Explained with ayahs 47–50
قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر
اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ میں نے اپنی زبردست کتاب اپنے بہترین نبی کے ساتھ نازل فرمائی ہے جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کردیں یعنی منہ بگاڑ کردیں آنکھیں بجائے ادھر کے ادھر ہوجائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے چہرے مٹادیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہوجائے۔ یہ عذاب ان کے بد اعمال کا بدلہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں بایں ہمہ اللہ تعالیٰ انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اب بھی باز آجاؤ اور اپنے سے پہلے ایسی حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
سورة النِّسَآء 79
یہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب اگرچہ انبیاء اور کتب آسمانی کی پیروی کے مدعی تھے مگر شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔
سورة النِّسَآء 80
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی بس شرک نہ کرے باقی دوسرے گناہ دل کھول کر کرتا رہے۔ بلکہ دراصل اس سے یہ بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے کہ شرک، جس کو ان لوگوں نے بہت معمولی چیز سمجھ رکھا تھا، تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے حتٰی کہ اور گناہوں کی معافی تو ممکن ہے مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ معاف نہیں کیا جاسکتا۔ علماء یہود شریعت کے چھوٹے چھوٹے احکام کا تو بڑا اہتمام کرتے تھے، بلکہ ان کا سارا وقت ان جزئیات کی ناپ تول ہی میں گزرتا تھا جو ان کے فقیہوں سے استنباط در استنباط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونیکا دعویٰ جائز نہیں
قولہ تعالیٰ الم ترا الی الذین یزکون انفسھم یہود اپنے آپ کو مقدس بتلاتے تھے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو اپنی پاکی بیان کر رہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے، یہ ممانعت تین وجہ سے ہے
(1) اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔
(2) یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقوی و طہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لئے اپنے آپ کو مقدس بتلانا خلاف خوف الٰہی ہے، چناچہ ایک روایت میں حضرت زینب بنت ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔
چہروں کو مسخ کردینے کی علت : ’ طمس الشیء ‘ کے معنی ہیں کسی شے کے آثار و علامات کو مٹا دینا۔ چہروں کو مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ، کان، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیے جائیں اس لیے کہ اللہ نے یہ قوتیں نہایت اعلی مقصد سے بخشی تھیں لیکن جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ عطا ہوئیں تھیں بلکہ اس کے بالکل برعکس…
Read the full tafseer →50۔ 1 یعنی مذکورہ دعوائے تزکیہ کرکے۔
50۔ 2 یعنی ان کی یہ حرکت اپنی پاکیزگی کا ادعا ان کے جھوٹ افزا کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت اور اس کے شان نزول کی روایات سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کی مدح و توصیف بالخصوص تزکیہ نفوس کا دعویٰ کرنا صحیح اور جائز نہیں۔ اسی بات کو قرآن کریم کے دوسرے مقام پر اسی طرح فرمایا، (فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى) 53:32 اپنے نفسوں کی پاکیزگی اور ستائش مت کرو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تم میں متقی کون ہے ؟ حدیث میں ہے حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دیں " ان نحثو فی وجوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
36: یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری عمل سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے ؛ کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔
یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان…
Read the full tafseer →7 یعنی کیسی تعجب کی بات ہے کہ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور باوجود ارتکاب کفر اور شرک کے اپنے آپ کو اللہ کا دوست کہتے ہیں اور اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کے مدعی ہیں اور ایسی سخت تہمت صریح گنہگار ہونے کے لئے بالکل کافی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 50 اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا
یعنی ان کی گرفت کے لیے اور ان کو عذاب دینے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے جو انہوں نے گھڑی ‘ ہے۔
Read the full tafseer →82 یعنی ان کا اپنے منہ سے ایسی باتیں کہنا بالکل جھوٹ ہے جو انہوں نے خود گھڑ کر اللہ کے ذمہ لگا دیا ہے ان کے دوسرے گناہوں کو تو چھوڑیے اکیلا یہ گناہ ہی ان کے فی الواقع گناہگار ہونے کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →163 ۔ (تو ایسے صریح جرم پر ایسی سزا کیا کچھ ظلم و زیادتی ہے ؟ ) (آیت) ” بہ “۔ میں ضمیر افتراء یعنی افتراء علی اللہ کی جانب ہے۔ والضمیر فی بہ عائد علی الافتراء وھو الذی ان کر علیہم (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
الم تَرَالی الذین اوتوانصیباً من الکتاب، (الآ یة) علماء اہل کتاب کے متعلق قرآن نے اکثر یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ '' انھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے '' اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو انہوں نے کتاب الہٰی کا ایک بڑا حصہ گم کردیا تھا، پھر کتاب الہٰی کا جو کچھ حصہ ان کے پاس موجود تھا اس کی روح اور اس کے مقصد و مدعا سے وہ بیگانے ہوچکے تھے۔
یُحَرِّ فون الکلمَ عن مواضعہ، اس کے تین مطلب ہیں، ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردوبدل کردیتے، دوسرے یہ کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب اللہ کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے، تیسرے یہ کہ لوگ محمد ﷺ کی صحبت میں آکر آپ کی باتیں سنتے اور واپس جا کر غلط طریقہ سے بیان…
Read the full tafseer →انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب .(اے محمد ﷺ دیکھو (یہودی) اللہ پر کیسی دروغ بندی کرتے ہیں کہ اپنے کو اللہ کا بیٹا اور چہیتا قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دن کے گناہ رات کو اور رات کے گناہ دن کو معاف کردیئے جاتے ہیں۔
وکفی بہ اثما مبینا . اور یہ افتراء بس گناہ کی انتہا ہے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے اس کو غلط قرار دینے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے اس کا گناہ ہونا بالکل بدیہی ہے کفی سے پہلے قدمحذوف ہے اور پورا جملہ یفترونکے فاعل سے حال ہے۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ واقعۂ احد کے بعد کعب بن اشرف ستر یہودیوں کو لے کر قریش کے پاس مکہ کو گیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش سے امداد و حمایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) یعنی بحیر ابن عمرو اور مرحب بن زید اپنے آپ کو مقدس بتاتے ہیں حالانکہ جو شخص اس کا اہل ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے پاک کردے گا، اور کھجور کی گٹھلی میں جو لیکر ہے یا انگلی کے درمیان جو میل کی دھاری سے پڑجاتی ہے، اس کے برابر بھی ان کے گناہوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔
محمد ﷺ ذرا ان کا جھوٹ تو دیکھیے کہ کہتے ہیں کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور جو رات کو کرتے ہیں تو دن میں ان کو معاف کردیتا ہے ان کا اللہ پر یہ غلط گمان ان کے مجرم ہونے کے لیے کافی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین یزکون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت یا…
Read the full tafseer →وَكَفٰى بِهٖٓ اِثْمًا مُّبِيْنًا : یعنی ان کے یہ جھوٹے دعوے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہی ان کے سخت گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر
اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(1) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود نے کہا ہمارے بیٹے جو فوت ہوچکے ہیں وہ ہم کو قریب کرنے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور عنقریب وہ ہماری سفارش کریں گے اور ہم کو پاک کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ (الآیہ) ۔
(2) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود اپنے بچوں کو آگے رکھنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور اپنی قربانیوں کے قریب رکھنے اور یہ خیال کرتے تھے کہ اب ان کی کوئی خطا (باقی) نہیں ہے اور نہ کوئی گناہ (باقی ہے) اور انہوں نے جھوٹ بولا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں گناہ والے کو پاک…
Read the full tafseer →[ اُنْظُرْ : تو دیکھ ] [ کَیْفَ : کیسے ] [ یَفْتَرُوْنَ : وہ گھڑتے ہیں ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ الْکَذِبَ : جھوٹ ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِہٖٓ : وہ ] [ اِثْمًا مُّبِیْنًا : بطور واضح گناہ کے ]
نوٹ 1 : کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مذکورہ آیت 47 کے نزول کے بعد بیشمار یہود و نصاریٰ ایمان نہیں لائے پھر بھی مذکورہ عذاب نازل نہیں ہوا۔ یہ سوال قرآن مجید کے طرز بیان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کا کہنا ہے کہ سرے سے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ کیونکہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ عذاب ضرور واقع ہوگا ‘ بلکہ اس کے امکان کا ذکر ہے ۔ (منقول…
Read the full tafseer →پھر فرمایا : (اُنْطُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) کہ ان کا یہ قول سراسر صریح بہتان ہونے کے لیے کافی ہے، اپنے جھوٹے دعوؤں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں کہ ہم اس کے نزدیک محبوب اور مقبول ہیں۔
تزکیہ نفس کی ضرورت اور اہمیت :
اپنے نفس کو رذائل سے اور برے اخلاق سے پاک صاف کرنا چاہیے اور یہ بہت مبارک عمل ہے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے کا رہائے نبوت میں (یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِیْھِمْ ) فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے موافق جو شخص اپنے نفس کو رذائل سے اور برے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرے اللہ تعالیٰ نے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
یہود کے دعوائے تقدس کی تردید۔
قال تعالی، الم تر الی الذین۔۔۔ الی۔۔۔ اثما مبینا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں یہود کا حال بیان کیا کہ وہ کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث اور آلودہ ہیں اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہود باوجود ان خرابیوں کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس کہتے ہیں کہ کبھی یہ کہتے ہیں، نحن ابناء اللہ واحباہ۔ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کو چہیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ لن یدخل الجنۃ۔۔۔ الی۔۔ ھودا۔ یعنی جنت میں سوائے یہود کے کوئی اور داخل نہ ہوگا اور کبھی یہ کہتے ہیں، لن تمسناالنار الاایاما معدودہ یعنی سوائے چند روز کے دوزخ کی آگ ہم کو چھوئے گی نہیں ہمارے باپ دادا نبی تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
38 یہ اہل کتاب کو زجر ہے جو اپنی صفائی اور پاکیزگی کے دعوے کرتے تھے۔ حضرت قتادہ اور حسن فرماتے ہیں یہ آیت ان یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءہ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں نیز کہتے تھے لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نصَاریٰ یعنی جنت میں یہود و نصاریٰ کے بغیر کوئی نہیں جائیگا (قرطبی ج 5 ص 246 و روح ج 5 ص 54) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کا ابطال فرمایا کہ ان کے اپنی پاکیزگی اور طہارت کے یہ دعوے سب غلط ہیں۔ پاک و طاہر تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے ایمان وعمل کی بنا پر پاک فرمائے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
رابط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کی بعض قبیح خصلتوں کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ حق و صداقت کے مقابلے میں باطل پرستی کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ کی کتاب کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ، بلکہ اللہ کے نبی کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زبان کو پیچ دیکر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور دین میں طرح طرح کی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ آب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو وعید سنائی ہے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لے آؤ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری شکلیں بگاڑدی جائیں اور تم پر اس طرح لعنت بھیجی جائے جس طرح اصحاب سبت پر بھیجی گئی اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ ان…
Read the full tafseer →اُنْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ 0ۭ وَكَفٰى بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِيْنًا 50ۧ
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ترکیب : کیف یفترون منصوب ہے یفترون کے سبب اور جملہ محلا منصوب ہے انظر کی وجہ سے ویقولون معطوف ہے یؤمنون پر للذین کفروا متعلق ہے یقولون سے ھولاء مبتداء اھدیٰ خبر جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہود پر ان کی بد افعالیوں کے سبب عتاب تھا جس کو وہ اپنے انبیائے خاندان کے سبب قابل التفات نہ سمجھتے تھے اور اس پر بھی تقدس کا دم بھرتے تھے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ تقدس ہمارا موروثی حق ہے اور ہم ابراہیم و اسحاق کی نسل ہیں جن پر آتش دوزخ ازخود حرام ہے اور ہم رات کو گناہ کرتے ہیں تو صبح تک خودبخود پاک ہوجاتے ہیں اور دن کو کرتے ہیں تو شام تک پاک ہوجاتے ہیں اور نصاریٰ میں بھی پولوس کا یہ قول کہ…
Read the full tafseer →اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ ط وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا ع
(دیکھئے ! یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور صریح گناہ ہونے کے لیے تو یہی کافی ہے) (النسآء : 50)
اس سے پہلے کی آیت میں ان کے جس شرک کی مثال دی گئی ہے جس شرک کی وجہ سے ان کی پوری زندگی عمل اور اطاعت کی ذمہ داریوں سے بےگانہ ہو کر رہ گئی ہے، اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا ہے کہ ذرادیکھئے ! یہ اپنے اس شرک کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ انھوں نے جس طرح اپنے آپ کو عمل کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا ہے اسے اپنی بےعملی یا بےدینی ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ نے اپنے چہیتا ہونے کی سند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کا زعم ہے کہ ہم انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی بنا پر پوری دنیا سے ممتاز اور پاک لوگ ہیں اور عیسائی سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔
یہاں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے ہر آدمی کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگوں سے نسبت کی بنیاد یا کسی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ ہر آدمی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے یا کسی کے ساتھ عقیدت و محبت کی بنیاد پر آدمی پاک دامن نہیں ہوجاتا۔ جب تک وہ عقیدے کے اعتبار سے موحّد اور عمل کے لحاظ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی پیروی کرنے والا نہ…
Read the full tafseer →آیت 50 : اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (غور کرو۔ یہ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) اپنے خیال کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاکیزہ ہیں۔ وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا (اس افتراء کا کھلا گناہ ہونا ظاہر ہے) یعنی ان کے تمام گناہوں میں یہ تزکیہ والا زعم گناہ ہونے کے اعتبار سے کافی ہے (کسی دلیل کا محتاج نہیں) ۔
Read the full tafseer →50۔ ” انظر “ خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے (آیت)” کیف یفترون علی اللہ “۔ وہ اللہ پر کیسے اختلاف کرتے ہیں ۔ ” الکذب “ کتاب کے اندر ردوبدل کرکے ۔ ” وکفی بہ “ یہ جھوٹ گناہ کی انتہاء ہے ۔ (آیت)” اثما مبینا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49 ۔ 50) ۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے اللہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہود ایک دفعہ کچھ اپنے چھوٹے بچوں کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے اور پوچھا کیا لڑکے گنہگار ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر یہود نے کہا ہم بھی ان لڑکوں کی مانند ہیں۔ جو گناہ ہم دن کو کرتے تھے ہیں وہ تورات کو اور جو رات کرتے ہیں وہ دن کو معاف ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا غیب کا علم اللہ کو ہے کہ مرنے کے بعد کس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ لوگ جو زبردستی اپنے آپ کو بےگناہ بچوں کی طرح سے عذاب آخرت سے بری بتاتے ہیں یہ اللہ کی شان میں ان کا ایک صریح جھوٹ ہے عقبٰی میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہ ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہود و نصاریٰ وغیرہ کے لئے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں۔ یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لئے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاری یہ دعویٰ کرتے تھے (نحن ابنوا اللہ واحبآء ہ) (المائدۃ :18/5) ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں “۔ وہ کہا کرتے تھے (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً او نصریٰ ) (البقر 1:111/2) ” جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو یہودی یا نصرانی ہوگا۔ “ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم…
Read the full tafseer →125 اللہ پر جھوٹ باندھنے کے جرم کی شدت و ہولناکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافی ہے [ ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے لیے ] یہ کھلم کھلا گناہ۔ یعنی اللہ پر جھوٹ گھڑنا اتنا بڑا شدید اور سنگین جرم ہے، کہ ایسے جرم کے مرتکب کی تباہی و بربادی کیلئے کسی اور جرم کی ضرورت ہی نہیں۔ یہی گناہ ایسے لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کیلئے کافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ پر افتراء میں صحت کا کوئی شائبہ بھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ ایسے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنی صاحبزادگی اور بڑائی کا دعویٰ کرنا، اور اپنی پاکیزگی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
یہود کا جھوٹ
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر 48 تا 50: ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔ وکفی بہ اثما مبینا۔
اللہ کریم اپنی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے والے کو کبھی نہیں بخشتے اس کے لیے سزا پا کر بھی کبھی عذاب ختم نہ ہوگا کہ یہ بہت بڑا ظلم اور انتہائی بڑا جرم ہے علم میں کسی کو اللہ کی طرح غیب دان جاننا یا نفع و نقصان پہنچانے والا گمان کرنا یا اللہ کی طرح کسی اور کی عبادت کرنا یہ ایسے جرائم ہیں کہ اللہ کی بخشش سے ہمیشہ کیلئے محروم کردیتے ہیں بعض اوقات کیا اکثر اوقات ہم اللہ کی اطاعت چھوڑ کر بعض انسانوں کی اطاعت کرتے ہیں اس کے پیچھے یا ان کا خوف ہوتا ہے یا ان سے کسی نفع کی امید یہی شرک کی اصل ہے ہاں انبیاء اور صلحاء کی اطاعت اس لیے شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 5 الجبت بت کو کہتے ہیں اور جادوگر کاہن ٹونے ٹوٹکے اور اس قسم کی سب چیزیں الجبت میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے اطیر ۃ والعیافتہ والطرق من الجبت شگون لینا پرندوں کو اڑاکر اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گری کرنا جنت میں شامل ہیں اور الطاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص معاصی کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے ان کو طاغوت کہا جاتا تھا (کبیر)6 یہودیوں کی آنحضرت ﷺ سے مخالفت ہوئی تو انہوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کرلیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمہارا دین مسلمانوں سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ…
Read the full tafseer →(4:50) وکفی بہ اثما مبینا۔ اور یہی کھلا گناہ ہے ب زائد ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب یہ جملہ یفترون علی اللہ الکذب کے لئے ہے جو اس جملہ میں فاعل ہے۔ نیز ملاحظہ ہو (4:45) اور یہی افتراء علی اللہ ان مفریوں کے لئے بطور ایک صریح گناہ کے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر 48-50
لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ان یشرک، یہ کہ شریک کیا جائے۔ مادون ذلک، اس کے علاوہ۔ افتری، اس نے گھڑ لیا۔ یذکون، وہ پاک باز بنتے ہیں۔ فتیلا، دھاگہ برابر۔
تشریح : یہاں شرک کی حقیقت کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے بلکہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس لئے بالکل صاف صاف بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی ایک گناہ کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف کرسکتا ہے
شرک کیا ہے ؟ اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرلینا جب کہ وہ اللہ ایک ہے اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا گناہ عظیم ہے۔ جس نے اس وحدت کو خراب کیا وہ مشرک ہے ۔ کافر اور مشرک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بےایمانی کے دیکھنے کے قابل ہے کہ دنیا کی ایک غرض کے سبب سے انہوں نے اہل کتاب ہوکر شرک کو توحید سے اور مشرکوں کو موحدوں سے سے اچھا بتلایا ۔ ایسے بےایمانوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جس پر اللہ کی پھٹکار ہو اس طکو دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے کوئی بچا نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
[42] اس کی تشریح سورة بقرہ کے حاشیہ 51 صفحہ 99 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
تین بڑے بڑے عیب :
(ف 3) یوں تو یہودی دین فطرت سے کوسوں دور تھے اور ان کی کوئی بات بھی دینی اور مذہبی نہ تھی ، مگر ان کو ہمیشہ یہ وہم رہتا کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں سے بہتر و افضل ہیں ، وہ علی الاعلان کہتے ۔ (آیت) ” نحن ابنآء اللہ واحبآء ہ “ کہ ہم خدا کے فرزند اور مقرب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، اس تزکیہ نفس اور کبر کی تمہیں اجازت نہیں ۔
دوسرا عیب ان میں یہ تھا کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے لئے تورات کے احکام بدل دیتے ۔
تیسری برائی مداہنت کی برائی تھی ، وہ مشرکین مکہ کے احوال عواطف کا ہمیشہ ساتھ دیتے اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنے اصول دینیہ کی بھی چنداں پروانہ کرتے ۔
حل لغات :
ادبار : جمع دبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 1 اے پیغمبر ! کیا آپنے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جو اپنے کو مقدس بتاتے اور بڑے پاکباز بنتے ہیں حالانکہ اپنے کہنے سے کوئی پاکیزہ اور پاکباز نہیں بنا کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے مقدس اور پاکیزہ کر دے اور ان پر ایک تاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا بھلا دیکھیے تو یہ اللہ تعالیٰ پر کیسا جھوٹ افترا کرتے ہیں ان کے صریح مجرم اور گناہ گار ہونے کے لئے کافی ہے۔ (تیسیر)
اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں خطاب عام ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کے اس خیال کو رد کرنا مقصود ہے جو انہوں نے اپنے متعلق قائم کر رکھا تھا جیسا کہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ف 1۔ قرآن و حدیث واجماع سے یہ مسئلہ ضروریات شرع سے ہے کہ شرک اور کفردونوں غیر مغفور ہیں۔
Read the full tafseer →اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارنے والے اس طرح اللہ پر گویا بہتان باندھ رہے ہیں :
102: اپنی پاکیزگی اور بڑائی کی بات دوسروں سے سن کر آدمی اس گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے جس کا ایک سرا شرک کے اندر پھنسا ہوتا ہے اور جو شخص اس حد سے تجاوز کر کے اپنے آپ کو پاک اور برگزیدہ کہنا شروع کر دے اس کے مرض میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ پر کس طرح صریح بہتان باندھ رہے ہیں اسلام نے ایک دوسرے کی تعریف اس کے منہ پر کرنے کو اس لئے منع فرمایا تھا کہ اس کے غلط نتائج برآمد ہونے کا خطرہ تھا۔ چنانشہ صحیح مسلم میں مقداد بن الاسود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
Indulgence in self-praise
Let us now turn to the word of Allah in: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم (Have you not seen those who claim sanctity for themselves?) Since the Jews claimed sanctity for themselves, Allah Almighty censures them in this verse as a strange lot attributing sanctity to themselves and then having the audacity to tell others that this is so. Amazing indeed!
From here we learn that it is not permissible for anyone to claim and broadcast his or her sanctity, or that of others. This is forbidden on three counts:
1. The cause of self-praise is mostly pride…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
79. Although the People of the Book claimed to follow the Prophets and the Divine Books they had, in fact, fallen a prey to polytheism.
80. The purpose of this verse is not to tell man that he may commit any sin as long as he does not associate others with God in His divinity. The object is rather to impress upon those who had begun to regard polytheism as a trivial matter that it constitutes the most serious offence in God's sight, an offence so serious that while other sins may be pardoned this will not. Jewish religious scholars were meticulous about questions of subsidiary importance, and…
Read the full tafseer →