An-Nisaa 4:49

An-Nisaa · from ayah 49

4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ ؕ— بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَلَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا ۟اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُزَكُّوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ‌ ؕ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not seen those who claim themselves to be pure? Rather, Allah purifies whom He wills, and injustice is not done to them, [even] as much as a thread [inside a date seed].

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 7 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:49

تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو بہت اپنی پاکیز گی نفس کا دم بھرتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو در حقیقت) ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزه کرتا ہے، کسی پر ایک دھاگے کے برابر ﻇلم نہ کیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ بتاتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (اس عطا میں) ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو خود کو پاک ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک فرماتا ہے اور ان پر ایک دھاگہ کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاک کہتے ہیں، بلکہ اللہ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر بھی غور کیا جو اپنی پاکیزگی نفس کی شیخی بگھارتے ہیں۔ حالانکہ پاک تو اللہ ہی کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ذرا ان کو تو دیکھو جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں ! بلکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دم بھرتے ہیں اپنی پاکیزگی کا (سو مدار ان کے دعو وں پر نہیں) بلکہ اللہ ہی پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا ،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تو نے ان پر نظر نہیں کی جو اپنے پاکیزہ ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جسے چاہے پاکیزہ ٹھہرائے۔ اور ان پر دھاگا برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جو اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہے دیتا ہے اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو درحقیقت) ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen those who boast of their righteousness, even though it is Allah Who grants righteousness to whomsoever He wills? They are not wronged even as much as the husk of a date-stone (if they do not receive righteousness).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen those who claim sanctity for themselves? In fact, Allah sanctifies whom He wills, and they shall not be wronged even to the measure of a thread of a date-stone.

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen those who claim sanctity for themselves? In fact, Allah sanctifies whom He wills, and they shall not be wronged even to the measure of a thread of a date-stone.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you not seen those who claim sanctity for themselves Nay, but Allah sanctifies whom He wills, and they will not be dealt with injustice even equal to the extent of a Fatil.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen those who praise themselves for purity? Nay, Allah purifieth whom He will, and they will not be wronged even the hair upon a date-stone.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not seen those who claim themselves to be pure? Rather, Allah purifies whom He wills, and injustice is not done to them, [even] as much as a thread [inside a date seed].

— Saheeh International

(Muhammad), have you seen those who try to purify themselves? They should know that God only purifies whomever He wants and that the slightest wrong will not be done to such people.

— Muhammad Sarwar

Have you not considered those who attribute purity to themselves? Nay, Allah purifies whom He pleases; and they shall not be wronged the husk of a date stone.

— Muhammad Habib Shakir

Hast thou not observed those who hold themselves purified Nay! Allah purifieth whomsoever He will, and they shall not be wronged a whit.

— Abdul Majid Daryabadi

Hast thou not turned Thy vision to those who claim sanctity for themselves? Nay-but Allah Doth sanctify whom He pleaseth. But never will they fail to receive justice in the least little thing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–50

قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ میں نے اپنی زبردست کتاب اپنے بہترین نبی کے ساتھ نازل فرمائی ہے جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کردیں یعنی منہ بگاڑ کردیں آنکھیں بجائے ادھر کے ادھر ہوجائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے چہرے مٹادیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہوجائے۔ یہ عذاب ان کے بد اعمال کا بدلہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں بایں ہمہ اللہ تعالیٰ انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اب بھی باز آجاؤ اور اپنے سے پہلے ایسی حرکت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة النِّسَآء 79 یہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب اگرچہ انبیاء اور کتب آسمانی کی پیروی کے مدعی تھے مگر شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سورة النِّسَآء 80 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی بس شرک نہ کرے باقی دوسرے گناہ دل کھول کر کرتا رہے۔ بلکہ دراصل اس سے یہ بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے کہ شرک، جس کو ان لوگوں نے بہت معمولی چیز سمجھ رکھا تھا، تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے حتٰی کہ اور گناہوں کی معافی تو ممکن ہے مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ معاف نہیں کیا جاسکتا۔ علماء یہود شریعت کے چھوٹے چھوٹے احکام کا تو بڑا اہتمام کرتے تھے، بلکہ ان کا سارا وقت ان جزئیات کی ناپ تول ہی میں گزرتا تھا جو ان کے فقیہوں سے استنباط در استنباط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–50

اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونیکا دعویٰ جائز نہیں قولہ تعالیٰ الم ترا الی الذین یزکون انفسھم یہود اپنے آپ کو مقدس بتلاتے تھے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو اپنی پاکی بیان کر رہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے، یہ ممانعت تین وجہ سے ہے (1) اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔ (2) یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقوی و طہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لئے اپنے آپ کو مقدس بتلانا خلاف خوف الٰہی ہے، چناچہ ایک روایت میں حضرت زینب بنت ابی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔ چہروں کو مسخ کردینے کی علت : ’ طمس الشیء ‘ کے معنی ہیں کسی شے کے آثار و علامات کو مٹا دینا۔ چہروں کو مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ، کان، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیے جائیں اس لیے کہ اللہ نے یہ قوتیں نہایت اعلی مقصد سے بخشی تھیں لیکن جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ عطا ہوئیں تھیں بلکہ اس کے بالکل برعکس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یہود اپنے منہ میاں میٹھو بنتے تھے مثلًا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں وغیرہ، اللہ نے فرمایا تزکیہ کا اختیار بھی اللہ کو ہے اور اس کا علم بھی اسی کو ہے،" فتیل " کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ پر جو دھاگے یا سوت کی طرح نکلتا یا دکھائی دیتا ہے اس کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اتنا سا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–50

36: یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری عمل سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے ؛ کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔ یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی یہود باوجود اس قدر خرابیوں کے پھر بھی اپنے آپ کو پاک صاف اور مقدس کہتے ہیں حتی کہ اپنے آپ کو ابناء اللہ اور احباء اللہ بتلاتے ہیں جو بالکل لغو بات ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کو پاکیزہ اور مقدس کرتا ہے۔ یہود کے کہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا اور ان جھوٹی شیخی کرنے والوں پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہ ہوگا۔ یعنی یہ لوگ اپنے عذاب بےنہایت میں گرفتار ہونگے ان پر ناحق عذاب ہرگز نہ ہوگا۔ فائدہ : یہودی جو گوسالہ کو پوجتے تھے اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے تھے انہوں نے جب آیت سابقہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ ) 4 ۔ النسآء :48) کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط یہاں یہود کے اسی فلسفے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت پاک باز اور اعلیٰ وارفع سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ We are the chosen people of the Lord“۔ سورة المائدۃ میں ان کا یہ قول نقل ہوا ہے : نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ آیت 18 یعنی ہم تو اللہ کے بیٹوں کی طرح ہیں بلکہ اس کے بہت ہی چہیتے اور لاڈلے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے تمام لوگ Goyems اور Gentiles ہیں ‘ جو دیکھنے میں انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت میں حیوان ہیں۔ ان کو تو جس طرح چاہو لوٹ کر کھا جاؤ ‘ جس طرح سے چاہو ان کو دھوکہ دو ‘ ان کا استحاصل کرو ‘ ہم پر کوئی گرفت نہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 سستی نجات کے عقیدے :۔ ان لوگوں سے مراد بھی علمائے یہود و نصاریٰ ہیں کہ جب انہیں ان کی بری کرتوتوں کو چھوڑنے اور ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو وہ شیخی میں آ کر کہتے (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ 18؀) 5 ۔ المآئدہ :18) یعنی ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ نیز چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں لہذا پاکیزہ نفوس کے مالک ہیں۔ اور نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا تھا جس کی رو سے سب عیسائیوں کے گناہ تو سیدنا عیسیٰ نے اپنی گردن پر اٹھائے اور سولی چڑھ گئے اور اس طرح ان کی سب امت پاک ہوگئی۔ اور جنت کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کچھ نہیں بنتا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160 ۔ (آیت) ” الم ترالی الذین “۔ یعنی ایسے لوگوں کی حماقت بھی قابل دید ہے۔ (آیت) ” الذین یزکون انفسھم “۔ یعنی اللہ نے توحید وتقوی کو جو معیار فضیلت، ومقبولیت رکھ دیا ہے، اسے چھوڑ چھاڑ لوگوں نے نسل وغیرہ کے طرح طرح کے معیار شرف و بزرگی کے گڑھ لئے ہیں اور ان بنیادوں پر اپنے کو معظم ومقدس سمجھنے لگتے ہیں، یہ تمام ترحماقت وضلالت ہے۔ آیت کا اشارہ خاص یہود کی جانب ہے۔ اپنے کونسل انبیاء میں سے ہونے کی بنا پر مقدس سمجھ رہے تھے باقی ہندوستان میں برہمن، چھتری وغیرہ اپنے کو محض مقدس خدندانوں سے انتساب کی بنا پر مقدس سمجھنے والے، اپنے چندر بنسی، سورج بنسی ہونے پر فخر وناز کرنے والے یا جاپانیوں کی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–50

الم تَرَالی الذین اوتوانصیباً من الکتاب، (الآ یة) علماء اہل کتاب کے متعلق قرآن نے اکثر یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ '' انھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے '' اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو انہوں نے کتاب الہٰی کا ایک بڑا حصہ گم کردیا تھا، پھر کتاب الہٰی کا جو کچھ حصہ ان کے پاس موجود تھا اس کی روح اور اس کے مقصد و مدعا سے وہ بیگانے ہوچکے تھے۔ یُحَرِّ فون الکلمَ عن مواضعہ، اس کے تین مطلب ہیں، ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردوبدل کردیتے، دوسرے یہ کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب اللہ کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے، تیسرے یہ کہ لوگ محمد ﷺ کی صحبت میں آکر آپ کی باتیں سنتے اور واپس جا کر غلط طریقہ سے بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر الی الذین یزکون انفسہم . کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی عجیب حالت ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک قرار دیتے ہیں۔ استفہام تعجب کے لئے ہے جو شخص اپنے نفس کو گناہوں سے پاک قرار دیتا ہو اس پر بڑا تعجب ہے معصومیت کا دعویٰ کرنے سے اس کا مقصد ہے دوسروں پر اپنی فوقیت اور برتری قائم کرنا لیکن برتری خود ساختہ دعوے سے حاصل نہیں ہوتی اس دعوے سے تو ایسے شخص کی دنائت اور کمینگی کا اظہار ہوتا ہے فوقیت اور گناہوں سے پاکیزگی تو اس پر موقوف ہے کہ اللہ کسی کو بزرگ و برتر اور گناہ ہونے سے پاک کر دے۔ بغوی اور ثعلبی نے کلبی کا قول لکھا ہے کہ کچھ یہودی جن میں بحری بن عمرو ‘ نعمان بن اوفی اور مرحب بن زید بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) یعنی بحیر ابن عمرو اور مرحب بن زید اپنے آپ کو مقدس بتاتے ہیں حالانکہ جو شخص اس کا اہل ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے پاک کردے گا، اور کھجور کی گٹھلی میں جو لیکر ہے یا انگلی کے درمیان جو میل کی دھاری سے پڑجاتی ہے، اس کے برابر بھی ان کے گناہوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ محمد ﷺ ذرا ان کا جھوٹ تو دیکھیے کہ کہتے ہیں کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور جو رات کو کرتے ہیں تو دن میں ان کو معاف کردیتا ہے ان کا اللہ پر یہ غلط گمان ان کے مجرم ہونے کے لیے کافی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین یزکون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت یا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

”فَتِيْلًا“ اس پتلے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ میں نظر آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ (طبری) یہود اپنے آپ کو پاک باز اور مقدس کہتے، کبھی کہتے جنت میں ہم ہی جائیں گے : (لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ) [ البقرۃ : 111 ] ”جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔“ کبھی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب بتاتے۔ (دیکھیے المائدۃ : 18) اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاک باز قرار دینا تو اللہ کا کام ہے، اپنی تعریف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–53

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–50

(1) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود نے کہا ہمارے بیٹے جو فوت ہوچکے ہیں وہ ہم کو قریب کرنے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور عنقریب وہ ہماری سفارش کریں گے اور ہم کو پاک کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزکون انفسہم “ (الآیہ) ۔ (2) ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود اپنے بچوں کو آگے رکھنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور اپنی قربانیوں کے قریب رکھنے اور یہ خیال کرتے تھے کہ اب ان کی کوئی خطا (باقی) نہیں ہے اور نہ کوئی گناہ (باقی ہے) اور انہوں نے جھوٹ بولا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں گناہ والے کو پاک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان (کی حالت) کی طرف جو ] [ یُزَکُّوْنَ : تزکیہ کرتے ہیں ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے نفس کا ] [ بَلِ اللّٰہُ : بلکہ اللہ ] [ یُزَکِّیْ : تزکیہ کرتا ہے ] [ مَنْ : اس کا ‘ جس کا ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [ فَتِیْلاً : کسی دھاگے برابر بھی ] ت ل فَـتَلَ ۔ یَفْتِلُ (ض) فَتْلًا : رسی بٹنا۔ فَتِیْلٌ : بٹی ہوئی باریک بتی ‘ دھاگہ ‘ آیت زیر مطالعہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں کی مذمت جو اپنے کو پاکیزہ بتاتے تھے گزشتہ آیت میں یہودیوں کی بعض بد حرکتوں کا ذکر تھا اس میں بھی ان کے ایک فعل بد کا ذکر ہے۔ صاحب روح المعانی بحوالہ ابن جریر حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ دونوں فریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ کیونکہ ان لوگوں نے یہ کہا تھا کہ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّاءُ ہٗ ) (کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب بندے ہیں) اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ (لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نَصَاریٰ ) (ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودی ہو یا نصرانی ہو) اس طرح انہوں نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کیا یعنی اپنے کو نیک اور صالح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–50

یہود کے دعوائے تقدس کی تردید۔ قال تعالی، الم تر الی الذین۔۔۔ الی۔۔۔ اثما مبینا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں یہود کا حال بیان کیا کہ وہ کفر اور شرک کی نجاستوں میں ملوث اور آلودہ ہیں اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہود باوجود ان خرابیوں کے اپنے آپ کو پاک اور مقدس کہتے ہیں کہ کبھی یہ کہتے ہیں، نحن ابناء اللہ واحباہ۔ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کو چہیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ لن یدخل الجنۃ۔۔۔ الی۔۔ ھودا۔ یعنی جنت میں سوائے یہود کے کوئی اور داخل نہ ہوگا اور کبھی یہ کہتے ہیں، لن تمسناالنار الاایاما معدودہ یعنی سوائے چند روز کے دوزخ کی آگ ہم کو چھوئے گی نہیں ہمارے باپ دادا نبی تھے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–50

38 یہ اہل کتاب کو زجر ہے جو اپنی صفائی اور پاکیزگی کے دعوے کرتے تھے۔ حضرت قتادہ اور حسن فرماتے ہیں یہ آیت ان یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءہ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں نیز کہتے تھے لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نصَاریٰ یعنی جنت میں یہود و نصاریٰ کے بغیر کوئی نہیں جائیگا (قرطبی ج 5 ص 246 و روح ج 5 ص 54) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کا ابطال فرمایا کہ ان کے اپنی پاکیزگی اور طہارت کے یہ دعوے سب غلط ہیں۔ پاک و طاہر تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے ایمان وعمل کی بنا پر پاک فرمائے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

رابط آیات گزشتہ درس میں اہل کتاب کی بعض قبیح خصلتوں کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ حق و صداقت کے مقابلے میں باطل پرستی کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ کی کتاب کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ، بلکہ اللہ کے نبی کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زبان کو پیچ دیکر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور دین میں طرح طرح کی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ آب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو وعید سنائی ہے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لے آؤ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری شکلیں بگاڑدی جائیں اور تم پر اس طرح لعنت بھیجی جائے جس طرح اصحاب سبت پر بھیجی گئی اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ۝ 0ۭ بَلِ اللہُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۝ 49 زكا ( تزكية) وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–49

ترکیب : من قبل متعلق ہے امنوا سے ‘ علی ادبارھا حال ہے وجوھا ‘ سے ‘ ویغفر جملہ مستانفہ ہے۔ مادون ذلک مفعول ہے یغفر کا مادون کے معنی سوا کے ہیں اور دون بمعنی کمتر بھی ہوسکتا ہے او نلعنہم والضمیر عائد الی اصحاب الوجوہ افتریٰ اختلق وفعل لانہ کما یطلق حقیقۃ علی القول یطلق علی الفعل ایضا مجازا۔ تفسیر : اہل کتاب کے قبائح بیان فرما کر ان کو سعادت دارین کی طرف بلاتا ہے کہ تم ایمان لائو۔ پہلے قبائح بیان کرنا اور پھر اس کی اصلاح کی تدبیر بتلانا حکمت الہامیہ کا دستور ہے کیونکہ جب تک طبیب مریض کے امراض مہلکہ کو بیان نہیں کرتا اور اس کے مآل کار موت سے نہیں ڈراتا تو مریض کی طبیعت تلخ دوائوں کے پینے پر مائل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ط بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ( کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں بلکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا) (النسآء : 49) اہل کتاب کے شرک کی مثال اہلِ کتاب کے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی یہ ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کی نجات کے لیے ایمان وعمل کو لازم ٹھہرایا اور ایمان وعمل کی بنیاد پر ہی اس نے درجات عطا فرمائے اور انھیں دونوں کی وجہ سے قیامت کے دن جزاوسزا کا فیصلہ ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کا زعم ہے کہ ہم انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی بنا پر پوری دنیا سے ممتاز اور پاک لوگ ہیں اور عیسائی سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ یہاں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے ہر آدمی کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگوں سے نسبت کی بنیاد یا کسی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ ہر آدمی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے یا کسی کے ساتھ عقیدت و محبت کی بنیاد پر آدمی پاک دامن نہیں ہوجاتا۔ جب تک وہ عقیدے کے اعتبار سے موحّد اور عمل کے لحاظ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی پیروی کرنے والا نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 49 : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے یہود و نصاریٰ میں سے اپنے آپ کو پاک قرار دیا کہ ہم تو انبیاء (علیہم السلام) کے بیٹے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور کہا ہمارے سواء جنت میں کوئی نہ جائے گا۔ اللہ کا تزکیہ معتبر ہے : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ (کیا تم نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں) اس میں تمام ایسے لوگ شامل ہیں جو اپنے طور پر پاک باز بنتے ہیں اور اپنے عمل کی پاکیزگی سے اپنے نفس کو موصوف قرار دیتے ہیں۔ اور اطاعت وتقویٰ کے اضافہ سے نفس کو متصف مانتے ہیں۔ بَلِ اللہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ (بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(الم ترا لی الذین یزکون “ کا شان نزول) (تفسیر) 49۔: (آیت)” الم ترا لی الذین یزکون انفسھم “۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول یہودی مردودں کے بارے میں ہوا جن میں بحری بن عمرو ، نعمان بن اوفی ، مرحب بن زید بھی تھے ، یہ اپنے چھوٹے بچوں کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد ﷺ کیا ان پر کوئی گناہ ہوسکتا ہے ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ، نہیں کہنے لگے تو ہم بھی انہی کی طرح ہیں دن میں ہم جو کچھ کرتے تھے ان کو رات میں معاف کردیا جاتا ہے اور رات کو جو کام کرتے ہیں دن میں ان کا کفارہ ہوجاتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نماز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–50

(49 ۔ 50) ۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے اللہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہود ایک دفعہ کچھ اپنے چھوٹے بچوں کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے اور پوچھا کیا لڑکے گنہگار ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر یہود نے کہا ہم بھی ان لڑکوں کی مانند ہیں۔ جو گناہ ہم دن کو کرتے تھے ہیں وہ تورات کو اور جو رات کرتے ہیں وہ دن کو معاف ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا غیب کا علم اللہ کو ہے کہ مرنے کے بعد کس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ لوگ جو زبردستی اپنے آپ کو بےگناہ بچوں کی طرح سے عذاب آخرت سے بری بتاتے ہیں یہ اللہ کی شان میں ان کا ایک صریح جھوٹ ہے عقبٰی میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہ ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–50

آیت 49 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہود و نصاریٰ وغیرہ کے لئے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں۔ یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لئے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاری یہ دعویٰ کرتے تھے (نحن ابنوا اللہ واحبآء ہ) (المائدۃ :18/5) ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں “۔ وہ کہا کرتے تھے (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً او نصریٰ ) (البقر 1:111/2) ” جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو یہودی یا نصرانی ہوگا۔ “ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 49–53

قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

123 شرک کا جرم ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ : کہ شرک کا یہ جرم دراصل بغاوت کا اور سب سے بڑا اور سنگین جرم ہے۔ اس لئے یہ ناقابل معافی ہے۔ اور یہی سزا کفر کی ہے کہ وہ بھی بغاوت ہے۔ قرآن حکیم میں ان دونوں جرموں کا یہی انجام بیان فرمایا گیا ہے، لیکن ذکر کہیں صرف شرک کا فرمایا گیا، جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے اور کہیں صرف کفر کا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لََمْ یَکُن اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلا لِیَھْدِیَہُمْ طَرِیْقًا، اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْْہَا اَبَدًا وَکَانَ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہ یَسِیْراً } (النسائ : 167 ۔ 168)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–55

یہود کا جھوٹ تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا آپ ان یہود کو نہیں دیکھتے کہ ان میں دنیا جہان کی خرابیاں موجود ہیں پھر بھی اپنے پاک صاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کتنی فضول سوچ ہے ان کی اور کتنی بےمعنی بات یہ اپنے بارے میں کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب تو اللہ کے اختیار میں ہے جسے چاہے پاک کرتا ہے، یہ لوگ بالکل گمراہ ہوچکے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے بغیر وجہ کے اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب میں نہ ڈالے گا۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ یہودی بچھڑے کو پوجتے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور دعو ٰی کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48 تا 50: ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔ وکفی بہ اثما مبینا۔ اللہ کریم اپنی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے والے کو کبھی نہیں بخشتے اس کے لیے سزا پا کر بھی کبھی عذاب ختم نہ ہوگا کہ یہ بہت بڑا ظلم اور انتہائی بڑا جرم ہے علم میں کسی کو اللہ کی طرح غیب دان جاننا یا نفع و نقصان پہنچانے والا گمان کرنا یا اللہ کی طرح کسی اور کی عبادت کرنا یہ ایسے جرائم ہیں کہ اللہ کی بخشش سے ہمیشہ کیلئے محروم کردیتے ہیں بعض اوقات کیا اکثر اوقات ہم اللہ کی اطاعت چھوڑ کر بعض انسانوں کی اطاعت کرتے ہیں اس کے پیچھے یا ان کا خوف ہوتا ہے یا ان سے کسی نفع کی امید یہی شرک کی اصل ہے ہاں انبیاء اور صلحاء کی اطاعت اس لیے شرک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 فتیل دراصل اس پتلے سے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی کٹھلی کے کٹاو پر نظرآتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ و معصوم سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے۔ ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاکباز انسان قرار دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اپنی طرف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے حدیث میں ایاکم واتما دح فانہ الذحج کہ خود پسندی اور اپنی تعریف سے بچو یہ تو اپنے آپ کو ذبح کرنے دینے کے مترادف ہے۔ نیز حضرت عمر ؓ سے مروی ہے وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرنا ہے۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 48–49

(4:48) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ افتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ یعنی اس نے گناہ عظیم کا ارتکاب کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48-50 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ان یشرک، یہ کہ شریک کیا جائے۔ مادون ذلک، اس کے علاوہ۔ افتری، اس نے گھڑ لیا۔ یذکون، وہ پاک باز بنتے ہیں۔ فتیلا، دھاگہ برابر۔ تشریح : یہاں شرک کی حقیقت کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے بلکہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس لئے بالکل صاف صاف بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی ایک گناہ کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف کرسکتا ہے شرک کیا ہے ؟ اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرلینا جب کہ وہ اللہ ایک ہے اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا گناہ عظیم ہے۔ جس نے اس وحدت کو خراب کیا وہ مشرک ہے ۔ کافر اور مشرک میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

یہ آیت یہودو نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے آپ کو اللہ کا پیارا بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہود اور نصاریٰ کے سوا کوئی جنت میں نہیں داخل ہوگا۔ اس آیت میں بتادیا گیا ہے کہ انسان کا دینداری اور صلاح وتقویٰ اور قرب کا مدعی ہونا اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا کام نہیں آتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–51

تین بڑے بڑے عیب : (ف 3) یوں تو یہودی دین فطرت سے کوسوں دور تھے اور ان کی کوئی بات بھی دینی اور مذہبی نہ تھی ، مگر ان کو ہمیشہ یہ وہم رہتا کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں سے بہتر و افضل ہیں ، وہ علی الاعلان کہتے ۔ (آیت) ” نحن ابنآء اللہ واحبآء ہ “ کہ ہم خدا کے فرزند اور مقرب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، اس تزکیہ نفس اور کبر کی تمہیں اجازت نہیں ۔ دوسرا عیب ان میں یہ تھا کہ وہ اپنی خواہشات نفس کے لئے تورات کے احکام بدل دیتے ۔ تیسری برائی مداہنت کی برائی تھی ، وہ مشرکین مکہ کے احوال عواطف کا ہمیشہ ساتھ دیتے اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنے اصول دینیہ کی بھی چنداں پروانہ کرتے ۔ حل لغات : ادبار : جمع دبر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 48–49

ف 3 بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا جتنے گناہ خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا اور بات بھی یہی ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور کسی کو اس کے ساتھ شریک قرار دیا تو اس نے بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کو معاف نہیں کیا جائے گا اور وہ دائمی عذاب میں رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ شرک ایسا بڑا گناہ ہے کہ عذاب کرنے اور سزا دینے کے بعد بھی نہیں بخشا جاتا البتہ جو گناہ شرک کے علاوہ ہوں اور شرک سے کم درجے کے ہوں ان کی بخشش کی توقع ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بغیر عذاب اور بدون سزا کے عاف کر دے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

ف 1۔ قرآن و حدیث واجماع سے یہ مسئلہ ضروریات شرع سے ہے کہ شرک اور کفردونوں غیر مغفور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شرک کی ایک اور راہ کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ جس میں یہود و نصاریٰ بھی مبتلا تھے : 101 : اقسام شرک میں سے ایک قسم شرک کی یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو ایک برتر اور برگزیدہ گر وہ یا انسان سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ بات واضح ہوگئی ہے یا راسخ کردی گئی ہے کہ وہ اللہ کے محبوبوں کی اولاد ہیں اس لئے وہ بھی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں کوئی باز پرس یا سزا نہیں ہے۔ ان کے اعمال و اخلاق خواہ کچھ ہوں اول تو یہ دوزخ میں ڈالے ہی نہیں جائیں گے اگر ڈالے بھی گئے تو محض تھوڑی مدت کے لئے۔ اس گھمنڈ نے ان کو عمل اور اطاعت کی ذمہ داریوں سے بالکل فارغ کردیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بندگی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

Indulgence in self-praise Let us now turn to the word of Allah in: أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم (Have you not seen those who claim sanctity for themselves?) Since the Jews claimed sanctity for themselves, Allah Almighty censures them in this verse as a strange lot attributing sanctity to themselves and then having the audacity to tell others that this is so. Amazing indeed! From here we learn that it is not permissible for anyone to claim and broadcast his or her sanctity, or that of others. This is forbidden on three counts: 1. The cause of self-praise is mostly pride…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

79. Although the People of the Book claimed to follow the Prophets and the Divine Books they had, in fact, fallen a prey to polytheism. 80. The purpose of this verse is not to tell man that he may commit any sin as long as he does not associate others with God in His divinity. The object is rather to impress upon those who had begun to regard polytheism as a trivial matter that it constitutes the most serious offence in God's sight, an offence so serious that while other sins may be pardoned this will not. Jewish religious scholars were meticulous about questions of subsidiary importance, and…

Read the full tafseer →