Explained with ayahs 53–55
یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا
یہاں بطور انکار کے سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک کے کسی حصہ کے مالک ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے کے دوا دار نہ ہوتے خصوصاً اللہ کے اس آخری پیغمبر ﷺ کو اتنا بھی نہ دیتے جتنا کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا پردہ ہوتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا) 17۔ الاسراء :100) یعنی اگر تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم تو خرچ ہوجانے کے خوف سے بالکل…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 85
یعنی یہ اپنی نااہلی کے باوجود اللہ کے جس فضل اور جس انعام کی آس خود لگائے بیٹھے تھے، اس سے جب دوسرے لوگ سرفراز کردیے گئے اور عرب کے امیوں میں ایک عظیم الشان نبی کے ظہور سے وہ روحانی و اخلاقی اور ذہنی و عملی زندگی پیدا ہوگئی جس کا لازمی نتیجہ عروج و سربلندی ہے، تو اب یہ اس پر حسد کر رہے ہیں اور یہ باتیں اسی حسد کی بنا پر ان کے منہ سے نکل رہی ہیں۔
سورة النِّسَآء 86
”ملک عظیم“ سے مراد دنیا کی امامت و رہنمائی اور اقوام عالم پر قائدانہ اقتدار ہے جو کتاب اللہ کا علم پانے اور اس علم و حکمت کے مطابق عمل کرنے سے لازماً حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
معاف و مسائل
یہودیوں کے حسد کرنے پر شدید مذمت
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو جو علم و فضل اور جاہ و جلال عطا کیا تھا، اس پر یہودی جلتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 35، 45 میں ان کے اسی حسد و بغض کی شدید مذمت کی ہے اور ان کے حسد کو نامعقول قرار دیتے ہوئے دو وجہیں بیان کی ہیں ایک وجہ آیت نمبر 35 میں بیان کی اور دوسری آیت نمبر 45 میں، لیکن دونوں کا حاصل ایک ہے، یعنی تمہارا حسد کس بات پر ہے اگر اس پر ہے کہ اصل صاحب سلطنت تم ہو تمہاری ہی سلطنت ان کو مل گئی، اس کا غلط ہونا تو کھلا ہوا ہے کہ تم سلطنت سے خود محروم ہو اور تمہیں کچھ حصہ سلطنت کا مل جاتا تو تم ایک کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے اور اگر تمہارا…
Read the full tafseer →اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ یہود بنی اسماعیل کے حاسد تھے : اس آیت میں اصل راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ یہ سارا طوفان اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں۔ ان کو یہ غم و غصہ ہے کہ نبوت تو ان کے خاندان کا حصہ تھی، یہ ان کے خاندان سے سے نکل کر بنی اسماعیل کے اندر کس طرح چلی گئی ؟ انہیں یہ خبر نہیں ہے کہ نبوت اور شریعت اللہ کا فضل ہے، اللہ جس کو چاہے اپنا فضل بخشے۔ اللہ کے بخشے ہوئے فضل پر حسد کرنا اور اس حسد کے بحران میں مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہونا خود اللہ سے لڑنے کے مرادف ہے۔ اگر یہ اللہ سے لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو لڑیں، ہم نے تو آل…
Read the full tafseer →54۔ 1 ام یا بل کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی بلکہ یہ اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر دوسروں میں نبی (یعنی آخری نبی) کیوں بنایا ؟ نبوت اللہ کا سب سے بڑا فضل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
39: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے ؛ چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا ؛ چنانچہ ان میں بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے، اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب ؑ) کی اولاد میں نبوت جاری رہی ہے، اب اگر ان کے دوسرے صاحب زادے (حضرت اسماعیل ؑ) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے…
Read the full tafseer →4 یعنی کیا یہود حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل و انعام کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ سو یہ تو بالکل ان کی بیہودگی ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم کے گھرانے میں کتاب اور علم اور سلطنت عظیم عنایت کی ہے۔ پھر یہود آپ کی نبوت اور عزت پر کیسے حسد اور انکار کرتے ہیں اب بھی تو ابراہیم ہی کے گھر میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت 54 اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآاٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج
دراصل یہ سب اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان امیین میں اپنا آخری نبی ‘ بھیج دیا اور انہیں اپنی آخری کتاب عطا فرما دی جنہیں یہ حقیر سمجھتے تھے۔ اب یہ اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔
فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا۔
یعنی تمہیں بھی اگر تورات اور انجیل ملی تھی تو ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کے ناتے سے ملی تھی ‘ تو یہ جو اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہے یہ بھی تو ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسل ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت علیحدہ…
Read the full tafseer →85 یہاں دوسرے لوگوں سے مراد مسلمان ہیں جنہیں دن بدن عروج حاصل ہو رہا تھا اور وہ خود دن بدن ذلیل سے ذلیل تر ہو رہے تھے۔
86 آل ابراہیم سے مراد سیدنا ابراہیم سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک سب پیغمبر ہیں اور کتاب اللہ کا علم و حکمت انہی انبیاء کے پاس رہا اور بہت بڑی بادشاہی بھی۔ جیسے سیدنا یوسف، سیدنا داؤد، سیدنا سلیمان وغیرہ سب بادشاہ بھی تھے اور نبی بھی۔ اور اس لفظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمام اقوام عالم پر ہمیشہ آل ابراہیم ہی کا قائدانہ اقتدار رہا ہے۔ اگرچہ آپ کے زمانہ میں یہ اقتدار یہود سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوگیا۔ تاہم آل ابراہیم ہی میں رہا۔ آل اسحاق سے آل اسماعیل میں آگیا یعنی جس طرح پہلے اللہ…
Read the full tafseer →170 ۔ (مثلا نعمت نبوت) (آیت) ” الناس “۔ کے لفظی معنی تو ” لوگوں “ کے ہیں لیکن یہاں مراد عرب یا بنی اسمعیل یا خود رسول اللہ ﷺ اور مومنین ہیں۔ الناس ھنا العرب حسد تھا بنواسرائیل (بحر، عن قتادہ) حسدت الیھود قریشا لان النبوۃ فیھم “۔ (قرطبی عن الضحاک) المراد ھھنا الرسول ومن معہ من ال مومنین (کبیر) یہود کو اصلی خلش اسی کی تھی کہ انبیاء تو ہمیشہ اسرائیلیوں میں ہوئے ہیں، یہ ایک عرب کو کیسے نبوت مل گئی۔ (آیت) ” اتھم اللہ من فضلہ “۔ مراد نبوت ہے۔ قتادہ وابن جریج تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ معنی الفضل فی ھذا الموضع النبوۃ التی فضل اللہ بھا محمد اوشرف بھا العرب (ابن جریر، عن قتادہ، وابن جریج) اولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →ام یحسدون الناس علی ما اتہم اللہ من فضلہ . لیکن اللہ نے دوسرے لوگوں کو جو چیزیں اپنے فضل سے عنایت کی ہیں ان سے ان کو جلن ہوتی ہے اَمْ بَلکے معنی میں ہے۔ یحسدون کی ضمیر یہودیوں کی طرف راجع ہے لیکن ابن سعد نے عفرہ کے غلام عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ علم اہل کتاب مراد ہیں۔ الناس سے مراد صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد (رح) حسن اور ایک جماعت کا یہی قول ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے جو عورتیں حلال کردی تھیں یہودیوں کو اس سے جلن ہوئی تھی۔ بعض علماء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب مراد ہیں قتادہ نے کہا کہ عام عرب مراد ہیں یہودیوں کو عربوں سے جلن تھی کہ اللہ نے ان کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(53۔ 54) اگر یہود کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہوتا تو یہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اس میں سے نہ دیتے بلکہ آپ کو جو اللہ تعالیٰ نے کتاب ونبوت اور حرم نبوی کو جو بہترین عورتیں عطا کی ہیں۔ اس پر یہ حسد کرتے ہیں، ہم نے حضرت داؤد ؑ وسلیمان ؑ کو علم وفہم اور نبوت عطا کی اور نبوت واسلام کے ذریعے عزت عطا کی اور بنی اسرائیل کی بادشاہت دی چناچہ حضرت داؤد ؑ کی سو بیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان ؑ کے ہاں سات سو باندیاں اور سو بیبیاں تھیں۔
شان نزول : (آیت) ”ام یحسدون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ عوفی ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل کتاب بولے محمد ﷺ سمجھتے ہیں کہ ان…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کے بیٹے اسحاق ؑ کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہت رہی ہے اور داؤد و سلیمان ؑ اور دوسرے اولوا العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں، اب بنو اسماعیل میں سے رسول اللہ ﷺ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا گیا ہے تو یہ کیوں حسد کر رہے ہیں ؟ ! یہاں ”مِنْ فَضْلِهٖ ۚ“ سے مراد نبوت اور دین و دنیا کی وہ عزت ہے جو نبوت کی برکت سے حاصل ہوئی۔ ”الْكِتٰبَ“ سے مراد کتاب الٰہی اور ”وَالْحِكْمَةَ“ سے اس کا فہم اور اس پر عمل کرنا مراد ہے اور ”مُّلْكًا عَظِيْما“ سے مراد سلطنت اور غلبہ و اقتدار ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت نمبر : 54، تا 55)
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ام یحسدون “ اس سے مراد یہود ہیں، ” الناس “ سے مراد خاص نبی مکرم ﷺ ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد ؓ وغیرہما سے روایت ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبی مکرم ﷺ سے نبوت ملنے پر حسد کیا تھا آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر حسد کیا تھا ان کے ایمان لانے پر، قتادہ ؓ نے کہا : ” الناس “ سے مراد عرب ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 68 دارالکتب العلمیہ) یہود نے نبوت کی وجہ سے ان سے حسد کیا، ضحاک ؓ نے کہا : یہود نے قریش سے حسد کیا، کیونکہ ان میں نبوت تھی، حسد مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(1) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے مراد یہودی ہیں۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب نے کہا محمد ﷺ کا گمان ہے کہ ان کو ان کی تواضع کا حکم دیا گیا حالانکہ ان کو تو عورتیں ہیں اور ان کا مقصد ہی نکاح کرنا ہے کون ان سے بڑا بادشاہ ہوگا تو اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری لفظ آیت ” ام یحسدون الناس “ سے لے کر ” ملکا عظیما “ تک اور اس سے مراد سلیمان (علیہ السلام) کا ملک ہے۔
(3) ابن المنذر نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا تم گمان کرتے ہو کہ محمد ﷺ تواضع کا…
Read the full tafseer →[ اَمْ : یا ] [ یَحْسُدُوْنَ : وہ حسد کرتے ہیں ] [ النَّاسَ : لوگوں سے ] [ عَلٰی مَآ : اس پر جو ] [ اٰتٰٹہُمُ : دیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ فَقَدْ اٰتَـیْنَــآ : تو ہم دے چکے ہیں ] [ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ] [ الْکِتٰبَ : کتاب ] [ وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت ] [ وَاٰتَـیْنٰـہُمْ : اور ہم نے دی ان کو ] [ مُّلْکًا عَظِیْمًا : ایک شاندار سلطنت ]
Read the full tafseer →یہودیوں کو بغض اور حسد کھا گیا
لباب النقول صفحہ 71 میں ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ محمد ﷺ یوں کہتے ہیں کہ ان کو جو کچھ دیا گیا تواضع کی وجہ سے دیا گیا اور ان کی نو بیویاں ہیں اور ان کا مقصد بس نکاح کرنا ہی ہے اور اس سے بڑھ کر کون سا بادشاہ ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا (اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ ) آخر تک نازل فرمائی۔
یہود حق کو تو قبول کرتے نہ تھے۔ البتہ اعتراضات اور جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے تھے اور کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ کے کثرت ازواج پر ہی اعتراض کردیا جب دلائل سے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت ثابت ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی اور رسول، اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف نہ خود چلتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
مذمت یہود بربخل وحسد۔
قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ…
Read the full tafseer →41 یہود کے حسد کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ان کے پاس اگرچہ سلطنت نہیں ہے لیکن پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں کو کیوں ملی ہے یہ کب سلطنت اور نبوت کے لائق تھے تو اس کا جواب فرمایا کہ ہم نے اپنے فضل و رحمت سے جو نعمتیں مثلاً نبوت، علم و حکمت اور حکومت وغیرہ اپنے پیغمبر کو دی ہیں ان پر وہ حسد کرتے ہیں اور ان کو ان انعامات کا اہل نہیں سمجھتے حالانکہ یہ تمام نعمتیں ہم پہلے آل ابراہیم کو دے چکے ہیں آل ابراہیم کو ہم نے نبوت و رسالت بھی دی اور حکومت بھی جس سے معلوم ہوا کہ آل ابراہیم میں ان نعمتوں کی صلاحیت موجود ہے اور حضرت محمد ﷺ بھی تو آل ابراہیم ہی سے ہیں اس لیے ان میں کیوں صلاحیت نہیں اور اگر ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بعض قباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ، انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور دین میں طعن بھی کی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ اگر آپ بھی ایمان نہیں لائیں گے ، پھر ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت برسیگی ، بالکل اسی طرح جیسے سبت یعنی ہفتہ کے دن والوں پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مزید خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ جبت اور طاغوت کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر جیسی باطل چیزوں اور شیطان کے پیروکار ہیں۔…
Read the full tafseer →اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ 0ۚ فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَاٰتَيْنٰھُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا 54
حسد
الحسد : تمنّي زوال نعمة من مستحق لها، وربما کان مع ذلک سعي في إزالتها، وروي :
«المؤمن يغبط والمنافق يحسد» وقال تعالی: حَسَداً مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ [ البقرة/ 109] ، وَمِنْ شَرِّ حاسِدٍ إِذا حَسَدَ [ الفلق/ 5] .
( ح س د ) الحسد ( ن ) کسی مستحق نعمت سے اس نعمت سے اس نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرنے کا نام حسد ہے بسا اوقات اس میں اسی مقصد کے لئے کوشش کرنا بھی شامل ہوتا ہے ایک روایت میں ہے : ۔ کہ مومن رشک کرتا ہے اور منافق حسد…
Read the full tafseer →خود ستائی اور حسد و بخل کی برائی : (1) انظر کیف یفترون الخ کہ وہ ایسے ایسے دعوے کرکے خدا پر جھوٹے ڈھکوسلے بناتے ہیں کہ ہم اس کے فرزند اور محبوب ہیں۔ ہم پر آتش دوزخ حرام ہے اور جھوٹ باندھنا بجائے خود اثم مبین ہے (2) باوجود علم کتاب اور روشنی شریعت کے جو ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرح کسی قدر ان میں باقی تھی۔ جبت بت اور طاغوت یعنی شیطان پر ایمان لاتے ہیں یعنی ان کے ماننے والوں کو خدا پرستوں پر ترجیح اور فوقیت دیتے ہیں۔ چناچہ یہود مدینہ میں سے حی ابن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں اس لئے گئے کہ قریش کو آنحضرت ﷺ سے لڑنے پر آمادہ کریں اور جب مشرکین نے پوچھا کہ آیا ہم حق پر ہیں یا اہل اسلام جو صرف ایک اللہ…
Read the full tafseer →اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَـآ اٰ تٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج فَقَدْ اٰ تَیَْنَـآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰ تَیْنٰـھُمْ مُّلْـکًا عَظِیْمًا
(یا یہ لوگوں پر حسد کررہے ہیں اس فضل پر جو اللہ نے ان کو بخشاتو ہم نے بخش دی آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور ہم نے بخش دی ان کو ایک عظیم سلطنت بھی) (النسآء : 54)
یہود حسد کے مریض تھے
یہود کی دشمنی کا اصل سبب یہ ہے جسے اس آیت میں منکشف فرمایا گیا ہے کہ ان کی تمام فتنہ پروری اور ان کی مسلمان دشمنی پر مبنی یہ تمام حرکتیں اور سازشیں اس سبب سے ہیں کہ ان کے اندر کے حسد کی آگ انھیں چین نہیں لینے دیتی۔ حسد زوال نعمت کی تمنا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ابھی تو یہودیوں کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار نہیں۔ اگر ان کے پاس اقتدار اور اختیار ہو تو یہ کسی کو دمڑی بھی نہ دیں اور نہ ہی کسی کو دم مارنے دیں۔ اہل کتاب رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے یتیم کو نبوت کا تاج اور قوموں کی قیادت کیوں عطا فرمائی ہے جو روز بروز عملاً غلبہ پارہی ہے۔ یہ جس قدر چاہیں حسد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو عزت و عظمت، امامت و قیادت اور دین کو غلبہ دے گا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو امامت و حکومت اور نبوت عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے…
Read the full tafseer →آیت 54 : اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ ٰاتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (بلکہ یہ لوگوں پر حسد کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھی ہے) یعنی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے حسد کرتے ہیں۔ باوجودیکہ حسد قبیح چیز ہے۔ اور حسد کی وجہ وہ نصرت و غلبہ اور عزت میں اضافہ اور ہر روز کی ترقی تھی (جو ان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی) فَقَدْ ٰاتَیْنَآ ٰالَ اِبْرَاہِیْمَ الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے آل ابراہیم کو کتاب یعنی تورات دی) وَالْحِکْمَۃَ (اور نصیحت) یعنی دین کی گہری سمجھ بوجھ۔
یہود کو الزامی جواب :
وَ ٰاتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا (اور ہم نے ان کو بہت بڑی بادشاہت دی) یعنی…
Read the full tafseer →54۔ (آیت)” ام یحسدون الناس “۔ اس سے مراد یہود ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ، قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے عام عرب کے لوگ مراد ہیں ، کیونکہ عرب کے یہودیوں کو اس بات کا حسد تھا کہ نبوت ان میں سے کیوں نہیں آئی اور ان کو عزت کیوں نہیں دی ۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ذات گرامی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے جو عورتیں حلال قرار دی ہیں ،۔ یہودیوں کو ان سے جلن تھی ، اللہ تعالیٰ کے ان فرمان (آیت)” علی ما اتاھم اللہ من فضلہ “۔ سے یہی مراد ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نبوت سے حسد کرنا ہے ، فضل سے مراد یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
(53 ۔ 55) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہود کو یہاں تک دشمنی تھی کہ یہ لوگ قریش کو احزاب کی لڑائی پر آمادہ کرنے کے لئے اطراف مدینہ سے سفر کر کے مکہ گئے ان آیتوں میں فرمایا یہود کیہ یہ دشمنی فقط اس سبب سے ہے کہ نبی آخر الزماں بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحاق میں سے کیوں نہیں ہوئے حالانکہ بنی اسحاق اور بنی اسماعیل دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اب ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے سے نبی آخر الزماں کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت 51-57
یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
قول باری ہے (ام یحسدون الناس علی مااتاھم اللہ من فضلہ) پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے ) حضرت ابن عباس مجاہد ضحاک سدی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہاں الناس سے مراد صرف رسول اللہ کی ذات اقدس ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد عرب کے لوگ ہیں کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد حضور اور آپ کے صحابہ ہیں یہ تاویل بہتر ہے کیونکہ خطاب کی ابتداء میں یہود کا ذکر ہے اور یہ لوگ اس سے قبل اپنی کتابوں میں حضور کی بعثت آپ کے اوصاف ، اور آپ کی نبوت کے حالات کے متعلق پڑھا کرتے تھے۔
بلکہ یہ لوگ آخری نبی کی بعثت پر عربوں کو قتل کی دھمکی دیتے تھے اس لیی کہ ان کے خیال میں…
Read the full tafseer →129 حسد یہودیوں کی ایک عمومی اور قومی خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ دوسروں پر حسد کرتے ہیں ان نعمتوں کی بنا پر جن سے اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے ؟۔ معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمت کی بناء پر کسی سے حسد اور جلن رکھنا دراصل یہودی شیوہ ہے، جس سے مسلمان کو بہرصورت پرہیز کرنا چاہیئے۔ اور استفہام تقبیح اور انکار کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر حسد اور اعتراض کرنے کا حق کسی کو نہیں ہوسکتا۔ ایک تو اس لیے کہ وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اور دوسرے اس لیے کہ وہ علیم وخبیر اور حکیم مطلق ہے۔ اس لیے وہ جو بھی کچھ کرتا ہے وہ سراسر حق و صدق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
یہود کا جھوٹ
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔
آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…
Read the full tafseer →ف 1 مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہی رہی اور حضرت داود ( علیہ السلام) ، حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور دوسرے اولو العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں۔۔ اب بنو اسمعیل ( علیہ السلام) میں سے آنحضرت ﷺ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمادیا گیا ہے تو یہ کیوں حسد کررہے ہیں۔ یہاں من فضلہ سے مراد نبوت اور دین دنیا کی وہ عزت مراد ہے جو نبوت کی برکت سے حاصل ہوئی الکتاب سے مراد کتاب الہیٰ ادر الحمت سے اس کا فہم اور اس پر عمل مراد ہے اور ملک عظیم سے مراد سلطنت اور غلبہ وقتدار ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(4:54) فقد اتینا ال ابراہیم۔ تو یاد رہے ہم دے چکے ہیں (قبل ازیں) ۔ آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور عظیم سلطنت۔ مثلاً حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو۔ یعنی ایسی ہی نعمت قبل ازیں ال ابراہیم کو بھی تو دی جا چکی ہے۔ پھر یہ مؤمنوں کو وہی نعمت دئیے جانے پر کیوں جلتے ہیں۔ بعض کے نزدیک الناس سے مراد حضرت محمد ﷺ و اصحابہ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51-57
لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔
لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔
تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ یہود کی یہ دشمنی اس سبب سے ہے کہ نبی آخرالزماں (ﷺ) بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحٰق میں سے کیوں نہ ہوئے ۔ حالانکہ بنی اسماعیل اور بنی اسحاق دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے اسحاق کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت، بادشاہت سب کچھ رہا ، اب حضر ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد میں ایک نبی آخرالزماں کے پیدا ہونے سے بنی آخرالزماں کے ساتھ ان لوگوں کی اس قدر دشمنی فقط ان لوگوں کی بخیلی کے سبب سے ہے ۔ کیونکہ ان کی بخیلی کی عادت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ ان کے قبضہ میں ایک سلطنت بھی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
[43] جبت سے مراد اعمال سفلیہ ہیں مثلاً جادو، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، فال گیری وغیرہ۔
[44] طاغوت کی تشریح سورة بقرہ آیت 257 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔
[45] یعنی مشرکین عرب کی نسبت۔
Read the full tafseer →راز حیات :
(ف 1) ان آیات میں یہودی بخل وحسد کا ذکر ہے کہ یہ قومیں اخلاق حسنہ سے بالکل عاری ہیں ، اسلام کا انکار بھی اسی جذبہ حسد وبخل کے ماتحت ہے ، یہ نہیں چاہتے کہ دنیا کی کوئی قوم سرفرازی وسربلندی سے مفتحز ہو ۔ اس بناء پر جب یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان خدا کے فضل و عنایات سے بہر کیف بہرہ ور ہیں اور دین ودنیا کی نعمتیں اور کرامتیں انہیں حاصل ہیں تو مارے حسد وبخل کے جل اٹھتے ہیں ، قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے آل ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی تمہارے سامن ہے ، کیا ہم نے انہیں کتاب و حکمت کے ساتھ ساتھ حکومت وخلافت نہیں بخشی اور کیا وہ وعظ و ارشاد کے علاوہ تاج وتخت کے وارث نہیں تھے ؟ پھر تمہیں یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 3 کیا ان یہود کے پاس حکومت کا کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسرے لوگوں کو ذرا سی بھی کوئی چیز نہ دیتے یا یہ دوسرے لوگوں سے یعنی محمد ﷺ اور ان کے اصحاب سے ان نعمتوں پر حسد کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عنایت کی ہیں تو ان نعمتوں کا عطا ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اب سے پہلے بھی حضرت ابراہیم کے خاندان والوں کو کتاب آسمانی اور حکمت و نبوت سے نواز چکے ہیں اور ہم اس خاندان ابراہیم کے لوگوں کو سلطنت بھی عطا کرچکے ہیں۔ (تیسیر)
نقیر، نقرۃ گٹھلی کے اوپر کا چھلکا یا نقطہ مراد ہے بہت ہی حقیر چیز جس کی کوئی قیمت نہ ہو اور سلطنت کا حصہ رکھتے ہوئے کسی حقیر چیز کا بھی نہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء گزرے بعض انبیاء سلاطین بھی ہوئے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) و حضرت داود (علیہ السلام) و حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کثیر الازواج ہونامعلوم و مشہور ہے اور یہ سب اولاد ابراہیم میں ہیں سو جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی اولاد ابراہیم سے ہیں تو آپ کو اگر یہ نعمتیں و عطیات مل گئیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔
Read the full tafseer →الٰہی فیصلے ایسے فیصلے نہیں ہیں جن کو دنیا کے حاسد روک لیں :
حسد کرنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چائے کہ حاسد ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے جس پر حسد کیا جاتا ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اور یہ اتنا بڑا پکا اصول ہے کہ تم ایک ایک حاسد کا تجزیہ کر دیکھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ نقصان میں ہمیشہ وہی رہے جنہوں نے حسد کیا ۔ ہاں ! اگر حسد دونوں طرف سے شروع ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے اس لئے جس کا حسد کیا جائے اس کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ حاسدین کا اپنا نقصان ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں مشرکین مکہ کی ہلاکت کا باعث بھی ان کا حسد ہی تھا اور یہود و نصاریٰ کی ہلاکت کا باعث بھی وہی ۔ کیونکہ مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
Commentary
Admonishing Jews for being unreasonably envious
The knowledge, the grace, the high rank and the grandeur of mission given by Allah Almighty to the Noble Prophet ﷺ made Jews all too jealous. Verses 53 and 54 strongly admonish this attitude of theirs, giving two reasons why their envy was unreasonable. The first reason appears in verse 53, while the second, in verse 54. But, the outcome of both is the same. The drift of the argument is: 'What is the basis of your envy? If this is because you think you are the real inheritors of the kingdom and what he has been blessed with is…
Read the full tafseer →85. By implication, this query accurately portrays the state of mind of the Jews. They saw the Muslims being endowed with the grace and reward of God which they, notwithstanding their own unworthiness had expected to fall to their share. By virtue of the advent of a great Prophet among the ummis of Arabia, a spiritual, moral and intellectual revolution had taken place which totally changed their practical life and ultimately led them to greatness and glory. It is this which aroused their spite and envy, and which was reflected in their unjustifiable remarks about the Muslims.
86. This 'mighty…
Read the full tafseer →