Explained with ayahs 53–55
یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا
یہاں بطور انکار کے سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک کے کسی حصہ کے مالک ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے کے دوا دار نہ ہوتے خصوصاً اللہ کے اس آخری پیغمبر ﷺ کو اتنا بھی نہ دیتے جتنا کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا پردہ ہوتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا) 17۔ الاسراء :100) یعنی اگر تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم تو خرچ ہوجانے کے خوف سے بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
سورة النِّسَآء 87
یاد رہے کہ یہاں جواب بنی اسرائیل کی حاسدانہ باتوں کا دیا جا رہا ہے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ آخر جلتے کس بات پر ہو ؟ تم بھی ابراہیم کی اولاد ہو اور یہ بنی اسماعیل بھی ابراہیم ہی کی اولاد ہیں۔ ابراہیم سے دنیا کی امامت کا جو وعدہ ہم نے کیا تھا وہ آل ابراہیم میں سے صرف ان لوگوں کے لیے تھا جو ہماری بھیجی ہوئی کتاب اور حکمت کی پیروی کریں۔ یہ کتاب اور حکمت پہلے ہم نے تمہارے پاس بھیجی تھی مگر تمہاری اپنی نالائقی تھی کہ تم اس سے منہ موڑ گئے۔ اب وہی چیز ہم نے بنی اسماعیل کو دی ہے اور یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
معاف و مسائل
یہودیوں کے حسد کرنے پر شدید مذمت
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جو علم و فضل اور جاہ و جلال عطا کیا تھا، اس پر یہودی جلتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 35، 45 میں ان کے اسی حسد و بغض کی شدید مذمت کی ہے اور ان کے حسد کو نامعقول قرار دیتے ہوئے دو وجہیں بیان کی ہیں ایک وجہ آیت نمبر 35 میں بیان کی اور دوسری آیت نمبر 45 میں، لیکن دونوں کا حاصل ایک ہے، یعنی تمہارا حسد کس بات پر ہے اگر اس پر ہے کہ اصل صاحب سلطنت تم ہو تمہاری ہی سلطنت ان کو مل گئی، اس کا غلط ہونا تو کھلا ہوا ہے کہ تم سلطنت سے خود محروم ہو اور تمہیں کچھ حصہ سلطنت کا مل جاتا تو تم ایک کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے اور اگر تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
بنی اسمعیل کو تنبیہ : فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ ۭوَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيْرًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا۔ یہ آیات (55 تا 58) بنی اسماعیل سے متعلق ہیں۔ فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ تو اس کتاب و حکمت کو قبول کر کے ایمان سے مشرف ہوچکا ہے لیکن ایک گروہ ابھی اس سے روگردان ہے۔ اس گروہ کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ اپنے کفر پر اڑا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا جہاں ان کے عذاب میں کوئی…
Read the full tafseer →55۔ 1 یعنی بنو اسرائیل کو، جو حضرت ابراہیم ؑ کی ذریت اور آل میں سے ہیں، ہم نے نبوت بھی دی اور بڑی سلطنت و بادشاہی بھی۔ پھر بھی یہود کے سارے لوگ ان پر ایمان نہیں لائے۔ کچھ ایمان لائے اور کچھ نے اعراض کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ ! اگر یہ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لا رہے تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ان کی تو تاریخ ہی نبیوں کی تکذیب سے بھری پڑی ہے حتّیٰ کہ اپنی نسل کے نبیوں پر بھی ایمان نہیں لائے۔ ان یہود میں سے کچھ نبی ﷺ پر ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ ان منکرین نبوت کا انجام جہنم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
39: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے ؛ چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا ؛ چنانچہ ان میں بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے، اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب ؑ) کی اولاد میں نبوت جاری رہی ہے، اب اگر ان کے دوسرے صاحب زادے (حضرت اسماعیل ؑ) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے…
Read the full tafseer →5 یعنی حضرت ابراہیم کے گھرانے میں خدائے تعالیٰ نے ہمیشہ سے بزرگی دی ہے اور اب بھی اسی کے گھرانے میں ہے۔ سو جو کوئی بلاوجہ محض حسد سے اس کو نہ مانے اس کے جلانے کے لئے دوزخ کی بھڑکتی آگ کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت 54 اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآاٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج
دراصل یہ سب اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان امیین میں اپنا آخری نبی ‘ بھیج دیا اور انہیں اپنی آخری کتاب عطا فرما دی جنہیں یہ حقیر سمجھتے تھے۔ اب یہ اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔
فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا۔
یعنی تمہیں بھی اگر تورات اور انجیل ملی تھی تو ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کے ناتے سے ملی تھی ‘ تو یہ جو اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہے یہ بھی تو ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسل ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت علیحدہ…
Read the full tafseer →87 اس آیت کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسحاق کی اولاد میں سے جو انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں ان سب پر بھی یہود ایمان نہیں لائے تھے، بہت سے انبیاء کا انکار کردیا اور بہت سے نبیوں کو قتل بھی کردیا۔ اس لحاظ سے اس آیت کے مخاطب صرف یہود ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر بنو اسحاق کی بجائے آل ابراہیم ہی سمجھا جائے تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے تو بنو اسماعیل تھے اور انکار کرنے والے بنو اسحاق یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ بہرحال جو بھی انبیاء کی دعوت سے انکار کرتا رہا یا دوسروں کو روکتا رہا اس کو لازماً عذاب اخروی سے دو چار ہونا پڑے گا اور اپنے اپنے جرائم کے مطابق اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔…
Read the full tafseer →172 ۔ (سو دنیا میں سزا ملنا نہ ملنا چنداں قابل التفات نہیں) (آیت) ” من امن بہ “ میں ضمیر کس طرح ہے ؟ بعض نے مراد کتاب لی ہے۔ بعض نے وہ سارا فقرہ جو آل ابراہیم سے متعلق گزرا ہے اور بعض نے ذات محمدی ﷺ کو، ماحصل تینوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ من امن بالکتب (بحر) بمحمد ﷺ او بما ذکر من حدیث ال ابراھیم (بیضاوی) یعنی بالنبی ﷺ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →فمنہم من امن بہ . پس کچھ یہودی تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔ یا یہ مراد ہے کہ نسل ابراہیمی کو نبوت حکمت اور سلطنت عطا کرنے کا جو ذکر کیا گیا کچھ یہودیوں نے تو اس کی تصدیق کی۔
ومنہم من صد عنہ . اور کچھ یہودیوں نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا نہ مانا۔ سدی نے لکھا ہے کہ بہ اور عنہ کی ضمیریں ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں (یعنی کچھ لوگ ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لائے اور کچھ نہ لائے) بات یہ ہوئی کہ ایک بار حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کھیتی بوئی اور دوسرے لوگوں نے بھی بوئی (اوروں کی کھیتیاں تو تباہ ہوگئیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کھیتی خوب…
Read the full tafseer →(55) یعنی داؤد ؑ و سلیمان ؑ کی کتاب پر ایمان لائے ہیں، مگر کعب اور اس کے ساتھیوں کے لیے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے۔
Read the full tafseer →”اٰمَنَ بِهٖ“ میں ”بہ“ کی ضمیر ”اِیْتَاءٌ“ کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے جو ”آتَیْنَا“ سے مفہوم ہوتا ہے، یعنی بعض تو اس ایتائے انعام (انعام دینے) پر ایمان لے آئے اور بعض اس سے منہ موڑ گئے اور لوگوں کو بھی روکنے کی کوشش کی (صَدَّ عَنْهُ کے دونوں معنی ہیں، منہ موڑنا اور روکنا) لہٰذا آپ ان کے کفر سے دل گیر نہ ہوں۔ (ابن کثیر) اگر اس ضمیر کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو مانا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود یہود میں سے کچھ لوگ تو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے، لیکن اکثر نہ صرف خود ایمان نہیں لائے بلکہ جو ایمان لانا چاہتے ہیں انھیں بھی روکنا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے۔ (فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت نمبر : 54، تا 55)
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ام یحسدون “ اس سے مراد یہود ہیں، ” الناس “ سے مراد خاص نبی مکرم ﷺ ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ وغیرہما سے روایت ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبی مکرم ﷺ سے نبوت ملنے پر حسد کیا تھا آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر حسد کیا تھا ان کے ایمان لانے پر، قتادہ ؓ نے کہا : ” الناس “ سے مراد عرب ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبوت کی وجہ سے ان سے حسد کیا، ضحاک ؓ نے کہا : یہود نے قریش سے حسد کیا، کیونکہ ان میں نبوت تھی، حسد مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے مراد یہودی ہیں۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب نے کہا محمد ﷺ کا گمان ہے کہ ان کو ان کی تواضع کا حکم دیا گیا حالانکہ ان کو تو عورتیں ہیں اور ان کا مقصد ہی نکاح کرنا ہے کون ان سے بڑا بادشاہ ہوگا تو اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے لے کر ” ملکا عظیما “ تک اور اس سے مراد سلیمان (علیہ السلام) کا ملک ہے۔
(3) ابن المنذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا تم گمان کرتے ہو کہ محمد ﷺ تواضع کا…
Read the full tafseer →[ فَمِنْہُمْ مَّنْ : تو ان میں وہ بھی ہیں جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لائے ] [ بِہٖ : اس پر ] [ وَمِنْہُمْ مَّنْ : اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] [ صَدَّ : رکے رہے ] [ عَنْہُ : اس سے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِجَہَنَّمَ : جہنم ] [ سَعِیْرًا : بطور شعلوں والی آگ کے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ ) (الایۃ) یعنی ان لوگوں میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا۔ صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آل ابراہیم کو جو کچھ کتاب و حکمت دی گئی بعض اس پر ایمان لے آئے اور بعض منکر ہوئے اسی طرح آپ کے زمانہ کے لوگ بعض ایسے ہیں جو ایمان لے آئے اور بعض ایسے ہیں جو اعراض کر رہے ہیں۔ یہ پہلے سے ہوتا آیا ہے آپ رنجیدہ نہ ہوں جو لوگ منکر ہیں ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ ہے جو ان کے لیے کافی ہے۔ ان کی ساری شرارتوں اور حرکتوں پر انہیں سخت ترین عذاب مل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
مذمت یہود بربخل وحسد۔
قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 42 :۔ یہاں بیان فرمایا کہ اہل کتاب دو قسم کے لوگ تھے کچھ تو وہ تھے جو ایمان لاچکے تھے اور کچھ ایسے تھے جو ایمان نہیں لائے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ ناراً الخ یہ منکرین اہل کتاب کیلئے اخروی تخویف ہے اور وَالَّذِیْن اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰت سَنُدْخِلُھُمْ الخ مومنین اہل کتاب کیلئے اخروی بشارت ہے یہاں تک احکام رعیت تھے اب احکام سلطانیہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بعض قباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ، انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور دین میں طعن بھی کی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ اگر آپ بھی ایمان نہیں لائیں گے ، پھر ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت برسیگی ، بالکل اسی طرح جیسے سبت یعنی ہفتہ کے دن والوں پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مزید خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ جبت اور طاغوت کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر جیسی باطل چیزوں اور شیطان کے پیروکار ہیں۔…
Read the full tafseer →فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ 0ۭ وَكَفٰى بِجَہَنَّمَ سَعِيْرًا 55
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ترکیب : من امن مبتدا منہم خبر مقدممجموعہ جملہ پر داخل ہے۔ سوف نصلیہم جملہ خبر کلمہ شرط ‘ بدلنہم جواب والذین الخ مبتداء سند خلہم خبر لہم فیہا الخ جملہ لغت یا حال ہے۔
تفسیر : یہ اسی بیان کا تتمہ ہے کہ باوجود اس کے ہم نے خاندان ابراہیم (علیہ السلام) کو خصوصاً نسل اسحاق و اسرائیل کو کتاب یعنی ظاہر شریعت و حکمت یعنی علم اسرار اور ملک عظیم یعنی قدرت دی تھی۔ اس پر بھی ان میں سے کچھ لوگ تو خدا پرست تھے اور کچھ منکر اور مخالف رہے (جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل سے واضح ہوتا ہے) پھر جب ان کا اپنے ایسے انبیاء کی نسبت یہ حال تھا تو اے محمد ﷺ آپ کی نسبت انکار اور نکتہ چینی جس قدر ہو وہ اس بدبخت قوم کے حسد کے…
Read the full tafseer →فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ ط وَکَفٰی بِجَھَنَّمَ سَعِیْرًا
(پس ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اس پر ایمان لائے اور ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس سے منہ موڑا اور ایسوں کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) (النسآء : 55)
یہاں آل اسماعیل مراد ہیں
اس آیت کریمہ کا تعلق آل اسماعیل سے ہے۔ آل اسماعیل میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جو اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوا جنھیں ہم اصحابِ رسول ﷺ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ مکہ معظمہ سے آنے والے مہاجرین بھی ہیں اور مدینہ منورہ کے انصار بھی اور یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کی نشرواشاعت اس کی حفاظت اس کے غلبے بالآخر نظام ِ زندگی کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ابھی تو یہودیوں کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار نہیں۔ اگر ان کے پاس اقتدار اور اختیار ہو تو یہ کسی کو دمڑی بھی نہ دیں اور نہ ہی کسی کو دم مارنے دیں۔ اہل کتاب رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے یتیم کو نبوت کا تاج اور قوموں کی قیادت کیوں عطا فرمائی ہے جو روز بروز عملاً غلبہ پارہی ہے۔ یہ جس قدر چاہیں حسد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو عزت و عظمت، امامت و قیادت اور دین کو غلبہ دے گا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو امامت و حکومت اور نبوت عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے…
Read the full tafseer →آیت 55 : فَمِنْہُمْ مَّنْ ٰامَنَ بِہٖ (پس ان میں سے کچھ تو ایمان لائے) اس پر یعنی یہود میں کچھ لوگوں نے آل ابراہیم والی بات پر یقین کرلیا۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ (اور کچھ نے اس سے منہ پھیرلیا) باوجودیکہ وہ اس کے صحیح ہونے کا یقین رکھتے تھے۔
دوسری تفسیر :
ان یہود میں سے کچھ تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور بعض نے اس نبوت کو اوپر اقرار دے کر انکار کی ٹھان لی۔
وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیْرًا (جہنم کی بھڑکتی آگ ان کے لئے کافی ہے) جو ایمان لانے سے باز رہے۔
Read the full tafseer →55۔ (آیت)” فمنھم من امن بہ “۔ یعنی محمد ﷺ پر ایمان لائے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔ (آیت)” ومنھم من صد عنہ “۔ انہوں نے منہ موڑ لیا اور ایمان نہ لائے (آیت)” وکفی بجھنم سعیرا “۔ دھکتی ہوئی آگ ، بعض نے کہا کہ بڑی بادشاہت ہے۔
جو بادشاہت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دی گئی اور سدی (رح) کا قول ہے کہ ” بہ “ اور ” عنہ “ کی ضمیریں ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک دفعہ کھیتی کاشت کی اور دوسرے لوگوں نے بھی کھیتی کاشت کی ، لوگوں کی کھیتی تو تباہ ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کھیتی باقی رہی ، لوگ محتاج ہو کر آپ کے پاس آئے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
(53 ۔ 55) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہود کو یہاں تک دشمنی تھی کہ یہ لوگ قریش کو احزاب کی لڑائی پر آمادہ کرنے کے لئے اطراف مدینہ سے سفر کر کے مکہ گئے ان آیتوں میں فرمایا یہود کیہ یہ دشمنی فقط اس سبب سے ہے کہ نبی آخر الزماں بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحاق میں سے کیوں نہیں ہوئے حالانکہ بنی اسحاق اور بنی اسماعیل دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اب ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے سے نبی آخر الزماں کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت 51-57
یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
قول باری ہے (ام یحسدون الناس علی مااتاھم اللہ من فضلہ) پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے ) حضرت ابن عباس مجاہد ضحاک سدی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہاں الناس سے مراد صرف رسول اللہ کی ذات اقدس ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد عرب کے لوگ ہیں کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد حضور اور آپ کے صحابہ ہیں یہ تاویل بہتر ہے کیونکہ خطاب کی ابتداء میں یہود کا ذکر ہے اور یہ لوگ اس سے قبل اپنی کتابوں میں حضور کی بعثت آپ کے اوصاف ، اور آپ کی نبوت کے حالات کے متعلق پڑھا کرتے تھے۔
بلکہ یہ لوگ آخری نبی کی بعثت پر عربوں کو قتل کی دھمکی دیتے تھے اس لیی کہ ان کے خیال میں…
Read the full tafseer →131 اعجاز قرآنی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ درد و الم کا تعلق صرف ظاہری جسم اور کھال سے ہوتا ہے سو یہ قرآن حکیم کے اعجاز کا ایک اور نمونہ و مظہر ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ درد والم کے احساس کا اصل تعلق جلد اور کھال ہی سے ہے۔ اسی لئے ان لوگوں کی کھالیں بدلی جاتی رہینگی، تاکہ یہ عذاب کا مزہ برابر چکھتے ہی رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس بات کا علم سائنسی ایجاد و تحقیق کو اب کہیں جا کر ہوا ہے، کہ درد و الم اور احساس کا تعلق ظاہری جسم اور کھال سے ہی ہوتا ہے، لیکن قرآن حکیم نے پندرہ سو سال قبل اس کی خبر کردی تھی ۔ سُبْحَان اللّٰہ وَ بِحَمْدِہٖ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
یہود کا جھوٹ
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔
آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 2 اٰ من بہ میں بہ کی ضمیر ایتا کی طرف بھی راجع کرسکتی ہے جو اتینا سے مفہوم ہوتا ہے یعنی بعض تو اس ایتا انعام پر ایمان لے آئے اور بعض نے اعراض کیا اور لوگوں کو بھی روکنے کوشش کی، لہذ آپ ﷺ نے ان کے کفر سے لگیر نہ ہوں (ابن کثیر) اور اگر اس ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو مانا چائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود یہود میں سے کچھ لوگ تو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا چاہتے ہیں انہیں بھی روکنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے۔ ْ ( فتح القدیر۔ کبیر) یہاں بتا کہ یہ سزا صرف اہل کتاب کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ سب کفار کو ملے گی ، (کبیر) بدلناھم جود اغیر ھا سے اہل جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(4:54) فقد اتینا ال ابراہیم۔ تو یاد رہے ہم دے چکے ہیں (قبل ازیں) ۔ آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور عظیم سلطنت۔ مثلاً حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو۔ یعنی ایسی ہی نعمت قبل ازیں ال ابراہیم کو بھی تو دی جا چکی ہے۔ پھر یہ مؤمنوں کو وہی نعمت دئیے جانے پر کیوں جلتے ہیں۔ بعض کے نزدیک الناس سے مراد حضرت محمد ﷺ و اصحابہ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51-57
لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔
لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔
تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ یہود کی یہ دشمنی اس سبب سے ہے کہ نبی آخرالزماں (ﷺ) بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحٰق میں سے کیوں نہ ہوئے ۔ حالانکہ بنی اسماعیل اور بنی اسحاق دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے اسحاق کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت، بادشاہت سب کچھ رہا ، اب حضر ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد میں ایک نبی آخرالزماں کے پیدا ہونے سے بنی آخرالزماں کے ساتھ ان لوگوں کی اس قدر دشمنی فقط ان لوگوں کی بخیلی کے سبب سے ہے ۔ کیونکہ ان کی بخیلی کی عادت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ ان کے قبضہ میں ایک سلطنت بھی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
[46] مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آل ابراہیم کو بہت سی دینی اور دنیوی نعمتیں دیں تو ان کے زمانے کے لوگ بھی بعض تو ایمان لائے اور بعض کافر رہے اب محمد ﷺ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کو بھی اللہ نے پیغمبری اور قرآن و سلطنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ غرض آل ابراہیم سے ہمیشہ حسد کیا جاتا رہا ہے اور لوگوں کے حسد سے نہ ان کا کچھ پہلے بگڑا اور نہ اب بگڑے گا۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ جب حق وصداقت کا آفتاب سطح ارض پر چمکا ہے بعض لوگوں نے اسے چشم بصیرت سے دیکھا اور محسوس کیا ہے اور بعض اندھوں نے انکار کیا ہے ، اس لئے اسلام کے متعلق بھی یہ تقسیم ناگزیر تھی ، آپ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے انکار وتمرد پر متعجب نہ ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 3 کیا ان یہود کے پاس حکومت کا کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسرے لوگوں کو ذرا سی بھی کوئی چیز نہ دیتے یا یہ دوسرے لوگوں سے یعنی محمد ﷺ اور ان کے اصحاب سے ان نعمتوں پر حسد کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عنایت کی ہیں تو ان نعمتوں کا عطا ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اب سے پہلے بھی حضرت ابراہیم کے خاندان والوں کو کتاب آسمانی اور حکمت و نبوت سے نواز چکے ہیں اور ہم اس خاندان ابراہیم کے لوگوں کو سلطنت بھی عطا کرچکے ہیں۔ (تیسیر)
نقیر، نقرۃ گٹھلی کے اوپر کا چھلکا یا نقطہ مراد ہے بہت ہی حقیر چیز جس کی کوئی قیمت نہ ہو اور سلطنت کا حصہ رکھتے ہوئے کسی حقیر چیز کا بھی نہ…
Read the full tafseer →ف 4۔ پس اگر آپ کی رسالت و قرآن پر بھی آپ کے زمانہ کے بعض لوگ ایمان نہ لاویں تورنج کی بات نہیں۔
Read the full tafseer →آل ابراہیم میں سے کچھ لوگوں نے مان لیا اور کچھ نے انکار کیا :
107: ” پھر ان میں سے کوئی تو ایسا تھا جس نے اس پر یقین کیا۔ “ اس جگہ کس کو مان لینا مراد ہے ؟ یعنی اٰمَنَ بِہِ میں ” ھ “ کی ضمیر کس کی طرف اشارہ کر رہی ہے ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کا تعلق اور آپ ﷺ کی نسبت بھی آل ابراہیم سے ایسی ہی ہے جیسے دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کی ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو تسلیم کیا اور کچھ آپ ﷺ کے منکر تھے۔ اور پھر جو منکر تھے وہ صرف یہی نہیں کہ منکر تھے بلکہ دوسروں کو روکنے کا سبب بھی تھے اور برملا کہتے تھے کہ ہمارے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
Commentary
Admonishing Jews for being unreasonably envious
The knowledge, the grace, the high rank and the grandeur of mission given by Allah Almighty to the Noble Prophet ﷺ made Jews all too jealous. Verses 53 and 54 strongly admonish this attitude of theirs, giving two reasons why their envy was unreasonable. The first reason appears in verse 53, while the second, in verse 54. But, the outcome of both is the same. The drift of the argument is: 'What is the basis of your envy? If this is because you think you are the real inheritors of the kingdom and what he has been blessed with is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
87. This is in response to the malicious remarks of the Israelites. What is being said is that they had no reason to feel jealous since both the Israelites and Ishmaelites were offspring of the same Abraham. Now, the leadership of the world had been promised only to those children of Abraham who followed the Book and Wisdom revealed by God. The Book and Wisdom had been sent down earlier to the Israelites, and to their discredit they had turned away from them. The same Book and Wisdom had now been made available to the Ishmaelites and they had decided to greet it with faith and gratitude.
Read the full tafseer →