An-Nisaa 4:52

An-Nisaa · from ayah 52

4:52

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ؕ— وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًا ۟ؕاُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones whom Allah has cursed; and he whom Allah curses - never will you find for him a helper.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:52

ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اُس کا کوئی مدد گار نہیں پاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ لعنت کر دے، تو اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے، اس کے لیے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، اور جس پر اللہ لعنت کرے تُو اس کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اللہ لعنت کرے پھر تو کوئی اس کی مدد کرنے والا ہرگز نہ پائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس۔ پر اللہ لعنت کردے آپ اس کا کوئی مددگار نہ پائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے اور جن پر اللہ لعنت کردے تو تم انکا کوئی مددگار نہیں پاسکتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہیں وہ لوگ جن پر لعنت (وپھٹکار) پڑگئی اللہ کی، اور جس پر اللہ کی لعنت (وپھٹکار) پڑجائے تو تم نہیں پا سکو گے اس کے لئے کوئی (یارو) مددگار

— مولانا اسحاق مدنی

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور جس پر اللہ لعنت کرے تو اس کا کوئی مددگار ہرگز نہ پائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر آپ اس کا کوئی مددگار نہیں پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Such are the ones whom Allah has cursed; and he whom Allah curses has none to come to his help.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the ones whom Allah has cursed, and the one whom Allah has cursed, for him you shall find no helper.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the ones whom Allah has cursed, and the one whom Allah has cursed, for him you shall find no helper.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those whom Allah has cursed, and he whom Allah curses, you will not find for him (any) helper.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are they whom Allah hath cursed, and he whom Allah hath cursed, thou (O Muhammad) wilt find for him no helper.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones whom Allah has cursed; and he whom Allah curses - never will you find for him a helper.

— Saheeh International

God has condemned them. No one can help one who has been condemned by God.

— Muhammad Sarwar

Those are they whom Allah has cursed, and whomever Allah curses you shall not find any helper for him.

— Muhammad Habib Shakir

These are they whom Allah hath cursed; and whomsoever Allah curseth, for him thou shalt not find a helper.

— Abdul Majid Daryabadi

They are (men) whom Allah hath cursed: And those whom Allah Hath cursed, thou wilt find, have no one to help.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–52

منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت یہود و نصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ (آیت الم تر الخ،) نازل ہوئی اور یہ قول حضرت مجاہد ؒ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہوگئے ہیں وہ ہمارے لئے قربت الہ کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ حضرت ابن عباس ؓ یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 51–52

سورة النِّسَآء 81 جِبْت کے اصل معنی بےحقیقت، بےاصل اور بےفائدہ چیز کے ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت (جوتش) ، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون اور مہورت اور تمام دوسری وہمی و خیالی باتوں کو ”جبت“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے النیاقۃ والطرق والطیر من الجبت۔ یعنی جانوروں کی آوازوں سے فال لینا، زمین پر جانوروں کے نشانات قدم سے شگون نکالنا اور فال گیری کے دوسرے طریقے سب ”جِبت“ کا مفہوم وہی ہے جسے ہم اردو زبان میں اوہام کہتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی میں (Superstitions) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ سورة النِّسَآء 82 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 286 و 288۔ سورة النِّسَآء 83 علماء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اللہ کی لعنت دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب ہے۔ لعنت نام ہے اللہ کی رحمت سے دوری کا اور انتہائی رسوائی اور ذلت کا، جس پر اللہ کی لعنت ہو وہ اللہ کا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔ ان کے بارے میں اتنی سخت وعید آئی ہے کہ فرمایاملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا ثقتیلاً ”جن پر اللہ کی لعنت ہے وہ جہاں کہیں بھی ملیں ان کی گردن اڑائی جائے“ یہ تو ان کی دنیاوی رسوائی ہے، اور آخرت کی رسوائی تو اس سے بھی سخت ہوگی۔ اللہ کی لعنت کے مستحق کون لوگ ہیں ؟:۔ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیراً اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس پر اللہ کی لعنت ہو اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا، اب غور طلب یہ بات ہے کہ اللہ کی لعنت کے مستحق کون لوگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے ان کا کوئی مددگار ان کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ جس پر خدا کی لعنت ہوجائے خدا کے ہاں سے اس کی جڑ جاتی ہے اور جس درخت کی جڑی کٹ جائے اسے کوئی لاکھ پانی دے اس کا ہرا ہونا ممکن نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 51–52

51۔ 1 اس آیت میں یہودیوں کے ایک اور فعل پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود یہ (جبت) بت، کاہن یا ساحر (جھوٹے معبودوں) پر ایمان رکھتے اور کفار مکہ کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں جبت کے یہ سارے مزکورہ معنی کیے گئے ہیں ایک حدیث میں آتا ہے " ان العیافۃ والطرق والطیرۃ من الجبت "' پرندے اڑا کر، خط کھینچ کر، بدفالی اور بد شگونی لینا ' یعنی یہ سب شیطانی کام ہیں اور یہود میں یہ چیزیں عام تھیں طاغوت کے ایک معنی شیطان بھی کئے گئے ہیں '، دراصل معبودان باطل کی پرستش، شیطان ہی کی پیروی ہے۔ اس لئے شیطان بھی یقینا طاغوت میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–52

37: یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے، آنحضرت ﷺ نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے ؛ لیکن انہوں نے اس معاہدہ کی بار بار خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا، ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا، جنگ احد کے بعد وہ ایک اور یہودی سردار حیی بن اخطب کے ساتھ مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی، کفار مکہ کے سردار ابو سفیان نے کہا کہ اگر واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–55

(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔ جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی یہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب ہو کر اغراض نفسانی کی وجہ سے بتوں کی تعظیم کی اور طریقہء کفر کو طریقہء اسلام سے افضل بتلایا ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر لعنت کرے اللہ اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ سو اب انہوں نے اپنی اعانت کی طمع میں جو مشرکین مکہ سے موافقت کی بالکل لغو ہے۔ چناچہ دنیا میں یہود نے از حد ذلتیں اٹھائیں اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہونگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83۔ الف یعنی جب کوئی قوم علمی خیانت اور بددیانتی میں اس قدر نچلی سطح پر اتر آئے تو اس وقت ان پر اللہ کی لعنت برسنا شروع ہوجاتی ہے۔ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب قریش مکہ کے ہاں گئے تو اس لیے تھے کہ آؤ مل کر مسلمانوں کا کچومر نکالیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریش مکہ تو ایک طرف، اگر سارا جہاں بھی یہ لوگ اپنے ساتھ ملا لیں تو جو لعنت اللہ کی طرف سے ان کے مقدر ہوچکی ہے اس سے وہ بچ نہیں سکتے نہ ہی انہیں کوئی ان پر مسلط ہونے والی ذلت سے بچا سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

167 ۔ خود دین توحید رکھ کر اور آئین انبیاء سے آشنا ہوکر، دین توحید سے اتنی بیزاری اور ذات رسول ﷺ سے اتنا بغض کہ شرک اور مشرکین تک کو ان سے بہتر بتا رہے ہیں۔ ملعونیت کا تحقق ان سے بڑھ کر اور کس پر ہوگا۔ 168 ۔ (جو عذاب سے اسے بچا لے یا اس میں کچھ کمی بھی کرادے) مشرک قوموں اور قبیلوں نے خدا کے ساتھ ساتھ اپنے اور بھی حمایتی گڑھ کر رکھے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–57

ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک الذین لعنہم اللہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا . اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کر دے (اے مخاطب) تم کو اس کا کوئی مددگار نہ دنیا میں ملے گا نہ آخرت میں دنیا میں جنگ میں اس کی کوئی مدد نہیں کرے گا اور آخرت میں شفاعت وغیرہ کے ذریعہ سے کوئی عذاب کو دفع نہ کرسکے گا۔ یہودیوں کے مدد مانگنے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش کے ساتھ جنگی معاہدہ کرنے کا رد اس آیت میں ہے۔ کنجوسی اور حسد انسان کے بدترین خصائل ہیں یہودیوں کے انہی اوصاف کا آئندہ آیات میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–52

(51۔ 52) محمد ﷺ آپ نے مالک بن صیف اور اس کے ساتھیوں کو (جن کی تعداد تقریبا ستر ہے) نہیں دیکھا کہ یہ لوگ حی بن اخطب اور کعب بن اشرف کی باتوں کو مانتے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ کفار مکہ حضور ﷺ کے پیروکاروں کی نسبت کے زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (نعوذ باللہ) ان کی اس گستاخانہ روش کے سبب ان لوگوں پر جزیہ نافذ کردیا گیا اور جن پر اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں عذاب نازل فرمائے تو اللہ کے مقابلے میں ان کی عذاب الہی سے کون حفاظت کرسکتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین اوتوا“۔ (الخ) احمد اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب کعب بن اشرف یہودی مکہ آیا تو قریش نے اس سے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 51–52

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ۔۔ : عمر فاروق ؓ نے فرمایا : ”جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ) قبل : 4583، معلقًا ] جوہری نے الصحاح میں فرمایا : ”جبت“ کا لفظ بت، کاہن، جادوگر اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر استعمال ہوتا ہے۔“ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ”پرندوں کو اڑا کر شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گیری کرنا جبت میں شامل ہے۔“ [ أبو داوٗد، الطب، باب فی الخط وزجر الطیر : 3907 ] اور طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص جو گناہ کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–53

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–53

مشرکین کی تعریف باعث لعنت ہے (1) الطبرانی و بیہقی نے دلائل میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے حلف لیا رسول اللہ ﷺ سے لڑائی لڑنے پر قریش نے ان سے کہا تم لوگ قدیم علم والے ہو اور اہل کتاب ہو ہم کو ہمارے بارے میں اور محمد ﷺ کے بارے میں بتاؤ یہودیوں نے کہا بتاؤ تمہارے کیا کام ہیں اور محمد ﷺ کے کیا کام ہیں قریش نے کہا ہم بڑی کو ہانوں والے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ہم پانی پر دودھ پلاتے ہیں ہم غلام آزاد کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں یہودیوں نے پوچھا محمد ﷺ کیا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ لاوارث آدمی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ الَّذِیْنَ : وہ ہیں ] [ لَـعَنَہُمُ : لعنت کی جن پر ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَمَنْ : اور جس پر ] [ یَّلْعَنِ : لعنت کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فَلَنْ تَجِدَ : تو تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ لَــہٗ : اس کے لیے ] [ نَصِیْرًا : کوئی مددگار ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ) کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان پر لعنت کی یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا۔ اس لعنت نے ان کو کہیں کا نہ رکھا۔ ملعون ہونے کی وجہ سے نڈر اور بےباک ہو کر کفر اور شرک کی حمایت کر رہے ہیں اور مشرکین کو اصحاب توحید کی نسبت زیادہ ہدایت پر بتا رہے ہیں۔ پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلہٗ نَصِیْرًا) (کہ اللہ نے جس کو ملعون قرار دے دیا تو اس کے لیے کوئی مددگار نہ پائے گا) دنیا و آخرت میں جب اسے سزا ملنے لگے گی تو کوئی مددگار اور بچانے والا نہ ملے گا۔ مشرکوں اور کافروں پر تو لعنت ہے ہی بہت سے گنہگاروں پر بھی حدیثوں میں لعنت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–52

مذمت یہود برعداوت اسلام وحسد برمسلمین قال تعالی، الم تر الی الذین اوتوا نصیبا۔۔۔ الی۔۔ نصیرا۔ آیت۔ ربط) اوپر کی آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا بیان تھا اب اس آیت میں یہود کی ایک اور قباحت اور خباثت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہود کو اسلام سے اس درجہ عداوت ہے کہ مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں یہودیوں کو جب نبی سے عداوت بڑھی تو یہود خیبر کے علماء اور روسا کا ایک وفد جو ستر آدمیوں پر مشتمل تھا اس غرض سے مکہ آیا کہ قریش کے ساتھ آپ سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے کے لیے عہد کرلے اور قریش نے وفد یہود کی بہت خاطر تواضع کی اور قریش نے یہ اطمینان دلایا کہ ہم تاحد امکان تمہارے ساتھ ہو کر محمد کے ساتھ لڑنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

39 یہ بھی اہل کتاب کو زجر ہے وہ شیطان اور اصنام کی عبادت کرنیوالوں کو ہدایت یافتہ کہتے تھے اور اَلْجِبت سے بت اور ہر معبود غیر اللہ مراد ہے اور اَلطَّاغُوْتُ سے مراد شیطان ہے جو بتوں میں کلام کرتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ بت بول رہا ہے۔ الجبت الاوثان والطاغوت شیاطین الاوثان و لکل صنم شیطان و یعبر عنہ فیغتر بہ الناس (معالم) سے متعلق ہے اور وَ یَقُوْلُوْنَ میں واو تفسیری ہے اور یَقُوْلُوْنَ ، یُؤْمِنُوْنَ کی تفسیر ہے۔ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بت پرستی شرک ہے لیکن اس کے باوجود بت پرستی اور بت پرستوں کی نہ صرف حمایت کرتے تھے بلکہ ان مشرکوں کو مومنوں سے بہتر سمجھتے تھے تو ان کا یہ فعل محض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–53

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی قباحتوں کا تذکرہ کر کے ان کی مذمت بیان فرمائی تھی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، یہاں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جو انہوں نے کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کی۔ جھوٹ ، مکر اور فریب ان کی سرشت میں داخل تھا۔ اللہ کے نبی کے ساتھ دشمنی اور پھر آپ کی توہین کرنا ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔ سورۃ نساء کے بعد اگلی سورة مائدہ میں بھی یہ ذکر موجود ہے کہ اہل اسلام کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں ، اور ان کے بعد پھر مشرک اور نصاریٰ درجہ بدرجہ آتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” لتجدن اشد الناس عداوۃً للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا “ یعنی اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَھُمُ اللہُ۝ 0ۭ وَمَنْ يَّلْعَنِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ نَصِيْرًا۝ 52ۭ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–53

ترکیب : کیف یفترون منصوب ہے یفترون کے سبب اور جملہ محلا منصوب ہے انظر کی وجہ سے ویقولون معطوف ہے یؤمنون پر للذین کفروا متعلق ہے یقولون سے ھولاء مبتداء اھدیٰ خبر جملہ مقولہ۔ تفسیر : پہلی آیات میں یہود پر ان کی بد افعالیوں کے سبب عتاب تھا جس کو وہ اپنے انبیائے خاندان کے سبب قابل التفات نہ سمجھتے تھے اور اس پر بھی تقدس کا دم بھرتے تھے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ تقدس ہمارا موروثی حق ہے اور ہم ابراہیم و اسحاق کی نسل ہیں جن پر آتش دوزخ ازخود حرام ہے اور ہم رات کو گناہ کرتے ہیں تو صبح تک خودبخود پاک ہوجاتے ہیں اور دن کو کرتے ہیں تو شام تک پاک ہوجاتے ہیں اور نصاریٰ میں بھی پولوس کا یہ قول کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–53

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓـؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ط وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَـہٗ نَصِیْرًا ط (کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا ؟ یہ جِبْت اور طَاغُوْت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پرتو یہ ہیں یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے تو تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاسکتے) (النسآء : 51…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب کے کردار کی مزید تفصیل اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی عبادت اور اطاعت کی جائے وہ طاغوت کی عبادت اور اطاعت ہوگی۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کو وقتی طور پر ہزیمت اٹھانی پڑی لیکن اس کے باوجود یہودی سمجھتے تھے کہ مسلمان دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے مدینے کا ایک وفد کعب بن اشرف کی سر کردگی میں مکہ معظمہ پہنچا تاکہ کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جاسکے۔ لیکن ابو سفیان اور اہل مکہ یہودیوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ جب تک تم ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اکٹھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 52 : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ (یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے) کہ ان کو اپنی رحمت سے دور ہٹا دیا ہے۔ وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ نَصِیْرًا (جس پر اللہ تعالیٰ لعنت فرمائیں تم ہرگز اس کے لئے کوئی مددگار نہ پائو گے) کہ جو اپنی مدد سے اس کی نصرت کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–52

(51 ۔ 52) ۔ مسند امام احمد تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ اور قتادہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب یہود لوگ احزاب کی لڑائی کے لئے قریش کو رغبت دلانے کے لئے مکہ کو گئے اس وقت قریش نے حی بن اخطب اور کعب بن اشرف یہود کے سرداروں سے پوچھا کہ تم اہل کتاب ہو بھلا یہ تو بتاؤ کہ ہم لوگ حق پر ہیں یا محمد اور ان کے ساتھی حق پر ہیں اس وقت یہود کی یہ غرض قریش کے متعلق تھی کہ کسی طرح قریش کو بہکا کر جنگ احزاب پر لایا جائے اس لئے ان یہود کے سرداروں نے کہا کہ تمہارا دین اچھا ہے۔ اور تم حق پر ہو اس پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–57

آیت 51-57 یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–53

قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

127 یہود پر اللہ کی طرف سے لعنت و پھٹکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن پر لعنت و پھٹکار پڑگئی اللہ کی۔ ان کے اپنے اختیار کردہ کفر اور ان کے خبث باطنی کی بنا پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انہوں نے حق کے علم و معرفت کے باوجود شرک کو توحید پر ترجیح دی، اور کفار و مشرکین کو مسلمانوں کے مقابلے میں راہ راست پر اور زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیا۔ سو اس طرح حسد کی نحوست نے ان لوگوں کو اہل کتاب ہونے کے منصہ شرف و اعزاز سے محروم کرکے لعنت خداوندی اور اس کی پھٹکار کی مذلت کے اس ہولناک گڑھے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جن پر اللہ لعنت کر دے ان کو کوئی نہیں بچا سکتا اور ان کا کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–55

یہود کا جھوٹ تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–57

آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

ف 7 اوپر کی آیت میں یہود کو جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا ہے (کبیر) بخل تو یہ ہے کہ نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا۔ اور حسد یہ ہے کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھین جائے اور مجھے مل جائے پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدر مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو رکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے (کبیر، قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طوپر پائی جاتی تیں۔ قرآن نے یہ بتایا کہ یہ مسلمان پر حسد کرتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

للذین۔ بمعنی ان کے متعلق ۔ یعنی وہ کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت زیادہ راہ راست پر ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–57

آیت نمبر 51-57 لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔ لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔ تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–52

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بےایمانی کے دیکھنے کے قابل ہے کہ دنیا کی ایک غرض کے سبب سے انہوں نے اہل کتاب ہوکر شرک کو توحید سے اور مشرکوں کو موحدوں سے سے اچھا بتلایا ۔ ایسے بےایمانوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جس پر اللہ کی پھٹکار ہو اس طکو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 51–54

[43] جبت سے مراد اعمال سفلیہ ہیں مثلاً جادو، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، فال گیری وغیرہ۔ [44] طاغوت کی تشریح سورة بقرہ آیت 257 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔ [45] یعنی مشرکین عرب کی نسبت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–53

(ف 1) ان آیات میں اس منافقانہ ذہنیت کا اظہار ہے فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے دور ہیں اور جو لوگ اس کی رحمت سے دور ہیں ‘ ان کا کوئی دوست نہیں ۔ حل لغات : الجبت : بت ۔ الطاغوت : کاہن ۔ نقیرا : اقل ۔ قلیل ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 52–53

ف 2 اے پیغمبر کیا آپ نے لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن کو کتاب آسمانی تعنی توریت کے علم کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے مگر یہ لوگ باوجود اس کے بتوں پر اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں اور بت کی اور شیطان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ لوگ کفار مکہ کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ کفار مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ سیدھی راہ پر ہیں اور یہ کافر مسلمانوں سے زیادہ راہ یافتہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر لعنت کرے اور اپنی رحمت سے دور کر دے تو آپ اس ملعون کا کسی کو حامی اور مددگار نہ پائیں گے اور ایسے ملعون کا کوئی حمایتی آپ کو نظر آئے گا۔ (تیسیر) الم تر میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–53

ف 2۔ کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایاتو بت اور شیطان کی تصدیق صاف لازم آئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی مار کے مستحق ٹھہرے اب ان کا مددگار کون ہو سکتا ہے ؟ 104: اس طرح وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور جس پر اللہ کی لعنت کی پھٹکار پڑے پھر وہ کون ہے جو اس کی پھٹکار سے اس کو بچا لے۔ یعنی مشرک قوموں اور قبیلوں نے اللہ کے ساتھ ساتھ جو اپنے حمایتی اور بھی بنا رکھے ہیں وہ بھی ان کو اللہ کی اس لعنت سے بچا نہیں سکیں گے۔ اس بات کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ اللہ کی لعنت کیا ہے ؟ یہی کہ وہ رحمت الٰہی سے دور کر دئے گئے اور اللہ کی رحمت سے دور کردیئے جانے والوں کے لئے کوئی بھی حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا۔ یہی بات اس جگہ زیر نظر آیت میں بیان کی گئی کہ فرمایا ” یقین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The curse of Allah causes disgrace here and hereinafter The Qur'anic word, 'la'nah' (translated as 'curse' in absence of a more exact equivalent) means being far removed from the mercy of Allah, extremely debased and disgraced. Anyone under 'la'nah' from Allah cannot be close to Allah. For such accursed ones admonitions are very stern. The Holy Qura'n says: مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ﴿61﴾ (The accursed, wherever they be, are to be caught and killed massacre-like.) (33:61). This is their disgrace in the present life - the disgrace in the Akhirah will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 51–52

81. Jibt signifies 'a thing devoid of any true basis and bereft of all usefulness'. In Islamic terminology the various forms of sorcery, divination and soothsaying, in short all superstitions, are termed jibt. It is reported in a tradition that, 'to divine things from the cries of animals, or the traces of animals' paws, or the flight of birds, constitutes jibt. Thus, jibt may be roughly translated as 'superstition'. (See Abu Da'ud, Tibb', 23; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 3, p. 477 and vol. 5, p. 60 - Ed.) 82. For explanation see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, nn. 286 and…

Read the full tafseer →