An-Nisaa 4:51

An-Nisaa · from ayah 51

4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا ۟اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not seen those who were given a portion of the Scripture, who believe in superstition and false objects of worship and say about the disbelievers, "These are better guided than the believers as to the way"?

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 8 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:51

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا؟ جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیاده راه راست پر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے انکو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں اور کافروں (یعنی بت پرستوں) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (آسمانی) کتاب کا حصہ دیا گیا ہے (پھر بھی) وہ بتوں اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نسبت یہ (کافر) زیادہ سیدھی راہ پر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر بھی غور کیا جنہیں کتاب کا کچھ علم دیا گیا ہے۔ وہ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان ایمان والوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ذرا ان کو دیکھو جنہیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا۔ یہ جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو دیا گیا ایک حصہ (علم) کتاب کا، (مگر اس کے باوجود) وہ ایمان رکھتے ہیں بتوں اور شیطانوں پر، اور وہ کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کے مقابلے میں زیادہ صحیح راستے پر ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جنہیں کتاب سے بہرہ ور کیا گیا تھا۔ (اس پر بھی) یہ بت اور شیطان کو مانے ہوئے ہیں۔ اور کفر کرنے والوں کی بابت کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت یاب ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا وہ ایمان لاتے ہیں بتوں پر اور شیطان پر اور کہتے ہیں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کفر کیا (یعنی مشرکین) کہ ان اہل ایمان سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جِبْتِ (بےفائدہ چیز) اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ مومنوں سے تو یہی زیادہ ہدایت یافتہ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen those to whom a portion of the Book was given? They believe in baseless superstitions and taghut (false deities), and say about the unbelievers that they are better guided than those who believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen those who have been given a share from the Book? They believe in Jibt and Taghut and say concerning those who disbelieve, :They are better guided in their way than those who believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen those who have been given a share from the Book? They believe in Jibt and Taghut and say concerning those who disbelieve, :They are better guided in their way than those who believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you not seen those who were given a portion of the Scripture They believe in Jibt and Taghut and say to those who disbelieve, "These people are better guided on the way, " than the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen those unto whom a portion of the Scripture hath been given, how they believe in idols and false deities, and how they say of those (idolaters) who disbelieve: "These are more rightly guided than those who believe"?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not seen those who were given a portion of the Scripture, who believe in superstition and false objects of worship and say about the disbelievers, "These are better guided than the believers as to the way"?

— Saheeh International

Have you seen how those who had been given a share of the Book believe in idols and Satan and who say, "The disbelievers are better guided than the believers".

— Muhammad Sarwar

Have you not seen those to whom a portion of the Book has been given? They believe in idols and false deities and say of those who disbelieve: These are better guided in the path than those who believe.

— Muhammad Habib Shakir

Hast thou not observed those unto whom is vouchsafed a portion of the Book testifying to idols and devils, and saying of those who have disbelieved: these are better guided as regards the way than the believers?

— Abdul Majid Daryabadi

Hast thou not turned Thy vision to those who were given a portion of the Book? they believe in sorcery and Evil, and say to the Unbelievers that they are better guided in the (right) way Than the believers!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–52

منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت یہود و نصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ (آیت الم تر الخ،) نازل ہوئی اور یہ قول حضرت مجاہد ؒ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہوگئے ہیں وہ ہمارے لئے قربت الہ کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ حضرت ابن عباس ؓ یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 51–52

سورة النِّسَآء 81 جِبْت کے اصل معنی بےحقیقت، بےاصل اور بےفائدہ چیز کے ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت (جوتش) ، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون اور مہورت اور تمام دوسری وہمی و خیالی باتوں کو ”جبت“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے النیاقۃ والطرق والطیر من الجبت۔ یعنی جانوروں کی آوازوں سے فال لینا، زمین پر جانوروں کے نشانات قدم سے شگون نکالنا اور فال گیری کے دوسرے طریقے سب ”جِبت“ کا مفہوم وہی ہے جسے ہم اردو زبان میں اوہام کہتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی میں (Superstitions) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ سورة النِّسَآء 82 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 286 و 288۔ سورة النِّسَآء 83 علماء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الہی یعنی توراة کے علم) کا ایک حصہ ملا ہے (پھر باوجود اس کے) وہ بت اور شیطان کو مانتے ہیں (کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایا تو بت اور شیطان کی تصدیق لازم آئی) اور وہ لوگ (یعنی اہل کتاب) کفار (یعنی مشرکین) کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہ نسبت ان مسلمانوں کے زیادہ راہ راستے پر ہیں (یہ تو انہوں نے صراحتہ ہی کہا تھا) یہ لوگ (جنہوں نے کفر کے طریقہ کو اسلامی طریقہ سے افضل بتلایا) وہ ہیں جن کو خد تعالیٰ نے ملعون بنایا ہے (اسی معلون ہونے کا تو اثر ہے کہ ایسے بےباک ہو کر کفریات بک رہے ہیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰٓؤُلَاۗءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا۔ جبت اور طاغوت کا مفہوم : جبت سے مراد اعمال سفلیہ، مثلا سحر، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، رمل جفر، فال گیری، نجوم، آگ پر چلنا اور اس قسم کی دوسری خرافات ہیں۔ ہاتھ کی لکیروں کا علم بھی اسی میں شامل ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں آیات 286، 288 کے تحت ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ یہود اپنے دور زوال میں کتاب الٰہی کو پسِ پشت ڈال کر بس انہی چیزوں کے ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کے انبیاء نے نہایت درد انگیز الفاظ میں ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 51–52

51۔ 1 اس آیت میں یہودیوں کے ایک اور فعل پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود یہ (جبت) بت، کاہن یا ساحر (جھوٹے معبودوں) پر ایمان رکھتے اور کفار مکہ کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں جبت کے یہ سارے مزکورہ معنی کیے گئے ہیں ایک حدیث میں آتا ہے " ان العیافۃ والطرق والطیرۃ من الجبت "' پرندے اڑا کر، خط کھینچ کر، بدفالی اور بد شگونی لینا ' یعنی یہ سب شیطانی کام ہیں اور یہود میں یہ چیزیں عام تھیں طاغوت کے ایک معنی شیطان بھی کئے گئے ہیں '، دراصل معبودان باطل کی پرستش، شیطان ہی کی پیروی ہے۔ اس لئے شیطان بھی یقینا طاغوت میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–52

37: یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے، آنحضرت ﷺ نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے ؛ لیکن انہوں نے اس معاہدہ کی بار بار خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا، ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا، جنگ احد کے بعد وہ ایک اور یہودی سردار حیی بن اخطب کے ساتھ مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی، کفار مکہ کے سردار ابو سفیان نے کہا کہ اگر واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–55

(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔ جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اس آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا اظہار ہے۔ قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو حضرت محمد ﷺ سے عداوت بڑھی تو مشرکین مکہ سے ملے اور ان سے متفق ہوئے اور ان کی خاطر داری کی ضرورت سے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے اور اس کی وجہ صرف حسد تھا اس پر کہ نبوت اور دین کی ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ ان آیات میں اسی کا مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 جبت اور طاغوت جبت دراصل اوہام و خرافات کے لیے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، جنتر منتر سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات، فال گیری، گنڈے، نقش اور تعویذ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ اور طاغوت ہر وہ باطل قوت اور نظام ہے جس کی اطاعت کرنے پر لوگ مجبور ہوں اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں انہیں اس فرد، ادارہ یا حکومت کی اطاعت کرنے پر مجبور کیا جائے یا مجبور بنادیا جائے اور لوگ انہیں احکام الٰہیہ کے علی الرغم تسلیم کرلیں۔ یہ گاؤں کے چودھری بھی ہوسکتے ہیں، پیر و مشائخ بھی، سوشلزم یا جمہوریت کی طرح باطل نظام بھی۔ اور فرعون و نمرود کی طرح سرکش بادشاہ بھی۔ خ یہود کا مشرکوں کو مسلمانوں سے بہتر قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

164 ۔ یعنی یہود، اور کتاب سے مراد کتاب الہی یا توریت ہے۔ 165 ۔ (آیت) ” الجبت “۔ جبت کا اطلاق تو اللہ کے سوا ہر معبود پر ہوتا ہے۔ یقال لکل ما عبد من دون اللہ جبت (راغب) لیکن خصوصیت کے ساتھ اس کا استعمال ساحروں اور کاہنوں کے لئے ہوتا ہے۔ سمی الساحر والکاھن جبتا (راغب) صحابہ اور تابعین دونوں سے یہ معنی منقول ہیں۔ قال عمر ؓ الجبت السحر (ابن جریر) قال ابن عباس وابن جبیر وابو العالیۃ الجبت الساحر (قرطبی) یہود میں عملیات کا اور سحر، کہانت، نجوم، وغیرہ علوم سفلی کا ذوق ابتدا سے چلا آرہا ہے، جیسا کہ پارۂ اول میں آیۃ (آیت) ” واتبعوا ما تتلوا الشیطین “ کے تحت میں دکھایا جاچکا ہے۔ جبت کا لفظ لا کر عجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–57

ترجمہ : اور علماء (یہود) میں سے کعب بن اشرف جیسوں کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، جب یہ لوگ مکہ آئے اور مقتولین بدر کا مشاہدہ کیا اور مشرکین کو اپنے مقتولوں کے خون کا بدلہ لینے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ کیا، کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، (اس کے باوجود) بت اور شیطان پر ایمان پر رکھتے ہیں، (جِبت اور طاغوت) قریش کے دو بتوں کے نام ہیں، اور کافروں یعنی ابوسفیان اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہتے ہیں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ہم راہ راست پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ حال یہ کہ ہم بیت اللہ کے متولّی ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یومنون بالجبت الطاغوت . کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کو اللہ کی کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ بتوں پر اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں۔ بیہقی نے دلائل میں اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے حوالہ سے لکھا ہے اور جبت وطاغوت کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ جبت وطاغوتدو بت تھے مشرک ان کی پوجا کرتے تھے اس کی تائید مذکورۂ بالا قصہ سے ہوتی ہے۔ عکرمہ کا ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ حبشی زبان میں جبت کا معنی ہے شیطان۔ میں کہتا ہوں شاید بت کا نام اسی کے نام پر رکھ دیا گیا ہو۔ ابو عبیدہ ؓ : کا بیان ہے کہ جبت وطاغوت اللہ کے علاوہ ہر باطل معبود کو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–52

(51۔ 52) محمد ﷺ آپ نے مالک بن صیف اور اس کے ساتھیوں کو (جن کی تعداد تقریبا ستر ہے) نہیں دیکھا کہ یہ لوگ حی بن اخطب اور کعب بن اشرف کی باتوں کو مانتے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ کفار مکہ حضور ﷺ کے پیروکاروں کی نسبت کے زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (نعوذ باللہ) ان کی اس گستاخانہ روش کے سبب ان لوگوں پر جزیہ نافذ کردیا گیا اور جن پر اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں عذاب نازل فرمائے تو اللہ کے مقابلے میں ان کی عذاب الہی سے کون حفاظت کرسکتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین اوتوا“۔ (الخ) احمد اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب کعب بن اشرف یہودی مکہ آیا تو قریش نے اس سے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 51–52

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ۔۔ : عمر فاروق ؓ نے فرمایا : ”جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ) قبل : 4583، معلقًا ] جوہری نے الصحاح میں فرمایا : ”جبت“ کا لفظ بت، کاہن، جادوگر اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر استعمال ہوتا ہے۔“ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ”پرندوں کو اڑا کر شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گیری کرنا جبت میں شامل ہے۔“ [ أبو داوٗد، الطب، باب فی الخط وزجر الطیر : 3907 ] اور طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص جو گناہ کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–53

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–53

مشرکین کی تعریف باعث لعنت ہے (1) الطبرانی و بیہقی نے دلائل میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے حلف لیا رسول اللہ ﷺ سے لڑائی لڑنے پر قریش نے ان سے کہا تم لوگ قدیم علم والے ہو اور اہل کتاب ہو ہم کو ہمارے بارے میں اور محمد ﷺ کے بارے میں بتاؤ یہودیوں نے کہا بتاؤ تمہارے کیا کام ہیں اور محمد ﷺ کے کیا کام ہیں قریش نے کہا ہم بڑی کو ہانوں والے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ہم پانی پر دودھ پلاتے ہیں ہم غلام آزاد کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں یہودیوں نے پوچھا محمد ﷺ کیا کرتے ہیں تو انہوں نے کہا وہ لاوارث آدمی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان کی طرف جن کو ] [ اُوْتُوْا : دیا گیا ] [ نَصِیْبًا : ایک حصہ ] [ مِّنَ الْکِتٰبِ : کتاب سے ] [ یُـؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لاتے ہیں ] [ بِالْجِبْتِ : توہمات پر ] [ وَالطَّاغُوْتِ : اور طاغوت پر ] [ وَیَـقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں ] [ لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ ہٰٓؤُلَآئِ : کہ یہ لوگ ] [ اَہْدٰی : زیادہ ہدایت پر ہیں ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ سَبِیْلاً : بلحاظ راستے کے ] ج ب ت (x) : اس مادہ سے کوئی فعل استعمال نہیں ہوا۔ جِبْتٌ : انتہائی نکمی اور ناکارہ چیز۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں کی جسارت جنہوں نے شرک کو توحید سے افضل بتا دیا لباب النقول صفحہ 71 میں اس آیت کا شان نزول بتاتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں کے علماء اور رؤساء جو قبیلہ بنی نضیر میں سے تھے مکہ معظمہ پہنچے۔ قریش مکہ نے آپس میں کہا کہ یہ لوگ علماء یہود ہیں پہلی کتابوں کا بھی علم رکھتے ہیں۔ ان سے دریافت کرو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین بہتر ہے ؟ چناچہ انہوں نے علماء یہود سے دریافت کیا۔ ان لوگوں نے (یہ جانتے ہوئے کہ قریش مکہ مشرک ہیں اور دین ابراہیمی کو چھوڑ چکے ہیں اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ حق پر ہیں واقعی اللہ کے نبی ہیں) جواب میں کہہ دیا کہ تم لوگ محمد سے اور ان کا اتباع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–52

مذمت یہود برعداوت اسلام وحسد برمسلمین قال تعالی، الم تر الی الذین اوتوا نصیبا۔۔۔ الی۔۔ نصیرا۔ آیت۔ ربط) اوپر کی آیت میں یہود کی شرارت اور خباثت کا بیان تھا اب اس آیت میں یہود کی ایک اور قباحت اور خباثت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہود کو اسلام سے اس درجہ عداوت ہے کہ مشرکین کو موحدین پر ترجیح دیتے ہیں یہودیوں کو جب نبی سے عداوت بڑھی تو یہود خیبر کے علماء اور روسا کا ایک وفد جو ستر آدمیوں پر مشتمل تھا اس غرض سے مکہ آیا کہ قریش کے ساتھ آپ سے مقابلہ اور مقاتلہ کرنے کے لیے عہد کرلے اور قریش نے وفد یہود کی بہت خاطر تواضع کی اور قریش نے یہ اطمینان دلایا کہ ہم تاحد امکان تمہارے ساتھ ہو کر محمد کے ساتھ لڑنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

39 یہ بھی اہل کتاب کو زجر ہے وہ شیطان اور اصنام کی عبادت کرنیوالوں کو ہدایت یافتہ کہتے تھے اور اَلْجِبت سے بت اور ہر معبود غیر اللہ مراد ہے اور اَلطَّاغُوْتُ سے مراد شیطان ہے جو بتوں میں کلام کرتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ بت بول رہا ہے۔ الجبت الاوثان والطاغوت شیاطین الاوثان و لکل صنم شیطان و یعبر عنہ فیغتر بہ الناس (معالم) سے متعلق ہے اور وَ یَقُوْلُوْنَ میں واو تفسیری ہے اور یَقُوْلُوْنَ ، یُؤْمِنُوْنَ کی تفسیر ہے۔ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بت پرستی شرک ہے لیکن اس کے باوجود بت پرستی اور بت پرستوں کی نہ صرف حمایت کرتے تھے بلکہ ان مشرکوں کو مومنوں سے بہتر سمجھتے تھے تو ان کا یہ فعل محض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–53

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی قباحتوں کا تذکرہ کر کے ان کی مذمت بیان فرمائی تھی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، یہاں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جو انہوں نے کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کی۔ جھوٹ ، مکر اور فریب ان کی سرشت میں داخل تھا۔ اللہ کے نبی کے ساتھ دشمنی اور پھر آپ کی توہین کرنا ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔ سورۃ نساء کے بعد اگلی سورة مائدہ میں بھی یہ ذکر موجود ہے کہ اہل اسلام کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں ، اور ان کے بعد پھر مشرک اور نصاریٰ درجہ بدرجہ آتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” لتجدن اشد الناس عداوۃً للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا “ یعنی اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ہٰٓؤُلَاۗءِ اَہْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا۝ 51 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–53

ترکیب : کیف یفترون منصوب ہے یفترون کے سبب اور جملہ محلا منصوب ہے انظر کی وجہ سے ویقولون معطوف ہے یؤمنون پر للذین کفروا متعلق ہے یقولون سے ھولاء مبتداء اھدیٰ خبر جملہ مقولہ۔ تفسیر : پہلی آیات میں یہود پر ان کی بد افعالیوں کے سبب عتاب تھا جس کو وہ اپنے انبیائے خاندان کے سبب قابل التفات نہ سمجھتے تھے اور اس پر بھی تقدس کا دم بھرتے تھے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ تقدس ہمارا موروثی حق ہے اور ہم ابراہیم و اسحاق کی نسل ہیں جن پر آتش دوزخ ازخود حرام ہے اور ہم رات کو گناہ کرتے ہیں تو صبح تک خودبخود پاک ہوجاتے ہیں اور دن کو کرتے ہیں تو شام تک پاک ہوجاتے ہیں اور نصاریٰ میں بھی پولوس کا یہ قول کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–53

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓـؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ط وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَـہٗ نَصِیْرًا ط (کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا ؟ یہ جِبْت اور طَاغُوْت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پرتو یہ ہیں یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے تو تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاسکتے) (النسآء : 51…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب کے کردار کی مزید تفصیل اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی عبادت اور اطاعت کی جائے وہ طاغوت کی عبادت اور اطاعت ہوگی۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کو وقتی طور پر ہزیمت اٹھانی پڑی لیکن اس کے باوجود یہودی سمجھتے تھے کہ مسلمان دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے مدینے کا ایک وفد کعب بن اشرف کی سر کردگی میں مکہ معظمہ پہنچا تاکہ کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جاسکے۔ لیکن ابو سفیان اور اہل مکہ یہودیوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ جب تک تم ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اکٹھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 51: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ (کیا تم نے غور کیا ان لوگوں کی حالت پر جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا) یعنی یہود یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ (وہ بتوں پر ایمان لاتے ہیں) الجبتہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔ وَالطَّاغُوْتِ (اور شیطان) وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ ءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا سَبِیْلًا (اور وہ کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں) اس کا واقعہ اس طرح ہے حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف دونوں یہودی سردار ایک یہودی جماعت کے ہمراہ مکہ گئے۔ تاکہ قریش سے رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(جبت اور طاغوت کی شرح) (تفسیر) 51۔ـ: (آیت)” الم تر الی الذین ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بالجبت والطاغوت “۔ جبت اور طاغوت کی شرح میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے، عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ یہ دو بتوں کا نام ہے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، ابوعبیدہ ؓ کا قول ہے کہ اللہ کے علاوہ ہر باطل معبود کو کہتے ہیں (آیت)” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ جبت سے مراد جادو ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے ، یہ قول امام شعبی (رح) اور مجاہد (رح) کا ہے ۔ بعض نے کہا کہ جبت بتوں کو کہتے ہیں اور طاغوت شیطان کے بتوں کو کہتے ہیں اور ہر بت کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ، محمد بن سیرین اور مکحول کا بیان ہے ، کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–52

(51 ۔ 52) ۔ مسند امام احمد تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ اور قتادہ کی روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب یہود لوگ احزاب کی لڑائی کے لئے قریش کو رغبت دلانے کے لئے مکہ کو گئے اس وقت قریش نے حی بن اخطب اور کعب بن اشرف یہود کے سرداروں سے پوچھا کہ تم اہل کتاب ہو بھلا یہ تو بتاؤ کہ ہم لوگ حق پر ہیں یا محمد اور ان کے ساتھی حق پر ہیں اس وقت یہود کی یہ غرض قریش کے متعلق تھی کہ کسی طرح قریش کو بہکا کر جنگ احزاب پر لایا جائے اس لئے ان یہود کے سرداروں نے کہا کہ تمہارا دین اچھا ہے۔ اور تم حق پر ہو اس پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–57

آیت 51-57 یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–53

قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

126 یہود کی بدبختی کا ایک نمونہ : کہ ان لوگوں کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا مگر یہ ہیں کہ اس کے باوجود یہ بتوں اور شیطانوں پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ ایمان والوں کی مقابلے میں کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ زیادہ راست رو ہیں۔ جیسا کہ یہود کے سردار کعب بن اشرف نے مشرکین قریش کے سوال کے جواب میں کہا تھا، یہاں تک کہ اس نے مشرکین کی خاطر ان کے بت کے سامنے سجدہ بھی کرلیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ یہ لوگ اہل کتاب ہونے اور عقیدہ توحید کے علمبردار ہونے کے مدعی تھے۔ (ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور دشمنی میں یہود اسقدر اندھے اور اوندھے ہوگئے تھے کہ کھلم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–55

یہود کا جھوٹ تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–57

آیات 51 تا 52 ۔ الم تر الی الذین ۔۔۔۔ نصیرا۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھئے جنہیں کتاب الہی نصیب ہوئی کہ احقاق حق کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اتنی بڑی نعمت ہے کہ انسان اس کی عظمت کا انداز تک نہیں کرسکتا جس کی خاطر انبیاء مبعوث کیے جاتے ہیں کہ کوئی غیر نبی کلام الہی کو وصول کرنے کی تاب ہی نہیں رکھتا جس کا کمال یہ ہے کہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے معصوم عن الخطا ہوتا ہے کہ کلام الہی کے حصول کیلئے یہ تقدس شرط ہے پھر جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے فوراً کفر کی ساری ظلمت دور ہو کر اس کا سینہ منور ہوجاتا ہے اور قدم قدم پر اسے نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ تائید باری بھی برابر حاصل ہوتی ہے مگر انانیت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 50–51

ف 5 الجبت بت کو کہتے ہیں اور جادوگر کاہن ٹونے ٹوٹکے اور اس قسم کی سب چیزیں الجبت میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے اطیر ۃ والعیافتہ والطرق من الجبت شگون لینا پرندوں کو اڑاکر اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گری کرنا جنت میں شامل ہیں اور الطاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص معاصی کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے ان کو طاغوت کہا جاتا تھا (کبیر)6 یہودیوں کی آنحضرت ﷺ سے مخالفت ہوئی تو انہوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کرلیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمہارا دین مسلمانوں سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:51) جبت۔ بت۔ جادوگر شیطان ۔ جادو۔ جبت اور طاغوت سے ہر وہ جنس مراد ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کی جاوے۔ خواہ وہ بت ہو یا آدمی ہو یا جن۔ یا شیطان طاغوت۔ شیطان ۔ حق سے روکنے والا۔ بت ۔ معبود باطل۔ سرکش۔ سخت۔ طاغی۔ طغی مادہ۔ طغی یطغی طغیانا۔ سرکشی کرنا۔ اطغاہ (افعال) اسے سرکشی طغیان پر اجارا۔ ان الانسان لیطغی۔ بیشک انسان سرکش ہوجاتا ہے ھولائ۔ مراد الذین کفروا۔ و۔ یقولون للذین کفروا۔ کافروں سے کہتے ہیں کہ انتم ھولاء اھدی ۔۔ سبیلا۔ تم ہی وہ لوگ ہو جو ایمان سے زیادہ راہ راست پر ہو (الخازن)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–57

آیت نمبر 51-57 لغات القرآن : الجبت، بت، ساحر، دیوتا، اوھام۔ الطاغوت، شیطان (اور شیطانی قوتیں) ۔ اھدی، زیادہ ہدایت پر۔ لایؤتون، وہ نہیں دیں گے۔ نقیر، تل برابر، ذرہ برابر۔ یحسدون، وہ حسد کرتے ہیں، جلتے ہیں۔ صد، وہ رک گیا۔ نضجت، جل گئی (جل جائیں گی) ۔ جلود، کھالیں، (بدن کی کھال) ۔ لیذوقوا، تاکہ وہ چکھیں۔ ظلال ظلیلا، گھنا سایہ، گھنی چھاؤں۔ تشریح : یہود کے علماء کا ذکر ہے ۔ بیشک وہ الکتاب کا علم رکھتے تھے مگر مختصر، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علم ایمان کی گارنٹی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کہ عالم مومن بھی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیاوی علوم کے ماہر ہوتے ہیں مگر وہ عقیدہ کی بہت سی گندگیوں میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–52

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بےایمانی کے دیکھنے کے قابل ہے کہ دنیا کی ایک غرض کے سبب سے انہوں نے اہل کتاب ہوکر شرک کو توحید سے اور مشرکوں کو موحدوں سے سے اچھا بتلایا ۔ ایسے بےایمانوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جس پر اللہ کی پھٹکار ہو اس طکو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 51–54

[43] جبت سے مراد اعمال سفلیہ ہیں مثلاً جادو، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، فال گیری وغیرہ۔ [44] طاغوت کی تشریح سورة بقرہ آیت 257 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔ [45] یعنی مشرکین عرب کی نسبت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–51

تین بڑے بڑے عیب : (ف 3) یوں تو یہودی دین فطرت سے کوسوں دور تھے اور ان کی کوئی بات بھی دینی اور مذہبی نہ تھی ، مگر ان کو ہمیشہ یہ وہم رہتا کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں سے بہتر و افضل ہیں ، وہ علی الاعلان کہتے ۔ (آیت) ” نحن ابنآء اللہ واحبآء ہ “ کہ ہم خدا کے فرزند اور مقرب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، اس تزکیہ نفس اور کبر کی تمہیں اجازت نہیں ۔ دوسرا عیب ان میں یہ تھا کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے لئے تورات کے احکام بدل دیتے ۔ تیسری برائی مداہنت کی برائی تھی ، وہ مشرکین مکہ کے احوال عواطف کا ہمیشہ ساتھ دیتے اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنے اصول دینیہ کی بھی چنداں پروانہ کرتے ۔ حل لغات : ادبار : جمع دبر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 50–51

ف 1 اے پیغمبر ! کیا آپنے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جو اپنے کو مقدس بتاتے اور بڑے پاکباز بنتے ہیں حالانکہ اپنے کہنے سے کوئی پاکیزہ اور پاکباز نہیں بنا کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے مقدس اور پاکیزہ کر دے اور ان پر ایک تاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا بھلا دیکھیے تو یہ اللہ تعالیٰ پر کیسا جھوٹ افترا کرتے ہیں ان کے صریح مجرم اور گناہ گار ہونے کے لئے کافی ہے۔ (تیسیر) اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں خطاب عام ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کے اس خیال کو رد کرنا مقصود ہے جو انہوں نے اپنے متعلق قائم کر رکھا تھا جیسا کہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–53

ف 2۔ کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایاتو بت اور شیطان کی تصدیق صاف لازم آئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ جن کو کتاب اللہ دی گئی لیکن اس کے باوجود شرک کے مرتکب ہوئے : 103: اس آیت میں ایک دوسرے گروہ کے شرک کا بیان ہے جو کتاب اللہ کے حامل ہونے کے باوجود جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اعمال سفایہ کے عامل بھی ہیں اور ان پر عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ اعمال سفایہ کیا ہیں ؟ وہی دھوکا اور فریب کاریاں جو پچھلے لوگ کرتے آئے ہیں وہ یہ بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کا اصل تعلق بیشتر شیطانی قوتوں اور ارواح خبیثہ سے ہوتا ہے اور انہی کو اس جگہ طاغوت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جو لوگ ان اعمال کے درپے ہیں اول تو وہ ارواح خبیثہ کو بالذات موثر مانتے ہیں پھر ان سے تعلق پیدا کرنے اور ان کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

A description of the evil traits of Jews has been appearing from the previous verse beginning with: أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يَشْتَرُ‌ونَ الضَّلَالَةَ. The present verses also deal with the same subject. 1. Jibt: Originally, the name of an idol which was also used later on for every false god as well as for sorcery. 2. Taghut: Literally signifies the arrogant. It is ai. used for Satan, and for evil and falsehood. it variously. Sayyidna Ibn ` Abbas, Ibn Jubayr and Abu al-` Aliyah Commentary What is Jibt جِبت and Taghut طَاغوت ? Two words, 'al-Jibt' and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 51–52

81. Jibt signifies 'a thing devoid of any true basis and bereft of all usefulness'. In Islamic terminology the various forms of sorcery, divination and soothsaying, in short all superstitions, are termed jibt. It is reported in a tradition that, 'to divine things from the cries of animals, or the traces of animals' paws, or the flight of birds, constitutes jibt. Thus, jibt may be roughly translated as 'superstition'. (See Abu Da'ud, Tibb', 23; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 3, p. 477 and vol. 5, p. 60 - Ed.) 82. For explanation see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, nn. 286 and…

Read the full tafseer →