Explained with ayahs 53–55
یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا
یہاں بطور انکار کے سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک کے کسی حصہ کے مالک ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے کے دوا دار نہ ہوتے خصوصاً اللہ کے اس آخری پیغمبر ﷺ کو اتنا بھی نہ دیتے جتنا کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا پردہ ہوتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا) 17۔ الاسراء :100) یعنی اگر تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم تو خرچ ہوجانے کے خوف سے بالکل…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 84
یعنی کیا خدا کی حکومت کا کوئی حصہ ان کے قبضہ میں ہے کہ یہ فیصلہ کرنے چلے ہیں کہ کون برسر ہدایت ہے اور کون نہیں ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو ان کے ہاتھوں دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نصیب نہ ہوتی کیونکہ ان کے دل تو اتنے چھوٹے ہیں کہ ان سے حق کا اعتراف تک نہیں ہوسکتا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ان کے پاس کسی ملک کی حکومت ہے کہ اس میں دوسرے لوگ حصہ بٹانا چاہتے ہیں اور نہ انہیں اس میں سے کچھ نہیں دینا چاہتے ؟ یہاں تو محض اعتراف حق کا سوال درپیش ہے اور اس میں بھی یہ بخل سے کام لے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ہاں کیا ان کے پاس کوئی حصہ ہے سلطنت کا سو ایسی حالت میں تو اور لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے یا دوسرے آدمیوں سے (جیسے رسول اللہ ﷺ سے) ان چیزوں پر جلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں سو (آپ کو ایسی چیز مل جانا کوئی نئی بات نہیں کیونکہ) ہم نے (پہلے سے) حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان (والوں) کو کتاب (آسمانی) بھی دی ہے اور علم بھی دیا ہے اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سلطنت بھی دی ہے (چنانچہ بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء گذرے ہیں، بعض انبیاء سلاطین بھی ہوئے جیسے حضرت یوسف ؑ و حضرت داؤد ؑ و حضرت سلیمان ؑ اور حضرت داؤد ؑ و حضرت سلیمان ؑ کا کثیر الازدواج ہونا بھی معلوم و…
Read the full tafseer →اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا۔ ملک سے مراد یہاں خدائی اقتدار و اختیار ہے اور الناس سے مراد یہاں مسلمان ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ کیا خدا کے اقتدار و اختیار میں کچھ ان کی بھی حصہ داری ہے کہ اس کے فضل انعام میں سے یہ جس کو چاہیں حصہ دیں، جس کو چاہیں محروم کردیں، چناچہ اپنے اسی اختیار کی بنا پر وہ مسلمانوں کو خدا کے فضل و کرم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس تمام بوالفضولی سے کیا حاصل ؟ تقدیر الٰہی سے پنجہ آزمائی کر کے کون جیتا ہے جو یہ جیت سکیں گے !
Read the full tafseer →53۔ 1 یہ انکاری ہے یعنی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اگر اس میں ان کا کچھ حصہ ہوتا تو یہ یہود اتنے بخیل ہیں کہ لوگوں کو بالخصوص حضرت محمد ﷺ کو اتنا بھی نہ دیتے جس سے کھجور کی گٹھلی کا شگاف ہی پر ہوجاتا نَقَیْرًا اس نقطے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →38: یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی اور عناد کا سبب قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انہیں یہ توقع تھی کہ جس طرح پچھلے بہت سے انبیائے کرام ؑ بنی اسرائیل سے آئے ہیں، نبی آخرالزماں ﷺ بھی انہی کے خاندان سے ہوں گے، لیکن جب آنحضرت ﷺ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں مبعوث فرمائے گئے تو یہ لوگ حسد میں مبتلا ہوگئے، حالانکہ نبوت و خلافت و حکومت تو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے وہ جب جس کو مناسب سمجھتا ہے اپنے اس فضل سے سرفراز فرماتا ہے، اگر کوئی شخص اس پر اعتراض کرے تو گویا وہ یہ دعوی کررہا ہے کہ کائنات کی بادشاہی اس کے پاس ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے انبیاء ؑ کو منتخب کرے، اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے…
Read the full tafseer →3 یہود اپنے خیال میں جانتے تھے کہ پیغمبری اور دین کی سرداری ہماری میراث ہے اور ہمیں کو لائق ہے۔ اس لئے عرب کے پیغمبر کی متابعت سے عار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخر کو حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ رہے گی برائے چندے اوروں کو بھی مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا یہود کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں یعنی ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوجائیں تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں۔ یعنی ایسے بخیل ہیں کہ بادشاہت میں فقیر کو تل برابر بھی نہ دیں۔
Read the full tafseer →آیت 53 اَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ
انہوں نے یہ جو تقسیم کرلی ہے کہ دنیا میں یہ سب کچھ ہمارے لیے ہے ‘ باقی تمام انسان Goyems اور Gentiles ہیں ‘ تو انسانوں میں یہ تقسیم اور تفریق کا اختیار انہیں کس نے دیا ہے ؟ کیا ان کا اللہ کی حکومت میں کوئی حصہ ہے ؟ زمین و آسمان کی بادشاہی تو اللہ کی ہے ‘ مالک الملک اللہ ہے۔ تو کیا ان کو اس کے پاس سے کوئی اختیار ملا ہوا ہے ؟
Read the full tafseer →84 یہود کا بخل اور تنگ نظری :۔ یہاں یہود کی ایک مشہور رذیل صفت بخل کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس کسی ملک کی حکومت بھی ہو تو بھی وہ کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیں گے اور ان کے بخل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اتنے تنگ نظر ہیں کہ حق بات کا اعتراف کرنا بھی ان کے لیے محال ہے۔ کیونکہ یہ مشرکین مکہ کو توحید پرستوں سے برتر قرار دے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →169 ۔ یعنی اپنی مقبولیت اور روحانی عظمت الگ رہی، یہود کو اگر دنیوی امارت وسیادت نصیب ہوتی تو یہ اتنے بخیل اور تنگ دل ہیں کہ اس میں بھی کسی کو شریک نہ ہونے دیتے۔ بلکہ لوگوں کے حقوق تک نہ ادا کرتے۔ اور شاید اسی بخیلی دلی کی قومی جبلت کی بنا پر یہود ودنیوی اقتدار سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں۔ (آیت) ” نقیرا “۔ کے لفظی معنی اس گڈھے کے ہیں جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے۔ عربی محاورہ میں مثل فتیل کے حقیر سی حقیر اور چھوٹی سی چھوٹی چیز اس سے مراد ہوتی ہے۔ جیسے اردو میں رائی بھر، رتی بھر وغیرہ بولتے ہیں۔ ” تل برابر “ ترجمہ عبدالقادر دہلوی (رح) کا ہے۔ لا یؤتون نقیرا ای یعمنعون الحقوق (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…
Read the full tafseer →ام لہم نصیب من الملک . ہاں ! ان کے پاس کوئی حصّہ سلطنت کا نہیں ہے اممنقطعہ ہے اور ہمزہ انکاری ہے یہودیوں کا خیال تھا کہ عنقریب ان کی سلطنت ہوجائے گی اس خیال کی نفی کردی گئی۔ یا نصیب ملکی سے مراد ہے قومی سیادت و سرداری جس کے فوت ہونے کے اندیشہ سے یہودیوں نے نبوت کا انکار کیا تھا۔ سرداری کے لوازم میں سے سخاوت ہے اور یہودی بڑے کنجوس تھے۔ سخاوت نام کو بھی ان میں نہ تھی اس لئے پُر زور طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کی سرداری کا انکار کردیا۔ ممکن ہے بطور تعریض یہ بیان کرنا مقصود ہو کہ جن کو اقرار نبوت سے اپنی سرداری فوت ہونے کا اندیشہ تھا تو خیر ان کے انکار کی ایک وجہ بھی ہے (اگرچہ یہ وجہ بھی قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(53۔ 54) اگر یہود کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہوتا تو یہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اس میں سے نہ دیتے بلکہ آپ کو جو اللہ تعالیٰ نے کتاب ونبوت اور حرم نبوی کو جو بہترین عورتیں عطا کی ہیں۔ اس پر یہ حسد کرتے ہیں، ہم نے حضرت داؤد ؑ وسلیمان ؑ کو علم وفہم اور نبوت عطا کی اور نبوت واسلام کے ذریعے عزت عطا کی اور بنی اسرائیل کی بادشاہت دی چناچہ حضرت داؤد ؑ کی سو بیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان ؑ کے ہاں سات سو باندیاں اور سو بیبیاں تھیں۔
شان نزول : (آیت) ”ام یحسدون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ عوفی ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل کتاب بولے محمد ﷺ سمجھتے ہیں کہ ان…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں یہود کی جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ واحد کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا۔ بخل تو یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا اور حسد یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھن جائے، پھر خواہ مجھے ملے یا نہ ملے۔ پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدرے مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو روکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ (رازی۔ قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طور پر پائی جاتی تھیں، قرآن نے بتایا کہ یہ مسلمانوں سے حسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر
اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
مشرکین کی تعریف باعث لعنت ہے
(1) الطبرانی و بیہقی نے دلائل میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے حلف لیا رسول اللہ ﷺ سے لڑائی لڑنے پر قریش نے ان سے کہا تم لوگ قدیم علم والے ہو اور اہل کتاب ہو ہم کو ہمارے بارے میں اور محمد ﷺ کے بارے میں بتاؤ یہودیوں نے کہا بتاؤ تمہارے کیا کام ہیں اور محمد ﷺ کے کیا کام ہیں قریش نے کہا ہم بڑی کو ہانوں والے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ہم پانی پر دودھ پلاتے ہیں ہم غلام آزاد کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں یہودیوں نے پوچھا محمد ﷺ کیا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ لاوارث آدمی…
Read the full tafseer →[ اَمْ : کیا ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : کوئی حصہ ہے ] [ مِّنَ الْمُلْکِ : سلطنت میں ] [ فَاِذًا : پھر تو ] [ لاَّ یُؤْتُوْنَ : وہ نہیں دیں گے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ نَقِیْرًا : تل بھر بھی ]
ن ق ر
نَقَرَ ۔ یَنْقُرُ (ن) نَقْرًا : (1) ٹھونگے مار کر کسی چیز میں سوراخ یا گڑھا کرنا۔ (2) پھونک مار کر بانسری یا بگل بجانا۔ { فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُــوْرِ ۔ } (المدثر) ” پھر جب پھونکا جائے گا بگل میں (یعنی صور پھونکا جائے گا) ۔ “
نَاقُوْرٌ : بگل ‘ صور۔
نَقِیْرٌ : کھجور کی گٹھلی کا گڑھا۔ یہ کسی انتہائی حقیر چیز کے لیے عربی محاورہ ہے جس کا اردو متبادل ہے ” تل بھر “۔ آیت زیر مطالعہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ) کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان پر لعنت کی یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا۔ اس لعنت نے ان کو کہیں کا نہ رکھا۔ ملعون ہونے کی وجہ سے نڈر اور بےباک ہو کر کفر اور شرک کی حمایت کر رہے ہیں اور مشرکین کو اصحاب توحید کی نسبت زیادہ ہدایت پر بتا رہے ہیں۔
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلہٗ نَصِیْرًا) (کہ اللہ نے جس کو ملعون قرار دے دیا تو اس کے لیے کوئی مددگار نہ پائے گا) دنیا و آخرت میں جب اسے سزا ملنے لگے گی تو کوئی مددگار اور بچانے والا نہ ملے گا۔
مشرکوں اور کافروں پر تو لعنت ہے ہی بہت سے گنہگاروں پر بھی حدیثوں میں لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
مذمت یہود بربخل وحسد۔
قال تعالی، ام لھم نصیب۔۔۔۔ الی۔۔۔ ظلیلا۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی یہود کے حق میں ہے گزشتہ آیات میں یہود کے معائب بیان ہوئے کہ وہ باجود کفر وشرک میں ملوث ہونے کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس بتلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اب ان آیات میں یہود کے بخل اور حسد کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غایت درجہ بخیل اور حاسد ہیں محض حسد کی وجہ سے سیدنا محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لاتے کہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ ہوئے نیز یہود کا یہ دعوی اور زعم تھا کہ اخیر زمانہ میں یہود کی سلطنت ہوگی اور یہ…
Read the full tafseer →40 یہود آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے بہت زیادہ حسد رکھتے تھے کیونکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت عطا فرمادی اور دوسری طرف اسلام دن بدن ترقی کر رہا تھا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ حسد کیوں کرتے ہیں کیا ان کے پاس سلطنت یا حکومت ہے جو ان سے مسلمانوں نے چھین لی ہے اگر ان کے پاس کسی جگہ کی حکومت ہوتی تو وہ اس سے پھوٹی کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے جب ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں نہ ان سے کچھ چھینا گیا ہے تو ان کا حسد بلا وجہ ہے جیسا کہ سورة ص میں فرمایا۔ اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَائِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی قباحتوں کا تذکرہ کر کے ان کی مذمت بیان فرمائی تھی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، یہاں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جو انہوں نے کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کی۔ جھوٹ ، مکر اور فریب ان کی سرشت میں داخل تھا۔ اللہ کے نبی کے ساتھ دشمنی اور پھر آپ کی توہین کرنا ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔
سورۃ نساء کے بعد اگلی سورة مائدہ میں بھی یہ ذکر موجود ہے کہ اہل اسلام کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں ، اور ان کے بعد پھر مشرک اور نصاریٰ درجہ بدرجہ آتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” لتجدن اشد الناس عداوۃً للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا “ یعنی اسلام…
Read the full tafseer →اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ترکیب : کیف یفترون منصوب ہے یفترون کے سبب اور جملہ محلا منصوب ہے انظر کی وجہ سے ویقولون معطوف ہے یؤمنون پر للذین کفروا متعلق ہے یقولون سے ھولاء مبتداء اھدیٰ خبر جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہود پر ان کی بد افعالیوں کے سبب عتاب تھا جس کو وہ اپنے انبیائے خاندان کے سبب قابل التفات نہ سمجھتے تھے اور اس پر بھی تقدس کا دم بھرتے تھے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ تقدس ہمارا موروثی حق ہے اور ہم ابراہیم و اسحاق کی نسل ہیں جن پر آتش دوزخ ازخود حرام ہے اور ہم رات کو گناہ کرتے ہیں تو صبح تک خودبخود پاک ہوجاتے ہیں اور دن کو کرتے ہیں تو شام تک پاک ہوجاتے ہیں اور نصاریٰ میں بھی پولوس کا یہ قول کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓـؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ط وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَـہٗ نَصِیْرًا ط
(کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا ؟ یہ جِبْت اور طَاغُوْت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پرتو یہ ہیں یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے تو تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاسکتے) (النسآء : 51…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ابھی تو یہودیوں کے پاس کوئی اقتدار اور اختیار نہیں۔ اگر ان کے پاس اقتدار اور اختیار ہو تو یہ کسی کو دمڑی بھی نہ دیں اور نہ ہی کسی کو دم مارنے دیں۔ اہل کتاب رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے یتیم کو نبوت کا تاج اور قوموں کی قیادت کیوں عطا فرمائی ہے جو روز بروز عملاً غلبہ پارہی ہے۔ یہ جس قدر چاہیں حسد کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کو عزت و عظمت، امامت و قیادت اور دین کو غلبہ دے گا۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو امامت و حکومت اور نبوت عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنے…
Read the full tafseer →آیت 53 : پھر یہود کی بخل و حسد سے ان کی تعریف کی حالانکہ یہ دونوں بدترین خصلتیں ہیں۔ وہ اپنے مال کو تو روک کر رکھتے ہیں مگر تمنا اس چیز کے ملنے کی کرتے ہیں جو دوسروں کو ملی۔ چناچہ فرمایا۔ اَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ -
نحو : ام۔ منقطعہ ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے۔ ہاں ان کے پاس کوئی سلطنت کا حصہ نہیں ہے۔
یہود کی شدت بخل :
فَاِذًا لاَّ یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًا (ایسی حالت میں تو یہ لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے) یعنی اگر حکومت کا کچھ حصہ ہوتا۔ اہل دنیا کی حکومت یا اللہ تعالیٰ کی مملکت تو پھر بھی یہ شدت بخل کی وجہ سے لوگوں کو ایک معمولی چیز بھی نہ دیتے۔
النقیر : وہ…
Read the full tafseer →53۔ (آیت)” ام لھم “۔ ان کا گمان ہے ، ام منقطعہ اور استفہام انکاری ہے ۔ ” نصیب “ بمعنی حصہ ہے (آیت)” من الملک “۔ یہ استفہام انکاری ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ان کی کوئی چیز نہیں ہے ، اگرچہ ان کا خیال ہے کہ ان کو کچھ ملکی سیادت نصیب ہوجائے گی (آیت)” فاذا لا یؤتون الناس نقیرا “۔ حسد اور بخل کی وجہ سے ، نقیر وہ نقطہ جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے اور اس سے کھجور اگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
(53 ۔ 55) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہود کو یہاں تک دشمنی تھی کہ یہ لوگ قریش کو احزاب کی لڑائی پر آمادہ کرنے کے لئے اطراف مدینہ سے سفر کر کے مکہ گئے ان آیتوں میں فرمایا یہود کیہ یہ دشمنی فقط اس سبب سے ہے کہ نبی آخر الزماں بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحاق میں سے کیوں نہیں ہوئے حالانکہ بنی اسحاق اور بنی اسماعیل دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت بادشاہت سب کچھ رہا اب ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے سے نبی آخر الزماں کے ساتھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت 51-57
یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم…
Read the full tafseer →128 یہود کے ضرب المثل بخل کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے لیے کوئی حصہ ہے بادشاہی میں سے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اس میں سے لوگوں کو تل بھر بھی کچھ نہ دیتے۔ جیسا کہ ان کے ضرب المثل بخل کا تقاضا تھا اور ہے۔ مگر اللہ پاک کا یہ کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان کی ضروریات میں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، بلکہ ضروریات کی ایسی تمام چیزوں کو اس وحدہ لاشریک نے اپنے ہی قبضہ قدرت و اختیار میں رکھا ہے، ورنہ مخلوق میں سے اگر کسی کو اس پر اختیار مل جاتا اور خاص کر یہودیوں جیسی کسی حاسدانہ اور بخیلانہ ذہنیت رکھنے والے شخص کو تو وہ دنیا کو ترسا ترسا کر مار دیتا ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
یہود کا جھوٹ
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔
آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 7 اوپر کی آیت میں یہود کو جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا ہے (کبیر) بخل تو یہ ہے کہ نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا۔ اور حسد یہ ہے کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھین جائے اور مجھے مل جائے پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدر مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو رکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے (کبیر، قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طوپر پائی جاتی تیں۔ قرآن نے یہ بتایا کہ یہ مسلمان پر حسد کرتے…
Read the full tafseer →(4:53) فاذا۔ اگر ایسا ہوتا تو۔ اس وقت۔ حرف جزا ہے، جواب اور جزاء کے لئے آتا ہے۔ لایؤتون۔ نہیں دیتے ہیں۔ نہ دیتے۔
نقیرا۔ اسم منصوب۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر کا چھلکا۔ مراد حقیر ترین چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
آیت نمبر 51-57
لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔
لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔
تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ یہود کی یہ دشمنی اس سبب سے ہے کہ نبی آخرالزماں (ﷺ) بنی اسماعیل میں سے کیوں ہوئے اولاد اسحٰق میں سے کیوں نہ ہوئے ۔ حالانکہ بنی اسماعیل اور بنی اسحاق دونوں کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے اسحاق کی اولاد میں ایک مدت دراز تک نبوت، بادشاہت سب کچھ رہا ، اب حضر ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد میں ایک نبی آخرالزماں کے پیدا ہونے سے بنی آخرالزماں کے ساتھ ان لوگوں کی اس قدر دشمنی فقط ان لوگوں کی بخیلی کے سبب سے ہے ۔ کیونکہ ان کی بخیلی کی عادت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ ان کے قبضہ میں ایک سلطنت بھی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
[43] جبت سے مراد اعمال سفلیہ ہیں مثلاً جادو، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، فال گیری وغیرہ۔
[44] طاغوت کی تشریح سورة بقرہ آیت 257 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔
[45] یعنی مشرکین عرب کی نسبت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(ف 1) ان آیات میں اس منافقانہ ذہنیت کا اظہار ہے فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے دور ہیں اور جو لوگ اس کی رحمت سے دور ہیں ‘ ان کا کوئی دوست نہیں ۔
حل لغات :
الجبت : بت ۔
الطاغوت : کاہن ۔
نقیرا : اقل ۔ قلیل ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 2 اے پیغمبر کیا آپ نے لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن کو کتاب آسمانی تعنی توریت کے علم کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے مگر یہ لوگ باوجود اس کے بتوں پر اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں اور بت کی اور شیطان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ لوگ کفار مکہ کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ کفار مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ سیدھی راہ پر ہیں اور یہ کافر مسلمانوں سے زیادہ راہ یافتہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر لعنت کرے اور اپنی رحمت سے دور کر دے تو آپ اس ملعون کا کسی کو حامی اور مددگار نہ پائیں گے اور ایسے ملعون کا کوئی حمایتی آپ کو نظر آئے گا۔ (تیسیر)
الم تر میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ف 2۔ کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایاتو بت اور شیطان کی تصدیق صاف لازم آئی۔
Read the full tafseer →یہود کو اگر دنیا کی سیادت مل جاتی تو اس میں وہ کسی کو شریک نہ کرتے :
105: نقیر ن ق ر سے ہے جس کے اصل معنی کرید نے کے ہیں اور اس سے منقار ہے اور منقار جانور کی چونچ کو کہتے ہیں جس سے وہ زمین وغیرہ کو کریدتا ہے اور اس آلہ کو بھی جس سے چکی وغیر راہی جاتی ہے اور اس جگہ نقیر سے مراد وہ کریدی ہوئی جگہ ہے جو کھجور کی گھٹلی میں ایک چھوٹی سی لکیر کی مانند گہرائی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اس کی طرف نسبت دے کر کہیں فتیل اور کہیں نقیر کا لفظ استعمال کیا ہے مراد اس سے حقیر سے حقیر اور تھوری سے بھی تھوڑی چیز ہے جیسے ہماری زبان اردو میں ایک رائی برابر یا رتی بھر کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں اس وجہ سے شاہ عبد…
Read the full tafseer →Linked with previous verses, the description of Jewish traits of character continues in the present verses as well.
Read the full tafseer →84. The Jews, who had judged the Muslims to be in error, are asked if they have some share in God's authority which entitles them to judge who is rightly guided and who is not. If the Jews really had any share in that authority, no one would receive so much as a penny from them, for their hearts are too small to even acknowledge the truth, let alone credit others with righteousness and goodness. This verse can also be understood somewhat differently so as to pose the following question to the Jews: 'Is it a matter of your possessing some dominion which you are reluctant to share with others?'…
Read the full tafseer →