم فیہا الخ جملہ لغت یا حال ہے۔ تفسیر : یہ اسی بیان کا تتمہ ہے کہ باوجود اس کے ہم نے خاندان ابراہیم (علیہ السلام) کو خصوصاً نسل اسحاق و اسرائیل کو کتاب یعنی ظاہر شریعت و حکمت یعنی علم اسرار اور ملک عظیم یعنی قدرت دی تھی۔ اس پر بھی ان میں سے کچھ لوگ تو خدا پرست تھے اور کچھ منکر اور مخالف رہے (جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل سے واضح ہوتا ہے) پھر جب ان کا اپنے ایسے انبیاء کی نسبت یہ حال تھا تو اے محمد ﷺ آپ کی نسبت انکار اور نکتہ چینی جس قدر ہو وہ اس بدبخت قوم کے حسد کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰـتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَارًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰـھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، ہم ان کو آگ میں جھونک دیں گے۔ جس وقت جل جائیں گی ان کی کھالیں، تو ہم ان کو بدل دیں گے دوسری کھالیں تاکہ چکھتے رہیں عذاب۔ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے) (النسآء : 56) ایمان نہ لانے والوں کا انجام اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے قیامت کے دن جو سلوک ہوگا اس کی ایک جھلک دکھائی جارہی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت میں ڈوب جانے والے اور محض…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب بالخصوص یہودی حسد کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے ہیں لہٰذاحاسدوں اور منکروں کا انجام بیان ہوتا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا یہ مستقل اسلوب ہے کہ برے لوگوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اور جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کی عطاؤں کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے انجام کا موقع پر ہی فیصلہ کرسکے۔ چناچہ جو لوگ کفر کی حالت میں کوچ کریں گے وہ مرنے کے بعد جہنم کے گھاٹ اتریں گے۔ جہاں ان کو آگ میں جلایا جاتا رہے گا۔ جب ان کی چمڑیاں جل جائیں گی تو سزا کے لیے ان کے جسموں کو باربار تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان کو پوری پوری سزا مل سکے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 56 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ (بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہماری آیات کے ساتھ عنقریب ہم انکو داخل کرینگے) ۔ نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا۔ (آگ میں۔ ہر دفعہ جب ان کی کھال جل جائے گی۔ تو ہم پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال بنادیں گے) نَضجت کا معنی جلنا۔ بَدّلناجلودًا غیرہا کا معنی ان کھالوں کو ان جلی کھالوں سے بدلنا ہے۔ پس تبدیلی اور تغیر دونوں ہئیتوں کے مختلف ہونے کے ساتھ ہوگی، نہ کہ اصل کی تبدیلی کے ساتھ۔ اہل حق کا یہی مسلک ہے۔ فرقہ کر امیہ کا اس میں اختلاف ہے۔ فضیل (رح) کہتے ہیں جلی کو ان جلی بنادیا جائے گا۔ لِیَذُوْقُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

56۔ (آیت)” ان الذین کفروا باایاتنا سوف نصلیھم نارا “۔ یعنی ہم ان کو آگ میں داخل کردیں گے ۔ (آیت)” کلما نضجت “۔ جب ان کو جلایا جائے گا (آیت)” جلودھم بدلناھم جلودا غیرھا “۔ اس جلی ہوئی کھال کی علاوہ ۔ (کلما نضجت جلودھم “۔ کی تشریح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کاغذ کی طرح ان کی کھالیں سفید کردی جائیں گی ۔ اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس آیت کے پڑھنے والے کو کہ اس آیت کو بار بار پڑھئے اور ان کے پاس حضرت معاذ بن جبل ؓ بھی موجود تھے ، معاذ ؓ نے فرمایا کہ کیا اس کی تفسیر معلوم ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک ساعت میں سو بار کھال تبدیل کی جائے گی ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 56–57

(56 ۔ 57) ۔ اوپر ذکر تھا کہ بدلوگوں کے لئے جہنم کی دہکتی آگ کی سزا کافی ہے اس پر یہ خیال گذر سکتا تھا کہ جب ایک دفعہ دہکتی آگ میں دوخیوں کا گوشت پوست جل جائے گا۔ تو پھر اسی جلی ہوئی کھال پر شاید آگ کی تکلیف کچھ کم ہوجائے گی کیونکہ جلی کھائی مردار ہوجاتی ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ کی آیتوں کے منکر لوگوں کی کھال جب دوزخ میں جل کر مردار ہوجائے گی تو عذاب کی تکلیف قائم رہنے کے لئے فورًا تازہ کھال بدل جائے گی۔ بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑی سی دیر میں دوزخیوں کی کھائیں کئی دفعہ بدلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–57

آیت 51-57 یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 56–57

قول باری ہے (کلمانضجت جلودھم بدلنا ھم جلوداغیرھا، جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے اللہ تعالیٰ جل جانے والی کھالوں کی جگہ نئی کھالیں پیدا کردے گا، اس تفسیر کے قائلین وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کھال انسان کا حصہ نہیں ہوتی ، بلکہ گوشت اور ہڈیاں بھی انسان کی جز نہیں ہوتیں، انسان اس روح کا نام ہے جس نے اس بدن کو اپنالباس بنارکھا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کھال انسان کا حصہ ہے اور انسان سر سے پیر تک موجود شخص کا نام ہے اس کے نزدیک آیت زیر بحث کی تفسیر یہ ہے کہ کھالوں کی اس طرح تجدید ہوگی کہ انہیں اس حالت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

132 جنت کی بیویوں کی عظمت شان کا ایک پہلو : کہ ان کو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ سو " طاہرہ " اور " مطہرہ " میں فرق ہے اور یہاں پر " طاہرہ " نہیں " مطہرہ " فرمایا گیا ہے، جو کہ اسم مفعول ہے تطہیر سے۔ جس کے معنیٰ پاک کرنے کے آتے ہیں۔ یعنی جنت کی ان عورتوں کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و صاف کردیا گیا ہوگا، جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی تفصیل و تصریح مذکور و موجود ہے۔ پس عام طور پر اس کا جو ترجمہ پاکیزہ بیویوں جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا اس لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے۔ دونوں کا فرق واضح ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

دوزخ کا عذاب تشریح : اس آیت میں اس بھڑکتی ہوئی آگ اور منکریں کے عذاب کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ بڑی سخت تیز ہوگی وہ ان کے جسم کی جلد کو فوراً جلا ڈالے گی اور اللہ رب العزت ان کی جلد کو دوبارہ بحال کر دے گا، پھر جلائی جائے گی، یہ عمل باربار دہرایا جائے گا تاکہ عذاب کی شدت میں کمی نہ آئے اور وہ عذاب کا پورا پورا مزہ چکھیں۔ اللہ جل شانہ زبردست حکمت والا ہے اسی لیے وہ خوب جانتا ہے کہ ان کو کس طرح اور کس قدر عذاب دیا جائے ؟ اس آیت میں خاص حکمت کی بات یہ بیان کی گئی ہے جو کہ فرانس کے مشہور سائنسدان اور سرجن ڈاکٹر مورس بوکائے نے اپنی کتاب ” بائبل قرآن اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–57

آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 55–56

ف 2 اٰ من بہ میں بہ کی ضمیر ایتا کی طرف بھی راجع کرسکتی ہے جو اتینا سے مفہوم ہوتا ہے یعنی بعض تو اس ایتا انعام پر ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا اور لوگوں کو بھی روکنے کوشش کی، لہذ آپ ﷺ نے ان کے کفر سے لگیر نہ ہوں (ابن کثیر) اور اگر اس ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو مانا چائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود یہود میں سے کچھ لوگ تو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں بھی روکنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے۔ ْ ( فتح القدیر۔ کبیر) یہاں بتا کہ یہ سزا صرف اہل کتاب کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ سب کفار کو ملے گی ، (کبیر) بدلناھم جود اغیر ھا سے اہل جہنم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:56) نصلیہم۔ ہم ان کو داخل کریں گے۔ نیز ملاحظہ ہو (4:30) کلما۔ کل اور ما سے مرکب ہے۔ اس ترکیب میں ظرفیت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے۔ اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدر ہی ہے یا اسم نکرہ ہے۔ بمعنی وقت کے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ کلما اضاء لہم مشوا فیہا (2:20) اور آیۃ ہذا۔ نضجت۔ واحد مؤنث غائب۔ ماضی معروف نضج مصدر (سمع) پک جائیں گی (ان کی کھالیں) ناضج۔ پکا ہوا گوشت۔ پکا ہوا پھل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–57

آیت نمبر 51-57 لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔ لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔ تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی دیر میں دوزخیوں کی کھالین کئیی دفعہ بدلی جاویں گی ، یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے منکر ہونے کے سبب سے ت ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں ۔ جو لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہونے والے ہیں ان کی کھال نہیں بدلی جاوے گی بلکہ وہ ایک دفعہ کے جلنے مین فردر کوئلے ہوجائیں گے ۔ پھر ان کوئلوں کو نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جس سے وہ زندہ ہوجائیں گے اور پھر ان کو جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 55–57

[46] مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آل ابراہیم کو بہت سی دینی اور دنیوی نعمتیں دیں تو ان کے زمانے کے لوگ بھی بعض تو ایمان لائے اور بعض کافر رہے اب محمد ﷺ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کو بھی اللہ نے پیغمبری اور قرآن و سلطنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ غرض آل ابراہیم سے ہمیشہ حسد کیا جاتا رہا ہے اور لوگوں کے حسد سے نہ ان کا کچھ پہلے بگڑا اور نہ اب بگڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 3) مقصد یہ ہے کہ مجرموں کی سزائیں تجدید پذیر ہوتی رہیں گی اور ہر گاہ انہیں تکلیف محسوس ہوتی رہے گی ، قیامت کے دن ہمیں ایک خاص قسم کا جسم عنایت کیا جائے گا جو تفخصات وتعینات کے اعتبار سے بالکل ہمارا یہی جسم ہوگا ۔ مگر بعض خصوصیات اس میں زائد ہوں گی اور انہیں خصوصیات کے مطابق جن کی تفصیل ہم اس دنیا میں نہیں جان سکتے ، وہ اجسام عذاب وثواب کے متحمل ہوں گے ، (آیت) ” سوف نصلیھم “۔ سے مراد تحقیق وقوع ہے یعنی یہ عذاب ضرور آکے رہے گا ، اس کے وقوع وتحقق میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔ حل لغات : ملک : بادشاہی ۔ حکومت ، سعیرا : بھڑکتا ہوا ۔ جلود : جمع جلد ، کھلڑی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف پھر ان لوگوں میں سے کچھ تو اس کتاب اور حکمت پر ایمان لے آئے اور کچھ لوگ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے رہے ایسے منکروں کے لئے دوزخ کی تیز آگ سزا کو کافی ہے۔ یقین جانو ! جن لوگوں نے ہماری آیات و احکام کو قبول کرنے سے انکار کیا تو ہم ان کو مستقبل قریب میں ایک تیز آگ میں داخل کریں گے جہاں ان کی برابر یہ حالات رہے گی کہ جب کبھی بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کھالوں کی جگہ اور دوسری کھالیں بدل دیں گے خواہ ایک دن میں کتنی ہی بار یہ واقعہ پیش آئے تاکہ وہ برابر عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کمال قوت کا اور کمال حکمت کا مالک ہے وہ ہر جلی ہوئی کھال کو بدل سکتا ہے اور یہ دوسری کھال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کیونکہ پہلی کھال میں جلنے کے بعد شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید اس میں ادراک نہ رہے اس لیے شبہ قطع کرنے کے لیے یہ سنا دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین کے عذاب کی کیفیت کا ایک منظر : 108: عذاب الٰہی کی مختلف کیفیتیں قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں اور ہر ایک کیفیت اپنے اندر ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ اس جگہ جس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان کی جلدیں یعنی کھالیں جھلس جائیں گی اور پھر ان کو بدل دیا جائے گا اور اس طرح وہ پھر جھلس جائیں گی اور عذاب کی یہ کیفیت ہمیشہ اس طرح قائم رہے گی تاکہ ان کا عذاب تازہ ہوتا رہے اور وہ برابر اس تکلیف میں مبتلا رہیں کیونکہ وہ دنیوی زندگی میں جو مخالفت کرتے تھے تو مسلسل کئے ہی جاتے تھے گویا مخالفت کی انہوں نے قسم کھائی تھی کہ کوئی وجہ بظاہر اگرچہ مخالفت کی نہ تھی لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–57

Particular believers and disbelievers were mentioned in the previous verses. Stated now is the reward and punishment of a believer and a disbeliever as a universal rule. Commentary Explaining the highly apocalyptic statement كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ in verse 56, Sayyidna Mu` adh ؓ says that as soon as their skin is burnt out it will be replaced - and this will be with such speed that the skin will be replaced a hundred times in one moment. Sayyidna Hasan al-Basri (رح) says: تاکل النار کلّ یوم سبعین الف مرّۃ کلما اکلتھم قیل لھم : عودوا فیعودون کما کانوا (اخرج البیھقی عین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–57

87. This is in response to the malicious remarks of the Israelites. What is being said is that they had no reason to feel jealous since both the Israelites and Ishmaelites were offspring of the same Abraham. Now, the leadership of the world had been promised only to those children of Abraham who followed the Book and Wisdom revealed by God. The Book and Wisdom had been sent down earlier to the Israelites, and to their discredit they had turned away from them. The same Book and Wisdom had now been made available to the Ishmaelites and they had decided to greet it with faith and gratitude.

Read the full tafseer →